No Download Link
Rate this Novel
Episode 35
شام پانچ بجے کا وقت تھا, شافع اندر کمرے میں تھا, روبینہ اور دونوں بچے باہر صحن میں بیٹھے تھے, رافع اپنی موٹر سائیکل دھو رہا تھا
تبھی بیرونی دروازے کی بیل بجی, روبینہ اٹھنے لگی تو رافع نے روک دیا
“میں دیکھ لیتا ہوں… ” وہ باہر صحن میں ہی ایک طرف پائپ لگاۓ کھڑا تھا اور ساتھ ساتھ رحمہ اور راحم پر چھڑکاؤ بھی کرتا جا رہا تھا, اب بھی وہ راحم پر پانی برسا کر گیٹ کی طرف چلا گیا, دروازہ کھولتے ہی وہ ساکت ہوا تھا
“کون ہے رافع… ؟؟؟؟” روبینہ نے آواز دے کر پوچھا اور پھر دروازے سے اندر آتی شازیہ ملک کو دیکھ کر ٹھٹھک گئیں, اس نے ہلکے سبز رنگ کے لان کے سوٹ کے ساتھ سر پر ریشمی دوپٹہ لیا ہوا تھا, کندھوں کے گرد سیاہ رنگ کی چادر لپیٹ رکھی تھی, روبینہ اسے دیکھ کر یکلخت ہی کھڑی ہو گئیں
“مجھے… آپ سے بات کرنی ہے” شازیہ نے کہا
“اندر آ جاؤ… ” روبینہ نے کہا, شازیہ ان کے پیچھے چلتی ہوئی ڈرائینگ روم میں آ گئی, کام والی نے تھوڑی دیر تک آنا تھا سو رافع خود ہی اس کے لئے جوس لے آیا, شازیہ بہت دیر تک بول نہ سکی
“تمہاری بہن کا کیا حال ہے اب ؟؟؟” روبینہ نے ہی بات شروع کی
“انسان نما جانوروں کے ساتھ رہتے رہتے عورت کا کیا حال ہو جاتا ہے… آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے ؟؟؟” شازیہ نے کہا, روبینہ نے سر جھکا لیا
“اس شام… مجھے واحد کا میسیج آیا تھا… وہ مجھے چھت پر… بلا رہا تھا لیکن… جب میں وہاں گئی… تو وہ نہیں تھا… ” شازیہ نے بڑی مشکل سے کہا تھا
“وہ اس شام چھت پر نہیں تھا… وہ تو اس وقت حویلی میں ہی نہیں تھا… نمبر بھلے ہی اسی کا تھا لیکن میسیج اس نے نہیں کیا تھا” روبینہ نے کہا
“آپ کو کیسے پتہ ؟؟؟ ” شازیہ کی آنکھیں بھر آئیں
“میں نے تمہیں اوپر جاتے دیکھا… وہ بعد میں آیا تھا… اس نے آتے ہی راشدہ سے پوچھا کہ شازیہ چلی گئی؟؟ اگر اس نے خود میسیج کیا ہوتا تو وہ بھلا کیوں پوچھتا… ؟؟؟ اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ تم اوپر تھیں… میں نے اسے بتایا… ” روبینہ کہتی چلی گئیں
“کیا پتہ اس نے اپنے باپ کے کہنے پر میسیج کیا ہو… کیا خبر دونوں کی ملی بھگت ہو, کیا پتہ کہ اس نے صرف اپنے باپ کے کہنے پر مجھے جھانسا ہو, کیا خبر کے اس نے جان بوجھ کر مجھے اپنے باپ کے سپرد کر دیا ہو, کیا پتہ کہ اس کی محبت فقط ایک ڈھونگ ہی ہو, کیا خبر کہ…. ” شازیہ کی آواز اونچی ہوتی چلی گئی
