121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

چونتیسویں قسط
وہ کمرے میں آیا تو شازیہ کروٹ لیے لیٹی تھی, وہ چپ چاپ واش روم میں گھس گیا, باہر نکلا تو اس نے لائیٹ بھی آف کر دی تھی, وہ بس سر جھٹکتا ہوا بستر کی طرف آ گیا
“خالد… ” کچھ دیر بعد اسے شازیہ کی مدھم سی آواز سنائی دی
“ہاں… ” وہ بولا, شازیہ نے کروٹ بدلی تھی, خالد اسے ہی دیکھ رہا تھا
“خالد ایم سوری… ” وہ یکدم ہی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی
“شازیہ…. ” خالد ہکا بکا رہ گیا
“میں نے ہمیشہ اپنی محرومیوں کا بدلہ تم سے لیا ہے… ہمیشہ ہر الزام تمہارے سر دھرا ہے, پلیز مجھے معاف کر دو” وہ روۓ جا رہی تھی
“شازیہ یار بس کرو” خالد نے اس کا وجود اپنی آغوش میں لیا تھا اور لیتے ہی ٹھٹھک گیا
وہ مانند آگ ہو رہی تھی
“تمہیں بخار ہے ؟؟” وہ پریشانی سے بولا
“میں نے بس… اس سے محبت کی تھی, اور میں مانتی ہوں کہ… میں نے غلطی کی تھی, وہ اس رات مجھے گھر چھوڑنے ہی آ رہا تھا جب…. ” اس سے آگے بس سسکیاں تھیں
“میں مانتی ہوں میں نے محبت میں چوٹ کھائی… اور بدلہ باقی سب سے لیا, میں نے ہمیشہ یہ ہی سمجھا کہ اگر میری محبت با وفا نہیں نکلی… تو دنیا کی کوئی محبت بھی باوفا نہیں ہوتی… غاشیہ کا ساتھ نہیں دیا, ناشیی کا ساتھ نہیں دیا… تمہارا ساتھ نہیں دیا خالد… ” وہ بولی
“اٹس اوکے شازیہ…. بس کرو, کوئی بات نہیں” وہ اسے خود سے جوڑتے ہوئے بولا تھا, شازیہ ر پل بکھرتی جا رہی تھی
“مجھے معاف کر دو… میں نے ہمیشہ تم پر حاوی ہونے کی کوشش کی ہے… میں نے ہمیشہ تمہیں اپنے مقدر کا لکھا سمجھ کر تسلیم کیا… کبھی تمہیں اپنے دل سے تسلیم نہیں کیا… ” وہ بولی
“تم میری بیوی ہو شازیہ….تم میرا آج ہو, اور مجھے تمہارے کل سے کوئی سروکار نہیں ہے” وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا تھا
“میں ایسی نہیں تھی خالد… مجھے اس بے وفا کی بے وفائی نے اتنا کٹھور بنا دیا, میرا محبت پر سے یقین ہی اٹھ گیا, مجھے کسی ہر اعتبار ہی نہ رہا… مجھے محبت سے نفرت ہونے لگی… ” وہ کہتی جا رہی تھی, خالد نے اسے بولنے دیا, وہ پنا کتھارسس کر رہی تھی, بس اسے خود میں چھپاۓ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا چلا گیا
“تمہارا مجھ پر احسان ہے خالد… تم نے خود سے چھ سال بڑی لڑکی سے چپ چاپ شادی کر لی.. یہ تمہارا احسان ہے”
“نہیں شازیہ… میں نے اسے کبھی احسان نہیں سمجھا, میں نے تم سے اپنی مرضی سے شادی کی ہے” وہ بولا
“مجھے… معاف کر دینا… پلیز ” وہ دونوں بازو مضبوطی سے خالد کے گرد باندھ گئی تھی
