No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
اس دن حنا کی منگنی تھی… پورے گھر میں افراتفری سی مچی ہوئی تھی, حنا, فرحان کے ساتھ ہارلر گئی ہوئی تھی, ناشیہ کا بیٹا ڈھائی ماہ کا ہو گیا تھا, ساری تیاریاں مکمل کر کے اس نے معاذ کو فرزانہ کے سپرد کیا اور خود نہانے گھس گئی, صفوان باہر کہیں مصروف تھا, کپڑے بدل کر وہ ہلکا پھلکا سا تیار ہوئی اور دوپٹہ کندھے پر ڈالتے ہوئے باہر نکل آئی
“ناشیہ… پتر اپنا سیٹ ہی پہن لیتی” فرزانہ نے دھیرے سے کہا تھا
“رہنے دیں پھپھو… بھاری بہت ہے وہ… ” ناشیہ کے پاس بس وہی زیور بچا تھا جو تیمور ملک نے بنا کر دیا تھا, بری والا زیور تو سسرال والے کب کا بیچ کر کھا پی گئے تھے
“چل پھر کانٹے تو ڈال لے کانوں میں… اور چوڑیاں پہن لے, جا میرا پتر” فرزانہ نے کہا, وہ بادل نخواستہ سی اندر آ گئی, اپنے تئیں اس نے اپنا زیور بڑی محفوظ جگہ پر رکھا ہوا تھا
جیسے ہی ڈبہ کھولا… دل جیسے اچھل کر حلق میں آ گیا… وہاں بس نیکلس کے نام پر ایک ہار اس کا منہ چڑا رہا تھا, افراتفری میں اس نے پورا کمرہ چھان مارا لیکن بے سود….
فرزانہ نے اس کا زرد پڑتا چہرہ دیکھا تو پوچھ لیا
“وہاں… کچھ بھی نہیں ہے پھپھو… کچھ بھی نہیں… ” ناشیہ کی آنکھیں بھر آئیں, بمشکل اس نے اپنے آنسو روکے ہوئے تھے, فرزانہ کی تو جان نکل گئی
جیسے تیسے سارا فنکشن نپٹا کر فرزانہ نے صفوان کو دھر لیا تھا
“کہاں ہے اس کا زیور… ؟؟؟” وہ چنگھاڑ کر بولی
“مجھے کیا پتہ… ؟؟؟” وہ صاف مکر گیا
“صفوان… مجھے سچ سچ بتا دے کہ تو نے اس کے زیور کے ساتھ کیا کیا… کہاں بیچ دیا ؟؟؟” اس نے صفوان کے ایک لگائی تھی
“او میں نے نہیں بیچا… ” وہ تڑخا
“بیچا ہے… ابھی پچھلے دنوں جب میں حنا کی انگوٹھی اٹھانے گیا ہوں تو سنارے نے کہا کہ جب نئی خریدنی تھی تو پرانی کیوں بیچی… ؟؟؟ میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہا تھا… ” فرحان بیچ میں بول پڑا, ناشیہ کا دل بیٹھ گیا
“بے غیرت, بے شرم کچھ تو چھوڑ دے اس کا, کہیں کا تو رہنے دے ہمیں… ” فرزانہ اسے مارتی چلی گئی
“امی ایسے اسے تب مارنا تھا جس دن یہ پہلے بار نشہ کر کے گھر آیا تھا… تب تو میرا لعل کہہ کر سینے سے لگا لیا…اب بھگتو سارے” فرحان کے کہنے کی دیر تھی, صفوان کتوں کی طرح اس پر پل پڑا تھا
…………………………
اس دن رات کے کھانے پر درید کی کال آئی تھی, فرداً فرداً سبھی نے بات کی, اسراء کی باری آئی تو وہی سبھی والے چند منٹ اس کے حصے بھی آ گئے
“درید کیسا بھائی ہے تو ؟؟؟؟ اکلوتی بہن کی شادی پر بھی نہیں آۓ گا ؟؟؟” اسماء نے اس کے اچھے لتے لیے تھے
“درید بھائی ایسا بھی کیا کام… کچھ دنوں کے لئے چکر لگا لیں” زرقا نے کہا تو صمد نے فون پکڑ لیا
“کیسے ہیں صمد بھائی… ؟؟؟” وہ اس کی شکل دیکھ کر مسکرا اٹھا
“درید… میری ایک بات سن لے, تیرے پاس صرف چار دن ہیں… ان چار دنوں میں تیرا آنا کنفرم نہ ہوا تو پھر جو ہو گا سو ہو گا… مجھ سے گلہ نہ کریں” صمد موبائل کان سے لگاۓ باہر نکل آیا
“کیا ہو گیا ؟؟؟”
“یہ پوچھ کیا نہیں ہوا… ؟؟؟” صمد اس پر چڑھ دوڑا
“بھائی جان… اس میں میرا کوئی قصور ہے تو بتائیں… یہ سارا کچھ آپ کا کیا دھرا ہے” اس نے ہمیشہ کی طرح سارا ملبہ صمد پر ڈال دیا
“واہ… بہت اچھے… میرے کندھے پر کلاشنکوف رکھ دے” صمد نے کہا
