No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
پانچویں قسط
“ابو… ” تیمور ملک اپنے بستر پر بیٹھے تھے, وہ ان کے پاس نیچے فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھی, دونوں ہاتھ ان کے ہاتھ پر دھرے ہوۓ تھے
“ابو مجھے صفوان سے شادی نہیں کرنی… پلیز ” آنسو گالوں پر بہہ نکلے تھے
“پھر کس سے کرنی ہے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“جس سے کہوں گی کر دیں گے ؟؟؟” وہ جواباً پوچھ رہی تھی
“جس سے میں کہہ رہا ہوں اس سے کیوں نہیں کرنی… ؟؟؟”
“ابو میرا… دل نہیں مانتا… پلیز… بھلے ہی اس سے بھی نہ کریں جس سے میں کہہ رہی ہوں لیکن… صفوان سے بھی نہ کریں” وہ بولی
“صفوان میں کیا کمی ہے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“ابو بھلے ہی اس میں کوئی کمی نا ہو… میرا دل نہیں مانتا اس کے لئے… کیا یہ کافی نہیں ہے کہ میں راضی نہیں ہوں” وہ بولی
“کیا یہ کافی نہیں ہے کہ میں راضی ہوں ” وہ پتھر ہو گئے تھے, ناشیہ بول نہ سکی
“آخر کیوں میری دونوں بیٹیاں میری آگے سر اٹھا کر کھڑی ہو گئی ہیں… ؟ آخر کمی کیا رہ گئی میری تربیت میں ؟؟؟ اس نے بھی یہ ہی کیا تھا نا… یونہی میرے قدموں میں آکر بیٹھ گئی تھی… یونہی آنسو بہا رہی تھی… کس کے لئے ؟؟؟ ایک غیر برادری کے نا محرم شخص کے لئے… چلو اس نے جو کیا سو کیا… تو نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا ناشیہ… میں نے اپنے خون پر ایک بیٹی کو وار دیا… میں اسی خون پر دوسری بیٹی بھی وار سکتا ہوں” وہ بولے
“ابو… پلیز… صفوان سے نہ کریں” وہ بلک رہی تھی
“ناشیہ… جاؤ” تیمور ملک نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا
“ابو میں مانتی ہوں مجھ سے غلطی ہو گئی, مجھے غاشیہ کو دیکھ کر سبق سیکھ جانا چاہئے تھا لیکن… میں اپنی غلطی کا ازالہ خود ہی کر لوں گی, بس مجھے تھوڑا وقت دے دیں… میں اسے بھول جاؤں گی ابو… بس میری صفوان سے شادی نہ کریں” وہ کہتی چلی گئی
“ناشیہ… میں نے کہا جاؤ” وہ ذرا سختی سے بولے تھے, ناشیہ ذرا توقف کے بعد اٹھ کھڑی ہوئی
کیا ہو جاتا اگر وہ مان جاتے ؟؟؟ پچیس سال انہوں نے ناشیہ کی ہر خواہش کو پورا کیا… کیا ہو جاتا اگر اس ایک خواہش کو بھی پورا کر دیتے ؟؟؟
اور یہ ہی تو المیہ ہے… ماں باپ بھلے ہی بیٹیوں کے قدموں میں چاند ستاروں کا ڈھیر لگا دیں لیکن جب ان کی زندگی کے سب سے بڑے فیصلے کی باری آتی ہے تو نہ جانے اتنے تنگ نظر کیوں ہو جاتے ہیں ؟؟؟
اور بیٹیاں ساری عمر چاہے باپ کو بادشاہ سمجھتی رہیں, اپنی زندگی کا ہر فیصلہ اس کے ہاتھ میں دے دیں لیکن جیوں ساتھی چنتے وقت نہ جانے اس باپ کے سامنے کیوں کھڑی ہو جاتی ہیں ؟؟؟
آخر کیا ہو جاۓ گا اگر باپ ہمیشہ کی طرح اس لمحے بھی بیٹی کی سن لے… ؟؟؟
یا پھر بیٹی ہمیشہ کی طرح باپ کے آگے سر جھکا دے ؟؟؟
……………………….
