No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
سات سال پہلے…
“انکل… میں اسراء کے لئے اپنا رشتہ بھجوانا چاہتا ہوں” اس کی ساری بات کا لبً لباب یہ تھا, عمر فاروق نے ایک نظر اسے دیکھا… پھر اس کے پیچھے کھڑے ارمغان کو
یہ سارے پڑھے لکھے عاشق خدا نے جیسے ان کی بیٹیوں کے مقدر میں ہی لکھ دییے تھے
“دیکھو بیٹے… میری دونوں بڑی بیٹیوں کے رشتے زبانی کلامی ان کے ماموں کے گھر طے ہو چکے ہیں, اور ان لڑکوں میں اعتراض کرنے والی کوئی بھی بات نہیں ہے… پڑھے لکھے ہیں.. شریف ہیں… تمیز دار ہیں, کماؤ ہیں… اور سب سے بڑھ کر… ہمارے اپنے ہیں” عمر فاروق کہتے چلے گئے, شافع سر جھکاۓ ان کی سن رہا تھا
“پھر اب… میں کیا کروں انکل جی ؟؟؟” وہ بے بسی سے بولا
“صبر… “
“نہ آۓ تو… ؟؟؟”وہ پھیکا سا مسکرایا
“تو کوشش کر لو… حالانکہ وہ کوشش بالکل رایئگاں ہی ہو گی” انہوں نے کہا تھا
شافع نے پورے دو ہفتے صبر کر کے دیکھا لیکن… صبح اٹھتے ساتھ ہی جو پہلا چہرہ دھیان میں آتا
وہ اسراء راۓ کا تھا
اور سوتے وقت جو آخری چہرہ دھیان سے جاتا
وہ بھی اسراء راۓ کا ہی تھا
ہوا ہی نہیں صبر…
دو ہفتوں بعد اس نے روبینہ کو اس کے گھر بھیج دیا… ساتھ رافع کو بھیجا
حسب معمول صاف انکار… روبینہ کی ہر بات کے جواب میں آمنہ کے پاس بس ایک ہی بات تھی
“ہم برادری سے باہر شادیاں نہیں کرتے… ” روبینہ خالی ہاتھ لوٹ آئیں
“اسراء… پلیز تھوڑا سا دھکا لگا دو” دھیرے دھیرے آپ جناب بھی ختم ہو گئے تھے, اسراء راۓ کا دل چرانے میں تو وہ کامیاب ہو چکا تھا
“شافع… کوئی فائدہ نہیں ہے”
“میں خود آ جاؤں… ؟؟” اس نے پوچھا
“پتہ نہیں…” اس نے کہا
اور چند دن بعد وہ روبینہ کو لیکر پھر آمنہ کے روبرو تھا, عمر فاروق بھی وہیں تھے
خدا گواہ ہے کہ اس لڑکے نے ہر کوشش کر لی, ہر وعدہ کا یقین دلایا, اسراء کی ہر خوشی کی ضمانت دے ڈالی, ہر جتن کیا… لیکن بدلے میں کچھ بھی نہ ملا
روبینہ ایک بار پھر خالی ہاتھ لوٹ آئیں
………………………….
“اس لڑکے میں کوئی کمی تو نہیں ہے آمنہ… ” عمر فاروق اسے ہارتا ہوا دیکھ نہیں پاۓ تھے
“آپ کو کسی میں کوئی خامی نظر آتی بھی ہے عمر ؟؟؟” آمنہ ان پر چڑھ دوڑیں
“ابو اس کی یہ ہی کمی کافی ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے” اسماء ماں کے برابر میں کھڑی تھی
“اسراء سے محبت کا دعویدار ہے وہ… ” عمر نے کہا
“اسراء سے درید بھی بہت محبت کرے گا عمر… اس بات کو یہیں ختم کر دیں” آمنہ نے انہیں اچھا ہی سنایا تھا
اگلے ہی ہفتے راۓ عبید اور آسیہ چلے آۓ… حدید ان کے ساتھ تھا, اذن بھی گھر آیا ہوا تھا
“آمنہ میں آج اپنی امانتیں واپس لینے آئی ہوں… ” آسیہ نے مدعا عرض کیا تھا
