No Download Link
Rate this Novel
Episode 44
“بابر… ” رضیہ اسے چاۓ دینے آئی تھی, وہ کروٹ لیے لیٹا تھا
“ہاں… “
“فرح کا کیا کرنا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“پڑا رہنے دے اسے وہیں… بس ایسے ہی ٹھیک ہے” وہ سیدھا ہوتے ہوئے بولا
“یہ مسئلے کا حل نہیں ہے بابر… جوان لڑکی ہے وہ, کسی نا کسی دن نقب لگا کر چلی جاۓ گی… ہمیشہ کے لئے ” رضیہ نے کہا, بابر چپ چاپ چاۓ کے گھونٹ بھرتا رہا
“شافع کیا کہتا ہے ؟؟؟” کچھ دیر بعد اس نے پوچھا
“وہ ابھی بھی سے اپنے بچوں کی ماں کہتا ہے” بابر نے کہا
“بابر… اس لڑکے کو دھوکے میں نا رکھ, وہ شاید ایک بار پھر اسے لے جاۓ… کیونکہ وہ بانو کو اس کی ماں سمجھتا ہے, وہ بانو کے منہ کو اسے ساری عمر جھیلتا رہے گا… اور ساری عمر تباہ ہوتا رہے گا” رضیہ نے کہا
“اسے سچ بتا دے… بابر روبینہ کو بھی سچ بتا دے, وہ بھی اس دنیا سے چلی گئی تو کیا کرے گا تو ؟؟؟ ” رضیہ کہتی چلی گئی تھی
بابر بس سر جھکاۓ سنتا رہا… نہ جانے کتنی ہی بار وہ روبینہ کا سامنا کرنے کاسوچ چکا تھا لیکن کیسے کرتا ؟؟؟ کیسے اسے کہہ دیتا کہ میں نے اپنے نفس کی تسکین کے لئے تجھے اجاڑ دیا ؟؟؟ کیسے اپنے بددکار ہونے کا قصہ اپنی زبانی ہی سنا دیتا…. ؟؟؟
ہر بار اس نے وہاں جانے کی ٹھانی… اور ہر بار ہمت نہ کر سکا, اب بھی رضیہ کی باتیں اسے کچوکا لگا گئی تھیں
کوئی ایک جرم تھوڑی تھا جس کی معافی مانگنی تھی اسے… گڑیا, بانو, واحد, شاکر, روبینہ…
اگلے دن اس نے پھر ہمت باندھی, پورا دن وہاں جانے کا ارادہ کرتا رہا… آخر کار شام کو ساجد سے کہہ کر گاڑی نکلوا ہی لی
مغرب سے ذرا پہلے کا وقت تھا جب وہ وہاں پہنچا…شافع گھر آ چکا تھا, رافع بھی گھر پر ہی تھا, دروازہ بجا تو رحمہ بھاگتی ہوئی دروازہ کھولنے گئی
“نانا جی آ گئے… ” اس کی پکار پر صحن میں بیٹھی روبینہ چونک گئی… اس شخص کو دیکھ کر آج بھی اس کے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے تھے
“شافع آ گیا… ؟؟؟” وہ وہیں چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولا
“جی… ” وہ سر پر دوپٹہ لیتے ہوئے بولیں
“رحمہ… پاپ کو بلاؤ” انہوں نے رحمہ سے کہا اور خود سر جھکا کر بیٹھ گئیں, شافع ابھی ابھی نہا کر نکلا تھا, گیلے پانی کے قطرے بالوں سے شرٹ پر گر رہے تھے, بابر اس سے ہلکا سا گلے ملا
“میں چاۓ بنواتی ہوں… ” روبینہ اٹھنے ہی لگی تھیں جب اس نے روک لیا
“مجھے… تم سب سے ایک ضروری بات کرنی ہے…. ” وہ دھیرے سے بولا, آج حسب عادت سگریٹ غائب تھا
“رافع کہاں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“وہ اوپر ہے… ” روبینہ نے کہا
“شافع…. تو نے کیا سوچا ہے پھر ؟؟؟” بابر نے پوچھا, وہ خاموش سا ہو گیا
“دیکھ شافع…. اگر تجھے اس پر اسلیے ترس آتا ہے کہ وہ روبینہ کی یتیم لڑکی ہے تو… ” وہ کہتے کہتے رکا
“…تو یہ جھوٹ ہے” وہ بولا, روبینہ اور شافع نے چونک کر اسے دیکھا تھا
