121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47

Shafy and Isra Special episode
چار ماہ بعد
ایک بار پھر سے سردیاں لوٹ آئی تھیں… صبح کے وقت جسموں میں سرن پیدا کرنے والی یخ بستہ ہوائیں اور کپکپانے پر مجبور کر دینے والی خنکی… سارا سارا دن نیلا آسمان سفیدی مائل ہوا رہتا تھا, کافی اور چاۓ نے ہر سمت ڈیرے ڈال لیے تھے, کنوؤں کا دور دورہ تھا
وہ بھی ایسی ہی ایک ٹھنڈی سی شام تھی,
وہ اپنے لئے سردیوں کے کچھ کپڑے خریدنے اذن کے ساتھ مارکیٹ آئی تھی, اسماء کو ساتھ لانا تو سو کا گھاٹا تھا, اس کی اپنی انتہائی فضول قسم کی خریداری شروع ہو جاتی تھی سو وہ آدھے پونے گھنٹے کے لیے اذن کے ساتھ ہی آ گئی, اس کی نائیٹ شفٹس تھیں سو واپسی پر وہ اسے کالونی کی گلی کے کونے پر اتار گیا, شام کے پانچ بج رہے تھے, یخ بستہ ٹھٹھرتی ہوئی ہوا جسم کے آر پار ہو رہی تھی, نیلا آسمان شفق سے سرخ ہوا جا رہا تھا, وہ شاپنگ بیگ ہاتھوں میں اٹھاۓ, گرم شال کندھوں کے گرد لپیٹے خراماں خراماں گھر کی طرف چل پڑی, دفعتاً ایک گرے کلٹس اس کے پاس سے گزری اور ذرا آگے جا کر رک گئی, ڈرائیونگ سیٹ سے باہر نکلتے شافع نے اسے دیکھ لیا تھا, وہ بھی اسے دیکھ کر نا محسوس سے انداز سے آہستہ ہو گئی
“تم دنیا کی واحد لڑکی ہو جو اکیلے ہی شاپنگ کرنے چلی جاتی ہو” وہ شام کے اس پہر اسے دیکھ کر دن کی ساری کلفت بھول گیا تھا, اسراء فیروزی رنگ کے گرم سوٹ کے ساتھ بلیک ویلوٹ کی شال کندھوں پر ڈالے ہوئے تھی
“مجھ سے دو سوٹوں اور ایک جوتے کے لئے صبح دس بجے سے شام چار بجے تک بازاروں میں خوار نہیں ہوا جاتا” وہ دھیرے سے بولی, شافع ہلکے سے سبز رنگ کے تھری پیس میں ملبوس تھا, اسراء کو اس کے فارمل پینٹ کوٹ کے کلرز ہمیشہ ہی بہت یونیک لگتے تھے…یہ اور بات تھی کہ اس نے کبھی تعریف نہیں کی تھی
“کیا خریدا ؟؟؟” شافع نے پوچھا
“کہا تو ہے… دو سوٹ اور ایک جوتا” وہ بولی
“بس… دس, بارہ سوٹ اور پانج, چھ جوتے تو خریدتی ” وہ بولا
“اچھا… میرا آدھا دن تو کمبل میں گزرتا ہے… دس سوٹ میں نے سر میں مارنے تھے” وہ بولی تو شافع کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
“اور ویسے بھی… میرے خیال سے یہ دس, بارہ سوٹوں اور پانچ, چھ جوتوں والا کام تم پر سوٹ کرتا ہے” وہ اس کے آۓ روز کے نت نئے فارملز اور شوز پر چوٹ کر ہی گئی تھی, شافع سر جھکاۓ دھیمے دھیمے مسکراتا چلا گیا
“ٹوٹل 56 بینکس میرے انڈر آتے ہیں اسراء راۓ… روزانہ آدھے سے زیادہ شہر دیکھتا ہے مجھے… اب کم از کم میں ایسا تو دکھوں کہ دیکھنے والا دوسری بار بھی مڑ کر دیکھے… ” وہ دو ماہ پہلے ایریا مینیجر ہو گیا تھا
“اور ویسے بھی… زندگی میں گنتی کے دو ہی تو شوق پالے ہیں میں نے… نت نئے فارملز اور… ایک اکیلی اسراء راۓ” وہ وارفتگی سے اس کے صبیح چہرے کو تکتا ہوا کہہ گیا تھا, اسراء کی پلکیں لرز اٹھیں, وہ سر جھٹکتے ہوۓ اس کے پاس سے گزری تو وہ پھر سے بول پڑا
“چلو آؤ تمہیں اپنی امی سے ملواتا ہوں… ” وہ اپنے پیچھے گیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
“کس حیثیت سے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“جس حیثیت سے تم چاہو…. ” وہ بڑے امید بھرے لحجے میں بولا تھا
“کسی حیثیت سے بھی نہیں ” وہ اس کی امید کو ٹھوکر مارتے ہوئے آگے بڑھ گئی تھی
………………………….
