63.3K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

تئیسویں قسط
“صمد فون بج رہا ہے کب سے ؟؟؟” اسماء نے زور سے آواز دے کر کہا تھا, صمد واش روم میں تھا, اسماء کمرہ صاف کر رہی تھی, فون پھر سے بجا, کوئی انجان نمبر تھا, اسماء نے کال ریسیو کر لی
“ہیلو… ہیلو… ” کسی بچے کی آواز تھی, پھر ساتھ ہی کسی بچی کی آواز بھی آنے لگی, اس سے پہلے کہ اسماء کچھ کہتی, صمد باہر نکل آیا
“کس کا فون ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“پتہ نہیں بچے بول رہے ہیں… ” اسماء کے کہتے ہی صمد کی ہوائیاں اڑ گئیں
“دکھاؤ… ” اس نے چھیننے کے سے انداز سے اس سے فون پکڑا تھا
“ہیلو… ” وہ فون کان سے لگاتے ہوئے باہر نکل گیا تھا, اسماء کی چھٹی حس یکسر جاگ اٹھی تھی
………………………….
چار سالوں میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ سیٹھ بابر فرح کو ڈھونڈ نہیں پایا تھا…کیونکہ اس بار فرح نے اسے بھی کچھ نہیں بتایا تھا, سیٹھ بابر نے علاقے کا کونا کونا چھان مروایا, ہر پولیس سٹیشن پر پتہ کروایا, ہر ہوٹل میں بندے دوڑاۓ, کوئی ریسٹورنٹ نہیں چھوڑا, یہاں تک کے کراۓ کے مکانوں تک کی چھان بین کروائی… لیکن فرح نہیں ملی… آخر تھک ہار کر اس نے پولیس میں رپورٹ کروا دی تھی, اس کے آدمی دن رات اسے کھوجنے میں لگے ہوئے تھے, بانو کو اس نے فی الحال کچھ بھی نہیں بتایا تھا… وہ تو شاید یہ جھٹکا سہہ ہی نہ پاتی
شافع تو بالکل ہی خاموش ہو کر بیٹھ گیا تھا, اپنے تئیں وہ ساری کوششیں کر چکا تھا, سارے حربے آزما چکا تھا… فرح کو گھر سے گئے دو ہفتے ہونے کو آ گیے تھے
بڑی مشکلوں سے اس نے گھر کی صاف ستھرائی, برتن اور کپڑے وغیرہ دھونے کے لئے ایک قابل اعتماد سی ملازمہ کا بندوبست کیا تھا, وہ صبح سات بجے آتی اور دوپہر کا کھانا بنا کر چلی جاتی, پھر شام میں آتی اور رات کے کام نپٹا کر چلی جاتی, شافع صبح صبح خود بھی تیار ہوتا اور رحمہ کو بھی خود ہی تیار کرتا,اسے سکول چھوڑ کر خود بینک چلا جاتا, دوپہر میں جب رافع کالج سے گھر آتا تو رحمہ کو سکول سے لے آتا, پھر کچھ دیر گھر پر ہی رکتا تھا, شافع کی پوری کوشش ہوتی کہ شام پانچ بجے تک گھر چلا جاۓ… رحمہ کو سکول کا کام بھی وہ خود ہی کرواتا تھا, بچے ویسے بھی اسی سے زیادہ اٹیچ تھے یا پھر روبینہ سے… راحم تو عرصے سے روبینہ کے ساتھ ہی سو رہا تھا
حریم کو گئے دو ہفتے ہو چکے تھے اور اس بار رافع کا وہاں جا کر اسے منانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا, دو سال ہو گئے تھے اسی ساری چخ چخ کو… حریم اپنے دماغ سے شک والا کیڑا نکالنے کے لئے بالکل بھی تیار نہیں تھی
…………………………..
