No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
تیسویں قسط
وہ سٹڈی روم میں بیٹھے کسی کام میں مصروف تھے جب اسراء نے ذرا سا دروازہ کھولا
“آؤ اسراء… ” انہوں نے کہا, وہ دروازہ کھول کر اندر آ گئی
“ابو… میں کچھ دنوں کے لئے پرانے گھر چلی جاؤں ؟؟” اس نے پوچھا
“کیوں ؟؟؟” انہوں نے حیرانی سے پوچھا
“ویسے ہی… دل کر رہا ہے” اسراء نے کہا
“چلی جانا… میں چھوڑ آؤں گا صبح” عمر فاروق نے کہا
“تھینک یو ابو… ” وہ باہر نکلنے لگی تھی جب عمر فاروق نے اسے آواز دے لی, وہ رک گئی
“اسراء… بیٹے جو ہوا… وہ بدل نہیں سکتا لیکن آگے وہی ہو گا جو تم چاہو گی” انہوں نے کہا
“ابو مجھے اس گھر میں واپس نہیں جانا… بس” اسراء نے کہا
“ٹھیک ہے… ” انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
اگلی صبح ہی وہ آمنہ کے منع کرنے کے باوجود اسے پرانے گھر لے آۓ تھے
……………………………
تیمور ملک کے غضب کی کوئی انتہا نہیں تھی, نفیس اور فرحان کی ہر کوشش بیکار چلی گئی تھی, بھلے ہی ان کے محلے کے سارے گھروں نے دن دہاڑے سیٹھ بابر کے آدمیوں کو ناشیہ کو اغواء کرتے دیکھا تھا لیکن کسی کو کیا پڑی تھی کہ ان کے لئے گواہی دیتا پھرتا… صفوان نے کونسا بتیس سال تھوڑا ذلیل کیا تھا
ناشیہ کے اغواء کی خبر انہیں نفیس کے کسی محلے دار سے ملی, انہیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا…وہ طہٰ کو لیکر اسی وقت فرزانہ کے گھر پہنچے… وہاں قیامت کا سماں تھا, فرحان زخموں سے چور ہوا پڑا تھا
ناشیہ غائب تھی… طہٰ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ نفیس اور فرحان کو زندہ زمین میں گاڑھ دیتا…
“کون تھے وہ لوگ… ؟؟؟” وہ بار بار نفیس سے پوچھ رہے تھے
“سیٹھ بابر… بھٹے والا اور اس کے آدمی تھے…” تیمور ملک نے بابر کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی تھی, خالد, ایس ڈی پی او اطہر مرزا پر اچھا ہی برسا تھا, ایف آئی آر میں واضح طور پر انہوں نے سیٹھ بابر کا نام لکھوایا تھا, معاذ کو شازیہ اپنے ساتھ لے آئی تھی
طہٰ کے غصے کی کوئی انتہا نہیں تھی… ہر لحاظ بلاۓ طاق رکھ کر وہ اس رات تیمور ملک پر برس پڑا تھا
