121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41


اس کے پیچھے ہی ارمغان اندر آیا تھا
“غاشیہ… تو ٹھیک ہے” شازیہ نے ایک اسے گلے سے لگا لیا, تیمور ملک بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے, شازیہ نے جیسے ہی اسے چھوڑا, طہٰ کے مضبوط بازو اس کے گرد حصار بنا گئے
“غاشیہ اسی رات گھر کیوں نہیں آئیں ؟؟؟” وہ اسے خود سے لگاتے ہوئے بولا تھا, غاشیہ نے پلٹ کر ارمغان کی طرف دیکھا
“یہ کون ہے ؟؟؟” اسے صرف خالد جانتا تھا
“تایا جان… آپ نے کہا تھا کہ آپ کو ان دونوں سے ملنا ہے… خالد نے کہا
“ابو… میرے پیچھے اسی لئے نہیں آۓ نا کہ میں آپ کی بیٹی نہیں تھی… ” وہ تیمور ملک کو دیکھتے ہوئے رو پڑی تھی, سواۓ خالد کے سبھی دم بخود رہ گئے
“غاشیہ…میری بچی مجھے معاف کر دے, میں غلط تھا, میں ہر بار غلط تھا, میں شاہ نور کی دفعہ بھی غلط تھا, میں تیری دفعہ بھی غلط تھا, میں ناشیہ کی دفعہ بھی غلط تھا… میں نے صرف اپنی انا کا سوچا… اور اس انا پر اپنی اولاد وار دی… میں خود غرض ہو گیا تھا میری بچی… ” تیمور ملک نے اسے گلے سے لگا لیا, وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی, آج ڈھائی سال بعد اس نے ان کی شکل دیکھی تھی, ان کی پر شفقت آغوش محسوس کی تھی, غاشیہ کے بالوں پر بوسہ دیتے ہوئے انہوں نے دروازے کے پاس کھڑے ارمغان کی طرف دیکھا
“چلو نا ارمغان ملک… اسی دن کا تو انتظار تھا تمہیں… یہ ہی تو چاہتے تھے تم… چلو آگے بڑھو, اس بوڑھے انسان کو یاد کرواؤ کہ یہ اس کا مکافات عمل ہے, اس کی ماضی میں جو بویا آج وہی کاٹ رہا ہے… آج اس کی اولاد میں سے کون خوش ہے ؟؟؟ کون سکھی ہے ؟؟؟ کس کی آنکھ میں آنسو نہیں ہیں… پوچھو اس سے ارمغان کہ اسے تمہارے ماں باپ کو اجاڑ کر کیا ملا ؟؟؟ ” کسی نے ارمغان کے اندر سے آواز اٹھائی تھی, تیمور ملک نے غاشیہ کو ایک بازو کے حصار میں لیا اوراس کی طرف بڑھے
“چلو ارمغان… تیمور ملک تمہارے سامنے کھڑا ہے, تمہاری ماں کا قاتل… تمہارے باپ کا قاتل… اس کی وجہ سے تمہارے ماں باپ تم سے چھن گئے, اس کی وجہ سے تم ستائس سال اپنی سگی بہن سے دور رہے… اسے شرمندہ کرو ارمغان… پوچھو اس سے کہ تمہارا کیا قصور تھا ؟؟؟” آواز اونچی ہوتی جا رہی تھی, ارمغان کو لگا جیسے اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگتے جا رہے ہوں, طہٰ, شازیہ اور ناشیہ حق دق سے کھڑے تھے