اسماء کو میکے آۓ چار ماہ ہو چلے تھے, ان تین ماہ میں صمد نے اس سے کسی بھی قسم کا کوئی بھی رابطہ نہیں کیا تھا… نا ہی اس نے صمد کو کوئی کال کی تھی, راۓ عبید کئی بار آۓ تھے… اسے سمجھانے کہ اپنے گھر واپس آ جا… کئی بار انہوں نے نے کہا کہ میرے ساتھ واپس چل لیکن وہ انکاری تھی, اس کی ڈیمانڈ تھی کہ صمد اسے لینے آۓ… لیکن اس بار صمد راۓ پتھر ہو گیا تھا
“میں نے اسے نہیں نکالا… خود گئی ہے سو خود ہی واپس آۓ” صمد کا صاف کہنا تھا
اس کے تینوں بچے بیچارے کبھی ادھر تو کبھی ادھر…. صمد انہیں دروازے پر ہی اتار کر واپس چلا جاتا تھا, تین ماہ سے اس نے عمر فاروق کے گھر میں قدم بھی نہیں رکھا تھا, عمر فاروق نے اس رات کے بعد سے دوبارہ اس سے کوئی بات نہیں کی تھی, ہاں البتہ آمنہ نے اسے بہت بار سمجھایا تھا
وہ جانتی تھی اس بار غلطی اس کی تھی… یہ بھی جانتی تھی کہ اس بار معافی اسے ہی مانگنی چاہیے تھی لیکن بس گردن میں پڑی انا کا سریا ٹوٹ کے نہیں دے رہا تھا…
اس دن اتوار تھا, وہ تینوں بچوں کو ادھر چھوڑنے آیا تو اذن اسے دروازے پر ہی مل گیا
“صمد بھائی اندر تو آ جائیں ” اذن نے اسے پکڑ ہی لیا
“نہیں یار… دیر ہو رہی ہے” وہ بولا
“صمد بھائی آپ نے کونسا جا کر حاضری لگانی ہے جو دیر ہو رہی ہے… آ جائیں, ناراضگی تو اسماء باجی سے ہے نا…. ہم سے تو نہیں ہے” وہ. اسے زبردستی اندر کھینچ لایا تھا
“ارے واہ… آج سورج کدھر سے نکل آیا… ؟؟؟” اسراء نے اسے دیکھا تو مسکراتے ہوئے پوچھا, صمد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا, آمنہ اور عمر فاروق ابھی ناشتہ کر رہے تھے
“صمد بھائی… ” زرقا بھاگ کے اس کے گلے لگی تھی
“زرقا صمد کے لئے چاۓ لیکر آؤ… ” عمر فاروق نے کہا
“نہیں پھوپھا میں بس جا رہا ہوں… ” وہ بولا تو اذن نے اس کے کندھوں پر دباؤ ڈال کر اسے کرسی پر بٹھا دیا
“چاۓ تو پی لیں… ” وہ بولا, تبھی اسماء نیچے اتری تھی, پہلی نظر نیچے ڈایئیننگ پر بیٹھے صمد پر ہی پڑی تھی, اس نے بھی بس ایک سرسری نظر ڈالی اور دوبارہ نہیں دیکھا
“اسماء ادھر آ… ” آمنہ نے اسے آواز دی تھی
کیا تھا اگر وہ اس لمحے صمد کو بلا لیتی… ؟؟؟ چند قدموں کے فاصلے پر بیٹھا تھا وہ… کیا تھا اگر پاس جا کر بات کر لیتی ؟؟؟ کہہ دیتی کہ صمد ایم سوری… بس
اتنا ہی تو کہنا تھا… اور سب ٹھیک ہو جاتا
پچھلے چار مہنوں سے اس کے منہ سے بس یہ ایک سوری ہی نہیں نکل رہا تھا
صمد چاۓ پی کر واپس چلا گیا
“اسماء… شوہر کو ناراض کرنے والی عورتیں سیدھی جہنم میں جائیں گی… عقل ٹھکانے لانی ہے یا نہیں ؟؟؟” آمنہ کو چڑھ غصہ گیا
“امی وہ بلا لیتا مجھے… ” بس وہی انا
“غلطی تیری ہے… اس کی نہیں ہے” وہ زور سے بولی تھیں
………………………….
