No Download Link
Rate this Novel
Episode 49
وہ سونے لیٹی تو سکرین پر چلتی aviator پر نظر ٹک گئی, ارمغان شاید وہی دیکھتے دیکھتے سو گیا تھا, اس نے تکئے سے ٹیک لگائی اور مووی میں منہمک ہو گئی, رات کے ساڑھے گیارہ کا وقت تھا جب وہ ختم ہوئی…. سکرین آف کرتے ہوئے اس نے لائیٹ بھی مدھم کر دی تھی, کمبل تان کر اس نے ارمغان کی طرف ہی کروٹ لے لی
“تم خوش ہو ؟؟؟”آج ہی تو اسراء نے پوچھا تھا
“ہاں… “
“تو پھر ابھی تک کوئی نشانی کیوں نہیں ظاہر ہوئی تم دونوں کی ؟؟؟” اس نے پوچھا تھا, آخر کو چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا, اگر وہ خوش تھی تو ابھی تک اپنے برابر میں لیٹے شوہر سے اتنی دور کیوں تھی
وہ بغور اسے دیکھنے لگی… جانے انجانے میں ہی اس کا اور حدید کا موازنہ کرنے لگی
اسے حدید کیوں اچھا لگتا تھا ؟؟؟ کیونکہ اسے حدید سے محبت تھی
اور ارمغان کیوں برا لگتا تھا ؟؟؟
اس بات کا دل کے پاس کوئی جواب نہیں تھا… وہ شاید اسلیے برا لگتا تھا کیونکہ اس نے بچپن سے سب کو اسے برا کہتے ہی سنا تھا… شاید اسلیے کہ اس کی ماں اور بڑی بہن کو وہ برا لگتا تھا
لیکن کیا واقعی وہ برا تھا ؟؟؟
“اس نے آج تک تمہارے ساتھ کیا برا کیا ؟؟؟ بس یہ کہ تم سے خاموش محبت کرتا رہا… بس یہ کہ ہر بار تمہارے ہاتھوں ٹھکرایا جاتا رہا…
اس نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اس کے ماتھ پر رکھا تھا.. اور اس کے بکھرے بکھرے سے بالوں کو سمیٹ دیا تھا
وہ حدید سے زیادہ خوبصورت تھا… اس میں کوئی شک نہیں تھا
لیکن جانتے ہو اس کی اصل خوبصورتی کیا تھی… ؟؟؟ یہ کہ وہ انیتا راۓ سے محبت کرتا تھا… یہ جانتے ہوۓ بھی کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی…
انیتا کی انگلیاں اس کے ماتھے کو چھوتی ہوئی دھیرے سے اس کے چہرے پر اتر آئیں… اس کے لمس کے زیر اثر ارمغان ہلکا سا کسمسایا تھا, انیتا کی انگلیاں اس کے لبوں پر آ کر ٹہر گئیں, ارمغان نے آنکھیں کھولی تھیں… خمار ہی خمار چھلک رہا تھا, بہت محبت سے, بہت نرمی سے اس نے انیتا کی شہادت کی انگلی کو اپنے لبوں سے چھوا تھا
اس نے درمیانی انگلی بھی اسی جگہ رکھ دی… ارمغان نے اسے بھی لبو سے لگا لیا…. ایک کے بعد ایک وہ ساری انگلیاں اس کے لبوں سے لگاتی چلی گئی تھی, ارمغان نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لے لیا
آنکھیں بند کئے وہ بے خودی میں اس کا ہاتھ چومتا چلا گیا تھا… ہتھیلی, انگلیاں, پشت… کلائی
“ایم سوری… ” انیتا نے دھیرے سے کہا, ارمغان نے اس کا ہاتھ اپنے دل پر رکھا تھا
“یہاں رکھا ہے تمہیں… ہمیشہ یہیں رکھوں گا… ” سرگوشی میں کہتے ہوئے ارمغان نے اپنا بازو اس کی جانب کھول دیا تھا, انیتا نے بڑے حق سے اپنا سر اس کے بازو پر رکھ دیا
“میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں ارمغان… ” وہ بہت مضبوطی سے اس کے گلے میں دونوں بازو ڈال کر بولی تھی اور ارمغان کا حلقہ اس کے مرمریں وجود کے گرد تنگ ہوتا چلا گیا تھا
…………………………….