“وہ تمہارا مجرم ہے ارمغان… اس کے منہ پر کہو کہ وہ ظالم ہے, اس کے سامنے کھڑے ہو کر کہو کہ وہ قاتل ہے…. ” آواز زور سے چیخی تھی, تیمور ملک نے اپنا ایک بازو اس کی جانب کھول دیا, ارمغان کے آنسو نکلے تھے
“ابو یہ کون ہے ؟؟؟” شازیہ نے پوچھا
“یہ میرے شاہ نور کا بیٹا ہے… غاشیہ کا بھائی… ” وہ بولتے ہی رو پڑے تھے, ارمغان انہیں کچھ بھی نہ کہہ سکا… ایک لفظ بھی نہیں…بس چپ چاپ ان کے دوسرے بازو کے حصار میں چلا گیا
“مجھے معاف کر دو… میں مجرم ہوں… تم دونوں کا, تمہارے باپ کا, تمہاری ماں کا” تیمور ملک رو رہے تھے
“غاشیہ تو… میری جڑواں نہیں ہے ؟؟” ناشیہ کی آنکھیں مارے حیرت کے اس سے زیادہ نہیں پھٹ سکی تھیں
“غاشیہ اور ارمغان جڑواں ہیں… شاہ نور اور حمنہ کے بچے… ان دونوں نے اسی رات جنم لیا تھا جس رات تم عطرت کی گود میں آئی تھیں” تیمور ملک نے کہا, ارمغان دھیرے سے ان سے الگ ہوا تھا
“مجھے… معاف کر دینا” وہ شرمندہ تھے… بہت شرمندہ…ارمغان بس نفی میں سر ہلا کر رہ گیا
“اپنا خیال رکھنا… میں چلتا ہوں ” وہ اپنی آنکھیں رگڑتے ہوۓ مڑا تھا
“کہاں جا رہے ہو ؟؟؟” تیمور ملک نے پوچھا
“گھر… ” وہ بولا
“تو یہ کیا ہے ؟؟؟” انہوں نے پھر پوچھا, ارمغان خاموش رہ گیا
“یہ تمہارے باپ کا گھر ہے بچے… تمہارے بھائی کا گھر ہے… ” انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا, ارمغان نے خالد کی طرف دیکھا
“اب آ ہی گیا ہے تو برتھ ڈے کا کیک کھا کر جا… ” خالد نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا تھا
“برتھ ڈے… ” غاشیہ نے ناشیہ کی طرف دیکھا
“دی برتھ ڈے بواۓ… ” اس نے معاذ کو کرسی پر بٹھا دیا
“چلیں ابو… ” شازیہ نے انہیں چھری پکڑائی تھی, تالیوں کے شور میں انہوں نے معاذ کے ہاتھوں سے کیک کٹوایا, طہٰ نے اس چھوٹے سے بچے کے کانوں تک پہ کیک مل دیا
“بدتمیز… چیونٹیاں کھا جائیں گی اسے” شازیہ نے اسے ایک جڑی تھی
“یہ لیں شازیہ باجی… ” اس نے شرارت سے چاکلیٹ کیک کا پیس شاشیہ کی طرف بڑھایا
“پرے کرو اسے… جیسے بارش کے بعد کی کیچڑ کھا لی ہو” وہ منہ بنا کر بولی تھی
“یہ دیکھو ایپل پائی… یہ سارے تحفے طہٰ ماموں کی طرف سے ہیں… تمہاری کنجوس ترین بڑی خالہ اور خالو کچھ بھی نہیں لاۓ… ” طہٰ کی ٹرین پٹری پکڑ چکی تھی
“یہ تین منزلہ کیک کون لایا ہے بھلا… ؟؟؟” خالد تڑپ گیا
“بڑی خالہ ؟؟؟” طہٰ اس کی طرف مڑا
“برتھ ڈے کا کھانا میری طرف سے ہے… ” وہ بولی
“کنجوس اماں ؟؟؟” وہ ناشیہ کی طرف مڑا
“میں تو اماں ہوں… ” اس نے جھٹ اسے چوم لیا
“ایپل پائی… یہ موٹی والی خالہ کو پکڑو… کیک کھا لیا گفٹ کہاں ہے ؟؟؟” طہٰ کا رخ غاشیہ کی طرف ہو گیا