“اسراء… ” وہ سبھی نفوس رات کا کھانا کھا رہے تھے جب عمر فاروق نے اسے پکارا
“میرے ایک بہت اچھے دوست ہیں فہاج کیانی صاحب… جونیئر سٹارز کے نام سے ان کا ایک بہت بڑا سکولنگ نیٹ ورک ہے, پہلے تو کینٹونمنٹ والی برانچ ان کی بہو سپروائز کرتی تھی لیکن اب انہوں نے اپنا پرائیوٹ کالج بھی سیٹ اپ کیا ہے, ان کی بہو وہاں کی پرنسپل ہے… سو انہیں سکول کے لئے ایک عدد پرنسپل کی ضرورت ہے… ” وہ کہتے چلے گئے
“مجھ سے ذکر کیا تھا انہوں نے… کہتے کہ اسراء کو کہیں کہ ہمیں جوائن کر لے, اس کا تو وائس پرنسپل ہونے کا تجربہ بھی ہے”وہ بولے
“رہنے دیں عمر… ایویں سارا دن سکول میں ذلیل ہوتی پھرے گی, گھر میں بیٹھ کر موجیں کرے”آمنہ نے کہا
“امی میں کیا کروں گی فضول میں موجیں مار مار کر وقت ضائع کر کے… موٹی ہوتی جا رہی ہوں میں کھا کھا کر, ابو میں کر لوں گی جوائن… ” وہ راضی تھی
“دیکھ لو اسراء…بڑی ذمہ داری والا کام ہے… ” اذن نے کہا
“اللہ خیر کرے گا… ” وہ مسکراتے ہوئے ہوۓ بولی تھی
اگلے ہی دن وہ عمر فاروق کے ساتھ جونیئر سٹارز پہنچ گئی, کیانی صاحب کی بہو نے اسے سارا سسٹم سمجھا دیا تھا
“دھیرے دھیرے سیٹ ہو جائیں گی آپ اسراء… باقی جب بھی ضرورت پڑے تو مجھے کال کر لینا, سکول کے اکاؤنٹس میں بھی آپ کو ایڈ کرنا ہو گا” وہ اسے سمجھاتی چلی گئی تھیں
کچھ ہی دنوں میں اس کی روٹین سیٹ ہو گئی, صبح آٹھ بجے عمر فاروق اسے گاڑی میں سکول چھوڑ دیتے تھے, سارا دن ادھر ادھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں مصروفیت رہتی, ساڑھے بارہ بجے چھٹی ہو جاتی تھی, جب تک سکول خالی نا ہو جاتا…وہ وہیں رہتی تھی, تقریباً ایک ڈیڑھ بجے عمر فاروق ہی اسے واپس لے جاتے تھے
وہ بھی ایسا ہی ایک مصروف سا دن تھا, اسے سکول کے اکاؤنٹ کے سلسلے میں ہی بینک جانا پڑا تھا, کیانی صاحب کی بہو نے اپنی گاڑی بھجوا دی تھی, کافی لمبا چوڑا کام تھا, وہ تو جلد ہی بائیو میٹرک کروا کر فارغ ہو گئیں اور چلی گئیں
اسراء پھنس گئی… سی ایس او نے کئی بار اس کا انگوٹھا ڈیوائس پر رکھوایا لیکن بے سود… وہ وہاں کھڑے کھڑے تنگ آ گئی, اس سے پہلے کہ اس کا قابل تعریف صبر جواب دیتا, اس نے اپنے بالکل پیچھے کسی کو کھڑے محسوس کیا تھا
پھر ایک مانوس سی خوشبو اسے اپنی سانسوں میں گھلتی ہوئی محسوس ہوئی, اس سے پہلے کہ وہ پلٹتی… کسی نے بہت نرمی سے اس کا دایاں ہاتھ پکڑا اور اس کا انگوٹھا ڈیوائس پر رکھ دیا, اس کے ہاتھوں کا لمس اسراء کو اپنے پورے وجود میں سرسراتا محسوس ہوا تھا