“…اور کیا خبر کہ یہ سب جھوٹ ہو…” روبینہ نے کہا
“تو پھر وہ واپس کیوں نہیں آیا… ؟؟؟” وہ رو پڑی
“کیونکہ وہ اسی رات ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر گیا تھا” یہ سچ سننے آئی تھی وہ وہاں…اور سن کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
“میں پندرہ سال اسے بیوفا سمجھتی رہی… یہ ہی سمجھتی رہی کہ اس نے جان بوجھ کر مجھے اس جانور کے آگے کھڑا کر دیا…. مجھے تو پتہ نہیں تھا کہ… وہ پندرہ سالوں سے اس دنیا میں نہیں تھا” شازیہ کہتی چلی گئی
“میں یہ ہی سوچتی رہی کہ وہ ہسپتال سے اپنے گھر چلا گیا اور… پلٹ کر نہیں آیا, وہ جھوٹا تھا, فریبی تھا, دغاباز تھا تبھی نہیں آیا… مجھے کیا خبر کے… وہ تو سب سے سچا تھا” شازیہ کہتی چلی گئی
“آپ نے مجھے نہیں پہچانا… لیکن میں آپ کو پہچان گئی تھی… ناشیہ اور صفوان کا رشتہ ایک طرف, ہماری ذات برادری ایک طرف… میں بھلا اس جانور کے بیٹے کو اپنی بہن کیسے دے دیتی ؟؟؟ ” شازیہ نے آنسوؤں کے بیچ سامنے بیٹھے رافع کو دیکھا
“اور بھائی کس کا تھا یہ… ؟؟؟ اس بے وفا انسان کا جو اپنی محبت کو اپنے باپ کے سامنے پھینک کر بھول گیا… کاش… کاش کہ مجھے پتہ ہوتا کہ…. وہ تو منوں مٹی تلے دفن ہو چکا تھا” شازیہ کے دکھ کی کوئی انتہا نہیں تھی
“بس کرو شازیہ… پندرہ سالوں سے اپنے دل میں گڑا جھوٹ نکال باہر کرو… شاید تمہارے ہاتھ اٹھاکر اسے سچا کہہ دینے سے ہی اس کی مغفرت ہو جاۓ” روبینہ نے کہا, شازیہ نے اپنے آنسو صاف کئے تھے
“دنیا میں ایسا کوئی نہیں ہے جو تمہارا دکھ سمجھ سکے…. سواۓ میرے” اس نے رافع کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“میں جانتی ہوں ناشیہ کو اس بھیڑیے کے آگے گرا ہوا دیکھ کر تم پر کیا بیتی ہو گی…تم نے اسے کیسے سنبھالا ہو گا… کیسے گھر تک واپس لاۓ ہو گے… ؟؟؟ میرے سوا کوئی نہیں جان سکتا کیونکہ میں نے خود یہ سب جھیلا ہے… میں بس اتنا کہنے آئی ہوں کہ… اپنے اس فرعون باپ سے کہہ دینا کہ روز محشر اس کا بیٹا تو شاید اسے معاف کر دے… لیکن شازیہ ملک اسے معاف نہیں کرے گی… ” شازیہ نے سرد ترین لحجے میں کہا تھا
“اپنی عزت کا قتل… اپنی محبت کا قتل… اپنی محرومی کا قتل… کچھ بھی معاف نہیں کرے گی, اور خدا کرے کہ روز محشر بھی اسے معافی نہ ملے… ” وہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی
……………………….
