No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
اس دن اتوار تھا… فاروق صاحب اور انیتا اس کا کچھ سامان لیکر آۓ تھے, اذن حسب معمول اوپر زرقا کے کمرے میں سویا پڑا تھا, وہی اسے جگا کر نیچے لائی, فاروق صاحب کی ہر بات پر وہ بس غائب دماغی سے سر ہلاۓ جا رہا تھا
فاروق صاحب کچھ دیر تو اس سے سر پھوڑتے رہے پھر عبید راۓ کے ساتھ باہر نکل گئے, اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ اوپر جا کر مدہوش ہوتا, اسماء کی نظر اوپر ریلنگ کی ڈسٹنگ کرتی غاشیہ پر جا پڑی
“اتنی کوئی گندی نسل ہے نا اس عورت کی… اِدھر میرے گھر سے کوئی آیا اور اُدھر اس کے پیروں میں خارش شروع ہوئی, مجال ہے جو کسی کو اپنی منحوس چھاپ سے بخشا ہو اس نے… ” اسماء کو تاؤ آ گیا, غاشیہ چپ چاپ اپنے کام میں مگن رہی
“اور پھر حرافہ یوں بہری بن جاتی ہے جیسے اس کے کانوں کے پردے پھٹ گئے ہوں, ڈرامے باز عورت ” اسماء کو اب صبر کہاں آنا تھا جب تک غاشیہ کی زبان نہ کھلوا لیتی
“اسماء باجی بس کریں… ” انیتا نے انہیں چپ کروانا چاہا
“کیا بس کروں… ؟؟؟ اس کی شکل دیکھ کر میرے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے, اچھا بھلا آج تیرا گھر بسا ہوتا اگر یہ ڈائن بیچ میں نہ آتی… ” وہ پھٹ پڑی, انیتا کے دل میں بھی نفرت کی ایک ہلکی سی چنگاری کو پھونک تو پڑی تھی
“چلیں بس کریں اسماء باجی… سال ہو گیا اس بات کو” اذن اکتا کر بولا
“یہ ہی تو رونا ہے کہ سال ہو گیا لیکن میرے دل سے وہ لمحہ آج تک محو نہیں ہوا جب یہ چڑیل آ کر ہماری خوشیوں کو کھا گئی, خدا کرے کہ ساری عمر بھگتے جیسے اس نے میری معصوم بہن کا دل دکھایا… ساری عمر یہ خوشیوں کو ترسے گی میری جھولی پھیلا کر بددعا ہے اس کلموہی کو…” اسماء کی بددعائیں بڑھتی جا رہی تھیں اور غاشیہ کونسا کوئی فرشتہ تھی… اس کا ظرف بھی آخر کو انسانوں والا ہی تھا
“آپ صرف جھولی نہ پھیلائیں… آپ اپنا دامن بھی پھیلائیں, سر سے چادر اتار کر بھی پھیلائیں… جتنی مرضی بد دعائیں دیں لیکن یاد رکھئیے گا کہ اس سب کے بعد بھی آپ مجھ سے میری ایک خوشی بھی نہیں چھین سکتیں کیونکہ وہ خدا نے میرے نصیب میں لکھی ہیں… آپ جیسی کم ظرف عورت کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے” وہ کہتی چلی گئی
“تو دیکھنا… یہ ہی حدید ایک دن تجھے دھکے مارے گا… میری بددعا ہے تجھے کلموہی ” اسماء بھڑک کر بولی تھی
“اسماء بس کر دے… چپ ہو جا” اسراء نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا
“کیا ہو گیا… ؟؟؟” حدید بوکھلا کر اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا
“حدید اس حرافہ کو میری نظروں سے دور کر لے ورنہ اس کا سر پھاڑ دوں گی میں” اسماء چنگھاڑ کر بولی
“آپ یہ بھی نہیں کر سکتیں… آپ بس نیچے کھڑی ہو کر بکواس کرنے لائق ہیں بس… اس سے زیادہ کی کہاں اوقات ہے آپ کی” حدید بمشکل غاشیہ کو قابو کر کے وہاں سے گھسیٹ کر لے گیا تھا
“لیں بھابھی… پانی” زرقا نے اسماء کو پانی کا گلاس پکڑایا
“خدا اس عورت کو غارت کرے… ” اسماء کو آگ لگی پڑی تھی
“اسماء باجی… میں پہلی اور آخری مرتبہ کہہ رہی ہوں کہ جو ہو گیا سو ہو گیا… اب بس کریں, ایک سال پرانی بات کو روز روز تازہ نہ کیا کریں…آپ زبردستی اپنی بددعاؤں سے حدید کو میرا نصیب نہیں بنا سکتیں” انیتا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا
……………………..
