No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
سبز رنگ کے کامدار شرارے اور پیلے رنگ کی کامدار شارٹ شرٹ میں ہم رنگ امتزاج کا نیٹ کا دوپٹہ لیے وہ سٹیج پر براجمان تھی, دونوں بازو کہنیوں تک مہندی سے سجے ہوئے تھے, گھنگریالے بال ڈھیلے سے سٹائل میں پیچھے کو مقید تھے جبکہ لٹیں چہرے کے اطراف میں بکھری ہوئی تھیں, سفید موتیے کی کلیوں سے آراستہ گجرے اور جھمکے کلائیوں اور کانوں میں سجے ہوئے تھے… ایک جبری سی مسکراہٹ اس نے لبوں پر سجا رکھی تھی
اذن کے گھر والے اس کی مہندی لیکر آۓ تھے, پیلے رنگ کے سٹائلش سے کرتے اور سفید لٹھے کی شلوار میں ملبوس اذن گلے میں سبز اور پیلے رنگ کی پٹی ڈالے اس کے برابر میں آ بیٹھا
فنکشن شروع ہوتے ہی سب باری باری انہیں مہندی لگانے لگے تھے, زرقا نے ایک نظر پورے ہال پر دوڑائی
ہر طرف مسکراہٹیں… ہر طرف خوشیاں
کل کیا ہو گا ؟؟؟؟ سوچتے ہی اس کی مسکراہٹ ماند پڑ گئی تھی
“کیا ہوا… ؟؟؟” اذن نے اس زرد پھول کی ماند پڑتی مسکراہٹ بغور نوٹس کی تھی
“کچھ نہیں… ” وہ سر جھکا گئی
“تمہارے پاس ابھی آج کی پوری رات ہے… سوچنے کے لئے ” اذن نے دھیرے سے کہا تھا, زرقا بس خاموش بیٹھی رہ گئی
تبھی کچھ دور کھڑے صمد کا موبائل بجا… سکرین دیکھتے ہی اس کا ہلکا سا رنگ اڑا تھا
“ہیلو… ” وہ سیل کان سے لگاۓ ایک کونے میں کو چلا گیا, اسے یوں دھیمے سروں میں بات کرتے ہوئے اسماء نے بڑے غور اسے دیکھا تھا, کال ختم ہوتے ہی اس نے درید کی تلاش میں نظریں گھمائیں…وہ ارمغان کے پاس کھڑا تھا
“درید… ذرا بات سن میری” صمد اسے کھینچتا ہوا ایک طرف کو لے آیا
“حسین کی کال تھی… ” صمد نے کہا
“کیا کہہ رہا ہے… ؟؟” درید نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا
“وہ ایمپوریم جانے کا کہہ رہے ہیں… ” صمد نے کہا
“کیا صمد بھائی… اتنے دنوں میں ایمپوریم بھی نہیں دکھا سکے آپ… ؟؟؟ دکھاتے کیا رہے ہیں پھر… ؟؟؟” درید اس پر چڑھ دوڑا
“تیرا سر دکھاتا رہا ہوں سالے… حد ہو گئی… سارا لاہور تو گھما دیا” صمد نے اسے رکھ کے گھورا, کال پھر آنے لگی تھی
“اب کیا کروں ؟؟؟” صمد نے پریشانی سے پوچھا
“تھوڑی دیر کے لئے چلے جائیں, کوئی بہانہ بنا کر واپس آ جانا… ” درید نے کہا
“تو چلا جا… ” صمد ڈر رہا تھا
“میں کیسے چلا جاؤں…؟؟؟ میرے آنے کا تو پتہ ہی نہیں ہے انہیں…” درید نے اسے گھرکا
“او تم دونوں یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو ؟؟؟” راۓ عبید اس طرف چلے آۓ
“درید… ابو کو بھیج دیتے ہیں… ” صمد نے ایک دم سے کہا
“پاگل ہو گئے ہیں کیا ؟؟؟ابو اتنا بھرا ہال چھوڑ کر کیسے جائیں گے ؟؟” درید نے کہا