شام کے پانچ بج رہے تھے جب وہ بینک سے فارغ ہو کر نکلا… رات ہونے میں ابھی کافی وقت تھا, فرح کل سے میکے گئی ہوئی تھی, کچھ سوچ مر اس نے موٹر سائیکل کا رخ اپنے سسرال کی طرف موڑ دیا… چوکیدار نے اسے دیکھتے ہی گیٹ کھول دیا تھا, ساج اسے اندرونی دروازے پر ہی مل گیا
“کیسے ہیں شافع بھائی ؟؟؟” وہ بڑی گرمجوشی سے اس سے ملا تھا, فرداً فرداً وہ سب سے ملا
“کون آیا ہے ؟؟؟” سیٹھ بابر کی بیوی کمرے سے باہر نکلی تھی
“بھابھی… شافع آیا ہے” اس کی ساس نے دھیرے سے کہا تھا, شافع نے دو قدم بڑھا کر انہیں سلام کیا, وہ انتہائی سرد مہری سے کوئی جواب دیئے بنا کچن کی جانب مڑ گئیں
“فرح کہاں ہے… ؟؟؟ میں اسے لینے آیا تھا” شافع نے کہا
“فرح… ؟؟؟” اس کی ساس اچنبھے سے بولیں
“فرح تو ایک ہفتے پہلے ہی چلی گئی تھی” وہ بولیں
“نہیں وہ… آج پھر آئی تھی… میں خود اسے صبح گیٹ کے باہر اتار کر گیا تھا” شافع کے ہوش اڑ گئے, اس کی ساس بھی سن کھڑی اسے دیکھ رہی تھیں
“وہ راشدہ سے ملنے آئی تھی… ” شافع بمشکل اتنا ہی کہہ سکا
“راشدہ تو یہاں آئی ہی نہیں… ” انہوں نے شافع کے سر پر بم پھوڑا
“آنٹی جی… پلیز راشدہ کو کال کریں… جلدی کریں” شافع کے اوسان خطا ہو رہے تھے, بانو نے جلدی سے راشدہ کا نمبر ملوایا
“جی خالہ… “
“راشدہ… فرح تیری طرف آئی ہے… ؟؟؟”
“خالہ وہ صبح آئی تھی… راحم کو چھوڑ کر کہیں چلی گئی… کہہ رہی تھی شام تک آ جاۓ گی” راشدہ نے کہا
“راحم کہاں ہے ؟؟؟ بانو نے جلدی سے پوچھا
“میرے پاس… ” وہ بولی
“شافع گھر فون کر کہ پتہ کر… کہیں گھر نہ چلی گئی ہو” بانو نے کال کاٹتے ہوئے کہا, شافع نے فوراً گھر کا نمبر ملایا, روبینہ نے صاف کہہ دیا کہ وہ گھر نہیں آئی, شافع کا رنگ اڑ گیا تھا
“بابر بھائی کو فون کرو… ” بانو نے کسی کو آواز دی تھی, شافع چپ چاپ باہر نکل گیا
“رافع… ” رافع کو کال ملاتے ہوئے اس نے موٹر سائیکل سٹارٹ کی تھی
“فرح نہیں مل رہی… کہاں ہے تو ؟؟؟” وہ انتہائی پریشانی کے عالم میں بولا
“میں کوچنگ سینٹر… ” رافع بھی بوکھلا گیا, مسلسل دو گھنٹے ان دونوں بھائیوں نے اسے ہر چھوٹے بڑے ہوٹل, ریسٹورنٹ اور تفریح گاہ پر ڈھونڈا, ہسپتالوں کے چکر لگاۓ, پارکوں میں تلاش کیا لیکن بے سود, روبینہ الگ پریشان تھیں
رات کے آٹھ بج رہے تھے جب اسے بابر کی کال آئی
“فرح گھر آ گئی ہے شافع… ” اس نے دیوانہ وار موٹر سائیکل بھگائی تھی, سسرال پہنچا تو بانو نے فرح کو وسیع و عریض صحن میں ہی لم لیٹ کیا ہوا تھا, ہاتھ میں پکڑا ڈنڈہ وہ چوروں کی طرح اس پر چلا رہی تھی
“تو چاہتی کیا ہے فرح… بس اتنا بتا دے ؟؟؟” بانو کو قہر چڑھا ہوا تھا
