121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43


“میں اس منحوس عورت کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی… میری بلا سے حدید مر ہی کیوں نہ جاۓ… میں وہاں نہیں جاؤں گی” اسماء کی چنگھاڑ پورے گھر میں سنائی دے رہی تھی
“آپ جائیں گی اور غاشیہ سے معافی مانگیں گی… ورنہ… ” وہ کہہ کر راۓ عبید کی طرف مڑا
“میں خود کشی کر کے لکھ کر جاؤں گا کہ میری موت کی ذمہ دار اسماء راۓ ہے” وہ انگلی اٹھا کر کہتا ہوا باہر نکل گیا
“ماموں… میں نہیں جاؤں گی, وہ ہے کون جس سے میں معافی مانگوں… میری تو جوتی بھی اسے منہ نہ لگاۓ, بدمعاش عورت… میری بلا سے حدید خود کشی کرے یا نا کرے… میں اس گھر کے پاس سے بھی نہیں گزروں گی” اسماء دہاڑ کر بولی
“اسے گھر بدر کیوں کیا تھا ؟؟؟” صمد چیخ پڑا
“کیونکہ یہ میرا گھر ہے… ” وہ اس سے بھی زیادہ اونچا چیخی
“یہ تمہارا گھر اسلیے ہے کیونکہ تم میری بیوی ہو اسماء… یہ اس کا گھر بھی تھا کیونکہ وہ حدید کی بیوی ہے… ” صمد نے کہا
“حدید کی بیوی ہے تو حدید مانگ لے معافی, لگا لے پیروں کو ہاتھ…میں نہیں مانگوں گی” وہ فیصلہ کن لحجے میں بولی تھی
“صمد اسے سمجھا دے, یہ کل میرے ساتھ وہاں جاۓ گی” راۓ عبید کہہ کر اپنے کمرے میں چلے گئے
“میں کہیں نہیں جاؤں گی” اسماء نے گلا پھاڑ کر کہا تھا
…………………………….
وہ خالد کے ساتھ ہسپتال آئی تھی, معاذ کو کل سے ہلکا ہلکا سا بخار تھا, چڑچڑا سا ہو رہا تھا, ریسیپشن سے سلپ بنوا کر وہ ڈاکٹر کے کمرے تک آ گئے, بے پناہ رش تھا, خالد کچھ دیر بیٹھا, پھر اسے کوئی جاننے والا مل گیا تو اس کے ساتھ باہر کو نکل گیا, ناشیہ, معاذ کو گود میں لیے بیٹھی رہی
تبھی ڈاکٹر کے ساتھ ایل ایچ وی کے کمرے سے وہ سارہ کو لئے باہر نکلا تھا, اس کا نو ماہ والا حفاظتی انجکشن لیٹ ہو گیا تھا, سارہ اس کے گلے لگی زار و قطار رو رہی تھی
“بس میرا چن چن… بس… ٹھیک ہو گیا” وہ اسے جا بجا چومتے ہوۓ باہر کی طرف بڑھا اور پھر یکلخت رک گیا
“ناشیہ…. ” اس کا نام لیتے ہوئے وہ اس کی طرف آیا تھا, ناشیہ بھی اسے دیکھ کر تھم سی گئی
“خیریت ہے ؟؟؟” وہ اس کے پاس ہی رک گیا
“ہاں… معاذ کو چیک کروانا تھا, بخار ہے اسے” وہ بولی
“کس کے ساتھ آئی ہو ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“خالد بھائی کے ساتھ… ” وہ بولی, رافع نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی تھی, وہ سیاہ رنگ کی چادر سے خود کو لپیٹے ہوۓ تھی, چہرے کی ساری تازگی جیسے ختم ہو چکی تھی, خوبصورت آنکھیں اداسی کا گھر بن چکی تھیں, زردی مائل سی رنگت اور خشکی مائل سے ہونٹ… اس کے ہاتھوں کی پشت پر ابھرتی ہوئی نیلی نیلی نسیں بھی واضح ہو رہی تھی, وہ رافع کے یوں مسلسل دیکھنے پر ذرا سی گڑبڑا گئی