“یہ تینوں تمہاری بیٹیاں ہیں آسیہ… جب دل کرے لے جانا” آمنہ نے بھی اپنا مدعا عرض کر دیا تھا, آسیہ کے ساتھ بیٹھے حدید کی گھنٹی بجی تھی, دروازے میں کھڑے ارمغان کی چھٹی حس جاگی تھی, آسیہ نے یکے بعد دیگرے تینوں کو مٹھائی کھلائی اور ہتھیلی پر پیسے رکھ دیئے
منگنی اگلے مہینے طے پا گئی تھی
حدید تو گھر جاتے ہی پھٹ پڑا
“مجھے نہیں کرنی ابھی کوئی منگنی شنگنی… ” وہ بولا
“کیوں ؟؟؟” راۓ عبید نے اسے گھرکا
“کیونکہ ابھی میں ذہنی طور پر بالکل بھی تیار نہیں ہوں ” وہ بولا
“حدید ابھی صرف منگنی کر… ” اس نے تڑخ کر آسیہ کی بات کاٹ دی
“کچھ بھی نہیں… نا منگنی… نا کچھ اور” وہ فیصلہ سنا گیا تھا, آسیہ بس راۓ عبید کو دیکھ کر رہ گئیں, حدید تو لاڈلا بیٹا تھا ان کا… اس کی تو ناراضگی ہی ان کے لئے روح فرسا تھی
سو انہوں نے کچھ دن بعد بڑے سبھاؤ سے آمنہ کو کہہ دیا کہ حدید فی الحال اپنی پڑھائی مکمل کر لے… انیتا اور حدید کی منگنی بعد میں کریں گے… ابھی صرف اسماء اور اسراء کی منگنی کر لیتے ہیں, آمنہ نے بھی سوچا کہ فی الحال بڑی دونوں بیٹیوں کا فرض نبھا لیں.. انیتا کا بعد میں کر لیں گے, حدید کہیں بھاگا تھوڑی نا جا رہا تھا
مئی کا آخری ہفتہ چل رہا تھا جب اس کی منگنی طے پا گئی
منگنی سے ایک ہفتے قبل ہی صمد نے نیا شوشہ چھوڑ دیا
“ابو حسین آپ سے ملنا چاہتا ہے… ” رانا حسین جعفر, صمد کا لنگوٹیا دوست تھا, پرائمری سکول سے وہ دونوں ساتھ ساتھ تھے, پڑھائی ختم ہونے کے بعد صمد نے تو کاروبار سنبھال لیا جبکہ جعفر باہر چلا گیا تھا
“اسے کیا کام ہے مجھ سے… ؟؟؟” راۓ عبید کھٹک گئے تھے
“وہ… اس کی ایک بہن ہے… دبئی کی نیشنیلٹی ہے اس کے پاس… وہ اس کی شادی کرنا چاہتا ہے…مجھ سے” اس نے دھماکہ کر دیا
“اوۓ… تو الو کا پٹھا تو نہیں ہے… ہفتے بعد تیری منگنی ہے” راۓ عبید چنگھاڑ کر بولے
“ابو میں تو نہیں کہہ رہا… وہ کہہ رہا ہے” صمد منمنایا
“تو اسے کہہ کہ بکواس نہ کرے.. نا ہی میں نے اس سے ملنا ہے” وہ ہری جھنڈی دکھا گئے تھے, لیکن جعفر ان سے ملنے چلا آیا
وہی رٹ… صمد کا رشتہ… میری بہن ایسے… میری بہن ایسے
راۓ عبید نے اسے بڑی مشکلوں سے انکار کیا تھا
اسماء کی خوشی کا کوئی عالم نہیں تھا…اسراء بس چپ چپ سی تھی
دل جو بھٹک گیا تھا… منگنی سے دو گھنٹے پہلے اسے شافع کی کال آئی تھی
“کیا کر رہی ہو… ؟؟؟” اتنا اداس لحجہ… اسراء کا دل کٹ گیا
“انگوٹھی پہننے لگی ہوں… ” کتنا کڑوا سچ تھا
“اسراء… میرا کیا بنے گا ؟؟؟” اسراء کو لگا جیسے وہ ابھی رو پڑے گا
“شافع… قدم واپس لے لو” وہ بس اتنا کہہ کر کال کاٹ گئی تھی
…………………………..