“ہوا کیا ہے ؟؟؟”
“ابو یار… ایک مسئلہ ہو گیا ہے…” صمد نے دھیرے دھیرے انہیں سب کہہ سنایا
“درید یار… ایسا کر…” درید نے ان کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی
“ابو پلیز… میں کہیں نہیں جا رہا… یہ سارا سیاپا آپ دونوں کا ڈالا ہوا ہے سو آپ دونوں خود ہی اسے نبیڑیں… مجھے نہیں پتہ…میں تو خود چوری آیا ہوں” اس نے ہاتھ کھڑے کر دیئے
“جا تو چلا جا… میں سنبھال لوں گا یہاں” راۓ عبید نے صمد سے کہا
“اسماء کو بھی سنبھال لیں گے… ؟؟؟” صمد نے ذرا فاصلے پر کھڑی اسماء کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو کینہ توز نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
“ایسا کر… کسی طرح چھپ چھپا کے نکل جا… ” راۓ عبید نے کہا, صمد کو پسینہ آ گیا تھا, کچھ دیر بعد اسماء کی نظروں سے بچتا بچاتا وہ ہال سے نکل تو گیا لیکن شو مئی قسمت کے جب واپس آیا… تو سب سے پہلے اسے گاڑی سے اترتے ہوئے دیکھنے والی اسماء راۓ ہی تھی
اور یہ سراسر صمد کی بھول تھی کہ اسے جاتے ہوئے اسماء کے علاوہ اور کسی نے نہیں دیکھا تھا
…………………………….
شام کے چھ بج رہے تھے جب وہ سیٹھ بابر کے بنگلے پر پہنچا, چوکیدار نے اسے دیکھتے ہی گیٹ کھول دیا تھا
“آنٹی کہاں ہیں ؟؟؟” سب سے پہلے اسے ساجد ملا
“آ جائیں… ” وہ اسے لیکر بانو کے کمرے میں آ گیا, وہ اب کافی بہتر تھی, شفع اس کے پاس ہی بیٹھ گیا
“یہ تو زیادتی ہے نا آنٹی جی… ایک طرف کہتی ہیں کہ اس پر سختی کیا کر… اور دوسری طرف ہارٹ اٹیک کروا لیتی ہیں… ” شافع نے کہا
“کیا کروں… ماں جو ہوں ” وہ پھیکا سا مسکرائی تھی
“فرح کہاں ہے ؟؟؟” اس نے جوس لیکر آتے ساجد سے پوچھا
“ادھر ہی ہو گی شافع بھائی… ” وہ بولا
“ساجد بلا اسے… ” بانو نے دھیمے سے لحجے میں کہا, اس کی پیلی زرد رنگت دیکھ کر ایک لمحے کو تو شافع کا دل ہوا کہ اٹھے اور چپ چاپ گھر واپس چلا جاۓ لیکن… تیر کمان سے نکل چکا تھا
ساجد واپس ہی نہ آیا
“عابدہ… فرح کو بلا” کچھ دیر بعد بانو نے کسی اور کو آواز دی تھی
“مامی جی… فرح تو گھر پر نہیں ہے… ” وہ کافی دیر بعد واپس آئی, بانو کا رنگ اڑ گیا
“کہاں گئی… ؟؟؟ فون کر…. ” وہ بولی
“فون پر بیل جا رہی ہے لیکن اٹھا نہیں رہی… ” عابدہ نے کہا, سات بجنے تک ان لوگوں نے ہر طرف فون کھڑکا لیے لیکن بے سود…
وہ کہیں بھی نہیں تھی
“ساجد…. اپنے باپ کو فون کر… ” بانو ڈھے سی گئی, شافع خاموش سر جھکاۓ بیٹھا تھا
