121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42


فرزانہ اور نفیس دوبارہ آۓ تھے, اس بار وہ تیمور کے کچھ جاننے والے لوگوں کو لیکر آۓ تھے لیکن تیمور ملک نے ناشیہ کو بھیجنے سے صاف انکار کر دیا تھا, وہ تو سرے سے صفوان کو معاف کرنے کے حق میں ہی نہیں تھے, انہوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ صفوان ناشیہ کو طلاق دے دے ورنہ عدالت دور نہیں ہے…
ایک ڈیڑھ ہفتے بعد ہی ناشیہ کو اس کی طرف سے طلاق کا نوٹس مل گیا تھا, سیٹھ بابر کے بندے چوبیس گھنٹے اس کے گھر کے باہر پہرہ دے رہے تھے, ذرا وہ گھر سے باہر نکلتا, ساتھ ہی اسے ساجد کی کال آ جاتی, نفیس کے گھر کا کوئی حال نہیں تھا, صبح و شام وہ دونوں بھائی کتوں کی طرح ایک دوسرے کے گریبان پھاڑتے تھے, فرحان اس پر وہ برستا کہ حد نہیں, نفیس کی دوکان ٹھپ ہوکر رہ گئی تھیں, ادھار بھی کہاں تک چلے… فرزانہ تیمور ملک سے اپنا حصہ بھی وقتاً وصول کر چکی تھی, حنا اور ثناء کی شادیاں اس کے سر پر کھڑی تھیں… ایسے میں فرحان بیچارہ اکیلا کیا کرتا ؟؟؟
دوسری جانب سیٹھ بابر نے فرح کو بھی اسی کمرے میں بند کر رکھا تھا, اس کا کھانا تین وقت اس کے کمرے میں پہنچا دیا جاتا تھا, شافع بس ایک بار ہی اس سے ملنے آیا تھا, اس کے بعد سے بس ہر دو, ہفتے بعد اس کے اصرار پر بچوں کو ساجد کے ہاتھ بھجوا دیتا تھا….
خود نہیں گیا تھا
حریم کی خلع کا بھی پہلا نوٹس جاری ہو گیا تھا, اس دن کے بعد سے اس نے رافع کو کال بھی نہیں کی تھی
وہ دونوں بھائی جیسے تیسے بچوں سمیت گھر کی گاڑی گھسیٹے ہی جا رہے تھے, روبینہ کو شوگر کا مسئلہ بھی بن گیا تھا, گھر کہاں ملازماؤں کے سر پر چلتے ہیں… وہ عمر کے ترپن سال گزار چکی تھیں… اب تو ہمت بھی ختم ہو چکی تھی اور حوصلہ بھی…
صبح و شام وہ دونوں کو دوسری شادی کے سبق پڑھاتی رہتی تھیں… اور وہ دونوں… وہ بیچارے ایک ہی بار کا ڈسا ہوا بھگت کر ڈرے ہوئے تھے, شافع کو اب زیادہ ڈر اس بات کا بھی تھا کہ دوسری آنے والی نہ جانے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی ؟؟؟
حدید ویسے ہی مارا مارا پھر رہا تھا, دو تین بار تھانے بھی گیا لیکن بے سود…. وہ کونسا گم ہوئی تھی جو مل جاتی… وہ تو سکون سے باپ کے گھر بیٹھی تھی, سارا دن آفس میں گزار کر شام کو اس کا دل نہ کرتا کہ گھر جاۓ…
اپنے نئے گھر جا کر بیٹھ جاتا, کبھی تو وہیں فرش پر پڑے پڑے ہی سو جاتا تھا, زرقا ہی اسے زبردستی کچھ نہ کچھ کھلا پلا دیتی تھی, راۓ عبید ان تین ہفتوں میں بوڑھے ہو گیے تھے, ہمہ وقت انہیں حدید کی فکر کھاۓ رکھتی تھی کہ کہیں وہ خودکو کچھ کر نہ لے… مکافات عمل تو شروع ہو چکا تھا اگر وہ سمجھتے