“تو چار دنوں میں واپس آ بس… ” صمد کی بس ہو گئی
“ابو کو بتا دیا ؟؟؟” درید نے پوچھا
“ہاں… ملوا بھی لایا ہوں, درید… اسماء کو پتہ چل گیا تو میری خیر نہیں… ” صمد کا کوئی حال نہیں تھا, درید نے اسے تسلی دیتے ہوئے کال کاٹ دی
دو دن بعد صمد کو اس کی کال آئی تھی
“میں زرقا کی مہندی والی رات پہنچوں گا… “
………………………
آمنہ, انیتا اور عمر فاروق نئے گھر میں شفٹ کر چکے تھے, زرقا کی ساری بری اور دیگر لوازمات بھی وہاں لاۓ جا چکے تھے, شادی سے ایک ہفتہ پہلے راۓ عبید نے اس کا سارا فرنیچر اور الیکٹرونکس بھی اٹھوا دیا…
اس رات زرقا کا پھر سے دل ڈول گیا…اسقدر مان, بھروسے, خلوص اور محبتوں کو ٹھوکر مارنا کہاں آسان ہوتا ہے ؟؟؟ ایک لڑکی اگر ان سب کو ٹھوکر مارتی ہے تو کیا وہ درست کرتی ہے… ؟؟؟
سب کچھ تیار تھا… اس کا گھر, اس کا کمرہ, سامان بھجوایا جا چکا تھا… بری خریدی جا چکی تھی, زیور بنوایا جا چکا تھا, نکاح کا جوڑا تیار تھا, ہال بک ہو چکا تھا, لائیٹنگ ہو چکی تھی…
لیکن اسے یہ سب چھوڑ جانا تھا
دو دن بعد اذن نے ارمغان کو بھی بلوا لیا, اتنے ڈھیر سارے کام اس اکیلے سے مینیج کرنا مشکل تھا, اپنی شادی کی خبر اس نے کولیگز میں زیادہ پھیلائی ہی نہیں تھی, بس ایک دو دوستوں کو ہی بلایا تھا کہ عمر فاروق کو زیادہ شک نہ ہو, وہ راۓ عبید کے گھر سے اپنا سارا بوریا بستر گول کر لایا, اس شام وہ ارمغان کو ساتھ لے گیا تھا
“اذن… یار اسماء نے میری شکل دیکھ کر ہی بھڑک جانا ہے” وہ بار بار کہے جا رہا تھا
“او یار کچھ نہیں ہوتا” اذن اسے کھینچ لایا, صد شکر کے اسماء بازار کو نکلی ہوئی تھی
“اسراء دیکھو کون آیا… ؟؟؟” اذن نے زور سے آواز دے کر کہا, اسراء کچن سے نکلی تھی
“واہ… آج چاند کدھر سے چڑھ آیا… ؟؟؟” اسراء نے ہنستے ہوئے کہا تھا, ارمغان نے دھیرے سے اسے ایک بازو کے حلقے میں لے لیا… ان دونوں کی تو بچپن کی یاری تھی
جب تک اذن نے اپنا سامان سمیٹا, وہ اسراء کے پاس کچن میں ہی بیٹھا رہا
“چل آ ارمغان… چلیں” وہ کچن کے دروازے میں کھڑا ہو کر بولا
“تو اسے رہنے دے… یہ کھانا کھا کر آۓ گا” اسراء نے کہا
“نہیں اسراء… اسماء آنے والی ہو گی”
“تم اسماء سے کب سے ڈرنے لگے ؟؟؟” اسراء کی آنکھیں پھیل گئیں
“ایسی بات نہیں ہے… ایویں بدمزگی ہو گی” وہ بولا
“کچھ نہیں ہوتا, کھانا تیار ہے, حدید بھی آنے والا ہو گا, ساتھ مل کر کھائیں گے” اسراء نے کہا, اذن نے ارمغان کی طرف دیکھا, اس نے کندھے اچکا دییے
اذن واپس چلا گیا… اسراء اسے لیکر حدید کے پورشن میں آئی تھی
“حدید… “وہ ابھی آیا ہی تھا
“گیس کرو کون آیا ہے ؟؟؟” اسراء دروازے میں کھڑی تھی
“کون ہے ؟؟؟” حدید ٹی شرٹ پہنتے ہوۓ بولا, غاشیہ بھی اندر ہی تھی
“ٹاں ٹاں… ” اسراء نے اسے بازو سے پکڑ کے کھینچا تھا
“ارمغان…. کیسا ہے دوست ؟؟؟” حدید دن کی ساری کلفت بھول گیا, ارمغان بڑے جوش سے اس سے گلے ملا
جب سے زندگی مصروف ہوئی تھی اور حدید نے چاند چڑھایا تھا, تب سے ان دونوں کا ملنا بھی کم ہو گیا تھا, ارمغان ویسے بھی راۓ عبید کی طرف زیادہ نہیں آتا تھا
“کھانا تو نہیں کھایا ؟؟؟” اسراء نے پوچھا
“نہیں…. “
“میں اوپر چھت پر کھانا لیکر آتی ہوں… ایکساتھ کھاتے ہیں” اسراء نے کہا
“لے آؤ جلدی…. ” اسراء وہیں سے مڑ گئی
“کیسی ہیں بھابھی ؟؟؟” ارمغان نے خاموش خاموش سی غاشیہ سے پوچھا تھا