“او بھائی میرے… میں تو خود گھر بدر ہوئی پھر رہی ہوں..اور ویسے بھی مجھے کیا پتہ تھا کہ آج شہزادے کا برتھ ڈے ہے… ادھار رہا تحفہ… ” غاشیہ نے اس کا ماتھا چوم لیا
“طہٰ… غاشیہ کو چھوڑ, اس ٹام کروز کو پکڑ… بہت پیسہ ہے اس کے پاس, دس مرلے کے ڈبل سٹوری گھر کا اکلوتا مالک ہے, تن تنہا عمر فاروق راۓ کی ورکشاپ چلاتا ہے… اس کی جیب ڈھیلی کروا… ” خالد نے کیک کھاتے ہوئے کہا تھا, طہٰ نے جھٹ معاذ کو اس کی گود میں بٹھا دیا
“وہ گھر, وہ ورکشاپ, وہ پیسہ… اس ایپل پائی سے بڑھ کر تھوڑی ہے… خدا اس کا نصیب کسی ارمغان ملک جیسا نا کرے… ” ارمغان نے اس کا گال چوم لیا تھا
“تحفہ ادھار رہا… ” وہ بولا
“حدید دوبارہ تو نہیں آیا ؟؟؟” غاشیہ نے پوچھا
“پرسوں کا قصہ سنایا ہے اس نے تمہیں ؟؟؟” خالد نے کہا
“کیا ہوا ؟؟؟” غاشیہ انجان تھی, خالد نے سارا قصہ اسے سنا ڈالا
“غاشیہ اس کا کوئی حال نہیں ہے… یقین کر اس لڑکے کا ذہنی توازن خراب ہو جاۓ گا, ہر وقت وہ روتا رہتا ہے, ہر کسی کو چیرنے پھاڑنے کو دوڑتا ہے…” خالد کہتا چلا گیا
“یہ کیا ماجرا ہے ؟؟؟” تیمور ملک کو پتہ ہی نہیں تھا, ارمغان نے انہیں الف سے لیکر ے تک ساری داستان سنا دی, وہ تو بس پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھے جا رہے تھے
“میں اس کی ساری خوشیاں اسے لوٹاؤں گا… سود سمیت… میرا وعدہ ہے آپ سے” ارمغان نے کہا
“حدید کو کال کرو, بلاؤ اسے… ” تیمور ملک نے کہا
“نہیں… ابھی نہیں… اسماء پوری طرح میرے پنجے کے نیچے آئی ہوئی ہے… مجھے ایک بار انیتا کو حاصل کر لینے دیں ” وہ بول پڑا
“تیری اس لو سٹوری کے چکر میں حدید کا کونڈا ہو جانا ہے دیکھ لینا” خالد قطعی آمادہ نہیں تھا
“ارمغان اسے کچھ ہو گیا تو… ؟؟؟” غاشیہ پریشان تھی
“کچھ نہیں ہوتا… ” وہ پر یقین تھا
“حدید کو کوئی کچھ نہیں بتاۓ گا…. “
…………………………….
“اسماء تیرا دماغ تو ٹھیک ہے… ” آمنہ اس پر چڑھ دوڑی تھیں, عمر فاروق بھی حق دق اسے دیکھ رہے تھے
“امی… میری بات سمجھنے کی کوشش کریں, موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے یہ ہی ٹھیک ہے” اسماء نے انیتا اور ارمغان کے نکاح کی بات کی تھی
“کیا ٹھیک ہے… ؟؟؟ چار سالوں سے وہ لڑکا انیتا انیتا کر رہا ہے, تب تو دھتکار دیا اسے, اب کیسے اسے کہہ دیں کہ انیتا سے شادی کر لے” وہ پھٹ پڑیں
“میں بات کر لوں گی اس سے… ” اسماء نے کہا
“اسماء تو صورتحال تو دیکھ, عبید بھائی کہیں گے کہ میرا بیٹا اجاڑ کر اپنی لڑکی بسانے میں لگی ہوئی ہے… ” وہ بولیں