……………………………
اذن آج اسے آفس جاتے ہوئے راۓ عبید کے گھر چھوڑ گیا تھا, اسماء بس اس سے رسمی سا ہی ملی, اسے تو درید کی دوسری شادی کے بعد سے بشمول راۓ عبید سبھی برے لگنے لگے تھے, وہ کچھ دیر راۓ عبید کے پاس بیٹھی رہی…. پھر اوپر آ گئی, غاشیہ, حدید کے کپڑے استری کر کر رہی تھی
“کیسی ہیں بھابھی ؟؟؟” زرقا کے کہتے ہی وہ مڑی
“زرقا… ” وہ اسے دیکھ کر بیساختہ ہی خوش ہوئی تھی
“پہلے تم تھوڑی دبلی تھیں جو اب مزید تنکا ہوتی جا رہی ہو” وہ اس سے گلے ملتے ہوئے بولی
“آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟” زرقا نے پوچھا
“ہاں… ابھی تک تو” وہ پھیکا سا مسکرا دی
“چاۓ پیو گی ؟؟؟” غاشیہ نے پوچھا, زرقا نے نفی میں سر ہلا دیا
“بس یہ ایک شرٹ رہ گئی ہے حدید کی…. پھر میں سییلیڈ کھلاتی ہوں تمہیں ” غاشیہ نے کہا, زرقا کرسی کھینچ کر اس کے پاس ہی بیٹھ گئی
“حدید بھائی ٹھیک ہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… “
“گھر مکمل ہو گیا آپ کا ؟؟؟؟”
“بس وائیٹ واش ہو رہا ہے… حدید کہ رہا تھا کہ اگلے ہفتے شفٹ کر جائیں گے” وہ بولی
“بھابھی…. ؟؟؟” زرقا نے کچھ وقفے بعد اسے پکارا
“طہٰ ٹھیک ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا , غاشیہ چپ سی ہو گئی, اسے کہاں آتا تھا جھوٹ بولنا… ؟؟؟ زرقا کے پوچھتے ہی اس کی آنکھوں کے گوشے نم ہو گئے
“کیا ہوا بھابھی ؟؟؟” وہ بولی
“زرقا.. اس نے پرسوں… خود کشی کرنے کی کوشش کی ہے” غاشیہ نے اس کے سر پر بم پھوڑا, زرقا ہکا بکا رہ گئی تھی
“خود کشی…” وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکی
“ابھی ہسپتال میں ہی ہے… بچ گیا ہے” وہ انسو صاف کرتے ہوئے بولی تھی, زرقا بس ساکت سی بیٹھی رہ گئی
“زرقا… وہ تمہیں بھول نہیں پا رہا… وہ کسی کی بات نہیں مانے گا… سواۓ تمہارے” غاشیہ نے کہا
“وہ اس بار میری بات بھی نہیں مان رہا… میں نے کہا تھا اسے کہ… اب بس کر دے” زرقا کے آنسو گرنے لگے
“جیسے تم اپنے بھائیوں کی جان ہو نا… ویسے ہی وہ بھی اپنی بہنوں کی جان ہے… اسے سمجھاؤ زرقا…. صرف تمہاری بات سمجھے گا وہ” غاشیہ کہتی چلی گئی تھی
…………………………
“ایک کام کہا تھا تمہیں… وہ بھی ڈھنگ سے نہیں ہوا” آواز میں غصہ ہی غصہ تھا
“اب کیا ہو گیا ؟؟” وہ بولا
“میں نے تمہیں کہا تھا کہ بس اب چوٹ مار دو… “
“کوئی موقع لگے گا تو چوٹ ماروں گا” وہ بھی تڑخ گیا
“جو بھی کرنا ہے جلدی کرو… جلدی”
“اچھا.. صبر…دھیرج ” وہ بولا تھا
“صرف ایک ہفتہ… بس” کال کٹ گئی تھی
……………………….