“وہ… میری بیٹی ہے… ” وہ سر جھکاۓ کہہ ہی گیا تھا, شافع دم بخود رہ گیا
“کون ہے اس کی ماں ؟؟؟” روبینہ نے انتہائی سرد سی آواز میں پوچھا, بابر نے سر اٹھایا, روبینہ سے نظریں ملانے کی کوشش کی لیکن… ملا نہ سکا
“گڑیا… “اس کے کہتے ہی روبینہ ششدر رہ گئیں
یعنی ابھی کچھ اور بھی ایسا تھا جو انہیں نہیں پتہ تھا
“روبینہ… مجھے معاف کر دے… میں تیرا مجرم ہوں… میں تیرا اور شاکر کا دونوں کا مجرم ہوں…. اعتراف جرم سے بڑھ کر مشکل کچھ بھی نہیں
“میں نے گڑیا کو ورغلایا… شاکر کو ورغلایا… میں نے…. ” وہ رکا اور پھر ایک لمبی سانس بھر کر سب کچھ کہتا چلا گیا
چہرہ ہر جذبے سے عاری تھا… آنکھوں میں شرمندگی ویسے نہیں تھی جیسے ہونی چاہیے تھی, لحجہ ایک دم سپاٹ تھا… وہ بس اپنا ہر گناہ قبولتا چلا گیا, شافع ششدر سا پاس بیٹھا اسے سن رہا تھا… روبینہ پر جیسے پہاڑ آن گرا تھا
“مجھے معاف کر دینا… میں… آگے سب ٹھیک کر دوں گا” اس نے بدقت کہا تھا
“وہ آئی تھی… وہ جس نے واحد سے دل لگانے کی سزا پائی تھی… اسی کی بہن پر ہاتھ ڈالا تھا جس رات رافع اسے واپس لیکر آیا… وہ کہہ گئی ہے کہ قیامت تک معاف نہیں کرے گی… وہ کہہ گئی ہے کہ روز محشر گریبان پکڑے گی.. ” روبینہ کے آنسو نہ تھم رہے تھے
“رضیہ کا نہیں پتہ کہ معاف کرتی ہے یا نہیں… گڑیا, بانو, شاکر, واحد… سب کا فیصلہ روز قیامت ہی ہو گا… اور میں… ؟؟؟” وہ دھیرے سے رکیں
“میں کر دوں گی معاف… اس دن جس دن میرے دل نے معاف کر دیا, جس دن میرے بچے سکھی ہو گئے, جس دن میرا شافع ہنسنے لگا, جس دن میرا رافع مسکرانے لگا… جس دن مجھے وہ وحشیوں جیسا لمس بھول گیا… اس دن کر دوں گی معاف… ورنہ قیامت تک نہیں کروں گی” وہ روتی جا رہی تھیں
اور وہ کیوں نا روتیں…. ؟؟؟ عمر کے تیس برس انہوں نے پایا ہی کیا تھا ؟؟؟؟ شوہر ملا تو سال بعد ہی آنکھ بند کر گیا… اس کے بعد پندرہ سال ایک ایسے شخص کے ساتھ گزار دییے جس کے وجود سے ہی انہیں نفرت تھی, جو ہاتھ بھی لگاتا تو وہ جھلس اٹھتی تھیں, جس کا کانٹوں جیسا لمس جسم کو نوچتا رہتا تھا, جس کی بھیڑیے جیسی آنکھوں سے انہیں خوف آتا تھا… پندرہ سال
پندرہ سال ایک ان چاہے شخص کے ساتھ برباد کر دئیے, پھر اپنی آنکھوں سے اسے جانور بنے دیکھا… اپنے بیٹوں جیسے بیٹے کو مرتے دیکھا… پھر بس باقی کی زندگی دونوں بچوں پر لگا دی… دن رات ایک کر کے ان دونوں کو کسی مقام تک پہنچایا… اتنا اونچا مقام کہ لوگ رشک کرنے لگے
لیکن… وہ کہتے ہیں نا… کہ ماں باپ اولاد کو سب کچھ دے سکتے ہیں بس اچھا مقدر نہیں دے سکتے, انہوں نے شافع اور رافع دونوں کے لئے خود کو وار دیا لیکن… آج دونوں میں سے کسی ایک کے لبوں پر بھی مسکراہٹ نہیں تھی… آج وہ دونوں ہی اپنی اولاد کے لئے خود کو وار رہے تھے… بالکل اپنی ماں کی طرح
“فرح کو چھوڑ دے شافع… وہ تیرے قابل نہیں ہے, اس کا نصیب کسی اسی جیسے سے ملے گا ” وہ کہتا ہوا کھڑا ہو گیا تھا
………………………..