زرقا اپنی اور اذن کی چاۓ لیکر اوپر کمرے میں آئی تھی, وہ اپنے موبائل پر کوئی ٹاک شو دیکھ رہا تھا, زرقا نے چپ چاپ چاۓ کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا… پھر اس کے پاس ہی کھڑی ہو گئی… یوں جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو
“کیا بات ہے ؟؟؟” اذن نے اسے یوں کھڑے دیکھا تو پوچھ لیا
“وہ… یونیورسٹی جانا تھا کل… کلیرینس کروانی ہے” پچھلے دو ہفتوں میں یہ اس رات کے بعد دوسری بات تھی جو زرقا نے اس سے کی تھی… خود سے
“چلی جانا… میں چھوڑ دوں جاتے ہوئے ” وہ دوستانہ سے انداز میں بولا
“وہ… طہٰ بھی ہو گا وہاں… ” زرقا نے انگلیاں چٹخاتے ہوۓ دھیرے سے کہا تھا
“تو… ؟؟؟” اذن نے سوالیہ انداز میں پوچھا, زرقا نے بدقت اسے دیکھا
“وہ… مجھے… ” اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا کہے
“زرقا… تمہیں کیا زبردستی بھگا کر لے جاۓ گا وہ ؟؟؟” اذن نے پوچھا, زرقا بول نہ سکی
“ریلیکس… میں چھوڑ دوں گا تمہیں صبح یونیورسٹی…کام ختم کر کے مجھے بتا دینا” اذن نے اس کی مسلسل مڑتی ہوئی انگلیوں کو آزادی بخشی تھی, زرقا چپ چاپ سر جھکا کر سونے کے لئے لیٹ گئی
……………………………
وہ کچن میں تھی جب اس کا سیل بجا, صابن والے ہاتھ دھو کر وہ کمرے میں آئی اور سیل اٹھا لیا… انجان نمبر تھا
“ہیلو… ” اس نے کال ریسیو کی تھی
“جان جاناں… صبح بخیر ” بڑی سوئی سوئی سی خمار آلود آواز تھی, غاشیہ کو قہر چڑھ گیا, یہ پہلی بار تھا کہ اس نے حدید کی غیر موجودگی میں کال کی تھی
“تمہیں پتہ ہے… تم صرف کمینے اور خبیث نہیں یو, تم حرامزادے بھی ہو… اتنے ہی تم مجھ سے محبت کے دعویدار ہو تو سامنے کیوں نہیں آتے ہو ؟؟؟” وہ اس پر چڑھ دوڑی, اب تو حدید بھی نہیں تھا جو اسے ٹوک دیتا, مقابل ہنستا چلا گیا
“چلو آج تمہاری یہ خواہش بھی پوری کر دیتا ہوں” وہ بولا
“ایک ایڈرس سینڈ کر رہا ہوں… وقت پر آ جانا” وہ مسکراتے ہوئے کال کاٹ گیا تھا, غاشیہ سر تا پیر تپ گئی تھی
“تمہیں تو چھوڑوں گی نہیں میں.. ” اس نے جلدی سے سارا کام سمیٹا, پھر شاور لیا اور کپڑے چینج کئے… تقریباً گیارہ بجے کا وقت تھا جب وہ پچھلے دروازے کو لاک لگا کر باہر نکل آئی, اس نے چاکلیٹ براؤن سیلف پرنٹ گرم سوٹ کے ساتھ براؤن شال کندھوں سے لپٹ رکھی تھی, بالوں کو اونچا سا کیچر لگایا ہوا تھا, وہ اس کے بتاۓ ہوۓ پتے پر پہنچ گئی… وہ ایک چھوٹا سا فوڈ پوائنٹ تھا
