121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

وہ آج غاشیہ سے ملنے آیا تھا, ملک ہاؤس میں بس ایک وہی تھا جو کبھی کبھار چھپ چھپا کر اس سے ملنے چلا آتا تھا, یا پھر گاہے بگاہے کہیں باہر اس کی ناشیہ سے ملاقات ہو جاتی تھی, پورا ایک سال ہو گیا تھا اسے ملک ہاؤس کی شکل دیکھے, اپنے باپ کی شکل دیکھے, ان کی آواز سنے… بڑی بہن سے بات کئے, اس سے ملے…پچھلے ایک سال سے ملک فیملی نے اس سے مکمل بائیکاٹ کیا ہوا تھا, اس کا نام لینا ہی اس گھر کے مکینوں کے لئے حرام تھا, گھر کی کسی بھی فرد کو اس سے ملنے یا اس سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی لیکن پھر بھی… طہٰ اور ناشیہ اپنے طور اس سے بات کرتے رہتے تھے
آج بھی وہ چہرے پر ماسک لگا کر اس سے ملنے چلا آیا, کل اس کا پیپر تھا سو آج یونیورسٹی سے آف تھا, موٹر سائیکل راۓ ہاؤس سے ذرا دور ایک دوکان کے پاس کھڑی کر کے وہ پیدل ہی چلتا ہوا گھر تک آ گیا, حدید اور غاشیہ کو گھر کے مین گیٹ سے آنے جانے کی اجازت نہیں تھی, وہ دونوں گھر کی پچھلی طرف والا چھوٹا دروازہ استعمال کرتے تھے, اب بھی وہ ادھر ادھر دیکھتا ہوا چپ چاپ چھوٹے دروازے سے اندر داخل ہوا اور سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا
“طہٰ… ” غاشیہ کچن سے نکلی تھی, اسے سامنے دیکھ کر حیران رہ گئی
“کیا حال ہے… ؟؟؟” طہ نے اسے گلے سے لگایا
“ہاں میں ٹھیک ہوں… سب خیریت تو ہے نا… ؟؟؟” وہ پریشان ہو گئی تھی
“ہاں سب خیریت ہے… تم کیسی ہو ؟؟؟
“بس… طبیعت ٹھیک نہیں ہے…. زکام ہوا ہوا ہے” وہ بولی
“حدید بھائی ٹھیک ہیں ؟؟؟”
“ہاں… “
“چاۓ پیو گے طہٰ… ؟؟؟”
“نہیں غاشیہ… میں بس ابھی چلا جاؤں گا, وہ دراصل… تمہیں ایک بات بتانی تھی” طہ نے کہا
“کیا… ؟؟؟”
“ناشیہ کی شادی طے ہو گئی ہے ” طہ نے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا
“صفوان سے… پچیس تاریخ کو” طہ کو واضح اس کے چہرے کا رنگ بدلتا ہوا محسوس ہوا تھا, ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے وہ بستر پر ڈھے سی گئی
“اور رافع… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“انہیں بھی پتہ چل ہی گیا ہو گا” طہ نے کہا
“طہ اس گھر سے قدم باہر نکالتے ہوئے مجھے کسی چیز کا ڈر نہیں تھا سواۓ اس کے کہ میرے جرم کی پاداش میں سزا ناشیہ ہی بھگتے گی… اور ایسا ہی ہوا ” وہ بولی
“بہت واویلا ڈالا تھا پھپھو نے تمہارے نکاح کی خبر سن کر… اور ابو نے ان سے معافی مانگ کر ناشیہ کو ان کے سپرد کر دیا تھا ” طہ نے کہا
“ابو کو کوئی پرواہ نہیں ہے طہ… اور بجاۓ اس کے کہ امی کے بعد شازیہ آپی ہماری ماں بنتیں… وہ تو بالکل ہی دشمن بن گئیں, ابو کو ساری شہہ وہی دیتی ہیں ” غاشیہ کو غصہ آ گیا, طہ چپ چاپ سر جھکاۓ بیٹھا تھا