صمد گیارہ بجے ہی سٹور سے واپس آ گیا تھا, شاید اسے حدید نے کال کی تھی, کچھ ہی دیر بعد حدید بھی آ گیا
“ابو تیار ہیں صمد بھائی… ” وہ اس کے کمرے تک آیا تھا
“ہاں بس کپڑے بدلنے لگے ہیں” وہ ایک نظر اسماء کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جو خاموش سی بستر پر بیٹھی تھی
“جلدی کریں… ” وہ بولا
“تو چینج تو کر لے” صمد نے کہا
“ایسے ہی ٹھیک ہے… ” وہ فارمل زنک پینٹ کے ساتھ آف وائیٹ فارمل ہی شرٹ پہنے ہوئے تھا, صمد جلدی سے راۓ عبید کے کپڑے لیکر باہر نکلا
“ابو جلدی کریں یار…. ” حدید نے کہا
“اسماء کہاں ہے ؟؟؟” انہوں نے جواباً پوچھا
“اندر ہیں… ” وہ بولا, زرقا بھی نیچے آ گئی تھی
“زرقا بچے ذرا دھیان سے… شام کو میں چھوڑ آؤں گا تمہیں…صمد بھائی گھر پر ہی ہیں” حدید نے کہا
“چلو اسماء… ” کچھ ہی دیر بعد صمد نے اسے آواز دی تھی… اسماء نے ستے ہوۓ چہرے کے ساتھ چپ چاپ اپنی چادر اٹھائی اور کھڑی ہو گئی, صمد جانتا تھا کہ یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ تھی… اس نے واپس آ کر پھٹ پڑنا تھا
حدید جلدی سے باہر کی طرف بڑھا, اس کی گاڑی گیٹ سے باہر کھڑی تھی, راۓ عبید اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئے تھے, اسماء چپ چاپ پیچھے بیٹھ گئی
حدید کا بس نہیں چل رہا تھا کہ گاڑی کو ہوائی جہاز بنا دیتا…
“حدید… آرام سے, جلدی کس بات کی ہے” راۓ عبید نے اسے کئی بار ٹوکا تھا, پندرہ, بیس منٹ میں وہ لوگ ملک ہاؤس پہنچ گئے, اسماء کی ساری حجتیں اور کوششیں بیکار ہی گئیں
“آئیں ابو… ” حدید نے گاڑی باہر ہی کھڑی کر دی تھی
“چل اسماء…. ” راۓ عبید نے گاڑی کے پاس کھڑی ساکت سی اسماء سے کہا تو وہ ان سے ذرا پیچھے ہو کر چل پڑی
دروازہ شازیہ نے کھولا تھا
“انکل گھر پر ہی ہیں ؟؟؟” حدید نے پوچھا
“ہاں… ” وہ ایک نظر اسماء کو دیکھ کر پیچھے کو ہٹ گئی
“آ جاؤ اندر… ” شازیہ انہیں لیکر ڈرائینگ روم تک آئی تھی
“ناشیہ… خالد کو کال کر دے” وہ انہیں بٹھا کر خود باہر نکل آئی
“کیا ہوا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“حدید آیا ہے… اپنے باپ اور اسماء کو لیکر” شازیہ نے کہا, کمرے سے نکلتی غاشیہ نے بھی سن لیا تھا
“وہ آ گئی… ؟؟” اسے یقین نہیں ہو رہا تھا
“ہاں… ابو باہر آئیں ذرا, حدید آیا ہے” شازیہ نے تیمور ملک کے کمرے میں جھانکا
“ساتھ اس کا باپ اور بھابھی بھی ہے… ” وہ بولی, تیمور ملک باہر نکل آۓ
“چاۓ بناؤ… ” انہوں نے شازیہ سے کہا
