121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16


ناشیہ کا چھلہ پورا ہوتے ہی فرزانہ, نفیس اور صفوان اسے لینے آ دھمکے… خالد بھی گھر پر ہی تھا
“شازیہ… بچے ناشیہ کا سامان پیک کروا دے, ہم اسے لینے آۓ ہیں” فرزانہ نے مدعا عرض کیا
“پھپھو ابھی رک جائیں… وہاں بھلا کون دیکھے گا اسے…” شازیہ متذبذب سی تھی
“لو بھلا… وہاں میں ہوں, حنا ہے, ثناء ہے… وہاں بھلا اس کا خیال رکھنے والوں کی کوئی کمی ہے ” فرزانہ نے کہا
“سچ میں فرزانہ پھپھو… تبھی اس بیچاری کا یہ حال ہو گیا…” خالد سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا تھا
“کیا ہو گیا اسے ؟؟؟” فرزانہ انجان ہی بن گئی
“واقعی آپ کو نہیں پتہ… پھپھو اس کی حالت تو دیکھیں… وہ بیچاری تو بات کرنا ہی بھول گئی ہے, شکل دیکھیں اس کی جیسے برسوں سے بیمار ہو, خدا جانے آپ لوگوں نے کیا کیا ہے اس کے ساتھ… ” خالد کو اچھا بھلا غصہ آ گیا
“دراصل غلطی ہماری بھی ہے… ہم بیٹی دے کر اس کا پیچھا کرنا ہی بھول گئے, تایا جان نے سوچا کہ کونسا پراۓ گھر گئی ہے…سگی پھپھو کا گھر ہے, جان سے بڑھ کر عزیز رکھے گی لیکن آپ لوگوں نے تو اس کا خون ہی نچوڑ لیا… ” وہ بولا
“چل خالد پتر بس کر… اس کا اپنا گھر ہے وہ, جا شازیہ پیکنگ کر دے” فرزانہ نے کہا, شازیہ ناچار کھڑی ہو گئی
“شازیہ رکو…. پھپھو پہلے ہمیں مطمئن کریں کہ آپ کا یہ بیٹا آخر دن رات کرتا کیا ہے ؟؟؟” خالد نے پوچھا, فرزانہ جز بز سی ہو گئیں
“تیمور بھائی کو پتہ تو ہے کہ… صفوان کو ایک اور جگہ نوکری مل گئی تھی… ” فرزانہ نے کہا
“کس جگہ… ؟؟؟” خالد نے پھر پوچھا
“وہ…تیمور بھائی وہ… ” فرزانہ سے بات نہ بن پڑی
“ہم سے جھوٹ بولا آپ نے پھپھو… کوئی نوکری نہیں لگی اس کی… بھلا بی اے پاس کو روز روز نت نئی نوکریاں کون دیتا ہے… بھٹے پر دہاڑی کرتا ہے… روزانہ پانچ سو روپے پر… ” خالد بھڑک اٹھا
“اوۓ بے غیرتا پانچ سو روپے میں سے گھر کیا دیتا ہے تو ؟؟؟” تیمور ملک دہاڑ کر بولے تھے
“گھر کیوں دینا بھلا… ؟؟؟ اس بیچارے کا اپنا نشہ پانی پورا ہو جاۓ وہی بہت ہے” حالانکہ صفوان کی ان حرکتوں کا خالد کو شادی سے پہلے بھی اندازہ تھا لیکن اس نے بھی یہ ہی سوچا کہ شاید وہ شادی کے بعد سدھر جاۓ… اور اگر بالفرض وہ شادی سے پہلے تیمور ملک کو یہ سب بتا بھی دیتا… تب بھی کچھ زیادہ فرق نہیں پڑنا تھا, جب سے ناشیہ نے اس سے پیسے مانگے تھے, تب سے اس نے صفوان کی ذرا کڑی نگرانی کروائی تھی
“چلو بس کرو خالد… ” شازیہ نے کہا
“میری بات سنیں پھپھو… ناشیہ کہیں سڑک پر نہیں پڑی… اپنے گھر بیٹھی ہے, پہلے اس اکشے کمار کو کوئی ڈھنگ کا کام دھندہ کروائیں, پھر لے جانا ناشیہ کو” خالد نے ببانگ دہل کہا تھا
“لیکن خالد… ” شازیہ نے بولنا چاہا لیکن تیمور ملک نے اسے خاموش کروا دیا
“خالد بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے فرزانہ… جب یہ بندے کا پتر بن جاۓ گا تو آ کر اپنی بیوی اور بچے کو لے جاۓ” وہ کہہ کر کھڑے ہو گئے
“شازیہ… فرزانہ کو چاۓ بنا کر پلا” وہ اپنے کمرے میں جاتے ہوئے بولے تھے
…………………………
