No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
ایک بجے لنچ بریک ہوئی تھی… ارادہ تو نہ تھا لیکن ایک عجیب سے احساس کے زیر اثر اس نے گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور باہر نکل آیا, آج صبح سے ہی اس کے ذہن میں عجیب و غریب سے وسوسے آ رہے تھے, کئی بار وہ روبینہ کو فون کر کے خیریت دریافت کر چکا تھا, اب بھی ڈرائیو کرتا ہوا وہ گھر آ گیا, مین گیٹ وہ لاک کر کے جاتا تھا, روزانہ کا کھانا پکانا صبح ہی دے جاتا تھا, اب بھی وہ لاک کھول کر اندر آ گیا, گاڑی باہر ہی کھڑی کر دی تھی, پورے گھر میں سناٹا پھیلا ہوا تھا, وہ دبے قدموں چلتا ہوا اندر آ گیا, پہلے دھیرے سے سے روبینہ کے کمرے میں جھانکا… وہ دونوں بچوں کے ساتھ بےخبر سو رہی تھیں, پھر اپنے کمرے کی طرف آ گیا… وہاں کوئی بھی نہیں تھا
اس کی چھٹی حس جاگ اٹھی, خاموشی سے اس نے پورا گھر چھان مارا لیکن فرح کہیں بھی نہیں تھی, رافع کا پورشن بھی دیکھ آیا… وہاں بھی بس حریم ہی موجود تھی… سیل نکالتے ہوئے وہ اوپر چھت پر آ گیا, فرح نے دوسری دفعہ میں اس کی کال ریسیو کی تھی
“ہاں شافع… ؟؟” وہ بولی
“کیا کر رہی ہو ؟؟؟” شافع نے پوچھا
“ابھی سالن بنایا ہے… سونے لگی تھی… کیوں ؟؟؟” وہ جھوٹ بول گئی, شافع کو شدت سے اس کے ہاتھوں یوں استعمال ہونے پر دکھ ہوا تھا
“کوئی کام تھا شافع… ؟؟؟” وہ پوچھ رہی تھی
“نہیں بس… ایسے ہی پوچھ رہا تھا” اس نے بددلی سے کال کاٹ دی, تبھی اس کا سیل بجا…ساجد کی کال تھی
“ہاں ساجد… ” اس نے سیل کان سے لگایا
“شافع بھائی… فرح باجی بھٹے پر آئی ہوئی ہیں… ” ساجد نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا, شافع تیزی سے نیچے کی طرف دوڑا, بجلی کی سی رفتار سے اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی, چند ہی لمحوں میں وہ بھٹے پر پہنچ گیا
“ساجد… کہاں ہے فرح ؟؟؟” ساجد اسے باہر ہی مل گیا تھا
“ڈیرے پر… ” ساجد کے کہتے ہی شافع اس طرف دوڑ پڑا, سیٹھ بابر اس وقت وہاں نہیں تھا, سارے کاریگر آپس میں چہ مگوئیاں کرنے لگے تھے, شافع جیسے ہی ڈیرے کے دروازے سے اندر داخل ہوا, اسے واضح لگا جیسے کوئی سایہ پیچھے کو بھاگا ہو, وہ مارے ضبط کے مٹھیاں بھینچتا ہوا آگے بڑھا اور کمرے کا دروازہ کھول دیا
فرح اندر ہی تھی… گھبرائی گھبرائی سی… چہرہ سرخ ہو رہا تھا, لب دھیرے دھیرے کپکپا رہے تھے..شافع کو واضح لگا جیسے فرح کو اس کے آنے کا پتہ چل گیا تھا