“چھ سالوں میں بھی تمہاری انگلیوں کو چوڑائی ڈیوائس کے مطابق نہیں ہو سکی… ” وہ سرگوشی میں بولا تھا, اسراء کے ہاتھوں کی لرزش اس نے واضح محسوس کی تھی, اس کا انگوٹھا ڈیوائس پر رکھ کر اوپر سے اپنا انگوٹھا رکھوا کر شافع نے اس کی بائیو میٹرک کروائی تھی
“مس کرن اس کا پرنٹ آؤٹ نکال دیں جلدی… ” وہ وہیں سی ایس او کے کاؤنٹر پر کھڑا ہو گیا تھا
وہ بیچاری گریڈ فور کی ایک دھان پان سی سی ایس او اس گریڈ ون کے ایریا مینیجر کو یوں اپنے کاؤنٹر پر کھڑا دیکھ کر اچھی خاصی پزل ہو گئی, کبھی اس کا رم نیچے گر جاتا, کبھی کوئی فائل نیچے گر جاتی… شافع بڑا ریلیکس سا وہاں کھڑا تھا, اس کے پیچھے لوگوں کا رش بڑھتا جا رہا تھا
“لیں سر… ” پرنٹ نکل ہی آیا
“فہد ان کی فائل مکمل کر کے دو… ابھی… ” وہ وہاں سے ہلا تو اگلے کاؤنٹر پر جم گیا, اسراء کے گال دھیرے دھیرے تمتماتے جا رہے تھے, فہد نے فائل مکمل کر کے اسے پکڑا دی
“پلیز… ” اس نے واپس پلٹتے ہوۓ اسراء کو اپنے آفس کی طرف جانے کا اشارہ کیا تھا, وہ اپنی شال درست کرتی ہوئی آگے بڑھی… 56 بینکوں کا ہیڈ وہ تینتیس سالہ انتہائی شاندار شخصیت کا مالک ایریا مینیجر اس کے پیچھے چل رہا تھا
اس کی برانچ کے 28 ایمپلائز حیرت سے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے تھے, وہ آخر تھی کون جس نے شافع انصاری کو اپنے پیچھے لگا لیا تھا
آفس کے قریب پہنچتے ہی شافع نے ہاتھ بڑھا کر اس کے لئے دروازہ کھولا… وہ سر جھکا کر اندر چلی گئی
پھر اس کے لئے کرسی کھینچی
“بیٹھو پلیز… ” وہ خود فائل ہاتھ میں لیے کھڑا تھا, اسراء پزل سی ہوتے ہوئے بیٹھ گئی, وہ اپنی نشست پر بیٹھ گیا تھا
“فہد چاۓ بھجواؤ… اچھی سی” اس نے کہتے ہوئے اس کی فائل کھول لی تھی, اسراء نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی
وہ آج بھی ہلکے سے بسکٹ کلر کا تھری پیس پہنے ہوۓ تھا…وہی ہمیشہ والی وجاہت اور دلکشی… لبوں پر کھیلتی ہوئی موہوم سی مسکراہٹ
“مبارک ہو… اب تم پرنسپل بن گئی ہو” وہ سائن کرتے ہوئے بولا
“تمہیں بھی مبارک ہو… اب تم ایریا مینیجر بن گئے ہو”وہ اسی کے سے انداز میں بولی تھی, شافع سر جھکا کر مسکرانے لگا, دفعتاً اسراء کی نظر گلاس ڈور سے باہر کو گئی… پوری برانچ کی نظریں اس کے آفس پر ٹکی ہوئی تھی, ہر آنکھ میں رشک, ہر لب پر مسکراہٹ… سرگوشیاں, چہ مگوئیاں… وہ شرم کے مارے سرخ ہوتی چلی گئی
“شافع.. پلیز ذرا جلدی کر دو گے ” وہ بولی, شافع نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا
مہندی اور گولڈن رنگ کے سٹائلش سے گرم سوٹ کے ساتھ وہ مہندی رنگ کی ہی ویلوٹ کی شال کندھوں کے گرد لپیٹے ہوۓ تھی, ایمبرائیڈیڈ دوپٹہ سر پر لیا ہوا تھا, چہرے پر ہلکا ہلکا میک اپ اور لبوں پر گولڈن سی لپ اسٹک… گالوں کو کسی بلش آن کی ضرورت ہی نہیں تھی, وہ مارے شرم کے ہی سرخ ہوۓ جا ریے تھے
“تمہیں واپس سکول جانا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… ” وہ بولی
“بارہ بج گئے ہیں… میں نے ساڑھے بارہ بچوں کو سکول سے واپس لینا ہے تو تمہیں بھی چھوڑ دوں گا” وہ سارا پلان سیٹ کیے بیٹھا تھا
“گاڑی باہر کھڑی ہے… “
“واپس بھجوا دو… ” وہ بولا, چاۓ آ گئی تھی, شافع نے اس کی فائل سائن کر کے چپڑاسی کے ہاتھ باہر بھجوا دی, شافع نے خود اس کا کپ اس کے سامنے رکھا تھا
“شافع پلیز…. بس کرو, تمہارا سارا بینک ہم دونوں کو دیکھ رہا ہے” وہ کہہ ہی گئی
“تو دیکھنے دو… ” وہ جیسے اس کا حسین چہرہ زبانی یاد کر رہا تھا
کچھ دیر بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا, ایک بار پھر وہ آگے تھی اور شافع انصاری اس کے پیچھے تھا, اس نے خود اسراء کے لئے اپنی گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولا تھا
“ایک بات پوچھوں تم سے ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولا
“ہاں… “
“دوسری شادی کرو گی ؟؟؟” اس نے پوچھا, اسراء فوری طور پر جواب نا دے سکی
“پتہ نہیں… ” سکول گیٹ کے سامنے اس نے گاڑی روک دی, وہ اسراء کے ساتھ ہی چلتا ہوا اندر آیا تھا
“راحم پاپا آ گئے ” رحمہ اپنا بیگ اٹھا کر اس کی طرف دوڑی, راحم بھی اس کی پیروی میں تھا
“پاپا میرا بیگ اٹھا لیں…. اتنا بھاری” وہ چار سال کا بچہ ہلکان ہوا پڑا تھا, شافع نے جلدی سے اس کا بیگ اتارا, رحمہ نے بھی جھٹ اپنا بیگ اسے پکڑا دیا
“پاپا پیزا لیکر جائیں گے… ” فرمائشیں شروع ہو گئی تھیں
“رحمہ بیٹے ابھی کل تو کھایا ہے پیزا… “
“پاپا میرا فیورٹ ہے پیزا… “
“پاپا مجھے آج تین سٹارز ملے… ” راحم خوب ہی اچھل رہا تھا, اسراء ایک طرف کھڑی خاموشی سے ان تینوں کو دیکھ رہی تھی
“گھر جانا ہے تو میں چھوڑ دیتا ہوں… ” وہ ان دونوں کے بیگ اٹھاۓ کھڑا تھا
“نہیں میں تھوڑی دیر تک جاؤں گی” اسراء نے کہا اور اندر کو چل پڑی
“اسراء… “وہ شافع کی آواز پر مڑی تھی
“مجھ سے کرو گی…دوسری شادی ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا, اسراء کوئی جواب نہیں دے سکی, بس چپ چاپ اندر چلی گئی
………………………….
