121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

چوتھی قسط
وہ کلاس لیکر سیدھی وزیٹنگ روم کی طرف آ گئی, غاشیہ پہلے سے اس کا انتظار کر رہی تھی, اسے آتا دیکھا تو اٹھ کر کھڑی ہو گئی
“کیسی ہو… ؟؟؟” وہ اس سے گلے ملتے ہوئے بولی
“تمہارے سامنے ہوں… کیسی لگ رہی ہوں ؟؟؟” ناشیہ پھیکا سا مسکرائی
“ناشیہ… ” غاشیہ نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف موڑا
“جیتے جی خود کشی کون کرتا ہے یار… ؟؟؟” وہ بولی
“میں… ” ناشیہ نے کہا
“رافع کیا کہتا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“میری ابھی تک اس سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی ” ناشیہ نے کہا
“ناشیہ… یار زندگی کسی اور کی نہیں ہے…. صرف اور صرف تیری ہے… اسے گزارنے کا پورا حق بھی تیرا ہی ہے اور اس کا مواخذہ بھی تجھ سے ہی ہو گا… نہ ابو سے, نہ شازیہ باجی سے… نہ فرزانہ پھپھو سے” وہ کہتی چلی گئی
“تو پھر کیا کروں ؟؟؟” ناشیہ کرسی پر گرتے ہوئے بولی
“وہی جو میں نے کیا… ” ناشیہ نے نفی میں سر ہلایا تھا
“کیوں… ؟” غاشیہ تڑخ اٹھی
“کیونکہ اگر میں نے بھی تیرے والا قدم اٹھا لیا تو ساری دنیا کہے گی کہ تیمور ملک کا خون ہی ایسا ہے… باغی… ضدی… بے حیا… کیونکہ پھر ملک ہاؤس پر ٹھپہ لگ جاۓ گا کہ ان کی ہر بیٹی ہی ایسی ہے… کیونکہ ایک بار پھر میرے باپ کا سر اپنی بہن کے سامنے نیچا پڑ جاۓ گا, کیونکہ لوگ ایک بار پھر قبر میں لیٹی میری ماں کو کوسنے لگیں گے کہ میرے جیسی بیٹی پیدا کرنے سے پہلے مر کیوں نہیں گئی, کیونکہ اس کے بعد میں ساری عمر اپنے باپ کا چہرہ نہیں دیکھ پاؤں گی… ساری عمر میرا سر ان کے ہاتھ سے محروم ہی رہے گا, ساری عمر کے لئے اس گھر کے دروازے میرے اوپر بند ہو جائیں گے…” ناشیہ کہتی چلی گئی
“تو بزدل ہے… ” غاشیہ نے کہا
“ہاں… کیونکہ میں دوسری بیٹی ہوں… کیونکہ میری بہن نے گھر سے بھاگ کر پسند کی شادی کر لی تھی” ناشیہ کے کہتے ہی وہ بول نہ سکی
“تو کیا میں نے غلط کیا ؟؟؟” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی
“پتہ نہیں… لیکن جو تم نے کیا… وہ میں نہیں کر سکتی” ناشیہ نے نفی میں سر ہلایا تھا
“ناشیہ… ” وہ اس کے قریب آئی
“میں آخری دم تک لڑی تھی یار… بار بار کہا تھا ابو سے کہ نہیں کرنی مجھے صفوان سے شادی… نہیں اچھا لگتا وہ مجھے لیکن… ” اس کی آواز لڑکھڑا سی گئی
“انہیں بہن زیادہ عزیز تھی… حدید سے شادی تو بعد کی بات تھی نا… کیا تھا اگر ابو کہہ دیتے کہ ٹھیک ہے… اگر تم راضی نہیں ہو تو نہ کرو صفوان سے شادی… ؟؟؟” وہ بولی
“وہ کہہ دیتے تو تم رک جاتیں ؟؟؟ وہ کہہ دیتے تو کیا حدید کو بھول جاتیں ؟؟؟ خدا کی قسم کھا کر کہو کہ تم اس رات صرف اسلیے گھر سے نکلیں کیونکہ تمہیں صفوان سے شادی نہیں کرنی تھی… خدا کی قسم کھا کر کہو کہ تم اسلیے نہیں نکلی تھیں کہ تمہیں حدید سے شادی کرنی تھی” ناشیہ کہتی چلی گئی, وہ خاموش تھی… بالکل خاموش
“ہمیں صفوان برا کیوں لگتا ہے غاشی… ؟؟؟ اسلیے نہیں لگتا کہ وہ برا ہے… بلکہ اسلیے لگتا ہے کیونکہ..کوئی اور اچھا لگتا ہے” ناشیہ نے کہا
“میں بھی لڑوں گی… آخری دم تک… صرف اسلیے کہ مجھے صفوان سے شادی نہیں کرنی… لیکن میں رافع کے لیے اس گھر کی دہلیز پار نہیں کروں گی کیونکہ… یہ ٹھیک نہیں ہے… میں ٹھیک ہوں… رافع ٹھیک ہے… لیکن گھر سے نکل کر یوں ایک ہو جانا ٹھیک نہیں ہے” وہ آنسوؤں کی قطاروں کے بیچ کہتی جا رہی تھی
……………………..
