No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
بتیس سال پہلے….!!!
لاہور کینٹونمنٹ میں واقع راۓ وحید عباس کا وہ بڑا شاندار سا گھر تھا, وہ اپنے والدین کی اکلوتی نرینہ اولاد تھے, ایک بہن بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھی جبکہ دوسری ان سے چار سال چھوٹی تھی, راجپوت خاندان سے تعلق رکھنے والے راۓ وحید کو خدا نے ایک بیٹے اور دو بیٹیوں سے نوازا تھا
ان کی بہت خواہش تھی کہ ان کا بیٹا پڑھ لکھ کر آرمی جوائن کرے لیکن ان کے اکلوتے لخت جگر راۓ عبید کو پڑھنے لکھنے سے کوئی خاص شغف نہیں تھا سو بمشکل بی اے ہی کر پایا اور اس کے بعد بڑے شوق سے راۓ وحید کا تھوک پرچون کا کاروبار سنبھال لیا…
اس سے چھوٹی حمنہ تھی… دی حمنہ راۓ
وہ بس ایک ہی تھی… خوبصورتی میں, ذہانت میں, اعتماد میں, زندہ دلی میں… راۓ وحید کی لاڈلی ترین بیٹی…
سترہ سال کی عمر میں اس کا ایف ایس سی کا بڑا شاندار سا رزلٹ آیا…96% نمبر… حمنہ کی خوشی کا کوئی عالم نہیں تھا
“میری بیٹی آرمی میں جاۓ گی… ” راۓ وحید بڑے مان سے بولے تھے
“بالکل نہیں ابو… مجھے تو آرمی بالکل پسند نہیں ہے…. میں تو ڈاکٹر بنوں گی” حمنہ نے فٹ انکار کر دیا
راۓ وحید اڑ گئے… وہ ان سے زیادہ تن کر اکڑ گئی
“بننا ہے تو ڈاکٹر ورنہ آگے پڑھنا ہی نہیں… ” اس نے فیصلہ سنا دیا, ناچار راۓ وحید کو ہی سر جھکانا پڑا, اور ہمیشہ ایسے ہی ہوتا تھا, ہمیشہ وہی اس کے سامنے سر جھکاتے تھے, اس سے بحث ضرور کرتے تھے, ضد ضرور لگاتے تھے لیکن انت میں جتواتے بھی اسے ہی تھے… بڑے ٹھاٹھ سے اس کا ایڈمیشن علامہ اقبال میڈیکل کالج میں ہوا تھا
وہاں پہلے ہی دن اس کے برابر کی نشست پر اسے “وہ” ملا تھا
………………………….
وہ غیور ملک کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا… غیور ملک کی نہ صرف کئی ایکڑ اراضی تھی بلکہ ان کا اپنا ذاتی آئرن سٹور بھی تھا, ان کی شادی اپنی چچا زاد سے ہوئی تھی… شادی کے فوراً بعد ہی خدا نے انہیں تیمور ملک سے نواز دیا… پوری ملک برادری میں خوب خوشیاں منائی گئیں, مٹھائیاں بانٹی گئیں…اگلے ہی سال ان کی گود میں فرزانہ آ گئی, اپنے تئیں ان دونوں میاں بیوی نے سمجھ لیا کہ خدا نے فیملی پوری کر دی لیکن دس سال بعد خدا نے انہیں ایک اور بیٹے سے نواز دیا…
شاہ نور ملک… خوشی تھی… بے تحاشا خوشی
وہ ابھی دس سال کا ہی تھا جب غیور ملک کی بیوی فوت ہو گئ, تب تیمور اکیس سال کا تھا, بجاۓ اس کے کہ وہ خود دوسری شادی کرتے, انہوں نے تیمور کی شادی کر دی
عطرت ان کی رشتے دار ہی تھی, دس سالہ شاہ نور کو اس نے بہت محبت سے پالا… فرزانہ کی شادی بھی اسی نے کی… شاہ نور کا ساتھ دے کر وہ غیور ملک سے اس کی ساری فرمائشیں پوری کروا لیتی تھی, شاہ نور سے اس کی محبت اسلیے بھی اتنی زیادہ تھی کہ شادی کے چھ سالوں تک خدا نے ان دونوں کو اولاد کی نعمت سے محروم ہی رکھا… جس سال شاہ نور نے ایف ایس سی کلئیر کی, اسی سال ان کی گود میں شازیہ آ گئ…
“مجھے ڈاکٹر بننا ہے… ” وہ فرمائش کرے اور پوری نہ ہو یہ بھلا کیسے ممکن تھا … اور یہ شروعات تھی
……………………….
وہ اپنے کمرے میں کتابیں بکھراۓ بیٹھی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی
“آ جاؤ… ؟؟؟” اس نے زور سے کہا تھا, تبھی دروازہ کھلا اور اسے عمر کی شکل نظر آئی, وہ حمنہ کی پھپھو کا اکلوتا بیٹا تھا…وہ لوگ شالامار میں رہتے تھے
عمر فاروق راۓ… عمر میں اس سے چار سال بڑا تھا اور انجینئرنگ کے لاسٹ اییر میں تھا
“کیسی ہو ؟؟؟” وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا
“کیسی لگ رہی ہوں ؟؟؟” وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی اور عمر فاروق ایک بار اور اس چاند چہرے پر فدا ہو گیا تھا… اس کا تو کام ہی یہ ہی تھا…. بس صبح شام حمنہ راۓ پر خود کو وارتے رہنا
“عمر… ” اس کی بے خودی دیکھ کر حمنہ نے اس کا بازو ہلایا
“یہ تمہارے لئے… “وہ اس کے لئے گفٹ لایا تھا
“حالانکہ ٹریٹ تمہاری طرف سے ہونی چاہئے تھی” عمر نے کہا تھا
حمنہ نے مسکراتے ہوئے اسے کھولا… وہ ایک بہت خوبصورت پین تھا
“تھینک یو عمر… ” وہ یونہی مسکراتے ہوئے بولی تھی اور عمر فاروق اس کے چہرے کی قوس قزح دیکھتا رہ گیا تھا
اسے خود نہیں پتہ تھا کہ کب وہ حمنہ پر دل ہار بیٹھا… بس اتنا پتہ تھا کہ اس کی صبح و شام حمنہ راۓ سے منسوب ہو گئی تھیں
………………………
“سنو… ” وہ کلاس سے نکلنے لگی تو شاہ نور نے پکار لیا, حمنہ یکدم مڑی تھی
“پلیز مجھے کل کے نوٹس چاہئے تھے… دو گی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کیوں… ؟؟؟ تمہارا کوئی اور دوست نہیں ہے کیا ؟؟؟” حمنہ نے پوچھا, وہ دھیرے سے مسکرایا تھا
“I am the topper of this college… and i think i deserve to request to only you… the second one”
شاہ نور نے کہا, حمنہ نے خاموشی سے نوٹس اس کی طرف بڑھا دییے تھے
“ان پر خوامخواہ لکیریں مت مارنا پلیز… وہ جس انداز سے بولی, شاہ نور ہنستا چلا گیا