وہ برتن دھو رہی تھی جب اسے باہر سے کھٹر پٹر کی آوازیں سنائی دیں, تینوں بچے سکول گئے ہوۓ تھے اور صمد سٹور پر تھا, اسے آۓ ہوۓ دو دن ہو گئے تھے اور صمد نے ان دو دنوں میں اس سے کوئی بھی بات نہیں کی تھی… نا ہی اسماء نے اسے کچھ کہا تھا
اب بھی وہ باہر نکلی تو اسے باہر حدید کی شکل نظر آئی تھی
راۓ عبید بھی باہر ہی کھڑے تھے, وہ شاید اپنا باقی کا سامان لینے آیا تھا, کچھ دیر بعد وہ دو لڑکوں کے ساتھ اندر آ گیا, اسماء اسے دیکھ کر چپ چاپ کچن میں چلی گئی تھی
کچھ دیر بعد اسے اپنے پیچھے آہٹ محسوس ہوئی
“بھابھی… ” حدید اس کے پیچھے کھڑا تھا
“وہ… میں نے پچھلے دنوں جو بھی بدتمیزی کی اس کے لیے سوری… یقین کریں میں بہت زیادہ پریشان تھا… ” وہ نظریں جھکا کر بولا تھا, اسماء دم بخود سی رہ گئی
کیا واقعی اتنا آسان ہوتا ہے کسی سے معذرت کرنا… اپنے روئیے کی… اپنی غلطی کی ؟؟؟
“خدا کا شکر ہے آج… میرے بچے سلامت ہیں, میری بیوی سلامت ہے… جو بھی برا لگا ہو معاف کر دینا پلیز… ” وہ کہتا جا رہا تھا, کہہ کر پلٹ گیا
اسماء ششدر سی کھڑی تھی… پھر یکدم ہی کچن سے باہر نکلی
“حدید… ” اس کی آواز پر وہ رک گیا
“جی بھابھی…. ” ایک بار پھر وہ اس کے سامنے اسی عزت سے کھڑا تھا جو وہ ہمیشہ اسے دیتا آیا تھا
“میں نے جو بھی کیا… وہ… “
“اٹس اوکے.. رہنے دیں…. ” حدید نے اس کی مشکل آسان کی تھی, وہ بس چپ چاپ کھڑی رہ گئی
اس سے معافی مانگ کر کیا وہ چھوٹا ہو گیا تھا ؟؟؟ نہیں… وہ تو شاید اپنے پورے قد سے اور بڑا ہو گیا تھا
دوپہر میں وہ انتظار ہی کرتی رہی, صمد بچوں کو دروازے پر اتار کر ہی واپس چلا گیا تھا
رات کو گھر واپس آیا… اسماء کمرے میں ہی تھی, وہ چپ چاپ جوتے اتار کر الماری کی طرف بڑھ گیا
“میں نے کپڑے اندر لٹکا دیئے ہیں… ” اسماء نے کہا لیکن وہ سنی ان سنی کرتا ہوا الماری سے کپڑے نکال کر واش روم میں گھس گیا
باہر نکلا تو وہ پھر بول پڑی
“کھانا لگا دوں… ؟؟؟” وہ بولی, صمد نے بس اسے گھور کے دیکھا تھا اور باہر نکل گیا, اسماء بھی اس کے پیچھے ہی باہر نکل آئی
وہ اپنے لئے خود ہی کھانا نکال رہا تھا
“صمد میں نکال دیتی ہوں کھانا… ” وہ بولی
“میں پچھلے چار ماہ سے خود ہی کھانا نکال رہا ہوں… آج بھی نکال لوں گا” صمد نے ذرا سختی سے کہا تھا, اسماء خاموش کھڑی رہ گئی, وہ کھانا کھا کر کمرے میں چلا گیا تھا, اسماء نے چاۓ بنائی اور دونوں کے کپ لیکر کمرے میں آ گئی, اس کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور خود اس کے برابر میں آ بیٹھی
آٹھ سالوں میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ صمد اس سے ناراض تھا, ہمیشہ وہ اس پر غالب رہی تھی, ہمیشہ اس نے صمد پر اپنی چلائی تھی اور صمد ہر بار خوشی سے زیر ہوا تھا…وہ اس کے ساتھ خوش تھا, وہ اس کے تین بچوں کی ماں تھی, بچے بھی سنبھالتی تھی, گھر بھی دیکھتی تھی, صبح دوپہر شام تازہ کھانا پکا ملتا تھا, دھلے ہوئے کپڑے, پریس کئے ہوئے, اس کے جوتے تک وہ پالش کر کے دیتی تھی
وہ بیچارہ پور پور اس کا وفادار تھا.. ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ اسے بلا رہی تھی اور صمد خاموش تھا