شام تقریباً تین بجے کا وقت تھا, زرقا پیپر دے کر فارغ ہوئی تھی, طہٰ اسے لیکر بوٹینیکل گارڈن آ گیا, دن ذرا ذرا خوشگوار ہونے لگے تھے, حبس کم ہونے لگا تھا, اب بھی بڑی خوشگوار سی ہوا چل رہی تھی, زرقا نے اپنا بیگ اتارا اور روش کے ساتھ بنے بینچ پر بیٹھ گئی, طہٰ بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا
ہر طرف بڑی خوابناک سی خاموشی تھی, زرقا نے بینچ سے ٹیک لگا لی, طہٰ اس کی طرف رخ موڑ کر بیٹھا تھا
“سارا کام ہو گیا ہے زرقا… سب کچھ ریڈی ہے, بس ایک عدد لڑکی کا بندوبست کرنا ہے…” طہٰ نے کہا, زرقا نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“طہٰ… ” اس نے پکارا
“جی شہزادی صاحبہ… ” وہ سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے گردن بھی جھکا گیا
“فرض کرو… اگر ہم ایک نہ ہو سکے تو ؟؟؟” زرقا نے پوچھا, طہٰ فوری طور پر کوئی جواب نہیں دے سکا تھا
“یہ فرض کرنا ضروری ہے زرقا ؟؟؟” اس نے زرقا کو سوال داغ دیا, زرقا دھیرے سے اس کی طرف مڑی تھی, وہ بس اس سے چند انچ کی دوری پر بیٹھا تھا, بلو جینز, وائیٹ شرٹ, بلو ڈینیم جیکیٹ, بلو اور وائیٹ جاگرز… سلکی بالوں کا کھڑا کھڑا سا سٹائل, سیاہ چمکدار آنکھیں, ہلکی ہلکی ڈاڑھی…. اور وہی ازلی پرکشش سی مسکراہٹ
زرقا بس دیکھتی رہ گئی تھی
“فرض کر کے تو دیکھو ؟؟” زرقا نے کہا, اب کے نظر بھرنے کی باری طہٰ کی تھی, زنک گرین اور بلیک کلر کی شارٹ شرٹ, ساتھ اسی رنگ کا کھلا سا پلازو, بلیک بلاک ہیلز میں مقید سپید پاؤں, کندھوں پر ہم رنگ سا میچنگ دوپٹہ جو لہراۓ جا رہا تھا, ڈھیلی سی پونی, آوارہ سی لٹیں, سنہری سی رنگت, گہری نشیلی آنکھیں, صاف شفاف چہرہ اور وہی ازلی سی بے ریا مسکراہٹ…
“دیکھ لیا… دل سینہ چیر کر باہر آ جاۓ گا زرقا” وہ بولا تھا
ہوا کا ایک نشیلا سا جھونکا آیا, زرقا کے ریشمی دوپٹے کا پلو اڑا اور طہٰ کے چہرے کو چھو گیا, زرقا نے دھیمے سے مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پر سے پلو کھینچا تھا, طہٰ بنا پلکیں جھپکاۓ اسے دیکھتا رہ گیا, پھر اٹھ کر اس کے قریب ہو گیا… بڑے حق سے ہاتھ بڑھایا اور اس کے بالوں کو جکڑتا وہ واحد ربڑ بینڈ بھی کھینچ دیا
“طہٰ… ” ہلکے گھنگریالے بال اس کے چہرے کا طواف کرنے لگے تھے
“زرقا… آئی لو یو” اس نے اپنا ایک بازو بینچ کی پشت پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل پر رکھتے ہوا بولا, زرقا کے گالوں پر لالی سی بکھر گئی
“میں مانتا ہوں محبت بہت خوبصورت ہے… لیکن یہ سب سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے” زرقا نے کانوں میں اذن کی آواز گونجی تھی, اس نے غور سے طہٰ کی آنکھوں میں جھانکا
وہاں ٹھاڑھیں مارتی محبت بھلے ہی سب سے خوبصورت نہیں تھی… لیکن یقین کرو, وہ کم خوبصورت بھی نہیں تھی
اس نے بھی دھیرے سے اپنا چہرہ طہٰ کے بازو پر ٹکا دیا
“نہیں اذن… مجھے میرے سامنے کھڑی یہ بہت خوبصورت محبت ہی چاہئے… مجھے پلٹ کر سب سے زیادہ خوبصورت کچھ نہیں چاہئے… کچھ بھی نہیں” دل سرگوشی میں بولا تھا
“آئی لو یو طہٰ… ” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
……………………….