مبارک سلامت کے شور میں صمد اور درید نے انہیں انگوٹھیاں پہنائی تھیں… اسراء بس خاموشی سے سر جھکاۓ بیٹھی تھی
منگنی کا فنکشن لان میں ارینج کیا گیا تھا… کچھ دیر بعد ہی کھانا سرو کر دیا گیا دفعتاً حدید کا سیل بجا تھا, وہ ایک نظر سکرین پر چمکتا نام دیکھ کر سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا…. انیتا نے اسے بغور اوپر جاتے دیکھا تھا, خود بخود ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
وہ تو اس کے دل کا بادشاہ تھا… نہ جانے کب سے
کئی بار وہ اشاروں, کناییوں میں اسے حال دل باور کروا چکی تھی
اب بھی وہ ادھر ادھر دیکھتی ہوئی اوپر چلی گئی… دو آنکھوں نے اوپر تک اس کا تعاقب کیا تھا
“حدید… ” وہ دیوار کے پاس کھڑا تھا, اس کی آواز سن کر پلٹا
سرمئی شام میں وہ اسی شام کا ایک منظر لگ رہی تھی
“مصروف ہو…. ؟؟؟”
“نہیں… بولو… ؟؟؟”
“حدید… ” وہ دو قدم آگے کو بڑھی اور اپنی ہتھیلی اس کے سامنے کھول دی, حدید ششدر رہ گیا, اس کی ہتھیلی پر ایک نفیس سی رنگ رکھی ہوئی تھی
“I love you…”
وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی,سب سے اوپر والی سیڑھی پر کھڑا ارمغان ملک جیسے لڑے بنا ہی ہار گیا, وہیں سے اپنی بند مٹھی لیے واپس پلٹ گیا
“ممانی نے بتایا کہ تم ابھی منگنی نہیں کرنا چاہتے… ” وہ پوچھ رہی تھی
“بس تمہیں وقت ہی چائیے یا… ؟؟؟” اس نے بات ادھوری چھوڑ دی, حدید ایک لمبا سانس بھرتے ہوئے اس کے قریب ہوا اور اس کی پھیلی ہوئی ہتھیلی واپس بند کر دی
انیتا ساکت رہ گئی
“…I love someone else… Sorry”
وہ دھیرے سے سرگوشی کرتا ہوا نیچے اتر گیا تھا
………………………
انیتا نے وہ بات کسی کو بھی نہ بتائی… اسے لگا حدید نے اس سے مذاق کیا ہے… حدید تو شروع سے اس کا تھا… صرف اس کا
وہ بس خاموشی سے اس سے یکطرفہ محبت جتاتی چلی گئی… منگنی کے بعد درید نے باہر جانے کا شوشہ چھوڑ دیا, جعفر نے کھلے دل سے اسے اپنے ساتھ دبئی جانے کی آفر دی تھی, آسیہ اس کے اس فیصلے کے سخت خلاف تھیں.. وہاں اس کا اپنا کاروبار تھا, اس کی بہن کا الگ سے کام سیٹ تھا, درید کو صرف ایک ٹکٹ اور ویزے کی ضرورت تھی
تین ماہ بعد جعفر اسے اپنے ساتھ باہر لے گیا… دھیرے دھیرے وقت گزرا
اسماء اور آمنہ تو پوری طرح جہیز بنانے میں لگ گئیں, انیتا نے ایم اے میں ایڈمیشن لے لیا… شافع اور اسراء کی ابھی بھی کال پر بات ہو جاتی تھی, کبھی کبھار اسراء کا بینک چکر لگ جاتا… کبھی پارک میں ملاقات ہو جاتی
عجیب سا رشتہ تھا… نا تو پوری طرح ایک ہوتے تھے… نا پوری طرح جدا ہوتے تھے, شافع کا بس نہیں چلتا تھا کہ اسراء پوری پوری رات بولتی رہے اور وہ اس کی جھرنوں جیسی آواز سنتا رہے
“تمہیں پتہ ہے تمہاری آواز بہت میٹھی ہے… بہت خوش قسمت ہے وہ انسان جسے تم ملو گی…پوری پوری رات تمہاری یہ جھرنوں جیسی آواز سنا کرے گا” وہ بے بس ہو جاتا تھا
دھیرے دھیرے وقت گزرا… درید کو دبئی گئے پورا ایک سال ہو گیا, اس ایک سال میں بھولے سے بھی اسراء کو اس کی کوئی کال نہیں آئی تھی
اس دن بھی وہ پارک آئی تھی, شافع درخت کے تنے سے ٹیک لگاۓ کھڑا تھا…اندھیرا پھیلنے لگا تھا
“شافع تمہیں دیر ہو جاۓ گی… اب جاؤ واپس” اسراء اس کے سامنے بینچ پر بیٹھی تھی
“تھوڑی دیر تک چلا جاؤں گا” وہ دونوں آستینیں کہنیوں تک موڑے, دونوں بازو سینے پر باندھے مسلسل اسے دیکھ رہا تھا
“تمہارا منگیتر کیسا ہے ؟؟؟” شافع نے پوچھا
“ٹھیک ہی ہو گا… ” وہ بولی
“بات نہیں ہوتی… ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا, اسراء نے نفی میں سر ہلا دیا
“شادی کب ہو گی تمہاری ؟؟؟” وہ سوال پر سوال کر رہا تھا
“ظاہر ہے جب وہ واپس آۓ گا” اسراء نے کہا
“خدا کرے وہ کبھی واپس نہ آۓ… ” شافع کے کہتے ہی اسراء نے اسے دیکھا
“دِکھنے میں کیسا ہے ؟؟؟” ایک اور سوال, اسراء نے
تصویر اس کے سامنے کر دی
“کون زیادہ ہینڈسم ہے بھلا ؟؟؟” وہ دھیرے سے مسکرایا تھا
“وہ جو میرے دل میں ہے… ” اسراء اٹھ کھڑی ہوئی تھی
“کون…؟؟؟” اس نے پوچھا, وہ بس مسکراتے ہوئے وہاں سے چلی گئی
…………………….