“رہنے دیں…. کوئی ضرورت نہیں ہے” غاشیہ نے فوراً کہا تھا
“خالد کو بلایا… ؟؟؟” وہ ڈرائنگ روم کی طرف جاتے ہوئے بولے
“جی… کال کر دی ہے اسے” شازیہ ان کے پیچھے ہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تھی
عام حالات میں راۓ عبید شاید اس شخص کی شکل دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے جس سے آج مصافحہ کرنا پڑ رہا تھا
“انکل میں ابو کو لے آیا ہوں, یہ غاشیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے یہاں سے لیکر جائیں گے” حدید نے کہا
“غاشیہ کو بلاؤ… ” تیمور ملک نے شازیہ سے کہا, کچھ ہی دیر بعد وہ اندر آ گئی, اسماء نے اسے یوں دیکھا جیسے آنکھوں میں ہی نگل جاۓ گی
حدید تڑپ اٹھا تھا… آج چھ ہفتوں بعد دیکھا تھا اسے, وہ بس چپ چاپ تیمور ملک کے پہلو میں بیٹھ گئی
“غاشیہ بچے کیا ہوا تھا اس رات ؟؟؟” تیمور ملک نے پوچھا, حدید کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کروا دیا
“میں اپنے کمرے میں تھی… باہر آہٹ سی ہوئی, مجھے یہ ہی لگا کہ حدید آیا ہو گا, میں باہر نکلی تو… وہ حدید نہیں تھا… کوئی اور تھا” غاشیہ کہتی چلی گئی
“کون تھا ؟؟؟” انہوں نے پھر پوچھا
“مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ کون تھا… ” غاشیہ نے کہا
“تبھی یہ اوپر آ گئی… ساتھ حدید اور حدید کے ابو تھے, کسی نے میری ایک نہیں سنی, اس عورت نے مجھے تھپڑ مارا, دھکے دیئے, گھر سے باہر نکال دیا اور حدید… بس چپ چاپ واپس پلٹ گیا” غاشیہ کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے
“یہ کون ہے عبید ؟؟؟” اب کے انہوں نے ڈائریکٹ راۓ عبید سے پوچھا
“یہ میری بڑی بہو ہے…. ” انہوں نے دھیرے سے کہا
“اس سے پوچھو کہ اس رات غاشیہ کے پورشن میں کون تھا ؟؟” وہ بولے
“مجھے کیا پتہ… ؟؟؟ پورشن اس کا, یاریاں اس کی… دوست اس کا… ” اسماء تڑخ گئی
“میں آخری بار پوچھ رہا ہوں کہ وہ کون تھا… ؟؟” تیمور ملک نے ذرا سختی سے کہا
“اپنی بیٹی سے پوچھو… ” وہ زور سے چیخی, تیمور ملک نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اسماء اور ارمغان کی ساری ریکارڈنگز چلا دی تھیں
ایک کے بعد ایک…
“ایک کام تھا تم سے… ؟؟؟”
“جی… بولیں… “
“ایک افییر چلانا ہے ؟؟؟”
“افییر… کس سے ؟؟؟
“غاشیہ ملک سے… حدید راۓ کی بیوی”
“کیوں ؟؟؟”
“کیونکہ مجھے اسے تباہ ہوتے دیکھنا ہے… بالکل تباہ”
ریکارڈنگز چلتی جا رہی تھیں, راۓ عبید اور حدید ششدر سے بیٹھے رہ گئے, اسماء کا پورا بدن لرز گیا تھا
