121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

“ابو… میں وہاں نہیں رہوں گا” اس نے ببانگ دہل اعلان کیا تھا, کھانے کی میز پر یکلخت خاموشی سی چھا گئی, اس کے والد محترم عمر فاروق راۓ صاحب نے غصیل نظروں سے اس کی طرف دیکھا, والدہ ماجدہ آمنہ بیگم بھی اچنبھے سے اسے دیکھ رہی تھیں, اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی انیتا نے اسے زور سے کہنی ماری
“کیوں ؟؟؟ وہاں کیا ہے ؟؟؟” انہوں نے گرجدار سی آواز میں پوچھا
“ابو آپ کو بھی پتہ ہی ہے… وہ میری دو بہنوں کا سسرال ہے” اِذَن تھوڑا سا منمنایا
“وہ ان کا سسرال بعد میں ہے, تیرے ماموں کا گھر پہلے ہے… اور تو کونسا وہاں مستقل رہنے جا رہا ہے, جب ذرا سیٹ ہو جاۓ گا تو الگ گھر کا بندوبست کر لیں گے” آمنہ نے کہا
“لیکن امی… سب کہیں گے کہ بے شرمی کی انتہا دیکھو… کتنی ڈھٹائی سے بہنوں کے در پہ جا کہ پڑ گیا…میں کسی ہاسٹل میں رہ لوں گا” وہ وہاں نہ جانے پر بضد تھا
“یہ دیکھ… میرے جڑے ہاتھ… ہاسٹل میں رہنے سے بہتر ہے کہ تو روز گھر واپس آیا کرے, ہاسٹل کا دوبارہ نام نہ لینا” آمنہ بیگم اس کے ہاسٹل رہنے کے سخت خلاف تھیں
“اٹھارہ کلو میٹر دور ہے یہاں سے لاہور… آتے جاتے میں ہی بھرتا نکل جاۓ گا میرا” وہ بدکا
“تو بس پھر اپنی یہ فضول قسم کی بکواس بند کر لے, جو کہہ رہے ہیں اس پر چپ چاپ عمل کر” فاروق صاحب نے ذرا گھرک کر کہا تھا, وہ بس بے بسی سے انہیں دیکھ کر رہ گیا اور جیسے وہ کھانا ختم کر کے اٹھے, ایکدم پھٹ پڑا
“بہنوں کے گھر بھائی کتا ہوتا ہے… ” چمچ زور سے پلیٹ میں پٹخا تھا
“اِذَن… میرے بھائی کا گھر ہے وہ… میرا میکہ… تیرے اکلوتے ماموں کا گھر… یہ کیا سسرال, سسرال کی رٹ لگا رکھی ہے” آمنہ بیگم کو تاؤ آ گیا, اذن کی ایک ہفتہ پہلے ہی یونی لیور میں جاب ہوئی تھی اور آمنہ اور عمر فاروق کے نزدیک اس کی رہائش کا مسئلہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا… آمنہ کے بڑے بھائی عبید راۓ کا لاہور میں تھوک کا کاروبار تھا, اذن کی دونوں بڑی بہنیں ماموں کی طرف بیاہی ہوئی تھیں
“کل کلاں کو جب لوگ گندی گندی باتیں کریں گے تب دیکھنا… ” وہ تڑخ کر کھڑا ہو گیا
“انیتا… اس کی پیکنگ کروا دے” آمنہ بیگم نے اس کی بات پر ذرا بھی کان نہیں دھرے تھے
“میرا قطعی وہاں جانے کا دل نہیں کر رہا… ان کے تو اپنے پنگے ختم نہیں ہوتے, آۓ روز صمد بھائی اور اسماء باجی کے ایسے ایسے دنگے ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ… اور جس عرصے میں صمد بھائی گھر نہیں ہوتے وہ اوپر والی سے چونچیں لڑاۓ رکھتی ہیں…بچوں کی الگ سے ایک فوج ہے ان کے گھر, ہر وقت کی دھماچوکڑی… ” وہ مسلسل انیتا کے سر پر بولے جا رہا تھا
“او بھائی میرے نہیں جانا تو مت جا… یوں میرے کانوں میں تواتر سے صور مت پھونک ” انیتا تنگ آ گئی
“انیتا… میں نے وہاں نہیں جانا” وہ تنک کر بستر پر اوندھے منہ گرا اور زور سے چلایا
“اِذن… ” فاروق صاحب کی چنگھاڑتی آواز پر انیتا نے بھاگ کے دروازہ بند کر دیا تھا
………………………….