اسماء ایک بار پھر جیت گئی تھی, جیسے تیسے اس نے انیتا اور آمنہ کو رام کر ہی لیا تھا, عمر فاروق تو پہلے ہی راضی تھے, دو دن بعد ارمغان اور انیتا کا نکاح تھا, اسراء تو عدت میں تھی, اسماء خود ہی جا کر اس کے لئے نکاح کا جوڑا خرید کر لائی…نکاح سے دو دن پہلے اس نے ارمغان کو کال کی تھی
“ابھی صرف نکاح کر لو… رخصتی بعد میں کروا لینا” اس نے ایک آخری کوشش کرنی چاہی تھی
“بالکل بھی نہیں… ” وہ صاف انکار کر گیا
“ارمغان میری کوئی تو مان لو… ” وہ روہانسی ہو گئی تھی
“اب تک ساری آپ کی ہی مانی ہیں… دو دن بعد نکاح اور رخصتی” وہ بولا
“ایک نمبر کے کمینے ہو تم” وہ پھنکاری
“ذرہ نوازی ہے… ” وہ مسکراتا ہوا کال کاٹ گیا, اگلی شام وہ ملک ہاؤس پہنچا تھا
“میری شادی میں کون جاۓ گا ؟؟؟” اس نے مدعا عرض کر دیا
“ویسے جانا تو مجھے چاہئے… ” غاشیہ نے کہا, وہ سبھی نفوس ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے تھے, تیمور ملک اپنے کمرے میں چلے گئے تھے
“تم گئیں تو سمجھو شادی ختم… اسماء تو پہلے ہی کسی موقع کی تاک میں ہے… ” ارمغان نے کہا
“پھر کون جاۓ گا ؟؟؟” غاشیہ نے کہا
“اپنے بھائی کو لے جاؤ… ” شازیہ نے خالد کی طرف اشارہ کیا تھا
“میری توبہ… مجھے اپنا سر بہت عزیز ہے, اس کی شادی ہو اور کوئی بم نا پھوٹے… یہ ممکن ہے بھلا ؟؟؟” وہ صاف ہری جھنڈی دکھا گیا
“بس اتنا ہی دم ہے… ” ارمغان نے چوٹ کی تھی
“ہاں… اس سے بھی کم ہے” وہ بولا
“میں چلوں ؟؟؟” طہٰ نے معاذ کو اپنے اوپر بٹھایا ہوا تھا
“تو رہنے دے… ” شازیہ نے اسے گھرکا
“کیوں ؟؟؟” وہ منمنایا تھا
“مجھے پتہ ہے تو نے وہاں کیوں جانا ہے… ” وہ بولی
“طہٰ… وہ کسی کی بیوی ہے یار… بس کر دے اب” خالد نے کہا
“واہ… اس دن تو بڑا کہہ رہے تھے دونوں کہ تو جہاں کہے گا وہیں شادی کروائیں گے… اب کیا ہو گیا ؟؟؟” طہٰ نے کہا
“کس کی بات کر رہا ہے یہ ؟؟؟” غاشیہ ابھی انجان تھی
“اسے نا بتانا… ابھی تھوڑے دنوں میں اس کی اور حدید کی صلح ہو جانی یے پھر یہ سب سے پہلے اسے بتاۓ گی” طہٰ زور سے بولا
“مجھے ابھی اسی وقت بتائیں خالد بھائی… ” وہ بولی, خالد نے ارمغان کی طرف دیکھا, اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنی دو انگلیوں سے منہ بند رکھنے کا اشارہ کیا تھا
“اذن زرقا کو ڈیورس دے رہا ہے… ” طہٰ نے بتا ہی دیا
“واٹ… ؟؟؟” غاشیہ کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں
“کیوں ؟؟؟” وہ بولی
“کیونکہ زرقا اس کے ساتھ خوش نہیں ہے… تمہیں تو سب پتہ ہے نا… تم تو گواہ ہو میری ساری محبتوں کی, کوششوں کی… اور شکستوں کی… نہیں صبر آیا مجھے…” وہ کہتا چلا گیا