“تمہاری بہو جانتی تھی کہ اس رات غاشیہ کے پورشن میں کون تھا, اسی نے تو بھیجا تھا اسے, اسی کا تو پلان تھا سارا… اس نے جان بوجھ میری بچی کو رات کے اندھیرے میں در بدر کر دیا ” تیمور ملک کہتے چلے گئے
“اور جانتے ہو عبید کہ وہ کون تھا ؟؟؟” انہوں نے کہا, راۓ عبید نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھا
“وہ تمہارا بھانجا تھا… ارمغان” کوئی ایک پہاڑ تھوڑی تھا جو حدید کے سر پر گرا تھا
“ارمغان… اس نے جانتے بوجھتے ہوۓ یہ سب کیا ؟؟؟” حدید کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی تھی
“یہ وہ خود تجھے بتاۓ گا کہ اس نے ایسا کیوں کیا ؟؟؟ مجھے بس اتنا پتہ ہے کہ سب سے زیادہ قصوروار تو ہے حدید ؟؟؟ تو نے اپنی بیوی پر بھروسہ نہیں کیا… ” وہ بولے
“میری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دیں انکل… غاشیہ… ایم سوری… میں صرف اسلیے اس رات وہاں سے چلا گیا کہ… کچھ غلط نہ کر بیٹھوں… غاشیہ یار میں بھی انسان ہوں…فرشتہ تو نہیں ہوں نا…. بہک جانا, ورغلاۓ جانا, غصہ ہو جانا… یہ میری بھی تو سرشت میں ہے نا…. ” وہ کہتا چلا گیا
“اس عورت نے مجھے تھپڑ مارا… ” غاشیہ کے آنسو نکل آۓ, حدید یکدم اٹھا اور اس کے پاس نیچے فرش پر بیٹھ گیا, غاشیہ کے دونوں ہاتھ اس نے اپنے ہاتھوں میں لے لئے تھے
“ایم سوری… غاشی ایم سوری… “
“عبید… جانتے ہو یہ کون ہے ؟؟؟” تیمور ملک نے دوبارہ ان کی طرف دیکھا
“یہ تمہاری بہن اور میرے بھائی کا خون ہے…. یہ ارمغان کی سگی بہن ہے… ” وہ بولے, اب اسماء کی آنکھیں بھی پھیلی تھیں
“کیا مطلب ؟؟؟” راۓ عبید کو یقین نا آیا
“اس رات ہسپتال میں تمہاری بہن نے جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا… ارمغان اور غاشیہ…. ” انہوں نےکہا
“اور اس بات کا تمہارے بہنوئی کو بھی نہیں پتہ… ارمغان نے یہ سب کیوں کیا… ؟؟؟ یہ وہ تم لوگوں کو خود بتاۓ گا… ابھی صرف مجھے یہ بتا دو کہ تمہاری بہو نے یہ سب کیوں کیا ؟؟” انہوں نے پوچھا, راۓ عبید نے بیساختہ سا اسماء کی طرف دیکھا… حدید کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے گولی مار دیتا
“آپ کے بھائی نے بھی تو وہی حرکت کی تھی نا… جو غاشیہ نے کی… تو جب بھائی کو واپس لے گئے تھے تو بیٹی کو کیوں نہیں لے کر گئے ؟؟؟ اسے ہمارے سروں پر کیوں تھوپ دیا ؟؟؟” وہ ٹھنڈے ٹھار لحجے میں بولی تھی