وہ کلاس ختم کر کے باہر نکلا تو موسم اچھا خاصا خوشگوار ہو چکا تھا, فری کلاسز کے سٹوڈنٹس گراؤنڈ میں نکل آۓ تھے, بورڈ مارکر جیب میں ڈالتے ہوئے وہ آفس کی طرف آ گیا, کاریڈور سے گزرتے ہوئے اس نے ایک عقابی نظر اس کی کلاس کی طرف دوڑائی تھی, فیروزی سوٹ میں ملبوس اسے بس اس کی پشت اور پشت پر بکھرے بال نظر آۓ تھے, بس یونہی ایک دھیمی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر تیر گئی, باقی کا سٹاف بھی موسم انجواۓ کرنے کے لئے لان میں کرسیاں ڈالے بیٹھا تھا
“رافع… چاۓ” ایک کولیگ نے چاۓ کا کپ اس کے سامنے رکھ دیا
“میڈم نہیں آئیں ابھی ؟؟؟” کسی نے پوچھا تھا
“کلاس میں ہیں ابھی… ” اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے کپ اٹھا لیا
وہ ایک پرائیوٹ کوچنگ سینٹر تھا جہاں CSS, PMS, PPSC وغیرہ کی تیاری کروائی جاتی تھی, کچ ہی دیر بعد وہ کلاس فارغ کر کے باہر آ گئی, اپنے لئے کرسی کھینچتے ہوۓ اس نے بس ایک اچٹتی سی نظر رافع پر ڈالی تھی, رفتہ رفتہ سبھی چاۓ ختم کر کے اپنی اپنی کلاسز کی طرف چل دیئے, رافع کی بھی کلاس تھی
“جانے لگی ہو ؟؟؟” اسے خالی کپ رکھ کر کھڑے ہوتے دیکھا تو پوچھ بیٹھا
“ہاں… موسم زیادہ ہی خراب نہ ہو جاۓ” وہ کندھوں کے گرد شال لپیٹتے ہوۓ بولی
“تھوڑی دیر رک جاتیں… میں چھوڑ دیتا” اس نے بڑے آس بھرے لحجے میں کہا تھا
“اچھا… گاڑی کس سے مانگو گے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“وہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے” رافع بھی کھڑا ہو گیا, ناشیۂ نے بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے نظر بھر کر اس کی طرف دیکھا, وہ فدا ہوتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
“رافع… میرے خیال سے اب تمہیں تھوڑی پریکٹس کر لینی چاہیے ” وہ نظریں جھکا گئی تھی
“کس چیز کی… ؟؟؟”
“مجھے یہ نا کہنے کی کہ… تھوڑی دیر رک جاؤ, اور یہ بھی نا کہنے کی کہ… میں چھوڑ دیتا ہوں… آۓ روز کسی نہ کسی سے گاڑی نا مانگنے کی اور… اپنی بائیک پر تنہا گھر واپس جانے کی” وہ انتہائی دھیمے سے لحجے میں کہتی چلی گئی, لمحوں میں رافع کا چہرہ تاریک ہوا تھا, اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا, ہوا کا ایک ٹھنڈا سا جھونکا آیا, ساتھ ہی مدھم سی بوچھاڑ شروع ہو گئی, ناشیہ نے آسمان کی طرف دیکھا, چند ایک قطرے اس کے چہرے پر گرے تھے
رافع جیسے تھم سا گیا… کئی پل گزر گئے, پلکیں جیسے ساکت ہو گئی تھیں, ناشیہ نے ایک نظر اس کی پتھرائی ہوئی نگاہوں کو دیکھا اور اس کے پاس سے گزر گئی