“صمد… ” اسماء اس کے قریب ہو گئی, پھر اس کا ہاتھ تھام لیا
“صمد ایم سوری… پلیز” وہ بولی تو صمد نے اس کی طرف دیکھا
“غلطی ہو گئی مجھ سے… معاف کر دیں پلیز… ” آنکھوں میں آنسو چمک آۓ تھے
“تمہیں چار ماہ بعد یاد آیا کہ تم سے غلطی ہو گئی” وہ بولا, اسماء نے سر جھکا لیا
“غلطی ہو گئی تھی نا… تو گھر چھوڑ کر کیوں گئیں ؟؟؟ اسی لمحے شرمندہ کیوں نہیں ہوئیں… ؟؟؟ اور چلی ہی گئیں تھیں تو واپس آ جاتیں… چار ماہ…. اسماء چار ماہ تمہارے لئے وہ غلطی ہم لوگوں سے زیادہ اہم تھی…چار ماہ تم مجھے اور بچوں کو اس غلطی پر قربان کر کے بیٹھی رہیں…. ” صمد یکدم ہی پھٹ پڑا تھا
“صمد سوری…. سوری” وہ اس کا بازو پکڑ کر, اس کے کندھے پر سر رکھ کر رو پڑی تھی
“مجھ سے غلطی ہوئی تھی تو اسی لمحے معافی مانگی تھی تم سے… کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ میرا کہاں گزارہ ہوتا ہے تمہارے بغیر… ؟؟؟ میرا تو گھر بیابان ہو جاتا ہے تمہارے بنا… اسی لئے میں نے تمہارا پیچھا نہیں چھوڑا اور تم… اسماء تمہیں ذرا احساس نہیں ہوا کہ میں اور بچے کیا کریں گے تمہارے بنا… ” اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے اسماء کے کندھوں کے گرد بازو پھیلایا تھا
“میں… کبھی نہیں جاؤں گی اب… پکا وعدہ ” وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی تھی, صمد نے بہت محبت سے اسے خود سے لگا لیا تھا
……………………………..
نفیس نے پرانا گھر بیچ دیا تھا… اور ان پیسوں سے دونوں لڑکیوں کا جہیز بنا کر انہیں رخصت کرنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں, کچھ دن پہلے ہی ان دونوں نے ثناء کا بھی رشتہ طے کر دیا تھا, باقی پیسوں سے کچھ قرض چکایا تھا اور کچھ ایڈوانس رقم دے کر ایک کراۓ کا گھر لے لیا تھا, صفوان ہمیشہ کی طرح گھر میں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھا تھا… فرحان کا ایم کام مکمل ہو گیا تھا اور اسے ایک گیمنگ سٹوڈیو میں جاب مل گئی تھی, وہ تو اب کبھی کبھار ہی گھر چکر لگاتا تھا, اس کے چار پانچ دوستوں نے مل کر ایک چھوٹا سا گھر کراۓ پر لے رکھا تھا
وہ بھی ایسی ہی ایک شام تھی جب سیٹھ بابر کی لمبی سی گاڑی نفیس کے کراۓ والے مکان کے سامنے آ کر رکی, ساجد بھی اس کے ساتھ تھا
“باپ کہاں ہے تیرا ؟؟” سیٹھ بابر وہیں صحن میں پڑی چارپائی پر ہی بیٹھ گیا تھا, نفیس اور فرزانہ اندر سے نکل کر آ گئے, دونوں لڑکیوں کو اس نے اندر ہی بند کر دیا تھا
“طلاق ہو گئی تیری پوری… ” اس نے پوچھا
“جی سیٹھ جی… ” وہ سر جھکا کر بولا
“تیری اس معشوقہ کی عدت بھی پوری ہو گئی ہے… اس کے شوہر نے بھی اسے فارغ کر دیا تھا… اب بتا آگے کیا کرنا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“میں سمجھا نہیں سیٹھ صاحب؟؟؟” وہ بولا
“تیرے جیسوں کا اکیلا رہ کر گزارہ نہیں ہوتا لڑکے… میری بات کان کھول کر سن لے, اگلے ہفتے تیرا اور فرح کا نکاح ہے… ” سیٹھ بابر نے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا
“لیکن سیٹھ جی…. ؟؟؟” نفیس نے کچھ کہنا چاہا
“لیکن کیا ؟؟؟” سیٹھ نے دھواں اڑاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا
“نہیں کرنا لڑکے کا نکاح ؟؟؟” اس نے درشتی سے پوچھا تھا