“کتنا منع کیا تھا آپ کو کہ اس حرامزادے کو ناشیہ کا رشتہ نہ دیں, وہ بے غیرت کسی کام کا نہیں ہے, ساری عمر اس نے یہ ہی لن ترانیاں کی ہیں… کتنی بار میں آیا تھا آپ کے پاس… کتنی بار اس لڑکی نے آپ کے پاؤں پکڑے… آپ کے سامنے روئی, گڑگڑائی… لیکن نہیں.. تب فرعون بن گئے تھے آپ… ” وہ زندگی میں پہلی بار باپ کے سامنے چنگھاڑا تھا
“طہٰ بس کر دے… ” شازیہ آگے کو آئی
“چپ… بالکل چپ… بڑی بہن نہیں ہیں آپ…. دشمن ہیں آپ ہم سب کی, نا آپ نے غاشیہ کا ساتھ دیا… اور نا ناشیہ کا… آپ دونوں کو لگی پڑی تھی صفوان نامراد کو اس گھر کا جوائی بنانے کی… اب سواد لے لیا ہو گا سب نے.. ” وہ بولا
“خدا جانے کہاں ہے وہ… کس حال میں ہے ؟؟؟ اس خبیث نے کسی کا نہیں سوچا, آٹھ ماہ کے بچے کا بھی نہیں… ابو سارا قصور آپ کا ہے, ساری عمر اپنی یہ ذات برادری سینے سے لگا کر بیٹھے رہنا… اور ایک ایک کر کے سب کو اس کی بھینٹ دیتے رہنا… صرف آپ کی وجہ سے چاچو نے خود کشی کر لی, غاشیہ چلی گئی… اور آج ناشیہ کا کچھ پتہ نہیں ” وہ دہاڑا
“طہٰ ابو کو کیا پتہ تھا کہ ایسے ہو جاۓ گا” شازیہ نے کہا
“ہاں… انہیں پتہ تھا… انہیں پتہ تھا کہ ایک دن ایسا ہو گا, انہیں سب پتہ تھا…. انہوں نے جان بوجھ کر ناشیہ کو جہنم میں دھکیلا… صرف اسلیے کہ وہ غاشیہ والا قدم نہ اٹھا لے… صرف اسلیے کہ وہ رافع سے شادی نہ کر لے” طہٰ نے کہا
“طہٰ…. تجھے کچھ نہیں پتہ… بس اب چپ ہو جا” شازیہ کی بس ہو گئی
“آپ کو تو پتہ ہیں نا سب…. آخر کو بڑی بہن ہیں آپ… ؟؟؟ ہیں نا… تو پھر آپ نے کیوں نہیں ساتھ دیا اپنی بہنوں کا ؟؟؟” وہ چیخا
“طہٰ… بس کر یار”خالد نے اس کا بازو پکڑا تھا
“چھوڑیں خالد بھائی… اس گھر کے مکینوں کے سینوں میں دل نہیں… پتھر بھرے ہوئے ہیں, انہیں صرف اپنی جھوٹی اناؤں کی فکر ہے, اپنی ساکھ, نسل, ذات, برادری… بس یہ اہم ہے ان کے لئے… انسانوں کا کوئی مول نہیں ہے, رشتوں کا کوئی مان نہیں ہے… ابو آخر ہو کیا گیا تھا اگر چاچو نے کسی غیر ذات میں شادی کر بھی لی تھی تو ؟؟؟ کیا ضروری تھا ان دونوں کو یوں جدا کر دینا… یوں کہ ایک ویسے مر گئی اور دوسرا سولی چڑھ گیا… اس کا سولی چڑھنا قبول تھا… لیکن اس کا آسودہ ہو کر زندگی گزارنا قبول نہیں تھا…” وہ خالد کے زخم تازہ کرتا جا رہا تھا
“طہٰ… تو میرا باپ نہیں ہے” تیمور ملک نے کہا
“میں اگر باپ ہوتا تو اتنا کٹھور نہیں ہوتا کہ آنکھ بند کر کے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو یوں آگ میں جھونک دیتا” وہ بولا