“مار… اور مار مجھے, مار مار کے یہیں دفن کر دے” فرح کا گلا چیخ چیخ کر بیٹھا ہوا تھا
“کہاں گئی تھی ؟؟؟” بانو نے دہاڑ کر پوچھا
“جہاں مرضی جاؤں…” وہ زور سے چنگھاڑی, اور بانو کا ڈنڈہ پھر سے برس پڑا
“آنٹی جی بس کریں… بس کریں” شافع نے بمشکل انہیں روکا, سیٹھ بابر ایک طرف چپ چاپ سگریٹ سلگاۓ بیٹھے تھے
“خبردار جو اب مجھے ہاتھ بھی لگایا تو… جانور سمجھا ہے مجھے… ” فرح کی ناک سے خون بہنے لگا تھا, جگہ جگہ سے سوجا ہوا چہرہ اور بے ترتیب بال… سرخ بھبھوکا چیرہ اور مٹی سے اٹے ہوئے کپڑے…
“راحم کہاں ہے ؟؟؟” شافع نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا
“میرے پاس ہے… ” راشدہ بھی آ گئی تھی, شافع نے جلدی سے آگے ہو کر راحم کو پکڑا اور رافع کو تھمایا
“چلو… ” اس نے فرح کا دوپٹہ اٹھا کر اس کے سر پر دیا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا
“مجھے نہیں جانا… ” وہ تڑخ کر بولی
“شافع… اسے لے جا اور لے جا کر اپنی زبان میں پوچھ لے کہ یہ کیا چاہتی ہے ؟؟؟ اگر اس نے یہ ہی وطیرہ رکھنا ہے تو آئندہ اس گھر کے دروازے اس کے لئے بند ہیں” بانو نے ڈنڈہ زور سے ایک طرف پھینکا تھا, شافع چپ چاپ اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا
“خدا جانے کس پر چلی گئی… اس گھر کا تو کوئی بیٹا بھی اتنی گندی خصلت کا نہیں نکلا جیسے یہ نکل گئی… چار سالوں میں کوئی چالیس دفعہ ادھر ادھر منہ ماری کر چکی ہے… کوئی اور ہوتا تو اب تک اس کے ہاتھوں میں طلاق تھما چکا ہوتا… “بانو دہاڑیں مار مار کر رو رہی تھی
“لو… تو تو ایسے کہہ رہی ہے جیسے تجھے پتہ نہیں ہے کہ کس پر چلی گئی اس کی خصلت ؟؟؟” سیٹھ بابر کی بیوی نے طنز سے کہتے ہوۓ بابر کی طرف دیکھا, دھوئیں کے مرغولوں میں اس کا جھکا ہوا سر نظر آیا تھا
………………………
وہ چار دن کی چھٹی پر گھر آیا تھا اور ان چار دنوں میں اسے لگا جیسے وہ کسی جنت میں آ گیا ہو, ہر طرف میٹھی سی خاموشی…
“ابو… میں کراۓ پر گھر لے لوں گا” وہ صبح و شام عمر فاروق صاحب کے کانوں میں یہ ہی رٹ ڈال رہا تھا
“مجھ سے نہیں رہا جاتا اس مچھلی بازار میں… ہر وقت کا شور شرابہ… نہ دن کو چین نا رات کو سکون… میں کراۓ پر گھر لیکر وہاں شفٹ ہو جاؤں گا بس… پھر اپنا لے لوں گا” اس نے اپنا سارا پلان آمنہ اور فاروق صاحب کے سامنے رکھ دیا
“تیرے ساتھ کون رہے گا وہاں… ؟؟؟” آمنہ نے پوچھا
“میری شادی کر دیں… ” وہ ایک دم ہی بول گیا, ایک لمحے کو تو وہ دونوں میاں بیوی خاموش رہ گئے تھے, البتہ انیتا سر جھکاۓ دھیما دھیما سا مسکرا رہی تھی
“میرا مطلب… آپ تو رہ نہیں سکتیں…. انیتا بھی نہیں جاۓ گی تو… پھر کون رہے گا ؟؟؟” وہ کہہ کر پھنس گیا