“یہ لو… پانی پی لو” حدید نے اس کے ہاتھوں میں پانی کا گلاس تھمایا, وہ گلاس پکڑ کر بھی سسکیاں بھرتی رہی
“غاشی… میری جان بس کر دو ناں” حدید سے کہاں اس کا رونا دیکھا جاتا تھا, اب بھی اس کی سرخ روئی روئی سی آنکھیں اس بیچارے کی جان نکال رہی تھیں, ان دونوں کی شادی کو پورا ایک سال ہو گیا تھا لیکن “پسند کی شادی” کا جرم ابھی تک معاف نہیں ہوا تھا
“کوئی دن ایسا نہیں گزرتا حدید جس دن یہ عورت مجھے جھولی پھیلا کر بددعائیں نہیں دیتی… ” وہ رو رہی تھی
“بس تھوڑا سا اور صبر کر لو, جیسے ہی گھر کسی طرف لگا ہم نے شفٹ کر جانا ہے… بس تھوڑی دیر” حدید نے اپنی انگلیوں سے اس کا چہرہ خشک کیا تھا
“غاشیہ… ” وہ ہنوز اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لئے بیٹھا تھا
“ادھر دیکھو میری طرف… ” وہ بہت محبت سے بولا, غاشیہ اپنی سرخ سوجی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی
“ہم نے محبت کی ہے… اور اس محبت کو معتبر کرنے کے لئے شادی کی ہے… کوئی جرم… کوئی گناہ نہیں کیا, بھابھی کی بددعاؤں سے تمہارا مقدر قطعی قطعی نہیں بدلنے والا… سمجھیں ” وہ کہتا چلا گیا, غاشیہ نے دھیرے سے سر ہلایا تھا
“انہیں اگنور کر دیا کرو… جہاں تک ممکن ہو” حدید نے بڑی محبت سے اپنے لب اس کی پیشانی پر رکھے تھے
“جاؤ میرا ناشتہ بنا دو… میں شاور لے لوں ” وہ اس کے رم جھم ہوتے چہرے کو بڑی فرصت سے دیکھتے ہوئے بولا تھا, غاشیہ سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی
“اذن کب سے آیا ہوا ہے ؟؟؟”حدید نے تولیہ اٹھاتے ہوئے پوچھا
“میرے خیال سے ہفتہ ہو گیا ہے” وہ بولی
“ملا ہی نہیں… ؟؟؟” وہ واش روم کی طرف جاتے ہوئے بولا
“اس کی بہن نے پورا گھنٹہ جو صور اس کے کانوں میں پھونکا ہو گا اس کے بعد اس بیچارے کی مجال ہے جو تم سے ملے” وہ کہتی ہوئی کمرے سے نکل گئی تھی
………………………..