حریم کو ناراض ہو کر میکے گیے ہوۓ دو ہفتے ہو چکے تھے… شروعات وہی ہمیشہ والی ہی تھی
حریم کو لگا جیسے رافع نے اسے چیٹ کیا ہے… اور رافع کے پوچھنے کے باوجود وہ کوئی ثبوت فراہم نہیں کر سکی تھی, حریم چیخی… رافع اس سے زیادہ اونچا چیخا…
شک کا لفظ ہی برا ہے… چاہے مرد کے دل میں ہو یا عورت کے, لمحوں میں گھر اجاڑ دیتا ہے… اور حریم اس پر شک کرتی تھی, رافع کاہر وہ پل جو اس کی نظروں سے اوجھل گزرتا تھا وہ اس کے لئے کسی قیامت سے کم نہیں تھا… ہر پل اسے یہ ہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ… وہ کہیں ناشیہ سے نہ ملتا ہو, وہ کہیں ناشیہ سے نہ بات کرتا ہو, وہ کہیں ناشیہ کو نہ یاد کرتا ہو…. اور رافع اس کی ہربات تحمل سے سنتا تھا, برداشت بھی کرتا تھا لیکن جیسے ہی حریم اس کا نام ناشیہ کے ساتھ جوڑ کر کچھ الٹا سیدھا بولتی… رافع کی ساری برداشت ختم ہو جاتی تھی
دونوں ایک برابر ہو کر لڑتے تھے… اب بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا اور حریم گھر چھوڑ گئی تھی, روبینہ کے بار بار اصرار پر وہ اور روبینہ اسے واپس لینے گیے تھے
“آخر وجہ کیا بن گئی ؟؟؟” حریم کی ماں تو منہ پھلاۓ بیٹھی تھی, بھائی نے ہی حال احوال پوچھا
“میرے خیال سے حریم سے پوچھ لے تو بہتر ہے” وہ رافع کے ساتھ ہی ہوتا تھا
“اس نے تو بتا دیا…. اب تم بھی بتا دو کہ یوں تن تنہا اسے گھر سے کیوں نکالا ؟؟؟” حریم کی ماں نے پوچھا
“آنٹی سب سے پہلے تو آپ اسے بلا کر میرے سامنے پوچھیں کہ کیا میں نے اسے گھر سے نکالا ؟؟؟؟” رافع کا لحجہ ذرا سخت ہو گیا
“بلائیں اسے… پوچھیں کہ اسے کتنی بار گھر چھوڑ کر جانے سے روکا… ؟؟؟ کہاں تک میں اس کے پیچھے آیا… ؟؟؟ پوچھیں اس سے ؟؟؟” وہ کہتا چلا گیا
“رافع…یار اکلوتی بہن ہے وہ ہماری… بس اسی لئے تھوڑی لاڈلی بھی یے” حریم کے بھائی نے کہا
“فاخر اگر وہ اکلوتی نہ بھی ہوتی, اگر وہ لاڈلی نہ بھی ہوتی… تب بھی وہ میرے لئے اتنی ہی قابل محبت ہوتی, اسے پوچھ کہ کیا کمی ہے اسے ؟؟؟ کونسی ضرورت ہے اس کی جو پوری نہیں ہوتی… ؟؟؟ کونسی آسائش ہے جو اسے مہیا نہیں ہے ؟؟؟؟ ہوچھ اس سے کہ میری محبت میں کہاں کمی لگتی ہے اسے ؟؟؟” رافع کی برداشت ختم ہوئی تھی
“اتنے ہی اچھے ہو تم تو وہ گھر کیوں چھوڑ کر آئی ؟؟؟” حریم کی ماں نے کہا
“بہن آپ اپنی بیٹی کو بلائیں… ؟؟؟ میرے سامنے اس سے پوچھیں کہ وہ کیوں گھر چھوڑ کر آئی ؟؟؟ خدا کی قسم اگر رافع سچ میں قصوروار ہوا تو میرا جوتا ہو گا اور اس کا سر ہو گا” روبینہ نے کہا, انہوں نے حریم کوبلوا لیا, ستا ہوا چہرہ لیے وہ اپنی ماں کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی تھی