پانچ سال… ان دونوں نے پانچ سال ایک دوسرے کے ساتھ گزارے, ایک ساتھ پڑھا, ایک ساتھ لکھا, ایک ساتھ ہنسے, ایک ساتھ روۓ… اور ایک ساتھ محبت کی…. محبت…
جسے کرنے سے پہلے ایک دوسرے سے نہیں پوچھا جسے کرنے سے اپنے ماں باپ سے نہیں پوچھا…حالانکہ پوچھنا چاہئے تھا
وہ جنوری کی ایک یخ بستہ سی شام تھی, وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے, دونوں کا لاسٹ ایئر تھا
شاہ نور دھیمے سے مسکرایا تھا
کیا ہوتا ہے بھلا محبت کا اظہار… ؟؟؟ نہ کوئی سونا, نہ چاندی, نہ جواہر…. صرف ایک پھول… ایک سرخ پھول
شاہ نور نے وہ سرخ پھول حمنہ کی طرف بڑھایا تھا
اور کیا ہوتا ہے اس محبت کا اقرار… ؟؟؟ مسکراتے ہوئے اس پھول کو تھام لینا… اور حمنہ نے تھام لیا تھا
کاش… کاش کہ وہ اس پھول کو تھامنے سے پہلے ایک لمحے کے لئے یہ سوچ لیتی کہ اس پھول کو تھام کر وہ اپنے پورے خاندان سے اعلان جنگ کر رہی ہے, راۓ وحید اور غیور ملک میں صرف ذات برادری کا ہی فرق نہیں تھا… وہ سیاسی طور پر بھی ایک دوسرے کے بہت مخالف تھے… کاش کے وہ سوچ لیتی کہ یہ پھول اسے کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے…کاش…. کاش کے وہ اس لمحے بھلے ہی اور کچھ نہ سوچتی… بس اس چوبیس سالہ لڑکے کا سوچ لیتی جس کے لبوں پر ہمیشہ اسی کا نام رہا تھا
جو اسے “اپنی” کہتا تھا…
نہیں سوچا… حمنہ نے صرف اس لمحے اپنی اور شاہ نور کی محبت کا سوچا… اور کسی کا نہیں سوچا…!!!
…………………………….
اس شام وہ گھر واپس لوٹی تو بہت خوش تھی…آمنہ کے دروازہ کھولتے ہی اس سے لپٹ گئی
“بڑی خوش لگ رہی ہو… ؟؟؟” آمنہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا, وہ اس سے بس ایک سال ہی چھوٹی تھی
“ہاں یار… کوئی آیا ہے کیا… ؟؟؟” اس نے پورچ میں کھڑی گاڑی دیکھ کر پوچھا
“پھپھو آئی ہیں.. عمر بھائی کی سوزوکی میں جاب ہو گئی یے” آمنہ نے بتایا, وہ دونوں ایکساتھ اندر داخل ہوئی تھیں
“لو حمنہ بھی آ گئی… ” راۓ وحید نے اسے دیکھتے ہی کہا
“حمنہ… میری بچی ادھر آ” پھپھو نے اسے اپنے پاس بٹھایا تھا, اس کا ماتھا چوما تھا… حمنہ نے ایک نظر عمر کو دیکھا… وہ بس دھیمے دھیمے مسکراۓ جا رہا تھا, وہ کچھ سمجھ نہ سکی
“آمنہ… حمنہ کا منہ میٹھا کرواؤ “راۓ وحید نے کہا, آمنہ نے جھٹ برفی کی ڈلی اس کے منہ میں ڈال دی
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” وہ حیران تھی
“تیرا اور عمر کا رشتہ پکا ہو گیا ہے… تیرے ڈاکٹر بنتے ہی تجھے میں لے جاؤں گی” پھپھو نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا
……………………
ان کے جاتے ہی وہ پھٹ پڑی
“مجھے عمر سے شادی نہیں کرنی… ” وہ راۓ وحید کے سامنے کھڑی ہو گئی تھی, عبید اور آسیہ پھٹی پھٹی نظروں سے اس کی جرأت کو دیکھ رہے تھے, آمنہ اس کے بالکل پیچھے دم سادھے کھڑی تھی
“کیوں ؟؟؟” سوال تو ہوتا ہی ہے
“میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں… ” وہ مضبوط لحجے میں بولی…سناٹا سا چھا گیا
“کون… ؟؟؟” سوال تو ہوتا ہی ہے
“شاہ نور ملک… “
اور قیامت تو سمجھو آ ہی گئی تھی
دکھ شاید اس کے انکار کا نہیں تھا… درد تو اس کے چناؤ پر تھا
“نہیں… بالکل نہیں… وہ ہم میں سے نہیں ہے” راۓ وحید اڑ گئے تھے, ان کی تو سات پشتوں میں کسی نے ایسا کام نہیں کیا تھا, آج تک انہوں کے راجپوت خون کھرا ہی رکھا تھااور اب ان کی بیٹی اس میں آمیزش کرنے جا رہی تھی
“میں بھی عمر سے شادی نہیں کروں گی ” وہ ڈٹ گئی تھی
“تو پھر تم کسی سے بھی شادی نہیں کرو گی… ” راۓ وحید نے فیصلہ سنا دیا تھا
……………………
قیامت تو دوسری طرف بھی آئی تھی
اکیس سالہ شاہ نور ملک اپنے باپ کے سامنے ڈٹ گیا تھا
“مجھے حمنہ سے شادی کرنی ہے… ” اور جواب اس کے لئے بھی وہی تھا جو حمنہ کے لئے تھا
“وہ ہم میں سے نہیں ہے… “
دونوں نے اپنی اپنی طرف سے پورا زور لگایا… ہر طور بڑوں کو منانے کی کوشش کی… ضد سے, خوشامد سے, محبت سے
“آج اگر میری ماں زندہ ہوتی تو ایسے نہ ہوتا…” یہ ایموشنل حملہ بھی دونوں طرف سے تھا
“بھابھی… آپ تو میری ماں کی جگہ ہیں نا… ؟؟؟” یہ رونا دھونا بھی دونوں طرف ہی تھا
یہاں آ کر شاہ نور جیت گیا, عطرت نے اس کا پورا ساتھ دیا, وہ اس کے لئے بیٹوں سے بڑھ کر تھا, ہمیشہ اس نے عطرت کو تیمور سے زیادہ عزت دی تھی, تیمور سے زیادہ وہ عطرت کی بات مانتا تھا… عطرت نے تیمور کی پھٹکار کھا لی لیکن اس کے ساتھ کھڑی رہی, اس کی خاطر کوئی سو بار اس نے غیور ملک کے آگے منت کی… تیمور کو بھی بہت رام کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود…
غیور ملک کے لبوں پر انکار ٹہر گیا تھا
مگر اس پوائنٹ پر آ کر حمنہ ہار گئی, عبید کی بیوی آسیہ اس کے ساتھ نہیں تھی…تب صمد اس کی گود میں تھا اور درید آنے والا تھا
“میں تیرا کوئی ساتھ نہیں دے سکتی حمنہ… دوبارہ میری طرف مت آنا… “
اور حمنہ کی آخری امید اب عمر فاروق راۓ ہی بچا تھا
……………………….