“ماما.. گھر کب جائیں گی ؟؟؟” اس کی چھوٹی بیٹی ابھی صرف پانچ سال کی تھی, بڑے دونوں بیٹے تھے, بیچارے بچے بھی ادھر سے ادھر چکر لگاتے تھک گئے تھے
“ماما آپ پاپا سے ناراض ہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں… تمہارے پاپا ناراض ہیں مجھ سے” وہ اس پانچ سالہ بچی کے سامنے کہہ ہی گئی
“تو آپ سوری کر لیں… ” وہ بولی, یہ بھلا کوئی مسئلہ تھا, ایک سوری ہی تو کرنی تھی
“ہاں ماما… آپ کال کریں اور سوری کر لیں, پاپا آپ کو آ کر لے جائیں گے” دونوں بیٹے بھی اس کے پاس آ کھڑے ہوۓ تھے
تھوڑی سی پس و پیش کے بعد اس نے موبائل اٹھا لیا… پھر کافی دیر بعد صمد کو کال ملائی
“ہیلو… ہیلو… ” وہ کہتا ہی رہ گیا
اسماء کے منہ سے سوری نہیں نکلا تھا… وہ بس چپ چاپ کال کاٹ گئی تھی
………………………….
اگلے دن بھی جب وہ بچوں کو واپس لینے آیا تو اس کے آفس چلا آیا, وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی
“میں نے ایک گزارش کی تھی تم سے ؟؟؟” وہ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا
“شافع… یہ کام آج بھی اتنا ہی ناممکن ہے جتنا چھ سال پہلے تھا” وہ بولی
“کوشش تو کر لینے دو… ” وہ بولا
“چھ سال پہلے بھی تو کی تھی… ” اسراء نے کہا
“ہو سکتا ہے اس بار کامیاب ہو جاؤں ؟؟؟” وہ بڑی امید سے بولا تھا
“شافع…. ایسے ہی ٹھیک نہیں ہے ؟؟؟” وہ آگے کو ہو کر بولی
“کیا ٹھیک ہے… تم میرے سامنے بیٹھی ہو اور میں تمہیں پورے حق سے دیکھ بھی نہیں سکتا, تمہارے چاند چہرے کو پوری طرح سراہ بھی نہیں سکتا, تم مجھ سے چند انچ کے فاصلے پر ہو لیکن میں تمہیں چھو بھی نہیں سکتا… یہ کہاں سے ٹھیک ہے اسراء ؟؟؟” وہ پوچھتا چلا گیا, اسراء نے پلکیں جھکا لیں
“میں کوئی فرشتہ تھوڑی ہوں اسراء راۓ… کہ بس تم سے ساری عمر روحانی سا عشق کرتا رہوں, جیتا جاگتا انسان ہوں میں… مجھے تم سے کل بھی محبت تھی اور… مجھے تم سے آج بھی محبت ہے, اور مجھے میری محبت میری بانہوں میں چاہئے… میرے دل کے بالکل پاس, میری دھڑکنوں سے جڑی ہوئی… ” وہ کہتا چلا گیا, اسراء کے پاس کوئی جواب نہیں تھا
“میں شام کو آؤں گا…امی کو لیکر” وہ کھڑا ہوا گیا
………………………
اور واقعی شام کو وہ اس کے گھر پہنچ گیا تھا, روبینہ اس کے ساتھ تھیں, آمنہ اسے پہچان گئی تھیں
“بہن میں آج بھی وہی عرضی لیکر آئی ہوں جو… چھ سال پہلے لیکر آئی تھی…مجھے شافع کے لئے اسراء کا رشتہ دے دیں” روبینہ نے کہا
“چھ سال پہلے آپ کی بیٹی کی شادی کے بعد میں نے اس کی بھی شادی کر دی تھی لیکن…. وہ لڑکی… ” روبینہ نے انہیں سب کچھ بتا دیا, عمر فاروق بھی پاس ہی بیٹھے تھے, آمنہ بس خاموشی سے سن رہی تھیں
چھ سالوں میں یہ فرق آیا تھا… آج انہوں نے روبینہ کی پوری بات سنی تھی
“دو بچے ہیں اس کے… ایک بیٹی اور ایک بیٹا… دونوں سکول جاتے ہیں, ایک چھوٹا بیٹا ہے میرا… وہ بھی اجڑ گیا ہے…میں جانتی ہوں کہ سننے میں بہت عجیب لگتا ہے کہ میرے دونوں بیٹے ہی اپنی بیویوں کو نہیں بسا سکے لیکن… کوشش پوری کی ہے بہن… باقی ان کا مقدر” وہ کہتی چلی گئیں