“میں بڑا عام سا انسان ہوں آنٹی جی… مجھے تو بس وہی دین پتہ ہے جو میں نے پڑھا… پہلے سختی کرو, پھر بستر الگ کر دو… اور پھر مارو… ایسے کہ چہرے پر ضرب نہ آۓ, چھڑی سے ان کے پہلو پر مارو… اور اگر پھر بھی باز نہ آئیں تو قطع تعلق کر لو… ” وہ کہتا چلا گیا
“خدا کی قسم آنٹی… وہ مار کھا کر بھی نہیں سدھرے گی… ” شافع نے کہا, بانو کی آنکھیں بہنے لگیں تھیں
“میں جانتا ہوں وہ کہاں ہے ؟؟؟ میں چاہتا تو خود ج کر اسے لے آتا لیکن… میں سو لوگوں میں اپنی بیوی کو سرعام بے حیائی اور بے راہروی کے جرم میں جیل سے کیسے لیکر آؤں ؟؟؟” اس کے کہتے ہی بانو دم بخود رہ گئی
رات کے نو بج گئے… شافع یونہی اس کے سرہانے بیٹھا رہا… آخر کار بابر کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا تھا, ساجد بھاگتا ہوا اندر آیا
“فرح آ گئی…. ” وہ بولا تھا, شافع نے ایک نظر بانو کو دیکھا… وہ جیسے ہار گئی تھی
شافع ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا… کمرے سے نکلا تو سیٹھ بابر لاؤنج میں کھڑا تھا, فرح اس کے عین پیچھے کھڑی تھی
پہلی بار… وہ شافع سے نظریں نہ ملا سکا
“اس کی سزا آپ خود تجویز کریں گے اب… ” وہ برف سے لحجے میں بولا تھا, فرح کانپ سی گئی
“آخری بار معاف کر دو… بس آخری بار” وہ دھیرے سے بولا
“اور اس کے بعد… ؟؟؟” شافع نے پوچھا
“میں کچھ نہیں کہوں گا… کبھی بھی” وہ فرح کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تھا
…………………………..
“طہٰ… ” وہ تھکی ہاری سی اپنے کمرے میں آئی تھی اور طہٰ کو کال ملاتے ہوئے بستر پر گر گئی
“کیا ہوا ؟؟؟” وہ اس کا لحجہ سن کر ہی دہل گیا
“یار ایک گڑ بڑ ہو گئی ہے… ” زرقا نے کہا
“کچھ بولو گی بھی… “وہ بولا
“طہٰ ابو حدید بھائی اور غاشیہ بھابھی کو تو شادی پر آنے ہی نہیں دے رہے… ” زرقا نے کہا
“کیا مطلب ؟؟؟” طہٰ کی سٹی گم ہو گئ
“وہ دونوں آج مہندی پر بھی نہیں آۓ, ابو نے کہا ہے کہ حدید اکیلا شادی میں آۓ اور… حدید بھائی نے منع کر دیا ہے” زرقا کہتی چلی گئی
“یہ حدید بھائی بھی اگر ہر وقت ہیرو نہ بنا کریں تو کیا ہے… ” طہٰ فٹ فٹ اچھل رہا تھا
“طہٰ… اگر حدید بھائی نہ آۓ تو… ظاہر ہے تم بھی نہیں آؤ گے… ” وہ بولی
“زرقا… میری بات سنو, تم اپنے ابو کے پاس جاؤ, انہیں تھوڑا ایموشنل ہو کر کہو کہ حدید تمہارا بھائی ہے اگر وہ نہ آیا تو تمہیں کتنا دکھ ہو گا… اس نہج پر تمہاری سب سے زیادہ سنی جاۓ گی زرقا…. ” طہٰ کہتا چلا گیا
“انہیں مناؤ زرقا… نہیں تو سارا پلان ہی چوپٹ ہو جاۓ گا… چلو میں بھی جیسے تیسے آ جاؤں گا لیکن سارا معاملہ ہی حدید بھائی کو سنبھالنا ہے” وہ بولا
“اچھا میں ابو سے بات کرتی ہوں” زرقا نے مرے مرے لحجے میں کہا اور نیچے آ گئی