“پتہ نہیں ابو کی آنکھوں سے بہن کی محبت کی پٹی کیوں نہیں اترتی… ؟؟؟ خدا جانے انہیں صفوان کے کالے کرتوت نظر کیوں نہیں آتے… ؟؟؟ ایک نمبر کا دو نمبر انسان ہے وہ… مجھے ساری عمر اپنے کئے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہو گا کہ سواۓ اس کے کہ… میری وجہ سے ناشیہ بھینٹ چڑھ جاۓ گی” غاشیہ نے کہا
“وہ خود کیا کہتی ہے… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کہتی میرا مقدر… ” طہ نے کہا
“طہ… اسے کہو دفع مارے ہر شے کو, رافع تو مخلص ہے نا اس کے ساتھ… بس نکاح کرے اور چلی جاۓ اس کے ساتھ” غاشیہ نے کہا
“بس یہ ہی نہیں کرے گی وہ… یہ ہی کرنا ہوتا تو اب تک کر چکی ہوتی” طہ نے کہا
“اچھا… میں خود ملتی ہوں اس سے… ایسے تو آنکھیں بند کر کے کنویں میں چھلانگ لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے” غاشیہ نے کہا
“میں چلتا ہوں اب… ” طہ دھیرے سے کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا, غاشیہ اسقدر پریشان تھی کہ یونہی سر جھکاۓ بیٹھی رہی
“غاشیہ… ” طہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
“تمہاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا… اگر تم انکار نہیں کرتیں تو آج اس کی بجاۓ تم قربان ہو رہی ہوتیں… بات تو ایک ہی ہے نا” طہ نے کہا, غاشیہ نے سر ہلاتے ہوئے اس کا کندھا تھپتھپایا تھا
“اسے کہنا حوصلہ رکھے… ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی, طہ سر ہلا کر سیڑھیاں اتر گیا, آخری سیڑھی پر پہنچ کر رکا اور دوبارہ اوپر کی طرف دیکھا, دو دن ہو گئے تھے زرقا سے ملاقات ہوۓ… انتہائی مدھم سی مسکراہٹ لبوں پر لئے وہ دبے قدموں دوبارہ سیڑھیاں چڑھ گیا, وہی سیڑھیاں دوسرے پورشن سے گھوم کر اوپر چھت پر چلی جاتی تھیں, غاشیہ اپنے کپڑے وغیرہ اوپر ہی دھوتی تھی, وہ انتہائی رازداری سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آ گیا, زرقا کے کمرے کا دروازہ کھلا ہی تھا, اس نے پہلے ناک کرنا چاہا, لیکن پھر آنکھوں میں شرارت سی ابھر آئی
اس نے دھیرے سے کمرے میں جھانکا, وہ بیڈ پر سر تک کمبل تانے لیٹی تھی
“واہ… مجھے تو کہتی ہے کہ میں صبح پانچ بجے ہی اٹھ جاتی ہوں اور اب دیکھو… دن کے دس بجے بھی محترمہ کیسے لمبی تان کر سو رہی ہیں, ٹہرو تمہیں تو میں جگاتا ہوں خواب خرگوش سے زرقا راۓ… ” نہایت آہستگی سے دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہو گیا, پورے کمرے میں اے سی کی لطیف سی خنکی پھیلی ہوئی تھی, وہ دبے قدموں چلتا ہوا بستر کے قریب آ گیا, پھر اس پر جھکا اور ایک ہاتھ سے اس کا کمبل پکر کر کھینچ دیا
“گڈ مارننگ ڈارلنگ… “
اس کی آواز پر اذن گڑبڑا کر اٹھا تھا…طہٰ یکلخت کرنٹ سا کھا کر دور ہوا