“یہ تمہاری بیٹی ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… ایک سال کی ہو گئی ہے… ” رافع نے کہا, وہ اس کندھے سے لگی لگی آنکھیں موند گئی تھی, ناشیہ نے سر جھکا لیا
“ناشیہ… ” رافع نے ذرا توقف سے اسے پکارا تھا, ناشیہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی
“میری ایک التجا ہے تم سے… مانو گی ؟؟؟” وہ بولا
“ہاں… کہو ؟؟؟”
“ناشیہ… ایک بار پھر… بھلے ہی میری طرف مت پلٹنا, بھلے ہی جس طرف مرضی پلٹ جانا… بس دوبارہ اس معصوم کے باپ کی طرف مت پلٹنا… ” وہ کہتے کہتے رکا
“میں کب سے یہاں کھڑا دو سال پہلے والی ناشیہ کو کھوجنے کی کوشش کر رہا ہوں… لیکن اس کی کوئی رمق تو کیا… کوئی پرچھائی بھی نظر نہیں آئی مجھے… تم یہ نہیں ہو ناشیہ… جو بن گئی ہو” وہ بولا, ناشیہ بس سر جھکا گئی تھی
“تم کسی بے فیض انسان کی خاطر یوں اجڑنا بالکل ڈیزرو نہیں کرتیں… تم بھلے ہی کسی کا نا سوچو… لیکن اپنا ضرور سوچو” وہ دھیرے سے کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا
……………………………..
وہ شاور لیکر نکلی تھی, گیلے بالوں کو تولئے میں لپیٹا ہوا تھا, اذن موبائل آنکھوں سے لگاۓ کروٹ کے بل لیٹا تھا, دیوار پر لگی سکرین پر کوئی مووی چل رہی تھی, پورے کمرے میں اے سی کی خنکی پھیلی ہوئی تھی
اسے آج شام ہی صمد چھوڑ کر گیا تھا, وہ اپنے کچھ کپڑے اور ضروری چیزیں لینے آئی تھی, صمد کو واپسی پر دیر ہو گئی تو رک گئی, اذن نے کہا کہ وہ اسے صبح آفس جاتا ہوا چھوڑ جاۓ گا
شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے گیلے بالوں کو تولئے سے آزاد کیا اور ڈرائیر کا سوئچ پلگ میں لگایا, اس کی آواز سے اذن نے یکدم زرقا کی طرف دیکھا تھا
دنیا میں مردوں کی سب سے جھوٹی ترین قسم وہ ہوتی ہے جو نکاح کے دو بول قبول کر بھی اپنی جائز اور شرعی بیوی کے پہلو میں لیٹ کر کہتے ہیں کہ انہیں اس سے کوئی انسیت نہیں ہے… اور اس لمحے اپنی موبائل سکرین کا بہانہ لئے کن اکھیوں سے اپنی بیوی پر نظریں جماۓ اذن فاروق راۓ اس فہرست میں سر فہرست تھا
زرقا نے دوپٹہ صوفے کی پشت پر ڈال رکھا تھا, وہ ہلکے براؤن رنگ کا لان کا سوٹ پہنے ہوئے تھی جس میں اس کے سراپے کی دلکش رعنائیاں اس کی جانب کروٹ لیکر لیٹے اس جھوٹے شوہر کو ورغلانے کے لئے کافی تھیں, بالوں کو ہلکا ہلکا سکھانے کے بعد اس نے کنگھا اٹھا لیا,وہ اس کی کمر پر گرتی ان آبشاروں سے رستے پانی کے قطرے دیکھ سکتا تھا, وہ اس کی شرٹ کو پشت سے بھگو رہے تھے, آدھی آستینوں سے جھانکتے سفید بازو کچھ اور ہی داستان سنا رہے تھے, اذن جیسے کسی ٹرانس کی کیفیت سے نکلا اور سر جھٹک کر دوبارہ سکرین کی طرف دیکھنے لگا