“میں نے منع کیا تھا نا ؟؟؟” شافع کا سرد لجہ فرح کو اپنے اندر اترتا محسوس ہوا تھا, پہلی بار وہ آگے سے بول نہ سکی, شافع نے زور سے اس کی کلائی جکڑی اور اسے کھینچتا ہوا باہر لے آیا, پورے بھٹے کے سامنے وہ اسے یونہی کھینچتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا تھا, جیسے ہی وہ چاردیواری سے باہر نکلا… سامنے سے آتے سیٹھ بابر سے ٹاکرا ہو گیا, اس نے پہلے ذرا حیرانی سے شافع کو دیکھا… پھر اس کے ساتھ کھڑی فرح کو
“اب بھی کہہ دیں کہ یہ آپ سے ملنے آئی تھی” انتہائی سخت لحجے میں کہتا ہوا وہ اسے گھر لیکر آیا تھا
“چھوڑو مجھے… ” اندر آتے ہی فرح زور سے چیخی, شور سن کر روبینہ بھی اٹھ گئی تھیں
“کیا ہوا شافع… ؟؟؟” وہ پریشان سی کمرے کے دروازے میں کھڑی تھیں
“چھوڑو میرا ہاتھ… ” وہ حلق کے بل چیخی, شافع نے اس کی کلائی پر گرفت اور مضبوط کی اور اسے گھسیٹتا ہوا اپنے کمرے کے ساتھ والے کمرے میں لے آیا
“خبردار… جو اس کمرے سے ایک قدم بھی باہر نکالا تو… زندہ رہنے کے لئے تمہیں کھانا پینا چاہیے نا… وہ مل جایا کرے گا” اس نے فرح کو اندر دھکیلتے ہوۓ باہر سے دروازہ لاک کر دیا تھا
…………………………
“تیمور بھائی… صفوان کو میڈیکل سٹور پر رکھوا دیا ہے, بیس ہزار روپے مہینے کے ملیں گے, سچے دل سے توبہ کی ہے میرے بچے نے, اب آپ بھی معاف کر دیں اسے” فرزانہ پھر آ موجود ہوئی تھی, تیمور ملک نے گردن گھما کر اسے دیکھا
کیوں نالائقا… ؟؟؟”
“آئندہ آپ کو شکایت نہیں ملے گی ماموں جان… ” صفوان نے سر جھکا کر کہا تھا
خالد ابھی بھی اسے بھیجنے کے حق میں نہیں تھا, طہٰ نے بھی صاف منع کر دیا لیکن تیمور ملک نے تھوڑی سی لچک دکھا دی تھی, شازیہ نے ناشیہ اور اس کے بچے کا سارا سامان پیک کر دیا, خالد اسے گاڑی میں چھوڑ کر گیا تھا, ادھر خالد گھر سے نکلا, ادھر صفوان کی تیوری چڑھ گئی
“تو ذرا بات سن میری… ” اس نے زور سے ناشیہ کی کلائی جکڑی تھی
“کیا ہوا… ؟؟؟” وہ لڑکھرا سی گئی, صفوان اسے کھینچتا ہوا کمرے کی طرف بڑھا
“صفوان پتر ہتھ ذرا ہولا رکھیں, جانے دے میرا پتر… ” فرزانہ پوتے کو گود میں اٹھاۓ چیخ رہی تھی
“صفوان… ” ناشیہ کو اندر دھکا دے کر صفوان نے زور سے دروازہ بند کیا تھا
“تمہارا باپ سمجھتا کیا ہے خود کو ؟؟؟” صفوان کا تھپڑ اس کا گال رنگ گیا تھا
“بے غیرت عورت, شوہر کو باپ اور بھائی کے ہاتھوں ذلیل کرواتے شرم نہیں آئی تجھے اور وہ مردود… خبیث… وہ کیا لگتا ہے تیرا ؟؟؟ کہتا پہلے ہمیں مطمئین کریں سالا کتا کہیں کا… ” مسلسل صفوان کی زبان اور ہاتھ اس پر یکساں ہو کر برسے تھے
……………………….