“نہیں…ٹھیک ہے سیٹھ جی…. ” اس نے سر جھکا لیا
“بھٹے کے قریب ہی میں نے پانچ مرلے کا گھر خریدا ہوا ہے, وہ فرح کے نام پر ہے, نکاح کے بعد تم دونوں وہیں رہو گے….سمجھا ؟؟؟” وہ بولا
“جی سیٹھ جی… ” صفوان نے سر جھکا لیا
“اسی کو ساتھ لیکر بھاگا تھا نا تو… بقول تیرے بڑی محبت تھی نا تجھے اس سے… تو بس میں تم دونوں کی محبت کو امر کر رہا ہوں…اگلے ہفتے تم دونوں کا نکاح ہو جاۓ گا, میں فرح کا سارا سامان اس گھر میں شفٹ کروا دوں گا, صبح اٹھ سے شام پانچ بجے تک تو بھٹے پر نوکری کرے گا اور اس کے بعد گھر پر رہا کرے گا… خبردار… جو بھٹے یا گھر کے علاوہ تو مجھے کہیں اور نظر آیا… تیری دونوں ٹانگیں توڑ کر رکھ دوں گا” وہ کہتا چلا گیا
“سیٹھ جی… میرے ماں باپ… ” وہ ہولے سے منمنایا تھا
“تیرے باپ کی دوکان ہے نا… یہ گھر بھی ہے کراۓ کا… یہاں رہیں گے دونوں… دل کرے تو مل لیا کرنا, پہلے تو نے بڑا سکھ دیا ہے انہیں جو اب ان کی فکر ہو رہی ہے… ” وہ کہتے ہوئے نفیس کی طرف مڑا
“یہ جو میں کر رہا ہوں.. تیرا بھلا ہے اس میں نفیس ملک… یہ بندھا ریے گا تو ٹھیک رہے گا, کھلا چھوڑ دیا تو پھر تیرے سفید سر میں مٹی ڈالتا پھرے گا” وہ کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا تھا
“اگلے ہفتے…. ٹھیک ہے ؟؟؟” سیٹھ بابر نے صفوان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا, وہ بس سر جھکا کر رہ گیا تھا
…………………………..
وہ شاور لیکر باہر نکلی تھی, گیلے بالوں کو تولئے میں لپیٹا ہوا تھا…ہیٹر آن کرتے ہوئے اس نے ارمغان کے اوپر سے کمبل کھینچ دیا
“اٹھ کے نہا لو… میں نے گیزر آن کر دیا ہے” وہ بولی تھی
“میں تو نہیں نہا رہا ابھی… اتنی سردی میں… ویسے ہی فوت ہو جاؤں گا میں” وہ بالکل ہی کمبل میں دبک گیا, اس سے پہلے کہ انیتا اسے کچھ کہتی, اس کا موبائل بج اٹھا… اسراء کی کال تھی
“ہیلو… “
“انیتا… امی نے بات کرنی ہے تیرے سے ” وہ ہنسے جا رہی تھی
“کیا ہوا ؟؟” وہ ارمغان کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئی
“انیتا بچے کیسا ہے تو ؟؟؟” آمنہ کی آواز آئی تھی
“ٹھیک ہوں امی… “ارمغان نے دھیرے سے اسے اپنے کمبل کے اندر کر لیا تھا
“انیتا… تو خوش ہے نا… ؟؟؟”
“جی امی… “
“اسراء بتا رہی تھی کہ ارمغان بہت زیادہ بیمار رہتا ہے…. کیا ہے اسے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“امی کچھ نہیں… بس کولڈ الرجک ہے اسے… زکام وغیرہ ہو جاتا ہے سردیوں میں” انیتا نے کہا, آمنہ کی آواز باہر تک آ رہی تھی
“اچھا… انیتا بچے ویسے تو ٹھیک ہے نا وہ ؟؟؟ آمنہ نے پوچھا
“کیا مطلب ؟؟؟” وہ سمجھ نا سکی, اسراء کی ہنسی مسلسل سنائی دے رہی تھی
“میرا مطلب… فیملی تو بنا لے گا نا…. ادھر تو کوئی مسئلہ…. ” انیتا نے سرخ پڑتے ہوۓ ان کی بات کاٹ دی
“جی امی… ٹھیک ہے” وہ بولی, ارمغان کو بس لفظ فیملی سمجھ آیا تھا, اس نے ایک دم کمبل سے باہر منہ نکالا
“امی.. آپ پریشان نا ہوں… سب ٹھیک ہے” انیتا نے کال کٹ کرتے ہوئے کہا تھا
“کیا کہا خالہ نے ؟؟؟” وہ اس کی گود میں سر رکھتے ہوئے بولا
“کچھ نہیں…. اٹھ کے نہا لو” وہ رخ موڑ کر بستر سے اتر گئی تھی
………………………….