“ناشیہ… ” رافع نے پلٹ کر آواز دی تھی
“امی کو دوبارہ بھیجوں ؟؟؟” اس نے پوچھا, ناشیہ پلٹ نہیں سکی
“نہیں… ” دھیرے سے کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی تھی
………………………
اتوار کا دن تھا… تقریبا گیارہ بجنے والے تھے جب وہ عبید راۓ کے گھر میں داخل ہوا, اندرونی دروازے سے اندر آتے ہی سامنے کا منظر وہی تھا جو وہ رات سے کوئی سو دفعہ سوچ چکا تھا
اس کی بڑی بہن اسماء دونوں آستینیں کہنیوں تک چڑھاۓ, دونوں ہاتھ کمر پر باندھے ٹی وی لاؤنج کے وسط میں کھڑی تھی, منہ کا رخ اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا… اس نے اوپر کی طرف دیکھا
غاشیہ ریلنگ سے آدھی آدھی نیچے کو لٹکی ہوئی تھی… اسماء نیچے سے طعنوں کے نشتر چلاتی… وہ اوپر سے طنز کے تیر پھینکتی… دونوں میں وہ گھمسان کی لڑائی جاری تھی کے الامان الحفیظ… اسماء کے دونوں بڑے بچوں نے ریمورٹ کے پیچھے ایک الگ ہی غدر مچا رکھا تھا… وہ بیچارہ سفری بیگ کندھوں پر ڈالے وہیں دروازے میں ہی ایستادہ رہ گیا, سب سے پہلے اسراء کی نظر اس پر پڑی تھی
“اذن… کب آیا… ؟؟؟” وہ بیچاری اسماء کو چپ کروانے کے تمام جتن کر کے اب شاید ہار چکی تھی
“خدا جانے میں اس دنیا میں ہی کیوں آیا ؟؟؟” وہ بس دل میں ہی کہہ سکا
“اسماء بس کر… اذن آ گیا ہے” اسراء نے اس کی قمیض پشت سے پکڑ کر کھینچی تھی
“غاشیہ خدا کے واسطے… بس کر, بس کر” اسراء نے ہاتھ جوڑ کر کہا
“کیسا ہے اذن… ؟؟؟ امی, ابو کیسے ہیں ؟؟؟” اسماء کو باقاعدہ دانتوں تلے پسینہ آیا ہوا تھا
“ٹھیک ہیں… ” اذن کا مارے کوفت کے برا حال تھا
“اچھا اچھا… میں نے رات ہی تیرا کمرہ سیٹ کروا دیا تھا, اسراء اس کا سامان سیٹ کروا دے” وہ یوں صوفے پر گری جیسے کوئی معرکہ سر کر کے آئی ہو
“ماما… ” پانچ سالہ احد کی فلک شگاف چیخ نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی تھی, لمحہ لگا تھا اسماء کو اپنا جوتا اتارنے میں… آگے آگے دونوں بچے اور پیچھے پیچھے اسماء
“اذن… آ جا, یہ تو ازل سے چل رہا ہے اور ابد تک چلے گا” اسراء کی شاید خود بس ہوئی پڑی تھی, اذن چپ چاپ اس کے پیچھے ہو لیا, اسماء کی چنگھاڑ تا دیر اس کے کمرے تک سنائی دیتی رہی تھی
عبید راۓ کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی, بڑا صمد راۓ جو کہ اسماء کا شوہر تھا, اس سے چھوٹا درید جو اسراء کا شوہر تھا اور ملک سے باہر ہوتا تھا… تیسرے نمبر پر حدید اور سب سے چھوٹی زرقا
عبید راۓ کی بیگم اللہ کو پیاری ہو چکی تھیں
………………………..