رات تقریباً دس بجے کا وقت تھا جب صمد نے گردن موڑ کر اسماء کو دیکھا…وہ کروٹ لیکر سو رہی تھی, صمد دھیرے سے اٹھا اور چپکے سے دروازہ کھول کر باہر نکل آیا, گاڑی اس نے شم میں ہی سٹور ہر کھڑی کر دی تھی, انتہائی خاموشی سے اس نے موٹر سائیکل باہر نکالی اور گھر سے ذرا آگے جا کر سٹارٹ کی… سٹور پر آیا, موٹر سائیکل وہاں کھڑی کی اور خود گاڑی نکال لی… گاڑی کا رخ اییر پورٹ کی طرف تھا
…………………………..
ناشتے کا وقت تھا… حسب معمول وہی افراتفری… کل سے اذن کی نائیٹس شروع ہو رہی تھیں
“صمد کہاں ہے ؟؟؟” راۓ عبید نے اس کی خالی کرسی دیکھ کر پوچھا
“پتہ نہیں ماموں جان… ابھی تک واک کر کے واپس نہیں آۓ” اسماء نے کہا, تبھی وہ اندر داخل ہوا تھا
“آ جائیں صمد… ناشتہ کر لیں” اسماء نے جلدی سے اس کے لئے چاۓ کا کپ بھرا, وہ جمائی لیتے ہوئے اپنی کرسی پر بیٹھ گیا, اسماء نے غور سے اسے دیکھا
“رات سوۓ نہیں صمد ؟؟؟”
“کیوں ؟؟؟” وہ بوکھلا گیا
“آنکھیں کتنی سرخ ہو رہی ہیں… اور چہرہ بھی بجھا بجھا سا ہے… ” اسماء نے کہا
“ہاۓ صمد بھائی یہ تو رت جگے کی نشانیاں ہیں ساری… کیا ہو گیا ؟؟؟” اذن نے ہنستے ہوئے نشانہ مارا تھا
“اور جمائیاں بھی لیے جا رہے ہیں… ” اسراء نے مسکراتے ہوئے کہا
“اوۓ ہوۓ اسماء باجی… دیکھیں تو ذرا, رنگ بھی پیلا پیلا سا ہو رہا ہے, آنکھوں میں سرخ ڈورے, چہرے کی یہ اداسی… ” اذن اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے صمد کے پاس آیا
“ہو گیا ہے تجھ کو تو پیار سجنا… ” اس نے زور سے تان اٹھائی تھی, سبھی کا قہقہہ نکل پڑا
“دفع دور… میرے میاں کو تنگ کرے جا رہا ہے” اسماء نے اس کے ایک دھپ لگائی تھی, صمد بس چپ چاپ ناشتے پر جھک گیا
“صمد… کی ہویا اے ؟؟؟” سب ادھر ادھر ہوۓ تو راۓ عبید نے اسے کہنی ماری تھی
“وہ… باہر والے آ گئے ہیں” اس نے راۓ عبید کی سٹی گم کی تھی
……………………
اسے کمرے میں بند ہوۓ دو دن ہو چکے تھے, صبح و شام وہ دروازہ بجا بجا کر پاگل ہو رہی تھی, اندر سے وہ چیخ و پکار کرتی کہ خدا کی پناہ… شافع صبح جاتے ہوئے اسے ناشتہ دے جاتا, اور ایک سوٹ پکڑا جاتا کہ اٹیچ باتھ تقریباً سبھی کمروں کے ساتھ تھے, بچوں کو خود ناشتہ کرواتا, نہلاتا, کپڑے تبدیل کرواتا اور پھر چلا جاتا… انہیں پہلے بھی زیادہ تر روبینہ ہی دیکھتی تھیں, دوپہر کو گھر چکر لگاتا, ہوٹل سے کھانا لیکر گھر دے جاتا, اور پھر شام کو آ کر خود سالن بنا لیتا, روبینہ سے کچن میں کھڑے نہیں ہوا جاتا تھا, ذرا سی بھی گرمی ان کے لئے ناقابل برداشت تھی
ان دو دنوں میں ایک بار بھی اس کے منہ سے “سوری” نہیں نکلا تھا
……………………..