شام کے چھ بج رہے تھے جب وہ اوپر آیا, سورج دھیرے دھیرے اپنی تمازت کھوتا جا رہا تھا, زرقا ریلنگ کے پاس اپنے نوٹس بکھراۓ بیٹھی تھی, وہ دھیرے ے اس کے عین سامنے آ بیٹھا
“پیپرز ؟؟؟” اذن نے پوچھا, زرقا نے اثبات میں سر ہلا دیا, اذن نے بغور اسے دیکھا, سنہری مائل گندمی سی رنگت کی حامل وہ اچھے خاصے خوبصورت نین نقش کی مالک تھی, زرقا اس کے یوں دیکھنے پر نروس سی ہو گئی
“ایسے کیوں گھور رہے ہو ؟؟؟” وہ اس کے کہتے ہی گڑبڑا گیا
“ایک بات پوچھوں… برا نا منانا ؟؟؟”
“مجھے پتہ ہے تم نے کیا پوچھنا ہے ؟؟؟” زرقا دھیرے سے مسکرائی تھی, اذن اسے دیکھتا رہ گیا
“میں اور طہٰ… کلاس فیلوز ہیں… اور… ایک دوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں” وہ ذرا ہچکچاتے ہوۓ بولی تھی, اذن بے اختیار ہی مسکرا اٹھا
“ہاں میں بھی کہوں وہ اس دن بڑے رومینٹک موڈ میں تمہیں گڈ مارننگ کہنے آیا تھا” وہ کھل کے ہنسا, زرقا جھینپ سی گئی
“صرف پسندیدگی ہے یا… ؟؟؟” اذن نے بات ادھوری چھوڑ دی, زرقا کے چہرے پر پھیلتے شفق کے رنگ اسے ساری کہانی سنا گئے تھے, وہ دھیما دھیما سا مسکرا دیا
“ایک بات کہوں ؟؟؟” ذرا توقف کے بعد بولا, زرقا سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی
“میرے خیال سے تمہیں محبت کرنے سے پہلے ایک سبق ضرور دہرا لینا چاہیے تھا… ” وہ بولا, زرقا سمجھ نہ سکی
“مطلب… ؟؟؟”
“مطلب یہ کہ وہ غاشیہ کا بھائی ہے… مطلب یہ کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے… اور مطلب یہ کہ وہ کم از کم اس دنیا میں تو تمہارا نہیں ہو سکے گا” اذن کہتا چلا گیا, زرقا کے چہرے کے یکلخت پھیکے پر گئے
“یہ مت سمجھنا کہ میں تمہیں کوئی بددعا دے رہا ہوں لیکن… تم یقیناً غاشیہ جیسی زندگی تو نہیں جینا چاہو گی” وہ دھیرے سے کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا, زرقا بس سر جھکاۓ بیٹھی رہ گئی
وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا… حرف بہ حرف سچ
………………………….