اسماء فل ٹائم صمد پر برس رہی تھی
“آخر کونسا اتنا ضروری کام تھا جو ہال چھوڑ کر چلے گئے تھے آپ… ؟؟؟” اسماء کمرے میں آتے ہی اس پر چڑھ دوڑی تھی
“یار ایک دوست کی کال آ گئی تھی, وہ… پولیس سٹیشن تک جانا تھا” صمد گڑبڑا گیا
“صمد… مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں آپ… ؟؟؟ خدا کی قسم مجھے کسی بھی قسم کے دھوکے کی ذرا سی بھی بھنک لگ گئی تو آپ کی خیر نہیں…” وہ اس پر اچھا ہی بولی تھی, لاونج میں بیٹھے درید اور راۓ عبید نے سب سنا تھا
تبھی زرقا ان دونوں کے پاس آ کھڑی ہوئی… وہ ابھی تک مہندی والے کپڑوں میں ہی تھی
“ابو… ” وہ دونوں اس کی طرف دیکھنے لگے
“حدید بھائی کل بھی نہیں آئیں گے ؟؟؟” اس نے دھیرے سے پوچھا, راۓ عبید چپ رہ گئے
“ابو… ” وہ ان کے پاس نیچے فرش پر بیٹھ گئی
“میں حدید بھائی کے بنا کیسے رخصت ہوں گی ؟؟؟ وہ میرے سر پر ہاتھ نہیں رکھیں گے تو کیسے خوش رہوں گی میں… پلیز ابو… صرف ایک دن کے لئے اپنے ظرف کو اونچا کر لیں… پلیز” اس کے سچ میں آنسو نکل آۓ تھے
“ابو زرقا بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے… بس کریں, وہ دونوں اس خاندان کا حصہ ہیں اب… ” درید نے بیچ میں لقمہ دیا تھا
“تو, اسراء اور زرقا جا کر کہہ آؤ اسے… میں نہیں جاؤں گا” وہ کہہ کر اٹھ گئے تھے
“اسراء… ” درید نے اسی لمحے اسے آواز دی تھی
“جی… ” وہ بھاگی آئی
“چلو آؤ… “وہ ان دونوں کو لیکر اوپر آ گیا
غاشیہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی اور حدید اس کے پاس بیٹھا اس کے لئے دوا نکال رہا تھا, ایک رات میں ہی غاشیہ کی آنکھیں اندر کو دھنس گئی تھیں
“درید بھائی… ” حدید یکدم کھڑا ہو گیا, غاشیہ نے بھی اٹھنا چاہا لیکن درید نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اٹھنے سے منع کر دیا
“بیٹھیں درید بھائی… ” حدید نے صوفہ خالی کیا تھا
“حدید… یہ زرقا نے کچھ کہنا ہے تجھے… ” درید نے کہا, حدید نے زرقا کی طرف دیکھا
“پلیز حدید بھائی… ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی, آنسو خود بخود ہی بہہ نکلے, حدید نے اسے دھیرے سے خود سے لگا لیا
“تم دونوں مجھے سب سے پہلے ہال میں نظر آؤ…ٹھیک ہے ؟؟؟” درید نے حدید کے کندھے پر تھپکی دی تھی, کچھ دیر بعد وہ اور اسراء نیچے چلے گئے
“زرقا… “وہ پلٹ رہی تھی جب غاشیہ نے آواز دے لی
“ایک بار اور سوچ لو…. بہت مہنگا سودا ہے یہ… دیکھ لو” اس نے کہا
“اذن اگر طہٰ سے بہتر نہیں ہے تو… اس سے برا بھی نہیں ہے” حدید نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
…………………………..