درید نے جیسے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا
“صمد بھائی…. اتنا اچھا کاروبار ہے, پیسہ ہے, آرام ہے… جعفر کی بہن اتنی بری بھی نہیں ہے, قسم سے اس کی بات مان کر میری زندگی سیٹ ہو جاۓ گی…. ” وہ کہتا جا رہا تھا
“اور جعفر بھی مجھ سے کئی بار کہہ چکا یے شادی کے لیے… صمد بھائی اس نے اتنا کچھ دوستی میں نہیں کیا… اسے اپنی بہن کی شادی کرنا تھی… آپ نا سہی تو میں ہی سہی” درید نے کہا
“درید تیری منگنی ہو چکی ہے… ” صمد نے اسے گھرکا
“تو پھر کیا ہوا… نکاح تھوڑی ہوا ہے جو ٹوٹ نہیں سکتا… ” وہ بولا
“درید… ابو, پھپھو کو کیا جواب دیں گے… ؟؟؟” صمد پریشان ہو رہا تھا
“صمد بھائی… مجھے اسراء سے شادی نہیں کرنی, مجھے سرے سے پاکستان ہی نہیں آنا… میں نے جعفر کی بہن سے شادی کر لینی ہے” درید فیصلہ کر چکا تھا, صمد نے سارا معاملہ راۓ عبید کے سامنے رکھ دیا, ان کے غصے کا کوئی عالم نہیں تھا
“اس خبیث کو کہہ واپس آۓ…. فوراً واپس آۓ” وہ چنگھاڑ کر بولے لیکن…. درید نے بھلا اب کہاں واپس آنا تھا
کچھ دنوں بعد صمد کو پھر اس کا فون آ گیا
“جعفر آپ کو کال کرے گا صمد بھائی.. میں نے اسے اپنی منگنی کا نہیں بتایا… خبردار جو آپ نے بھی اسے کچھ بتایا… اسے یہ ہی کہنا ہے کہ صرف آپ کی شادی ہوئی ہے… ” وہ کہتا جا رہا تھا
“درید… تو واپس آ بس… ” صمد نے اسے گھرکا
“اگر آپ نے جعفر سے کچھ بھی الٹا سیدھا بولا تو میں نے آمنہ پھپھو کو سب کچھ سچ بتا دینا ہے” وہ تو واقعی کمینگی پر اتر آیا تھا
…………………….
آمنہ اور عمر نے راۓ عبید سے شادی کی بات چھیڑی تھی, منگنیوں کو پورا ایک سال ہو گیا تھا, راۓ عبید نے ان دونوں کو مکمل یقین دھانی کروائی کے وہ درید کو واپس بلوا کر فوراً ہی دونوں شادیں طے کر دیں گے, اسی شام انہوں نے صمد کو درید کو کال کرنے کا کہا تھا لیکن… اس سے پہلے کہ صمد اسے کال کرتا
اس کی کال آ گئی… ویڈیو کال
اس نے حسین جعفر کی بہن سے نکاح کر لیا تھا, بڑے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ وہ ان دونوں کو سارا فنکشن دکھا رہا تھا, جعفر کی تو خوشی کی انتہا نہ تھی, راۓ عبید دم بخود رہ گئے…
“تو اس سب میں شامل ہے نا… ؟؟؟” انہوں نے صمد کی گردن دبوچ لی تھی
“ابو… اس نے پھپھو کو فون کر دینا تھا…. “
“صمد… اپنی ماں کو کچھ نہ بتائیں ” راۓ عبید اسے گالیاں دے دے کر تھک گئے تھے
“ابو… میں تو کہتا ہوں پھپھو کو سچ بتا دیں ” صمد نے کہا
“نا… ساری عمر کے لئے مجھ سے بہن چھوٹ جاۓ گی, کیسے نظریں ملاؤں گا میں اس سے… ؟؟” راۓ عبید نے نفی میں سر ہلایا تھا
مزید سال گزر گیا… درید واپس نہ آیا
“درید… بس کچھ دنوں کے لیے آ جا… اسراء سے شادی کے بعد واپس چلا جائیں… ” وہ. بس اس کی منتیں ہی کر سکتے تھے
“ابو مجھے ایک طرف کا ہو لینے دیں… پھپھو کو منع کر دیں, مجھے اسراء سے شادی نہیں کرنی” وہ صاف انکاری تھا
آمنہ کا تقاضا بڑھتا جا رہا تھا.. آخر جب راۓ عبید بہانے گھڑ گھڑ کر تھک گئے تو صمد اور اسماء کی شادی کی تاریخ طے کر دی, اسراء بیچاری وہیں کی وہیں رہ گئی تھی
……………………….