دبیز پردوں کی خاموشی, اے سی کی خنکی, ادھ کھلا دروازہ, بستر کی سلوٹیں اور ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس کمبل میں لپٹا ہوا اذن جو اس وقت زرقا کے بستر پر بڑے حق سے براجمان تھا
لمحہ لگا تھا اور طہٰ کے ہاتھوں کے سبھی طوطے اڑ گئے تھے, چند ہی پلوں میں اس کا ذہن کہاں سے چلا اور کہاں پہنچ گیا
“سالے تو کون ہے ؟؟؟” پہلے اذن کو ہوش آیا
“میں… وہ… نہیں نہیں… پہلے تو بتاۓ گا کہ تو اس کمرے میں کیا کر رہا ہے؟؟؟” طہٰ جیسے ہوش میں واپس آیا
“تو ہے کون مجھ سے یہ پوچھنے والا… ” اذن بستر سے اتر آیا, اس سے پہلے کہ طہٰ کچھ کہتا, زرقا اوپر آ گئی
“طہٰ… تم یہاں ؟؟؟” وہ اسے اپنے کمرے میں کھڑے دیکھ کر حیران تھی
“میں وہ… غاشیہ سے ملنے آیا تھا” طہٰ کے حواس ابھی تک بے قابو تھے
“یہ کون ہے زرقا ؟؟؟” اذن نے پوچھا تھا
“یہ طہٰ ہے… غاشیہ بھابھی کا بھائی ” زرقا نے کہا
“طہٰ یہ اذن ہے… آمنہ پھپھو کا بیٹا, اس کی یہاں یونی لیور میں جاب ہوئی ہے ” زرقا نے تعارف کروایا تھا, طہٰ کوشش کے باوجود اذن سے ہاتھ نہ ملا سکا
“بس… ؟؟؟” طہٰ نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا
“بس مطلب ؟؟؟” زرقا سمجھ نہ سکی
“مطلب… بس آمنہ پھپھو کا بیٹا ہی ہے نا… اور تو کچھ نہیں ہے ؟؟؟” طہٰ کی آواز سرگوشی میں بدل گئی
“طہٰ… کل ملتے ہیں” زرقا نے بہت دھیرے سے سن کھڑے طہٰ ملک کو باہر کو دھکیلا تھا
“میری بات سنو… ” وہ ایک نظر اذن کو دیکھتے ہوئے زرقا کے قریب ہوا اور اس کا بازو پکڑ کہ کمرے سے باہر نکل آیا
“زرقا… یہ… تمہارا… کہیں یہ تمہارا… ” وہ بیچارہ کہہ بھی نہیں پایا
“طہٰ…ایسا کچھ نہیں ہے… میں نے کہا نا… کل ملتے ہیں…ریلیکس ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی
…………………………
وہ تینوں نفوس رات کا کھانا کھا رہے تھے جب دروازے پر دستک ہوئی, رافع اٹھ کر دروازہ کھولنے چلا گیا
“کون ہے رافع… ؟؟؟” اندرونی دروازے سے اندر آتے سیٹھ بابر انصاری کو دیکھ کر روبینہ یکلخت خاموش ہوئی تھیں
“بیٹھیں… ” شافع نے ان کے لئے کرسی کھینچی تھی, روبینہ نے چاولوں کی ٹرے ان کے آگے کر دی
“میں کھانا کھا کر آیا ہوں… ” اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے سگریٹ سلگائی تھی, ساتھ والی کرسی پر بیٹھے شافع کو سانس لینا دوبھر ہو گیا
“فرح سے کوئی جھگڑا ہوا ہے تیرا ؟؟؟” انہوں نے شافع کی طرف رخ موڑا, فرح پرسوں سے اپنے میکے گئی ہوئی تھی, ہمیشہ کی طرح دونوں بچے گھر ہی چھوڑ گئی تھی
“نہیں تو… ” شافع نے کہا
“اکلوتی بھتیجی ہے وہ میری, بڑے نازوں میں پلی ہے, میں چاہتا تو شاہد یا احمد میں سے بھی کسی کو اس کے لئے چن لیتا لیکن… میں نے تجھ پر اعتبار کیا ہے شافع… “وہ کہتا چلا گیا
“گزرے چار سالوں میں اگر اسے میری ذات سے کوئی ایک بھی دکھ پہنچا ہے تو بتاۓ… ” شافع نے کہا