“میں نے سنا تمہاری شادی طے ہو گئی ہے” وہ آج پھر رافع سے کنی کترا کر نکلنے لگی تھی جب وہ روش پر اس کے پیچھے ہی چلا آیا, ناشیہ رکی نہیں, چادر کو کندھوں کے گرد لپیٹتے ہوۓ چلتی چلی گئی
“شادی طے ہو جاۓ تو پرانی محبت کو یوں بے رخی دے پاؤں تلے رول دیتے ہیں کیا ؟؟؟” رافع نے زور سے کہا تھا, ناشیہ کے قدم سست پڑ گئے
“چار دنوں سے میں تم سے بات کرنے کو ترس گیا ہوں ” اسقدر ہارا ہو لحجہ…
“تم اب ساری زندگی مجھ سے بات کرنے کو ترسو گے رافع… آخر اس سچ کو تسلیم کیوں نہیں کر لیتے ؟؟؟” وہ دھیرے سے پلٹی
عصر کا وقت تھا, غروب ہوتے سورج کی کرنیں سرخی مائل ہوتی جا رہی تھیں, وہ دونوں اس وقت کوچنگ سینٹر کی روش پر کھڑے تھے, روش کے دونوں اطراف میں لگے سفیدے کے درختوں سے ذرا ذرا سی روشنی چھن کر آ رہی تھی, رافع کو وہ اس لمحے ان کرنوں کا ایک حصہ ہی لگی… سنہری مائل… وہ ہلکے سے رنگ کا دوپٹہ لئے ہوۓ تھی, آنکھیں ہمیشہ کی طرح انتہائی اداس… چہرہ ہمیشہ کی طرح انتہائی سوگوار… رافع کا دل چاہا وہ اس کے سنہری چہرے سے لپٹی اس سوگواریت کو ہمیشہ کے لئے اتار پھینکے لیکن… وہ سوگواریت بھلا کس کی دین تھی ؟؟؟
“ناشیہ… ” وہ دو قدم اس کی طرف آیا
“خدا کی قسم میں بہت خوش رکھوں گا تمہیں, تم میری پہلی اور آخری محبت ہو… میرے گھر کے دروازے آج بھی تم پر کھلے ہیں… اور ہمیشہ کھلے رہیں گے” وہ کہتا چلا گیا
“تم ایک بار ہمت تو کرو… پلیز… میں کیسے جیوں گا تمہارے بنا… ؟؟؟ ناشیہ یار تم میری دو سال پرانی عادت ہو… کیسے چھوڑ دوں گا تمہیں ؟؟؟” ناشیہ کو لگا جیسے وہ ابھی رو دے گا
“رافع… میں بہت کم ہمت ہوں, تمہاری تمام تر محبت اور خلوص کے باوجود میں… گھر والوں کے خلاف تم سے شادی نہیں کر سکتی… رافع جب دنیا کہے گی کہ تیمور ملک… تمہاری تو دونوں بیٹیاں ہی ناہنجار نکلیں… تو میرا باپ کیسے سنے گا ؟؟؟” اس کی آنکھیں بھر آئیں
“ابھی سے چھوڑنے کی کوشش کرو گے تو دھیرے دھیرے چھوٹ ہی جاۓ گی… عادت بھی… محبت بھی” وہ کہہ کر پلٹ گئی تھی
……………………..
فرح کو آۓ چار دن ہو چکے تھے, نا تو شافع نے اس سے کوئی باز پرس کی تھی اور نا ہی اس نے روبینہ کو کچھ کہنے دیا تھا, لیکن اتنا ضرور ہو گیا تھا کہ وہ جاتے ہوئے باہر سے گیٹ لاک کر کے جاتا تھا جسے واپسی پر یا تو رافع آ کر کھولتا تھا.. یا پھر وہ خود
شافع جانتا تھا کہ روبینہ کی موجودگی فرح کے لئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھی… وہ ایویں بہانہ بنا کر انہیں ادھر ادھر کر دیتی تھی
اس دن بھی بینک سے آیا تو فرح موبائل لیکر چھت پر چڑھی ہوئی تھی, وہ انتظار ہی کرتا رہ گیا کہ وہ نیچے آ کر اس کے لئے کھانا گرم کر دے گی لیکن بے سود… روبینہ دوا کھا کر لیٹی تھیں, ناچار اس نے خود ہی کھانا گرم کیا اور ٹرے اٹھا کر کمرے میں ہی لے آیا