“آمنہ.. ایک بار پھر سوچ لے, اسراء میری بچیوں کی طرح ہے, میں نے جو کیا صرف یہ سوچ کر کیا کہ تو مجھ سے ناراض نہ ہو… درید کی شادی کا بھی اسی لئے نہیں بتایا کہ… حدید پہلے ہی چاند چڑھا چکا تھا, تو پہلے ہی زخم کھا کر بیٹھی تھی, اوپر سے اسراء کا دکھ سامنے آتا تو کیا ہوتا… ؟؟؟ ” راۓ عبید اسماء کے انکار کے باوجود آج پھر آۓ تھے, درید بھی ان کے ساتھ تھا, اسراء واپس آ گئی تھی
“میں نے بہت روکا تھا اس خبیث کو کہ اس جعفر کے ساتھ باہر مت جا… لیکن یہ اپنی ضد پر اڑ گیا, اس نے تو باہر لے جاتے ہی اس کی شادی کروا دی اور یہ الو کا پٹھا بھی اس کے جھانسے میں آ گیا… بہت بار کہا تھا اس نے مجھے کہ پھپھو کو سب کچھ سچ سچ بتا دیں لیکن… آمنہ تو چھوٹ جاتی مجھ سے… میں کیسے نظریں ملاتا تجھ سے.. ؟؟؟” وہ کہتے چلے گئے
“میں اب بھی تیری منت کرتا ہوں…وہ اسراء اور اسماء کا گھر ہے, حدید اگلے ہفتے شفٹ ہو جاۓ گا اپنے گھر… پھر دونوں بہنیں اپنا اپنا پورشن لے لیں, درید نے وعدہ کیا ہے کہ یہ ہر چھ ماہ بعد چکر لگایا کرے گا, روز اسراء سے فون پر بات کرے گا… ” وہ اپنے تئیں سب ٹھیک کر رہے تھے
“اور عبید بھائی سوتن… ؟؟؟؟ اس کا کیا ؟؟؟” آمنہ نے کہا
“سوتن تو ملک سے باہر ہے نا… کونسا اس کے ساتھ ہے” وہ بولے
“ویسے عبید… جب اسماء نے تجھے فیصلہ سنا دیا تھا تو تجھے یہاں نہیں آنا چاہئے تھا, چھ ماہ وہ باہر رہے گا, اپنے بیوی بچوں کے ساتھ… اور چھ ماہ بعد محض دس, بارہ دنوں کے لئے واپس آیا کرے گا… مجھے بتا میری بچی کو کتنے نفلوں کا ثواب ملے گا اس کی بیوی کہلا کر ؟؟؟ ساری عمر بس اس کی راہیں ہی دیکھا کرے گی وہ…” عمر فاروق نے ان کی بات کاٹ دی
“اسراء کو آزاد کر دے درید… اور چلا جا واپس…جا کر اپنے بیوی بچوں کو سنبھال… میں اپنی بچی کو خود سنبھال لوں گا” عمر فاروق نے کہا تھا
“لیکن عمر… ” آمنہ نے کچھ کہنا چاہا
“کیا ؟؟؟ آمنہ ابھی بھی لیکن کی کوئی گنجائش ہے ؟؟؟” عمر فاروق کی آواز اونچی ہو گئی, آمنہ خاموش ہو گئیں
“وہ بچی میرے اوپر بوجھ نہیں ہے عبید… میں نے اسے ایم فل کروایا ہے, میں نہیں بھی ہوں گا تو وہ اپنی زندگی میں کچھ نا کچھ ضرور کر لے گی… کچھ بہت اچھا… اسے تا عمر کسی درید راۓ کا نام اپنے ساتھ لگاۓ رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے, خدا نے میری بچی کے نصیب میں بہت بہتر لکھا ہو گا جو اسے ضرور ملے گا… خدا کے لئے اس پر ترس کھانا بند کرو اور اسے بخش دو” عمر فاروق نے کہا
“میں بہت شرمندہ ہوں عمر…یہ درید معافی مانگنے آیا ہے تم لوگوں سے… ” وہ بولے
“میں کسی کو معاف نہیں کروں گا عبید… ہاں جس دن میری بچی کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھرنے لگیں, اس دن اسے خود بخود معافی مل جاۓ گی” وہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے
………………………..