“آپ مجرم ہیں ابو… اپنے بھائی کے, اپنی دونوں بیٹیوں کے… ” وہ ان کی طرف انگلی کرتے ہوئے بولا تھا
“طہٰ… چل میرے ساتھ” خالد اسے وہاں سے کھینچ کر لے گیا تھا
……………………………
حریم نے اپنی امی کو فون کر دیا تھا… وہ اسی شام گاڑی بھر کر رافع کے سر پر پہنچ گئے تھے, حریم کی ماں کا بس نہیں چل رہا تھا کہ رافع کے ٹکڑے کر دیتیں… وہ بس ان کے گلے لگی روۓ جا رہی تھی
“روبینہ یہ تربیت ہے تمہارے بیٹے کی ؟؟؟” اس کی بات سن کر رافع بھڑک اٹھا
“تو آپ کی تربیت کیا ہے آنٹی جی…؟؟؟ پہلے اسی معاملے کو حل کر لیتے ہیں ” وہ بولا
“تمہیں کس نے یہ حق دیا ہے کہ تم. اسے جانوروں کی طرح باندھ کر یہاں لے آؤ… ؟؟؟” وہ تڑخ گئیں
“نا تو یہ جانور ہے… اور نا میں نے اسے باندھا ہے… یہ میری بیوی ہے اور میں اسے گھر لے آیا… بس” رافع نے کہا
“امی… مجھے لے جائیں پلیز… مجھے مزید اس گھر میں نہیں رہنا” حریم نے کہا
“میں نے تو پہلے ہی کہا تھا تجھے کہ مڈل. کلاس والے ہمیشہ تنگ نظر ہی ہوتے ہیں” اس کی ماں نے کہا اور کھڑی ہو گئی
“سیدھی طرح میری بچی کو فارغ کر دو… بس” وہ غصے سے بولی تھی
دو گھنٹے مسلسل بحث ہوتی رہی لیکن بے سود… حریم رافع سے علیحدگی پر ہی بضد تھی
………………………
طہٰ نے فرحان کو کال کی تھی, پولیس تو نہ جانے کب کاروائی کرتی… ؟؟؟ اس کے تو پیر زمین پر نہیں لگ رہے تھے, فرحان اور آٹھ دس لڑکوں کو ساتھ لے کر وہ بھٹے پر جا پہنچا تھا
“کہاں ہے وہ حرامزادہ… ؟؟؟” طہٰ کے غضب کا کوئی حال نہیں تھا, سیٹھ بابر کے اسلحے سے لیس آدمیوں میں صرف ڈنڈے اور لاٹھیاں لیکر گھس جانا سراسر بیوقوفی تھی
“کون ہے ؟؟؟” فرحان کو ساجد نظر آ گیا
“یہ اس کا بیٹا ہے… ” وہ اور طہٰ اس پر ٹوٹ پڑے تھے, جواباً سیٹھ بابر کے آدمیوں نے بھی انہیں ڈنڈوں اور مکوں پر رکھ لیا
“میری بہن کہاں ہے ؟؟؟” طہٰ چنگھاڑ رہا تھا
“کیا ہو رہا ہے… ؟؟؟” سیٹھ بابر کو کسی ورکر نے اطلاع دی تھی
“میری بہن کہاں ہے ؟؟؟ ” وہ اس پر چڑھ دوڑا
“پہلے یہ بتا کہ میری بیٹی کہاں ہے ؟؟؟” سیٹھ بابر پر اس کے غصے کا کوئی اثر نہیں تھا
“میری بلا سے تیری بیٹی جاۓ بھاڑ میں… اس کا بدلہ اسی حرامزادے سے لو جس کے ساتھ وہ بھاگ گئی… میری بہن مجھے ابھی کے ابھی واپس کرو ” وہ چیخا
“ڈھونڈ لے… ملتی ہے تو لے جا” سیٹھ بابر نے کہا تھا, فرحان اور طہٰ نے سارا بھٹہ چھان مارا… وہ وہاں ہوتی تو ملتی
