121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

وہ سب نفوس ٹی وی لاؤنج میں جمع تھے, اذن ویک اینڈ پر آتے ہوئے اسراء کو بھی ساتھ ہی لے آیا تھا, انیتا اور اذن کی شادی کی بات ہو رہی تھی, آمنہ نے ببانگ دہل سب کے سامنے عمر فاروق کا مؤقف رکھ دیا تھا
“ارمغان…. ” اسماء کی نفرت میں ڈوبی ہوئی آواز نکلی تھی
“ابو آپ نے سوچ بھی کیسے لیا کہ ہم انیتا ارمغان کو دے دیں گے” وہ اچھل پڑی
“کیوں اسماء باجی… ارمغان کو کیا ہے ؟؟؟” اذن سے رہا نہ گیا
“تو چپ کر… خبردار جو بیچ میں بولا تو” اسماء چنگھاڑ کر بولی تھی
“خدا کا نام ہے ابو… کوئی خاندان کا نام رہنے بھی دیں, کوئی عزت, کوئی حسب نسب ہے بھی ہمارا یا نہیں… اسراء کی دفعہ بھی آپ یونہی ڈھیلے پڑ گیے تھے, میں اور امی نہ ہوتیں تو آپ اسے بھی اس فقیر کے ساتھ بیاہ دیتے… ” وہ دہاڑی, اس کی ساری فرسٹریشن اب نکل رہی تھی
“تمہیں پتہ بھی ہے وہ فقیر اب کون ہے… ؟؟؟” عمر فاروق نے کہا
“بھاڑ میں گیا وہ… ” آمنہ نے کہا
“ابو… میری بات کان کھول کر سن لیں, خبردار جو آییندہ کبھی انیتا اور ارمغان کا نام ایک ساتھ جوڑا… مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا, وہ ہماری نسل سے نہیں ہے اور جس گندی نسل سے ہے نا… اس کا نام بھی میرے لیے موت ہے, اسی نسل کی وہ حرافہ میرے سر پر سوار ہو گئی ہے, پانچ سالوں میں پہلی بار صرف اس بدمعاش کی وجہ سے صمد نے مجھ سے اونچی آواز میں بات کی ہے… اس غلیظ عورت سے معافی مانگنی پڑی ہے مجھے… ” اسماء دھاڑے جا رہی تھی
“اسماء بکواس بند کر لے… معافی کیوں مانگنی پڑی ہے یہ بھی بتا دے” اسراء نے کہا
“امی غاشیہ کو جان بوجھ کر دھکے دییے اس نے, اس کا بچہ ضائع کر دیا اس نے” اسراء نے کہا
“اسماء… ” آمنہ حق دق تھیں
“میرا بس چلے تو اس بے غیرت کی نسل ہی ختم کر دوں میں…پہلے وہ خبیث انسان خالہ کو ورغلا کر لے گیا, پھر اس حرافہ نے حدید کو پھنسا لیا… نسل ہی گندی ہے ان لوگوں کی, لڑکی ہو یا لڑکا… شرم و حیا بالکل ہی ختم ہے” اسماء نے کہا
“اسماء… اپنا لحجہ تھوڑا درست کر لے سمجھی, چھبیس سال ہو گیے ہیں حمنہ کو اس دنیا سے گئے, پندرہ سال ہو گئے ہیں اس کے شوہر کو مرے… خدا کا واسطہ ہے تو اور تیری ماں اب تو بخش دو ان دونوں کو… اور ان دونوں نے جو کیا سو کیا… ارمغان کا کیا قصور ہے ؟؟؟” عمر فاروق کی بس ہو گئی
“ابو… مجھے ارمغان سے شادی نہیں کرنی” انیتا پہلی بار بولی تھی, عمر فاروق بس تاسف سے اسے دیکھ کر رہ گئے