“میں نے تمہیں منع کیا تھا نا… ؟؟؟” وہ انتہائی شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی
“اچھا اب میں کیا تمہاری ہر بات مانا کروں ؟؟؟” وہ بھی آخر کو رافع انصاری تھا
“وہ تیسری بار ہماری گھر آئیں ہیں رافع… اور تیسری بار بے عزت ہو کر خالی ہاتھ لوٹ گئیں ہیں, میں مارے شرمندگی کے زمین میں گڑ جاتی ہوں جب وہ شازیہ باجی کے منہ سے انکار سنتی ہیں… اور سن کے سر جھکا لیتی ہیں” ناشیہ نے کہا
وہ دونوں اس وقت کالج کے سیکینڈ فلور پر ریلنگ کے ساتھ کھڑے تھے, رافع کلاس لیکر فارغ ہوا تھا اور وہ وہی کلاس انگیج کرنے آئی تھی, وہ دونوں فرسٹ ٹائم گیریزن میں انٹر اور بی ایس کی کلاسز لیتے تھے, ان دونوں کی پہلی ملاقات بھی گیریزن میں ہی ہوئی تھی, ایک پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھنے والا اچھی شکل و صورت اور پہننے اوڑھنے کا ذوق لئے ایم فل میتھمیٹکس محمد رافع انصاری اور ایک انتہائی خوشحال گھرانے سے تعلق رکھنے والی… خوب صورت اور خوب سیرت ایم ایس انگلش ناشیہ ملک… ان دونوں کے بیچ آخر پسندیدگی کی کونپل کیسے نہ پروان چڑھتی… ؟؟؟ چھبیس سالہ رافع اور پچیس سالہ ناشیہ پچھلے دو سالوں سے گیریزن میں ایک ساتھ تھے اور دو سال کافی ہوتے ہیں پسندیدگی کو محبت میں ڈھلنے کے لئے…بظاہر ان دونوں کی لو سٹوری ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھی لیکن… صرف دنیا کی نظروں میں
“ناشیہ… میں کیسے رہوں گا تمہارے بنا… ؟؟؟ بہت بہت بہت مشکل ہے یار” وہ اس لمحے بے بسی کی انتہاؤں پر تھا
“غلطی بھی ہماری ہی ہے رافع… ہم نے سب کچھ جانتے بوجھتے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں… میری بھی آنکھوں دیکھی تھی کہ غاشیہ کی محبت کا کیسے ستیاناس ہوا… اور تمہاری بھی کہ کیسے تمہارا بھائی فقیر بن کر بھی اپنی محبت کو نہیں پا سکا…” ناشیہ نے کہا
“اب تو غلطی ہو گئی نا… اب کیا کریں ؟؟؟” وہ بولا
“اب یہ کریں کہ… مزید غلطیاں نہ کریں” وہ ایک لمبا سانس بھرتے ہوئے بولی تھی
“وہ تمہارے قابل نہیں ہے ناشیہ… کسی طور نہیں ” رافع نے کہا
“اسے میرے باپ نے میرے لئے چنا ہے… وہ کسی قابل نہ ہو کر بھی قابل ہی گردانا جاۓ گا” ناشیہ نے کہا
“ناشیہ… ” رافع بے اختیار ہی دو قدم آگے کو آیا تھا
“اگر تم میرا ساتھ دو تو ہم…. ” ناشیہ نے اس کی بات کاٹ دی
“نہیں… بالکل نہیں…بالکل بھی نہیں ” مضبوط لحجے میں کہتی وہ کلاس میں داخل ہو گئی تھی
……………………….
وہ تیار ہو کر بیگ کندھے پر لٹکاۓ کمرے سے نکلا تھا, فرح دونوں بچوں سمیت دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہو کر سوئی ہوئی تھی, دونوں بچوں کا ماتھا چوم کر اس نے فرح کی پیشانی پر اپنے لب رکھے اور کمرے سے نکل آیا, رافع اس سے پہلے ہی باہر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا
“امی جلدی کریں…. ” شافع نے کرسی کھینچتے ہوۓ کہا, روبینہ جلدی سے اس کا ناشتہ لے آئیں, وہ ایک پرائیویٹ بینک میں آپریشن مینیجر تھا
“امی… پلیز میرے آنے تک گھر پر ہی رہئیےگا” وہ دھیرے سے بولا
“کوئی ضرورت نہیں ہے گھر سے باہر جانے کی, فرح کہے بھی تو کہیں نہیں جانا… نہ ہی اسے جانے دینا ہے” وہ کہتا چلا گیا
“شافع… اپنے باپ سے بات کر” روبینہ نے کچھ دیر بعد کہا
“کیا بات کروں ؟؟؟” وہ بولا
“یہ ہی کہ جب یہ راضی نہیں تھی تو کیوں اسے تیرے پلے باندھا… ؟؟؟” روبینہ تنگ آ چکی تھیں
“امی وہ صاف مکر جاۓ گی کہ اس نے تو کچھ کیا ہی نہیں… آپ کو کیا پتہ نہیں ہے… پچھلے چار سالوں سے یہ ہی ہو رہا ہے… کبھی کسی کے گھر جا کر بیٹھ جاتی ہے, کبھی کسی کے چوبارے پر سے ملتی ہے, کبھی کسی دوکان پر کھڑی ہوتی ہے, کبھی کسی ڈیرے کے پاس پائی جاتی ہے, اس کی ساری ضرورتیں اس گھر کی چار دیواری کے اندر پوری کرتا ہوں پھر بھی وہ مطمئن نہیں ہوتی, ہوٹلنگ بھی کرواتا ہوں, ساری فرمائشیں بھی پوری کرتا ہوں, کبھی آج تک اونچی آواز میں بات تک نہیں کی اس سے پھر بھی خدا جانے کیا مسئلہ ہے اس کے ساتھ… ؟؟؟” وہ بیچارا پھٹ پڑا
“چلو میرا نا سہی… بچوں کا تو خیال کرے, وہ دونوں سارا دن چوڑوں سے بھی بدتر حالوں میں پھرتے ہیں لیکن اسے پرواہ ہی نہیں ہے… کیا بات کروں میں باپ سے ؟؟؟ کتنی دفعہ تو کر چکا ہوں ؟؟؟ کتنی دفعہ تو کہہ چکا ہوں کہ نہیں ساتھ رہنا چاہتی تو الگ ہو جاۓ… ان کے سامنے صاف مکر جاتی ہے, رونا پیٹنا ڈال کر سچی ہو جاتی ہے” وہ کہتا چلا گیا, رافع چپ چاپ بیٹھا اسے سن رہا تھا, روبینہ نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا
“میں تو سوچ رہا ہوں یہ شہر ہی چھوڑ دوں ؟؟؟” وہ بولا
“اس سے کیا ہو گا… ؟؟؟ یہ سرشت ہے اس کی… شہر چھوڑنے سے بدل تھوری نا جاۓ گی” روبینہ نے کہا
“بھائی… میں بات کروں ابو سے ؟؟؟” رافع نے پوچھا
“رہنے دے… فائدہ کوئی نہیں ” وہ کھڑا ہو گیا
“دھیان رکھئے گا امی… ” وہ انہیں بار بار کہہ کر نکلا تھا
……………………….
“تیمور بھائی… میں آج خالی ہاتھ نہیں جاؤں گی, آج میں تاریخ لیکر جاؤں گی ” فرزانہ آج صفوان کو ساتھ لیکر آئی تھیں, وہ تیمور ملک کی اکلوتی بہن تھیں, صفوان ان کا بڑا بیٹا تھا
“فرزانہ وہ تمہاری بیٹی ہے, جو تاریخ رکھ دو گی ہمیں منظور ہو گی” تیمور ملک نے مسکراتے ہوئے کہا تھا, کچن کے دروازے میں کھڑے ناشیہ کے چہرے کا رنگ یکلخت ہی تبدیل ہو گیا
“ناشیہ چاۓ لے آؤ” شازیہ نے آواز دی تھی, وہ بمشکل خود پر قابو پاتے ہوئی چاۓ لے آئی, صفوان کی طرف دیکھنے سے اس نے گریز ہی کیا تھا
“صفوان کی ایک اور جگہ نوکری ہو گئی ہے تیمور بھائی… تنخواہ بھی پہلے سے زیادہ ہے, بس آپ اگلے مہینے کی کوئی بھی تاریخ دے دیں” فرزانہ نے کہا, ناشیہ چاۓ بنا کر واپس کچن میں گھس گئی تھی