“سیٹھ بابر… میری بہن کہاں ہے ؟؟؟” طہٰ اس کے گریبان پر جھپٹا تھا, گولیاں تک چل گئی تھیں
………………………
وہ چینج کر کے واش روم سے نکلا تھا, اسے باہر آتا دیکھ کر زرقا چپ چاپ نیچے چلی گئی, باقی گھر والے کھانا کھا چکے تھے, اس نے سالن گرم کیا, تازہ روٹی بنائی اور کھانا لگا دیا, اذن چپ چاپ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا, زرقا نے اس کے کھانے کے دوران ہی چاۓ بنائی… وہ کھانا کھا کر چاۓ کا کپ اٹھا کر واپس اوپر چلا گیا, زرقا بھی کچن سمیٹ کر اوپر آ گئی, حسب معمول چینج کیا, اور چپ چاپ سونے کے لئے لیٹ گئی
اذن نے ایک نظر اسے دیکھا
پچھلے ایک مہینے سے اس کی یہ ہی روٹین تھی, صبح اس کے آفس جانے سے پہلے اس کی ہر چیز اٹینشن کر کے رکھتی, اس کا ناشتہ بناتی, لنچ باکس تیار کرتی… پھر اہنے حصے کا کام نمٹا کر کمرے میں گھس جاتی, دوپہر کا سالن انیتا بناتی تھی, بھوک محسوس ہوتی تو روٹی بنا کر کھا لیتی نہیں تو بس چاۓ یا فروٹ پر گزارہ کر لیتی, شام کی ہنڈیا اس کے ذمے تھی… رات کو اذن کے آنے سے پہلے وہ اس کے کپڑے وغیرہ تیار کر دیتی, کھانا لگا دیتی, اس کے کپڑے خود دھوتی, استری کر کے دیتی, اس کی ٹاییاں, جوتے, دیگر لوازمات سب کا دھیان رکھتی, کمرہ صاف ستھرا کر کے رکھتی
اس ایک مہینے میں خود سے ایک بھی بات نہیں کی تھی اس نے…بس جتنا وہ پوچھ لیتا, اتنا بتا دیتی, چہرہ ہمہ وقت سنجیدہ سا رہتا… کچھ اسراء کی ٹینشن, کچھ طہٰ کی پریشانی… مسکرانا تو جیسے بھول ہی گئی تھی… بس ہر وقت چپ چاپ سی ہوئی رہتی
“زرقا… ” اذن نے دھیرے سے اسے پکارا
“ہاں… “وہ فوراً اس کی طرف مڑی
“تم خوش ہو ؟؟؟” اس نے پوچھا, یہ بھلا کوئی سوال تھا
“ہاں… ” وہ بولی…. یہ بھلا کوئی جواب تھا
“ادھر دیکھو… ” اذن نے. کہا, زرقا نے اس کی طرف دیکھا
خالی خالی بنجر سی آنکھیں… وہ بس دیکھتا رہ گیا
“تم خوش نہیں ہو نا زرقا… ؟؟؟” اصل سوال تو یہ تھا, زرقا نے نظریں جھکا لیں
“ہم نے بھلا کیا ڈیسائڈ کیا تھا… ؟؟؟” اذن نے پوچھا
“یہ ہی کہ انت میں اگر ہم دونوں کی شادی ہو گئی تو سب خود ہی خود پر فاتحہ پڑھ لیں گے ” زرقا نے کہا
“تو پھر… ؟؟؟؟” اس نے پوچھا
“تو میں نے پڑھ لی یے… خود پر فاتحہ ” وہ دھیرے سے بولی تھی, چند آنسو ٹوٹ کر اس کے ہاتھوں کی پشت پر گر گئے, اذن بس ششدر سا اسے دیکھتا رہ گیا تھا
……………………….