“دیکھنے میں کیا جاتا ہے ؟؟؟ ابھی تو تمہاری ہی ہے” دل رج کے بدمزہ ہوا تھا
“جھوٹے… دیکھو تو سہی… ” دل ڈانواں ڈول ہوۓ جا رہا تھا, اذن نے چور نظروں سے پھر دیکھا, وہ اب ایک بار پھر بالوں میں ڈرائیر چلا رہی تھی, بھورے بال سوکھتے ہی بل کھانے لگے تھے, چند منٹ بعد وہ ڈرائیر رکھ کر بستر کی طرف آ گئ, اذن نے موبایل دوسری طرف رکھ دیا, وہ لوشن ہاتھ میں لیے اس کے قریب ہی آ بیٹھی, دھیرے دھیرے لوشن ہاتھوں اور پیروں پر ملنے لگی, اس کے وجود سے اٹھتی خوشبوئیں اذن کی سانسوں پر حاوی ہونے لگی تھیں, زرقا اس کی نظروں کی تپش سے بے خبر لوشن ایک طرف رکھ کر سونے کے لئے لیٹ گئی, اذن نے ہاتھ بڑھا کر لائیٹ آف کی تھی, پورے کمرے میں چھوٹے سے سفید بلب کی روشنی پھیل گئی
اپنے پہلو میں لیٹی زرقا راۓ کا فسوں کھل کر اس پر حاوی ہوا تھا, بڑے حق سے اس نے اپنا ایک بازو کروٹ لیے لیٹی زرقا کی گردن کے نیچے سے گزارا اور اسے اپنی طرف موڑ لیا یوں کے وہ پوری طرح اس کے بازو کے حصار میں آ گئ, اذن نے دھیرے سے کمبل اس کے اوپر کو کیا تھا
زرقا کی پلکوں میں لرزش ہونے لگی, گلابی لبوں پر کپکپاہٹ سی اتر آئی
“غاشیہ کا کچھ پتہ چلا …” اذن کے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں اس کے بالوں میں سرسرانے لگی تھیں, زرقا کا چہرہ اس کے بے حد قریب تھا… اتنا کہ اس کے گالوں پر پھیلتی سرخی اذن کو واضح نظر آ رہی تھی, اس کے کپکپاتے ہوۓ لبوں کے اوپری کناروں پر ابھرتے پانی کے قطرے اذن نے اپنے انگوٹھے سے صاف کئے تھے
“نہیں… ” اس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی تھی, اذن کے پیروں کی انگلیوں کا لمس اسے اپنی ٹانگوں پر سرسراتا محسوس ہونے لگا, اذن کی ہر گزرتی سانس جھلستی جا رہی تھی, اس نے پوری طرح اسے خود میں لپیٹ کر اپنا چہرہ اس کے بالوں میں چھپا لیا, اس کے وجود سے اٹھتی مہک ہی جان لیوا تھی
“اذن….” زرقا کی اس ملتجی سی سرگوشی کا مطلب وہ اچھے سے جانتا تھا
“کچھ نہیں کروں گا… ” وہ بس اس کا میٹھا سا وجود خود سے لگاۓ آنکھیں بند کر گیا تھا
زرقا کو تو شاید سانس بھی نہیں آ رہی تھی, بہت دیر تک وہ اپنی گردن پر اذن کی سانسوں کی تپش محسوس کرتی رہی, اس کے ہر ہر گزرتے لمحے اپنے گرد تنگ ہوتے حصار سے خوف کھاتی رہی… اور پھر اس کے ساتھ ہی نیند کی آغوش میں اتر گئی تھی
…………………………..
