No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
انتیسویں قسط
شازیہ نے ان کا بی پی چیک کیا تھا… وہ پرسوں سے بہت ہائی تھا
“یہ لیں… ” اس نے دوا اور پانی کا گلاس ان کی طرف بڑھا دیا, تیمور ملک نے گولی کھا کر بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا لی تھی
“ابو… بی مسلسل ہائی ہے آپ کا ” وہ ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی تھی
“اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے میں نے صفوان کو کسی اور کے ساتھ… صحیح معنوں میں رنگ رلیاں مناتے… شازیہ میرا بی پی کیسے نہ ہائی ہو ؟؟؟” وہ بے حد دکھی تھے
“کیا ساری آزمائشیں میرے لیے ہی ہیں.. ؟؟؟” وہ نا چاہتے ہوئے بھی شکوہ کر رہے تھے, شازیہ نے ان کا ہاتھ تھام لیا
“میں اپنے کس کس دکھ پر روؤں شازیہ… شاہ نور کا دکھ… تیرا دکھ… غاشیہ کا دکھ… ناشیہ کا دکھ…” وہ کہتے چلے گئے تھے… شازیہ چپ چاپ سی ان کے پاس بیٹھی تھی
وہ سیاہ کالی رات یکدم اس کی آنکھوں میں زندہ ہو گئی… آنسو… سسکیاں… چیخیں
اور پھر ایک مہربان آغوش… جو چند ہی لمحوں بعد ختم ہو گئی تھی
اس نے اپنی بند ہوتی آنکھوں سے صرف خون دیکھا تھا… اور جب آنکھ کھلی تو اپنا ہر شرف کھو دیا تھا
…………………………….
ابھی کچھ دیر پہلے ہی بانو کی تدفین ہوئی تھی, شافع بس تھوڑی دیر کے لئے روبینہ کو لیکر آیا تھا اور تدفین کے بعد واپس لے گیا تھا, ساجد اس سے بہت زیادہ اٹیچ تھا… وہ اس کا جنازہ اٹھتے ہی دہاڑیں مار مار کر رو دیا تھا… فرح کا کچھ پتہ نہیں تھا…بانو, سیٹھ بابر کے چچا کی بیٹی تھی
رات کے بارہ بج رہے تھے جب سیٹھ بابر اپنے کمرے میں داخل ہوا…. ہر طرف سوگواریت ہی سوگواریت تھی…وہ تھکا ماندہ سا اپنے بستر پر گر گیا
“مبارک ہو تجھے… اب تو بانو بھی چلی گئی…” رضیہ نے بڑے طنز سے کہا تھا, بابر چپ چاپ لیٹا رہا
“اب تو بس میں ہی رہ گئی ہوں…. تیرے گناہوں کی اکلوتی چشم دید گواہ… اب میرے مرنے کی دعائیں کر بابر… پھر کوئی ڈر نہیں ہو گا تجھے… نا تیرے بیٹوں کا… نا روبینہ کا… ” رضیہ کہتی چلی گئی
“رضیہ… ” بابر نے دھیرے سے کہا, رضیہ نے جیسے سنا ہی نہیں
“گڑیا… بانو نے کہا کہ…. گڑیا… ” وہ کہہ نہ سکا
“گڑیا تیری بیٹی کی ماں تھی… تیری اکلوتی فرح کی ماں” رضیہ نے جیسے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا
“اللہ کو سارا پتہ ہے بابر… وہ سب دیکھ رہا, وہ سب جانتا ہے, اسے کیا پتہ نہیں کہ کس کو کہاں ڈھیل دینی ہے… اور کس کی کہاں رسی کھینچ لینی ہے, وہ بھلا کیوں دیتا بانو اور صابر کو فرح جیسی اولاد…. ؟؟؟ اسے کیا پتہ نہیں کہ کون نیک ہے اور کون بد… ؟؟؟ اسی نے تیری رسی دراز کی تھی… پانچ بیٹوں سے نواز کر… اور اسی نے تیری رسی کھینچ لی… صرف ایک بیٹی دے کر… اس نے تجھے آزمایا… پانچ پانچ جائز بیٹے دے کر… اور تجھے لگا کہ تو جو کر رہا ہے وہ ٹھیک ہے…. وہ جائز ہے… تو اسی نے تجھے منہ کے بل گرا دیا… صرف ایک ناجائز بیٹی دے کر… میری آزمائش کے مجھے تجھ جیسا شوہر ملا… بے ایمان… بے وفا… بدکرادر… اور میرا صلہ کہ مجھے چار بیٹے ملے… باایمان… باوفا… باکردار… تو مجرم ہے بابر… تو نے اپنے بھائی کو قتل کیا… تو نے اپنے بیٹے کی جان لی… تو نے ایک بے گناہ کو استعمال کیا… تو نے ایک بے معصوم کو تباہ کیا…اور تو نے ایک ماں کو اجاڑ دیا… ” رضیہ اسے کسی کھائی میں گراۓ جا رہی تھی