“عمر پلیز… اس شادی سے انکار کر دو, مجھے تم سے شادی نہیں کرنی عمر پلیز… ” ایک ہفتے بعد اس کی مہندی تھی, وہ عمر کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی, آنسووں سے رو رہی تھی, بار بار انکار کرنے کو کہہ رہی تھی… اور ہر بار اس کے دل کے ہزاروں ٹکڑے کر رہی تھی
“کیوں…؟؟؟” اس کا دل چکنا چور ہوا تھا
“عمر میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں ” وہ کہہ ہی گئی, عمر جامد رہ گیا تھا
آخر کیوں کی اس نے کسی اور سے محبت… ؟؟؟ اسے کیا پتہ نہیں تھا کہ عمر فاروق کی زندگی حمنہ راۓ سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتی تھی… اسے آخر ضرورت ہی کیا تھی کسی اور سے محبت کرنے کی… ؟؟؟ وہ تھا نا اس کے لئے… ہر پل…. ہر دم… اس نے نہ جانے کتنے برس اس پل کی دعائیں کی تھیں
“حمنہ…” اس نے حمنہ کے آنسو صاف کئے
“صرف ایک بار… اسے ایک طرف رکھ کر دیکھو کہ تمہاری آنے والی زندگی کتنی حسین ہے ؟؟؟ تمہارا باپ تم سے کتنی محبت کرتا ہے… ؟؟؟ تمہارے بہن بھائی تم پر جان وارتے ہیں… اور میں… حمنہ میں بھی تو ہوں… میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میری محبتوں میں تم کبھی کوئی کمی نہیں پاؤ گی, تم ڈاکٹر بننے والی ہو, شادی کے بعد ہم دونوں باہر چلیں گے, تم اپنا ایف سی پی ایس مکمل کرنا… ” عمر کہتا چلا گیا, حمنہ نے دھیرے سے اس کے ہاتھ اپنے چہرے پر سے ہٹاۓ تھے
“اور اس سب میں… میں اس کا کیا کروں گی عمر…. ؟؟؟؟” اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا
“ذرا ایک پل کے لئے سوچو… کہ تم سے میں چھن رہی ہوں” وہ آگے کو ہوئی تھی, عمر بول نہ سکا
“بالکل ایسے ہی مجھ سے وہ چھن رہا ہے عمر… میں اس کے بنا زندہ بھی کیسے رہوں گی؟؟؟” وہ بلک گئی تھی
“حمنہ… پلٹ کر تو دیکھو… ” عمر نے آخری کوشش کی تھی … اور وہ نفی میں سر ہلا گئی تھی
“میں ہر موڑ پر, ہر سچوایشن میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن… ایم سوری, میں اس شادی سے انکار نہیں کر سکتا… چاہے تو مجھے خود غرض کہہ لو لیکن… میں تمہارے لئے سب کچھ کر سکتا ہوں حمنہ بس یہ ہی نہیں کر سکتا…. ” عمر کہتا چلا گیا تھا
“تو ٹھیک ہے پھر… میں یہ گھر ہی چھوڑ دوں گی” اس نے درشتگی سے اپنے آنسو صاف کئے تھے, عمر ششدر رہ گیا تھا
……………………….
اس رات اس کی مہندی تھی… پارلر والی آ چکی تھی, سٹیج لگ چکا تھا, ہر طرف خوشیاں, مسکراہٹیں, شیرینیاں, روشنیاں, پھول, گجرے… گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا, سب اسے بلا رہے تھے لیکن…
اس کے کمرے کا دروازہ بند تھا
“حمنہ… جلدی آ کر مہندی لگوا لے… ” آمنہ نے کوئی دس دفعہ اس کے کمرے کا دروازہ بجایا تھا, دو بار آسیہ اسے بلانے آئی لیکن جواب ندارد…
“ابو… حمنہ دروازہ ہی نہیں کھول رہی…” آمنہ پریشانی سے بولی تھی, راۓ وحید دوڑتے ہوئے اس کے کمرے تک آۓ تھے, اس کا لاک توڑا گیا لیکن… وہ وہاں نہیں تھی
وہ واقعی اس گھر کی دہلیز پار کر گئی تھی
قیامت تو اب آئی تھی… راۓ وحید کے کندھے جھک سے گئے, پھپھو کا رو رو کر برا حال تھا
“یا خدا… یہ کیا ہو گیا… ؟؟؟” کارڈز بانٹے جا چکے تھے
اور پھر… وہی ہوا جو ایسی صورتحال میں ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے…
بڑی بہن کا کیا دھرا ہمیشہ سے چھوٹی بہن ہی بھگتتی آئی ہے… اس بار بھی وہی ہوا
راۓ وحید نے دنگ کھڑی آمنہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے سٹیج پر بٹھا دیا تھا, اس نے پھٹی پھٹی نظروں سے باپ کو دیکھا, پھر بھائی کو… اور پھر دور کھڑے عمر کو… وہ خاموش تھا… بالکل خاموش
“آسیہ اسے مہندی لگواؤ… ” انہوں نے ٹھنڈے ٹھار لحجے میں کہا تھا
اگلے دن ان دونوں کا نکاح تھا… آمنہ کا دکھ یہ نہیں تھا کہ اس سے کوئی چھن گیا تھا… اس کا دکھ یہ تھا کہ جو اسے ملا… وہ اس کا نہیں تھا, ایک آمنہ ہی تو گواہ تھی عمر کی دیوانہ وار محبتوں کی..