وہ اپنے کمرے میں تھے جب شازیہ ان کے لئے دودھ کا گلاس لیکر آئی, وہ جانتی تھی کہ بھلے ہی وہ خود کو نارمل رکھنے کی کتنی ہی کوشش کریں… پر وہ نارمل نہیں رہ پا رہے تھے, ان کا بلڈ پریشر اوپر کو ہی جا رہا تھا, اعصاب سارے کھنچے پڑے تھے, نا اس کروٹ چین تھا نا اس کروٹ… پورا پورا دن بس دودھ کے ایک گلاس پر گزارا کر رہے تھے وہ
اب بھی شازیہ نے انہیں تیسری بار پکارا تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آۓ
“ابو یہ پی لیں… ” وہ ان کی دوا نکالتے ہوئے بولی
“طہٰ کب ڈسچارج ہو گا ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“کل آ جاۓ گا گھر… ابو آپ پریشان نہ ہوں وہ بالکل ٹھیک ہے اب” شازیہ نے کہا
“اور ناشیہ… ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“وہ بھی دھیرے دھیرے ٹھیک ہو جاۓ گی, ابھی صدمہ زیادہ ہے اسلیے ذرا گم صم سی ہے” وہ بولی اور انکے پاس ہی بیٹھ کر ان کے پیر دبانے لگی, تیمور ملک نے بغور اسے دیکھا… گناہ کا اعتراف دنیا کا مشکل ترین کام ہوتا ہے جبکہ مظلوم آپ کی سگی بیٹی ہو
“شازیہ… ” انہوں نے ہولے سے پکارا
“جی ابو… “
“شازیہ میں تیرا مجرم ہوں بیٹی… معاف کر دے گی ؟؟؟” انہوں نے دھیرے سے کہا
“کیا ہوا ابو ؟؟” وہ حیرانی سے بولی
“تجھے پتہ ہے کہ واحد تیرے لئے دوبارہ پلٹ کر کیوں نہیں آیا ؟؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“ابو… میں اس قصے پر مٹی ڈال چکی ہوں, سب کچھ بھلا چکی ہوں, میرے لئے میرا باپ اس بیوفا اور دغا باز سے زیادہ اہم ہے سو… بس رہنے دیں” شازیہ کی آنکھوں میں نفرت در آئی
“شازیہ… وہ دغاباز نہیں تھا… وہ بے وفا بھی نہیں تھا… ” تیمور ملک نے کہا
“وہ شاید اگلے ہی دن لوٹ آتا… اگر وہ اس رات زندہ بچ جاتا… ” انہوں نے اعتراف کر ہی لیا تھا, شازیہ کی انگلیاں یکلخت ساکت ہو گئیں
“وہ لڑکا…. اسی رات مر گیا تھا” شازیہ کو لگا جیسے کسی نے اس کا کلیجہ کھینچ لیا ہو, وہ بس پھٹی پھٹی آنکھوں سے تیمور ملک کو دیکھتی رہ گئی
“اس رات… اسی نے بچایا تھا تجھے, وہ تجھے گھر چھوڑنے ہی آ رہا تھا جب اس کی گاڑی کا ایکسیڈینٹ ہو گیا, مجھے ہسپتال سے کال آئی تھی, جب میں وہاں پہنچا تو تو آئی سی یو میں تھی اور وہ… واحد انصاری… وہ ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر چکا تھا” تیمور ملک کہتے چلے گئے, شازیہ کے آنسو تیمور ملک کے پیروں پر گرنے لگے
پندرہ سال… پندرہ سال وہ ایک ایسے شخص سے نفرت کرتی آئی تھی جو… پندرہ سال سے اس دنیا میں ہی نہیں تھا, جب جب اس کا چہرہ ذہن میں آتا تھا, تب تب اس کی بیوفائی بھی یاد آتی تھی, ساتھ ہی دل سے اس کے لئے آہ بھی نکلتی تھی, وہ پندرہ سال اسی کو سچ سمجھتی رہی جو اس کے باپ نے اسے بتایا… اور وہ یہ کہ واحد انصاری اپنے باپ کا خون تھا, تبھی تو پلٹ کر نہیں آیا, یہ تک پوچھنے نہیں آیا کہ شازیہ زندہ بھی ہے یا مر گئی… اپنے باپ کے کیے کی معافی تک مانگنے نہیں آیا… بھلا وہ کیسے آتا… ؟؟؟ مردے کبھی زندہ ہوۓ ہیں بھلا ؟؟؟