“امی کچھ نہیں کہتے ماموں… ” اسماء کے پیروں میں آگ لگی پڑی تھی, عمر فاروق خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے
“اسماء… ” ان دونوں ماں بیٹیوں کو تو تو میں میں کرتے دیکھ کر انہوں نے اسماء کو پکارا
“اصل. مسئلہ کیا ہے ؟؟؟”
“ابو کوئی مسئلہ نہیں ہے… ” وہ گڑبڑا گئی
“پھر تجھے آفت کیا آ گئی ہے یوں کھڑے پیر انیتا اور ارمغان کا رشتہ طے کروانے کی… ؟؟؟” وہ بولے
“ابو حدید یہ ہی سمجھ رہا ہے کہ شاید میں نے انیتا کی خاطر اس کا گھر اجاڑ دیا یے, اگر انیتا اور ارمغان کا نکاح ہو جاتا ہے تو اس کی یہ غلط فہمی تو ختم ہو جاۓ گی” وہ بولی
“یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں ہے, غاشیہ کے ملتے ہی وہ اس غلط فہمی کو بھول جاۓ گا ” انہوں نے کہا
“ابو… پلیز… آپ یہ ہی تو چاہتے تھے” وہ تنگ آ گئی
“لیکن ایسے نہیں… اگر ان دونوں کی شادی کرنی ہی ہے تو ذرا انتظار کر لے, غاشیہ مل جاۓ تو پھر کریں گے” عمر فاروق نے کہا
“ابو… ” وہ چیخ پڑی
“ابھی کیا مسئلہ ہے ؟؟؟”
“اسماء تیرا دماغ ہے یا شیطان کا گھر… ” آمنہ بھی تنگ آ گئیں
“امی میری بات سنیں, ماموں, صمد اور حدید تینوں جانتے ہیں کہ میں ہمیشہ سے حدید اور انیتا کی شادی کروانا چاہتی ہوں اور اسی وجہ سے پہلے دن سے میری اس سے نہیں بنی, سب یہ ہی سمجھ رہے ہیں کہ میں نے جان بوجھ کر اسے گھر سے نکالا ہے, ماموں سر عام مجھے الزام دیتے ہیں کہ میری وجہ سے حدید ک گھر اجڑ گیا, کل درید کا فون بھی آیا تھا, وہ بھی یہ ہی کہہ رہا تھا کہ اب اسماء بھابھی انیتا کی شادی حدید سے کروا دیں گی, اسراء بھی یہ ہی کہتی پھرتی ہے کہ میں نے انیتا کو بسانے کے لئے غاشیہ کا گھر اجاڑ دیا… امی ایسے میں انیتا کا نکاح ہو جانا ہی بہتر ہے” وہ. کہتی چلی گئی
“امی دیکھیں… ہے تو وہ خالہ جان کا خون نا, ابو نے کہا کہ وہ اسراء کو اس سے نہیں بیاہیں گے تو چلیں انیتا کو بیاہ دیں, ہم. کتنا بھی کہیں کہ. ہمارا نہیں ہے… لیکن ہمارا تو ہے” وہ اس لمحے حد سے زیادہ ڈپلومیٹ ہو رہی تھی, بس کسی طرح اسے آمنہ اور عمر فاروق کو راضی کرنا تھا, بعد کا پلان بھی اس نے سوچ لیا تھا, وہ کچھ ہی دنوں بعد انیتا کو واپس بلوا کر طلاق کا مطالبہ کر دے گی, بس اس لمحے اسے ؤد کو بچانا تھا
“انیتا کیسے مانے گی ؟؟؟؟” آمنہ نے کہا
“وہ میرا کام ہے… ” اسماء نے جلدی سے کہا, آمنہ نے عمر فاروق کی طرف دیکھا
“سوچتے ہیں…. ” وہ. کہہ کر اٹھ گئے, دال میں انہیں کچھ تو کالا لگ رہا تھا
………………………….