“یہ اپنی بہن کو دے دینا… ” گلابوں کے ڈھیر
“یہ تمہاری بہن کے لئے… ” تحائف کا انبار
“تمہاری بہن کہاں ہے… ؟؟؟” محبتوں کے پچیس سال…
پچیس سال عمر نے حمنہ کا خواب دیکھا اور بدلے میں ملی بھی تو کون… ؟؟؟
وہ جو اس کی محبتوں کے ہر راز سے با خبر تھی
……………………..
وہ مضبوطی سے حمنہ کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا, وہ دونوں کورٹ میرج کر چکے تھے اور شاہ نور اسے اپنے گھر لے آیا تھا, غیور ملک چٹان بنے کھڑے تھے, تیمور ملک اپنے باپ کا بازو بنا ہوا تھا
“یہ ہم میں سے نہیں ہے… ” وہ دہاڑ کر بولے
“یہ میری بیوی ہے… ” وہ ڈرا نہیں تھا, عطرت ایک طرف خاموش کھڑی تھی
“میرے گھر میں ایک غیر برادری کی عورت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے شاہ نور… ” وہ بولے
“تو پھر آپ کو اپنا گھر مبارک ہو… ” وہ بھی اڑ گیا تھا
“کہاں جاؤ گے… ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“دنیا بہت بڑی ہے… ” وہ واپسی کے لئے مڑا تھا
“میری ایک بات یاد رکھنا شاہ نور… تم کہیں بھی چلے جاؤ, میں تمہیں ڈھونڈ لوں گا, اپنے ماتھے پر کلنک لگانے والے کو میں جینے نہیں دوں گا چاہے وہ میرا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو… ” وہ سرد لحجے میں بولے تھے
وہ اسی رات سب کچھ چھوڑ گیا تھا
…………………………
رات بارہ بجے کا وقت تھا… باہر موسلا دھار بارش برس رہی تھی, اس بند کمرے میں بس وہ دونوں ہی تھے.. ایک دوسرے میں گم… ایک دوسرے میں ڈھلتے ہوۓ
کمرے کی کھڑکیوں پر بوندیں تواتر سے گر رہی تھی, بادلوں کی گرج مسلسل سنائی دے رہی تھی
حمنہ کی بانہیں شاہ نور کے گلے کا ہار بنی ہوئی تھیں اور وہ اس کا مومی وجود خود میں سمیٹے بس آنکھیں بند کئے اس سے قطرہ قطرہ اپنا سکون کھینچ رہا تھا
تبھی باہر دوڑتے قدموں کی آواز آئی
“دروازہ توڑ دو… “وہ غیور ملک کی آواز تھی, شاہ نور ششدر رہ گیا
“شاہ نور…. ” حمنہ کی آنکھیں پھیل گئیں, دروازہ مسلسل توڑا جا رہا تھا
“اٹھو… جلدی کرو, جلدی”وہ اس کا ہاتھ تھام کر کھڑکی کی طرف بھاگا تھا لیکن…
عین اسی لمحے دروازہ ٹوٹ گیا تھا
ان دونوں نے بھلے ہی گھر چھوڑ دیا لیکن…. ان کے خاندان والوں نے انہیں نہیں چھوڑا… ان دونوں نے اپنے اپنے خاندان پر داغ لگایا تھا, بزرگوں کا منہ کالا کر دیا تھا, راجپوت اور ملک ذات کو پامال کر دیا تھا
نا تو راۓ وحید چپ ہو کر بیٹھے اور نا ہی غیور ملک نے ہار مانی… اپنی اپنی ضد اور انا کی تسکین کے لئے مسلسل ان دونوں کے پیچھے لگے رہے, ہر چوتھے دن ان دونوں کو اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنا پڑتا, باقاعدہ غنڈے ان کے پیچھے لگا دیئے تھے
چھ ماہ… چھ ماہ وہ دونوں بس بھاگتے ہی رہے, چھپتے ہی رہے…
اور آخر کار اس رات راۓ وحید اور غیور ملک کے آدمیوں نے انہیں پکڑ ہی لیا
“حمنہ… ” راۓ وحید نے زور سے حمنہ کی کلائی تھامی تھی
“ابو پلیز… ایسا مت کریں, وہ میرا شوہر ہے ابو, میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں… ابو پلیز چھوڑ دیں” وہ بلک رہی تھی… رو رہی تھی لیکن راۓ وحید پر کوئی اثر نہیں تھا
“شاہ نور… ” غیور ملک نے اسے اچھا ہی بجایا تھا, راۓ وحید حمنہ کو کھینچتے ہوۓ باہر لے آۓ
“ابو پلیز… خدا کے لئے مجھے چھوڑ دیں… ابو وہ میرا شوہر ہے… ” وہ روتی جا رہی تھی, راۓ وحید نے یونہی گھسیٹ کر اسے گاڑی میں ڈالا تھا, تا دیر وہ بند شیشے بجاتی رہی تھی
یونہی موسلا دھار بارش میں غیور ملک شاہ نور کو گھسیٹتے ہوئے اندر لیکر آۓ تھے
“آج سے تمہارا اس لڑکی سے ہر رشتہ ختم ہے شاہ نور… اگر آج کے بعد اس کے بارے میں سوچا بھی تو میری گولی سیدھی اس کے دل میں اترے گی…” انہوں نے اسے اس کے کمرے میں قید کر دیا تھا
…………………….