“ٹھیک ہوں… “
“غاشی یہ ارمغان ہے… حمنہ پھپھو کا بیٹا” حدید نے بتا ہی دیا
“اچھا… پھر یہ آدھا تو ہم میں سے ہوا” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی, ارمغان بس سر جھکاۓ مسکراتا رہا
“کھانا کھا لیا ؟؟؟” حدید نے پوچھا
“ہاں…میں نے کھا لیا”
“آ جاؤ… ” اسراء کی آواز پر وہ دونوں اوہر آ گئے تھے
“اسماء آ گئی ہے… ” اسراء نے کہا
“تو فکر نہ کر… پچھلے دروازے سے چلا جائیں ” حدید نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
ان تینوں کی بریانی کی وہ ایک ایک پلیٹ کھانے میں گھنٹوں پر محیط ہو گئی تھی, سوا دو لیٹر کی کوکا کولا بھی تینوں کو کم پڑ گئی, کرید کرید کر پرانے قصے نکال لیے گئے تھے
“ہاں سچ یاد آیا اسراء… وہ تیری اس سہیلی کی شادی ہو گئی جو ہم دونوں پر ایکساتھ لائن مارتی تھی؟؟؟” حدید کو یاد آیا تھا
“کون… ؟؟”
“وہی وہ چھوٹے چھوٹے بالوں والی… تھوڑی موٹی سی… جس کے پاس بس ایک ہی رنگ کی لپ اسٹک تھی… ” حدید ہنستا چلا گیا
“شہنیلا…. ” ارمغان نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تھا
“اچھا وہ… اوۓ وہ میری سہیلی کب تھی ؟؟؟ وہ تم دونوں کا مشترکہ لو افییر تھی” اسراء نے اسے ایک دھپ لگائی تھی
“تمہاری سہیلی ہی تھی… تمہارے ہاتھوں ہی تو خط آتے تھے اس کے مجھے… ” حدید نے کہا
“حدید یار… وہ نا دراصل محبت کرنے میں خود کنفیوزڈ تھی کہ ہم دونوں میں سے کسے choose کرے, جن دنوں تو نہیں ہوتا تھا… ان دنوں اس کا ٹارگٹ میں ہوتا تھا… اور جب تو آ جاتا تھا تو… پھر بھلا میری کیا اوقات ؟؟؟” ارمغان کہتا چلا گیا
“اور وہ بیچاری آخر تک کنفیوزڈ ہی رہی…. اس سے ڈیسائیڈ ہی نہیں ہو پایا کہ کس پر مہر لگاۓ ” حدید نے کہا
“بس کرو لفنگو… اس کی شادی ہو گئی تھی… بھلا کس سے ؟؟؟” اسراء نے آگے کو ہوتے ہوئے کہا
“کس سے ؟؟؟” ان دونوں کو ہی نہیں پتہ تھا
“تمہیں نہیں پتہ ؟؟؟”
“نہیں… “
” مبین جعفر سے… ” اسراء نے دھماکہ کیا تھا, حدید کو فوراً کچھ اور خیال آیا تھا
“مبین جعفر… وہ جو حسین جعفر کا چھوٹا بھائی تھا ؟؟؟” حدید نے پوچھا
“ہاں وہی… وہ جو صمد بھائی کا لنگوٹیا یار تھا, یاد ہے جب وہ دبئی سے واپس آتا تھا تو وہاں سے کیسی تھرڈ کلاس قسم کی ٹافیاں لیکر آتا تھا ہمارے لئے ” اسراء ہنسے جا رہی تھی
“اوۓ حدید… یہ حسین جعفر اپنی بہن کا رشتہ بھی لیکر آیا تھا نا… صمد بھائی کے لئے… مجھے کس نے بتایا تھا بھلا… ؟؟؟” ارمغان سوچ میں پڑ گیا
“بھلکڑ… میں نے ہی بتایا تھا” حدید نے اس کے کان کے نیچے ایک بجائی تھی
“ہاں… سچ” وہ کان کھجاتے ہوۓ بولا تھا
“اسراء… یار وہ حسین جعفر پاکستان آیا ہوا ہے آجکل… بمعہ اپنی اس بہن اور اس کے بچوں کے… “حدید نے کہہ ہی دیا
“سیر کرنے آیا ہو گا… ” اسراء نے کہا
“میں بھی یہ ہی سمجھا تھا… اسے اذن نے دیکھا ہے مونل میں, وہ کہہ رہا تھا کہ صمد بھائی بھی اس کے ساتھ تھے, پھر میں نے اور اذن نے ان کی ذرا نگرانی کی تو وہ واقعی آجکل حسین اور اس کی بہن کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں…. ” حدید کہتا چلا گیا
“ارے ہاں یار… صمد بھائی کو میں نے بھی دیکھا ہے کسی عورت کے ساتھ… کسی آئس کریم پارلر پر… میرا خیال ہے ساتھ بچے بھی تھے” ارمغان کے کہتے ہی اسراء اور حدید کی گھنٹی بجی تھی