وہ آج پھر اس کے آفس آیا تھا, اذن بس اسے دیکھ کر رہ گیا, اس کی تو جون ہی بدل گئی تھی. .. دیکھ کر پہچانا ہی نہ جاتا تھا کہ یہ وہ تین ماہ پہلے والا خوش باش طہٰ ملک ہے جو اب کسی دیوانے کی طرح نظر آتا تھا, آنکھوں میں ہمہ وقت وحشت اتری رہتی تھی, چہرہ یوں جسے کسی سڑک کنارے بیٹھا فقیر لگ رہا ہو
“اذن… میں نے تم سے کہا تھا کہ اسے چھوڑ دو” وہ فقیر ہی تو بن گیا تھا
“اور میں نے تم سے کہا تھا کہ وہ میری بیوی ہے” اذن نے کہا
“اچھا… تو پھر وہ بیوی والا حق ادا کیوں نہیں کر رہی تمہارا ؟؟؟” طہٰ کے کہتے ہی اذن کو غصہ آ گیا
“اپنی بکواس بند کرو” وہ بولا
“کیوں… ؟؟ آخر تین ماہ ہو چلے تم دونوں کی شادی کو…آخر کیوں وہ تمہیں اپنے قریب نہیں آنے دیتی… ؟؟؟ کیوں تم سے دور دور رہتی ہے ؟؟؟ ان تین ماہ میں کتنا حق ادا کیا ہے اس نے تمہارا ؟؟؟” طہٰ کہتا چلا گیا
“میں اس سے اپنا حق وصول کروں یا نا کروں… میری مرضی ” اذن نے کہا, طہٰ اس کی بات سن کر ہنستا چلا گیا
“نہیں اذن فاروق راۓ… مرضی تو اس کی ہے… وہ تمہیں تمہارا حق وصول کرنے دے… یا نا دے… مرضی تو اس کی ہے” وہ بولا
“اور وہ کبھی تمہارے قریب نہیں آۓ گی… کیونکہ وہ میری ہے, اور اس پر حق بھی صرف میرا ہی ہے” طہٰ نے آگے کو ہو کر کہا
“اور وہ میرا حق بھلا تمہیں کیوں دے گی… اذن فاروق راۓ… ” وہ بس مسکراۓ جا رہا تھا
“گیٹ لاسٹ…. ” اذن کا لحجہ سرد ہو گیا
“تم نے خود کہا تھا کہ تمہیں اس سے محبت نہیں تھی.. تو پھر کیوں اسے زبردستی ساتھ رکھے ہوۓ ہو, اسے چھوڑ دو اذن… وہ تمہاری نہیں ہے… بیشک آزما کر دیکھ لو… ” وہ کہتے ہوئے اس کے آفس سے باہر نکل گیا تھا
……………………………..
“کیسی ہو ؟؟؟” نہ جانے کیسے اس نے ناشیہ سے بات کرنے کی ہمت کی تھی
“زندہ ہوں… ” وہ پھیکا سا بھی نہیں مسکرا سکی تھی
“ناشیہ… یار مجھے معاف کر دینا… ” غاشیہ کی آنکھیں بھر آئیں
“میں نا ہوتی تو آج میری جگہ تم ہوتیں… بات تو ایک ہی ہے نا… تم تباہ ہو جاتیں یا میں تباہ ہو گئی.. بات تو ایک ہی ہے نا… ” وہ دھیرے سے بولی تھی
“طہٰ کیسا ہے اب ؟؟؟” غاشیہ نے پوچھا
“کسی کونے کھدرے میں بیٹھا ماتم مناتا رہتا ہے…غاشیہ یار تم سے غلطی ہو گئی دشمن سے پیار کرنے کی, مجھ سے ہو گئی… اسے تو روک دیتیں… ؟؟؟” ناشیہ نے کہا
“میں روکتی تو وہ رک جاتا…؟؟؟ واقعی ہم کسی کی بات مان کر محبت کرنے سے رک جاتے ہیں ؟؟؟” غاشیہ نے اس سے سوال کیا تھا
“خدا کی قسم اپنا دکھ برداشت ہو جاتا ہے… وہ جب آنسؤں سے روتا ہے تو دیکھا نہیں جاتا… ” ناشیہ کی آنکھیں بھر آئیں, غاشیہ بہت دیر تک بول نہ سکی
“ناشیہ… یار واپس مت جانا… پلیز ” غاشیہ نے بس اتنا ہی کہا تھا
بہت دیر تک وہ اس سے باتیں کرتی رہی… باتیں کم تھیں… آنسو زیادہ تھے اور ہر بات کی تان ایک ہی بات پر آ کر ٹوٹ رہی تھی
“ابو مان جاتے تو کیا تھا… “
…………………………
“ہیلو… آپ تیار ہیں ؟؟؟” اس بار کال اس نے کی تھی
“جلدی بولو.. “
“پرسوں رات… آٹھ بجے… تیار رہیے گا” وہ بولا
“تم آؤ گے ؟؟؟”
“ہاں… “
“پہنچ کر کال کر دینا… “
“ٹھیک ہے… ڈرامہ خود کھیلنا ہے آپ نے ؟؟؟” وہ بولا تھا
“فکر مت کرو… “
“اوکے… پرسوں رات آٹھ بجے” وہ کہتے ہوئے کال کاٹ گیا تھا
…………………………..