رات تقریباً بارہ بجے کا وقت تھا, نائیٹ شفٹ میں آج کام نہ ہونے کے برابر تھا, سو ڈیوٹی پر موجود ان دس لڑکوں میں سے کاؤنٹر دو کے سپرد کے کر باقیوں نے چکن کڑاہی پر ہاتھ صاف کرنے کی ٹھانی… موٹر سائیکلوں کے قافلے پر وہ سب مونل پہنچے تھے, کچھ دیر بعد ایک فیملی اند داخل ہوئی اور کونے والی ٹیبل پر جا بیٹھی, ان تین بچوں نے اچھا خاصا شور ڈالا ہوا تھا, اچانک ہی اذن کی نگاہ اس ٹیبل پر جا پڑی
اسے لگا جیسے اسے غلط فہمی ہو گئی ہو… دوبارہ پھر دیکھا… آنکھیں حیرت سے پھٹ سی گئیں
“صمد بھائی… ” وہ گنگ رہا گیا تھا, صمد کے ساتھ بیٹھی وہ خوبصورت سی عورت اس سے بہت بے تکلف ہو رہی تھی, تینوں بچے بھی اس کے ساتھ کافی کھیل کود رہے تھے, اذن سے سانس لینا دوبھر ہو گیا, تبھی اس کی نظر کاؤنٹر سے ٹیبل کی طرف جاتے اس شخص پر پڑی
“یہ تو… ” اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا تھا
“حسین جعفر… ” وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا تھا
صبح جب وہ نائیٹ شفٹ ختم کر کے گھر پہنچا تو ٹھٹھک گیا, صمد کہیں سے واپس آیا تھا, اس نے چپ چاپ موٹر سائیکل گھر سے باہر کھڑی کی اور خود اندر چلا گیا
اذن کی گھنٹی بجنے لگ گئ تھی
……………………
بس ایک دفعہ صفوان کا ہاتھ اٹھنے کی دیر تھی, پھر اس کی ہر شرم لاج ہی ختم ہو گئی, بات بے بات وہ ناشیہ پر چڑھ دوڑتا
ظاہر ہے بچے کے بعد خرچے بھی بڑھ گئے تھے, ناشیہ اپنی تنخواہ میں سے کتنا خود پر اور بچے پر خرچ کرتی اور کتنا گھر میں دیتی ؟؟؟ آۓ روز کے دنگے… فساد…. یہ سچ ہے کہ لوگوں میں جا کر بسنے سے ان کے اصل چہروں کا پتہ چلتا ہے, ناشیہ کا بھی ان سے پالا پڑا تو پتہ چلا… کہ حقیقت کیا ہے… ؟؟؟
فرزانہ اور صفوان جھوٹ بول کر اسے لے آۓ تھے, کوئی نیا کام نہیں ملا تھا اسے… وہی بھٹہ ہی تھا اس کے نصیب میں, دل کرتا تو چلا جاتا…نہیں تو چھٹی, نفیس کی چھوٹی سی دوکان سے بھلا چھ لوگوں کا خرچہ کہاں پورا ہوتا تھا… پھر ان دونوں لڑکیوں کے آۓ دن کے رشتے… وہ خرچہ ہوتا کہ خدا کی پناہ, ناشیہ بیچاری بعض اوقات تو پائی پائی کو ترس جاتی, ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی اس کے کمرے کے دروازے پر آ کھڑا ہوتا… پیسے مانگنے
وہ بیچاری کبھی خالد سے مانگتی, کبھی طہٰ سے کہتی… اس دن بھی صفوان شراب پی کر آیا تھا, نشے میں دھت اس نے دو, تین بار ناشیہ کو کمرے میں آنے کا کہا
“صفوان معاذ کو سلا کر آتی ہوں… وہ رو رہا ہے” ناشیہ نے بمشکل اس کے ہاتھوں کو قابو کیا تھا, فرزانہ, نفیس اور فرحان باہر بیٹھے تھے, لائیٹ آف تھی, جنریٹر ندارد…. اس نے معاذ کو باہر ہی لٹایا ہوا تھا
صفوان تیسری بار کمرے سے نکل کر آیا اور ناشیہ کو بازو سے پکڑ کر کھینچا
“صفوان دو منٹ… ” ناشیہ کو اچھا نہیں لگا
“چل اندر… ” صفوان نے اسے بازو سے دبوچ کر کھینچا تھا, وہ لڑکھڑا کر گری, دوپٹہ زمین پر گر گیا