“حدید… صمد بھائی ان دنوں کافی مشکوک بھی ہو گئے ہیں, اکثر ہی راتوں کو چپ چاپ اٹھ کر پتہ نہیں کہاں چلے جاتے ہیں, گاڑی مستقل سٹور پر کھڑی رہتی ہے… صبح صبح نیند میں جھولتے ہوۓ واپس آ رہے ہوتے ہیں… اسماء کو بھی شک ہونے لگا ہے… ” اسراء کہتی چلی گئی
“اوۓ خدا بھلا کرے… کہیں صمد بھائی نے بھی تو کوئی چاند نہیں چڑھا دیا ” ارمغان نے ہنستے ہوئے بوتل اپنے گلاس میں خالی کی تھی
“اسماء بھابھی کا کیا ہو گا ؟؟؟” حدید ڈر گیا تھا
“وہ سیدھی سیدھی صمد بھائی کی گردن کاٹ دے گی” اسراء پر یقین تھی
“اسراء… یار تم درید سے پوچھو تو… وہ شاید کچھ پتہ لگا سکے حسین کی بہن کی فیملی کا… ؟؟؟” حدید نے کہا
“درید سے کیا پوچھوں میں… ؟؟ مہینوں بعد تو یاد آتا ہے اسے کہ اس کی ایک بیوی بھی ہے… ہر وقت کام کام کام… اور کام کا رونا” حدید نے جیسے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا, وہ یکدم ہی بوجھل سی ہو گئی
“اچھا چلو… یہ زرقا کی شادی والا معاملہ نمٹتا ہے تو صمد بھائی کا کچھ کرتے ہیں” حدید نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا
“میں بھی چلتا ہوں اب… ” ارمغان بھی کھڑا ہو گیا
“چل میں چھوڑ کر آتا ہوں تجھے… واک ہو جاۓ گی” حدید نے کہا, ارمغان اسراء کا ہولے سے سر تھپتھپاتے ہوۓ نیچے اتر گیا تھا
“غاشی میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں… ” حدید نے اس کے پیچھے ہی نیچے اترتے ہوئے غاشیہ کو آواز دی تھی
“سگریٹ پئے گا ؟؟؟” ارمغان نے مین روڈ پر آتے ہوئے پوچھا
“پکڑ لے… ” وہ بولا, ایک ایک سگریٹ سلگا کر دونوں فٹ پاتھ پر چل دیئے تھے
“ارمغان… انیتا کوئی ہاتھ نہیں پکڑاتی تجھے ؟؟؟” حدید نے پوچھا
“جب تک اسے اس بات کا ذرہ برابر بھی یقین ہے کہ تیرا ہاتھ کسی بھی طرح اس کے ہاتھ میں آ سکتا ہے… وہ ہاتھ تو کیا انگلی بھی نہیں پکڑاۓ گی” ارمغان دھیرے سے ہنسا تھا
یار… یہ جو اسماء بھابھی ہیں نا… یہ بڑی ٹیڑھی کھیر ہیں, ابو شاید مجھے معاف کر بھی دیں لیکن… ان کی وجہ سے وہ اور بھڑک جاتے ہیں, یہ ہی ہیں جو انیتا کی آس ٹوٹنے نہیں دیتیں… صرف ان کی وجہ سے پچھلے دنوں غاشیہ کا مس کیرج بھی ہو گیا… ” حدید نے دھواں اڑاتے ہوئے کہا تھا
“ہاں مجھے بتایا تھا اذن نے… دکھ ہوا سن کر ” وہ بولا
“دو سال ہونے کو آۓ ہیں میری اور غاشیہ کی شادی کو… پتہ نہیں ابھی بھی انہیں کونسی امید ہے مجھ سے ” وہ بھرا پڑا تھا, ارمغان بس سنتا رہا
“اذن, اسراء اور عمر انکل میرے ساتھ ہیں لیکن…. خالہ, اسماء اور انیتا… تینوں نہیں مانتیں ” ارمغان نے کہا, یونہی واک کرتے ہوئے عمر فاروق کا گھر آ گیا تھا
“ارمغان… یار ایک کام کرے گا” حدید نے اسے بتانے کا سوچ ہی لیا
“ہاں بول… ” ارمغان نے سگریٹ ختم کر کے جوتے کے نیچے رگڑا تھا
“یہ دو, تین نمبرز ہیں, ان کی ذرا تفصیل تو پتہ کروا… میں نے کروائی تو ہے لیکن کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا… ” حدید نے اسے نمبرز نوٹ کرواتے ہوئے دھیرے سارا قصہ سنایا تھا
“کون ہو سکتا ہے ؟؟؟ ” وہ سوچ میں پڑ گیا
“یہ ہی تو معمہ ہے” حدید نے بھی سگریٹ ختم کر لی تھی
“چل میں دیکھتا ہوں… ” وہ حدید سے حلے ملتے ہوئے اندر چلا گیا
وہ وہیں سے واپس پلٹ آیا, راستے سے ایک آم رس ٹافی خرید کر کھائی اور گھر آ گیا
غاشیہ کو سگریٹ کی بو آ جاتی تو اس کی خیر نہیں تھی
……………………….