صبح ناشتے کے وقت وہ ٹیبل پر نہیں تھے, شازیہ نے خود جا کر ان کے کمرے میں جھانکا, وہ کروٹ لیے لیٹے تھے
“ابو… ” اس نے دو, تین بار پکارا لیکن جواب ندارد…وہ واپس پلٹ آئی
وہ دوپہر تک اپنے کمرے سے باہر نہ نکلے… شازیہ کو تشویش ہونے لگی, وہ دوبارہ ان کے کمرے میں آئی, وہ ہنوز ویسے ہی کروٹ لیے لیٹے تھے
“ابو… ” اس نے دھیرے سے ان کا کندھا ہلایا, وہ کچھ نہ بولے
“ابو… اٹھیں… ” شازیہ نے ذرا زور سے انہیں ہلایا, وہ بس بے سدھ سے اس کی طرف ڈھلک گئے
“ابو…. ” شازیہ کی چیخ اوپر ناشیہ اور طہٰ دونوں کے کمروں تک گئی تھی
“کیا ہوا… ؟؟؟” دونوں بھاگتے ہوئے نیچے اترے
“ابو کو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے… ” شازیہ زارو قطار رو رہی تھی
“ابو… ابو اٹھیں… ” طہٰ نے ان کا چہرہ تھپتھپا کر کہا لیکن انہوں نے آنکھیں نہیں کھولیں
“شازیہ باجی انہیں اٹھائیں… ہسپتال لے چلتے ہیں” وہ انہیں ایک طرف سے سہارا دیتے ہوئے بولا, دوسری جانب سے شازیہ نے سہارا دیا, ناشیہ نے بھاگ کر گاڑی کا بیک ڈور کھولا تھا
“ناشیہ… خالد بھائی کو فون کر دینا” طہٰ نے کہتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی تھی, شازیہ ان کے ساتھ پیچھے ہی بیٹھ گئی
انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا… بس سوتے سوتے ہی آنکھیں موندنے کی کوشش کر گئے تھے, خالد بھی اسی وقت ہسپتال پہنچ گیا, شازیہ کا رو رو کر برا حال تھا
کئی گھنٹوں بعد انہیں ہوش آیا…
“ابو… یہ کیا… ایسے تو نہ کریں… ” طہٰ خود بھی رو پڑا
“میں… تم سب کا مجرم… ہوں… میں… ” ان سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا
“ابو… سب ٹھیک ہو جاۓ گا.. آپ پریشان نہ ہوں” شازیہ نے ان کا ہاتھ تھام لیا, خالد بھی چپ چاپ سا ایک طرف کھڑا تھا
اگلے دن انہیں ڈسچارج کر دیا گیا تھا, شازیہ نے ان کا ڈرپ سٹینڈ ان کے بستر کے ساتھ ہی سیٹ کر دیا, وہ بس خاموش سے تھے
“ابو… آپ نے زیادہ ٹینشن نہیں لینی, شازیہ باجی انہیں وقت پر دوائیں دینی ہیں اور ان کی ڈائیٹ کا خاص خیال رکھنا ہے… ” طہٰ ان کی ساری دوائیں ان کے کمرے میں رکھ گیا تھا
تیمور ملک بس تکئے پر سر رکھے خالی خالی آنکھوں سے چھت کو گھورے جا رہے تھے
اس دن بھی مغرب کے بعد کا وقت تھا جب شازیہ ان کے لئے سوپ بنا کر لائی
“بس… ” انہوں نے تھوڑا سا پی کر شازیہ کا ہاتھ پیچھے کر دیا
“شازیہ…”
“جی ابو… “
“سب کو بلا لو… ناشیہ… طہٰ…. خالد… سب کو” وہ دھیرے سے بولے تھے, شازیہ نے انہیں ایک نظر دیکھتے ہوئے سب کو بلا لیا