“ابو… میری بات سنیں, ارمغان بیشک بے قصور ہی ہو گا لیکن… ہم نے انیتا کی شادی اس سے نہیں کرنی.. بس… انیتا کی فکر آپ دل سے نکال دیں, اس کی شادی میری ذمہ داری ہے, میں خود ڈھونڈ لوں گی اس کا رشتہ… آپ فی الحال اذن کی فکر کریں” اسماء نے کہا
“اس کے لئے زرقا کا ہاتھ مانگ لیں… ” اس نے دھماکہ کیا تھا, اذن دم بخود رہ گیا, نظروں میں زرقا کا سرخی مائل چہرہ گھوم گیا تھا
“اسماء باجی پلیز… آپ ابھی میری فکر نہ کریں, پہلے اپنے پنگے حل کر لیں… ” وہ بولا
“میرا کوئی پنگا نہیں ہے… ” اسماء نے کہا
“امی مجھے اپنی دونون بہنوں کے وٹے پر شادی نہیں کرنی ” اذن نے کہا
“یہ کونسا نیا شوشہ ہے ؟؟؟” اسماء جھلا گئی
“یہ شوشہ نہیں ہے… حقیقت ہے, کل کلاں کو آپ کا اور صمد بھائی کا کوئی جھگڑا ہوا, یا اسراء اور درید کا کوئی مسئلہ بنا تو سب سے پہلے وہ بیچاری سولی پر لٹک جایا کرے گی, آپ ہی ہوں گی جو سب دے پہلے اسے بالوں سے پکڑ کر اس گھر سے باہر نکالا کریں گی” اذن کہتا چلا گیا
“امی دیکھ لیں کیسے بکواس کر رہا ہے ” اسماء تڑخی
“سچ کہہ رہا ہوں میں… مجھے نہیں کرنی زرقا سے شادی, بھلے ہی کسی اور سے کر دیں لیکن زرقا سے نہیں کرنی” وہ اڑ گیا
“اذن… چپ ہو جا” اسماء کی بس ہو گئی
“کیوں ؟؟؟ میری شادی, میری مرضی” وہ بولا
“اذن بھلا اسے کیا سروکار ہے دوسروں کی مرضیوں سے… اس کا تو بس نہیں چلتا کہ ساری دنیا پر اپنی مرضی چلاۓ” اسراء کو وہ انتہائی بری لگ رہی تھی
“ہاں… تجھ پر بھی اپنی مرضی ہی چلائی ہے میں نے” اسماء اس کی طرف مڑی
“امی… ہر بات پر یہ عورت مجھے خالی گود کا طعنہ دے دیتی ہے, بھلا اپنی گود ہری کر لینا میرے اختیار میں ہے… چار سال ہو گئے درید کو باہر گیے, واپس آنے کا تو نام نہیں لیتا” اسراء بھی پھٹ پڑی
“اچھا… تو اکیلی تو نہیں ہے دنیا میں جس کا شوہر باہر گیا ہوا ہے, تیرے جیسی ہزاروں اور ہیں, انہوں نے کیسے بچے پیدا کر لیے ؟؟؟” اسماء بولی
“دیکھ لیں ابو… ہر بات میں یہ ہی کہتی ہے یہ کہ میری مرضی ہی نہیں ہے اولاد پیدا کرنے کی” اسراء چیخ پڑی
“اسماء… وہاں تم دونوں یہ بکواس کرتی رہتی ہو آپس میں ؟؟؟” عمر فاروق کی تو جان تھی اسراء میں
“امی اسے کہیں چپ کر جاۓ… فضول بکواس نہ کرے میرے ساتھ” اسماء نے کہا
“آییندہ اگر اس نے مجھے اولاد کا طعنہ دیا تو میں نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آ جانا ہے… میں بتا رہی ہوں, بہت ہو گیا” اسراء نے اپنے آنسو خشک کیے تھے, آمنہ تو ان دونوں کو یوں لڑتے دیکھ کر ہی حیران تھیں
“جو دل میں آۓ کرو… ” عمر فاروق کی بس ہو گئی تو وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے
“اسراء میرا بی پی چیک کر بیٹا” وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تھے, اسراء بھی ان کے پیچھے ہی چلی گئی
“چل دفع ہو تو بھی یہاں سے… ” اسماء اذن کو کاٹ کھانے کو دوڑی تھی, وہ اسے گھورتا ہوا وہاں سے اٹھ گیا
“امی میری بات سنیں… اس الو کے پٹھے کو ذرا سمجھائیں, زرقا سے شادی کرنے کے کئی فایدے ہیں, میرا اور اسراء کا زور بڑھ جاۓ گا سسرال میں…. آپ دیکھ لینا, اذن اور زرقا کی شادی کے بعد درید کیسے پاکستان نہیں آۓ گا… بھاگا آۓ گا… بہن کی فکر ہو گی تو یہیں سیٹ ہونے کی کوشش کرے گا, کل کلاں کو صمد یا درید میں سے کوئی ہمیں کچھ بھی کہنے سے پہلے سو دفعہ سوچے گا… ” وہ کہتی چلی گئی
“اسماء… ہے تو وٹہ سٹہ ہی نا… بھائی کی اکلوتی بیٹی ہے وہ… زیادتی کیسے کروں گی اس سے ؟؟؟” آمنہ ہچکچا رہی تھیں
“امی زیادتی کیوں کرنی… ؟؟؟ بس ہاتھ اوپر رکھنا ہے… آپ فکر نہ کریں… نہیں ہوتا وٹہ سٹہ… بس آپ اذن کو راضی کریں” اسماء نے کہا
“اور دوسری بات… انیتا کے لئے اب آپ نے کوئی رشتہ نہیں دیکھنا, اس کی شادی میں وہیں کروں گی جہاں یہ چاہتی ہے” اسماء نے سرد سے لحجے میں کہا تھا, آمنہ اور انیتا دم بخود رہ گئیں تھیں
………………….
وہ کھانا کھا کر فارغ ہوا تو روبینہ نے آواز دے لی, فرح, راحم کو سلانے میں لگی ہوئی تھی, وہ اپنا موبایل چارجنگ پر لگا کر ان کے کمرے میں آ گیا
“کیا ہو امی ؟؟؟ وہ ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا
“شافع… فرح ٹھیک ہے اب ؟؟” انہوں نے پوچھا
“ہاں… خیریت ؟؟؟” شافع چونک سا گیا
“شافع… مجھے غلط نہ سمجھیں… لیکن میں ایک ساس اور ایک ماں ہونے سے پہلے ایک عورت ہوں, شاید اسلیے میری فطرت میں شک کچھ زیادہ ہے, شافع… مجھے وہ ٹھیک نہیں لگتی, تیرے گھر سے نکلتے ہی اس لڑکی کے کان سے موبایل جڑ جاتا ہے, بچوں کو ناشتہ کروا کر انہیں میرے پاس بٹھا کر اپنے کمرے میں بند ہو جاتی یے, پوچھ لو تو مووی دیکھ رہی ہوں, شافع یہ… ویڈیو پر بات کرتی ہے, اب خدا جانے کس سے کرتی ہے ؟؟؟ کون ہے اس کے میکے میں جو اتنا ویلا ہے… دونوں بچوں کو میں ہی نہلاتی ہوں, کپڑے بدلواتی ہوں, یہیں اپنے پاس سلا لیتی ہوں… صرف یہ لڑکی دوپہر کا کھانا بناتی ہے بس… روٹیاں کام والی سے کہہ کر تنور پر لگوا لیتی ہے, سارا کام وہ لڑکی کر کے جاتی ہے… ” روبینہ کہتی چلی گئی
“شافع… تیری پابندیاں لگانے کا کیا فایدہ ؟؟؟ موبائل کے ہوتے کوئی پابندی نہیں… تو آتا ہے تو اس کے ہاتھ سے موبائل چھوٹتا ہے” روبینہ نے کہا, شافع سر جھکاۓ بیٹھا تھا
“آج پھر میکے جانے کا کہہ رہی تھی… ” روبینہ نے دھیرے سے کہا تھا
“امی میں کیا کروں ؟؟؟ ” وہ جیسے تھک سا گیا