“کہاں ہو تم ؟؟” غاشیہ نے کرسی کھینچتے ہوۓ اسے کال کی تھی
“بڑی بے قراری ہے تمہیں… پہنچ بھی گئیں ” وہ مسکرایا
“مجھے سچ میں تمہارا منہ توڑ دینے کی بہت بے قراری ہے… سامنے آؤ” وہ بولی, تبھی جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس ایک لڑکا اس کے سامنے آ کر بیٹھ گیا
“مروہ جاوید ؟؟” اس نے پوچھا
“جی نہیں… گیٹ لاسٹ فرام ہییر ” وہ پھنکار کر بولی تھی, لڑکا چپ چاپ اٹھ گیا, وہ کافی دیر وہاں بیٹھی رہی لیکن… کوئی بھی نہ آیا
اس نے دوبارہ کال کی تو نمبر بند…. ہر نمبر ہی بند تھا
پورے ایک گھنٹے بعد وہ کوفت کے مارے وہاں سے اٹھ آئی… گھر پہنچی تو ٹھٹھک گئی, لاک کھلا ہوا تھا, نا سمجھی کے سے عالم میں وہ جیسے ہی اوپر آئی تو یکدم ہی چونک گئی
“حدید… ” وہ کچن کے سامنے کھڑا تھا
“کہاں گئی تھیں… ؟؟؟”حدید سپاٹ ترین لحجے میں بولا
“اس خبیث کا منہ توڑنے گئی تھی” غاشیہ نے کہا, اس کا سانس پھولا ہوا تھا
“غاشیہ… خدا کا واسطہ ہے تمہیں, مجھے یوں ذلیل مت کرو, مجھے انجان لوگ, انجان لوگوں کے ساتھ تمہارے تصویریں سینڈ کر رہے ہیں… انجان جگہوں پر” حدید اس پر برس پڑا
“کیا مطلب ؟؟؟؟” وہ دم بخود تھی, حدید نے چپ چاپ سیل اس کے سامنے کر دیا
“اب یہ کون ہے ؟؟” اس نے جس انداز سے پوچھا… غاشیہ ششدر رہ گئی
“مجھے نہیں پتہ… ” وہ بولی
“پھر اس کے ساتھ اس گھٹیا ہوٹل میں کیوں بیٹھی ہو تم ؟؟؟” وہ دہاڑا… اس کی دہاڑ نیچے کھڑی اسماء کو سکون دے گئی تھی
“حدید…” غاشیہ مارے خفت کے بول نہ سکی
“خبردار… خبردار جو آئندہ گھر سے باہر نکلیں تو” وہ اس کا بازو جھٹکتے ہوۓ سیڑھیاں اترتا چلا گیا
“ارمغان… یار ایک کام کہا تھا تجھے ؟؟؟” اس رات حدید نے کتنی ہی سگریٹیں پھونک ڈالیں
“حدید… یار پتہ کیا ہے میں نے, نہ جانے کن کن لوگوں کے نام پر ایشو سم کارڈز ہیں جو اب بند ہیں, لوگوں نے کمپلین کر رکھی ہیں… کوئی زیادہ ایشو ہے کیا ؟؟؟” ارمغان نے پوچھا تھا, حدید بس سر جھٹک کر رہ گیا
……………………..
