121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ever After (Part 2)

“اذن… ” رات کا پچھلا پہر تھا جب اس نے مدہوشی کی نیند سوتے اذن کو جھنجھوڑا
“کیا ہوا ؟؟” اسے آنکھیں کھولنے میں ہی صدیاں لگ گئیں
“اذن میری جان نکل رہی ہے.. بہت درد ہو رہا ہے مجھے” وہ پسینے میں تر بتر بیڈ کا پایا پکڑ کر نیچے بیٹھتی چلی گئی, اذن کے سارے ہی طوطے مینا اڑ گئے تھے
“زرقا… میری جان کیا ہوا ؟؟؟” وہ نیچے اترتے ہوئے بولا
“اذن… مجھے لگتا میرا وقت آ گیا ہے” وہ بالکل ہی ڈھے گئ, اذن حواس باختہ سا آمنہ کے کمرے تک آیا تھا
وہ بھی پریشان ہو گئیں, انیتا کی ڈلیوری بھی نزدیک ہی تھی سو آمنہ اسے بھی یہیں لے آئیں تھیں
“زرقا بیٹے کیا ہوا ؟؟؟” آمنہ بھاگ کر اس کے کمرے تک آئی تھیں
وہ تو بس وقفے وقفے سے درد سے دہری ہوئی جا رہی تھی, اذن نے ادھر ادھر فون کھڑکاۓ لیکن رات کے تین بجے کوئی لیڈی ڈاکٹر مہیا ہونی مشکل ہی تھی
زرقا کی سسکیاں لمحہ بہ لمحہ چیخوں میں بدل رہی تھیں
ناچار اذن اور آمنہ اسے سول ہسپتال ایمرجنسی میں لے گئے, انہوں نے گائنی میں ریفر کر دیا, ڈیوٹی پر موجود گائناکالوجسٹ نو بجے آئی تھی
زرقا کی تکلیف دہ چیخیں اذن کو باہر تک سنائی دے رہی تھیں, ہر بار اس کی چیخ سن کر وہ بیساختہ سا لیبر روم کے دروازے کی طرف دیکھنے لگتا
“امی… اسے کچھ ہو گا تو نہیں نا” وہ ایسے تھا جیسے ابھی رو پڑے گا
“اللہ خیر کرے گا” وہ بولیں, انہوں نے خود چار بچے پیدا کیے تھے… ایسے ہی
“امی… بس مجھے یہ ایک ہی بچہ کافی ہے, اللہ اسے صحت اور تندرستی دے, بس اور نہیں… ” وہ انتہائی پریشانی کے عالم میں کہتا چلا گیا تھا
کچھ ہی دیر بعد نرس نے اس کی بیٹی لا کر آمنہ کی گود میں ڈال دی
“سسٹر میری وائف کا کیا حال ہے ؟؟؟” وہ نرس کے پیچھے ہی دوڑ پڑا تھا
“وہ ٹھیک ہیں… ابھی وارڈ میں شفٹ کر دیتے ہیں” نرس نے کہا تھا
وہ چاند جیسی روئی کے پھوۓ جیسا وجود اذن نے بہت ڈر ڈر کر اٹھایا تھا… اور جب اٹھا لیا تو پھر چھوڑا نہیں…
زرقا کو وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا تھا… ابھی اس کی ڈلیوری کو آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ آمنہ کو انیتا کا روتا ہوا فون موصول ہوا
“امی… مجھے پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے… مجھے بھی ہسپتال لے جائیں, ارمغان فون ہی نہیں اٹھا رہا, ابو پتہ نہیں کہاں ہیں… ہاۓ امی…. ” آمنہ تو ہول کر رہ گئیں
“انیتا… تیرے تو سات, آٹھ دن رہتے ہیں ابھی بچے… ” وہ بولیں
“سات آٹھ دن…. امی مجھ سے تو ایک لمحہ نہیں گزارا جا رہا” وہ چیخی تھی
حالانکہ انیتا کی ڈلیوری میں ابھی کچھ دن باقی تھے لیکن شائد وہ زرقا کو دیکھ کر ٹینشن لے گئی تھی, اذن جب اسے لینے آیا تو وہ وہ عمر فاروق کی گود میں سر رکھے بس نڈھال سی تھی
وہ اسے ہسپتال لے آیا
خدا نے اسے بیٹے سے نوازا تھا
آمنہ کی خوشی کا کوئی حال نہیں تھا, ارمغان بھاگا آیا
“چل آج تو بھی باپ بن گیا… ” عمر فاروق نے اسے گلے سے لگایا تھا
………………………….