وہ روتی رہی… وہ بلکتا رہا لیکن… ان دونوں پر کسی کو بھی ترس نہیں آیا, راۓ وحید حمنہ کو واپس لے تو آۓ لیکن… بس لا کر اس کے کمرے میں بند کر دیا, ان سب گھر والوں کے دلوں میں اس کے لئے نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا, اس کی ہر کوشش رائیگاں ہی گئی, شاہ نور سے اس کا کوئی رابطہ نہیں تھا
دوسری جانب بھی ایسا ہی ہوا… اپنی بھرپور کوشش کے باوجود وہ اس قید سے نکل نہ سکا… جب جب وہ اس کمرے سے باہر قدم نکالتا… غیور ملک اسے چوکھٹ سے ہی واپس کھینچ لاتے
اس دن عمر اور آمنہ آۓ تھے… حمنہ کو واپس آۓ چوتھا مہینہ تھا… اور اس کی پریگنینسی کا بھی چوتھا مہینہ ہی تھا, آمنہ کی گود میں چند دنوں کی اسماء تھی, کچھ دیر بعد آمنہ اور آسیہ اندر چلی گئیں تو وہ اٹھا… اسے پتہ تھا کہ حمنہ اپنے کمرے میں ہی ہو گی, وہ دبے قدموں اوپر چڑھا, اس کے کمرے کا دروازہ بند تھا… عمر نے باہر سے لاک کھولا اور اندر داخل ہو گیا
وہ بیڈ کے پاس نیچے فرش پر بیٹھی تھی, بکھرے بال اور زرد رنگت… پانی کے گلاس میں ڈبل روٹی کے سوکھے ٹکڑے ڈبو ڈبو کر کھا رہی تھی… عمر ششدر سا کھڑا رہ گیا
“حمنہ… ” اس نے سر اٹھایا تھا. .. وہ کیا سے کیا بن گئی تھی… سوکھ کر کانٹا ہو چکی تھی, ہر دم… ہر پل… بس طعنے اور کوسنے ہی کھاتی تھی
“یہ کیوں کھا رہی ہو… ؟؟؟” وہ تڑپ گیا
“بھوک لگ رہی تھی… ” حمنہ نے آنسو پیتے ہوئے کہا
“تو جا کر کھانا کھا لو… ” وہ بولا
“دروازہ لاکڈ ہوتا ہے… بھابھی صبح کھانا دینا بھول گئیں… اور رات بھی… ” وہ بولی, عمر کی بس ہو گئی تھی, کوئی گناہ تو نہیں کر دیا تھا اس نے جو یوں اس کی عزت نفس پامال ہو رہی تھی, وہ نیچے کچن میں آیا, ٹرے بنائی اور واپس اوپر آ گیا
“یہ لو… کھاؤ… ” وہ ٹرے اس کے سامنے رکھتے ہوئے بولا, وہ بیچاری ٹوٹ کے کھانے پر پڑی تھی
“عمر… ” وہ جانے لگا تو اسے پکار بیٹھی
“ایک کام کر دو گے ؟؟؟”
“ہاں… “
“مجھے یہ میڈیسنز لا دو پلیز… ” حمنہ نے اسے پرچہ لکھ کر دیا تھا
“یہ خود کشی کی تو نہیں ہیں… ؟؟؟” وہ کسی اندیشے کے تحت بولا تھا
“نہیں, نہیں… یہ تو فولک ایسڈ ہے بس… ” اس کے کہتے ہی وہ دم بخود رہ گیا
“تم… Expected ho” اس نے پوچھا, حمنہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا
عمر شاید اس دن اسے میڈیسنز دے کر چپ چاپ واپس چلا جاتا لیکن اس چار مہینے کی پریگنینٹ لڑکی کو تین تین پہر بھوک میں مرتے نہ دیکھ سکا… راۓ وحید کے آگے جا کھڑا ہو گیا
“ماموں اسے واپس جانے دیں… یہاں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے, خدارا اسے اپنے شوہر کے پاس واپس جانے دیں…جو ہونا تھا سو ہو گیا… اب اور ظلم نہ کریں, کسی کا کچھ نہیں بگڑا… ہم سب بہت خوش ہیں… اسے بھی خوش ہو لینے دیں” عمر کہتا چلا گیا تھا
“عمر آپ اس کی وکالت نہ کریں… ” آمنہ کو اچھا نہیں لگا
“چلو میں نہیں کرتا… تو تم کرو نا اس کی وکالت… ؟؟؟ تمہاری تو سگی بہن ہے نا وہ…” عمر نے کہا
“وہ اپنا کیا بھگت رہی ہے عمر… ” راۓ وحید نے کہا
“لیکن اس کے وجود میں پلتی اس ننھی جان کا کیا قصور… ؟؟؟؟” عمر تڑخ گیا, راۓ وحید ششدر رہ گئے, انہیں تو پتہ ہی نہیں تھا
“خدا کے لئے ماموں جان… اگر اسے واپس لے ہی آۓ ہیں تو بیٹی بنا کر رکھیں… کسی ملازمہ سے بھی بدتر حالوں میں ہے وہ, کم از کم اس کا کمرہ ہی کھول دیں… اور اگر نہیں تو اسے جانے دیں ” وہ منت کر رہا تھا
لیکن راۓ وحید پتھر بن گئے, ان کی انا کے لئے یہ ہی بہت تھا کہ حمنہ ان کے گھر کے ایک کمرے میں قید تھی…بس اتنا ہوا کہ اسے کمرے سے کچن تک جانے کی اجازت مل گئی تھی, عمر ہر ہفتے بعد چکر لگاتا تھا… اسے دوائیں وغیرہ خرید کر دے جاتا تھا
…………………………
وہ اپنے کمرے کی سیلنگ کے اوپر چھت توڑ کر اوپر نکلا تھا, مغرب کے فوراً بعد کا وقت تھا, اسے پتہ تھا کہ اس وقت غیور ملک اور تیمور دونوں سٹور پر ہوتے تھے, چپ چاپ وہ دیوار کے ذریعے نیچے اترتا چلا گیا, دیوانہ وار دوڑتے ہوئے اس کا رخ راۓ وحید کے گھر کی طرف تھا… جیب میں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی, چوکیدار نے اسے دروازے پر ہی روک لیا
“مجھے اندر جانے دو, مجھے راۓ وحید سے ملنا ہے” وہ بار بار یہ ہی کہے جا رہا تھا, اور پھر وہ ایک دم اندر کو دوڑ پڑا
“حمنہ…. حمنہ… ” وہ اسے پاگلوں کی طرح آوازیں دے رہا تھا, حمنہ بھاگ کر اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی, راۓ وحید اور راۓ عبید بھی لاؤنج میں نکل آۓ
“انکل پلیز… میری بات سنیں, مجھے جتنا مارنا ہے مار لیں, جتنا برا بھلا کہنا ہے, جتنی گالیاں دینی ہیں… دے لیں لیکن پلیز… میری بیوی کو چھوڑ دیں پلیز… ” وہ ہاتھ جوڑ کر راۓ وحید کے قدموں میں گر گیا تھا, حمنہ سیڑھیوں میں بھاگی لیکن آسیہ نے اسے وہیں روک لیا
“اچھا…تو اب ہیرو کو مار کھانی ہے, چلو یہ خواہش بھی پوری کر دیتے ہیں” راۓ عبید نے بیلٹ اٹھایا تھا
“عبید بھائی خدا کے لئے… ” حمنہ کی چیخیں آسمان ہلا گئیں
عبید بے دریغ اس پر بیلٹیں برساتا چلا گیا… پھر ڈنڈہ منگوا لیا, وہ جتنا مار سکتا تھا اس نے شاہ نور کو اتنا مارا تھا
“حمنہ… “خونم خون وجود کے ساتھ وہ اس کے لبوں کی آخری سسکی تھی
“چوکیدار سے کہو اسے اٹھا کر گیٹ سے باہر پھینک دے اور اس کے باپ کو فون کر کے کہو کہ آ کر اپنا گند اٹھا لے جاۓ” راۓ وحید نے حمنہ کو دوبارہ کمرے میں بند کر دیا تھا
………………………..