“لیکن طہٰ… اذن ایسے کیسے خاموشی سے اسے ڈیورس دے دے گا… مسئلہ تو اب بھی وہی ہو گا جو پہلے تھا… اس کا باپ کسی صورت نہیں مانے گا” غاشیہ نے کہا
“تو نا مانے… ابو مان گئے ہیں, تیسرا نوٹس دیتے ہی اذن اسے چھوڑ دے گا اور میں اسے لے آؤں گا… نکاح کے بعد دھیرے دھیرے خود ہی اس کے ابو مان جائیں گے… اور اگر نا بھی مانے تو کوئی مسئلہ نہیں… بھائی تو راضی ہوں گے نا اس کے… حدید بھائی خود ہی اپنے ابو کو منا لیں گے” طہٰ ایک بار پھر پلان بنا کر بیٹھا تھا
“طہٰ… یہ ٹھیک نہیں ہے….” غاشیہ نے کہا
“وہ اس کے ساتھ خوش نہیں ہے… اذن اپنی مرضی سے اسے ڈیوورس دے رہا ہے” طہٰ مطمئن تھا, غاشیہ نے ارمغان کی طرف دیکھا
“ایک بات کہوں تم سے ؟؟؟”وہ طہٰ کی طرف مڑا
“میری بات کا برا مت منانا لیکن… اگر وہ اذن فاروق راۓ کے ساتھ خوش نہیں ہے تو وہ دنیا کے کسی شخص کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی… یہ میں اسلیے نہیں کہہ رہا کہ وہ میرا دوست ہے… بھائیوں جیسا بھائی ہے, میں نے اس کے ساتھ پچیس سال گزارے ہیں… بلکہ میں یہ اسلیے کہہ رہا ہوں کہ وہ عمر فاروق راۓ کا بیٹا ہے…اور عمر فاروق کے خمیر سے بنے اس لڑکے کے لئے صرف ایک ہی لفظ ہو سکتا ہے… بہترین…اس سے زیادہ بہترین انسان میں نے اپنی زندگی میں آج تک نہیں دیکھا…جو لڑکی اذن فاروق کو راۓ کو صرف اسلیے ٹھکرا رہی ہے کہ اسے کسی اور سے محبت ہے تو وہ انتہائی بد قسمت ہے… کیونکہ وہ لڑکا اس قابل ہے کہ اس پر ہزاروں محبتیں بھی قربان کر دی جائیں, وہ اس قابل ہے کہ اس کی خاطر تم جیسے ہزاروں کو بھلا دیا جاۓ… اور اگر وہ نہیں بھلا پا رہی تو یہ تمہاری محبت کا اثر نہیں ہے طہٰ ملک… یہ سراسر اس کی بد نصیبی ہے…” ارمغان کہتا چلا گیا تھا, سبھی کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے
“میں نے پوچھا تھا کہ شادی میں کون جاۓ گا ؟؟؟” کچھ دیر بعد ارمغان نے ہی خاموشی کو توڑا
“میں چلوں ؟؟؟” طہٰ نے دھیرے سے کہا, مطلب ارمغان کی تقریر کا اس پر کوئی اثر نہیں تھا
“ٹھیک ہے… خالد… چل نا یار… ” وہ بولا
“ہاں نا خالد بھائی… مزہ آۓ گا” طہٰ نے ہنستے ہوئے کہا
“وہاں کوئی پھڈا نا ڈال آنا… خالد اس چھلاوے پر نظر رکھنا ” شازیہ نے اسے وارن کیا تھا
…………………………
حدید نے انیتا اور ارمغان کے نکاح میں شرکت کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا, وہ معمول کے مطابق صبح بس چاۓ کا ایک کپ پی کر آفس چلا گیا, زرقا, صمد اور راۓ عبید کے ساتھ واپس آ گئی تھی, عام حالات ہوتے تو شاید راۓ عبید اچھا خاصا پھڈا ڈالتے لیکن اب وہ بس چپ چاپ صوفے کے ایک کونے میں ٹک گیے تھے, انہیں یاد آ رہا تھا جو انہوں نے آمنہ کے ساتھ کیا… یہ اس کا مکافات عمل تھا, اسراء کے سلسلے میں بولے گئے جھوٹ کا خمیازہ انہیں حدید کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا تھا