وہ دھیرے سے اٹھ کھڑی ہوئی
“شازیہ… ” تیمور ملک کی آنکھیں بھر آئیں… شازیہ میں تو جان تھی ان کی… شادی کے لمبے عرصے بعد خدا نے اس رحمت سے نوازا تھا انہیں…انتہائی لاڈلی بیٹی تھی وہ ان کی… وہ انہیں ہر ایک سے بڑھ کر عزیز تھی… غاشیہ سے, ناشیہ سے, طہٰ سے… سب سے
تبھی تو اسے کسی اور کو نہیں سونپا تھا, تبھی تو اسے ہمیشہ کے لئے اپنی نظروں کے سامنے رکھا تھا, تبھی تو اس کے لئے خالد تک کو قربان کر دیا تھا
اب اسی شازیہ کی آنکھوں میں آنسو تھے
“مجھے معاف کر دینا… ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکے
“ابو… اتنا تو بتا دیتے کہ… وہ مر گیا تھا”
……………………………
اس نے آفس سے واپسی پر زرقا کو پک کیا تھا, اسماء نے اسے زبردستی کھانا کھلا کر بھیجا تھا
“آئس کریم کھاؤ گی ؟؟؟” اس نے ڈرائیو کرتے ہوئے زرقا سے پوچھا
“میرا دل نہیں کر رہا… تم نے کھانی ہے تو کھا لو” وہ بولی
“جب تم نے نہیں کھانی تو فائدہ ” اذن نے مسکراتے ہوئے کہا, زرقا خاموش ہو گئی
“زرقا… ” اذن نے کچھ دیر بعد اسے پکارا
“کوئی ٹینشن ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا, زرقا مسلسل بیٹھی اپنی انگلیوں کو مروڑ رہی تھی, ہاتھوں میں کپکپاہٹ سی بھی تھی, چہرہ بھی پریشان سا تھا
“نہیں… ” وہ رخ موڑ گئی, اذن کو واضح اس کے نہیں میں نمی نظر آئی تھی
“زرقا… کیا ہوا ہے ؟؟؟” اس نے دوبارہ پوچھا تھا, زرقا نے بمشکل اس کی طرف دیکھا, اذن اسے ہی دیکھ رہا تھا, لمحوں میں اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے
“وہ… طہٰ نے… خود کشی کرنےکی کوشش کی ہے… ” زرقا نے دھیرے سے کہا تھا, یکلخت ہی گاڑی کی رفتار دھیمی ہو گئی, اذن شاک کی سی کیفیت میں اسے دیکھتا رہ گیا, طہٰ سے اس انتہائی قدم کی امید تو اسے بھی نہیں تھی
“ہسپتال میں ہے… ” وہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی تھی, آنسو بے دریغ گرتے چلے جا رہے تھے, اذن بس ساکت سی نظروں سے سامنے سڑک پر دیکھتا رہ گیا, اچانک ہی اس نے گاڑی ایک طرف کر کے روک دی, پھر ریورس لیکر دوبارہ روڈ پر ڈال دی, زرقا نے اچنبھے سے اس کی طرف دیکھا
“کونسے ہسپتال میں ہے ؟؟؟”اس نے پوچھا, زرقا نے دھیرے سے بتا دیا, اذن چپ چاپ اسے ہسپتال لے آیا
“یہاں ایک پیشنٹ آیا تھا پرسوں…. طہٰ ملک” اس نے ریسیپشن پر پوچھا
“میل وارڈ… دائیں طرف” وہ اس کے کہتے ہی زرقا کا ہاتھ تھام کر وارڈ کی طرف آ گیا, اندر داخل ہو کر اسے ذرا سی تلاش کے بعد طہٰ کا بیڈ نظر آ گیا, خالد اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا
“جاؤ… میں باہر انتظار کر رہا ہوں تمہارا” وہ اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے بولا
“جب یہاں تک ساتھ آ گئے ہو تو وہاں تک بھی چلو” زرقا نے کہا
“اتنی ہمت نہیں ہے… ” اذن کہہ کر واپس مڑ گیا, وہ بمشکل اپنے قدم اٹھاتی ہوئی طہٰ کے بستر کی طرف آ گئی, خالد نے اسے حیرانی سے دیکھا تھا