صفوان کا کچھ پتہ نہیں تھا, نفیس اور فرحان پولیس سٹیشن کے کوئی ایک سو چکر کاٹ چکے تھے, صفوان کے سبھی دوستوں سے بھی رابطہ کر لیا تھا, فرزانہ کو تو چار تولے زیور کا دکھ ہی نہیں بھول رہا تھا, حنا کی شادی سر پر کھڑی تھی, اس دن بھی نفیس نے سی کو ساتھ لیکر اے سی سے ملنے جانا تھا
“فرحان… پتر جا اپنے باپ کے ساتھ, بھائی کو ڈھونڈ لا” فرزانہ کو دو دن سے بخار چڑھا ہوا تھا
“امی یہ دیکھیں میرے جڑے ہاتھ… بہت ہو گئی ذلالت… میں تو کہیں نہیں جا رہا, ساری عمر اس نے ہمیں خوار ہی کیا ہے بس… ” فرحان الٹا اس پر برس پڑا تھا
نفیس رات گئے واپس آیا…کوئی حوصلہ افزاء بات نہیں تھی, آخر دو ہفتوں بعد بھی جب اس کا کچھ پتہ نا چلا تو ناشیہ نے خالد کو فون کر دیا, وہ تو سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گیا تھا, اسی وقت اس نے ایس ایچ او اطہر نیازی کو کال کی تھی اور شام کو وہ اور تیمور ملک گھر پہنچ گئے تھے
“ہاۓ میں لٹ گئی تمیور بھائی…ہاۓ میں برباد ہو گئی” فرزانہ کی دہائیاں جاری تھیں
“ہوا کیا تھا آخر.. ؟؟” تیمور ملک نے پوچھا
“بس تیمور بھائی کسی نے جادو ٹونا کروا دیا یے میرے بچے پر, جوان بیٹا بگڑ گیا میرا, لوگوں سے میرے دو دو پتر دیکھے نہیں گئے ” وہ بولی
“چل بس کر… خدا خیر کرے گا” تیمور ملک نے اسے چپ کروایا تھا
“ہر جگہ پتہ کروا لیا ہے… کہیں نہیں ملا” نفیس نے کہا
“سب کچھ ساتھ لے گیا… زیور, پیسہ, کارڈز… سب کچھ” نفیس کے کندھے جھکے جا رہے تھے
“یہ سب ایک دم سے نہیں ہو گیا پھوپھا جی… یہ بہت عرصے سے چل رہا ہو گا, اب تو بس تابوت میں آخری کیل لگی ہے” خالد نے کہا, نفیس بول نہ سکا
“کسی عورت کا چکر تو نہیں تھا… ؟؟؟” خالد نے پوچھ ہی لیا
“نہیں نہیں.. ایسا کچھ نہیں ہے خالد… ” فرزانہ نے کہا
“امی خدا کا واسطہ اب تو جھوٹ نہ بولیں, وہ بے غیرت سارے محلے میں رسواء کر گیا اور آپ ابھی بھی اسی کی سائید لے رہی ہیں… کوئی ایک عورت ہو تو بتاؤں نا خالد بھائی, یہ تو پتہ نہیں کب سے چل رہا تھا, شراب, جواء, نشہ, چوری چکاری اور افییرز… بس یہ ہی سب تو کیا ہے اس نے ساری زندگی” فرحان پھٹ پڑا
“پوچھیں ناشیہ بھابھی سے… انہوں نے بھی خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اسے کسی عورت کے ساتھ” وہ بولا, تیمور ملک نے ناشیہ کی طرف دیکھا, وہ سر جھکا گئی
“آخری بار کس لڑکی سے یاری تھی اس کی ؟؟؟” خالد نے پوچھا
“مجھے نہیں پتہ خالد بھائی… میں نے اور بھابھی نے اسے ایک ہوٹل پر دیکھا تھا آخری بار… بھابھی کا زیور چرا چرا کر اسے گفٹ دیتا رہا تھا” فرحان بھی ساری اگلی پچھلی کہتا چلا گیا, فرزانہ تیمور ملک سے نظریں نہ ملا سکی
“فرزانہ…. تو نے کوئی ایک تو سچ بولا ہوتا مجھ سے ؟؟؟” وہ بھڑک گئے
“میری تو بچی رول دی تو نے…خدا جانے وہ کہاں کس کے ساتھ منہ کالا کر رہا ہو گا” وہ غصے سے کھڑے ہو گئے تھے
………………………….