“سائن کرو اس پر….. ” غیور ملک نے طلاق کے کاغذ شاہ نور کے آگے پھینکے تھے, وہ بیچارہ سفید پٹیوں میں جکڑا پڑا تھا, غیور ملک کی طرف سے راۓ وحید پر پولیس کیس کر دیا گیا تھا
“نہیں… وہ میرے بچے کی ماں بننے والی ہے, میں اسے کسی صورت طلاق نہیں دوں گا” وہ اڑ گیا تھا, غیور ملک نے دوبارہ اسے قید کر دیا
وہ بھی دسمبر کی ایک یخ بستہ سیاہ رات تھی, موسلا دھار بارش زوروں پر تھی, عطرت کا نوواں مہینہ چل رہا تھا…. اچانک ہی اسے درد اٹھنے لگا, رات کے نو بج رہے تھے جب تیمور اسے لیکر ہسپتال پہنچا… ڈاکٹر نے اسے سیزیرین بتایا تھا…غیور ملک فرزانہ کی طرف گئے ہوۓ تھے, عطرت کی چھوٹی بہن سیرت آئی ہوئی تھی, وہ پانچ سالہ شازیہ کو اس کے پاس چھوڑ گئی
“بھابھی کو کیا ہوا ہے… ؟” ملازمہ اسے کھانا دینے آئی تو اس نے پوچھ لیا
“انہیں ہسپتال لیکر گئے ہیں… ڈلیوری کے لئے ” ملازمہ نے کہا اور دروازہ بند کر کے نیچے چلی گئی, کچھ دیر بعد پی ٹی سی ایل بج اٹھا
………………………..
آج صبح سے اس کی طبیعت کچھ مضمحل سی تھی, وقفے وقفے سے درد اٹھ رہا تھا, وہ خود ایک ڈاکٹر تھی تو اس درد کی نوعیت اچھے سے جانتی تھی…رات ہوتے ہوتے درد شدید ہو گیا
“بھابھی… مجھے ہسپتال لے چلیں پلیز… ” وہ آسیہ کے کمرے تک آئی تھی
“اچھا… ” اس نے سنی ان سنی کر دی
“بھابھی… ” اس کی بس ہوئے جا رہی تھی, چہرہ پسینوں پسین ہو گیا تھا
“تیمور کو فون کیا ہے میں نے… اور کیا کروں ؟؟؟” آسیہ کی سفاکی انتہا پر تھی… حدید سات ماہ کا ہو گیا تھا, ناچار اس نے اپنا وجود گھسیٹا اور بیرونی دروازے تک آئی
“اکرم چاچا… اکرم چاچا…” اس نے بیرونی دروازہ بجایا تھا, بارش زوروں پر تھی, رات کے نو بج رہے تھے
“جی بی بی جی… “اس کی حالت دیکھ کر اکرم کے ہوش اڑ گئے
“اکرم چاچا… عمر کو فون کرنا… عمر فاروق کو پلیز… ” کہتے ساتھ ہی اسے کچھ گیلا محسوس ہوا تھا, ہاتھ لگایا تو تو وہ سرخ ہو گیا, اکرم نے اسی وقت عمر کو فون کر دیا… اس کے آتے تک وہ موت کے منہ میں پہنچ چکی تھی….. اس کا خون سے سرخ وجود عمر ہسپتال لے گیا… وہ انتہائی کمزور ہو چکی تھی, عمر نے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا
“عمر صرف ایک بار…ایک بار شاہ نور کو بلا دو” وہ بس یہ ہی کہے جا رہی تھی, اس کا سٹریچر آپریشن تھیٹر میں لے جا رہے تھے
“حمنہ… میں کیسے اسے بلاؤں ؟؟؟” عمر بے بس سا ہو گیا
“عمر پلیز… اگر خدا نے مجھے بیٹی دے دی تو وہ رل جاۓ گی, ابو اسے پیدا ہوتے ہی مار دیں گے عمر… پلیز اسے بلاؤ…اگر میں مر گئی اور میری بیٹی ہوئی تو اسے دے دینا…صرف اسے ہی دینا… اور کسی کو نہیں پلیز ” حمنہ کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں
“اس کی بھابھی کو فون کرو عمر… وہ اسے بتا دے گی… وہ اسے بھیج دے گی… پلیز” عمر باہر نکل آیا…نرس اس سے سائن کروا چکی تھی
اس نے ہسپتال کی ریسیپشن سے غیور ملک کا پی ٹی سی ایل نمبر ملایا تھا
“کون… ؟؟؟” نسوانی سی آواز تھی
” آپ عطرت ہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“آپ کون… ؟؟؟” دوسری طرف سیرت تھی
“وہ… عطرت… پلیز شاہ نور کو ایک میسیج دے دیں, اس کی بیوی ہسپتال میں ہے… شاید وہ… زندہ نہ بچے… اسے کہیں ایک بار آ جاۓ… اپنا بچہ تو دیکھ لے… پلیز” عمر کہتا چلا گیا تھا
سیرت سن کھڑی رہ گئی تھی… گھر پر کوئی بھی نہیں تھا, وہ ریسیور ہاتھ میں لیے کھڑی رہ گئی تھی
…………………………..
عمر کو تھیٹر کے باہر کھڑے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا…بارش پھر شروع ہو گئی تھی… کچھ دیر بعد نرس نے باہر آ کر خوشخبری سنائی تھی
“مبارک ہو… آپ کے بیٹا ہوا ہے” وہ ننھا سا وجود اس کی گود میں ڈال کر چلی گئی…
حمنہ ابھی بے ہوش ہی تھی… عمر کے سامنے اسے تھیٹر سے وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا, وہ بچہ لیے اس کے سرہانے کھڑا تھا
تبھی اس نے وارڈ کے گلاس ڈور سے اس بچے کے باپ کو اندر آتے دیکھا, وہ بمشکل چل پا رہا تھا, جسم ادھڑا پڑا تھا… جیسے ہی اس نے وارڈ کا دروازہ کھولا… تیمور ملک کی گولی اس کی ٹانگ چیر گئی تھی
وہ منہ کے بل گرا تھا… فرش پر خون پھیلتا چلا گیا
عمر نے ایک نظر حمنہ کے بے سدھ وجود پر ڈالی… کسی ایک کو چننا تھا… وہ نا محسوس سے انداز سے بچے کو گود میں چھپاۓ وارڈ کے واش روم میں چھپ گیا
تیمور ملک نے شاہنور کے آگے طلاق کے کاغذ پھینکے تھے
“سائن کرو… ورنہ…. ” تیمور ملک نے پستول کا رخ حمنہ کی طرف کر دیا
“بھائی… پلیز… ” وہ رویا تھا, تیمور نے ٹرگر ہر انگلی رکھ دی… شاہ نور نے آنکھیں بند کرتے ہوئے سائن کر دئیے تھے
……………………..