“صفوان… میں آتی ہوں چھوڑو مجھے” وہ چیخی لیکن وہ نشے میں دھت اسے یونہی گھسیٹتے ہوئے اندر لے گیا, اس بیچاری کے کپڑے بے ترتیب سے ہو گئے, بال بکھر گئے
“صفوان چھوڑ اسے… ” فرزانہ نے چیخ کر کہا تھا اور فرحان کی یک دم ہی بس ہو گئی, تھپڑوں اور مکوں کے ساتھ وہ صفوان پر پل پڑا تھا, نفیس اور فرزانہ چھڑواتے ہی رہ گئے, ناشیہ بکھرے سے حلیے میں دیوار سے ٹیک لگاۓ روتی چلی گئی تھی
………………………
وہ حدید کے پورشن میں آیا تھا
“کیسے ہیں حدید بھائی ؟؟؟” وہ کھانا کھا رہا تھا, اٹھ کر اس سے ملا
“اذن کھانا کھا لو… ” غاشیہ نے پوچھا
“نہیں… میں ابھی کھا کر آیا ہوں, بس نکلنے لگا تھا” اذن نے کہا
“تو پھر ٹرائفل کھا لو ؟؟؟” غاشیہ نے پھر پوچھا
“چلیں وہ لے آئیں… ” وہ بولا, غاشیہ نے مسکراتے ہوئے اس کے آگے ٹرائفل کا باؤل رکھا اور حدید کے سامنے سے برتن اٹھا لئے
“مل گئی پھر تیری بیوی… اذن راۓ… ؟؟؟” حدید نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا, اذن بس جھینپ کر رہ گیا, غاشیہ بھی ہنسنے لگی تھی
“غاشیہ مجھے چاۓ بنا دو, میرا جسم ٹوٹ رہا ہے” حدید وہیں لم لیٹ ہو گیا تھا, غاشیہ سر ہلا کر کچن میں چلی گئی
“ایک بات پوچھوں حدید بھائی ؟؟؟” اذن ٹرائفل کا چمچ منہ میں رکھتے ہوئے بولا
“ہاں… “
“یہ حسین جعفر کیا کرتا ہے آجکل ؟؟؟” اس نے پوچھا
“پتہ نہیں… آخری بار یہ ہی سنا تھا کہ اپنی بہن کو لیکر دبئی چلا گیا تھا” حدید نے کہا, حسین جعفر, صمد کا بہت لنگوٹیا دوست تھا
“میں نے کل اسے اور اس کی بہن کو دیکھا… مونل میں, بچے بھی تھے ساتھ” اذن نے کہا
“ہو سکتا ہے واپس آ گیا ہو… ” حدید عام سے لحجے میں بولا
“صمد بھائی بھی ان کے ساتھ تھے… ” اذن نے پھر کہا
“ہاں تو صمد بھائی اور حسین کی چالیس سال کی دوستی ہے… اس نے بتایا ہو گا انہیں.. ” حدید کے لئے یہ عام سی بات تھی
“حدید بھائی… اس کی بہن کا شوہر ساتھ نہیں تھا… صرف حسین, اس کی بہن اور بچے… اور وہ صمد بھائی سے بڑی بے تکلف لگ رہی تھی…” اذن اٹھ کر اس کے پاس آ گیا
“پورا ایک ہفتہ ہو گیا ہے وہ گاڑی سٹور پر ہی کھڑی کر آتے ہیں, اور شاید رات کو کسی پہر موٹر سائیکل لیکر نکلتے ہیں, صبح جب میں شفٹ سے واپس آتا ہوں تو وہ واپس آ رہے ہوتے ہیں…” اذن کہتا چلا گیا, حدید اب ذرا سا چونکا تھا
“آنکھیں سرخ ہوئی رہتی ہیں جیسے سوۓ نہ ہوں, اور چہرہ پریشان سا… کل اسماء باجی کا ان سے دنگا بھی ہوا ہے, انہیں بھی شک ہونے لگا ہے ان پر… ” اذن نے کہا
“تو کہنا کیا چاہتا ہے ؟؟” حدید کی آنکھیں پھیل تو گئی تھیں
“بس یہ ہی کہ کسی زمانے میں وہ صمد بھائی کی شادی اپنی اس دبئی نیشنیلٹی ہولڈر بہن سے کروانے پر تلا ہوا تھا… کہیں ایسا تو ممکن نہیں کہ… ” اذن نے بات ادھوری چھوڑ دی, غاشیہ حدید کی چاۓ لیکر آئی تھی
“میں چلتا ہوں پھر…. ” اذن کھڑا ہو گیا تھا
……………………..