انیتا کو گھر میں ہی بیوٹیشن بلوا کر ہلکا پھلکا سا تیار کروا دیا گیا, وہ بھی بالکل ہی گم صم سی تھی, یوں جیسے سب کچھ وقت کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بیٹھی ہو, آمنہ کچھ پریشان سی تھیں, عمر فاروق مطمئن تھے, مسکرا بھی رہے تھے, یوں جیسے کوئی دیرینہ خواہش پوری ہو گئی ہو, اسراء عدت کی وجہ سے بس اپنے کمرے تک مقید تھی, اسماء چکرائی پھر رہی تھی
ایک بجے کے قریب ارمغان, خالد اور طہٰ کے ساتھ وہاں پہنچ گیا, نکاح خوان اور رجسٹرار کچھ دیر پہلے ہی آ گئے تھے, اذن اس کے ساتھ طہٰ اور خالد کو دیکھ کر زیادہ حیران نہیں ہوا تھا, یوں جیسے اسے اندازہ ہو کہ ارمغان انہیں ضرور لیکر آۓ گا, عمر فاروق بھی ان دونوں سے رسمی سا ہی ملے
آگ اسماء کے پیروں پر لگی تھی اور تلوؤں پر بھی نہ بجھی, وہ تو راشن پانی لیکر اس پر چڑھ دوڑی
“تمہیں کس نے کہا کہ ان دونوں کو ساتھ لیکر آؤ… ” وہ پھنکار رہی تھی
“اور کس کو لیکر آتا… ؟؟؟ گھر کے فنکشن میں دوستوں کو تو لانے سے رہا, ایک اذن تھا وہ بھی انیتا کی طرف سے شامل ہو گیا… اب کسی کو تو لانا تھا کہ نہیں… ” ارمغان رتی بھر شرمندہ نہیں تھا
“ارمغان ابھی اسی وقت ان دونوں کو یہاں سے چلتا کرو, میں ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کر سکتی ان دونوں کو…. ” وہ چیخی
“بالکل نہیں… ان میں سے ایک میرا بھائی ہے… اور ایک تایا زاد… وہ میری شادی میں آۓ ہیں… میں کیوں چلتا کروں ؟؟؟” ارمغان نے کہا
“میں انہیں دھکے دے کر اپنے گھر سے نکال دوں گی… ” وہ باہر کی طرف بڑھی تھی
“اور میں اسی لمحے وہ ساری ریکارڈنگز صمد بھائی کو سینڈ کر دوں گا ” ارمغان نے پھر اس کہ شہہ رگ پر پاؤں رکھا تھا
“وہ اس غلیظ انسان کی نسل سے ہیں…” اسماء نفرت سے بولی
“اور اب آپ اسی غلیظ نسل کے لڑکے کو اپنی بہن دے رہی ہیں سو… تمیز سے بات کیا کریں” ارمغان کا لحجہ سرد ہو گیا تھا
“ارمغان…. ” اسماء نے کچھ کہنا چاہا لیکن ارمغان نے اس کے سامنے اپنی انگلی کھڑی کر دی
“بس… ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا باہر نکل گیا تھا
اسماء پیچ و تاب کھا کر رہ گئی, واقعی ارمغان کا پیر عین اس کی شہہ رگ پر دھرا ہوا تھا, صد شکر کے نکاح خیر و عافیت سے ہو گیا, عمر فاروق نے گھر پر ہی کھانے کا انتظام کر رکھا تھا, اذن, طہٰ سے رسمی سا ہی ملا… کھانے کے بعد نکاح خواں اور دیگر قریبی لوگ رخصت ہو گئے تو ارمغان عمر فاروق کے پاس آیا
“پانچ بج گئے ہیں, جاتے جاتے وقت لگے گا” وہ ملتجی سے لحجے میں بولا
“رخصتی بھی کروانی ہے ؟؟؟ انہوں نے پوچھا