“بہن… بات تو آج بھی وہی ہے, ہم لوگ برادری سے باہر شادیاں نہیں کرتے” آمنہ نے کہا
“آنٹی… جو چاہے قسم لے لیں, اسراء کی سیفٹی کے لئے جو چاہے لکھوا لیں, میں آپ لوگوں کی ہر ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے تیار ہوں… گھر, گاڑی, پیسہ… جو آپ کہیں… مجھ سے اسراء کی خوشیوں کے بدلے جو وعدہ لینا چاہیں لے لیں..میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میرے بچوں کو اس کی ضرورت ہے, وہ تو خدا نے پال دیئے…میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے اسراء کی ضرورت ہے… آنٹی میں… میں بہت محبت کرتا ہوں اس سے… محبت سے زیادہ عزت کرتا ہوں اس کی… میرے ہوتے کبھی جو اس کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں تو بھلے ہی روز محشر میرا گریبان پکڑ لیجیے گا” شافع کہتا چلا گیا تھا… لحجے میں منت ہی منت تھی, اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ آمنہ کے آگے ہاتھ جوڑ دیتا
“اچھا ٹھیک ہے.. سوچنے دیں ہمیں” آمنہ نے کہا
“بہن میرے گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے سواۓ ایک اچھی بہو کے… میں نے اپنی زندگی کے ترپن سالوں میں اگر کبھی شافع کو مسکراتے دیکھا ہے تو صرف آپ کی بیٹی کے ذکر پر… صرف اس کے نام کی ہی مسکراہٹ دیکھی ہے میں نے اپنے بیٹے کے لبوں پر…. میں جھولی پھیلا کر آپ سے اپنے بچے کی خوشی مانگ رہی ہوں… ” روبینہ نے التجا کرتے ہوئے کہا تھا
……………………….
اس دن راۓ عبید آۓ تھے, ایک بار پھر وہ کافی دیر اسماء کو سمجھاتے رہے
“حدید نے بھی آج سامان اٹھا لیا ہے… بس چند ہی چیزیں رہ گئی ہیں, وہ بھی کل لے جاۓ گا” انہوں نے کہا
“اپنے گھر لے کر جاۓ گا غاشیہ کو ؟؟؟” آمنہ نے پوچھا
“ہاں… بڑا زبردست گھر تیار کروایا ہے اس نے, میں کل دیکھ کر آیا ہوں” وہ بولے
“اس کے بچے کیسے ہیں ؟؟؟”
“ٹھیک ہیں… جب غاشیہ آ جاۓ گی تب دیکھنے جاؤں گا” وہ دھیرے سے بولے تھے
“اسماء پتر…. وہ تیرا گھر ہے بچے, تو مالکن ہے اس گھر کی, عورت کے بنا کوئی گھر گھر ہوتا ہے بھلا… جس کے پیچھے تو ناراض ہو کر بیٹھی ہے وہ تو حدید کے ساتھ خوشی خوشی اپنے گھر شفٹ ہو رہی ہے, ارمغان اور انیتا بھی خوش ہیں… پھر تو کیوں ایویں اپنا گھر خراب کر رہی ہے… ” انہوں نے کہا
“صمد کو کوئی فکر نہیں ہے میری ؟؟” وہ آنسوؤں کے ساتھ چھلک ہی پڑی
“ایسے ہی نہیں ہے… تو اس کے بچوں کی ماں ہے… اس کی بیوی ہے… آٹھ سالوں سا ساتھ ہے تم دونوں کا…یہ کیا بات ہوئی بھلا کہ اسے تیری فکر نہیں ہے” انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“چل میرا پتر میرے ساتھ… وہ تیرا گھر ہے, تیرے بچے ہیں وہاں, تیرا شوہر ہے… چل ” وہ بولے, اسماء نے ایک نظر آمنہ کو دیکھا
“مجھے میری تینوں بیٹیاں ہی سکھی دیکھنی ہیں… ” انہوں نے کہا
وہ اسی شام ان کے ساتھ واپس آ گئی تھی… حدید واقعی اپنا پورشن خالی کر گیا تھا
……………………….