مہندی سے ایک دن پہلے ان سب کی ایک اور میٹنگ ہوئی… طہٰ, اذن, زرقا, حدید… پلان بالکل تیار تھا, پولیس سے بات ہو چکی تھی, طہٰ نے گاڑی چلانی بھی سیکھ لی تھی… شونا ریڈی تھی, خالد نے اپنا سکرپٹ یاد کر لیا تھا
اسی رات درید بھی پاکستان آ پہنچا…صمد, اذن اور عمر فاروق اسے اییر پورٹ سے لیکر آۓ تھے, آمنہ اور راۓ عبید کی خوشی کا کوئی حال نہیں تھا, اسراء بس ایک طرف کھڑی آنسو بہاۓ جا رہی تھی, بہت دیر وہ زرقا کو گلے سے لگاۓ کھڑا رہا….
“چل بس کر… تیری طرح وہ رخصت ہو کر پردیس نہیں جا رہی… یہیں چند منٹ کی دوری پر جا رہی ہے” آمنہ نے ان دونوں کوالگ کیا تھا
“حدید کدھر ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“او حدید یارا… ” اس کی آواز سن کر حدید ن نیچے جھانکا
“درید بھائی… ” وہ بھاگا آیا تھا
“بڑے گورے ہو گئے ہیں درید بھائی…. ” وہ بولا تھا
اسماء اور اسراء نے بڑا شاندار سا کھانا بنایا تھا, اسراء کے لبوں سے تو مسکراہٹ ہی جدا نہیں ہو رہی تھی, صمد بھی کئی دنوں بعد کھل کر ہنسا تھا, راۓ عبید نے آمنہ اور عمر فاروق کو بھی کھانے پر روک لیا, اذن واپس چلا گیا تھا, کھانے کے بعد چاۓ کا دور چل پڑا
“حدید کے ساتھ ابھی حالات ٹھیک نہیں ہوۓ… درید نے پوچھا
“پوری ڈھٹائی سے رہ تو رہا ہے یہاں… ہمارے سروں پر چڑھ کر…اور کیسے ٹھیک ہوں گے حالات ؟؟؟؟” راۓ عبید نے کہا
“تیری ماں کی آخری خواہش نہ ہوتی تو میں تو کب کا نکال باہر کر چکا ہوتا, پورے خاندان کے سامنے میری ناک سے لکیر کھینچ گیا اور پھر نام کو بھی شرمندہ نہیں ہے… جس دن اس کا گھر مکمل ہو گیا, اس دن کے بعد سے شکل بھی نہیں دیکھوں گا اس کی ” راۓ عبید بھڑک ہی پڑے
“شادی میں آۓ گا؟؟؟ ” درید نے دھیرے سے پوچھا
“وہ نہ آیا تو شادی نہیں ہو گی ؟؟؟” انہوں نے جواباً پوچھا, اب کے درید چپ رہ گیا
“ہو جاۓ گی نا…. بس تو پھر ایویں سیاپا کیوں کرنا ہے” وہ بولے
“ابو جی جانے بھی دیں, دو سال گزر گئے ہیں” صمد نے لقمہ دیا تھا
“عبید یار… غصے کو تھوڑا کم کر یار… دو سال کم نہیں ہوتے, چھوٹا بیٹا ہے وہ تیرا… لاڈلا بیٹا… زرقا کا بھائی ہے, اچھا لگے گا کہ نیچے بہن کو مہندی لگ رہی ہو اور وہ اوپر اپنے کمرے میں بند ہو کر بیٹھا ہو” عمر فاروق نے کہا
“ناخن سے ماس کبھی جدا بھی ہوا ہے… ” انہوں نے پھر کہا تھا
“چلیں جانے دیں ابو, آخر کو وہ بھائی ہے ہمارا.. چھوٹا بھائی…” درید نے انہیں جپھی ڈالتے ہوئے کہا تھا
“صرف وہ خبیث آۓ گا بس… ساتھ اس کی وہ معشوقہ نہیں آۓ گی”راۓ عبید نے کہا
“ابو یہ کیا بات ہوئی… ؟؟؟ وہ بیوی ہے اس کی” درید نے کہا
“درید… تو چار سال بعد واپس آ کر ہمارے زخم نہ کرید سمجھا… بالکل یہ ہی دن تھے, انیتا کو مہندی لگنے والی تھی جب اس نے میری بچی کو کسی لائق نہیں چھوڑا تھا, اور تو کہہ رہا ہے کہ میں اس لڑکی کو اپنے گھر کی شادی میں بلوا لوں…. وہ حدید کے ساتھ ادھر ادھر مٹکتی پھرے.. نہ بیٹا… اتنا بڑا دل نہیں ہے میرا… حدید نے آنا ہے تو اذن کے ولیمے پر سو بار آۓ لیکن… وہ لڑکی میرے گھر میں ایک قدم بھی نہیں رکھے گی” آمنہ نے صاف کہہ دیا تھا
“چلیں ابو… بارات میں تو آ لینے دیں دونوں کو” درید نے پھر کہا
“صرف حدید… بس… اب میرے سے زیادہ بکواس کی تو واپس دفع کر دوں گا تجھے” وہ بھڑک پڑے تھے
………………………..