“حریم گھر کیوں چھوڑا بیٹے ؟؟؟؟” فاخر نے پوچھا تھا, حریم خاموشی سے رافع کو دیکھتی رہی
“گالی دی رافع نے ؟؟؟”
“نہیں… “
“تھپڑ مارا… ؟؟؟”
“نہیں… “
“تشدد کیا…. مار پیٹ… ؟؟؟”
“نہیں… ” وہ پوچھتا چلا گیا, حریم نفی میں سر ہلاتی چلی گئی
“شک کیا.. ؟؟؟”
“نہیں… “
“بیوفائی کی… ؟؟؟؟” فاخر نے آخر میں پوچھا تھا, حریم بول نہ سکی
“حریم میں کچھ پوچھ رہا ہوں… بے وفائی کرتا ہے یہ ؟؟؟” فاخر نے دوبارہ پوچھا
“فاخر بھائی ناشیہ ابھی تک اس کی زندگی میں شامل ہے.. ” اس نے کہہ ہی دیا, رافع نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“مجھے میری ماں کی قسم… ناشیہ ملک میرے دل کے کسی کونے میں دفن تو ہو سکتی ہے لیکن میری زندگی میں اس کی پرچھائی تک نہیں ہے” رافع نے مضبوط لحجے میں کہا تھا, حریم نے سر جھکا لیا, اس سے پہلے کہ اس کی ماں کچھ کہتی, فاخر نے انہیں خاموش کروا دیا
“حریم…. اپنا سامان پیک کرو, رافع تمہیں لیکر جاۓ گا” فاخر نے کہا تھا
………………………..
“اب یہ کونسا نیا پینترا ہے تمہارا ؟؟؟ وہ سونے کے لئے لیٹا تو شازیہ نے پوچھ لیا, اس کے لحجے کی کاٹ اسقدر تیز تھی کہ خالد اسے دیکھتا رہ گیا
“کیا مطلب ؟؟؟” وہ بولا
“ناشیہ کو کیوں روکا ؟؟؟” شازیہ نے پوچھا
“شازیہ تم مجھ سے یہ پوچھ بھی کیسے سکتی ہو ؟؟” خالد نے تاسف سے کہا
“کیونکہ مجھے اب تم پر رتی برابر بھی اعتبار نہیں رہا… ” شازیہ نے کہا
“کہیں تم پھر سے تو وہی کھیل نہیں کھلینے لگے.. جو غاشیہ کی دفعہ کھیلا تھا” شازیہ کہتی چلی گئی, خالد کی جیسے بس ہو گئی
“شازیہ تمہارے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے آج یہ بتاؤ ؟؟” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا
“مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے” وہ بولی
“پھر اسقدر تلخ کیوں ہو ؟؟؟؟” وہ بولا
“کیونکہ میری بہن خاندان کے نام پر دھبہ لگا کر رات کے اندھیرے میں اس گھر کی دہلیز پار کر گئی تھی… اور اس سب میں تم اس کے ساتھ تھے” شازیہ بھڑکی
“خدا کا شکر ہے کہ میں اس کے ساتھ تھا… ورنہ آج وہ ناشیہ کی جگہ ذلیل ہو رہی ہوتی” خالد نے کہا
“تو ناشیہ کو کیوں ذلیل ہونے دیا… ؟؟؟ اسے بھی بھگا دیتے؟؟؟؟” شازیہ تڑخی
“میں آج اسے یوں رلتے دیکھتا ہوں تو خود کو کوستا ہوں کہ کاش… میں نے اس کا بھی ساتھ دیا ہوتا” خالد نے کہا, شازیہ طنز سے مسکرائی تھی