“کون… ؟؟” اس کے پوچھتے ہی طہٰ نے آنکھیں کھولیں
“زرقا… “وہ یکدم اٹھ بیٹھا تھا, ہاتھ کی پشت پر لگا برنولہ کھنِچ کر اکھڑ گیا, ڈرپ نیچے کو لٹک گئی, لمحوں میں اس کا ہاتھ خون سے سرخ ہو گیا تھا
“طہٰ یہ کیا کیا ہے ؟؟؟؟” زرقا بمشکل اپنے انسو روکے کھڑی تھی, خالد نے چپ چاپ اس کا برنولہ بند کیا اور وہاں سے چلا گیا
“تمہیں بھولنے کی کوشش… ” وہ دیوانہ وار اسے تکتے ہوۓ بولا تھا
“طہٰ… ” زرقا اس کے بیڈ کے قریب آ گئی
“میری خاطر اب حرام موت چنو گے تم ؟؟؟ ” وہ سسک اٹھی
“حلال موت تو نہ جانے کب آۓ گی ؟؟ تب تک کیسے جیوں گا میں اکیلا… تمہارے بنا ؟؟؟” وہ بولا
“جیسے میں جی رہی ہوں… “
“تم تو ہمت والی ہو… میں بہت کم ہمت ہوں زرقا… میں تو گزرے ڈھائی ماہ میں تمہیں ایک فیصد بھی نہیں بھلا سکا… اور بھلا کیوں بھلاؤں ؟؟؟؟ تمہیں میں نے قطرہ قطرہ کر کے اسلیے حفظ کیا تھا کہ انت میں بھلا دوں ؟؟؟ بس… ؟؟؟” وہ کہتا چلا گیا
“طہٰ… میری بات سنو… جو ہونا تھا وہ ہو چکا ہے… اب کچھ نہیں ہو سکتا ” زرقا نے کہا
“کیوں نہیں ہو سکتا… ؟؟؟ وہ تم سے پیار نہیں کرتا, بس حادثاتی طور پر تمہارا شوہر بن گیا ہے وہ… تم بھی اس سے محبت نہیں کرتیں زرقا…. پھر کیا فائدہ اس کے ساتھ رہنے کا…” طہٰ کہتا چلا گیا
“تو کیا کروں ؟؟” زرقا کی بھی جیسے بس ہو گئی
“اسے کہو تمہیں طلاق دے دے… ” طہٰ نے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا
…………………………….
آج فرزانہ اور نفیس ان کے گھر آۓ تھے, ناشیہ تو اپنے کمرے سے ہی نہ نکلی, فرزانہ کا عجیب ہی حال تھا, رو رو کر آنکھیں لال بوٹی ہو رہی تھیں
“تیمور بھائی.. خدا کے لئے میرے بچے کو بھی چھڑوا دیں, سیٹھ بابر نے اسے ابھی تک نہیں چھوڑا, سارا دن اس کے آدمی اسے مارتے پیٹتے ہیں, اپنی بھتیجی پر تو ہاتھ تک نہیں اٹھایا… میرے بچے کو دھنک کر رکھ دیا ہے” وہ رو رو کر التجائیں کر رہی تھیں
“میں کچھ نہیں کر سکتا فرزانہ… وہ اس کی بھتیجی کو ورغلا کر لے گیا تھا اور سر عام اس کے ساتھ عیاشیاں کر رہا تھا… اس کی مرضی چاہے تو زندہ گاڑھ دے” تیمور ملک نے کہا
“نا تیمور بھائی… ایسے نہ کریں, خالد تو ہی کچھ کر بیٹا, پولیس میں تیری بڑی جان پہچان ہے… صفوان کو چھڑوا دے ” وہ بولی
“فرزانہ… میرے سامنے یوں مگر مچھ کے آنسو مت بہا, میری بچی کو سارے محلے کے سامنے اٹھا کر لے گیا وہ حرامزادہ… صرف تیرے اس خبیث کی وجہ سے, بتیس سال اس نے جو لن ترانیاں کی ہیں نا یہ اسی کی سزا ہے… بھگتے… میری بچی کو برباد کرنے کی سزا ہے یہ… ” وہ پتھر بن گئے تھے
“میری بچی کا حق اس نے ایک غیر عورت کو دے دیا… بنا کسی رشتے کے… زنا کیا ہے اس نے فرزانہ… اسے لگنے دے کوڑے… یہ ہی مقدر ہے اس کا, نیک اور پارسا بیوی کے ہوتے ہوئے حرام منہ کو لگانے والے یونہی ٹھڈے کھاتے ہیں… کھانے دے… خبردار جو دوبارہ میرے پاس آئی… ” وہ غصے سے بھرے پڑے تھے
……………………..