“پاپا میں نے بھی کھانا ہے… ” رحمہ بھی کھلونے چھوڑ کر اس کی طرف آ گئی
“میری بیٹی نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا… ” شافع نے سے بستر پر چڑھا لیا
“نہیں… بس فیڈر پیا تھا” وہ بولی
“اور بھائی نے… ؟؟؟” شافع کو اس پر ٹوٹ کے ترس آیا
“بھائی نے بھی بس تھوڑا سا فیڈر پیا تھا” وہ اس کے ہاتھوں سے لقمہ منہ میں رکھواتے ہوۓ بولی, شافع نے کھینچ کر راحم کو اپنے قریب کیا اور دھیرے دھیرے روٹی کے ٹکڑے اس کے منہ میں بھی ڈالنے لگا
کافی دیر بعد فرح ہنستی ہوئی نیچے اتری تھی
“فرح بچوں کو تو کھانا کھلا دیا کرو… ” وہ بولا
“میں نے پوچھا تھا رحمہ سے… اس نے کہا میں نے نہیں کھانا ” وہ لاپرواہی سے بولی
“اور تم نے بعد میں پوچھا ہی نہیں… وہ دونوں بیچارے ٹوٹ کے دوڑے ہیں کھانے پر… کیا کر رہی تھیں اوپر ؟؟؟” شافع کو ذرا سا غصہ آ گیا
“راشدہ کی کال سننے گئی تھی ” وہ اپنی کزن کا نام لیتے ہوئے بولی
“یہ برتن اٹھا لو اور مجھے چاۓ بنا دو” شافع نے کہا
“شافع… میں کل امی کی طرف ہو آؤں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کیوں ؟؟؟ابھی چار دن پہلے تو ہو کر آئی ہو ؟؟؟” وہ حیرانی سے بولا
“راشدہ سے ملنے جانا ہے… وہ اصرار کر رہی یے” فرح برتن اٹھاتے ہوئے بولی, شافع چپ کر گیا
رات کو وہ اس کی طرف کروٹ لیکر مڑا تو پھر وہی رٹ…
“چلی جاؤں کل ؟؟؟”
“فرح… یار امی پیچھے اکیلے ہوتی ہیں, پھر تم بچے بھی یہیں چھوڑ جاتی ہو… راحم بہت چھوٹا ہے ابھی… ” شافع کو اس لمحے شدت سے اس کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی
“راحم کو لے جاؤں گی ” وہ جلدی سے بولی
“فرح… ” شافع نے کچھ کہنا چاہا لیکن وہ جلدی سے پیچھے کو ہٹ گئی
“اگر ہاں… تو ٹھیک ہے…اگر ناں… تو واپس کروٹ لے لو” وہ صاف ہری جھنڈی دکھا گئی
“اچھا… چلی جانا, لیکن شام کو واپس آ جانا” شافع کے لئے اس لمحے دوبارہ کروٹ بدلنا نا ممکن تھا, فرح نے مسکراتے ہوئے اس کے بازو پر سر رکھ دیا تھا, شافع بس اسے خود میں سمیٹتا دونوں آنکھیں بند کر گیا
…………………………
“درید… کچھ دنوں کے لئے چکر لگا لیں… ” نہ جانے کیسے آج درید کو وہ یاد آ گئی تھی, سیل کان کو لگاۓ وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس جا بیٹھی اور شیشہ کھول دیا, بڑی کھلی کھلی سی رات تھی… پورا چاند اور لا تعداد ستارے…
“اسراء یار کام ہی بہت ہے… ” اس کا وہی رونا
“دو سال ہو گئے ہیں آپ کو گئے ہوۓ… میرا کیا قصور ہے درید ؟؟؟” اس کی آنکھیں بھر آئیں
“اسراء میں کون یہاں شوق سے ذلیل ہو رہا ہوں… سب کچھ تمہارے لئے ہی تو کر رہا ہوں ” وہ بولا
“میرے لئے کچھ نہ کریں آپ… بس اتنا کریں کے چند دنوں کے لئے واپس آ جائیں ” وہ بولی
“اچھا میں کوشش کروں گا” درید نے حسب معمول اسے ٹالنا چاہا