“قصور تمہارا نہیں ہے خالد ملک… آخر کو تم خون کس کا ہو ؟؟؟ ” شازیہ کے کہتے ہی خالد کے چہرے کا رنگ بدل گیا
“کس کا خون ہوں میں ؟؟؟” وہ اس کے عین سامنے آ گیا
“اس شخص کا جس نے اس بے راہروی کی ریت کو جنم دیا تھا… جس نے سب سے پہلے ملک خاندان کا منہ کالا کر دیا تھا, جو سب کے خلاف جا کر اس حرافہ کو بیاہ لایا تھا” شازیہ چیخ پڑی
“تو اس جرم کے بدلے اسے پھانسی کیوں نہیں لگا دی گئی ؟؟؟ کیوں تمہارا ملک خاندان اسے واپس لیکر آیا… ؟؟؟ کیوں اسے اس گھر میں جگہ دی… ؟؟؟ آخر کیوں تمہاری ماں نے اسے اپنی بہن سے منسوب کر دیا شازیہ تیمور ملک..؟؟؟” وہ بھی پھٹ پڑا
“یہ میری ماں کا احسان تھا اس کے سر پر…. ورنہ آج اس کی نسل ہی ختم ہو چکی ہوتی” شازیہ نے اسے طعنہ دیا تھا
“اور میں نے وہ احسان کب کا چکا دیا…سمجھیں” خالد نے کہا, شازیہ دم بخود رہ گئی
“پسند کی شادی کوئی جرم نہیں ہے شازیہ… لیکن تم جیسے لوگ اسے جرم بنا دیتے ہیں” خالد نے کہتے ہوئے سونے لیٹ گیا تھا
………………………..
وہ اس دن آفس میں ہی تھا جب اسے طہٰ کی کال آئی
“شام میں فارغ ہو ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا
“خیریت ؟؟؟؟”
“تمہارے لیے لڑکی دیکھنے جانا ہے” طہٰ نے اپنے طور تو بات سیدھی ہی کی تھی لیکن وہ جز بز ہو کر رہ گیا
“کہاں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“وہ چھوڑو… کتنے بجے لینے آؤں تمہیں ؟؟؟” طہٰ نے پوچھا, وہ جانتا تھا کہ لوکیشن ابھی بتا دی تو وہ مر کے بھی نہیں جاۓ گا
“نو بجے آ جانا… ” اور پورے نو بجے وہ بائیک لیے اس کے انتظار میں کھڑا تھا
“گاڑی کہاں ہے تمہاری ؟؟؟” اذن اس کے پیچھے بیٹھتے ہوئے بولا
“وہ ابھی میں سیکھ رہا ہوں.. ” وہ بولا
“تمہیں گاڑی چلانی نہیں آتی ؟؟” اذن نے اچنبھے سے پوچھا تھا, اس کا طنز طہٰ صاف محسوس کر گیا
“تمہیں ہوائی جہاز اڑانا آتا ہے… ؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں… ” اذن نے کہا
“تو بس… ضروری تو نہیں ہے کہ سب کو سب کچھ کرنا آتا ہو” وہ بولا
“اپنے بہنوئی کو ساتھ لے آتے… میرا آنا کتنا ضروری تھا” اذن نے کہا
“میں نے سوچا تمہاری بیوی ہے تو اچھا ہے کہ تم خود ہی پسند کر لو… ” طہٰ نے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے اسے آنکھ ماری تھی
“ناؤ شٹ یور ماؤتھ… ” اذن کے کہتے ہی وہ ہنستا چلا گیا, کچھ دیر بعد طہٰ نے ایک لش پش سی بلڈنگ کے آگے گاڑی روک دی… اذن کی مارے حیرت کے آنکھیں پھٹ گئیں