حریم کو خدا نے بیٹی سے نوازا تھا…وہ ڈلیوری کے لئے اپنی امی کے گھر چلی گئی تھی, دن گیارہ بجے کا وقت تھا جب رافع کو اس کے بھائی کا فون آیا کہ حریم کو ہسپتال لیکر جا رہے ہیں, وہ اسی وقت روبینہ کو لیکر وہاں پہنچ گیا… پیچھے فرح اور دونوں بچے ہی تھے, شافع اسی وقت گھر پہنچا تھا, تقریباً دو گھنٹے بعد ہی اسے رافع کا فون آ گیا… اس کی خوشی ہی دیدنی تھی
شافع نے فرح اور دونوں بچوں کو لیا اور اسی وقت ہسپتال چلا گیا
“چل اب چھوڑ دے اسے… لٹا دے یہاں” روبینہ نے رافع سے کہا جو مسلسل اسے بازوؤں میں اٹھاۓ کھڑا تھا
“رہنے دیں… پتہ نہیں کیسے گندے مندے بستر ہیں, میری گود میں ہی ٹھیک ہے” وہ بولا, حریم کو بھی ہوش آ گیا تھا, بہت دیر تک رافع اس کا ہاتھ تھام کر بیٹھا رہا
“حریم میرے لئے صرف تم اور میری بیٹی…اس کے زیادہ اور کچھ نہیں… کچھ بھی نہیں” وہ کہے جا رہا تھا, شافع نے پورے ہسپتال میں مٹھائی بانٹی, رحمہ کی دفعہ اس کا بھی یہ ہی حال تھا… اسے گود سے ہی نہیں اتار رہا تھا
ابھی وہ ہسپتال میں ہی تھے جب شافع کو سیٹھ بابر کی کال آئی
“بانو کو دل کا ہلکا سا اٹیک ہوا ہے…. فرح سے ملنے کا کہہ رہی ہے” شافع اس کی بات سن کر چپ رہ گیا, تھوڑی دیر بعد اس نے روبینہ کو گھر چھوڑا اور فرح اور بچوں کو لیکر سیٹھ بابر کی کوٹھی پر چلا آیا
بانو تو اس ذرا سے حملے میں ہی پیلی پڑ گئی تھی
“امی کیا ہو گیا… ؟؟؟” وہ تو اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی
“تو مجھے کھا گئی فرح… تیرے دکھ نے مجھے کھا لیا” بانو کی آنکھیں لگاتار بہہ رہی تھیں, شافع سے وہاں رکنا دوبھر ہو گیا
“اسے چھوڑ جا… ” سیٹھ بابر نے دھیرے سے کہا تھا اور شافع نہ چاہتے ہوئے بھی خاموش ہو گیا تھا
………………………..
ایک بج رہا تھا جب کالج سے آف ہوا, فرحان اسے لینے آ گیا تھا, بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے وہ باہر نکل آئی
“فرحان میڈیکل سٹور پر روکنا… معاذ کا سیرپ لینا ہے” ناشیہ نے اس کے پیچھے بیٹھتے ہوئے کہا تھا, اس نے سر ہلا دیا, معاذ کا سیرپ لیکر وہ جیسے ہی باہر نکلی, یکدم ہی ٹھٹھک گئی
وہ شاید صفوان ہی تھا
“بھابھی بیٹھیں.. ” فرحان نے مڑ کر اسے کہا
“فرحان وہ صفوان ہے نا… ؟؟؟” ناشیہ کے کہتے ہی فرحان نے گردن موڑ کر دیکھا, نہ جانے کس کی بلیک کرولا سے نکلتا وہ صفوان ملک ہی تھا
“یہ ساتھ کون ہے… ؟؟؟” فرحان کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی, وہ جو کوئی بھی تھی, بڑے حق سے اس کے بازو میں بازو ڈال گئی تھی
ناشیہ ہکا بکا رہ گئی, میڈیکل سٹور کے بالکل ساتھ ہی ایک سیکینڈ کلاس ریسٹورنٹ تھا, وہ دونوں وہاں چلے گئے تھے
“فرحان آنا ذرا… “اسے کہتی ہوئی وہ ریسٹورنٹ کی طرف آ گئی, فرحان اس کے پیچھے ہی تھا
“بھابھی ماسک لگا لیں.. “فرحان نے اسے پیچھے سے آواز دے کر کہا, ناشیہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے ماسک لگا لیا, وہ دونوں کونے والی میز پر بیٹھے تھے, وہ پورا ریسٹورنٹ ہی ایسے کپلز سے بھرا پڑا تھا… کوشش کے باوجود وہ دونوں ان کے قریب کسی ٹیبل پر نہ بیٹھ سکے
“بھابھی چلیں… بھائی کی ان اوچھی حرکتوں کو عرصہ بیت گیا ہے” فرحان اس سب کا عادی تھا, ناشیہ نے دوبارہ ان کی طرف دیکھا