“دکھ پہنچتا ہے تو وہ ہر چوتھے دن میکے پہنچی ہوتی ہے نا… ” بابر نے کہا
“تو آپ پوچھ لیں نا اس سے… کہ کیا دکھ ہے اسے ؟؟؟” روبینہ پہلی بار بولی تھیں, بابر نے تنبیہہ انداز سے انہیں دیکھا
“میں بتاؤں اسے کیا دکھ ہے ؟؟؟” روبینہ کو غصہ آ گیا تھا
“امی… پلیز” شافع نے ان کی طرف دیکھا
“چار سالوں میں چار سو مرتبہ میکے گئی ہے وہ… خوشی سے نہیں… دکھ سے… اس دکھ سے کہ وہ اپنے سسرال میں خوش نہیں ہے, اس کا شوہر اچھا نہیں ہے, اس کی ساس اچھی نہیں ہے… اور آپ چار سو مرتبہ بھتیجی کے آنسو دیکھ کر یہاں چلے آتے ہیں… صرف ایک بار… ایک بار اپنے اس بیٹے سے پوچھ کر دیکھا کہ وہ خوش ہے یا نہیں ؟؟؟” روبینہ پھٹ پڑیں
“مجھے تو لگتا ہے پہلے تم سے پوچھ لوں کہ تم خوش ہو یا نہیں ؟؟؟” بابر نے دھواں اڑاتے ہوئے کہا
“میں نے جو زندگی گزارنی تھی وہ گزار لی… جو رہ گئی ہے وہ بھی گزر جاۓ گی… لیکن میرے بچے نے ابھی عمر کے صرف تیس سال گزارے ہیں… اور اس کے اگلے تیس سال میرے تیس سالوں جیسے بالکل نہیں ہوں گے بابر… ” روبینہ نے کہا
“ابو… آئیندہ خیال رکھوں گا” شافع نے بات ختم کرتے ہوئے کہا, بابر نے سگریٹ بجھا کر جوتے تلے رگڑی اور کھڑا ہو گیا
“تو نے کب شادی کرنی ہے ؟؟؟” وہ رافع کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر نکل آیا
“جب دل کرے گا… ” وہ جبراً مسکرایا تھا
“اپنی ماں سے کہو کہ زبان کی کڑواہٹ ذرا کم رکھا کرے” وہ رافع کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
روبینہ, سیٹھ بابر کی دوسری بیوی تھی, وہ شہر کی نامی گرامی شخصیت تھا, سیٹھ بابر بھٹے والے کو کون نہیں جانتا تھا
…………………………
طہٰ اسے اپنے کمرے میں لیکر آیا تھا, ناشیہ پہلے سے وہیں موجود تھی
“خیر تو ہے تم دونوں کو ؟؟؟” خالد کی چھٹی حس جاگ اٹھی, خالد, تیمور ملک کا اکلوتا بھتیجا تھا, وہ صرف گیارہ سال کا تھا جب شاہ نور ملک اور اس کی ماں آسیہ ایک کار ایکسیڈنٹ میں دنیا چھوڑ گئے, تب سے وہ تیمور ملک کا ہی بیٹا تھا, صرف اکیس سال کی عمر میں ہی اس کی اور شازیہ کی شادی ہو گئی تھی…شازیہ اس سے چھ سال بڑی تھی
“خالد بھائی… ناشیہ کی تاریخ طے ہو گئی ہے” طہ نے کہا
“ہاں.. مجھے پتہ ہے” وہ بولا
“لیکن خالد بھائی… ناشیہ راضی نہیں ہے” طہ کے کہتے ہی خالد نے ناشیہ کی طرف دیکھا, وہ سر جھکا گئی
“دیکھو… میں جانتا ہوں کہ صفوان ناشیہ کے قابل نہیں ہے لیکن… وہ ہمارا کزن ہے, ہماری پھپھو کا بیٹا ہے, ہم اچھے کی امید بھی تو کر سکتے ہیں نا… ؟؟؟” خالد نے کہا
“تیس سال کا ہو گیا ہے وہ خالد بھائی… اور ابھی تک اسے کوئی ڈھنگ کا کام نہیں ملا, فسٹ ائیر سے پڑھائی چھوڑ دی تھی اس نے, انتہائی شرابی کبابی قسم کے دوست ہیں اس کے, ابھی پچھلے دنوں وہ جیل کی ہوا کھا کر آیا ہے…” طہ پھٹ پڑا