صفوان کو غائب ہوۓ دو دن ہو چکے تھے, جس دن سے ناشیہ نے اسے ریسٹورنٹ میں دیکھا تھا, اس کے بعد سے وہ گھر آیا ہی نہیں تھا… ناشیہ نے فرزانہ کو سب کچھ بتا دیا تھا… اگلے مہینے حنا کی شادی طے ہو گئی تھی, اس کا سارا زیور بھی گھر پڑا تھا, فرزانہ کو تو اپنے لالے پڑ گئے تھے
اس رات بھی وہ معاذ کو سلا کر فارغ ہوئی تو باہر شور سا اٹھا, فرزانہ کی اونچی اونچی آوازیں آ رہی تھیں, وہ بھاگ کر کمرے سے نکلی, صفوان آیا تھا اور فرزانہ نے اسے آتے ہی دھر لیا تھا, بے دریغ وہ اس پر جوتے برسا رہی تھی
“کدھر مر گیا تھا ؟؟؟؟”
فرحان اور حنا نے بمشکل اس کا ہاتھ روکا, وہ بس غصے میں کھولتا اندر چلا گیا
آدھی رات کا وقت تھا جب اس نے ناشیہ کو کھینچ لیا… اچھی طرح اپنا ابال نکالا اور پھر واش روم میں گھس گیا… تبھی اس کا موبائل روشن ہوا تھا
انجان نمبر سے کال تھی, ناشیہ نے ایک نظر واش روم کے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے کال اٹینڈ کر کے سیل کان سے لگا لیا
دوسری طرف کوئی لڑکی تھی… مسلسل اس کا نام پکار رہی تھی, ناشیہ نے خاموشی سے کال کاٹ کر ڈیلیٹ کر دی, کچھ دیر بعد صفوان واش روم سے نکلا, موبائل دیکھا اور بنیان پہنتے ہوۓ کمرے سے نکل گیا
ناشیہ کی آنکھیں بھر آئی تھیں… شوہر کی بے وفائی تو عورت کے لئے موت ہوتی ہے… اور وہ روز مرتی تھی
…………………………
رات کے دو بج رہے تھے جب وہ سارا پھیلاوہ سمیٹ کر کمرے میں آئی, درید سر تک کمبل تانے لیٹا تھا, وہ کپڑے چینج کر کے بستر پر چڑھ آئی
“میاں جی… “اس نے درید کے قریب ہو کر اس کے اوپر سے کمبل ہٹایا تھا
“سو گئے… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“بہت نیند آ رہی ہے… ” درید بوجھل سی آواز میں بولا
“میری دفعہ آپ کو نیند آ گئی ہے… ” اسراء نے اپنا چہرہ اس کے بازو پر رکھتے ہوۓ کہا, وہ کروٹ کے بل لیٹا تھا
“درید… ” اسراء کی انگلیاں اس کے بالوں میں سرسرانے لگی تھیں
“کیا ہے یار… ؟؟؟” وہ اس کی طرف پلٹا اور جس لحجے میں بولا… اسراء دم بخود رہ گئی
“میں دو راتوں سے نہیں سو سکا اسراء… پلیز یار سونے دو” وہ اس کا چہرہ تھپتھپا کر دوبارہ کروٹ بدل گیا تھا
مارے خفت کے اسراء کی آنکھیں بھر آئیں, وہ پرسوں سے آیا ہوا تھا, اس کے پاس ہر ایک کے لئے وقت تھا سواۓ اس کے… پرسوں رات سے وہ نہ جانے کتنی ہی بار اس کی جانب پیش رفت کر چکی تھی لیکن وہ ہر بار ٹال گیا تھا
چپ چاپ آنسوؤں کو پیتے ہوئے وہ سونے لیٹ گئی تھی
…………………………
اس کا سیل بجا تھا, گیلے بال تولئے سے رگڑتے ہوۓ اس نے کال اٹینڈ کی