وہ ورکشاپ پر تھا جب اس نے غاشیہ کو کال کی
“ہاں ارمغان… ” وہ مصروف لگ رہی تھی
“فارغ ہو…؟؟؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“ہاں… دنیا کی فارغ ترین بندی اس وقت میں ہی تو ہوں, دونوں کو ایک ساتھ بھوک لگتی ہے, ایکساتھ رونا آتا ہے, ایک ساتھ پوٹی آتی ہے… ” وہ یکدم ہی شروع ہو گئی, ارمغان بس دھیمے دھیمے مسکراۓ جا رہا تھا
“حدید دوبارہ نہیں آیا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں… “
کوئی بھی نہیں آیا وہاں سے ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“نہیں بھئی… میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ وہ عورت سولی چڑھ جاۓ گی لیکن یہاں نہیں آۓ گی” غاشیہ نے کہا
“وہ آۓ گی… اور تم سے معافی مانگے گی… دیکھ لینا” وہ بولا
“چلو دیکھتے ہیں…” غاشیہ نے کہا, ارمغان نے کال کاٹ کر اسماء کا نمبر ملایا تھا
“اب کیا تکلیف ہے تمہیں ؟؟؟” وہ اسے کاٹ کھانے کو دوڑی تھی
“پھر کب جا رہی ہیں آپ میرے تایا کے گھر ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کس خوشی میں ؟؟؟” اسماء تڑخی
“غاشیہ سے معافی مانگنے… ” ارمغان کے کہتے ہی وہ ہتھے سے اکھڑ گئی تھی
“مجھے سو بار پھانسی لگنا قبول ہو گا ارمغان ملک… لیکن اس سے معافی مانگنا نہیں” وہ بولی
“دیکھ لیں..
خمیازہ بھگتنا پڑے گا ؟؟؟” وہ صحیح معنوں میں اسے بلیک میل کر رہا تھا
“کیا مطلب ؟؟؟” وہ بھڑکی
“آپ صبح اپنے سسر کے ساتھ وہاں جا رہی ہیں… ٹھیک ہے ؟؟؟ ورنہ… ” اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی
“ورنہ…. ؟؟؟” اسماء نے پوچھا
“کوشش کریں ورنہ کی نوبت ہی نہ آۓ” وہ سرد سے لحجے میں کہتا ہوا کال کاٹ گیا تھا
اسماء پیچ و تاب کھا کر رہ گئی, شام کو اسے راۓ عبید نے پھر سمجھانا چاہا… وہ تو حدید کی خاطر یہ کڑوا گھونٹ بھرنے کو تیار تھے لیکن اسماء… وہ تو ہتھے سے اکھڑ جاتی تھی, تیمور ملک اور غاشیہ کا نام سنتے ہی اس کی زبان سے پھول جھڑنے لگتے تھے
حدید نے رات کو اچھا ہی رولا ڈالا تھا
“تم میری ایک بات کان کھول کر سن لو… تم کل وہاں جاؤ گی اور غاشیہ سے معافی مانگو گی… ورنہ پولیس اس گھر کی چوکھٹ پر کھڑی ہو گی ” وہ ساری حدیں ہی پار کر گیا تھا
“حدید… تمیز سے بات کرو” اسماء زور سے چنگھاڑی تھی
“جتنا مرضی گلا پھاڑ لو… لیکن جانا ضرور ہے” وہ انگلی اٹھا کر بولا تھا
“میں نہیں جاؤں گی” وہ زور سے چلائی تھی
“اسماء… ” صمد کی دہاڑ اسے خاموش کروا گئی
“ٹھیک ہے… اگر وہاں نہیں جانا تو پھر مجھے بدلے کا پورا حق ہے… میں تمہارے ساتھ وہی کروں گا جو تم نے میری بیوی کے ساتھ کیا… رات کے اندھیرے میں تمہیں اس گھر سے نکالوں گا اسماء راۓ… ” حدید جیسے پاگل ہو گیا تھا