“زرقا… ” وہ ابھی کلاس لیکر نکلی تھی جب وہ اسے ڈھونڈتا ہوا اس کے ڈپارٹمنٹ پہنچ گیا
“تم کبھی پڑھائی وڑاھائی بھی کر لیا کرو” زرقا نے اسے اپنے پیچھے آتا دیکھ کر کہا
“تین مسلسل کلاسز لیکر آیا ہوں میں… سمجھیں” وہ تڑپ گیا
“مجھے تو نہیں لگتا… ہر وقت تو تم یہاں پاۓ جاتے ہو” وہ اس کے برابر میں چلتے ہوئے بولی
“تمہیں بھی پتہ ہی ہے کہ میں یہاں کیوں پایا جاتا ہوں ؟؟؟” وہ ذو معنی سے لحجے میں بولا تھا
“زرقا… ” وہ کچھ دیر بعد سوالیہ سے لحجے میں بولا, زرقا رک کر اسے دیکھنے لگی
“بس ایک سال رہ گیا ہے… میں سوچ رہا تھا کہ کوششیں شروع کر دوں ؟؟؟” اس نے کہا
“اور تمہیں لگتا ہے کہ سال بھر میں تمہاری کوششیں بارآور ہو جائیں گی ؟؟؟” اس نے جواباً پوچھا, وہ کافی دیر تک بول نہ سکا
“طہٰ…” زرقا نے دھیرے سے کہا
“یہ تم بھی جانتے ہو کہ تمہاری ہڈیاں گل جائیں گی لیکن تمہاری کوششیں بارآور نہیں ہوں گی” وہ بولی
“تو پھر…. ؟؟؟” وہ بولا
“تو پھر یہ کہ… کسی اور کو دیکھ لو… ” وہ کہہ کر آگے بڑھی
“زرقا… ” طہٰ کی آواز میں دکھ ہی دکھ تھا
“تم نے بھی دیکھ لیا کوئی اور ؟؟؟” وہ پھر بھاگتا ہوا اس کے برابر آیا
“میں بھی دیکھ ہی لوں گی… وقت آنے پر” وہ بولی
“اور محبت… اس کا کیا… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“محبتیں قربان ہوتی رہتی ہیں طہٰ ملک… یہ ہی تو ریت ہے” وہ بولی
“ریت بدل دیتے زرقا… ساتھ مل کر” وہ بولا
“تمہاری بہن نے بدل دی ریت… ؟؟؟ یا میرے بھائی نے بدل دی ریت… ؟؟؟ وہ دونوں ایک سال سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں, کیا انہوں نے ساتھ مل کر بدل دی ریت… ؟؟؟” وہ کہتی چلی گئی, طہ بول نہ سکا, بس بے بسی سے اس کی خوبصورت سی آنکھوں میں جھانکتا رہ گیا
…………………….
اسے ماموں کے گھر آۓ ایک ہفتہ ہو چکا تھا اور اس ایک ہفتے میں وہ ایک فیصد بھی اس مچھلی بازار میں رہنے کا عادی نہیں ہوا تھا, اس کا کمرہ بالکل اسماء اور صمد کے کمرے کے ساتھ تھا, رات گئے تک بھانت بھانت کی آوازیں کانوں میں صور پھونکتی رہتیں, سامنے والا کمرہ بچوں کا تھا, وہاں سے الگ ساری رات باجے بجتے رہتے, صبح ناشتے کے وقت ایک الگ ہی ہلڑ بازی لگی رہتی تھی, اسماء نے پہلے ہی دن وہاں کے اصول و قوانین اس پر واضح کر دیئے تھے, دوسری منزل پر جانا نہ صرف منع, بلکہ حرام… بلکہ گناہ تھا… منہ اٹھا کر اوپر دیکھنا ہی جائز نہیں تھا… اوپر والوں کا ذکر کرنا ہی بین تھا, البتہ چھت پر جانے کے لئے باہر سے سیڑھیاں جاتی تھیں, اس دن بھی وہ بچوں کی باں باں سے تنگ آ کر چھت پر چلا گیا, وسیع و عریض ٹائلیں لگی صاف ستھری چھت…اوپر ایک کمرہ اور سٹور روم بنا ہوا تھا