“تیرا حساب بہت لمبا ہو گا بابر… تیرے گریبان پکڑنے والے بہت ہوں گے… کس کس سے بچے گا… ؟؟؟ ” وہ رو رہی تھی اور سیٹھ بابر جیسے کسی ملبے تلے دفن ہوتا جا رہا تھا
……………………………
وہ آج شام میں دونوں بچوں کو پارک گھمانے لے گیا تھا, اس ساری صورتحال میں بھلا ان دونوں کا کیا قصور تھا, راحم ڈھائی سال کا ہو گیا تھا, یہ بھی خدا کی قدرت تھی کہ اس کے دونوں بچے فطرتاً بہت ہی خاموش طبع سے تھے…. ہٹ دھرم اور ضدی نہیں تھے, پارک سے فارغ ہو کر وہ انہیں آئس کرم کھلانے لے گیا, رات گئے وہ انہیں کھلونوں اور سنیکس سے بھر کر گھر لایا تھا
“شافع کھانا لگاؤں ؟؟؟” روبینہ نے پوچھا
“نہیں امی… ” وہ کہہ کر اپنے کمرے میں گھس گیا, دونوں بچے رات دیر تک اس کے پاس ہی بیٹھے کھلونوں سے لگے رہے, وہ ایل سی ڈی چلا کر ریڈ نوٹس دیکھنے میں مگن ہو گیا… رات کے دس بج رہے تھے جب اس نے نیند سے جھولتے راحم کے منہ میں فیڈر دیا تھا, رحمہ بھی اس سے لپٹ کر لیٹ گئی, اس نے دھیرے سے ریموٹ اٹھا کر ایل سی ڈی آف کر دی, پھر موبائل اٹھا لیا… وہی روزمرہ کی کالز… کولیگز کے. میسیجز… کسٹمرز کی چیٹس
دونوں بچے اس کے ساتھ ہی لپٹے ہوئے سو گئے تھے
بہت دیر بعد اسے وہ نمبر ملا تھا… چار سالوں سے بلاکڈ نمبر… جسے اس نے ان بلاک کیا تھا
“Isra Roy… “
تا دیر وہ سکرین کو دیکھتا رہا… چار سال بیوی سے وفا نبھا کر کر کیا ملا تھا اسے ؟؟؟
کچھ دیر بعد اس نے کال ملا لی… رنگ ہوئی تھی… ہوتی گئی
اور پھر… وہی مانوس سی… میٹھی سی…. مدھم سی آواز ابھری
“کون… ؟؟؟” یعنی وہ اس کا نمبر ڈیلیٹ کر چکی تھی
“اسراء… ” شافع نے دھیرے سے پکارا… دوسری طرف خاموشی چھا گئی
“اسراء… رو کیوں رہی تھی ؟؟” اس کے پوچھنے کی دیر تھی… وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
“تمہارا نعم البدل بھی بس تم تھے… یعنی خسارہ در خسارہ ہے… ” وہ انسوؤں کے بیچ کہتی چلی گئی تھی
…………………………..
وہ رات دس بجے کے قریب گھر آیا تھا
“کھانا لگاؤں ؟؟؟” غاشیہ ابھی جاگ ہی رہی تھی, حدید نے کوئی جواب نہ دیا, چپ چاپ اپنی شرٹ اور ٹراؤزر اٹھا کر واش روم میں گھس گیا
“کھانا… ؟؟؟” وہ باہر نکلا تو غاشیہ پھر پوچھ بیٹھی… وہی سنی ان سنی
“اگر نہیں کھانا تو بتا دو… ” غاشیہ کی بس ہو گئی
“تو تم بھی بتا دو مجھے… ” حدید اس پر چڑھ دوڑا
“میں کیا بتاؤں ؟؟؟” وہ بولی
“جو اپنے اس عاشق سے کہتی رہتی ہو… چوبیس گھنٹے” حدید تڑخ پڑا
“حدید… خبردار جو اب ایک بھی اور غلط لفظ بولا تو… ” غاشیہ کو غصہ آ گیا
“اچھا… تم غلط کرو بھی اور کہو بھی.. واہ” وہ اٹھ کر اس کے سامنے آ گیا
“کیا غلط کیا ہے میں نے ؟؟؟” غاشیہ چیخ پڑی
“کون ہے وہ ؟؟؟” حدید اس سے زیادہ اونچا دہاڑا تھا
“مجھے نہیں پتہ… حدید خدا کی قسم مجھے نہیں پتہ… ” بے بسی سے وہ و پڑی تھی
“غاشیہ… اگر الگ ہونا ہے نا…. تو پلیز… یہ دیکھو میرے جڑے ہاتھ… مجھے بتا کر ہونا ” حدید نے واقعی اس کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے تھے
“حدید پلیز… ” وہ ایک دم اس کی طرف آئی اور اس کے ہاتھ پکڑنے چاہے جنہیں حدید نے زور سے جھٹک دیا تھا
………………………..