وہ اسے بازو سے گھسیٹتے ہوئے گھر واپس لیکر آیا تھا, صحن کے وسط میں کھڑی فرزانہ کا دل ہول گیا, اسے صحن میں دھکا دیتے ہوئے صفوان نے زور سے دروازہ بند کیا تھا
“کیوں نکلی تھی گھر سے باہر ؟؟؟” وہ زور سے چیخا
“میری مرضی… ” فرح حلق کے بل چلائی تھی, صفوان اسے گالی دیتے ہوئے اس کی طرف بڑھا تو فرزانہ بیچ میں آ گئی
“کمینی عورت… آج کے بعد تیرا پیر اس گھر سے باہر نہ نکلے ” وہ بولا
“کیوں… ؟؟؟ میں تو جاؤں گی, تیری نوکرانی نہیں ہوں میں… اور تو مجھے یہ بتا کہ تو خود کہاں سے آیا ہے ایک ہفتے بعد ؟؟؟” فرح دوبدو ہو کر بولی تھی
“تیرے پیچھے ہی ذلیل ہوتا پھرتا ہوں… “
“تو اپنے کرتوتوں کے پیچھے ذلیل ہوتا ہے سمجھا, آٹھ آٹھ دن تیری شکل دیکھنے کو نہیں ملتی” فرح زور سے دہاڑی
“خبردار جو میرے ساتھ بکواس کی تو… ” صفوان نے کچن میں پڑا ڈنڈہ اٹھایا تھا
“جو میرے لیے غلط ہے نا… وہ تیرے لئے بھی غلط ہے صفوان… کہاں لکھا ہے کہ تجھے منہ کالا کرنا جائز ہے ؟؟؟ ” فرح نے کہا اور ساتھ ہی صفوان نے اسے ڈنڈہ مارا تھا, اس نے بھڑک کر اسے فرائی پین دے مارا
“صفوان… ” فرزانہ دہل کر رہ گئی
وہ دونوں میاں بیوی کتے بلیوں کی طرح ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑے تھے
اور یہ کونسا ایک دن کی کہانی تھی
یہ تو اب تا عمر چلنی تھی… اب دیکھنا یہ تھا کہ پہلے ہدایت کسے ملنی تھی
……………………….
طہٰ ملک کی شادی کی تاریخ طے ہو چکی تھی, اب کی بار اس نے انتہائی بیبا بچہ بنتے ہوئے اپنی شادی کا سارا اختیار شازیہ کو دے دیا تھا… جو خود سے ڈھونڈی تھی وہ کونسا مل گئی تھی… اب چاہے جو بھی مل جاۓ
اور شازیہ نے نے اپنے تئیں اس کے لئے نہ جانے کونسا گوہر نایاب ڈھونڈا تھا… یہ تو اسے شادی کے بعد ہی پتہ چلتا
بہر حال… تین دن بعد اس کی شادی تھی
غاشیہ بمعہ اپنے میاں اور دونوں بچوں کے پہنچ چکی تھی
ناشیہ ابھی کچھ دیر پہلے کالج سے سیدھی وہیں آ گئی تھی, اب وہ سارہ کو بھی ساتھ ہی لے آتی تھی, وہ بچی اس سے کافی اٹیچ ہو چکی تھی
پورے گھر میں ہلچل سی مچی ہوئی تھی, طہٰ نے خالد کو اچھا ہی گھمایا ہوا تھا
مہندی والی رات تیمور ملک نے ارمغان کو فون کیا تھا
“او تجھے میں لینے آؤں اب ؟؟؟”
“وہ… انکل جی… انیتا ابھی چھلے میں ہے” وہ بیچارہ بچہ ہلا ہلا کر بے دم ہوا پڑا تھا
“پھر کیا ہوا ؟؟؟ تو نے کونسا اسے کوہ قاف لیکر جانا ہے… ایک گھنٹے میں تو مجھے یہاں نظر آۓ” انہوں نے کال کاٹ دی تھی
ارمغان کو حدید اور خالد کے بھی کئی فون آ چکے تھے
“ارمغان…. میں وہاں کسی کو بھی نہیں جانتی, کس کے پاس بیٹھوں گی… ؟؟؟ غاشیہ سے تو کبھی اتنی بنی ہی نہیں… ” انیتا کے اپنے مسائل تھے
“تم اسراء کے ساتھ انجواۓ کرنا… ” وہ بولا
“اسراء بھی ہو گی وہاں… ؟؟”
“تو اور… ” اسراء کے نام پر وہ راضی ہوئی تھی
“تم لوگ آۓ نہیں ابھی تک… ” اسراء بھی ہچکچا رہی تھی, اسے ناشیہ نے فون کیا تھا
“شافع آ جاۓ گا تھوڑی دیر تک “
“اور تم… ؟؟؟”
“ناشیہ… میرا وہاں کیا کام… ؟؟؟” وہ بولی
“تم میری جیٹھانی ہو… سمجھیں, جلد آؤ” وہ اسے گھرک کر بولی تھی
تھوڑی ہی دیر میں شافع دونوں بچوں اور اسراء سمیت وہاں پہنچ گیا
ارمغان بھی آ گیا تھا…ناشیہ نے خود آگے ہو کر اسراء اور انیتا کو شازیہ سے ملوایا تھا
“The one and only… Isra Shafy Ansari… “
غاشیہ نے ہنستے ہوئے اسے گلے سے لگایا تھا, انیتا اس کے پیچھے ہی کھڑی تھی
“مبارک ہو تمہیں… ” غاشیہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“Thank you… “
وہ دھیما سا مسکرائی
“تمہیں پتہ ہے تم میری کیا لگتی ہو ؟؟؟” غاشیہ نے پوچھا
“بھابھی… ” وہ بولی
“اکلوتی بھابھی… ” غاشیہ نے ہنستے ہوئے اسے گلے سے لگایا تھا
سارا فنکشن بخوبی ہو گیا تھا, طہٰ ملک بھی اگلے دن اپنی دلہن بیاہ لایا تھا
بات پھر وہی ہے… کہ ہر اندھیرے کے بعد اجالا ہے
ہر دکھ کے بعد سکھ ہے
ہر غم کے بعد خوشی ہے
…………….