“دو سال ہو گئے ہیں آپ کو یہ کوششیں کرتے… ” وہ کہہ ہی گئی
“تو کیا کروں پھر… ؟؟؟” اسے غصہ آ گیا
“مجھے اپنے پاس بلا لیں… ” اسراء نے کہا
“یہ ناممکن ہے… ” وہ بولا
“کیوں ؟؟؟”
“میرے پاس ابھی اتنے پیسے نہیں… ” اسراء نے اس کی بات کاٹ دی
“میں اپنا ویزہ اور ٹکٹ خود ارینج کر لیتی ہوں” وہ بولی
“اور یہاں کہاں رکھوں گا تمہیں ؟؟؟” وہ بولا
“جہاں خود رہتے ہیں.. “
“میں تو چار دوستوں کے ساتھ رہتا ہوں… تم کیسے رہو گی ان سب کے بیچ… ؟؟؟” درید کے پاس ہر حل کے بعد ایک مسئلہ تھا
“درید… ” اسراء جیسے ہار سی گئی
“صرف پندرہ دن کے لئے آۓ تھے آپ… وہ بھی دو سال بعد… اور اب پھر دو سال ہو چکے ہیں, میں بیوی ہوں آپ کی درید… کیا میں ساری زندگی بس ان فون کالز پرہی گزارہ کروں گی… ؟؟؟؟” وہ جیسے پھٹ پڑی
“اسراء تمہاری یہ فضول کی ضد زہر لگتی ہے مجھے… ” درید تلملا کر رہ گیا, اسراء کے آنسو نکل آۓ
“اچھا میں بعد میں کال کرتا ہوں… ” درید کو اپنی جان چھڑوانا دوبھر لگ رہا تھا
” ابھی پانچ منٹ بھی نہیں ہوۓ آپ کو کال کیے ” اسراء کی آواز بھیگی پڑی تھی
“پانچ منٹ ہی بہت ہیں تمہیں سننے کے لئے “وہ سخت لہجے میں کہتا کال کاٹ گیا, اسراء سیل ہاتھ میں لئے پھوٹ پھوٹ کر رو دی
چھ سال پہلے اس کی اور اسماء کی منگنی ایک ساتھ ہوئی تھی, منگنی کے بعد درید دبئی چلا گیا تھا, اسنے وہاں کسی کے ساتھ کام شروع کیا تھا, ایک سال بعد آمنہ نے راۓ عبید پر دونوں کی رخصتی کے لئے زور ڈالنا شروع کر دیا, انہوں نے درید سے واپس آنے کا کہا تو اس نے صاف کہہ دیا کہ وہ ابھی نہیں آ سکتا… عبید راۓ نے آمنہ کو ٹال دیا, سال مزید گزر گیا, وہ پھر بھائی کے در پر آئیں کہ اسماء کی عمر نکلی جا رہی ہے درید کو واپس بلائیں, اسے کہیں کہ شادی کر کے واپس چلا جاۓ لیکن وہ نہیں آیا, عبید راۓ نے اسماء کی رخصتی کروا لی… اسراء بیچاری وہیں کی وہیں رہ گئی, اس کی منگنی کو چار سال گزر گئے لیکن درید واپس نہ آیا… ہر بار ٹال مٹول… یہ بھی نہیں کہتا تھا کہ اسراء سے شادی نہیں کرنی… اور واپس آنے کی حامی بھی نہیں بھرتا تھا, آخر آمنہ نے اسراء کی منگنی توڑنے کی دھمکی دی تو وہ واپس آیا… صرف دو ہفتوں کے لئے اور شادی کے بعد پھر واپس چلا گیا… دو سال بعد پندرہ دن کے لئے آیا اور پھر واپس… تب کا گیا ابھی تک نہیں آیا تھا
“تمہاری آواز بہت میٹھی ہے اسراء… بہت شیریں…تم بات کرتی ہو تو میرا دل کرتا ہے تم کبھی خاموش نہ ہو… بہت خوش قسمت ہے وہ جسے تم مل رہی ہو… ساری ساری رات تمہاری یہ جھرنوں جیسی آواز سنا کرے گا” اسے اپنی سسکیوں کے بیچ ایک آواز سنائی دی تھی… انتہائی نرم… شفیق… مہربان
سیل ایک طرف پھینکتے ہوئے اس نے کھڑکی بند کر دی
“تمہیں کیا خبر کہ میری ساری ساری رات کیسے گزرتی ہے ” وہ روتے ہوئے اپنے بستر پر گری تھی
…………………….