“بلکہ میں تو کہتا ہوں ابو کہ انیتا کی شادی کے بعد آپ دونوں یہاں اکیلے رہ جائیں گے.. کیوں نا اس گھر کو بیچ کر لاہور شفٹ ہو جاییں” وہ بولا
“میری شادی کہاں سے بیچ میں آ گئی ؟؟؟” انیتا اس پر چڑھ دوڑی
“کرنی تو ہے نا انیتا…بلکہ تیری اور اذن کی ایک ساتھ ہی کرنی ہے” آمنہ نے کہا
“آپ کیا کہتے ہیں رانا صاحب ؟؟؟” انہوں نے فاروق سے پوچھا
“چلو… کرتے ہیں کچھ نا کچھ” وہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے, ان کے اٹھتے ہی اذن بھی باہر نکل گیا
“کہاں جا رہا ہے اب ؟؟؟” آمنہ نے آواز دے کر پوچھا
“ادھر ہی ہوں… ” وہ سٹھ مارے نکلتا چلا گیا, باہر نکل کر وہ گھر کی پشت پر بنے ایک چھوٹے سے پورشن کی طرف آ نکلا, یہ پورشن عمر فاروق نے کچھ سال پہلے ہی بنوایا تھا… ارمغان کے لئے
“کیسا ہے ہیرو… ؟؟؟” اذن کو وہ کچن کے آگے کھڑا نظر آیا
“تو کب آیا… ؟؟؟” ارمغان اس سے گلے ملا, وہ اذن سے تین سال بڑا تھا, تقریباً اسراء کا ہم عمر تھا
“پرسوں… کل واپس جانا ہے” اذن نے کہا
“چل آ باہر گھوم کر آتے ہیں” وہ موٹر سائیکل کی چابی انگلی میں گھماتے ہوۓ بولا
“میں کھانا کھانے لگا تھا… ” وہ بیچارہ واقعی اپنے لئے کھانا گرم کر رہا تھا
“کھانا میں کھلا دیتا ہوں تجھے… بول کیا کھاۓ گا ؟؟؟” اذن بادشاہ بنا ہوا تھا, ارمغان ہنستے ہوئے اس کے ساتھ باہر نکل آیا….کچھ دیر دھر ادھر مٹر گشتی کرنے کے بعد اذن اسے ایک ہوٹل پر لے آیا
“ایک چکن کڑاہی اور ساتھ نان… دو کولڈ ڈرنک ” وہ آرڈر دیتے ہوئے بولا
“تیری نوکری کی ٹریٹ نہیں ہے یہ سمجھا… وہ میں لاہور جا کر لوں گا” ارمغان نے مسکراتے ہوئے کہا, اذن نے دائیں ہاتھ کی دونوں انگلیاں ماتھے پر رکھ کر سے سلیوٹ کیا تھا
“ارمغان…” اذن نے دھیرے سے اسے پکارا
“تو گیا تھا پھر… ؟؟؟” اس نے پوچھا, ارمغان نے نفی میں سر ہلا دیا
“کیوں ؟؟؟”
“کیا کروں میں وہاں جا کر… ؟؟؟ کس سے ملوں ؟؟؟ جس سے رشتہ تھا وہ تو گزر گیا…پیچھے کون ہے؟؟؟ ارمغان نے کہا
“سگا بھائی… ” اذن نے کہا, وہ بول نہ سکا
“وہ بھی تو آ سکتا تھا نا… ” ارمغان کچھ دیر بعد بولا
“ہو سکتا ہے اسے پتہ ہی نہ ہو… ” اذن نے کہا
“انہیں گزرے پندرہ سال ہو چکے ہیں یار… اور ان کے بعد بھلا کس نے بتانا تھا اسے کہ… اس کا ایک بھائی بھی ہے” اذن نے کہا, ارمغان چپ چاپ سنتا رہا
“میں ساتھ چلوں… ؟؟؟” اذن نے کچھ دیر بعد پوچھا, تبھی لڑکا کھانا لے آیا
“اذن اگر اسے کچھ پتہ ہی نہیں تو اچھا نہیں کہ اسے کبھی کچھ پتہ ہی نہ چلے… اسے اگر کسی نے پندرہ سال سے کچھ نہی بتایا تو اب میرے بتانے کا کیا فائدہ ؟؟؟ چھوڑ… چل کھانا کھا” ارمغان سر جھٹکتے ہوۓ بولا تھا
……………………..