وہ جو کوئی بھی تھی… صفوان کے ساتھ حد سے زیادہ بے تکلف ہو رہی تھی, وہ بھی کبھی اس کا ہاتھ چومتا… کبھی آنکھوں سے لگاتا
“فرحان… ” ناشیہ نے دھیرے سے اسے پکارا
“اس لڑکی نے میرے جھمکے اور چوڑیاں پہن رکھی ہیں…” ناشیہ کے کہتے ہی فرحان ساکت رہ گیا تھا…اس سے پہلے کہ ناشیہ صفوان کے سر پر پہنچتی, فرحان نے اسے کھینچ لیا
“چلیں آئیں.. گھر چلتے ہیں” اس نے دھیرے سے ناشیہ کو باہر کی طرف موڑا, اسے اندیشہ تھا کہ صفوان بے عزتی ہونے پر یہیں ناشیہ کو دھنک دے گا, وہ آنسو بھری آنکھوں سے دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی
……………………………
آج زرقا کی مہندی تھی… صبح دس بجے تک ناشتہ ہی چلتا رہا, گھر مہمانوں سے بھر گیا تھا, اسماء اور اسراء دونوں ہی بہت مصروف تھیں, سارے کام بانٹے جا چکے تھے, شام چار بجے زرقا نے مہندی لگوانے جانا تھا
“اسراء… ” راۓ عبید نے اسے آواز دی تھی, وہ سب اسراء کے کمرے میں بیٹھے چاۓ پی رہے تھے, درید جب سے آیا تھا…بس مصروف ہی تھا, اس کے لئے وقت نکال ہی نہیں سکا تھا
“حدید کو بلانا… ” اس نے کہا, اسراء سر ہلا کر باہر نکل گئی, حدید اوپر ہی تھا, غاشیہ کو رات سے ہلکا ہلکا سا بخار تھا, اس نے تو حدید سے کچھ نہیں کہا لیکن وہ خود ہی اسے میڈیسنز دینے آیا تھا
“جی درید بھائی…” وہ آفس والے فارمل ڈریس میں ملبوس تھا
“آفس گیا تھا ؟؟؟” درید نے حیرانی سے پوچھا, حدید نے اثبات میں سر ہلا دیا
“اوۓ آج تو زرقا کی مہندی ہے…. ” صمد نے کہا, وہ کہہ نہ سکا کہ مجھے تو کسی نے یہ بھی نہیں بتایا… اور یہ سچ تھا, اسے بس زرقا کی زبانی ہی سب پتہ چلا تھا
“حدید… رات مہندی ہے اور… کل بارات… ہم سب کے ساتھ ہی ہال جانا ہے تو نے.. ٹھیک ہے ؟؟؟؟” درید اپنے تئیں اسے انوائیٹ کر رہا تھا, حدید کا دل مسوس گیا, وہ واقعی ان لوگوں کے لئے نہ ہونے کے برابر تھا… خاص طور پر راۓ عبید کے لئے…
“ٹھیک ہے ؟؟؟” درید اس کی خاموشی کو پتہ نہیں کیا سمجھا
“بھائی آپ کو کس نے انوائیٹ کیا…؟” اس نے پوچھ ہی لیا
“مطلب… ؟؟؟” درید سمجھ نہ سکا
“مطلب یہ کہ مجھے میری اکلوتی بہن کی شادی میں ایک دن پہلے انواییٹ کر رہے ہیں نا آپ… تو شاید آپ کو بھی انوائیٹ کیا گیا ہو گا… اور صمد بھائی کو بھی… ” وہ کہہ ہی گیا, درید چپ رہ گیا
“مجھے تو لگا تھا کہ… میں میزبانوں میں سے ہوں گا… آپ نے تو مہمان بنا دیا” وہ سر جھکاتے ہوۓ بولا, راۓ عبید کے کلیجے پر ہاتھ پڑا تھا, براؤن رنگ کی پینٹ شرٹ پہنے, گلے میں ٹائی لٹکاۓ, آستینیں کہنیوں تک موڑے, ان کا وہ اٹھائس سالہ جوان اور ہینڈسم سا بیٹا شاید اپنی آنکھوں کے نم گوشے چھپا رہا تھا
“حدید میرا وہ مطلب…. ” حدید نے اس کی بات کاٹ دی
“اٹس اوکے درید بھائی… ” وہ بولا
“غاشیہ… ؟؟؟” اس نے چند سیکینڈ بعد پوچھا تھا
“تجھے بلا رہے ہیں نا… اتنا ہی بہت ہے” راۓ عبید نے بمشکل خود پر وہی سخت سا خول چڑھایا تھا
“وہ میری بیوی ہے…. ” حدید نے کہا, اسماء سارا کام چھوڑ کر وہاں آ کھڑی ہوئی تھی
“حدید… بات کو سمجھا کر, آمنہ پھپھو کے دلی جذبات سے تو واقف ہی ہے نا تو… وہ ایویں ایموشنل ہو جائیں گی, تو اکیلا آ جانا پلیز… “درید نے کہا