“شازیہ تو بتا رہی تھی کہ اسے نوکری مل گئی ہے… “خالد نے کہا
“ٹھینگا نوکری ملی ہے اسے… کسی اینٹوں کے بھٹے پر لگا ہے دہاڑی پر” طہ نے کہا, خالد نے ایک لمبی سانس بھری
“کیا مسئلہ صرف صفوان سے شادی پر غیر رضامندی ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا, طہ فوری طور پر بول نہ سکا
“ناشیہ… ” خالد نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“میں مانتا ہوں صفوان تمہارے قابل نہیں ہے لیکن.. کیا خبر تمہارے مقدر سے وہ سدھر جاۓ” خالد نے کہا, ناشیہ کی آنکھیں بھر آئیں
“خالد بھائی… میں… کسی اور کو… ” خالد نے اس کی بات کاٹ دی
“نا میرا بچہ… نا… بالکل چپ” وہ کانپ سا گیا
“پتر ابھی تو ہم ایک قیامت ہی نہیں جھیل پاۓ… تو دوسری لانے کے لئے تیار بیٹھی ہے… نا میری بچی… اس بات کو اسی کمرے میں ختم کر دے, کوئی اور ہے ہی نہیں ناشیہ… کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا” وہ کہتا چلا گیا
“لیکن خالد بھائی… ” طہ آگے کو آیا
“لیکن کیا… بوڑھے باپ کا کوئی احساس ہے یا نہیں, ابھی تو وہ غاشیہ والے جھٹکے سے ہی نہیں سنبھلے, دیکھو ناشیہ… اگر مسئلہ صرف صفوان سے شادی نہ کرنے کا ہے تو تم حق بجانب ہو, اگر صرف اس سے شادی سے انکار کرنا ہے تو شائد ایک فیصد سوچا جا سکتا ہے لیکن… بس یہاں تک… اس سے آگے نہیں, اس سے آگے کچھ بھی نہیں” انہوں نے کہا
“اس کا مطلب ناشیہ آنکھیں بند کر کے کنویں میں چھلانگ لگا دے… ہے نا خالد بھائی ؟؟؟” طہ نے کہا
“تجھے کیسے پتہ کہ وہ کنواں ہے ؟؟؟” خالد نے کہا
“تم دونوں میری بات سنو… کان کھول کر, اسے تمہارے باپ نے چنا ہے… اور جسے باپ چنے… وہ خیر ہی ہوتا ہے…سمجے, اپنے دل کو بڑا کرو, آگے لے لئے اچھا سوچو… اچھا سوچو گے تو اچھا ہی ہو گا” خالد کہتا چلا گیا
“یعنی آپ ہماری کوئی مدد نہیں کریں گے ؟؟؟” طہٰ نے کہا
“ہاں ایسا ہی ہے…” وہ بولا
“انکار کرنے میں تو ساتھ دے دیں خالد بھائی… ” ناشیہ نے دھیرے سے کہا
“ذرا یاد کرو… پہلے بھی انکار کرنے میں ہی ساتھ دیا تھا میں نے لیکن… کیا ہوا ؟؟؟ کس نے سنی میری ؟؟؟ کوئی نہیں سنے گا… اس کا تو چلو انکار سن لیا گیا تمہارا وہ بھی نہیں سنا جاۓ گا” خالد ببانگ دہل کہہ کر کھڑا ہوگیا اور کمرے سے باہر نکل گیا
“میں نے کہا تھا نا… کہ کوئی فائدہ نہیں” ناشیہ نے کہا
“خالد بھائی کا بھی کوئی حال نہیں ہے… ” طہ غصے سے بولا
“وہ اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہیں طہ… ایک کا ساتھ دے کر انہیں آخر کیا صلہ ملا… ؟؟؟ ابو آج تک ان پر دوبارہ اعتبار نہیں کر پاۓ, شازیہ باجی ان سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتیں… وہ بیچارے آخر پر بار کیوں ذلیل ہوں” ناشیہ نے ایک لمبی سانس بھری تھی
…………………….