“جی… ” وہ بولا
“یہ بھی منوا لیا ہے اس سے ؟؟؟” انہوں نے پھر پوچھا تھا, ارمغان نے سر جھکا لیا, وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اندر چلے گئے, کچھ ہی دیر بعد اسماء اور زرقا انیتا کو ساتھ لیکر باہر آ گئیں, طہٰ نے نظر بھر کر اسے دیکھا تھا… انتہائی سوگوار سی آنکھیں اور تھکا تھکا سا چہرہ… زرقا نے بس ایک نظر کے بعد نظر بدل لی, اذن, انیتا کو اپنے ساتھ لگاۓ ہوۓ گاڑی تک لایا تھا
“ویسے مجھے یہ کہنے کی ضرورت تو نہیں ہے لیکن پھر بھی… خیال رکھنا اس کا, مجھ سے بھی زیادہ لاڈلی ہے یہ سب کی… ” اذن نے ارمغان سے گلے ملتے ہوئے کہا
“تجھے یہ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے… ” وہ بولا, اذن کی آنکھوں میں سکون ہی سکون تھا, عمر فاروق انیتا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بہت مطمئن تھے, اسراء بھی بہت خوش تھی, آمنہ نے بھی جیسے تیسے دل پر پر پتھر رکھ ہی لیا تھا لیکن اسماء… وہ اگلا پلان تیار کر چکی تھی
وہ اپنی ساری نفرت آلود سازشیں انیتا کے کانوں میں انڈیل چکی تھی, وہ ٹھان چکی تھی کہ انیتا اس کے ساتھ واپس آنے کے لئے ہی جا رہی ہے, اسے بس کچھ عرصے کے لئے وہاں رہنا تھا, ان سب سے رخصت ہو کر ارمغان ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا, انیتا اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی
شام کے ساڑھے پانچ بج رہے تھے جب اس نے گاڑی سٹارٹ کر لی, پورا راستہ وہ دونوں ایک دوسرے سے ایک لفظ بھی نہیں بولے, ارمغان بس چپ چپ ڈرائیونگ کرتا رہا, مغرب کی اذانیں ہو رہی تھیں جب اس نے گھر کے آگے گاڑی روکی, پھر اتر کر گیٹ کھولا اور گاڑی اندر لے آیا, انجن بند کر کے اس نے انیتا کی طرف کا دروازہ کھولا تھا
اس نے جیسے ہی پاؤں باہر نکالا… تو سیٹ بیلٹ اس کے سینڈل کے سٹریپ میں پھنس گئی, وہ بیٹھے بیٹھے نیچے کو جھکی تھی, لمبے سیاہ ریشمی بال سینے کے اطراف سے آگے کو لہرا گئے, ارمغان جیسے اس منظر میں کھو سا گیا, آگے بڑھ کر اس کی مدد بھی نہ کر سکا, انیتا کا بھاری کامدار دوپٹہ بھی بار بار آڑے آ رہا تھا
“رکو… میں نکال دیتا ہوں” وہ یکلخت ہی جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آیا, انیتا سیدھی ہو گئی, ارمغان نے گاڑی کے پاس پنجوں کے بل نیچے بیٹھتے ہوئے اس کا سٹریپ سیٹ بیلٹ سے آزاد کروایا تھا
“چلو آؤ.. ” اس نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنا ایک ہاتھ اس کے سامنے پھیلا دیا, انیتا چپ چاپ اس کا ہاتھ تھام کر باہر نکل آئی اور باہر نکلتے ہی اس کا ہاتھ چھوڑ دیا, وہ اس کا اپنا گھر تھا… زندگی کے چوبیس سال اس نے وہیں گزارے تھے