وہ اور اس کا ایک دوست کسی کام سے باہر نکلے تھے, واپسی پر ایک بج گیا, رافع نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا سو بائیک کا رخ فورٹریس کی طرف موڑ دیا
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی جب اسے اپنے پیچھے مانوس سی آواز سنائی دی… وہ ٹھٹھک گیا… یکدم مڑا, حریم عین اس کے پیچھے والی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی, اس کے برابر والی کرسی پر یقیناً اس کا امریکن پلٹ کزن بیٹھا ہوا تھا
اب وہ شافع انصاری تو تھا نہیں کہ چپ چاپ وہاں سے پلٹ جاتا.. دوست سے ایکسکیوز کرتے ہوئے اس نے اپنی کرسی موڑی اور کھینچ کر حریم کے بالکل برابر میں لے آیا… وہ دونوں یکدم ہی چونک گئے
“یہ کیا بدتمیزی ہے ؟؟؟” وہ لڑکا تڑخ گیا
“کیوں حریم… ؟؟؟ تم میرا تعارف کرواؤ گی یا میں خود کرواؤں ؟؟” رافع نے اسے مسلسل اگنور کیا تھا
“حریم کون ہے یہ… ؟؟؟” اسے غصہ آ گیا
“یہ…رافع ہے” حریم نے اٹکتے ہوۓ کہا تھا
“اوہ… ” وہ لڑکا چپ سا ہو گیا
“جانتی ہو… اس وقت تم پر بھی وہی دفع لگتی ہے جو تم پچھلے دو سالوں سے مجھ پر لگاتی آ رہی ہو” رافع کا لحجہ سخت ہو گیا
“علی میرا کزن ہے… ” وہ تڑخی
“اور میں تمہارا شوہر ہوں… ” رافع نے کہا
“سنو… فی الحال یہ اپنی امی کے گھر سے میرے ساتھ آئی ہے” علی نے کہا
“اوہ رییلی…” رافع زور سے ہنسا
“امی کے گھر جا کر قوائد و ضوابط بدل جاتے ہیں کیا… ؟؟؟ امی کے گھر جا کر آپ شادی شدہ ہونے کے باوجود جس مرضی الو کے پٹھے کے ساتھ منہ اٹھا کر ہوٹلنگ کرو… ” وہ غصے سے بولا تھا
“رافع… شٹ اپ” حریم دبا دبا سا چیخی
“یو… شٹ اپ… ” رافع بنا کسی کا لحاظ کیے چیخا اور اس کی کلائی تھام کر کھڑا ہو گیا
“جو میرے لئے غلط ہے نا حریم رافع… وہ تمہارے لئے بھی غلط ہی ہے… گھر چلو” وہ حریم کے ہر احتحاج کو نظرانداز کرتا ہوا اسے گھر واپس لے آیا تھا
……………………….