“بھائی ایم سوری… جرم تو میرا بھی وہی ہے جو اس کا ہے… پھر سزا کی نوعیت دونوں کے لئے مختلف کیوں ہے ؟؟؟ میرے لیے رعایت اسلیے کہ میں آپ کا بھائی ہوں…اور اس کے لئے سختی اسلیے کہ وہ غیر ہے… ” حدید کہتا چلا گیا
“اب اس ساری بکواس کا کیا مطلب ہے ؟؟؟” اسماء کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی تھی
“میں اکیلا نہیں آؤں گا… ” وہ بولا
“تو پھر تو آنے کو ہی رہنے دے, دونوں میاں بیوی اپنے چوبارے پر عیش کرو, بلکہ اچھا ہے… گھر کا پہرہ بھی تم دونوں ہی دینا… ” اسماء نے فیصلہ سنایا تھا
“اسماء بھابھی… بس کریں…جانے دیں” درید نے کہا
“درید… اسے یہاں سے جانے دے” اسماء نے سخت لحجے میں کہا تھا
……………………………
لنچ بریک ہوئی تھی… اس نے ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی…فرح کو میکے گئے ہوۓ دو دن ہو گئے تھے, یونہی بس ایک خیال آیا تھا… اس نے موبائل اٹھایا اور فرح کو کال ملائی
“کیا کر رہی ہو ؟؟؟” شافع نے پوچھا
“امی کے پاس بیٹھی ہوں… “وہ بولی
“آنٹی کی طبیعت کیسی ہے اب ؟؟؟”
“بہتر ہیں پہلے سے… ” وہ بولی
“میری بات کروانا ذرا ان سے… ” شافع نے کہا
“شافع امی سو رہی ہیں….”وہ اسی انداز سے بولی تھی
“چلو ٹھیک ہے میں شام میں چکر لگاؤں گا” وہ. کہتا ہوا کال کاٹ گیا, چند لمحے یونہی موبایل ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا… پھر ایک نمبر ڈائل کیا
“کیا حال ہے شافع ؟؟؟” وہ اس کا کوئی دوست تھا
“فائن… اسد یار ایک کام تھا تیرے سے ” شافع نے کہا
“حکم کر… ” اسد نے کہا
“میں تجھے ایک نمبر بھیج رہا ہوں… مجھے اس کی لوکیشن تو سینڈ کر ذرا… ” شافع نے کہا
“اوکے… ” اسد بولا تھا
“اسد ذرا جلدی… ” شافع کہتے ہوئے کا کاٹ گیا اور اس نے فرح کا نمبر اسد کو سینڈ کر دیا, کچھ ہی دیر بعد اسد نے اس کی لوکیشن سینڈ کر دی
Township… Spicy treat…
اس نے اپنے موبائل میں میپ کھول لیا, وہ ایک چھوٹے سے لیول کا بدنام سا ہوٹل تھا, کچھ دیر وہ موبائل سکرین کو دیکھتا رہا, پھر اس نے ایس ڈی پی او کا نمبر ملایا تھا
……………………………
غاشیہ کا بخار تیز ہو گیا تھا… حدید نے آفس سے چھٹی ہی لے لی, لیڈی ڈاکٹر نے بس پینا ڈول ہی لینے کو کہا تھا, دھیرے دھیرے نیچے سے شور آنا ختم ہو گیا, مہمان ہال چلے گئے تھے
“حدید… ” وہ غاشیہ کے سرہانے ہی بیٹھا تھا
“ہاں… “
“ایم سوری… ” وہ بولی تو دو گرم گرم آنسو گالوں پر لڑھک آۓ
“غاشی کیا ہوا ؟؟؟” حدید یکدم ہی سب کچھ بھول گیا
“میں نے سوچا تھا کہ چلو ابو نے اگر مجھے معاف نہیں بھی کیا تو کیا ہوا… ؟؟؟ تمہارے ابو تمہیں ضرور معاف کر دیں گے لیکن…”غاشیہ کو اس لمحے شدید ڈپریشن ہو رہا تھا
“غاشی… میری جان طبیعت زیادہ بگڑ جاۓ گی”حدید نے اس کے آنسو صاف کئے تھے, تبھی اس کا سیل بج اٹھا
صمد کی کال تھی
“آیا نہیں تو ابھی تک ؟؟؟” اس نے پوچھا
“صمد بھائی غاشیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے… ہو سکتا ہے ہسپتال جانا پڑے” اس نے دھیرے سے کہا تھا, صمد چپ رہ گیا
“حدید… مجھے نہیں پتہ وہ کون ہے… ؟؟؟” وہ بے ہوشی میں جا رہی تھی
حدید اسے اسی وقت ہسپتال لیکر بھاگا… 103 بخار میں وہ تپ رہی تھی
……………………………
جاری ہے