“حدید بھائی… اٹھیں…دونوں مل کر کھانا کھاتے ہیں” زرقا کھانے کی ٹرے لیکر آئی تھی,حدید معمول کے مطابق بستر پر جوتوں سمیت پڑا تھا, بڑی مشکلوں سے زرقا نے اسے کھانے کے لئے راضی کیا
“حدید بھائی… جذباتی ہونے کا کوئی فائدہ نہیں, ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ وہ کہاں گئی ہوں گی ؟؟” زرقا نے کہا
“زرقا میرا دل نہیں مانتا کہ وہ اس شخص کے ساتھ چلی گئی…” حدید نے کہا
“کون ہو سکتا ہے وہ ؟؟؟” زرقا نے پوچھا
“لمبا سا قد تھا, جیکیٹ پہنے ہوئے تھا, چہرہ چھپایا ہوا تھا, میرے سامنے وہ ایک لفظ بھی نہیں بولا…. ” حدید نے کہا, پچھلے ہفتے سے وہ نیند کی گولی لینے لگ گیا تھا
“حدید بھائی…. ہسپتالوں میں پتہ کر لینا تھا… ” زرقا نے ہچکچاتے ہوۓ کہا
“کیا ہے… اس دن سے روز کر رہا ہوں… نہیں مل رہی” حدید جیسے ڈھے سا گیا
“آپ پریشان نہ ہوں…. اللہ خیر کرے گا” حالانکہ وہ خود اس سے بھی زیادہ پریشان تھی, تبھی اس کا سیل. بجا, طہٰ کی کال تھی
“کیسی ہو ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ٹھیک ہوں… ” وہ اوپر آ گئی تھی
“پہلا نوٹس مل گیا تمہیں. ..؟” اس نے پوچھا
“ابھی نہیں ملا…. “
“اب تک مل جانا چاہئے تھا” وہ بولا, زرقا خاموش رہی
“زرقا… میں نے ابو سے بات کر لی ہے, شازیہ باجی کو بھی بتا دیا ہے, وہ سب لوگ تمہیں اپنانے کے لئے تیار ہیں, ابو بہت بدل گئے ہیں, وہ تو مجھے یہ بھی کہہ رہے تھے کہ زرقا چاہے طلاق کے بعد اپنے ابو کی طرف چلی جاۓ, میں خود جا کر اس کا رشتہ مانگ کر آؤں گا…. ” طہٰ کہتا چلا گیا
“کاش… کاش زرقا تمہاری شادی تھوڑا سا اور ڈیلے ہو جاتی, ابو نے مان ہی جانا تھا” وہ بولا
“لیکن میرے ابو نہیں مانیں گے طہٰ… ” زرقا نے کہا
“وہی تو…. تبھی تو ابو کو یہ ہی کہا ہے کہ میں اسے تمہیں گھر لا کر نکاح کروں گا” زرقا خاموش رہ گئی
“زرقا… “
“ہاں… “
“تم خوش نہیں ہو ؟؟؟” اس نے پوچھا
“خوش ہوں… ” وہ بولی تو لحجہ خشک سا تھا
“صرف دو ماہ اور… پھر ہم دونوں ایک ہوں گے” طہٰ نے مضبوط لحجے میں کہا تھا
“حدید بھائی کہاں ہیں ؟؟؟”اس نے پوچھا
“اندر ہیں… کھانا کھلایا ہے بڑی مشکلوں سے” وہ بولی
“غاشیہ کا کچھ پتہ چلا ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“نہیں… ” وہ مختصراً بولی, طہٰ کا دل تو کیا کہ اسے حقیقت بتا دے لیکن پھر ارمغان کا سوچ کر رک گیا تھا
………………………..
“انیتا… ” اسماء اب اسے منانے کے جتن کرنے آئی تھی, ارمغان کی ڈیڈ لائن میں صرف دو دن رہ گئے تھے
“انیتا چندا میری بات دھیان سے سن…. ” وہ اس کے سرہانے جا بیٹھی, دروازہ بند کر دیا تھا
پھر جو بولنا شروع ہوئی… انیتا وہ واحد انسان تھی جسے اس نے سب کچھ بتا دیا تھا, اس کی ارمغان سے ملاقات سے لیکر اس کی بلیک میلنگ تک… سب کچھ
“وہ بہت کمینہ انسان ہے انیتا, اس نے مجھے انتہائی پریشن کر رکھا ہے, وہ یہ چکر نہ چلاتا تو اب تک میں تیری اور حدید کی بات چلا چکی ہوتی…. ” ااماء کہتی چلی گئی, انیتا چپ چاپ سب کچھ سنتہ رہی, وہ تو ویسے بھی ان دنوں عجیب اکل کھری سی ہو گئی تھی, جب سے حدید نے اسے اس کی اوقات یاد کروائی تھی… وہ. جیسے اپنے خول میں بند ہو گئی تھی