“تائی… مجھے ایک بار شافع سے ملنے دیں پلیز… بس ایک بار” فرح نے دہائی ڈالی ہوئی تھی, سیٹھ بابر نے اسے اگلے ہفتے اس کے ہونے والے نکاح کے بارے میں بتا دیا تھا, شافع نے اس کا سارا سامان بھی واپس بھجوا دیا تھا
“فرح تیرا کیا رشتہ ہے اب اس سے… وہ طلاق دے چکا ہے تجھے” رضیہ بھی آخر کو عورت تھی, اس کا رونا پیٹنا کہاں تک برداشت کرتی… ؟؟؟
“وہ بہت اچھا ہے تائی… وہ ہمیشہ مجھے معاف کر دیتا ہے… اس بار بھی کر دے گا” فرح نے کہا
“اس بار نہیں کیا اس نے تجھے معاف…” رضیہ نے کہا
“مجھے بس ایک بار لے چلیں اس کے پاس… بس ایک بار… ” اور اس کی ضد سے مجبور ہو کر رضیہ بابر کو بتاۓ بغیر اسے روبینہ کے گھر لے آئی تھی
دروازہ رافع نے کھولا تھا
“رافع… اپنے بھائی کو بلاؤ… مجھے ایک بار اس سے بات کرنی ہے…. اسے کہو ایک بار میری بات سن لے…کہاں ہے وہ ؟؟؟” فرح کا کوئی حال نہیں تھا, رافع نے چپ چاپ شافع کو بلا لیا تھا, فرح یکدم روتے ہوئے اس کے قدموں میں گر گئ تھی
“شافع ابو میرا نکاح صفون سے کر رہے ہیں… پلیز شافع… میری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دو پلیز…. مجھے اس سے نکاح نہیں کرنا ” وہ کہتی چلی گئی, روبینہ بھی ایک طرف خاموش کھڑی تھیں, رضیہ, فرح کے پیچھے کھڑی تھی
“فرح… ” شافع نے اسے دونوں بازوؤں سے اٹھا کر کھڑا کیا تھا
“میری بات کان کھول کے سننا… ایک شوہر بیوی کا ہر جرم معاف کر دیتا ہے لیکن بے وفائی معاف نہیں کرتا… اور میں نے وہ بھی کی ہے… میں نے نہ جانے کتنی ہی بار تمہاری بے وفائی معاف کی ہے… لیکن میں بھی انسان ہوں… میرا ظرف اتنا بڑا نہیں ہے کہ کسی اور کو اپنا حق دینے والی عورت کو معاف کر سکوں…. تمہارے لئے وہی بہتر ہے… کیونکہ وہ تم جیسا ہے, خدا نا کرے کبھی تم پر میرے جیسا وقت آۓ لیکن… جب آۓ گا تو تمہیں اندازہ ہو گا” وہ کہتا چلا گیا
“میرے نکاح کی تاریخ طے ہو گئی ہے… دوبارہ یہاں مت آنا” وہ واپسی کے لئے مڑا تھا
“شافع میں تمہارے بچوں کی ماں ہوں… بھلے ہی اپنی بیوی کو معاف نہ کرو, اپنے بچوں کی ماں کو ہی معاف کر دو… پلیز… ” اس کی بلکتی ہوئی آواز نے شافع کے قدم روک لئے تھے
…………………………….