خالد کو یونیورسٹی سے اس سے کسی دوست کی کال آئی تھی, طہٰ کسی گینگ سے الجھ بیٹھا تھا اور جواباً انہوں نے اسے اچھا ہی رگڑ دیا تھا, خالد اسی وقت ہسپتال پہنچا, طہٰ ادھڑا ہوا سا بستر پر پڑا تھا, خالد بس تاسف سے اسے دیکھتا رہ گیا
“طہٰ یار کیا ہے ؟؟؟” وہ بولا
“خالد بھائی میرا دل کرتا ہے میں ہر شے کو آگ لگا دوں.. ” وہ چیخ پڑا
پچھلے ایک ماہ میں یہ چوتھی بار ایسا ہوا تھا, انتہائی خوش اخلاق اور دوستانہ مزاج رکھنے والا طہٰ ملک ایک جھگڑالو اور اکھڑ مزاج لڑکے میں ڈھل گیا تھا, بات بے بات لڑ پڑتا, آۓ روز کسی نہ کسی سے جھگڑا… کئی بار شازیہ کو اس کی سائید ٹیبل پر سے نیند کی گولیوں کی شیشی ملی, اس کے تکئے کے نیچے سے سگریٹ کی ڈبیا پڑی ملی… تیمور ملک کو ایک دم سے جوان بیٹے کی پریشانی نے بھی آن گھیرا تھا
وہ بھی ایک سرد سی شام تھی جب وہ دل میں کچھ ٹھان کر اذن سے ملنے چلا آیا… وہ ابھی آفس میں ہی تھا, طہٰ کو اپنے سامنے دیکھ کر ٹھٹھک گیا
“تم سے بات کرنی ہے… ” طہٰ نے دھیرے سے کہا تھا, اذن بس اسے دیکھ کر رہ گیا
صرف ایک ماہ میں اس کا حلیہ بدل گیا تھا, سفید رنگت میں سیاہی سی گھل گئی تھی, الجھے ہوئے بال, بڑھی ہوئی شیو… آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے… جامنی جامنی سے ہونٹ… بے نور سا چہرہ… زخموں سے بھرا ہوا… بازوؤں پر بھی جا بجا زخم اور خراشیں…ماتھے پر بندھی پٹی جو مستقل ہی بندھی رہتی تھی
“سگریٹ پینے لگے ہو ؟؟؟” اذن نے پوچھ ہی لیا
“حالانکہ میرا حق تو زہر پینے کا تھا… ” وہ بد اخلاق بھی ہو گیا تھا
“کیا منگواؤں ؟؟؟” اذن بے پوچھا
“اذن… ” وہ ذرا آگے کو ہوا
“وہ میری تھی…ہمیشہ سے… اور… وہ میری ہے…وہ” طہٰ سے مزید بولا نہ گیا
“وہ اب میری بیوی ہے… بس بات ختم” اذن نے کہا
“نہیں اذن راۓ… بات یوں ختم نہیں ہو گی…. بات اتنی جلدی ختم نہیں ہو گی… میرے ساتھ تو کھیل کھیل میں ہی دھوکا ہو گیا… میں تو وہاں ہسپتال میں ہی پڑا رہ گیا… ” طہٰ کہتا چلا گیا
“طہٰ… میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر انت میں میری اور زرقا کی شادی ہو گئی تو ہھر سب خود ہی اپنے اوپر فاتحہ پڑھ لیں گے” اذن نے کہا
“میں نہیں پڑھوں گا… میرے اوپر فاتحہ اس دن پڑھی جاۓ گی جس دن میں مر جاؤں گا” وہ بولا
“میرے پاس کیوں آیا ہے ؟؟؟” اذن نے پوچھا
“زرقا کو چھوڑ دو… ” طہٰ نے مضبوط لحجے میں کہا تھا
“ایم سوری… ” اذن نے صاف جواب دے دیا
“وہ تمہارے ساتھ خوش نہیں ہے اذن.. اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھنا… وہاں ابھی بھی طہٰ ملک کے ہی خواب رہتے ہیں” وہ اذن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہوا آفس سے نکل گیا تھا
…………………………
اس دن درید آیا تھا….راۓ عبید اس کے ساتھ تھے
اسراء کو بس اوپر جاتے ہوئے اس کی ایک جھلک نظر آئی تھی اور وہ اسے نظر انداز کئے سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی تھی, آمنہ اپنے کمرے سے نکل کر آئیں, عمر فاروق لاؤنج میں ہی تھے
“پھپھو… میں بہت شرمندہ ہوں, خدا کی قسم میں نے ابو کو بار بار کہا تھا کہ مجھے اسراء سے شادی نہیں کرنی وہ آپ لوگوں کو سچ بتا دیں لیکن… ابو نے نہیں بتایا… ” درید کہتا چلا گیا