“مجھ سے کیا چاہتی ہیں آپ ؟؟؟” وہ اس کی تقریر سنتے سنتے تنگ آ گئی, اسے اس ساری کہانی میں کوئی حصہ بھی fascinating نہیں لگا, ہر بات ہی بری لگ رہی تھی, ہر لفظ ہی زہر لگ رہا تھا
“تو ایک بار ارمغان سے شادی کر لے… بس کچھ دنوں کے لئے, پھر میں خود تجھے وہاں سے لے آؤں گی, وہ خبیث اپنے ہاتھوں تجھے طلاق دے گا…. ” اسماء کہتی چلی گئی
“دفع مار حدید کمینے کو, تیرے لیے کوئی لڑکوں کی کمی ہے, میں خود تیری کسی امیر کبیر شہزادے سے شادی کرواؤں گی… بس ایک بار اس ارمغان ک پتہ صاف ہو جاۓ” اسماء نے کہا, انیتا نے بیزاری سے اسے دیکھا
“اسقدر شیطانیاں آپ اپنے دماغ میں پال کیسے لیتی ہیں ؟؟؟” وہ بولی
“انیتا… پلیز یار” اسماء کو موت نظر آ رہی تھی
“سوری اسماء باجی… میں کوئی کھلونا ہوں” وہ تنگ آ گئی
“انیتا وہ خبیث صمد کو سب کچھ بتا دے گا, امی اور باو مجھے جان سے مار دیں گے پلیز انیتا… ” اسماء رونے والی ہو گئی
“مجھے وہ ذرا اچھا نہیں لگتا… ” انیتا دھم سے تکئے پر گر گئی
“صرف چند دن…. انیتا بس چند دن” اسماء بس ہاتھ جوڑتے جوڑتے رہ گئی تھی
……………………
“تم نے کیا سوچا ہے اب ؟؟؟” وہ دونوں باہر پلاٹ میں بیٹھی گریٹ فروٹ کھا رہی تھیں, سردیاں گزر چکی تھیں اور بہار کی آمد آمد تھی
“صفوان کو طلاق دینے کا کہا ہے… ” وہ بولی, معاذ پلاٹ میں رینگتا پھر رہا تھا
“اتنی آسانی سے تو نہیں چھوڑے گا تمہیں…. ” غاشیہ نے کہا
“پھر خلع لے لوں گی” وہ بولی
“قسمت بھی کیا چیز ہے نا…. پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب کیا ہو جاۓ ؟؟؟” غاشیہ نے کہا
“رافع سے دوبارہ کبھی بات ہوئی ؟؟؟” غاشیہ نے پوچھا
“مجھے اس رات وہی گھر چھوڑ کر گیا تھا” ناشیہ نے. کہا, غاشیہ حیران رہ گئی, ناشیہ نے اسے سارا قصہ کہہ سنایا
“اس کی بیوی نے خلع ک اکیس دائر کیا ہوا ہے, معاذ سے دو ماہ چھوٹی بیٹی ہے اس کی” ناشیہ دھماکے کرتی جا رہی تھی
“کمال ہے… وہ کوئی دنیا کی بد قسمت ترین عورت ہی ہے جو رافع جیسے بندے کے ساتھ بھی خوش نہیں رہ سکی” غاشیہ نے کہا
“میری اور رافع کی کولیگ ہی تھی… حریم ” وہ بولی
“بیچارہ بچی بھی خود ہی پال رہا ہے… کبھی کبھی مجھے خود سے زیادہ اس پر ترس آتا ہے, ان دونوں بھائیوں کی ہی قسمت پھوٹ گئی غاشی…. حالانکہ رافع کی امی انتہائی شفیق خاتون ہیں” وہ. کہتی چلی گئی
“دونوں بھائی… ؟؟؟؟” غاشیہ حیرانی سے بولی
“تمہیں نہیں پتہ ؟؟؟” ناشیہ نے چونک کر اسے دیکھا
“کیا ؟؟؟”
“صفوان جس لڑکی کو بھگ لے گیا تھا وہ رافع کے بڑے بھائی کی بیوی تھی…. دو بچوں کی ماں” ناشیہ نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا, غاشیہ کتنی ہی دیر تلک بول. نہ سکی
“دو بچوں کے بعد بھی اسے کسی اور کے ساتھ بھاگنے کی گنجائش باقی تھی ؟؟؟” ناشیہ نے بس کندھے اچکا دییے
“اب تو شاید اس کے دونوں بچے سکول جانے لگ گئے ہیں… ان کی ماں کی قسمت دیکھو… کہ آدھی زندگی شوہر کے روگ میں گزار دی اور باقی کی بیٹوں کے دکھ میں… سکھ ملا ہی نہیں” وہ بولی
“خدا نہ کرے میرے کسی بچے کا نصیب ایسا ہو” غاشیہ کو جھرجھری آ گئی
“بچے… ؟؟؟” ناشیہ نے اسے پکڑ ہی لیا
“ہاں یار… جڑواں ہیں…. ” وہ ہنستے ہوئے بولی تھی
“حدید کو پتہ ہے ؟؟؟” ناشیہ نے پوچھا, غاشیہ نے نفی میں سر ہلا دیا تھا
………………………….