“یہ کس کا کمرہ ہے ؟؟؟” اسقدر سکھی جگہ پر وہ کمرہ جس کا بھی تھا… اذن کو ٹوٹ کر اس پر رشک آیا, بے خیالی میں وہ یونہی دروازہ کھول کر اندر آ گیا
“اوہ… سوری” زرقا اپنے نوٹس کھولے بستر پر اوندھی لیٹی ہوئی تھی, اذن گڑبڑا سا گیا
“ناک تو کر دیتے… ” وہ سیدھی ہوئی اور پاس پڑا دوپٹہ اٹھا لیا
“سوری مجھے لگا اندر کوئی نہیں ہے… ” وہ شرمندہ سا ہو گیا
“آؤ… ” زرقا نے سامنے پڑے صوفے کی طرف اشارہ کیا تھا, وہ سر ہلاتے ہوئے اس پر بیٹھ گیا
“تم تو جنت میں رہ رہی ہو یار… ” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا
“پورے چوبیس سال اس جہنم میں بھی میں نے ہی گزارے ہیں… سات ماہ پہلے ابو نے یہ سٹور روم بنوایا تھا اوپر… بس تب ہی میں ان کی ٹانگوں سے لپٹ گئی تھی کہ خدا کا واسطہ ہے آپ کو… مجھے اوپر ایک کمرہ بنا دیں” وہ ہنستے ہوئے کہتی چلی گئی, اذن بھی ہنس پڑا
“ہاں میں بھی کہوں کہ یہ کمرہ پہلے تو نہیں تھا” وہ بولا اور مزید لم لیٹ ہو گیا, زرقا کو واضح طور پر اس کی آنکھوں میں سرخ ڈورے نظر آۓ تھے
“راتوں کو سوتے نہیں ہو کیا ؟؟؟؟” وہ بولی
“نائیٹ شفٹس لگی ہوئی ہیں… صبح سات بجے واپس آتا ہوں, خدا کو حاضر ناظر جان کر کہو کہ جو کمرہ مجھے ملا ہے وہاں نیند آتی ہے بھلا… ؟؟” وہ بولا, زرقا سر جھکاتے ہوۓ مسکرانے لگی
“ایک مشورہ دوں ؟؟؟” وہ کچھ لمحوں بعد بولی
“ہوں… ” اذن کی آنکھوں میں نیند اترنے لگی تھی
“حدید بھائی کے پورشن میں کمرہ لے لو… ” وہ دھیرے سے بولی, اذن کی بند ہوتی آنکھیں یکدم کھل گئیں
“اسماء باجی کھنڈی چھری سے گلا کاٹ دیں گی میرا… ” وہ بولا
“میں ایک بجے یونیورسٹی سے واپس آتی ہوں, جب تک تمہاری نائیٹ شفٹس ہیں تب تک صبح آ کر یہاں سو جایا کرو, جب دن کی شفٹس آئیں گی تو تب تک تم عادی ہو چکے ہو گے” زرقا نے مسکراتے ہوئے کہا
“تھینک یو زرقا… تھینک یو ” وہ لمحوں میں نیندوں میں اترا تھا, زرقا ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے نوٹس ایک طرف رکھ کر باہر نکل آئی, دوپہر کا کھانا بھی تو بنانا تھا
………………………….