“زرقا… ” پورا وقت وہ دعا کرتی رہی کہ طہٰ سے اس کا سامنا نا ہو لیکن… دعا کونسا صرف اسی نے کی تھی, فیس سیکشن کے سامنے وہ اسے مل گیا تھا, چال میں ابھی بھی لنگراہٹ تھی
“کیسے ہو اب ؟؟” زرقا نے پوچھا
“تمہیں کیا پتہ نہیں ہے ” وہ زخمی سے لحجے میں بولا, زرقا ڈی ایم سی کی فیس جمع کروا کر آگے کو بڑھ گئی
“تو اب زرقا راۓ نے مجھے نظرانداز کرنا بھی سیکھ لیا ہے” وہ طنز سے بولا تھا
“تو اور کیا کروں ؟؟” وہ مڑی
“مجھ سے نظریں ملاؤ زرقا… میری آنکھوں میں جھانکو… ہمیشہ کی طرح” وہ تڑپ کر اس کے سامنے آیا تھا
“اور اسے کیا جواب دوں جس سے منسوب ہو گئی ہوں” زرقا نے پوچھا
“زرقا… خدا کی قسم اگر تم میرے ساتھ ہو تو میں اسے سارے جواب خود ہی دے لوں گا” وہ مضبوط لحجے میں بولا تھا
“طہٰ… اب کیا رہ گیا ہے ؟؟؟” وہ بولی تو آنکھیں بھر آئیں
“تم اور میں… ” وہ آگے کو آیا
“زرقا… چلو میرے ساتھ… کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا لیکن ہماری زندگی برباد ہو جاۓ گی, میں کیسے رہوں گا کسی اور کے ساتھ ؟؟؟ تم کیسے رہو گی اذن کے ساتھ ؟؟؟ ہمیشہ ماضی کاٹ کھانے کو دوڑا کرے گا” طہٰ کہتا چلا گیا
“میرا ساتھ دو زرقا… میرے ساتھ چلو” اس نے زرقا کے دونوں ہاتھ تھام لئے, زرقا نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا تھا
“یوں تن تنہا تمہارے ساتھ ہی جانا ہوتا تو کب کی چلی گئی ہوتی طہٰ… ” وہ آنسو صاف کرتی ہوئی اپنے ڈپارٹمنٹ چلی گئی تھی
………………………………
وہ اپنے کیبن سے نکلا تو یکدم ہی چونک گیا, اس کے دونوں کیشیرز اور سی ایس او جمگھٹا بنا کر کھڑے تھے
“یہاں کونسا لنگر کھل گیا….؟؟” وہ او ایم کے کیبن تک آیا تھا
“کچھ نہیں سر… ” وہ تینوں یکدم ہی چونک گئے
“پھر کاؤنٹر کیوں خالی چھوڑا… ؟؟؟” شافع ان دونوں کو وارن کرتے ہوۓ او ایم کے کیبن میں گھس گیا, وہ خود فیس بک پر جھکا ہوا تھا
“بلال… یہ پکڑ, اسے سٹڈی کر کے ہیڈ آفس میل کر دینا” وہ بولا
“اوکے سر… ” وہ بولا, شافع باہر نکلا تو دونوں فیمیل ایمپلائز بھی سر جوڑے کھڑی تھیں
“تم سب نے کیا قسم کھائی ہے کہ اپنی سیٹ پر نہیں بیٹھنا آج… ؟؟؟؟” اسے ہلکا سا غصہ آ گیا, وہ دونوں فوراً اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئیں
“ہے کیا آخر اس میں… ؟؟؟ مجھے بھی دکھا دو” وہ سی ایس سو کی طرف مڑا
“وہ سر… ویڈیو وائرل ہوئی ہے فیس بک پر…. اپنے علاقے کی”وہ بیچارہ ابھی دو ہفتے پہلے ہی ڈیوٹی پر آیا تھا
“لنچ بریک تک کوئی اپنی سیٹ نہ چھوڑے… ” انہیں تنبیہہ کرتا ہوا وہ واپس اپنے کیبن میں آیا اور موبائل اٹھایا