“شافع میں پہلے جیسی نہیں رہی… ” رات میں اسراء کو اس کی کال آئی تھی
“تو میں کونسا پہلے جیسا ہوں… دو بچوں کا باپ ہوں میں ” وہ شاید مسکرایا تھا
مجھے نہیں لگتا امی مانیں گی ؟؟؟” وہ بولی
“تم منا لو… ” وہ بولا تھا, اسراء خاموش رہ گئی
“اسراء… یار پلیز اس بار تھوڑا سا ساتھ دے دو میرا” وہ منت کے سے انداز میں بولا تھا
آمنہ اس بار بھی ہچکچا رہی تھیں… عمر فاروق تو خوش ہی بہت تھے, اذن کی راۓ بھی باپ والی ہی تھی, شافع میں آخر کمی ہی کیا تھی ؟؟؟ اسماء البتہ بالکل خاموش تھی
“اسراء کی زندگی ہے… اسی سے پوچھ لیں” اس نے ببانگ دہل کہہ دیا تھا
“ہماری ذات کا نہیں ہے وہ اسماء… ” آمنہ کو بس یہ ہی کانٹا حلق میں پھنستا محسوس ہوتا تھا
“جو ہماری ذات سے تھا… فیملی سے تھا… اس نے کیا کیا امی ؟؟؟ پلٹ کر پوچھا تک نہیں…ذات برادری نے کونسا سکھ دیا ہے ہمیں…” اسماء نے کہا
“تیرے ابو تو راضی ہیں بالکل… “
“وہ تو پہلی بار بھی راضی تھے… ” اسماء نے کہا
“یہ ذات برادری والا چکر نا ہوتا تو میری اسراء آج کتنا خوش ہوتی… ؟؟؟” وہ تھیں تو آخر کو ایک ماں ہی نا… انہوں نے اسراء کو ہی بلوا لیا
“تو کیا کہتی ہے… ؟؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“میرا کہا مانیں گی آپ ؟؟؟؟” اس نے جواباً پوچھا تھا, آمنہ بس اسے دیکھتی رہ گئیں
“اسے ہاں کر دیں… ” اسراء نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا
“عمر… پھر کیا سوچا آپ نے ؟؟؟” آمنہ بس راضی ہو ہی چلی تھیں
“ابھی بھی سوچنے کی کوئی کسر ہے آمنہ… میں نے وہی سوچا ہے جو چھ سال پہلے سوچا تھا… میں شاید اسی دن اس لڑکے کو ہاں کر دیتا صرف تمہاری وجہ سے رک گیا کہ چلو پہلے تم اپنے دل کو سمجھا لو” انہوں نے کہا
“عمر لیکن… “
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو آمنہ… میں ایک بار اپنی بچی کی خوشیاں تمہاری اس ذات برادری کی بھینٹ چڑھا چکا ہوں… دوبارہ نہیں چڑھاؤں گا, میں فیصلہ کر چکا ہوں… بھلے تم میرا ساتھ دو یا نا دو… تمہاری مرضی” انہوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا
وہ بھی دسمبر کی ایک ٹھٹھرتی سی شام تھی جب عمر فاروق اور آمنہ ان کے گھر آۓ… شافع گھر واپس آ چکا تھا, رافع بھی گھر پر ہی تھا, روبینہ تو ان دونوں کو دیکھ کر کھل اٹھیں تھیں
“ہمیں آپ کے بیٹے کا رشتہ قبول ہے بہن… آپ جب چاہیں نکاح کی تاریخ طے کرنے آ سکتی ہیں” آمنہ نے بھی اس بار ذات برادری کے مقابلے اپنی بیٹی کی خوشیاں چن ہی لی تھیں
……………………………..
جاری ہے