“کیونکہ میں اپنے چوبیس سال کے جوان بھائی کو ایک زندہ لاش بنے دیکھ چکا تھا… اور مجھ میں ایک اور زندہ لاش کو دیکھنے کی ہمت نہیں تھی… یہ شاہ نور کا خون تھی… میں واپس لے بھی آتا تو میری نہیں بنتی… ہمیشہ حدید کی ہی وفادار رہتی ” وہ بولے
“تو بس پھر… جو آپ نے نہیں کیا… وہ میں نے کر دیا” وہ اعتراف بھی پوری ڈھٹائی سے کر رہی تھی
“اور تمہیں کس نے حق دیا تھا یہ سب کرنے کا ؟؟؟” حدید تیر کی طرح اس کی طرف آیا تھا, وہ یکدم ڈر کر کھڑی ہو گئی
“یہ میری بیوی ہے… جب میرے باپ یا بھائیوں میں سے کسی نے اسے کچھ نہیں کہا… تو تم کون ہوتی ہو اسے گھر سے نکالنے والی ؟؟” حدید کا اتنا سرد لحجہ غاشیہ نے بھی پہلی بار سنا تھا
“تم ہو کون اسماء راۓ… آج میرا بھائی تمہیں طلاق دے دے تو کیا رہ جاۓ گا تمہارے پاس ؟؟” وہ مزید اس کے قریب ہوا
“حدید… بس کر دے” راۓ عبید کے کندھے جھک گئے تھے
“ابھی اسی وقت میری بیوی سے معافی مانگو گی تم… ” وہ بولا, غاشیہ بھی کھڑی ہو گئی تھی, اسماء خاموش کھڑی رہی
“معافی مانگو… ” وہ بولا
“میں نہیں مانگوں گی… ” وہ کپکپاتے لبوں کے ساتھ بولی تھی, ہتک کے احساس سے آنکھوں کے گوشے پانی سے بھر گئے تھے
“چلو ٹھیک ہے… پھر ادلے کا بدلہ” حدید نے غاشیہ کا ہاتھ پکڑ کر اس کے سامنے کر دیا
“مارو اسے تھپڑ… جیسے اس نے مارا تھا” وہ بولا, غاشیہ ایک لمحے کو تو ساکت رہ گئی
“مارو… ” حدید نے زور سے کہا اور وہ پوری رات غاشیہ کی آنکھوں میں زندہ ہو گئی
زور دار آواز سے اس نے اسماء کا گال سرخ کیا تھا
“معافی نہیں مانگنی تو آئی کیوں ہو یہاں…. ؟؟؟ نکلو یہاں سے… میرے باپ کا گھر ہے یہ” غاشیہ نے اسے دھکا دیا تھا, تیمور ملک یکدم اسے روکنے کو آگے بڑھے تو شازیہ نے ان کا بازو پکڑ لیا, حدید چپ چاپ کھڑا تھا
“تم جیسی گھٹیا اور ذلیل عورت میں نے آج تک نہیں دیکھی… تمہیں آخر زعم کس چیز کا یے ؟؟؟ انیتا راۓ کا… وہ آج میرے بھائی کی بیوی ہے, اسراء راۓ کا… وہ آج ایک طلاق یافتہ عورت کے سوا کچھ نہیں, آمنہ راۓ کا… وہ میری خالہ ہیں, عمر فاروق راۓ کا… وہ آج بھی میری ماں سے محبت کرتے ہیں… راۓ ہاؤس کی بہو ہونے کا… تو وہ میں بھی ہوں… ” غاشیہ اسے دھکے دیتی ہوئی باہر لے آئی تھی
“ایک بار تو تم ضرور اجڑو گی اسماء راۓ… بھلے ہی میرے شوہر کے ہاتھوں نا سہی… میرے بھائی کے ہاتھوں ہی سہی… ” اس نے زور سے اسے دروازے سے باہر دھکا دیا تھا
“ابھی بھی تم پر ترس کھایا ہے میں نے… تمہارے پیروں میں جوتا ہے, تمہارے سر پر چادر ہے.. جاؤ دفع ہو جاؤ یہاں سے” غاشیہ نے زور سے کہا تھا, راۓ عبید چپ چاپ اس کا ہاتھ پکڑ کر گاڑی تک لے آۓ تھے