“میں نے اوپر تمہارا کمرہ صاف کروا دیا تھا, اور کچھ کپڑے سلوا کر پریس کر کے لٹکا دیئے تھے, باقی جیسے بھی لینے ہوں تم میرے ساتھ جا کر خود ہی لے لینا…” وہ اندر آتے ہوئے بولا تھا, انیتا چپ چاپ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی
“انیتا… ” اس کی پکار پر رکی
“اگر کہوں تو میں چھوڑ آتا ہوں… ” وہ بولا, انیتا پلٹ کر صوفے پر بیٹھی, دونوں جوتے اتارے, چادر اتاری اور بنا کچھ کہے اوپر چلی گئی, وہ بس سر جھٹک کر رہ گیا تھا
……………………………
وہ حسب معمول اپنے کمرے میں تھا, زرقا صمد کے ساتھ ہی واپس آ گئی تھی, اسی نے دھکے سے چند نوالے حدید کے منہ میں ڈالے تھے
“مجھے ایک کپ چاۓ بنا دو… ” بس ہر وقت چاۓ
“حدید بھائی آپ صبح دوپہر شام چاۓ پی رہے ہیں… اتنی زیادتی بھی اچھی نہیں ہوتی” وہ بولی
“زرقا پلیز… ” وہ اکتا کر بولا تو اس نے چپ چاپ اسے چاۓ کا کپ لا دیا, ابھی اس نے ایک ہی گھونٹ بھرا تھا کہ اس کے موبائل کی بپ بجی, کوئی واٹس ایپ آیا تھا, اس نے سکرین سکرول کرتے ہوئے کھول لیا
اور کھولتے ہی جیسے جامد رہ گیا
وہ غاشیہ ہی تو تھی… نڈھال سی ہسپتال کے بستر پر پڑی… اس کے پہلو میں سفید کمبل میں لپٹے وہ دو ننھے وجود جیسے حدید کی روح تک کھینچ لے گئے تھے
“غاشیہ… غاشیہ… ” گرم گرم چاۓ اس کے ہاتھوں کو جلا چکی تھی لیکن اسے پرواہ نہیں تھی, وہ تو بس بار بار اس نمبر کو ملا رہا تھا جو اب بند ہو چکا تھا
“حدید بھائی کیا ہوا ؟؟؟” زرقا کی آنکھیں پھیل گئیں
“زرقا… یہ غاشیہ ہے… ہسپتال میں… زرقا میرے بچے… جڑواں بچے” وہ یکدم بستر سے اترا اور ننگے پیر ہی باہر کو بھاگا
“حدید بھائی کونسا ہسپتال ہے…؟؟ ” زرقا اس کے پیچھے بھاگی تھی, وہ سنی ان سنی کرتا ہوا سیڑھیاں اترتا چلا گیا
“کہاں جا رہا ہے حدید… ؟؟؟” صمد نیچے ہی تھا
“غاشیہ ہسپتال میں ہے… اس نے میرے جڑواں بچوں کو جنم دیا ہے صمد بھائی… ” وہ کہتا ہوا باہر کو بھاگا, اسماء دم بخود کھڑی رہ گئی
“کونسا ہسپتال ؟؟؟” صمد نے اس کا بازو جکڑ لیا
“یہ دیکھیں… ” اس نے موبائل اس کے سامنے کر دیا
“مجھے چھوڑیں… مجھے اس کے پاس جانا ہے” وہ دوبارہ باہر کو بھاگا تھا
“حدید میں تیرے ساتھ چلتا ہوں… رک جا… زرقا اس کے جوتے لیکر آ جلدی” صمد نے اسے بمشکل قابو کر رکھا تھا, زرقا دوڑ کر اس کے جوتے لے آئی, وہ دونوں. آگے پیچھے ہی گھر سے نکلے تھے
“صمد اس کا خیال رکھنا… ” راۓ عبیدنے پیچھے سے آواز لگائی تھی
صمد نے ایک ایک کر کے قریبی سارے ہسپتال چھان مارے, پھر سرکاری ہسپتال پہنچا, دو, تین گھنٹے کی خواری کے بعد ایک ہسپتال کی ریسیپشن پر اسے غاشیہ ملک کے نام کی اینٹری ملی تھی
“یہ کہاں ملیں گی اب ؟؟؟” حدید نے پوچھا