وہ کھانا کھا کر اوپر آ گیا… اس کے دونوں جگر گوشے چار ماہ کے ہو چکے تھے, کافی دیر وہ ان دونوں کے ساتھ لگا رہا… بے سروپا باتیں, لا تعداد چمیاں… پپیاں
“میں کہاں سوؤں گا سرکار ؟؟؟” اس نے اندر آتی غاشیہ سے پوچھا تھا
“حدید میں سوچ رہی ہوں تمہیں یہاں ایک چارپائی ڈال دوں… کیا خیال ہے ؟؟؟” غاشیہ کے کہتے اس کی آنکھیں پھیل گئیں
“میں اور بچے بیڈ پر… اور تم چارپائی پر” وہ بولی
“تم ایسا کرو… یہ مہربانی بھی رہنے دو, تم میری چارپائی باہر گیراج میں ڈال دو… میں چوکیدار بن جاتا ہوں تمہارا, میری ضرورت ہی کیا ہے اب تمہیں… ” وہ اچھا خاصا برا منا گیا تھا, یکدم ہی بستر سے نیچے اتر گیا
“اچھا سنو تو… مذاق کر رہی تھی” غاشیہ نے اس کا بازو پکڑا تھا
“رہنے دو… چھوڑ دو مجھے, دور ہو جاؤ” حدید نے اپنا بازو چھڑوانا چاہا
“چھوڑ تو دیا تھا… پھر واپس کیوں آۓ ؟؟؟” غاشیہ نے دونوں بازو اس کی گردن میں ڈال دیئے
“کیونکہ تمہارے بنا کچھ بھی نہیں ہوں میں… ” حدید نے اسے شکوہ کناں نظروں سے دیکھا تھا
“تم مجھے کتا بنا کر گھر سے باہر بھی بٹھا دو گی تو بیٹھا رہوں گا میں… کیونکہ تم میری بیوی, اور میرے بچوں کی ماں ہونے سے بھی بہت پہلے… میری محبت ہو” وہ بولا
“اچھا ایم سوری… تمہاری چارپائی الگ کر کے بھی تمہارے پہلو میں تو میری جگہ ہی رہے گی نا… حدید میں بھی کچھ نہیں ہوں تمہارے بنا” غاشیہ نے دھیرے سے اس کے لبوں کو چھوا تھا
“اتنے سے کام نہیں چلے گا… میرا دل دکھایا ہے تم نے… اب مرہم رکھو اس پر” حدید نے اسے دونوں بازوؤں میں اٹھا لیا تھا
…………………………………
“انیتا…. ” وہ نیچے ڈائننگ کے پاس کھڑی تھی جب اپنے پیچھے ارمغان کی پکار سن کر پلٹی
“جب تم مجھے اس لحجے میں پکارتے ہو نا.. تو پکا تم پر کوئی مصیبت نازل ہو چکی ہوتی ہے…. کیا ہوا ہے ؟؟؟” وہ بولی
“میری آنکھ میں کچھ گر گیا ہے… دیکھنا ذرا” وہ اپنی دائیں آنکھ اس کے سامنے کرتے ہوئے بولا, اس میں سے بھل بھل پانی بہہ رہا تھا
“یہاں بیٹھو… ” وہ کرسی کھینچتے ہوۓ بولی, بڑے جتنوں سے اس نے ارمغان کی آنکھ سے بال نکالا تھا
“تھینک یو… ” اس کی آنکھ اچھی خاصی لال ہو گئی تھی
“تم ساری عمر ایسے چھوئی موئی ہی رہو گے کیا ؟؟؟” انیتا دھیرے سے مسکرائی تھی, ارمغان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تو وہ اس کی گود میں گر گئی
“کل خالہ کیا کہہ رہی تھیں… ؟؟” وہ وہیں اٹکا ہوا تھا
“کچھ نہیں… ” وہ بولی
“بتا دو… ” ارمغان نے اس کے کندھوں کے گرد اپنا بازو لپیٹ کر اسے خود پر جھکا سا لیا, دائیں ہاتھ سے اس نے انیتا کے بالوں میں لگا کیچر کھینچا تھا, خوشبوؤں کا ایک جھونکا تھا جو اس کی سانسوں میں گھلتا چلا گیا, مخمور ہو کر اس نے اپنے لبوں سے انیتا کے لبوں کو چھونا چاہا لیکن….