بھٹے پر پولیس نے بھی ریڈ کی تھی, اطہر مرزا خود ان کے ساتھ تھا
“سیٹھ بابر کہاں ہے ؟؟؟” اس نے ایک ملازم سے پوچھا
“سیٹھ جی ڈیرے پر ہیں.. ” اس نے کہا
“کیا بات ہے ؟؟؟” وہ باہر نکل آیا
“ہمارے پاس سرچ وارنٹ ہیں… اور آپ کے اریسٹ وارنٹ… ” اطہر نے کہا
“یہ لے… ” بابر نے بڑے پرسکون انداز میں ایک کاغذ اس کی طرف بڑھا دیا
“ضمانت قبل از گرفتاری… ” وہ دونوں ہاتھ پشت پر باندھتے ہوئے بولا تھا
“تلاشی تو لینی پڑے گی… ” اطہر نے کہا, سیٹھ بابر کوئی عام سا شخص تو تھا نہیں کہ اندھا دھند اس کے ڈیرے پر یلغار ہو جاتی… اور اس کی اپنی بھتیجی بھی کئی ہفتوں سے غائب تھی, ایف آئی آر تو اس نے بھی کٹوا رکھی تھی
“لے لے… ” وہ بولا, سپاہیوں نے پورا ڈیرہ چھان مارا
“سر کوئی بھی نہیں ہے…. ” وہ بولے
“ہوا کیا ہے ؟؟؟” اس نے سگریٹ سلگاتے ہوۓ یوں پوچھا جیسے کچھ جانتا نہ ہو
“ایک لڑکی کو اغواء کرنے کا الزام ہے آپ پر… ” اطہر نے کہا
“کونسی لڑکی ؟؟؟”
“ناشیہ ملک… تیمور ملک کی بیٹی ” اطہر نے کہا اور سیٹھ بابر دوبارہ کش نہیں لگا سکا… بس اسے دیکھتا رہ گیا, اطہر واپس چلا گیا
“ساجد… ” اس نے ساجد کو آواز دی تھی
“جی ابو… ” وہ بھاگا آیا
“پرسوں جو لڑکی اٹھائی ہے اس کا پتہ لگا کہ کون ہے ؟؟؟” اس نے کہا
“میں نے پرسوں ہی پتہ کروا لیا تھا ابو… وہ تیمور ملک آئرن سٹور والے کی بیٹی ہے, خالد ملک کی تایا زاد بہن… صفوان ملک کی بیوی ” ساجد کہتا چلا گیا, بابر کے ہاتھوں سے سگریٹ چھوٹ گیا
“وہ لڑکی کون تھی ؟؟؟” کئی سال پرانی یہ اس کی اپنی آواز تھی
“وہ… شازیہ ہے… شازیہ ملک” دوسری آواز اس کے سب سے بڑے بیٹے واحد انصاری کی تھی
“کس کی بیٹی ہے ؟؟؟”
“تیمور ملک کی… وہ آئرن سٹور والا” یکلخت وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا
اسے تو لگا تھا کہ تیمور ملک روز محشر اس سے صرف ایک ہی حساب مانگے گا… یہاں تو حسابوں کے ڈھیر جمع ہو رہے تھے
ابو… ” تبھی ساجد نے اسے پکارا
“ابو… وہ حرامزادہ آ گیا….فرح بھی اس کے ساتھ ہے” ساجد بھاگتا ہوا اس کی طرف آیا تھا, بھٹے کے دروازے میں وہ دونوں کھڑے تھے
…………………………..