وہ دونوں بچوں کو روبینہ کے پاس لٹا کر کمرے میں آیا تو فرح ہنوز اسی حلیے میں بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی, چہرے پر صرف غصہ تھا… ندامت اور شرمندگی بالکل نہیں تھی, شافع عین اس کے سامنے آ بیٹھا
“فرح میں نے یہ نہیں پوچھنا کہ کہاں گئی تھیں ؟ کیونکہ یہ سوال چار سال پرانا ہو چکا یے, اور اب تو میں پوچھ پوچھ کر بھی تھک گیا ہوں…آج میں صرف اتنا پوچھوں گا کہ مزید میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو یا نہیں ؟؟؟” انتہائی سرد لحجے میں وہ اس کے سامنے بیٹھا پوچھ رہا تھا, فرح نے بے خوفی سے اس کی آنکھوں میں جھانکا
“میں نے کچھ نہیں کیا… ” وہ بولی
“میں نے یہ نہیں پوچھا… ” شافع نے کہا
“میرے ساتھ رہنا ہے… یا نہیں ؟؟؟” وہ زور دے کر بولا
“رہنا ہے… “فرح دھیرے سے بولی تھی
“فرح اگر میں تم پر غصہ نہیں کرتا, چیختا, چلاتا نہیں ہوں, ہاتھ نہیں اٹھاتا, تم سے باز پرس نہیں کرتا… تو اس کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ میں بے غیرت ہوں… سمجھیں ؟؟؟” وہ مزید سخت لحجے میں بولا تھا
“تم… گھر اور بچے… بس… اور کچھ نہیں” وہ بولا
“جہاں جانا ہے… میرے ساتھ جانا ہے, جو کہنا ہے… مجھے کہنا ہے, جو چاہئیے… مجھ سے کہو, جس چیز کا دل کرے… مجھ سے مانگو, ٹھیک ہے ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا, فرح کا سر دھیرے سے اثبات میں ہل گیا
“خدا کی قسم فرح میں اگلی بار یہ سب نہیں کہوں گا… کیونکہ میں بے غیرت نہیں ہوں” وہ اس کا جھکا سر دیکھ کر اٹھ گیا تھا
………………………
وہ اور شازیہ آج بازار گئیں تھیں… اس کی شادی میں بس دس دن رہ گئے تھے, اس کا فرنیچر اور باقی کا جہیز تیمور ملک پہلے ہی بنوا چکے تھے, زیور دو دن پہلے مل جانا تھا, کپڑے وغیرہ سلائی ہونے دے دیئے تھے, نکاح کا جوڑا وہ آج خرید لائی تھیں
مغرب کے بعد کا وقت تھا, ناشیہ کھانے کے برتن لگا رہی تھی, خالد بھی سٹور بند کر کے واپس آ چکا تھا, شازیہ اور تیمور لاؤنج میں بیٹھے تھے, طہٰ اوپر تھا, تبھی بیرونی دروازے پر دستک ہوئی
“طہٰ… دیکھ کون ہے ؟؟؟” شازیہ نے اسے آواز دی تھی, وہ جب تک نیچے اترا, دروازہ دوبارہ بج اٹھا
“جلدی کر لے… ” شازیہ نے اسے گھرکا, دروازے پر کھڑے رافع کو دیکھ کر طہٰ کی آنکھیں پھیل گئیں
“تیمور صاحب ہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا, طہ نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسے راستہ دے دیا, اسے سب سے پہلے ناشیہ نے اندر آتے دیکھا تھا, ڈائننگ ٹیبل کے پاس کھڑی وہ کانپ گئی تھی
“بیٹھیں… ” طہٰ نے سنگل صوفے کی طرف اشارہ کیا اور ٹی وی آف کر دیا
“یہ کون ہے ؟” شازیہ نے اچنبھے سے پوچھا
“میرا نام رافع ہے… میری امی دو, تین بار یہاں آ چکی ہیں… ” رافع نے دھیرے سے کہا تھا, شازیہ دم بخود رہ گئی
“اچھا… تو تم ہو رافع… رافع انصاری… ہے نا ؟؟؟” شازیہ نے پہلو بدلتے ہوئے کہا, رافع نے اثبات میں سر ہلا دیا
“یہاں کیوں آۓ ہو برخوردار ؟؟؟” تیمور ملک نے ٹھنڈے ٹھار لحجے میں پوچھا تھا
“انکل جی… میں یہاں وہی عرضی لیکر آیا ہوں جو میری ماں لیکر آئی تھی.. ” رافع نے سر جھکاتے ہوۓ کہا