“میں نے جو کیا… اپنے تئیں ٹھیک کیا, میں نے وہی کیا جو برسوں سے ہمارے باپ دادا کرتے چلے آ رہے تھے, میں نے بھی اپنی ذات کو, اپنی برادری کو فوقیت دی, فرزانہ جیسی بھی تھی میری بہن تھی, صفوان جیسا بھی تھا.. ہمارا اپنا تھا…اور میں نے اپنے باپ سے یہ ہی سیکھا کہ اپنوں کو سینے سے لگا کر رکھنا ہے چاہے کچھ ہو جاۓ… میں… مانتا ہوں کہ میں غلط تھا…میں مانتا ہوں کہ مجھے صفوان کی ساری خصلتوں کا اندازہ تھا, اس کے باوجود میں نے غاشیہ کا رشتہ اس سے طے کر دیا… ” وہ کہتے چلے گئے
“ابو یہ ساری باتیں بعد… ” شازیہ کہنے ہی لگی تھی جب خالد نے اس کا ہاتھ تھام کر سے خاموش کروا دیا, وہ اپنا کتھارسس کر رہے تھے, ان کا غبار نکل جاتا تو اچھا تھا
“میں جانتا ہوں کہ اگر صفوان میں اسقدر خامیاں نہ ہوتیں تو وہ میری پسند پر اپنی محبت کو وار دیتی… اس کے گھر چھوڑ جانے کا بدلہ میں نے جانے انجانے میں ناشیہ سے لیا… اس کا کیا دھرا اس کے سر تھوپ دیا… ہاں یہ بالکل ٹھیک کہتی ہےکہ مجھے سب پتہ تھا… مجھے پتہ تھا کہ وہ اچھا نہیں ہے, مجھے پتہ تھا کہ وہ میری پڑھی لکھی بیٹی کے قابل نہیں ہے… اس کے باوجود میں نے ظلم کیا… کیونکہ میں نے یہ ہی سب کرنا سیکھا ہے… ” وہ ذرا سا رکے
“مجھے معاف کر دینا…. تم سب مجھے معاف کردینا, میرا فیصلہ تم میں سے کسی کے حق میں بہتر نہیں تھا… میں مانتا ہوں میری پڑھی لکھی بیٹیوں کا چناؤ ٹھیک تھا…لیکن ان کا جرم صرف اتنا کہ وہ چناؤ ہماری نسل میں سے نہیں تھا… شازیہ… میری بچی مجھے معاف کر دینا, میں نے پندرہ سال تجھے دھوکے میں رکھا, مجھے لگا شاید یہ ہی ٹھیک ہے لیکن… ” وہ رکے
“ابو… کوئی بات نہیں… اگر میرا چنا ہوا بہتر تھا تو آپ کا چنا بہترین ہے… میں خوش ہوں… مجھے کوئی گلہ نہیں ہے آپ سے” شازیہ رو پڑی تھی
“ناشیہ… بچے مجھے معاف کر دے, کاش کہ میں تیرے گزرے سالوں کا مداوہ کر سکتا… کاش میں تیرے اوپر بیتے ظلم و ستم کا بدلہ لے سکتا… کاش کے وقت پلٹ سکتا تو میں تجھے کبھی صفوان کے حوالے نہ کرتا… مجھے معاف کر دے بیٹے… ہر اس تھپڑ کے لئے جو تو نے اس نامراد سے کھایا, ہر اس گالی کے لئے جو اس نے تجھے دی, ہر اس دکھ کے لے جو تجھے اس سے ملا… مجھے معاف کر دے اپنے ہر ہر آنسو کے لئے… “دو آنسو ٹوٹ کر ان کے چہرے پر بہہ گئے تھے
“ابو…. کوئی بات نہیں… ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی… اور بھلا کیا کہتی ؟؟؟ بس ان کے کندھے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
“یہ تیرا گھر ہے بیٹا…. اپنے بچے کے ساتھ آرام سے یہاں رہ… جو ہو گیا میں اسے ٹھیک نہیں کر سکتا لیکن… میرے ہوتے میں تجھے اور دکھ نہیں دیکھنے دوں گا” وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے چلے گئے تھے