“بھائی جی… میں آج پھر آپ کے سامنے جھولی پھیلانے آئی ہوں ” ناشیہ کے انکار کرنے کے باوجود رافع نے اپنی امی کو اس کے گھر بھیج دیا تھا, وہ بیچاری عورت بیٹے کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک بار پھر تیمور ملک کے سامنے بیٹھی تھی, اس کے ساتھ سنگل صوفے پر ناشیہ کی بڑی بہن شازیہ بیٹھی ہوئی تھی
تیمور ملک کی زوجہ وفات پا چکی تھیں… گھر کے سربراہ وہی تھے, ان کے چھوٹے بھائی اور بھابھی پندرہ سال پہلے ایک ایکسیڈنٹ میں خدا کو پیارے ہو گئے تھے, ان کا ایک ہی بیٹا تھا جسے شازیہ سے منسوب کر کے تیمور ملک نے اپنا بیٹا بنا لیا, وہ تیمور ملک کے ساتھ ہی ایک بڑا سا آئرن سٹور چلاتا تھا, شازیہ سے چھوٹی دونوں جڑواں تھیں… غاشیہ اور ناشیہ… سب سے چھوٹا طہٰ تھا
“بہن میں نے پچھلی بار بھی آپ کو بڑے سبھاؤ سے انکار کیا تھا… پہلی بات تو یہ کہ میری بچی کا رشتہ طے ہو چکا ہے… میری اپنی سگی بہن کے گھر… اور دوسری اور سب سے اہم بات کے ہم لوگ برادری سے باہر رشتے نہیں کرتے” تیمور ملک نے کہا
“بھائی صاحب… کوئی گنجائش نکال لیں, آپ کی بیٹی کے ہر سکھ کی ضمانت دیتی ہوں میں” وہ کوششوں پر کوششیں کر رہی تھیں
“دیکھیں ہم لوگ کوئی عربی زبان تو بولتے نہیں ہیں جو آپ کو سمجھ نہیں آتی, ایک دفعہ منع جو کر دیا تو پھر بار بار ایک ہی رٹ لگانے کی آخر تک کیا بنتی ہے, کہہ تو دیا کہ اس کا رشتہ طے ہو چکا ہے, کچھ مہینوں میں اس کی شادی ہو جاۓ گی… بس بات ختم” شازیہ ذرا غصے سے بولی تھی, تبھی ناشیہ چاۓ لے آئی, اس نے بس ایک نظر رافع کی امی کو دیکھا تھا
“بڑی معذرت ہے آپ سے بہن… ” تیمور ملک بھی اکتاۓ ہوۓ نظر آ رہے تھے, وہ ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کھڑی ہو گئیں
“آنٹی چاۓ تو پی کر جائیں… ” ناشیہ نے کہا
“نہیں بیٹا… شکریہ بہت بہت” وہ دھیرے سے کہہ کر باہر نکل آئیں, پچھلی بار بھی شازیہ کے ہاتھوں یوں ذلیل ہو کر انہوں نے خود سے عہد کیا تھا کہ اب دوبارہ یہاں نہیں آئیں گی لیکن ہر بار وہ رافع کے ہاتھوں مجبور ہو جاتی تھیں, رافع ان کے گھر سے زرا دور بائیک لئے کھڑا تھا
“کیا بنا امی… ؟؟؟”
“رافع تجھے نا شوق ہے ماں کو ذلیل کروانے کا اور بس… تجھے کیا پتہ نہیں کہ کیا بنا… ؟؟؟؟ کچھ نہیں بنا, کچھ نہیں بنے گا, اس کا رشتہ طے ہو چکا ہے” وہ اس پر برس پڑیں
“امی وہ راضی نہیں ہے… ” رافع منمنایا
“اس سے کوئی فرق پڑتا ہے کیا ؟؟؟ لڑکی راضی ہے یا نہیں اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا رافع” وہ بولیں
“چل گھر… میں دوبارہ یہاں نہیں آؤں گی” وہ غصہ سے بولی تھیں, رافع نے چپ چاپ بائیک سٹارٹ کر دی
گھر پہنچے تو وہاں ایک طوفان برپا تھا
گھر کے صحن میں کافی ساری عورتیں اور مرد جمع تھے, شافع بیچارہ بوکھلایا ہوا سا ایک طرف کھڑا تھا
“کیا ہوا… ؟؟؟” وہ بھاگ کر اندر آئیں