“یہ تو آدھے گھنٹے پہلے ڈسچارج ہو کر چلی گئیں” ریسیپشنٹ سے کہا
“ان کے ساتھ کون تھا ؟؟؟” صمد نے پوچھا
“دو لڑکے اور ایک خاتون تھیں… ” وہ بولا
“حدید… وہ ضرور اپنے ابو کے گھر ہے… اس کے ساتھ طہٰ اور خالد ہی ہوں گے” صمد نے کہا
“ان میں ایک لڑکا یہ تھا… ؟؟؟” حدید نے طہٰ کی تصویر اس کے سامنے کر دی
“جی… یہی تھا” حدید سنتے ہی باہر کو بھاگا, صمد نے اسے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے ہی نہیں دیا, وہ خود ملک ہاؤس آیا تھا
دروازہ تیمور ملک نے کھولا
“انکل… غاشیہ یہاں ہے نا ؟؟؟” حدید کا کوئی حال نہیں تھا
“کون غاشیہ ؟؟؟” انہوں نے پوچھا, صمد, حدید سے دو قدم پیچھے کھڑا تھا
“غاشیہ… آپ کی بیٹی.. میری بیوی” اس سے بولا نہ گیا
“میری بیٹی اس وقت اندر ہے… اپنے کمرے میں, خدا نے اسے جڑواں بچوں سے نوازا ہے… ” وہ کہتے ہوئے رکے
“اب تم بتاؤ کہ تمہاری بیوی کہاں ہے حدید راۓ ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“انکل پلیز…. مجھے جو چاہے سزا دے لیں, مجھے مار لیں, گالیاں دیں لیں… لیکن پلیز مجھے اس سے مل لینے دیں, میں مر جاؤں گ انکل پلیز… ” حدید ان کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے رو پڑا تھا
“وہ تیری خاطر مجھے دھتکار گئی تھی حدید…. اس نے میری بجاۓ تجھے چنا, اس کے لئے تیری چند ماہ کی محبت میری اور اس کی کئی سالوں کی محبت سے زیادہ معتبر تھی… وہ مجھے نیچا دکھا کر تجھے سرخرو کر گئی, وہ مجھے خالی ہاتھ کر کے تجھے مالا مال کر گئی… اس نے تیری خاطر مجھے اکیلا کر دیا حدید… اس نے تیری خاطر ہر شے کو ٹھوکر مار دی, تیرا ہاتھ تھام کر یہ دہلیز پار کی تو پھر پلٹ کر نہیں دیکھا, تجھ سے ناطہ جوڑا تو پھر ہم سب سے ناطہ توڑ لیا, میں ڈھائی سالوں میں اس کی شکل دیکھنے کے لیے ترس گیا لیکن وہ واپس نہیں آئی… اور تو… ؟؟” وہ اتنا کہہ کر رکے
“تو نے کیا کیا حدید… تو نے اسے خالی رات رات کے اندھیرے میں گھر سے نکال دیا… اس کے ڈھائی سالوں کا یہ صلہ بنتا تھا ؟؟؟ یہ کہ وہ اپنے وجود میں تیری اولاد لیے اندھیری رات میں سڑک کنارے رلتی پھرے… حدید وہ تجھ پر سب کچھ وار گئی اور تو اس پر اعتماد ہی نہیں کر سکا… اسے اپنے باپ اور بھابھی کے رحم و کرم پر چھوڑ کر چلا گیا…” وہ سچ ہی تو کہہ رہے تھے
“انکل مجھے معاف کر دیں.. میری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر… پلیز پلیز” وہ بلک رہا تھا
“وہ تجھ سے نہیں ملنا چاہتی حدید… چلا جا یہاں سے” تیمور ملک نے دروازہ بند کرنا چاہا تھا, حدید ان کے پیروں میں گر گیا