“اسراء… ” انیتا نے اس کے کمرے میں جھانکا
“کیا کر رہی ہو…. ؟؟؟؟”
“کچھ خاص نہیں… ” اسراء نے کہا
“پارک تک چلو گی ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“تم بچی ہو جو تمہیں پارک میں کھیلنے جانا ہے” اسراء نے کہا
“یار کھیلنے نہیں جانا… فاطمہ اور شائستہ دونوں اپنے بھانجوں کو لیکر آئی ہوئی ہیں… مجھے کوئی دس فون کر چکی ہیں کہ تھوڑی دیر کے لئے آ جاؤ… باتیں شاتیں کرتے ہیں” انیتا نے کہا
“تو تم جاؤ باتیں شاتیں کرنے… میرا کیا قصور ہے” اسراء نے کہا
“امی اکیلے نہیں جانے دے رہیں” انیتا نے کہا
“آ جاؤ… ہر وقت کمرے میں پڑی سڑتی رہتی ہو… فریش ہو جاؤ گی, اتنا اچھا موسم ہے آج” انیتا بس منتوں پر اترنے ہی والی تھی
“زرقا کو بھی ساتھ لے لو… ” وہ دوپٹہ سر پر لیتے ہوئے بولی
“وہ کہہ رہی ہے دل نہیں کر رہا… ” انیتا جلدی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے بولی, دونوں آگے پیچھے ہی گیٹ سے نکلی تھیں
موسم واقعی خوشگوار تھا, نیلا آسمان سفید سفید بادلوں سے گھرا ہوا تھا, بیچ میں کہیں کہیں شفق کی سرخیاں بکھر رہی تھیں, ہواؤں کے جھونکے بھی بڑے دلفریب سے تھے
انیتا کو تو جاتے ہی اس کی سکھیوں نے جکڑ لیا… باتیں شاتیں.. وہ تینوں اس سے ذرا فاصلے پر سر جوڑ کر بیٹھ گئیں
“انیتا بس تھوڑی دیر…” اسراء اسے کہتے ہوئے آگے بڑھ گئی, پارک میں کافی رش تھا, بچے اپنے فٹ بالز اور گیند بلے لیکر آۓ ہوۓ تھے, وہ کچھ دیر روش پر واک کرنے کے بعد ایک بینچ پر بیٹھ گئی, سورج بالکل اس کے سامنے دھیرے دھیرے غروب ہو رہا تھا
دفعتاً ایک فٹ بال اچھلتا ہوا اس کے پیروں سے آ کر لگا, وہ چونک سی گئی, پھر ایک بچی بھاگتی ہوئی اس کے پاس آ کھڑی ہوئی, وہ نیلے رنگ کی فراک پہنے ہوئے تھی
“وہ… میرا فٹ بال ہے… ” وہ ہچکچاتے ہوۓ بولی
“اب تو میرا ہو گیا… ” اسراء نے فٹ بال اٹھا لیا, بچی شش و پنج میں کھڑی رہ گئی
“وہ… میرا ہے” وہ شرم کے مارے اس کے قریب بھی نہیں آ رہی تھی
“چلو پھر میرے پاس آ کر لے لو” اسراء نے مسکراتے ہوئے کہا, بچی آگے نہ بڑھ سکی, اسراء مسلسل مسکرا رہی تھی, کچھ دیر بعد وہ پلٹ گئی, اسراء نے مسکراتے ہوئے فٹ بال نیچے رکھ دیا, ابھی وہ اٹھنے کا ارادہ کر ہی رہی جب رک گئی
“پاپا میرا فٹ بال ان کے پاس ہے… ” وہ اپنے باپ کو لے آئی تھی, اسراء بس اسے دیکھتی رہ گئی, وہ بھی رحمہ کا ہاتھ پکڑے ساکت سا کھڑا تھا