“تم ہوتے کون ہو مجھے اس گھر سے نکالنے والے” اسماء نے طیش میں آ کر اس کا گریبان جکڑ لیا
“اسماء… ” صمد نے بمشکل اسے کھینچا
“زرقا اسے اوپر لے جا… ” راۓ عبید کا دل بند ہو رہا تھا
“اگر مجھے میرے بیوی بچے واپس نہ ملے تو تمہارا بھی کچھ نہیں رہے گا اسماء راۓ… اپنی ہی طرح خالی ہاتھ کر دوں گا تمہیں بھی… ” حدید جاتے جاتے بھی باز نہیں آیا تھا, صمد, اسماء کو گھسیٹتے ہوئے اندر لے گیا, چیخ چیخ کر اس کا گلا بیٹھ گیا تھا, تینوں بچے سہمے ہوئے سے سارا تماشہ دیکھ رہے تھے
صبح ہوتے ہی اسے آمنہ کی کال آئی
“اسماء…ذرا گھر آ ” وہ پریشان لگ رہی تھیں
“اب کیا ہو گیا ؟؟؟” وہ ستی پڑی تھی
“تو جلدی گھر آ بس… ” آمنہ نے ذرا غصے سے کہا تھا, صمد کو کام پر اور بچوں کا سکول بھیج کر وہ عمر فاروق کے گھر آ گئی, وہ تینوں نفوس ٹی وی لاؤنج میں ہی بیٹھے تھے, آمنہ نے اپنا سر ہاتھوں میں گرایا ہوا تھا, اذن آفس کے لئے نکلنے لگا تھا
“وہ آ گئیں… شیطانیات میں پی ایچ ڈی” اذن نے اسے دیکھ کر کہا
“بکوس بند کرو… ” اسماء کی آواز ہی بدل گئی تھی
“اسماء… ” آمنہ تیر کی طرح اس کی طرف آئیں
“تو نے ارمغان کے ساتھ مل کر اس لڑکی کو گھر سے نکالا ہے نا ؟؟؟” آمنہ کے کہتے ہی وہ دم بخود رہ گئی
“کیا ہوا ؟؟؟” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی
“یہ سب کیا ہے ؟؟؟” آمنہ نے اسراء کا موبائل اس کے سامنے کر دیا, وہ ساری اسی کی ریکارڈنگز تھیں
اس کی اور ارمغان کی ساری بات چیت… اس کی ساری مکروہ سازشیں, سارے مطالبات… اسراء ایک کے بعد ایک چلاتی چلی گئی
اسماء اپنی جگہ سے ہل نہیں سکی تھی, عمر فاروق ایک طرف بیٹھے مسلسل اسے دیکھ رہے تھے
“یہ سب کیا ہے اسماء ؟؟” آمنہ نے پوچھا
“تو اس ذلیل لڑکے نے اپنی ذلالت دکھا ہی دی… اسے تو گولی مار دوں گی میں… ” آمنہ کا تھپڑ اس کا منہ رنگ گیا تھا, اسماء ششدر رہ گئی
“اسماء میں مانتی ہوں کہ میں نے تجھے نفرت کرنا سکھایا… لیکن نفرت میں اسقدر گر جانا کس نے سکھا دیا ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“کیا مجھ سے زیادہ دکھ تھا تجھے انیتا کا…؟؟؟؟ میں اس کی ماں تھی ؟؟؟ کیا مجھ سے زیادہ دکھ ہوا تھا تجھے اس کے ٹھکراۓ جانے کا…؟؟؟ ہاں میں مانتی ہوں کہ تیرا غاشیہ سے نفرت کرنا درست ہو گا… لیکن اس کے کردار کو مسخ کرنا کہاں سے جائز تھا ؟؟؟” ان کا دوسرا تھپڑ بھی عین اسی جگہ پڑا تھا
“خدا نیتوں کے کھوٹ جانتا ہے لڑکی… جن بہنوں کی خاطر تو نے تماشے رچاۓ… آج کیا ہے ان کے ہاتھ ؟؟؟ ایک یہ کھڑی ہے… چھ سال بعد طلاق یافتہ کا لیبل لگوا کر… اور ایک وہاں پڑی ہے… جو بقول تیرے کچھ ہی دنوں میں واپس آ جاۓ گی… اسماء یہ تربیت ہے میری ؟؟؟ عمر فاروق کے خون میں تیرے جسی شیطان کہاں سے نکل آئی ؟؟؟” آمنہ چیخ پڑیں