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ ورکشاپ سے گھر آیا, آجکل وہ وہاں اکیلا ہی رہ رہا تھا, مین دروازے سے اندر آتے ہی وہ ٹھٹھک گیا, ٹی وی لاؤنج اور کچن کے ساتھ والے کمرے کی لائیٹ جل رہی تھی, اسے اچنبھا سا ہوا
دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا ہوا وہ کمرے کی طرف آ گیا
“اسراء… ” وہ حیران پریشان کھڑا تھا
“آؤ ارمغان… ” اسراء بیڈ سے ٹیک لگاۓ آڑی ترچھی سی لیٹی ہوئی تھی, اسے دیکھ کر اٹھ بیٹھی
“تم یہاں…. اکیلی… ؟؟؟” ارمغان حیرانی سے کہتا ہوا اس کے برابر میں بیٹھ گیا
“مجھے لگا ابو نے تمہیں میرے آنے کا بتا دیا ہو گا” وہ بولی
“نہیں… میرا دو دن سے موبائل خراب تھا” وہ. بولا
“خیر تو ہے اسراء… ؟؟؟” ارمغان کو وہ پریشان سی لگی
“ارمغان میں کیسی ہوں ؟؟؟” اسراء نے سوال داغ دیا
“کیسی ہوں مطلب ؟؟؟” وہ بولا
“مطلب میں کیسی لڑکی ہوں ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“تم بہت اچھی ہو اسراء… بہت نرم دل, بہت مہربان… بہت دوستانہ… تم بہت خوبصورت بھی ہو” ارمغان کہتا چلا گیا, اسراء نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“اس سب کے باوجود درید نے دوسری شادی کر لی… ” اسراء نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا
“دوسری شادی… ؟؟؟” اسے یقین نہ آیا
“چھ سال ہو گئے ہیں… تین بچے ہیں اس کے” اسراء دھماکے کرتی جا رہی تھی
“ارمغان وہ کہتا ہے کہ اسے جو ٹھیک لگا… اس نے کیا… اور وہ اپنی فیملی کو نہیں چھوڑ سکتا… ” اسراء نے کہا
“ارمغان میری آنکھوں میں آنسو اس کی بے وفائی پر نہیں آتے… اپنی بے وقعتی پر آتے ہیں… بس یہ اوقات تھی میری… کہ چھ سال میں جس شخص سے منسوب رہی وہ مجھے بتاۓ بغیر دوسری شادی رچا گیا” وہ کہتی چلی گئی
“میں اچھی ہوں تو… اسے اچھی کیوں نہیں لگی؟؟؟” آنکھیں پھر آنسوؤں سے بھر گئی تھیں, ارمغان نے بہت اپنائیت سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا
“میں تو تمہیں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ… صبر کرو… وہ تو چھ سال سے کر رہی ہو تم” ارمغان نے کہا
“ارمغان وہ رو واپس چلا جاۓ گا… جا کر سب کچھ بھول جاۓ گا, اپنے بیوی بچوں میں مگن ہو جاۓ گا… اور میں… ؟؟؟ ” وہ سسک رہی تھی
“خدا اچھوں کے ساتھ بہت اچھا ہی کرتا ہے اسراء…. تمہارے ساتھ بھی اچھا ہی ہو گا” ارمغان نے کہا, وہ یونہی سسکتی رہی… ارمغان اسے کندھے سے لگاۓ بیٹھا رہا
“کب سے آئی ہوئی ہو ؟؟؟؟” اس نے پوچھا
“دس بجے آئی تھی… “
“کچھ کھایا… ؟؟؟”
“نہیں… دل نہیں کیا” وہ بولی
“چلو تم ذرا ویٹ کرو… میں کھانا لیکر آتا ہوں, پھر مل کر کھاتے ہیں, میرا بنا کھانا تو تمہارے حلق سے ہی نہیں اترے گا”ارمغان نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تھا
……………………………….
“بس اب کھیل ختم کرو… “
“کیا ہوا… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“لوہا گرم ہو گیا ہے… بس اب آخری چوٹ مار دو”
“نتائج کا ذمہ دار میں نہیں ہوں گا” وہ بولا
“تم بس یہ سوچو کہ تمہیں بدلے میں کیا چاہئے ؟؟؟”
“چلیں… جیسے آپ کی مرضی” وہ مسکرایا
“پھر کب.. ؟؟؟”
“میں کال کر دوں گا ” وہ بولا تھا
………………………..