“طہٰ… ” انہوں نے اسقدر بچے بسی اور لاچارگی سے اس کی طرف دیکھا کہ وہ یکدم ہی ان کے پاس چلا آیا
“بس کریں ابو… باپ بھلا اولاد سے معافی مانگتا اچھا لگتا ہے… میں نے کبھی نہیں چاہا کہ آپ… مجھ سے… معافی مانگیں” وہ زور سے ان سے لپٹ گیا تھا
“کس سے شادی کرنی ہے تو نے ؟؟؟” وہ پوچھ رہے تھے
“جس سے کرنی تھی اس کی ہو گئی ابو… ” وہ دونوں بازوؤں سے ان کے گرد حصار بناۓ بیٹھا تھا
“ابو آپ زیادہ ٹینشن نہ لیں… ہمیں آپ سے کوئی گلہ نہیں ہے, بس آپ ہمارے ساتھ رہیں” شازیہ نے کہا
“طہٰ… چل ہٹ پرے… ابو کو ریسٹ کرنے دے” شازیہ نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا تھا, ناشیہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی
“خالد… ” وہ سب سے آخر میں تھا جب تیمور ملک نے اسے آواز دے لی
“جی تایا جان… ” وہ رک گیا
“دروازہ بند کرو ذرا… ” انہوں نے کہا, خالد دروازہ بند کر کے ان کے پاس آ گیا
“یہ الماری کھولو… ” انہوں نے کہا, خالد نے الماری کھول دی
“نچلا دراز کھولو… ” انہوں نے پھر کہا, خالد نے چپ چاپ کھول دیا
“وہ سفید تہہ کیا ہوا کاغذ نکالو… ” انہوں نے کہا, خالد نے چپ چاپ وہ کاغذ ان کی طرف بڑھا دیا
“یہ تمہارا ہے خالد… کاش کے یہ وقت پر تمہارے باپ کو دے دیا ہوتا… تو شاید آج وہ زندہ ہوتا” تیمور ملک نے کہا
“کیا مطلب ؟؟؟” وہ سمجھ نہ سکا
“تمہاری ماں سیرت سے نکاح کے بعد بھی وہ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہو سکا تھا, سو میں نے اور ابو نے اسے باہر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا, تمہاری ماں اور تائی کے بھائیوں کا ملک سے باہر جما جمایا بزنس تھا, نکاح کے بعد وہ اور سیرت دونوں باہر چلے گئے… اس رات یہ خط تمہاری تائی عطرت نے تمہاری ماں کو دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر شاہ نور باہر جا کر بھی سیٹ نہ ہو سکے تو یہ خط اسے دے دے… ” وہ کہتے کہتے رکے
“لیکن شاید سیرت کو اندازہ نہیں ہو سکا کہ وہ بظاہر تو سیٹ ہو گیا تھا لیکن اس کا دل اس کے ساتھ نہیں تھا, وہ تو یہیں پاکستان میں ہی رہ گیا تھا, میں نے اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی محبت, اس کی بیوی اور اس کا بچہ چھین لیا تھا…. ” خالد کو ان کی آواز بھرائی ہوئی لگی
“سیرت نے یہ خط شاہ نور کو نہ دیا… اور اس نے خود سے لڑتے لڑتے خود کشی کر لی… جب وہ تمہیں لیکر پاکستان واپس آئی تو اس نے یہ خط دوبارہ عطرت کو دے دیا… اب اس کی ضرورت ہی کیا تھی, عطرت نے اپنی آخری سانسوں میں یہ خط مجھے دیا تھا اور کہا تھا کہ اس میں لکھا سچ تمہارا باپ تو نہیں جان سکا… لیکن تمہارا حق ہے کہ تم اسے جان سکو… ” وہ کہتے جا رہے تھے