عمر اسے گھر لے آیا تھا… آمنہ اس سے پہلے وہاں موجود تھی
خوب ہی واویلا ہوا… عمر اسے اور ارمغان کو چپ چاپ اوپر چھوڑ گیا تھا
“شاہ نور نہیں آیا… ؟؟؟” اس نے پوچھا, پہلے تو عمر کا دل کیا کہ جھوٹ بول دے… کہہ دے کہ اسے اب تم سے کوئی سروکار نہیں رہا لیکن… کہہ نہیں سکا
آخر بچا ہی کیا تھا اس کے دامن میں.. .؟؟؟ بس یہ یقین کے شاہ نور آج بھی اس کے ساتھ مخلص تھا
اس نے دھیرے دھیرے سب بتا دیا… بس یہ نہیں بتا سکا کہ وہ تمہیں آزاد بھی کر گیا ہے
ارمغان کی پیدائش کے تیسرے ہی دن غیور ملک نے حمنہ کی طلاق بھجوا دی تھی, راۓ وحید آگ بگولہ ہو گئے تھے, تیر کی طرح اوپر آۓ اور ارمغان کو اس کی گود سے کھینچ لیا
“ابو… ” وہ بلک گئی تھی
“اس حرامزادے کا گند اسے واپس کرو… “وہ تین دن کے ارمغان کو لیکر نیچے آۓ تھے, حمنہ چیخیں مار مار کر رو رہی تھی
“ابو پلیز… وہ مار دیں گے اسے… ابو میرا بیٹا… میرا بیٹا”بیرونی دروازے سے عمر اندر داخل ہوا تھا, وہ اس کی میڈیسنز لیکر آیا تھا, لاونج کا منظر دیکھ کر وہ تڑخ اٹھا
“بس کریں ماموں جان… “وہ زور سے دہاڑا تھا اور راۓ وحید سے ارمغان لیکر حمنہ کی گود میں ڈال دیا
“ماموں جان خدا بھی شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف کر دیتا ہے… پھر آپ کون ہیں ؟؟؟ کون ہیں آپ جو اس بیچاری کو معاف نہیں کر پا رہے… ؟؟؟ آخر کیا کیا یے اس نے ؟؟؟ بس شادی ہی تو کی ہے… اپنی مرضی سے… جیسے میڈیکل میں ایڈمیشن لے لیا تھا… اپنی مرضی سے” وہ چیخ پڑا
“انت کہاں پر ہو گا ماموں جان… ؟؟؟ جب یہ مر جاۓ گی تب… ” وہ بولا
“عمر خاموش ہو جا… ” وہ بولے
“کوئی تو ترس کھا لے اس پر… آپ باپ ہیں اس کے, آپ کا خون ہے یہ, عبید اور آمنہ بہن بھائی ہیں اس کے… ساتھ مل کر جنے ہیں تینوں… اور میں کیا ہوں ماموں جان… میرا کیا رشتہ ہے اس سے ؟؟؟؟ لیکن مجھے پھر بھی اس پر ترس آتا ہے… جس رات یہ گھر سے گئی اس رات سب سے زیادہ نقصان بھلا کس کا ہوا ؟؟؟؟ آپ کا… ؟؟؟ نہیں, آپ کی عزت تو آپ کی دوسری بیٹی نے بچا لی, آمنہ کا… ؟؟؟ نہیں, اس سے پوچھ کر دیکھیں کہ آج تک کسی نے اس پر انگلی بھی اٹھائی ہو تو… پھر کس کا ہوا ؟؟؟؟ میرا نقصان ہو ماموں جان… میری محبت چھوٹ گئی لیکن… میں نے پھر بھی اسے معاف کر دیا… آپ باپ ہو کر کیوں نہیں کرتے ؟؟؟ یہ بھائی ہو کر کیوں نہیں کرتا… ؟؟؟ وہ بہن ہو کر کیوں نہیں کرتی ؟؟؟” عمر کہتا چلا گیا
” ماموں جان اگر یہ اتنی ہی ناقابل برداشت ہے تو میں لے جاتا ہوں اسے… اور کوئی رشتہ نا سہی… میرے ماموں کی بیٹی ہی سہی” وہ مضبوط لحجے میں بولا تھا
……………………..
“شاہ نور… بیٹے زندگی کو ایسے ضائع نہیں کرتے… ابھی تیری عمر ہی کیا ہے… صرف تئیس سال, بیٹے بھول جا اسے… بس کر دے…” عطرت کو رہ رہ کر اس پر ترس آتا تھا, وہ دو بار خود کشی کی کوشش کر چکا تھا, بالکل ہی زندگی سے منہ موڑ چکا تھا, وہ دن رات اسے سمجھا رہی تھی…خدا نے اسے جڑواں بیٹیوں سے نوازا تھا
آخر کار اس نے ہی تیمور کے سامنے سیرت اور شاہ نور کے نکاح کا آپشن رکھ دیا… شاید اس میں کچھ بہتری آ جاتی, غیور ملک نے ان دونوں کو نکاح کے فوراً بعد ہی امریکہ بھجوا دیا, عطرت کا ننھیال امریکہ میں ہی تھا
شاہ نور وہاں جا کر بھی ایڈجسٹ نہ ہوا… ہر وقت خاموش خاموش سا رہتا, سیرت کے بار بار اصرار کرنے پر ہی اس نے ایف سی پی ایس سٹارٹ کر دیا تھا
کہاں کہاں اسے حمنہ یاد نہیں آتی تھی… ؟؟؟ خدا نے اسے خالد نے نوازا لیکن…. شاہ نور واپس زندگی کی طرف پلٹ نہ سکا
خالد دو سال کا تھا جب اس نے امریکہ میں ہی خود کشی کر لی… سیرت ابھی صرف چوبیس سال کی تھی, عطرت نے اسے واپس اپنے پاس بلا لیا…ہر ممکن غیور ملک نے شاہ نور کی خود کشی کی خبر کو مخفی رکھا… یہ ان کی ساکھ کے لئے بہت نقصان کی بات تھی… دس سال بعد سیرت کی ایک کار ایکسیڈینٹ میں موت ہو گئی تو تیمور ملک نے ہر طرف یہ ہی مشہور کیا کہ شاہ نور دو دن پہلے پاکستان آیا تھا اور وہ دونوں میاں بیوی کہیں جا رہے تھے جب راستے میں ان کا ایکسیڈینٹ ہو گیا…تلاش کے باوجود شاہ نور کی ڈید باڈی نہ ملی
…………………….