اسے فارغ ہوئے آدھا گھنٹا ہو چکا تھا لیکن عمر فاروق ابھی تک نہیں آۓ تھے, وہ اکنامکس میں ایم فل کر رہی تھی, اب بھی اس نے گیٹ کے باہر کھڑے ہو کر چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن عمر فاروق بمعہ اپنی گاڑی کے کہیں نظر نہ آۓ, تبھی اس کا موبائل بجا تھا
“ابو کہاں رہ گئے ؟؟؟” عمر فاروق کی کال تھی, وہ برس ہی تو پڑی
“انیتا گاڑی خراب ہو گئی ہے, میں نے ارمغان سے کہہ دیا ہے وہ بس پہنچنے ہی والا ہو گا” عمر فاروق نے کہا, انیتا کی پیشانی پر بل پڑ گئے
“ابو اسے کیوں بھیجا… ؟؟؟ میں رکشہ لیکر آ جاتی ” وہ سخت نالاں تھی, تبھی ارمغان کی موٹر سائیکل اس کے قریب آن رکی, انیتا کی پیشانی کے بل اسے دیکھ کر اور گہرے ہو گئے تھے
“بیٹھو… ” وہ ہیلمٹ سکرین اوپر کر کے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا, انیتا نے اسے رکھ کر گھورا
“مجھے گھورنے سے بہتر نہیں تھا کہ انکل کو پہلے ہی انکار کر دیتیں ” وہ بولا, انیتا جز بز سی ہو کر اس کے پیچھے بیٹھ گئی تھی, مین روڈ ختم ہوتے ہی موٹر سائیکل کو جمپ لگنے لگے تھے
“دھیرے چلا لو… فراری تو ہے نہیں یہ… ” وہ تپ گئی
“تو جب تمہیں پتہ ہے کہ یہ فیراری نہیں ہے تو جم کر بیٹھو… ” ارمغان نے کہا, وہ جانتا تھا کہ انیتا اس کے پیچھے کیسے مارے باندھے ہی بیٹھتی ہے
اگلا جمپ لگا… وہ زور سے اس کی پشت سے ٹکرائی
پھر اگلا… اس بیچاری نے ناچار ارمغان کا کندھا پکڑ ہی لیا, ارمغان کے لبوں پر خفیف سی مسکراہٹ پھیل گئی
یقیناً اگلا جمپ سڑک کی دین نہیں تھا… انیتا لہرا کر اس کی پشت سے جا ٹکرائی
“ارمغان… ” وہ ارد گرد کی پرواہ کیے بغیر گلا پھاڑ کر چیخی تھی
“میں کیا کروں ؟؟؟ کس کے پکڑ لو” ارمغان کے لبوں سے ہنسی پھوٹ رہی تھی, انیتا نے پہلے تو اس کی کمر پر ایک جھٹکا مارا, پھر اس کے ساتھ جڑ کر زور سے اس ک کندھا جکڑ لیا
“میں آئیندہ کبھی تمہارے ساتھ نہیں آؤں گی… ابو کو تو میں گھر جا کر پوچھتی ہوں ” وہ سخت غصے میں تھی, ارمغان نے جیسے ہی گھر کے سامنے موٹر سائیکل روکی, وہ تن فن کرتی نیچے اتری
“تھینک یو تو کہہ دو… یونیورسٹی میں یہ تو سکھاتے ہی ہوں گے” ارمغان ہیلمٹ اتارتے ہوئے بولا, جواباً اس نے بس رکھ کے گھورا ہی تھا