وہ اس دن گھر پہنچا تو دروازہ پہلے سے کھلا ہوا تھا, حیران ہوتا ہوا وہ اندر آ گیا, اندر عمر فاروق ٹی وی چلاۓ بیٹھے تھے
“آپ ؟؟؟” وہ ذرا سا پریشان ہوا تھا
“روز ہی اتنا لیٹ آتے ہو ؟؟؟” انہوں نے دس بجاتی گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
“جب دل کرتا ہے تو آ جاتا ہوں, میری کونسا پیچھے بیوی انتظار میں ہوتی ہے” وہ سامان ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولا
“چلو اب تو ہوا کرے گی” وہ دھیمے سے مسکراۓ تھے, ارمغان چپ چاپ دہی بڑے اور فروٹ چاٹ باؤل میں نکالتا رہا
“کھانا کھائیں گے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“یہ ہی کھلا دو جو لاۓ ہو” وہ بولے, ارمغان نے چپ چاپ دونوں باؤل ان کے سامنے رکھ دییے, پھر کچن میں سے کٹوریاں اور چمچ اٹھا لایا
“کیا جگاڑ لگایا ہے ؟؟؟” انہوں نے کچھ دیر بعد پوچھا
“کیا مطلب ؟؟”
“اب اتنے بھی بھولے نہیں ہو تم… آخر کو اسماء راۓ کو رام کر لیا تم نے ” وہ مسکراۓ تھے, ارمغان نے سر جھکا لیا
“ارمغان… “انہوں نے دھیرے سے اسے پکارا, وہ ان کی طرف دیکھنے لگا
“اس کی کسی نا کسی شہہ رگ پر پاؤں دھرا ہے نا تمہارا ؟؟؟” وہ پوچھ رہے تھے, امغان دم بخود رہ گیا
“میں تمہیں روکنے نہیں آیا ارمغان… لیکن… ” وہ ذرا سا آگے کو ہوۓ
“میری ایک بیٹی کو بساتے بساتے دوسری کو مت اجاڑ دینا” انہوں نے دھیرے سے کہا تھا, ارمغان نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“اس رات غاشیہ سے ملنے میں گیا تھا… آپ کی بیٹی کے کہنے پر… ” اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے اپنے موبائل کی ساری کال ریکارڈنگز ان کے آگے رکھ دیں
ایک کے بعد ایک وہ سب سنتے چلے گئے, چہرہ متغیر ہوتا گیا, رنگت زرد ہوتی گئی
“مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میرے خمیر سے اٹھے اسماء کے خمیر اسقدر شر کہاں سے آ گیا” وہ ششدر سے بیٹھے رہ گئے تھے
“مجھے بدلہ لینا تھا… تیمور ملک سے… راۓ عبید سے… اور مجھے انیتا کو پانا تھا… میرے پاس صرف ایک تیر تھا جس سے دو شکار ہو سکتے تھے, مجھے پتہ تھا غاشیہ ملک کون ہے… تیمور ملک کی بیٹی, وحید ملک کی پوتی… اگر اسے اجاڑنے کے بدلے میں انیتا کو پا سکتا تھا تو کیا برا تھا… لیکن… ” وہ ذرا سا رکا
“اسی رات مجھے وہ سچ پتہ چلا جو آپ کو بھی نہیں پتہ تھا… ” ارمغان نے وہ خط بھی ان کے سامنے رکھ دیا
“میری ماں نے ستائس سال پہلے صرف مجھے جنم نہیں دیا تھا… میری جڑواں بہن نے میرے ساتھ سانس لی تھی… میری جڑواں بہن… غاشیہ ملک… ” وہ کہتا چلا گیا, عمر فاروق حیرت سے گنگ ہو گئے تھے