“میں نے فرح سے محبت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی, اس کے منہ سے نکلی ہر فرمائش پوری کرتا ہوں, ہر آسائش مہیا کی ہے, اے سی لگوا کر دیا, آج گاڑی اپروو کروا کر آیا ہوں, ایک مہینے بعد ہاؤس لون بھی مل جاۓ گا… اور کیا کروں ؟؟؟” شافع نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“وہ تیرے باپ کا ایک تل بھی نہیں بھولی… اس کی وہی خصلت ہے شافع… بابر جیسی… میں نے کبھی وہم و گمان میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میرے بیٹے کا نصیب بھی بالکل میرے جیسا ہی ہو گا… شافع میں دہل جاتی ہوں یہ سوچ کر کہ… تو باقی کی زندگی میری طرح گزارے گا… ” وہ رو پڑی تھیں
“اس انسان کی ڈھیل دیکھ ذرا… خدا نے بیٹی سے نوازا ہی نہیں, اسے اس دکھ سے آشناء ہی نہیں کیا جو اس نے ساری عمر دوسروں کی بیٹیوں کو دیا, اس شخص کے پانچ بیٹوں میں سے کسی کی بھی خصلت اس جیسی نہیں نکلی… اور اگر نکلی تو اس اکلوتی یتیم لڑکی کی نکل آئی… جس کی ماں سے مجھے خیر کے علاوہ کبھی کچھ نہیں ملا…” روبینہ کہتی چلی گئیں
“میں نے تجھے کہا تھا کہ اپنے باپ سے بات کر… شافع وہ تیرے ساتھ نہیں رہ پاۓ گی, اسے کوئی اس جیسا ہی سیدھا کر سکتا ہے” روبینہ نے دھیرے سے کہا تھا
……………………..
“اب کیا کرو گے ؟؟؟” طہٰ نے کل والا سارا واقعہ زرقا کے گوش گزار کر دیا تھا, وہ بھی چپ چاپ سی سر جھکاۓ بیٹھی تھی, محبت کر تو لی تھی لیکن ملن… دور کے ڈھول سہانے ہی لگ رہا تھا
“زرقا… یار ایک پلان سوچا ہے میں نے… اگر کامیاب ہو گیا تو چانس ہے کہ ہم دونوں ایک ہو جائیں ؟؟؟” وہ ذرا توقف کے بعد بولا
“کتنے فیصد چانس ؟؟” زرقا نے پوچھا
“دو فیصد… شاید ” طہٰ نے کہا
“دو فیصد… وہ بھی شاید ” زرقا تڑخ گئی
“یار لوگ تو ایک فیصد سے بھی کم پر جواء کھیل لیتے ہیں” طہٰ نے کہا
“تم سے بس ایک سوال ہے میرا زرقا ؟؟؟” طہٰ آگے کو ہوا
“جہاں کہیں ضرورت پڑی… میرا ساتھ دو گی ؟؟؟” اس نے پوچھا, زرقا کئی لمحوں تک بول نہ سکی
“طہٰ… میں نہ تو تمہارے ساتھ بھاگ کر شادی کروں گی, نہ ہی چھپ کر, نہ ہی ابو کی مرضی کے بغیر… ” زرقا نے کہا
“ان سب کے علاوہ ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“اگر کوئی ایسی صورتحال بن جاۓ کہ تمہارے ابو راضی ہوں… بھائی راضی ہوں, میرے ابو بھی راضی ہوں… تو ؟؟؟؟” طہٰ نے کہا, زرقا کو ہنسی آ گئی
“طہٰ… یہ صرف خواب میں ہی ممکن ہے…” وہ بولی
“اگر حقیقت میں ہو جاۓ تو… ؟؟؟ زرقا چند لمحے اسے دیکھتی رہی, پھر دھیرے سے آگے کو ہوئی
“تو میں تمہارے ساتھ ہوں… ” وہ بولی تھی
…………………..