اسی لمحے ایک زور دار چھینک نے سارا کام خراب کیا تھا… انیتا بس ششدر سی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی
“سوری… سوری… ” وہ بے پناہ شرمندہ تھا, انیتا یکدم ہی ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر چہرہ ٹکا گئی تھی
“پتہ نہیں میرا کیا بنے گا ارمغان… ” وہ بس ہنستی جا رہی تھی
“خالہ نے کیا کہا تھا…. بتا دو ؟؟؟” ارمغان نے اسے بازوؤں میں بھر لیا
“وہ پوچھ رہی تھیں کہ یہ بیماریوں کا گھر فیملی تو بنا لے گا نا ؟؟؟” انیتا نے کہا, ارمغان بس اسے دیکھتا رہ گیا
“تمہیں کیا لگتا ہے.. ؟؟؟”
“لگتا تو نہیں ہے… ” اس کے کہتے ہی ارمغان کی آنکھیں پھٹ گئیں تھیں, وہ بس انیتا کے ہنسی سے پاگل ہوتے وجود کو دونوں بازؤؤں میں اٹھاۓ ناراض سا سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا
“اب کہاں لیکر جا رہے ہو ؟؟” وہ ہنستے ہوئے بولی تھی
“فیملی بنانے… کماز کم یہ دھبہ افورڈ نہیں کر سکتا میں اپنے اوپر “وہ کہتا جا رہا تھا
……………………………
ایک بار پھر فرزانہ تیمور ملک کے سامنے تھی, وہ انہیں حنا اور ثناء کی شادیوں اور صفوان کے نکاح کا بتانے آئی تھیں, وہ بس خاموشی سے سنتے رہے
“حنا اور ثناء کی بارات کا کھانا میں دوں گا… تو فکر نا کرنا” انہوں نے بس اتنا ہی کہا تھا
“مہربانی ہے آپ کی تیمور بھائی… ” وہ بولی, اس بار ساتھ فرحان آیا تھا
“تیمور بھائی… ایک بات پوچھوں ؟؟؟” فرزانہ نے فرحان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“ہاں… “
“ناشیہ کے بارے میں کیا سوچا ہے آپ نے ؟؟؟” وہ بولی
“اس کا نکاح طے کر دیا ہے میں نے… ” انہوں نے کہا
“کہاں تیمور بھائی ؟؟؟
“جہاں بھی کیا ہو ” وہ بولے
“ماموں جان.. آج امی کو میں لیکر آیا ہوں, حالانکہ انہوں نے. مجھے گھر ہی بتا دیا تھا کہ آپ کا کیا جواب ہو گا لیکن… میں پھر بھی لے آیا… ماموں جان میری netella میں جاب ہو گئی ہے… 60 ہزار سیلیری ہے… بونس اس کے علاوہ ہیں… میں نے ایک ہاؤسنگ سکیم کے تحت قسطوں پر گھر بھی بک کروا لیا ہے… ” وہ کہتا چلا گیا, فرزانہ کی اولاد میں اگر کوئی انسان کا بچہ تھا تو وہ وہی تھا
“ماموں.. اگر آپ برا نا منائیں تو… میں ناشیہ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں”وہ بڑی ہمت سے کہہ ہی گیا تھا
“ماموں… میں نے ہمیشہ ان کی بہت عزت کی ہے… اور کرتا رہوں گا, مجھے بھی معاذ اتنا ہی پیارا ہے جتنا طہٰ کو… جتنا خالد بھائی کو… وہ ہمارا خون ہے… میں اسے ہمیشہ دل سے لگا کر رکھوں گا… آپ چاہیں تو جیسے مرضی چھان بین کر لیں… ” وہ کہتا چلا گیا تھا, تیمور ملک بس شازیہ کو دیکھتے رہ گئے
“وہ جاب کرنا چاہیں تو ان کی مرضی, نہیں بھی کرنا چاہیں تو میں ان کا سارا خرچہ اٹھانے کو تیار ہوں…میں وعدہ کرتا ہوں ماموں کے ناشیہ نے جتنے دکھ اٹھانے تھے اٹھا لیے… میں مزید کوئی دکھ نہیں پہنچاؤں گا ” وہ کہتا جا رہا تھا
وہ اپنا تھا…بہت بہتر تھا… ناشیہ کو خوشی سے اپنانا چاہتا تھا
ان کے ماتھے کی لکیریں ذرا گہری ہو گئی تھیں
……………………….