اور اس تہی داماں عاشق کے لئے یہ ہی بہت تھا
ارمغان, آمنہ کی بہن کا بیٹا تھا, راۓ عمر فاروق کی ورکشاپ کا کاروبار وہی سنبھالتا تھا
…………………………
“وہ شخص… تمہارے کمرے میں… تمہارے بستر پر… تمہارے کمبل میں لپٹا سو رہا تھا” طہٰ زمین سے کوئی دو دو فٹ اوپر اچھل رہا تھا
“طہٰ… بس کرو, تم یہ بات کوئی سو دفعہ کہہ چکے ہو” زرقا کو ہنسی آ گئی
“تم ہنس رہی ہو… ؟؟؟” وہ رونے والا ہو گیا
“طٰہ اس بیچارے کی نائیٹ شفٹس لگی ہوئی ہیں, دن بھر گھر والے نہیں سونے دیتے, تو میں نے کہہ دیا کہ میرے کمرے میں سو جایا کرے, میں نے کونسا وہاں کوئی اپنی اور تمہاری محبت کی نشانیاں چھپا کر رکھی ہوئی ہیں جو وہ دیکھ لے گا” زرقا کہتی چلی گئی
“اور مجھ سے پوچھ رہا تھا سالا کہ میں کون ہوں ؟؟؟؟” طہٰ کرسی پر گرتے ہوئے بولا
“تو بتا دیتے… ؟؟؟” زرقا دھیرے سے ہنسی
“میرے حواس قائم ہوتے تو بتا بھی دیتا… خدا کی قسم زرقا میں تو پورے کا پورا ہل گیا تھا… مجھے لگا… جیسے وہ… تمہارا شوہر ہے” طہٰ کے کہتے ہی زرقا کی ہنسی چھوٹ گئی, وہ شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
“فرض کرو… اگر ایسا ہوتا تو… ؟؟؟” وہ ہنسے جا رہی تھی
“تم میں ہمت ہو گی ایسا فرض کرنے کی… مجھ میں تو بالکل نہیں ہے” وہ بولا, زرقا نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا, وہ بس دیوانہ وار اس مسکراتے ہوئے چاند کو تکتا چلا گیا
“کہا کیا تھا اسے ؟؟؟” زرقا نے پوچھا
“یہ بھی شکر کرو کہ ابھی کچھ کہا نہیں میں نے… بس گڈ مارننگ…. ڈارلنگ ہی کہہ کر رک گیا” وہ دھیرے سے مسکرایا
“اِذَن مجھ سے پوچھے گا تو ضرور… ” زرقا نے کہا
“کوئی ضرورت نہیں ہے زیادہ اس کے منہ لگنے کی, اسے کہنا کزن ہے تو کزن ہی بن کر رہے… ” طہٰ کی انسیکیورٹی اس لمحے کھل کر سامنے آ رہی تھی, زرقا بس مسکراتی ہوئی اس کے چہرے کو دیکھتی چلی گئی
رات کو گیارہ بجے اسے طہٰ کا میسیج آیا تھا
“زرقا… کہیں تمہارے ماموں اس کے لئے تمہارا رشتہ نہ مانگ لیں…” زرقا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئی
اِذَن فاروق راۓ اس کے حواسوں پر سوار ہو گیا تھا
………………………….
جاری ہے