“پھپھو میں نے ہر بار منع کیا… ہر بار کہا کہ اسراء کی زندگی برباد ہو جاۓ گی لیکن… ابو ڈر گئے… آپ سے, پھوپھاسے, لوگوں سے, دنیا سے… میں مانتا ہوں قصور میرا بھی یے لیکن… پھپھو مجھے میری زندگی میری زندگی میری مرضی سے گزارنے کا پورا حق تھا… اور یقیناً یہ حق اسراء کا بھی تھا لیکن… ” وہ رکا
“…لیکن تو نے یہ حق اس سے چھین لیا درید… تو مجھے بتاتا, اسراء کو بتاتا, اپنی پھپھو کو بتاتا… درید تو خود تو وہاں فیملی بنا کر بیٹھ گیا اور میری بچی… چار سال بہت ہوتے ہیں درید… چار سال میری بچی نے تیر انتظار کیا” عمر فاروق کا دکھ تازہ ہو گیا تھا
“میں صرف آپ سے معافی ہی مانگ سکتا ہوں پھوپھا… وہ میری فیملی ہے… میری بیوی, میرے بچے… میں انہیں نہیں چھوڑ سکتا” درید نے کہا
“تو بس پھر… اسراء کو چھوڑ دے” عمر فاروق نے کہا تھا, درید نے راۓ عبید کی طرف دیکھا
“آمنہ… اسراء اور درید کی شادی کو چار سال ہو گئے ہیں… بیوی ہے وہ اس کی… میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ درید ہر چھ ماہ بعد پاکستان آیا کرے گا اور اسراء کا پور حق ادا کرے گا, یہ پورے زور پر اس گھر کی بہو بن کر رہے گی, یہ اور اس کے بچے میری اور درید کی ذمہ داری ہوں گے… ” راۓ عبید کہتے چلے گئے
“عبید… تو مجھ سے ابھی اسی وقت شرط لگا لے… اگر یہ لڑکا اب کا گیا دوبارہ چھ سال بعد بھی لوٹ آیا تو ؟؟؟” عمر فاروق طنزیہ سا ہنسے تھے
“کیوں نہیں آۓ گا… ضرور آۓ گا” راۓ عبید نے کہا
“عبید… میری بچی کے ساتھ جو ہونا تھا سو ہو گیا, کاش کے میں اس کے چار سال واپس لا پاتا, قصور جس کا بھی ہے… معافی اس دن ملے گی جس دن میری بچی کے لبوں پر مسکراہٹ بکھرنے لگی… اس سے پہلے نہیں…تم لوگ صرف اتنا کرو کہ میری بچی کو آزاد کر دو” عمر فاروق نے کہا اور کھڑے ہو گئے
“آمنہ… درید ابھی مزید ہفتہ رکے گا, تم لوگ سوچ لو, اسراء میرے لئے زرقا کی طرح ہے… میں ہمیشہ اسے اپنی بیٹی بنا کر رکھوں گا” راۓ عبید نے کہا
“بیٹیوں کے ساتھ ایسا نہیں کرتے عبید بھائی جیسا آپ نے کیا… بیٹیوں کو جھوٹ بول. کر نہیں بسایا جاتا” آمنہ نے سرد سے لحجے میں کہا تھا
“آمنہ… وہ درید کی بیوی ہے…. ” راۓ عبید کی بات بیچ میں ہی رہ گئی
“…تھی… طلاق کے بعد نہیں رہوں گی” اسراء کی مضبوط آواز سنائی دی تھی
…………………………..
فرح اور صفوان کو غائب ہوۓ چھ ہفتے ہو چکے تھے… فی الحال ان دونوں کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا, سیٹھ بابر اپنی کوششوں میں تھا اور پولیس اپنی کوششوں میں تھی, دن رات بانو کی آواز اس کے سر پر کسی ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی
“وہ.. وہ فرح… تیری بیٹی ہے…”
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا… بابر ڈیرے پر تھا, موبائل نظروں کے عین سامنے تھا… ویڈیو چل رہی تھی
اس کے ذہن میں یکدم ہی صفوان کا چہرہ گھوم گیا, سب سے پہلے اس نے ان دونوں کو ایک ہوٹل پر سے پکڑا تھا… صفوان کی اچھی ہی دھنائی کی تھی
پھر سوچتا گیا…. یاد آتا گیا
یکدم ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا
“ساجد… گاڑی نکال… ” اس نے موبائل جیب میں ڈالتے ہوئے ساجد کو آواز دی تھی
“ڈالے میں آٹھ, دس بندے بھر…ساتھ اسلحہ لے لینا” وہ ڈیرے سے باہر نکلتے ہوئے بولا
“کہاں جانا ہے ابو… ؟؟؟” ساجد اس کے پیچھے ہی دوڑا تھا
“اس کمینے کے گھر…. ” بابر نے سگریٹ سلگاتے ہوۓ کہا تھا, چند ہی لمحوں میں ساجد اس کی پراڈو دوڑاتے ہوۓ صفوان کے گھر آ گیا
شام پانچ بجے کا وقت تھا… بابر نے خود نیچے اتر کر دہاڑ سے دروازہ کھولا تھا
“امی… ؟؟؟” حنا کی چیخ پورے گھر میں گونجی تھی, سیٹھ بابر کے آدمی پورے گھر میں پھیل گئے تھے
“ارے… کون ہو تم ؟؟؟” فرزانہ بھاگتی ہوئی کمرے سے نکلی, فرحان اور نفیس دونوں ہی گھر پر نہیں تھے
“صفوان کہاں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“پتہ نہیں… ہمیں نہیں پتہ… ” فرزانہ ششدر رہ گئی
“یہ لڑکی کون ہے ؟؟؟” بابر نے حنا کی طرف انگلی کرتے ہوئے پوچھا
“یہ… میری بیٹی ہے”؟فرزانہ نے اسے کھینچ کر اپنے پیچھے چھپا لیا
“اور وہ… “اس نے دور کھڑی ثناء کی طرف اشارہ کیا
“وہ بھی… بیٹی ہے میری” فرزانہ نے کہا
“ساجد… اٹھا اسے”بابر کے کہتے ہی فرزانہ کی چیخ و پکار مچ گئ, ثناء بھی اونچی آواز میں رونے لگ گئی تھی, تبھی ناشیہ معاذ کو اٹھاۓ باہر نکلی تھی
“یہ کون ہے ؟؟؟” بابر کے آدمیوں نے ثناء کو جکڑ لیا تھا
“یہ… صفوان کی… بیوی ہے”فرزانہ مسلسل ثناء کو اس کے آدمیوں کے چنگل. سے چھڑوا رہی تھی, ایک چیخ و پکار مچی ہوئی تھی
“ساجد… اسے چھوڑ… اسے اٹھا” بابر نے دھواں اڑاتے ہوئے کہا تھا, ساجد نے زور سے ناشیہ کی کلائی جکڑ لی
“ابو… اس سب کی کیا ضرورت ہے ؟؟؟ قصوروار تو وہ حرامزادہ ہے” ساجد کو وہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا
“چھوڑو مجھے…. پھپھو… ” ناشیہ کی چیخ نکلی تھی, حنا نے بھاگ کر معاذ کو پکڑ لیا
“جیسا کہا… ویسا کر… ” بابر نے کش لگاتے ہوئے کہا, تبھی فرحان کی موٹر سائیکل گلی میں داخل ہوئی تھی, لوگوں اور گاڑیوں کا مجمع دیکھ کر وہ بھاگتا ہوا اندر آیا
“حرامزادے, چھوڑ اسے, چھوڑ… ” وہ یکدم. ہی ساجد پر پل پڑا تھا
“چھوڑو مجھے… ” وہ مسلسل چیخ رہی تھی, ساجد نے اسے زبردستی گاڑی میں گھسا کر دروازہ بند کر دیا
“یہ ہیرو کون ہے ؟؟؟” سیٹھ بابر نے پوچھا
“صفوان کا چھوٹا بھائی ہے… ” کسی نے بتایا
” ذرا اسے تو رگڑا لگا… ” سیٹھ بابر کے کہتے ہی اس کے آدمیوں نے فرحان کی اچھی پھینٹی لگا دی تھی
“بھٹے پر چل… ” بابر نے فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا, ساجد گاڑی دوڑاتے ہوۓ بھٹے پر لے آیا, بابر نے خود نیچے اتر کر ناشیہ کو نیچے اتارا تھا, اسے کلائی سے جکڑے وہ گھسیٹتا ہوا ڈیرے کی طرف لے گیا
بھٹے کے ہر ملازم نے اسے ناشیہ کو گھسیٹتے ہوئے دیکھا تھا
“اسے بند کر اندر…. ” بابر نے اسے ایک کمرے میں دھکیلتے ہوۓ کہا
“ابو… اسے یہاں بند کرنے سے کیا ہو گا… ؟؟؟ چھوٹا سا بچہ ہے اس کا” ساجد کو اس پر ترس آ رہا تھا
“وہ کتا اب بل سے باہر نکلے گا… دیکھنا ” بابر نے ایک اور سگریٹ سلگایا تھا
اپنے تئیں وہ سب صحیح کر رہا تھا… اور اس غلط فہمی میں کام مزید بگاڑے جا رہا تھا
………………………….
جاری ہے