حدید وہیں کھڑا رہ گیا, اسماء کو فرنٹ سیٹ پر دھکیل کر انہوں نے گاڑی سٹارٹ کر دی, وہ تو بس بار بار اپنے گالوں کو رگڑ رہی تھی, پورا راستہ وہ ایک لفظ بھی نہیں بولی, گھر پہنچتے ہی وہ تیر کی طرح گاڑی سے نکلی اور گیٹ کے اندر کھڑی ارمغان کی بائیک کونظرانداز کر گئی…بڑے بڑے قدم اٹھاتی جیسے ہی اندر آئی… یکلخت ٹھٹھک گئی
ارمغان عین اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھا تھا.. ٹانگ پر ٹانگ دھرے… اس کی نظر فوراً ساتھ والے صوفے پر گئی, صمد کا چہرہ ستا ہوا تھا
ارمغان اسے دیکھ کر دھیرے سے مسکرایا اور اٹھ کر اس کے قریب آ گیا
“میں نے کہا تھا نا… کہ غاشیہ سے معافی مانگ کر آنا… آپ نے نہیں مانگی… سو… ” وہ کندھے اچکا کر باہر نکل گیا تھا, اندر آتے راۓ عبید نے بس ایک نظر اسے دیکھا
“کیوں کیا یہ سب ؟؟؟” وہ پوچھے بنا رہ نہیں سکے تھے
“آپ نے کیوں کیا تھا وہ سب…. ؟؟؟” وہ رک گیا
“کیوں اجاڑا تھا میرے ماں باپ کو… کوئی کیوں اجاڑتا ہے کسی کو ؟؟؟ اسماء نے کیوں اجاڑنا چاہا میری بہن کو ؟؟” وہ کہتا چلا گیا, راۓ عبید کے پاس کوئی جواب نہیں تھا
“جواب میں کچھ بھی لکھ لیں… انا, ضد, نفرت, ” وہ کہہ کر نکلتا چلا گیا تھا, راۓ عبید اندر آۓ تو وہاں ایک نیا معرکہ سرگرم تھا
صمد کے غصے کا کوئی حال نہیں تھا , زرقا ایک طرف خاموش کھڑی تھی
“اسماء کیا فرق رہ گیا ہے تم میں اور مجھ میں… بڑا غصہ آیا تھا نا تمہیں جب میں نے درید کی دوسری شادی چھپائی تھی… جب تمہاری بہن سے دھوکہ کیا تھا… کیا کچھ نہیں کہا تھا تم نے مجھے… آج وہی تم نے کیا… دھوکہ… آج میرے بھائی کو دھوکہ دیا تم نے.. حساب برابر ہو گیا” وہ زور سے دہاڑا تھا, اسماء بس کھڑی رہ گئی تھی
“تم ایک بات اچھ طرح سمجھ لو اسماء راۓ… کہ تم خدا نہیں ہو, تم اپنی چالوں سے کسی کے مقدر میں خدا کی لکھی خوشیاں نہیں بدل سکتیں…تمہارے اختیار میں تو تمہارا اپنا نصیب نہیں ہے نا کہ تم کسی اور کے نصیب پر سازشیں لڑاؤ… “صمد کو بے حد دکھ تھا, وہ اچھا خاصا گرج برس کر اندر چلا گیا تھا
اسماء کچھ دیر وہیں کھڑی رہی… پھر دروازے سے ہی واپس پلٹ گئی
“اسماء… ” راۓ عبید نے اسے تھکے تھکے سے لحجے میں آواز دی تھی, زرقا اس کے پیچھے بھاگی
“بھابھی رکیں… “
“صمد وہ جا رہی ہے… ” راۓ عبید ڈھے سے گئے
“جانے دیں… ” صمد زور سے بولا تھا
اسماء دروازے سے نکلتی چلی گئی تھی
کچھ لوگوں کا مکافات عمل دنیا میں ہی ہو جاتا ہے…اسماء راۓ اس کی زندہ مثال تھی
……………………………
جاری ہے