“پاپا… میرا فٹ بال” رحمہ نے دوبارہ اس کا ہاتھ کھینچا, راحم اس کی گود میں چڑھا ہوا تھا
“میری بیٹی کا فٹ بال دے دو پلیز… ” وہ اسے مسلسل دیکھتے ہوئے بولا, اسراء نے فٹ بال اٹھا لیا
“آؤ لے لو… ” وہ بولی, رحمہ نے شافع کی طرف دیکھا
“جاؤ لے لو… ” وہ راحم کو نیچے اتارتے ہوئے بولا, رحمہ نے قدرے شرماتے ہوۓ اس سے فٹ بال لے لیا اور پھر راحم کی طرف دوڑ پڑی
“رحمہ بس… اب گھر جانا ہے”شافع نے اسے آواز دی تھی, اسراء اٹھ کر کھڑی ہو گئی
میرون رنگ کا سوٹ پہنے شافع کو اس لمحے وہ اس سرخی مائل شام کا ایک حصہ ہی لگی, وہ بس وارفتگی سے اسے تکتا چلا گیا
“اس دن رو کیوں رہی تھیں ؟؟” وہ بھولا نہیں تھا
“تمہاری یاد آ رہی تھی… ” وہ دھیرے سے بولی اور شافع یوں مسکرایا جیسے اس نے سچ ہی کہا ہو
“دبئی والے کا کیا حال ہے ؟؟؟” شافع نے پوچھا
“خوش باش ہے… تمہاری دعائیں لگی ہوئی ہیں اسے” اسراء نے کہا
“میری دعائیں تو مجھے خود کو نہیں لگتیں… کسی دوسرے کو کیا لگیں گی” وہ بیچارگی سے بولا تھا
“تمہاری بیوی کا کیا حال ہے ؟؟؟” اس نے بھی پوچھ ہی لیا
“وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے… ” شافع نے بڑے سیدھے سے انداز سے کہا, اسراء ششدر رہ گئی
“یہ نہایت ہی گھٹیا مذاق ہے… ” اسے اچھا نہیں لگا
“میری زندگی میں پچھلے چار سالوں سے یہ ہی گھٹیا مذاق چل رہا ہے” وہ بولا
“کیوں…بھاگ گئی ؟؟؟” اسراء نے بمشکل پوچھا تھا
“میں اچھا نہیں لگتا ہوں گا اسے… ” وہ بولا, اسراء نے اسے سر سے لیکر پیر تلک دیکھا, اس نے ہمیشہ اسے فارمل ڈریس میں ہی دیکھا تھا, آج پہلی بار عام سی ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں دیکھ رہی تھی, یہ تو طے تھا کہ وہ دو بچوں کا باپ کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا
“دو بچوں کے بعد بھی ؟؟؟” اسراء کو یقین نہ آیا, شافع نے کندھے اچکا دئیے
“میں چلتی ہوں اب… ” اسراء سے اس کی چھلکتی ہوئی آنکھوں کا سامنا کرنا انتہائی دوبھر ہو رہا تھا, وہ بس سر جھکا کر اس کے پاس سے گزر گئی
“اسراء.. ” شافع نے اسے پکارا, وہ پلٹ کر دیکھنے لگی
“دبئی والا تمہیں ساتھ کیوں نہیں لیکر گیا ؟؟؟” اس نے پوچھ ہی لیا
“دبئی والے نے دوسری شادی کر لی ہے” وہ اس کی سماعتوں پر بم پھوڑ کر چلی گئی تھی
…………………………..
جاری ہے