“دیکھو لڑکے… تمہاری ماں ہمارے لئے بھی اتنی ہی قابل تکریم ہے جتنی تمہارے لئے… لیکن میں نے اسے پہلے دن ہی باور کروا دیا تھا کہ ہمارے ہاں ذات برادری سے باہر رشتے نہیں کرتے, آج تک ہم لوگوں نے کبھی اپنی ذات سے باہر ہو کر کوئی رشتہ نہیں کیا… ہم ملک ذات ہیں… اور ملکوں کو ہی ترجیح دیتے ہیں, اب اسے ہماری ضد کہہ لو یا ہٹ دھرمی… یہ ایسے ہی ہے اور اس بات پر قطعی بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے… ” شازیہ کہتی چلی گئی
“اور دوسری بات… ناشیہ کا رشتہ بہت پہلے سے ہی اس کے پھپھو زاد سے طے ہے اور دس دن بعد اس کی شادی ہے… لہذا اب تم اٹھو اور جاؤ یہاں سے” شازیہ نے بات ہی ختم کر دی تھی, خالد بھی کپڑے بدل کر نیچے اتر آیا, ناشیہ ٹیبل کے پاس گم صم کھڑی تھی
“میں چلا جاؤں گا… بس مجھے میرے ایک سوال کا جواب دے دیں ” رافع نے کہا, تیمور ملک کی نظریں سوالیہ ہو گئیں
“آخر ہو کیا جاۓ گا اگر آپ ذات برادری سے باہر رشتہ جوڑ بیٹھے تو ؟؟؟” رافع نے پوچھا, شازیہ فوری طور پر کوئی جواب نہ دے سکی
“کیا یہ کوئی جرم ہے؟؟؟ کیا یہ کوئی گناہ ہے ؟؟؟ یا اس پر کوئی دفع لگتی ہے ؟ یا پھر اس کے بدلے کوئی سزا ملتی ہے؟ کیا ایسا کرنے سے لوگ قطع تعلق کر لیتے ہیں؟ کیا ایسا کرنے سے لوگ شہر بدر کر دیتے ہیں ؟؟؟ یا پھر اس سے خدا ناراض ہوتا ہے؟ یا اس پر روز محشر کوئی مواخذہ ہو گا… ؟؟؟” رافع کہتا چلا گیا
“دیکھو لڑکے… ہم اپنی لڑکی کی شادی جہاں مرضی کریں.. تمہیں اس سے کیا ؟؟؟” شازیہ بھڑک پڑی
“آپ اس کی شادی وہاں کیوں نہیں کر دیتیں جہاں وہ راضی ہے ” رافع نے کہا, تیمور ملک نے فوراً ناشیہ کی طرف دیکھا
“وہ یہاں بھی راضی ہے… ” شازیہ نے کہا, رافع دھیرے سے مسکرایا
“اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں گی کہ وہ راضی ہے… ” رافع نے کہا, شازیہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ تیمور ملک نے اسے خاموش کروا دیا
“کیوں آۓ ہو یہاں ؟؟؟”
“میں ناشیہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ” رافع نے کہا
“ایسا ممکن نہیں ہے… ” وہ دو ٹوک الفاظ میں بولے
“آپ کی بیٹی کے ہر سکھ کی ضمانت دیتا ہوں میں… اس کے لئے دنیا کی ہر خوشی خریدنے کے لیے تیار ہوں میں, ساری عمر اس کے لبوں سے مسکراہٹ جدا نہیں ہو گی یہ میرا وعدہ ہے آپ سے… اس کی آنکھیں بھول جائیں گی کہ آنسو کیا ہوتے ہیں…دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا میں… جہاں یہ کہے گی وہیں رکھوں گا… جو یہ کہے گی وہی کروں گا… ” رافع تیمور ملک کے قدموں میں آ بیٹھا, دونوں ہاتھ ان کے جوتوں پر رکھ دییے
“آپ کو پیدا کرنے والی ذات کا واسطہ ہے انکل… اسے مجھ سے منسوب کر دیں, میں… بہت… محبت کرتا ہوں اس سے” وہ سر جھکاۓ کہہ رہا تھا, ناشیہ کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے, تیمور ملک نے دھیرے سے اس کے ہاتھ اپنے جوتوں پر سے ہٹا دیئے
“دس دن بعد میری بیٹی کی شادی ہے… دوبارہ یہاں مت آنا” وہ سخت سے لحجے میں بولے تھے
“طہٰ… اسے باہر چھوڑ آؤ” وہ منہ موڑ کر بولے تھے, رافع تہی داماں سا وہاں بیٹھا رہ گیا, ناشیہ سر جھکا کر کچن میں چلی گئی تھی
چند لمحوں بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا
“برادری سے باہر رشتہ جوڑنے پر بھلے ہی کوئی پوچھ نہ ہو ملک صاحب لیکن… یہ جو آپ کر رہے ہیں نا اس کی الگ سے پوچھ ضرور ہو گی… ” دھیرے سے کہہ کر وہ باہر نکل گیا تھا
……………………….