ارمغان کی پیدائش کے بعد وہ بس چار سال ہی زندہ رہی… اس میں کچھ بچا ہی نہیں تھا, اپنے آخری دموں پر بھی اس کے پاس عمر ہی تھا
“میرے بچے کے ساتھ یہاں مجھ سے بھی زیادہ برا سلوک ہو گا عمر…کوئی اسے نہیں پوچھے گا… اچھوت سمجھتے ہیں سب اسے… وہ رل جاۓ گا عمر…آسیہ بھابھی اسے اپنا نوکر بنا لیں گی… اسے اپنے ساتھ لے جانا, اس کے باپ کے آنے تک اسے اپنے پاس ہی رکھنا…ہو سکتا ہے وہ لوٹ آۓ… ” حمنہ کی امید اب بھی قائم تھی
اور وہ شاید لوٹ بھی آتا… اگر زندہ ہوتا… ؟؟؟؟ حمنہ کو کیا پتہ کہ وہ تو کب کا اس سارے جھمیلے سے آزاد ہو چکا تھا…
“عمر… ” اس نے دھیرے سے پکارا تھا
“ایم سوری… مجھے تمہیں ٹھکرانے کی سزا ملی یے… “وہ رو رہی تضی
“مجھے اس رات نہ پلٹنے کی سزا ملی ہے… ” اپنی آخری سانس اس نے عمر کے ہاتھوں میں چار سالہ ارمغان کا ہاتھ دیتے ہوئے ہی لی تھی
………………………
“یہ بچہ اس گھر میں نہیں رہے گا عمر… اگر یہ یہاں رہے گا تو میں چلی جاؤں گی” آمنہ کے غضب کی کوئی انتہا نہیں تھی
“اس کا کیا قصور… ؟؟؟؟” عمر نے پوچھا
“یہ حمنہ کا بیٹا ہے… یہ ہی اس کاقصور ہے” وہ تڑخ کر بولی, اسماء بھی نفرت سے اسے دیکھ رہی تھی
“بس کرو آمنہ… تمہاری بہن تھی وہ…. سگی بہن” عمر نے کہا
“بدذات تھی وہ… ” آمنہ روتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی تھی, اذن تب دو سال کا تھا… انیتا ہونے والی تھی… اسماء بھی اس کے پیچھے ہی سیڑھیاں چڑھ گئی, ارمغان وہاں کھڑا رہ گیا… تنہا
“اسراء… ” عمر نے اسے آواز دی تھی
“بھائی کو اپنے ساتھ کھلاؤ… ” اس نے کہا
“بھائی تو یہ ہے… “اسراء نے اذن کی طرف اشارہ کیا تھا
“وہ چھوٹا بھائی ہے… یہ بڑا بھائی ہے”عمر نے کہا, اسراء نے ہنستے ہوئے اس کا بازو تھام لیا تھا
…………………………..
خالد, غاشیہ اور ناشیہ… ان تینوں کی ہمیشہ سے تکون تھی… شازیہ ان سے پانچ, چھ سال بڑی تھی, ان تینوں کی کبھی بھی اس سے نہ بنی, خالد ان دونوں سے ڈیڑھ سال چھوٹا تھا…جب تک چھوٹا رہا, وہ دونوں شازیہ کے خلاف اس کی باڈی گارڈ بنی رہیں, شازیہ کو اسے کچھ کہنے ہی نہیں دیتی تھیں, سکول میں بھی وہ ان دونوں کا چھوٹا بھائی ہی تھا… ہمیشہ دونوں اسے ڈیفینڈ کرتیں….لیکن جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا… قد کاٹھ نکالنے لگا تو وہ ان دونوں کے لئے خالد بھائی ہو گیا, حفاظت کا دائرہ کار یکلخت ہی تبدیل ہو گیا… اب خالد آگے ہوتا اور وہ دونوں اس کے پیچھے… اب وہ اس کی بہنیں تھیں…طہٰ کی پیدائش کے ساتھ ہی تیمور ملک کو ان کا وارث مل گیا تھا
………………………..
دوسری طرف بھی یہ ہی حال تھا… صمد اور درید دونوں بڑے تھے… زرقا بہت چھوٹی تھی… سو حدید ہر چوتھے روز آمنہ کی طرف چلا جاتا… اس نے بس عمر فاروق کو ایک کال کرنی ہوتی تھی
حدید… اسراء… اور ارمغان… پکی یاری تھی… گو کہ اذن چھوٹا تھا لیکن اس یاری کا چوتھا کونا بننے کی پوری کوشش کرتا تھا, آمنہ اور اسماء کا رویہ ارمغان سے ایک جیسا تھا… انیتا بھی اسے زیادہ منہ نہیں لگاتی تھی…
وہ گیارہ سال کا تھا جب عمر فاروق نے اسے اس کی ماں اور باپ کے بارے میں سب کچھ بتا دیا
“تو پھر… بابا کہاں ہیں… ؟؟؟” اس نے پوچھا تھا
“پتہ نہیں… ” عمر نے کہا
“لوٹ کر نہیں آۓ ؟؟؟” اس نے پوچھا, عمر نے نفی میں سر ہلا دیا
“میں جاؤں ؟؟؟ ان کے پاس…؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا…عمر چپ چاپ اسے ایک دن ملک ہاؤس لے گیا…صحن کے بیچوں بیچ وہ سفید کپڑوں میں لپٹا وجود پڑا تھا… ایک طرف تیمور ملک کھڑے تھے, ان کے پیچھے غیور ملک تھے… بوڑھے سے غیور ملک…
اس دن سیرت کا جنازہ تھا
عمر نے کسی سے کچھ نہ پوچھا
اسے یہ ہی لگا کہ شاہ نور دنیا چھوڑ کر جا چکا ہے
“ارمغان… تمہارے بابا اب نہیں رہے… ” وہ اسے لیکر پلٹ آیا تھا
……………………………….
جاری ہے