رات گیارہ بجے کا وقت تھا, وہ شاور لیکر نکلا تھا, عام سے ٹراؤزر پر اس نے صرف بنیان پہن رکھا تھا, بالوں کو جھٹکتے ہوۓ وہ کمرے سے نکلا اور ٹھٹھک گیا
“آپ… ؟؟؟” وہ حیران تھا
“ایک کام تھا تم سے ؟؟؟
“کہیں… ؟؟؟” اس نے دونوں بازو سینے پر باندھ لیے
“دیکھ لو… کام مشکل ہے, ایک بار شروع کر لیا تو پھر پیچھے نہیں ہٹنا…”
“بدلے میں کیا ملے گا ؟؟؟” اس نے پوچھا تھا
“جو تم کہو… پیسہ, گھر, زمین… یا جو تم کہو”
“دیکھ لیں… وعدہ مشکل ہے, ایک بار کر لیا تو پھر پیچھے نہیں ہٹنا ” وہ بولا تھا
“Done… “
“Done… “
وہ دھیمے سے مسکرایا تھا
………………..
وہ اپنے کمرے میں تھی جب باہر اچھا خاصا شور مچ اٹھا… وہ ہڑبڑا کر باہر نکلی تھی, بیرونی دروازہ چوپٹ کھلا تھا اور سامنے ہی پولیس وین نظر آ رہی تھی, دو, تین کانسٹیبل اندر صحن تک آ چکے تھے
“صفوان ملک کون ہے ؟؟؟” وہ شاید ایس ایچ او تھا, صفوان واش روم میں تھا
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” فرزانہ کے ہوش اڑ گئے
” اسے گرفتار کرنا ہے… وارنٹ ہیں ہمارے پاس ” ایس ایچ او نے کہا
“کیوں.. کیا کیا ہے میرے بیٹے نے ؟؟؟” فرحان بھی چھت پر سے اتر آیا تھا
“لڑکی کو اغواء کیا ہے اس نے…تلاشی لو اندر سے” س نے کانسٹیبلز کو کہا تھا, وہ لمحوں میں اندر سے صفوان کو پکڑ لاۓ
“وہ لڑکی اپنے گھر پر ہی ہے, میرے بچے نے اسے اغواء نہیں کیا, چھوڑ دو اسے” فرزانہ چیخ رہی تھی, حنا اور ثناء نے بھی رو رو کر آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا, سارا محلہ ان کے صحن میں جمع تھا, ناشیہ ایک طرف دم بخود سی کھڑی تھی, پولیس والے صفوان کو ہتھکڑیاں لگا کر لے گئے, فرزانہ صحن کے بیچوں بیچ بیٹھی دہائیاں دے رہی تھی
“اوۓ فرحان…اپنے باپ کو کال کر ” وہ روۓ جا رہی تھی
“دیکھ اس لڑکے کے لچھن… ابھی دو مہینے بھی نہیں ہوۓ شادی کو اور یہ پھر اپنے انہی کرتوتوں پر آ گیا… ” کسی عورت نے سرگوشی کی تھی
“میں تو حیران ہو اس جیسے لفنگے کو اتنی خوبصورت لڑکی کس نے دے دی” ایک اور سرگوشی
“فرزانہ کے بھائی کی بیٹی ہے…” عورتیں چہ مگوئیاں کیے جا رہی تھیں, تبھی نفیس بھی آ گیا, وہ اور فرحان اسی وقت تھانے چلے گیے تھے
……………………….
جاری ہے