رات کے نو بج رہے تھے جب اسماء نے حدید کی بائیک کی آواز سنی… وہ صمد کو چاۓ دینے آئی تھی
“حدید آج لیٹ ہو گیا… ” صمد نے حیرانی سے پوچھا
“مجھے کیا پتہ… ” وہ اسے چاۓ دے کر باہر نکل آئی اور اوپر کو بھاگی… زرقا کے کمرے کی لائیٹ جل رہی تھی, اس نے سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر نیچے جھانکا, غاشیہ بھی اس کے ساتھ ہی آئی تھی, اسماء سے پوری رات گزارنی دوبھر ہو گئی
صبح اٹھتے ساتھ ہی اس کے پیٹ میں درد تھا… آخر کار ناشتے کی ٹیبل پر وہ پھٹ ہی پڑی
“ماموں جی… دیکھ لیں اب ان دونوں کی حرکتیں… مجھے تو قطعی وارے میں نہیں ہیں” وہ عبید راۓ کے سامنے ہی شروع ہو گئی. ان کی بیوی کے جانے کے بعد اسماء نے ہی ان کے گھر کو سنبھالا تھا, وہ اس کی سنتے بھی تھے اور مانتے بھی تھے
“اب کیا ہوا ؟؟؟” انہوں نے پوچھا, اسراء کچن میں کھڑی پراٹھے بنا رہی تھی اور زرقا جلدی جلدی دونوں بڑے بچوں کے لنچ باکس تیار کر رہی تھی
“رات دس, گیارہ بجے کے قریب ڈولہ آیا ہے دونوں میاں بیوی کا… سال ہو گیا ماموں جی انہیں گل کھلاۓ اب تو بس کر دیں” اسماء کہتی چلی گئی
“یار تم ہر بات کا بتنگڑ نہ بنایا کرو, وہ دونوں جب مرضی آئیں…. تمہاری بلا سے…تمہیں کونسا اٹھ کر دروازہ کھولنا پڑتا ہے” صمد نے کہا
“میری بلا سے کیوں نہیں… ساری محلے دار عورتیں مجھ سے سوال کرتی ہیں کہ… رات کو بارہ بارہ بجے کونسا تماشہ ہوتا ہے روز… ” وہ پھٹ پڑی… نو بجے کا وقت اب بارہ پہ جا چکا تھا
“روز ہی اتنا لیٹ آتے ہیں… ؟؟؟” عبید راۓ کی آنکھیں پھیل گئیں, یہ تو ان کے علم میں ہی نہیں تھا
“تو اور کیا… ہر رات کا یہ ہی وطیرہ ہے ماموں جی” اسماء پوری طرح آگ لگانے کی کوششوں میں تھی
“پہلے تھوڑے چاند چڑھاۓ ہیں اس حدید کے بچے نے جو ابھی کوئی کمی ہے… پوچھیں ذرا اس سے کہ ان دونوں نے اپنے لچھن درست کرنے ہیں یا نہیں ؟؟؟” اسماء ڈٹ کر بولی
“حدید… ” عبید راۓ کی چنگھاڑ نے اوپر ناشتہ کرتے حدید کے حواس گم کیے تھے
“جی ابو… ” وہ دوڑتا ہوا ریلنگ کے پاس آیا
“نیچے دفع ہو… “وہ زور سے بولے, وہ بیچارہ افراتفری میں بمعہ اپنے چاۓ کے کپ کے ہی نیچے اتر آیا, اسراء اور زرقا دونوں پریشان سی کچن کے دروازے میں کھڑی تھیں, اذن بھی اپنا بیگ کندھے پر ڈالے کمرے سے نکل آیا, اس کی نائیٹس ختم ہو گئی تھیں
“اوۓ یہ کونسا نیا تماشہ یے بے غیرتا… ” عبید راۓ اس پر چڑھ دوڑے
پورا گھر اس بات کا گواہ تھا کہ غاشیہ سے شادی سے پہلے تک حدید راۓ, عبید راۓ کا لاڈلا ترین بیٹا ہوا کرتا تھا… مجال ہے جو کوئی حدید کی طرف انگلی اٹھا جاۓ, کوئی اسے برا کہہ جاۓ, کوئی اسے رد کر جاۓ… اب اسی حدید کو وہ گالی دییے بنا بات نہیں کرتے تھے
“کیا ہو گیا ابو جی… ؟؟؟” بلیک پینٹ پر لائیٹ براؤن چیک والی شرٹ پہنے, گلے میں براؤن ٹائی لٹکاۓ, بالوں کو جیل لگا کر سٹائل سے کنگھا کئے وہ ان کے سامنے سر جھکاۓ کھڑا تھا, ایک لمحے کو تو عبید راۓ کا دل ڈول سا گیا, سال ہو گیا تھا اسے گلے سے لگاۓ… اس کے کندھے پر تھپکی دیئے