“امی… ارمغان بھی اس سب میں شامل… “
“بکواس بند کر… بھاڑ میں گیا ارمغان… اور باقی سب… مجھے صرف اتنا بتا کہ تو نے یہ سب کیوں کیا ؟؟؟” ” آمنہ اسے تیسرا تھپڑ جڑنے کے لئے بالکل تیار تھیں
“تو نے ایک عورت ہو کر ایک عورت کے کردار پر سیاہی ملنی چاہی… اسماء کیسی عورت ہے تو ؟؟؟” وہ بے دم ہو کر صوفے پر گر گئیں
“اسماء باجی… اسراء بھی آپ کے ساتھ ہی اس گھر میں رہتی تھی نا… اسے بھی انیتا کا اتنا ہی دکھ تھا جتنا آپ کو… لیکن اس نے تو کبھی غاشیہ سے لن ترانیاں نہیں کیں, نا ہی وہ کبھی اس کے گلے پڑی… سارے مسائل آپ کو ہی کیوں تھے اس سے ؟؟؟ ” اذن چپ نہ رہ سکا, اسماء بس ساکت سی کھڑی تھی
“بتا مجھے… تیرے اسے اجاڑنے سے مل گیا انیتا کو حدید… بتا مجھے ؟؟؟” آمنہ تیر کی طرح اس کی طرف آئیں اور اسے زور سے جھنجھوڑا
“مل گیا انیتا کو حدید ؟؟؟؟” وہ چیخیں
“امی بس کریں… ” اسراء نے انہیں پیچھے کیا تھا
“اس نے انیتا کو کیوں ٹھکرایا ؟؟؟” اسماء زور سے بولی تھی
“انیتا نے ارمغان کو کیوں ٹھکرایا ؟؟؟” آمنہ اس سے بھی اونچا بولی تھیں
“درید نے اسراء کو کیوں ٹھکرایا ؟؟؟ حمنہ نے تیرے باپ کو کیوں ٹھکرایا ؟؟؟” آمنہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے, اسماء بول نہ سکی, بس خاموش آنسو بہاتی چلی گئی
“خبردار… جو تو نے آئندہ کبھی یہ کہا کہ تو نے یہ سب انیتا کے لئے کیا… جھوٹ… سب جھوٹ… تو نے یہ سب صرف اپنی انا کی تسکین کے لئے کیا, صرف اپنے نفس کے لئے کیا… تو نے اس سے بدلہ لیا اسماء… ” وہ بولیں
“صمد کی کال آ رہی ہے… ” اذن نے دھیرے سے کہا تھا
“میری ایک بات کان کھول کر سن لے… چپ چاپ واپس جا… اور سیدھی طرح عبید بھائی کے ساتھ جا کر اس لڑکی کو واپس لیکر آ… سمجھی… ورنہ دوبارہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا” آمنہ نے انگلی اٹھا کر کہا تھا, اسماء نے بیدردی سے اپنے آنسو پونچھے اور انہی قدموں واپس پلٹی
“اور خبردار… جو اب انیتا کے دماغ میں کچھ الٹا سیدھا گھسانے کی کوشش کی تو… مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا” آمنہ نے جاتے جاتے اسے کہا تھا
وہ چپ چاپ اذن کے پاس سے گزرتی چلی گئی,راۓ عبید کے گھر سے عمر فاروق کا گھر واکنگ ڈسٹینس پر ہی تھا, دل ہی دل میں کڑھتے ہوۓ وہ جیسے ہی گھر پہنچی… دروازے سے اندر قدم رکھتے ہی ارمغان کی کال آ گئی
“تم… بے غیرت انسان… تم جیسا گھٹیا انسان دنیا میں اور کوئی نہیں ہے کمینے… ” جو اس کے منہ میں آیا وہ بکتی چلی گئی
“اگر آپ تیمور ملک کے گھر نا گئیں تو… ” وہ ذرا سا رکا
“…باقی آپ خود سمجھدار ہیں” وہ ہنستا چلا گیا تھا
……………………….
جاری ہے