“یہ شاید ایک شوہر کو اس کی بیوی اور ایک باپ کو اس کے بچوں سے الگ کرنے کی سزا ہے کہ آج میرے بچوں میں سے کوئی بھی مجھ سے خوش نہیں ہے, کوئی بھی مجھ سے راضی نہیں ہے… ” ان کے آنسو نکل آۓ
“اسے پڑھ لینا… وہ تمہارے باپ جنے سگے بہن بھائی ہیں خالد… ان سے ضرور ملنا…اور انہیں صرف اتنا کہنا کہ میری آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند ہونے سے پہلے ایک بار مجھے ضرور مل لیں… وہ میرے لاڈلے بھائی کا خون ہیں… ” وہ روتے جا رہے تھے, خالد وہ کاغذ کا ٹکڑا ہاتھ میں لیے بیٹھا رہ گیا
“اور مجھے معاف کر دے بیٹا… میں نے تجھ سے تیرا باپ چھین لیا…” انہوں نے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا لی, خالد انہیں دلاسہ بھی نہیں دے سکا… بس ششدر سا بیٹھا انہیں دیکھتا رہ گیا
…………………………..
وہ اس کے لئے چاۓ کا کپ لیکر آئی تھی اور خاموشی سے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر واش روم میں چلی گئی, کچھ دیر بعد باہر نکلی, ہاتھوں پر لوشن لگایا اور اپنی طرف آ گئی
“یہاں آ جاؤ… ” اذن نے چاۓ کا کپ ختم کرتے ہوۓ اپنے برابر میں جگہ بنائی تھی, زرقا ہچکچا سی گئی, کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر دھیرے سے اس کے بستر کے پاس آ کھڑی ہوئی
“بیٹھ جاؤ… ” اذن نے اپنے برابر میں خالی جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا, وہ بادل نخواستہ سی اس کے ساتھ بیٹھ گئی
دسمبر شروع ہو چکا تھا, الماریوں سے کمبل باہر نکل آۓ تھے, اب بھی وہ جیسے ہی اس کے برابر میں بیٹھی, اذن نے بڑے حق سے اس کے کندھوں کے گرد اپنا ایک بازو ڈال کر اسے اپنے ساتھ لگا کر کمبل اوپر کر لیا
“تمہیں سردی نہیں لگتی ؟؟؟” اذن نے پوچھا
“کیوں ؟؟؟” وہ اس کے ساتھ بیٹھ کر کمفرٹیبل نہیں تھی
“جرسی کہاں ہے تمہاری ؟؟؟” اس نے ریلیکس سے انداز میں پیچھے تکیے سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا
“ابھی اتاری تھی کمرے میں آ کر… ” وہ بولی, اذن نے ریمورٹ اٹھا کر ٹی وی کی آواز آہستہ کی تھی
“زرقا… ” پھر اس کی جانب دیکھتے اسے پکارا
“ہاں… ” زرقا نے بدقت نظریں اٹھائیں
“ایک بات پوچھوں…. بالکل سچ سچ بتانا… ” وہ بولا, زرقا بس اسے دیکھتی رہی
“آج…ابھی…. اس وقت… کس کی ہو تم ؟؟؟” اس نے پوچھا, زرقا جیسے ساکت ہو گئی تھی, پتھرائی سی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی
“اذن کیا ہوا ؟؟؟” وہ بمشکل بولی
“کس کی ہو تم… ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا, زرقا کے گرد اس کا حصار ذرا تنگ ہوا تھا
“تمہاری… ” وہ نظریں جھکا گئی
“Sure…???”