بالکل ویسے ہی اسماء کا دل بھی ڈوبا تھا… پچیس سالہ ہینڈسم سے حدید راۓ کو دیکھ کر اسے ایک بار پھر انیتا کا دکھ یاد آیا تھا
“رات کتنے بجے آیا تھا ؟؟” انہوں نے پوچھا
“نو بجے… ” وہ بولا
“جھوٹ بولتا ہے بے غیرت… ” وہ چنگھاڑے, غاشیہ دم سادھے ریلنگ کے پاس کھڑی تھی
“ابو جی غاشیہ کا چیک اپ کروانا تھا… ڈاکٹر سے آٹھ بجے کی اپائنمنٹ تھی, نو بجے گھر آ گیے تھے” حدید کہتا چلا گیا, اسماء ایک دم چونکی
“مجھے پاگل سمجھا ہے تو نے… ” وہ دہاڑے, حدید بے بسی سے صمد کو دیکھ کر رہ گیا
“ابو جی وہ کہہ تو رہا ہے کہ ڈاکٹر کے پاس گیے تھے” صمد کو اس پر ترس آیا…اذن بھی یک ٹک اسے ہی دیکھ رہا تھا
“اب کیا ہو گیا اس نواب زادی کو ؟؟؟” اسماء نے کہہ ہی دیا
“وہ… امید سے ہے” حدید دھیرے سے بولا تھا, اسماء دم بخود رہ گئی
“اوہ… مبارک ہو تجھے ” صمد بے اختیار ہی اسے گلے لگا گیا, عبید راۓ ویسے ہی پتھر بنے بیٹھے رہے تھے
“میں جاؤں… ابو” حدید نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا
“دفع ہو جا… جلدی ” وہ تڑخ کر بولے, حدید چپ چاپ اوپر چلا گیا
ان سب کے گھر سے نکلنے کے بعد اسماء جیسے آتش فشاں بن کر پھوٹ پڑی تھی
“اب نوابزادی امید سے ہو گئی ہے… حرافہ اب بچہ پیدا کر لے گی, اور دیکھ لینا, ماموں جان کی گود میں اگر حدید نے پوتا ڈال دیا تو اس کے سارے قصور معاف ہو جائیں گے, ایک بس میں ہی رہ جاؤں گی کلسنے کے لئے, تا عمر یہ چڑیل میرے پر سوار ریے گی ” وہ بولے جا رہی تھی, اسراء کان لپیٹے اپنے کام میں مصروف رہی
“اور ایک یہ ہے… ساری جہان کی سست ترین عورت… جس سے ایک درید قابو نہ آیا” اس کی توپ کا رخ اسراء کی طرف کھل گیا
“مجھے بیچ میں کیوں لا رہی یے… ؟؟؟؟” وہ تڑپ گئی
“چار سال ہو گئے تیری شادی کو… ابھی تک خالی گود ہے تو… اور اسے دیکھ… ایک سال میں ہی چاند چڑھا دیا اس نے” وی بولی
“چار سالوں میں کتنی بار آیا ہے وہ یہاں ؟؟؟” اسراء نے کہا
“تو اسے قابو کرتی تو وہ آتا نا… بیوی کس کام کی تھی تو ؟؟؟” اسماء کو اس لمحے سارا جہاں دشمن لگ رہا تھا
“اچھا… واقعی اسماء… ؟؟؟” اسراء کی آنکھیں پھیل گئیں
“پندرہ دن کے لئے تو آیا تھا نا… تب کیا کیا تو نے ؟؟؟” وہ زور سے بولی
“ان پندرہ دنوں میں صرف دو بار حق جتایا تھا اس نے… بس دو بار… وہ بھی پوری احتیاط برت کر… وہ شخص شادی والی رات بھی میرے پہلو میں لیٹ کر سو گیا تھا ” اسراء کی آنکھیں بھر آئیں
“شوہر کی طرف پیش قدمی کرنی پڑتی یے اسراء… خاص کر جب وہ ملک سے باہر رہتا ہو, اسے اپنا دیوانہ بنانا پڑتا ہے, شوہر کہاں خود بخود بیویوں کی طرف مائل ہوتے ہیں, خدا جانتا ہے میں نے صمد کو کس طرح قابو کر کے رکھا ہوا ہے… یا پھر شاید تو اسے اپنا بنانا ہی نہیں چاہتی…؟؟؟ ” اسماء نے کہا
“اسماء… ” مارے دکھ کے اسراء کی آواز بھی نہ نکل سکی
“خبردار… جو دوبارہ مجھ سے اس لحجے میں, اس ٹاپک پر بات کی تو… بہت ہو گیا, میں بھلے ہی ساری عمر خالی گود رہوں… تجھے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ” وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی تھی
……………………….
جاری ہے