“چاۓ… ” حدید کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے وہ خود اپنی طرف آ گئی, بالوں کو فولڈ کر کے کیچر لگایا اور دوپٹہ صوفے پر ڈال کر خود واش روم میں گھس گئی, حدید پوری طرح ایل سی ڈی پر چلتی ” لڈو” میں مگن تھا, غاشیہ واش روم سے نکل کر اس کے بالکل برابر میں آ بیٹھی, حدید نے موقع غنیمت جانا اور اپنا سر اس کی گود میں رکھ کر لیٹ گیا
“حدید… ” غاشیہ نے چاۓ کا گھونٹ بھرتے ہوئے اسے پکارا
“ہوں… “
“ناشیہ کی ڈیٹ فکس ہو گئی ہے ” وہ دھیرے سے بولی
“اچھا… ناشیہ کی دفعہ کیسے مان گئے انکل ؟؟؟” وہ حیرانی سے بولا
“بھلا کس سے ہوئی ہے ؟؟؟” غاشیہ نے اسے دیکھا
“صفوان سے… پچیس تاریخ” غاشیہ مدھم سے لحجے میں بولی تھی, حدید دم بخود سا رہ گیا
“اور رافع… ؟؟؟” وہ کچھ دیر بعد بولا
“خدا جانے… ماتم کر رہا ہو گا کسی کونے میں پڑا” وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی
“حدید… ” غاشیہ نے دھیرے سے اپنی انگلیاں اس کے بالوں میں چلائی تھیں
“وہ میری جگہ بھینٹ چڑھ جاۓ گی… ” یکدم ہی اس کی آنکھیں بھر آئیں, حدید بول نہ سکا
“حدید… وہ کہتی کہ وہ گھر چھوڑ کر رافع سے شادی نہیں کرے گی… یہ غلط ہے… تو کیا میں نے غلط کیا حدید… ؟؟؟” غاشیہ کے آنسو اس کے چہرے پر گرے تھے, وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
“غاشیہ… ” اس نے بہت محبت سے اسے اپنے کندھے سے لگا لیا
“ہر شخص کے لیے صحیح اور غلط کا معیار ایک جیسا نہیں ہوتا…ضروری نہیں ہے کہ جسے وہ غلط کہہ رہی ہے… وہ تمہارے لئے بھی غلط تھا, کیا ہوتا اگر تم مجھ سے نکاح نہیں کرتی ؟؟؟ تمہاری بھینٹ چڑھے آج ایک سال ہو چکا ہوتا” حدید اس کے آنسو خشک کرتے ہوئے کہتا چلا گیا
“غاشی میں مانتا ہوں کہ اولاد کے لئے ماں باپ کا چنا ہمیشہ غلط نہیں ہوتا… لیکن اولاد کے لئے اپنا خود کا چنا بھی ہمیشہ غلط نہیں ہوتا… وہ پڑھی لکھی ہے.. عاقل ہے, اپنا اچھا برا خود سوچ سکتی ہے… اگر اس نے صفوان سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو وہ اس کی مرضی… وہ فیصلہ قطعا تمہاری وجہ سے نہیں ہے” وہ کہتا چلا گیا
“لیکن حدید… ” غاشیہ بولتے بولتے یکدم رکی تھی, پھر ایک دم منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے واش روم کی طرف دوڑی…اسے قے آئی تھی
“غاشی… کیا ہو گیا ؟؟؟” حدید اس کا پسینے سے تر بتر وجود دونوں کندھوں سے تھام کر باہر لایا
“حدید… میں کل اپائنمنٹ لے لوں گی… میرے ساتھ چلنا پلیز… اس ہفتے یہ چوتھی الٹی آ گئی ہے” غاشیہ لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے بولی
“چوتھی… مجھے تو آج بتا رہی ہو” حدید چونک گیا
میں… خود کنفرم نہیں تھی” وہ اس سے نظریں چراتے ہوئے بولی
“غاشی… ” حدید ایک دم اس کے پاس نیچے کارپٹ پر بیٹھا اور اس کے دونوں ہاتھ تھام کر ذو معنی سے انداز سے اس کی طرف دیکھنے لگا, غاشیہ کی دھیمی سی مسکراہٹ اس کے سارے خدشات کی تصدیق کر گئی تھی, اس نے بہت محبت سے غاشیہ کے ماتھے پر اپنے ہونٹ ثبت کئے تھے
“جب جانا ہو مجھے کال کر دینا… ” وہ اس کے گالوں کو تھپتھپاتے ہوۓ بولا تھا
……………………..
جاری ہے