اذن نے دو انگلیوں سے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا, زرقا کی آنکھوں کے گوشے نم ہو گئے, ماتھے پر پسینے کے چھوٹے چھوٹے قطرے اذن کو صاف نظر آ ریے تھے
“ہاں…. ” وہ کپکپاتے ہوۓ لبوں سے بولی تھی, اذن کی انگلیاں اس کے بالوں میں پھنسنے لگیں, دھیرے سے اس نے زرقا کا چہرہ اپنے قریب کیا تھا
“پھر میری بن کیوں نہیں جاتیں تم… ؟؟؟” اس نے گہرے سے لحجے میں کہا اور اس سے پہلے کہ زرقا کچھ کہتی, وہ یکدم ہی اس کی سانسوں کو اپنے لبوں میں قید کر گیا
زرقا کسمسائی تھی… شرم سے نہیں, حیا سے نہیں… ڈر سے… خوف سے
وہ یوں کسمسائی تھی جیسے بس اس سے دور ہو جانا چاہتی ہو, اذن دونوں بازو اس کے وجود کے گرد باندھتے ہوئے اس پر جھک سا گیا
“اذن پلیز… میری بات سنو… ” اس نے بمشکل اپنے لبوں کو آزاد کروایا تھا
“میں تمہارا شوہر ہوں زرقا راۓ… اور تم میری بیوی” اذن کی لپٹوں جیسی سانسیں اسے اپنی گردن پر سرسراتی محسوس ہونے لگی تھیں
“اذن مجھے تھوڑا وقت… دے دو” اس نے اپنا ایک ہاتھ اس کے سینے پر رکھتے ہوۓ اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کی تھی
“تین ماہ لے لیے ہیں تم نے….” اذن کی انگلیاں اس کی شرٹ کے بٹنوں پر رینگ گئیں
“اذن…. پلیز… ” زرقا نے اپنے دونوں ہاتھ مضبوطی سے اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے, آنکھیں آنسوؤں سے بھر چکی تھیں, لب کپکپا رہے تھے, چہرہ پسینوں پسین تھا…. جذبات کی شدت سے نہیں, اذن راۓ کی محبت سے نہیں… اس کی قربت سے نہیں
بلکہ اس کی زبردستی سے…
“زرقا… تم نے کہا کہ تم میری ہو… ” اذن نے دھیرے سے کہا, زرقا چند لمحے اس کی طرف دیکھتی رہی, پھر اس نے نہائیت بے بسی سے اپنے دونوں ہاتھ اس کے ہاتھ پر سے ہٹا لیے, ساتھ ہی اس کی آنکھیں بے اختیار ہی چھلک گئی تھیں, اس نے یوں اپنی آنکھیں بند کر لیں جیسے خود کو اذن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہو…اذن بس جامد سی نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا
وہ رو رہی تھی…. کیوں ؟؟؟
کیونکہ وہ اس کی قربت میں خوش نہیں تھی, وہ اسے اس کا حق دینے سے انکاری تھی, وہ اسے اپنا شوہر تسلیم نہیں کر رہی تھی, وہ اس کی محبت لینے سے انکاری تھی
کیوں ؟؟؟
کیونکہ وہ ابھی تک طہٰ ملک کو دل سے نکال نہیں سکی تھی
اذن چند لمحے اس کے گیلے ہوتے چہرے کو دیکھے گیا… پھر خاموشی سے اس کے اوپر سے ہٹ گیا
“جاؤ سو جاؤ… ” اس نے دھیرے سے کہا تھا
………………………….
جاری ہے