“میں نے کبھی خوابوں میں بھی اس جگہ کا تصور نہیں کیا …” وہ اس پر چڑھ دوڑا
“چلو اب حقیقت میں کر لو… ” طہٰ بائیک کھڑی کرتے ہوئے بولا
“میں اندر نہیں جاؤں گا… تو جا اور بات کر کے آ جا” اذن وہیں جم گیا
“او یار کم آن… میں کونسا روز یہاں آتا جاتا ہوں, اکیلے ہی بات کرنی ہوتی تو تجھے ساتھ کیوں لاتا ؟؟؟ یونیورسٹی یا کالج کی کسی فیلو سے کہتا تو وہ فوراً پکڑی جاتی… اس سے اتنا ڈرامہ نہیں کھیلا جانا تھا, یہاں کی لڑکیاں ماہر ہوتی ہیں ایسے کاموں میں” طہٰ کہتا چلا گیا
“چل آ جا… بھائی بن کے” طہٰ نے اسے بازو سے کھینچا تھا, اذن مارے باندھے اس کے ساتھ اندر چلا گیا
جو لڑکی انہیں ملی اس کا نام شونا تھا… اذن تو نام سن کر ہی بدک گیا
“یار ہم نام چینج کر لیں گے”طہٰ نے کہا
“تو… اس ہینڈسم کی بیوی بننا ہے مجھے ؟؟؟” شونا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اذن کے گلے سے ہی لٹک جاتی اور اذن کا پارہ سو پر پہنچ رہا تھا, شونا سے سارا کچھ طے کر کے طہٰ نے اس کا نمبر لیا اور اذن کو کھینچتا ہوا باہر نکل آیا
“کہاں لیکر جا رہے ہو میرے ہسبینڈ کو… ” وہ پیچھے سے مسلسل مسکراۓ جا رہی تھی
“سالے میرا دل کر رہا ہے تجھے یہیں گاڑھ جاؤں “اذن نے سارا غصہ واپسی پر بائیک کی سپیڈ پر اتارا تھا, طہٰ بیچارہ پورے راستے خود پر فاتحہ ہی پڑھتا رہا
…………………….
صبح کے ناشتے پر غدر مچا ہوا تھا… اسماء تھرماس رکھ کر ابھی پلٹی ہی تھی کہ صمد کا فون بج اٹھا
“صبح صبح کس نے یاد کر لیا آپ کو ؟؟؟” وہ بولی, صمد نے جیب سے فون نکالا, درید کی کال تھی, اس نے ایک نظر اسماء کو دیکھتے ہوئے کاٹ دی
“جلدی کرو اسماء… سٹور سے فون آ رہا ہے, مال آ گیا ہو گا” صمد نے کہا, اسماء نے اسے کپ بھر دیا, وہ جلدی سے ختم کر کے اٹھ کھڑا ہوا, درید کی پھر سے کال آ رہی تھی
“ہاں بول… کیا ہے تجھے صبح صبح ؟؟” صمد نے کہا
“صمد بھائی میں نے ویزہ کنفرم کروا دیا ہے سب کا… اب اور نہیں ٹالا جاتا مجھ سے, اور ہاں ساتھ آپ کا وہ دوست کم سالا بھی آ رہا ہے” درید نے ہنستے ہوئے کہا تھا
“درید تیرا بیڑہ غرق ہو خبیثا… زرقا کی شادی تو گزر جانے دیتا” صمد کے حواس گم ہوۓ تھے
“یہاں پاکستان, پاکستان…دادا ابو, دادا ابو کی رٹ لگی ہوئی ہے میں کیا کروں…؟؟؟ کل جب فلائیٹ نکلے گی تو کال کر دوں گا… خدا آپ کی مدد کرے” درید نے ہنستے ہوئے کہا تھا
“اور تو خود ؟؟؟” صمد کے چھکے چھوٹ رہے تھے
“میں نے نہیں آنا ابھی… مجھے اپنے سر کے بال بہت عزیز ہیں”وہ کال کاٹ گیا تھا
……………………………
جاری ہے