“خالد… ” وہ سونے کے لئے لیٹ گیا تھا
“ہاں… ” وہ کروٹ بدلتے ہوئے بولا
“ناشیہ کو کس نے اغواء کیا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“سیٹھ بابر… بھٹے والا” خالد نے کہا
“تو جب پتہ ہے تو تم اور ابو خود کیوں نہیں چلے جاتے ” شازیہ نے کہا
“کیا فائدہ ؟؟؟ پولیس گئی تھی آج… کچھ نہیں ملا انہیں, کل اس کے گھر پر بھی ریڈ کروائی ہے, وہاں بھی کچھ نہیں ملا… اریسٹ بھی نہیں ہوا, پہلے ہی ضمانت کروا لی اس نے” خالد کہتا چلا گیا
“اس نے اپنے بیان میں صاف کہہ دیا ہے کہ اس نے ناشیہ کو اغواء نہیں کیا… بھلے ہی سو لوگوں نے اسے دیکھا ہو لیکن لوگ پراۓ معاملوں میں ٹانگ نہیں اڑاتے.. اور وہ شخص بڑا حرامزادہ ہے… لوگ ڈرتے ہیں اس سے” خالد نے کہا
“وہ لڑکی کیا لگتی ہے اس کی ؟؟؟”
“سنا ہے کہ بھتیجی ہے… بہو بھی لگتی ہے اس کی” خالد نے کہا
“شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی بھاگ گئی؟؟؟” شازیہ کی آنکھیں پھیل گئیں
“وہ سالا بھی تو شادی شدہ ہی تھا… ” خالد نے کہا
“پھر اب… ؟؟؟”
“پھر کیا… اس کے بیٹے کو گرفتار کروایا ہے… اطہر کہہ رہا تھا کہ بیٹے کے بدلے وہ ناشیہ کو ضرور چھوڑ دے گا” خالد نے کہا
“کتنے بیٹے ہیں اس کے ؟؟؟” شازیہ نے سرسری سے انداز سے پوچھا تھا
“پتہ نہیں… چار یا پانچ ہیں شاید… ” وہ بولا اور کمبل تان لیا
“تم فکر نہ کرو… ناشیہ آ جاۓ گی انشاءاللہ ” خالد نے کہا تھا, شازیہ نے چپ چاپ کروٹ بدل لی تھی
………………………..
وہ ایک کالی سیاہ رات تھی… لال لال آندھی نے پورے آسمان پر احاطہ کر رکھا تھا… وقفے وقفے سے گرد و غبار کے جھکڑ چل رہے تھے, مٹی اڑ اڑ کر آنکھوں میں جا رہی تھی, دور کہیں بجلی کے کڑکنے کی آواز بھی سنائی دیتی تھی
آبادی سے ذرا دور وہ سیٹھ بابر انصاری کا ایک چھوٹا سا فارم ہاؤس تھا, وہ کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ دھر کر بیٹھا تھا, مسلسل دھوئیں کے مرغولے اٹھ رہے تھے, صفوان کو دیوار کے ساتھ رسیوں سے جکڑا ہوا تھا, سیٹھ بابر کے آدمیوں نے اسے مار مار کر ادھ مواء کر دیا تھا, اس سے ذرا دور ناشیہ فرش پر گری ہوئی تھی, ایک آدمی اس کے سر پر پستول رکھے کھڑا تھا, اس بیچاری کا رو رو کر گلا بھی بیٹھ گیا تھا, آنسو خشک ہو چکے تھے, دو آدمی بندوق تھامے دروازے کے پاس کھڑے تھے, فرح کو اس نے گھر میں قید کر رکھا تھا
“سیٹھ جی… میں فرح کو واپس لے آیا ہوں, بس اب رحم کریں, میری بیوی کو چھوڑ دیں” صفوان کا سارا منہ سوج گیا تھا
“اچھا… لوکا چھپی کھیل رہا تو میرے ساتھ… میں تجھے ڈھونڈ نہیں سکا تو تو خود ہی آ گیا میرے پاس… ہیں نا ؟؟؟” سیٹھ بابر نے کش لگایا تھا