دروازے پر بڑی زور سے دستک ہوئی تھی, شافع بینک گیا ہوا تھا, رافع اور حریم اوپر تھے, حریم کی ڈلیوری بس نزدیک ہی تھی, روبینہ نے ہی جا کر دروازہ کھولا, فرح ہنوز اس کمرے میں بند تھی
“تم… ” وہ بانو کو دیکھ کر حیران رہ گئیں, پھر اسے اندر لے آئیں
“شافع آ گیا… ؟؟؟” بانو نے پوچھا
“پانچ بجے آۓ گا” روبینہ نے کہا
“فرح… ؟؟؟” اس نے ذرا توقف سے پوچھا تھا, روبینہ نے سر جھکا لیا پھر دھیرے سے سامنے والے کمرے کی طرف اشارہ کر دیا, بانو نے چپ چاپ اٹھ کر لاک کھولا تھا
“امی… ” فرح بھاگ کر اس کی طرف آئی اور اس سے لپٹ گئی, اس کی دہاڑیں روبینہ کو باہر تک سنائی دے رہی تھیں
“امی مجھے نہیں رہنا یہاں… مجھے اپنے ساتھ لے چل, مجھے نہیں رہنا اس گھر میں” وہ مسلسل رو رہی تھی
“فرح… یہ گھر ہو یا وہ گھر… تیرے لئے تو ایک برابر ہی ہے” بانو نے کہا
“امی بس مجھے گھر لے چل, تایا جی کو کال کر, انہیں یہاں بلا…. ” وہ چیخی اور باہر کو بھاگی, بانو نے یکلخت اس کا بازو پکڑا تھا
“کیوں بند کیا شافع نے تجھے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“دماغ خراب ہے اس کا, ایک نمبر کا بے غیرت اور کمینہ انسان ہے وہ…. ” گالیوں کا ایک نا ختم ہونے وال سلسلہ تھا جو شروع ہو گیا تھا, بانو نے یکلخت اسے چارپائی پر دھکیل دیا
“اس کمرے سے باہر نکلنا ہے تو پہلے اپنے جرم کا اعتراف کر… شوہر سے معافی مانگ… فرح جو ایک دفعہ ہو وہ غلطی ہے, جو بار بار کی جاۓ وہ لت ہوتی یے جو تجھے پڑ گئ ہے…” بانو نے سپاٹ لحجے میں کہا اور باہر نکل آئی
“امی… تجھے رب کا واسطہ…. امی” فرح کی چیخوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا, بانو دروازہ لاک کرتی ہوئی باہر نکل آئی
“بانو خدا کی قسم میں نے اسے ہمیشہ بیٹی مانا ہے, میں اسے دیکھتی ہوں تو میرا اپنا غم ہرا ہو جاتا ہے, چلو وہ تو مرد تھا… ساری عمر نہ بدلا.. ہمت ہے اس عورت کی جس نے اس کے ساتھ پچاس سال گزار دیئے لیکن یہ… اس کا کیا بنے گا بانو ؟؟؟؟” روبینہ رو پڑی تھیں
……………………….
جاری ہے