فیس بک کھولتے ہی آگے, پیچھے مختلف پوسٹ شو ہوتی چلی گئیں
تبھی وہ ٹھٹھکا…38 سیکینڈ کی وہ کسی ہوٹل کے کمرے کی ویڈیو تھی, بالکل ایسی جیسے گم کیمرے سے بنائی گئی ہو… تاریک کمرے میں بستر پر موجود وہ دونوں ہی نفوس بے لباس تھے, ایک دوسرے میں مگن… تاریکی کے باعث شکلیں اتنی واضح نہیں تھیں لیکن…
وہ شافع انصاری تھا… اس نے اس عورت کے ساتھ چار سال گزارے تھے, وہ اس کی بیوی تھی… اس کی تنہائیوں کی ساتھی, اس کا سکون… اس کے بچوں کی ماں
وہ بھلا کیسے نہ پہچانتا ؟؟؟
“فرح… ” وہ اپنی کرسی پر ڈھے سا گیا, وہ اس حد تک چلی گئی تھی جس کا شافع نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا
وہ اپنے جائز پاک رشتے کو ٹھوکر مار کر گئی تھی, بدلے میں سیاہیاں چن کے لے گئی تھی, شافع کو واضح اپنی آنکھوں کے نم گوشے محسوس ہوۓ تھے
………………………
وہ بھٹے پر تھا جب ساجد اس کے پاس آیا
“ابو… ذرا بات سننا ” وہ دھیرے سے اس کے کان پر جھکا, بابر سگریٹ کے کش لیتا ہوا اس کے ساتھ ڈیرے پر آگیا
“کیا ہوا ؟؟؟”فرح کو غائب ہوۓ تیسرا ہفتہ تھا
“یہ دیکھیں ذرا… ” اس نے اپنا موبائل بابر کے آگے کر دیا, بابر کے چہرے کے تاثرات یکلخت ہی تبدیل ہوۓ تھے, حق دق وہ ویڈیو میں نظر آتی فرح صابر کو دیکھتا رہ گیا
“ایسے منہ کالا کیا ہے اس نے اپنا بھی اور ہمارا بھی… وہ تو شکر ہے کہ ویڈیو میں اندھیرا ہے, شکلیں اتنی صاف نظر نہیں آ رہیں” ساجد کو قہر چڑھا ہوا تھا
“یہ ویڈیو شافع بھائی نے بھی دیکھی ہو گی ابو… یہ فیس بک پر وائرل ہوئی ہوئی ہے… یو ٹیوب پر بھی یے” ساجد کہتا چلا گیا
“ساجد… اپنی چچی کو کچھ مت بتانا… گھر میں بھی سب کو منع کر کہ اسے کچھ نہ بتائیں…بالکل بھی نہیں” بابر شاید زندگی میں پہلی بار اسقدر پریشان ہوا تھا
“یہ لڑکا بھلا کون ہے ؟؟؟” بابر کو یاد نہ آیا
“وہی ہے جسے حامد نے بھٹے پر رکھوایا تھا, اس کا باپ بھی ساتھ آیا تھا…صفوان ملک نام ہے اس کا…. ؟؟؟ ” ساجد نے کہا
“اچھا… یہ وہی ہے جس کی درگت بنائی تھی ہم نے, تب بھی اس نے فرح کو ورغلایا تھا” بابر کو یاد آیا
“ہاں ابو… میں نے تو نکال باہر کیا تھا اسے لیکن… یہ پھر آ گیا, کہتا شادی ہو گئی ہے اب غلطی نہیں ہو گی لیکن… باز نہیں آیا پھر بھی, ابو فرح اسی کے پیچھے بھٹے پر آتی تھی, اسی کا چکر چل رہا تھا اس کے ساتھ.. اسی کے ساتھ بھاگی ہے وہ” ساجد کہتا چلا گیا
“اس کا پتہ کروا ذرا… ” بابر نے کہا تھا اور ساجد نے اسی شام تک اس کا سارا پتہ کروا لیا
وہ بھی تین ہفتوں سے غائب تھا
………………………….
جاری ہے
دیکھ لیں اب… اس قسط پر لائیکس ؟؟؟؟
اگلی قسط دھماکے دار ہونے والی ہے