“تیری بہو کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے ہم نے روبینہ… گجروں کے احاطے میں سے” وہ کوئی محلے دار عورت تھی
“کیا مطلب… ؟؟؟” وہ سن رہ گئیں
“کسی لڑکے کے ساتھ تھی یہ وہاں… وہ تو بھاگ گیا, یہ پکڑی گئی” اب کے کسی اور نے ہاتھ نچایا تھا
“بکواس کرتے ہیں یہ سب… ایسا کچھ نہیں ہے, میں تو بس پتی لینے دوکان تک گئی تھی ” شافع کے ساتھ کھڑی فرح ذرا بھی شرمندہ نہیں تھی
“تم لوگوں کو شرم آنی چاہیے میری بہو پر یوں الزام لگاتے ہوئے, لڑکا نہیں ملا تو چلو جی لڑکی پر سارا ملبہ دھر دیا” روبینہ کی بس ہوئی تھی
“انکل جی پلیز… جائیں یہاں سے, کوئی خدا خوفی کریں, ایسا کچھ نہیں ہے” رافع نے ایک نظر شافع پر ڈالی جو اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گراۓ چارپائی پر گرا تھا
“بھابھی اندر جائیں.. بچے رو رہے ہیں” اس نے بمشکل فرح کو اندر کی طرف دھکیلا, روبینہ نے بھی چیخ چلا کر عورتوں کو گھر سے باہر نکالا تھا
“کہاں گئ تھی تو…. ؟؟؟؟” وہ دروازہ بند کرتے ہوئے فرح کی طرف مڑیں, وہ ابھی تک اسی طرح تن کر شافع کے برابر میں کھڑی تھی
“کہا تو ہے…. پتی لینے گئی تھی ” وہ بولی
“ابھی پرسوں تو رافع راشن لیکر آیا ہے…” روبینہ حیران ہو گئیں
“وہ…مجھ سے گر گیا تھا ڈبہ سارا” فرح دوبدو ہو کر بولی
“تو میں نے آ ہی جانا تھا نا… کہ وہیں مر آنا تھا” روبینہ نے کہا
“میں چاۓ پینے کو بیٹھی تھی… اگر ذرا سی پتی لینے دوکان تک چلی گئی تو کیا ہو گیا” وہ تڑخی
“دوکان سے احاطہ آدھا کلو میٹر دور ہے ” روبینہ اس کے عین سامنے آ گئیں
“وہ… دوکاندار تھا ہی نہیں, ساتھ والے نے کہا کہ احاطے تک گیا ہے تو میں… وہاں چلی گئی” فرح کے پاس ہر بات کا جواب تھا, تین سالہ رحمہ اور ڈیڑھ سالہ راحم کا رو رو کر برا حال تھا, شافع نے چپ چاپ اٹھ کر ایک طرف رحمہ کو اٹھایا اور دوسری طرف راحم کو اٹھا کر اندر چلا گیا, وہ بیچارہ تھوڑی دیر پہلے ہی دفتر سے آیا تھا, روبینہ اور فرح کافی دیر تک تو تو میں میں کرتی رہیں, فرح نے پروں پر پانی بھی نہ پڑنے دیا
“امی بس کریں… ” رافع نے انہیں کھینچ تان کر چپ کروایا, وہ اندر آئیں تو شافع ابھی تک دفتر والے کپڑوں میں ہی لیٹا ہوا تھا, دونوں بچوں کو فیڈر سے کر اپنے دائیں بائیں لٹایا ہوا تھا, سامنے ایل سی ڈی پر کارٹون چل رہے تھے اور خود مسلسل چھت کو گھور رہا تھا
“شافع… چل اٹھ کر کپڑے بدل” روبینہ نے کمرے میں آ کر کہا, وہ چپ چاپ ریموٹ ایک طرف رکھ کر کھڑا ہو گیا, فرح اس کے کپڑے تک نکال کر نہیں رکھتی تھی, بے ترتیبی سے بھری ہوئی الماری سے اس نے ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایک شرٹ اور ٹراؤزر نکالا اور واش روم میں گھس گیا, شیمپو کی خالی شیشی ڈسٹ بن میں ڈالتے ہوئے وہ یکدم ٹھٹھکا تھا
ڈسٹ بن پتی سے بھری پڑی تھی
………………..
جاری ہے