“میں ہی تھا اس رات حدید کے پورشن میں… میں ہی لے گیا تھا غاشیہ کو اپنے ساتھ, پچھلے تین ہفتوں سے وہ یہاں میرے ساتھ ہی رہ رہی تھی, ابھی کل ہی میں اسے تیمور ملک کے گھر چھوڑ کر آیا ہوں… ” وہ بولا
“تو بدلہ پورا ہوا ؟؟؟” انہوں نے اس کی طرف دیکھا
“تیمور ملک کی بیٹی خالی ہاتھ اس کی دہلیز پر واپس لوٹ گئی تو بدلہ پورا ہوا نا ارمغان ملک ؟؟؟ راۓ عبید اپنے لاڈلے بیٹے کے لیے دن رات تڑپ رہا ہے تو بدلہ پورا ہوا نا… ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“اس نے بس… روتے ہوئے مجھے کہاکہ… مجھے معاف کر دو… اور… ” ارمغان کے آنسو پانی کی طرح بہہ رہے تھے
“…اور میں نے معاف کر دیا… اس فرعون کو معاف کر دیا جس کی وجہ سے میں نے ساری عمر باپ کا لمس محسوس نہیں کیا… مجھے پتہ پی نہیں کہ وہ کیسے تھے ؟؟؟ میں نے انہیں دیکھا ہی نہیں… میں نے اسے معاف کر دیا جس کی وجہ سے مجھے ستائس سال تک اپنی جڑواں بہن کا پتہ نہیں چلا… میں نے… اسے اسی وقت معاف کر دیا” وہ رو رہا تھا, انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
“ستائس سالوں بعد اگر کوئی فرعون انسان بن کر شرمندہ ہو تو یہ کافی ہے ارمغان… ” وہ دھیرے سے بولے تھے
“انکل اگر آپ کہتے ہیں تو میں یہیں رک جاتا ہوں, اس کے باوجود کے میں انیتا سے بہت محبت کرتا ہوں, وہ بس مجھ سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑی ہے, شاید کچھ دنوں بعد وہ یہاں میرے سامنے بیٹھی ہو گی جہاں آپ بیٹھے ہیں مگر… میں پھر بھی واپس پلٹنے کے لئے تیار ہوں, اس کے بنا اگر ستائس سال گزر گئے تو اگلے ستائس بھی گزر جائیں گے…. ” اس نے آنکھیں رگڑتے ہوۓ ان کی طرف دیکھا
“اگر آپ کہتے ہیں تو میں آپ کی ایک بیٹی کو بسانے کی خاطر دوسری کو نہیں اجاڑتا لیکن… جب تک وہ خود اجڑنے کی تکلیف سے نہیں گزرے گی…تب تک وہ میری بہن کو اجاڑتی رہے گی, وہ انیتا کے دل میں حدید کی امید جلاۓ رکھتی ہے, آج اگر میں نے وہ امید ختم نہیں کی تو وہ انیتا کی تلوار تا عمر غاشیہ کے سر پر لٹکاۓ رکھے گی… پھر بھی آپ کہتے ہیں تو میں رک جاتا ہوں” وہ کہتا چلا گیا, عمر فاروق نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی
“چاۓ تو بناؤ… ” وہ بولے, ارمغان کچھ ہی دیر میں چاۓ بنا لایا, وہ کپ خالی کر کے اٹھ کھڑے ہوئے
“انکل… ” ارمغان نے انہیں پکارا, یوں جیسے پوچھ رہا ہو کہ اب میں کیا کروں
“میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں تمہیں روکوں گا نہیں… ” وہ دھیرے سے کہہ کر باہر نکل گئے
کبھی کبھار ڈراوا دینا پڑتا ہے… پھر وہ چاہے سگی بیٹی ہی کیوں نا ہو
…………………………
جاری ہے