وہ شام چھ بجے ہی گھر واپس آ گیا تھا…اوپر آیا تو زرقا ٹیرس پر تھی
“زرقا… ” اس کی آواز سن کر کمرے میں آئی
“اپنے کپڑے اور ضروری سامان پیک کر لو… اگر کچھ رہ بھی گیا تو میں بعد میں پہنچا دوں گا, یہ رہا تمہارا تیسرا نوٹس… میں نے طہٰ کو کال کر دی ہے…وہ تمہیں لے جاۓ گا” اذن اس کی طرف دیکھے بغیر گلے سے ٹائی اتارتے ہوئے کہتا جا رہا تھا, زرقا کو لگا جیسے وہ اب کبھی ہل نہیں سکے گی, بڑی مشکلوں سے اس نے اپنے آنسوؤں کو باہر آنے سے روکا تھا
“اسراء کا نکاح ہو لینے دیتے… ” وہ دھیرے سے بولی
“اسراء کے نکاح میں ابھی پندرہ دن باقی ہیں…. پہلے ہی یہ تیسرا نوٹس بارہ دن لیٹ ہو گیا ہے…” وہ بولا
“ہم نو بجے گھر سے نکلیں گے… طہٰ کو میں نے مال سے ذرا پیچھے بلایا ہے, وہاں سے وہ تمہیں لے جاۓ گا… ” وہ اپنی شرٹ اتارتے ہوئے واش روم میں گھس گیا تھا, زرقا بس خاموش سی کھڑی رہ گئی, رات ہوتے ہوتے اس کے موبائل پر طہٰ کی لا تعداد کالز آ چکی تھیں… اس نے ایک بھی نہ سنی
رات کا کھانا سب نے ایکساتھ ہی کھایا تھا, قریبی مہمانوں کی لسٹ ڈسکس ہو رہی تھی, ہر چہرہ مسکرا رہا تھا
وہ اندر ہی اندر گھٹنے لگی… آٹھ بجے اوپر آئی تو اذن اسے پھر سے پیکنگ کا کہہ کر باہر نکل گیا تھا, اس نے مارے باندھے اپنا بیگ باندھا… نوٹس وہیں پڑا رہ گیا تھا
پونے نو بجے وہ دوبارہ کمرے میں آیا تھا
“ریڈی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“زرقا ہاں بھی نہ کہہ سکی
“چلو… جلدی کرو” اس نے جیکیٹ پہنتے ہوۓ کہا, پھر جوتے پہننے لگا, زرقا نے خاموشی سے اپنی شال اٹھا لی تھی
“آؤ… ” وہ اس کا بیگ اٹھا کر نیچے چلا گیا, انتہائی راذداری سے اس نے زرقا کا بیگ باہر گاڑی میں رکھا تھا
“ابو… ” پھر اس نے عمر فاروق کے کمرے میں جھانکا
“میں اور زرقا ذرا باہر جا رہے ہیں… تھوڑی دیر تک آ جائیں گے” وہ بولا اور پھر اسے دیکھا
“آ جاؤ… ” وہ سیڑھیوں پر کھڑی تھی
“اذن…پیچھے سے کیا ہو گا؟؟؟” اس کی آواز میں واضح لڑکھڑاہٹ تھی
“قیامت آۓ گی… ” وہ سکون سے بولا تھا
“تم کیا کرو گے ؟؟” دو آنسو چمکے تھے
“وہی جو میں ہمیشہ سے کرتا آیا ہوں… ” وہ دو قدم چل کر اس کے قریب آیا
“تمہاری طرفداری… ” اس نے زرقا کا ہاتھ تھام لیا, گاڑی باہر کھڑی تھی
زرقا کو فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر اس نے گاڑی سٹارٹ کر دی… پورے نو بج رہے تھے جب وہ اپنے پیچھے اس گھر کو چھوڑ کر نکلی تھی
…………………………….