آج رات اسماء کی مہندی تھی… وہ سارے کام نپٹا کر تیار ہونے اپنے پورشن میں آیا تھا, کمرے کی لائیٹ جلاتے ہی وہ ٹھٹھک گیا… اسراء اس کے بستر پر لیٹی ہوئی تھی… گھپ اندھیرے میں
“اسراء… ” وہ حیران رہ گیا
“ارمغان لائیٹ کیوں جلائی ؟؟؟” وہ اکتا کر کہتے ہوئے اٹھ بیٹھی
“یہاں اسقدر اندھیرے میں کیوں لیٹی ہو ؟؟” ارمغان اس کے قریب آتے ہوئے بولا
“دل کر رہا تھا… بالکل خاموشی ہو… بالکل خاموشی… کوئی نہ بولے… کوئی نہ بلاۓ” وہ کہتی چلی گئی
“ہر طرف شور شرابا… سر پھٹا جا رہا تھا” اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا
“اسراء… ” وہ اس کے برابر میں بیٹھ گیا
“مجھے پتہ ہے ایسا کب ہوتا ہے… ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولا تھا, اسراء اس کے کہتے ہی یکدم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی, ارمغان نے بہت محبت سے اسے خود سے لگا لیا… ان کی تو پکی یاری تھی… شروع سے
“کیا میں اتنی بے وقعت ہوں ارمغان کے وہ چند دن کے لئے بھی نہیں آ سکا… ؟؟؟” دل بھر بھر کر آ رہا تھا, ارمغان بس اسے اپنے ایک بازو کے حلقے میں لیے بیٹھا رہ گیا
“کھل کر رو لو… غبار نکل جاۓ گا” وہ دھیرے سے بولا تھا
“ارمغان… اسے کہو یہاں سے چلا جاۓ, کہیں اور ٹرانسفر کروا لے, اتنے ہزاروں بینک ہیں لاہور میں… کہیں بھی چلا جاۓ… بس دور چلا جاۓ” وہ کہتی چلی گئی تھی
…………………………
اسماء کے نکاح والے دن اسے پھر شافع کی کال آئی
“کیسی ہو… ؟؟؟” وہی رسمی سا سوال
“شافع مجھ سے یہ نہ پوچھا کرو… ” وہ اکتائی پڑی تھی
“پھر کیا پوچھا کروں ؟؟” وہ ہارا پڑا تھا
“کچھ بھی نہ پوچھا کرو… تم مجھے کال ہی نہ کیا کرو” وہ پھٹ پڑی
“مجھے پتہ ہے… رو رہی ہو نا… ؟؟؟” وہ بولا, اسراء نے کوئی جواب نہ دیا
“تمہارا والا کیوں نہیں آیا ؟؟؟” سوال ہوا تھا
“پتہ نہیں… “
“کیا خبر وہ آنا ہی نہ چاہتا ہو… ہو سکتا ہے اسے وہاں کوئی اور پسند آ گئی ہو… ہیں نا اسراء ؟؟؟” شافع کہتا چلا گیا
“میری دعا ہے اسے اسراء راۓ کہ اسے وہاں کوئی اور پسند آ جاۓ… اور وہ اس سے شادی کر لے” شافع کے کہتے ہی اسراء گھٹ گھٹ کر رو دی تھی
دعا تو اس کی کب کی قبول ہو چکی تھی
………………………………..
جاری ہے