“انکل میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں, وہ میری زندگی کا واحد سچ ہے پلیز… بس ایک بار معاف کر دیں, بس ایک بار اس سے مل لینے دیں… انکل مجھے میرے بچے دیکھ لینے دیں” وہ کہتا چلا گیا
“نہیں حدید…. ایسے نہیں… اس بار ایسے نہیں… اس بار وہ پہلے کی طرح خالی ہاتھ تیرے ساتھ نہیں جاۓ گی, اس بار پہلے کی طرح ہم سب کو ٹھکرا کر تجھے نہیں چنے گی… اور سب سے بڑی بات… اس بار اس کا باپ اسے یونہی بس ایک معافی کے بدلے تیرے ساتھ نہیں بھیج دے گا… تیرا باپ اور بھابھی خود چل کر یہاں آئیں گے, وہ عورت میری بچی سے معافی مانگے گی اور تو پوری عزت کے ساتھ اسے اپنے گھر لیکر جاۓ گا… میں اسے واپس اس جہنم میں نہیں بھیجوں گا” تیمور ملک کہتے چلے گئے
“انکل میں آپ کی ہر شرط پوری کرنے کے لیے تیار ہوں, میں ابو کو بھی لے آؤں گا…پلیز مجھے ایک بار غاشیہ سے مل لینے دیں” وہ بولا
“جب باپ اور بھابھی کو لے آۓ گا تو مل لینا… جا اب, وہ خیریت سے ہے” تیمور ملک نے دروازہ بند کر دیا تھا
………………………
وہ ہلکا سا اے سی چلا کر کمبل میں گھسی ہوئی تھی, اپریل شروع ہو چکا تھا, کمروں میں گرمی محسوس ہونے لگی تھی, دروازے پر دستک ہوئی تو وہ تھوڑا سا اٹھ بیٹھی… ارمغان اندر آیا تھا
وہ اپنا بھاری کامدار شرارہ سوٹ تبدیل کر چکی تھی, اب ارمغان لاۓ ہوۓ کپڑوں میں سے ایک سوٹ پہنے بیٹھی تھی, دوپٹی کندھوں پر پھیلایا ہوا تھا, لمبے بالوں کو ڈھیلی سی پونی میں مقید کیے, چہرے پر میک اپ کے مٹے مٹے سے آثار لیے وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی
“تم کچھ کھاؤ گی ؟؟؟” اس نے پوچھا, انیتا نے نفی میں سر ہلا دیا
“چاۓ… ؟؟؟” پھر سے نفی میں سر ہل گیا
“انیتا… ” وہ دو قدم چل کر اس کے قریب آتے ہوئے دوستوں کی طرح بولا تھا
“ساری رات خالی پیٹ رہو گی کیا ؟؟؟ میں اذن سے تمہارا خیال رکھنے کا وعدہ کر کے آیا ہوں” وہ دھیرے سے بولا تھا, اس سے پہلے کہ انیتا کچھ کہتی… اس کا سیل بج اٹھا, اسماء کی کال تھی, انیتا نے بددلی سے کاٹ دی, لیکن وہ بار بار کال کر رہی تھی
“ارمغان مجھے بھوک نہیں ہے, اگر مجھے کسی چیز کی ضرورت ہو گی تو میں خود لے لوں گی… یہ چوبیس سال میرا گھر رہا ہے” وہ جتاتے ہوۓ بولی تھی, کال پھر آنے لگی
“یہ ہمیشہ تمہارا گھر رہے گا… ” وہ کہہ کر پلٹا, انیتا نے کال ریسیو کر لی تھی
“کہاں ہے وہ خبیث اس وقت ؟؟؟” اسماء کی آواز موبائل سے باہر تک سنائی دی تھی, انیتا بس ارمغان کی پشت دیکھ کر رہ گئی
“انیتا… بس کچھ دن صبر کر لے میری بہن…. پھر میں خود تجھے اس کے چنگل سے نکال کر لاؤں گی, بس اسے اپنے پاس نہیں آنے دینا, تیرے کمرے میں قدم ہی نہ رکھے وہ… اس کی اوقات پر رکھنا ہے اسے…. ” وہ کہتی جا رہی تھی
وہ دھیرے سے مسکراتا ہوا باہر نکل گیا تھا
……………………….