“معاف کر دیں سیٹھ جی… غلطی ہو گئی, اسے چھوڑ دیں… اس کا کیا قصور… ؟؟؟” وہ بولا
“تجھ جیسے حرامزادوں کا کیا اس جیسے بے قصور ہی بھرتے ہیں کمینے… “بابر نے کش لگاتے ہوئے شافع ک نمبر ملایا تھا
“فارم پر آ… ذرا جلدی” اس نے کال کنیکٹ ہوتے ہی کہا
“اب کیا ہو گیا ؟؟؟” وہ بچوں کو لیے بیٹھا تھا
“اکیلا مت آئیں… رافع کو ساتھ لے آ… ” اس نے کہا
“جلدی آ… ” اس نے کہہ کر کال کاٹ دی
“سیٹھ جی… معاف کر دیں” صفوان کو رہ رہ کر ناشیہ پر ترس آ رہا تھا, وہ بے سدھ سی فرش پر پڑی تھی
“میرا بچہ…میرا چھوٹا سا بچہ ہے… ” پرسوں سے وہ بس یہ ہی کہے جا رہی تھی
“سیٹھ جی… میرا ایک سال کا چھوٹا سا بچہ ہے… دودھ پیتا… ” صفوان نے التجا کی تھی
“جسے تو ساتھ لے گیا تھا اس کے دو بچے ہیں… چھوٹے چھوٹے… ” بابر نے کہا
“سیٹھ جی جو سزا دینی ہے مجھے دے لیں… میں آ گیا ہوں واپس…” وہ منت کرتے ہوئے بولا
“نہیں سالے…. ایسے نہیں, بہت بار معاف کیا ہے تجھے, بہت بار پھینٹی لگا کر چھوڑ دیا تھا تجھے… پر تو نہیں سدھرا… یہ کوئی کھیل تھوڑی ہے کتے…. کہ جب دل کیا سیٹھ بابر کی عزت اچھال دی اور جب دل کیا واپس کر دی… ” وہ کہہ کر کھڑا ہو گیا
“مجھے پتہ تھا کہ اس کے پیچھے آۓ گا تو… بیوی ہے نا تیری” وہ ذرا سا ناشیہ پر جھکا, وہ پیچھے کو ہو گئی
“سیٹھ جی… معاف کر دیں… ” صفوان زور سے چیخا
“تو نے سیٹھ بابر کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے صفوان ملک… اور عزت کا بدلہ عزت ہی ہوتا ہے” اس نے ناشیہ کی کلائی جکڑی تھی, وہ یکدم جھٹکا دے کر باہر کو بھاگی, سیٹھ بابر نے اس کے دوپٹے پر اپنا جوتا رکھ دیا… وہ وہیں فرش پر گر گیا
“سیٹھ بابر… بس کر…بس کر… وہ میری بیوی ہے” صفوان زور سے دہاڑا تھا, سیٹھ بابر کے آدمیوں نے اسے اچھا خاصا ہی رگڑا… باہر طوفان زوروں پر تھا… ناشیہ یکدم ہی دروازے کی طرف بھاگی…سیٹھ بابر نے اس کی قمیض کا کونا پکڑا تھا, وہ گر گئی
عین اسی لمحے دروازہ کھلا تھا…شافع اندر داخل ہوا اور اس سے پہلے کہ کچھ سمجھتا… ناشیہ دوبارہ اٹھی تھی
شافع کے پیچھے ہی رافع اندر آیا تھا… ناشیہ بھاگی… صفوان ایک بار پھر دہاڑا تھا, سیٹھ کے آدمیوں نے دروازہ بند کر دیا, وہ بھاگتی ہوئی شافع کے پاس سے گزری اور زور سے رافع کے دونوں بازو جکڑتے ہوۓ اس کے ساتھ لگ گئی
“رافع… مجھے بچا لو پلیز… ” اپنا سر رافع کے سینے پر رکھتے ہوۓ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
ندامت کا ایک پہاڑ تھا جو سیٹھ بابر انصاری پر آن گرا تھا
“پلیز… مجھے چھوڑ دو… پلیز” بالکل ویسی ہی آوازیں بازگشت بن کر ابھر آئی تھیں
“واحد… مجھے بچا لو پلیز… “
…………………….
جاری ہے