“زہے نصیب… ” وہ مسکرایا تھا
“کام ہو گا کہ نہیں ؟؟؟ تڑختی ہوئی آواز آئی
“دھیرج… ہو رہا ہے”
“قیامت کو ہوا تو پھر فائدہ ؟؟؟”
“صبر کریں… اسی فیصد کل پورا ہو جاۓ گا… “وہ بولا
“صرف چند ہفتے ہیں تمہارے پاس… بس”
“اپنا وعدہ یاد ہے ؟؟؟”اس نے پوچھا
“ادھر میرا کام ہوا… ادھر تمہارا ہو جاۓ گا… “
“پکا… ؟؟؟” وہ مسکرایا تھا
“پکا… ” کال کٹ گئی تھی
………………………
صبح اٹھتے ساتھ ہی دونوں گھروں میں افراتفری کا سا عالم تھا…اسماء اور اسراء نے جھٹ پٹ سارے مہمانوں کو ناشتہ کروایا… پھر سب کے کپڑے استری کئے…. سب سے پہلے صمد اور راۓ عبید کو تیار کر کے ہال بھجوا دیا گیا تھا… پھر تینوں بچے تیار کئے, اسراء نے چپ چاپ درید کے سارے لوازمات ریڈی کر دیئے تھے, اوپر حدید اور غاشیہ بھی مصروف سے تھے, حدید کو صبح سے طہٰ کی کوئی سو کالز آ چکی تھیں… سب سے زیادہ پریشان تو وہ تھا… دوسری جانب اذن کی تیاری بھی زوروں پر تھی, طہٰ کی کال اسے بھی آئی تھی
“اذن… چاہے کچھ بھی ہو جاۓ… میرے بھائی تو قبول ہے مت کہنا… بس پلیز” وہ منتوں پر اتر آیا تھا
“زرقا میری جان… چاہے جو بھی ہو جاۓ, چاہے سر پر پستول ہی کیوں نہ رکھی ہو…سر مت ہلانا” زرقا کو اس نے الگ حراساں کیا ہوا تھا
خالد بھائی… ریڈی رہنا ہے, جیسے ہی میں کال کروں بس ابو پر چڑھائی کر دینی ہے… ” وہ بیچارہ ہر طرف ہی پورا پڑ رہا تھا
“شونا… دھیان سے, فل کانفیڈینس سے” ایک طرف شونا تھی
“حاشر یار بس ڈرامہ پورا کھیلنا ہے… ڈٹ کر” دوسری طرف اس کے نام نہاد بھائی تھے
بھلے ہی اس کا پلان نہایت بوگس تھا.. پلاٹ ہی بہت جھول لیے ہوۓ تھا, اذن کے صاف شفاف شیشے جیسے کردار پر عین وقت پر شونا کی اینٹری ہی فضول تھی, اور پضر یہ امید ہی بے معنی تھی کہ عشت بچانے کے لئے زرقا کا نکاح طہٰ سے ہو جاتا…. کونسی عزت… ؟؟؟ جب پولیس ہی دولہے کو لے گئی تو کونسی عزت ؟؟؟ اور عزت بچانی بھی کس نے…. ؟؟؟ راۓ عبید نے… ؟؟؟ یا آمنہ نے… ؟؟؟ جھول ہی جھول تھے…. طہٰ کہیں بھی فٹ نہیں تھا…زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا ؟؟ زرقا کی رخصتی نہ ہوتی… تو نا سہی… اذن نے کونسا واپس نہیں آنا تھا… تیمور ملک والا پارٹ بھی بہت ڈھیلا تھا, صرف ایک ایکسیڈینٹ پر وہ بھلا بیٹا کیسے وار دیتے ؟؟ غاشیہ کو تو معاف کر نہیں سکے… طہٰ کو راجپوتوں میں کیسے دے دیتے ؟؟؟ الغرض… سب کالا مالا تھا
لیکن..
اس سارے ڈرامے سے قطع نظر… ایک اور چیز بھی تھی
قسمت… جو طہٰ ملک پر بس مسکرا ہی سکتی تھی
………………………
جاری ہے