“ٹھیک ہے پھر… اگلے مہینے کی پچیس تاریخ رکھ لیتے ہیں, طہٰ بھی پیپرز سے فارغ ہو جاۓ گا” تیمور ملک نے کہا, فرزانہ نے اثبات میں سر ہلا دیا, کچن میں کھڑی ناشیہ کی آنکھیں لمحوں میں بھر آئی تھیں, گلے میں جیسے آنسوؤں کا پھندہ سا اٹک گیا, نظریں جھکاۓ کچن کی سلیب کے ساتھ کھڑی وہ مسلسل سلیب کا کونا کھرچ رہی تھی
“بالکل ٹھیک ہے تیمور بھائی… ناشیہ… ادھر آ میری بچی” فرزانہ نے اسے آواز دی تھی
“شازیہ جاؤ مٹھائی لیکر آؤ… ” تیمور ملک بہت خوش تھے, ناشیہ نے بمشکل من من ہوتے قدموں کو کچن سے باہر کی طرف گھسیٹا تھا, شازیہ جھٹ پٹ سے مٹھائی لے آئی
“میری بچی… اللہ صدا خوش رکھے” فرزانہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے برفی کی ڈلی اس کے منہ میں ڈالی تھی, ناشیہ نے ذرا سی کھا کر ان کا ہاتھ پیچھے کو کر دیا
“پھپھو بس… ” کوئی جان ہی نہ سکا کہ اس کی آواز بھی بھرائی ہوئی تھی
“ادھر آ صفوان… ” تیمور ملک نے صفوان کو کھڑے ہو کر گلے لگایا تھا
“مبارک ہو تجھے نکمے کہیں کے… خبردار جو کبھی میری بچی کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو آیا تو” وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہے تھے اور ان کی بچی سر جھکاۓ آنسوؤں کو حلق میں روک کر بیٹھی تھی, تبھی طہٰ اندر داخل ہوا, وہ یونیورسٹی سے واپس آیا تھا
“لو طہٰ بھی آ گیا… ادھر آ لڑکے, منہ میٹھا کر” فرزانہ نے گلاب جامن اس کے منہ میں ٹھونس دیا, وہ بیچارہ ہکا بکا سا سامنے صوفے پر بیٹھی ناشیہ کو دیکھتا رہ گیا جس کا سر جھکتا ہی جا رہا تھا
“ناشیہ اور صفوان کی شادی طے ہو گئی ہے طہٰ… اگلے مہینے کی پچیس تاریخ کو” شازیہ نے اس کی حیرانی رفع کی تھی, وہ مسکرا بھی نہ سکا, بس انتہائی دکھی دل کے ساتھ ناشیہ کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتا رہ گیا
………………………..
درید کی کال آئی ہوئی تھی, راۓ عبید اسے ہر چھوٹا بڑا قصہ سنانے میں مشغول تھے, وہ چار سال پہلے دبئی سے آیا تھا اپنی شادی سے محض تین دن پہلے اور شادی کے دو ہفتے بعد ہی واپس چلا گیا تھا, بقول اس کے کام ابھی نیا نیا ہے اسلئے زیادہ لمبی چھٹی نہیں مل سکی… اسماء نے بڑی امیدیں لگائیں لیکن اسراء کی گود ہری نہ ہو سکی… اس کے بعد وہ دو سال بعد واپس آیا… صرف پندرہ دن کے لئے
اسراء نے ان پندرہ دنوں کا ایک ایک پل درید کے لئے وقف کر دیا…آخر دو سال بعد ملا تھا وہ اسے…
دوسری طرف اسماء مسلسل اس کے سر پر سوار تھی
“شوہر کو بیوی سے زیادہ اولاد کی زنجیریں باندھ کر رکھتی ہیں اسراء… کوشش کر… پوری کوشش کر” لیکن یہ کونسا اسراء کے ہاتھوں میں تھا
پندرہ دن بعد وہ واپس چلا گیا… اور اسراء ایک بار خالی گود ہی رہ گئی… تب کا گیا ابھی تک واپس نہیں آیا تھا, بس کال پر ہی بات ہوتی تھی… یا پھر میسیجز
“درید اب تو دو سال ہونے کو آۓ ہیں… اب تو چکر لگا لے” موبائل صمد کے ہاتھ میں تھا
“کیا کروں بھائی جان… کام بہت ہے, ذمہ داری بھی بہت ہے… بڑی مشکلوں سے چھٹی ملتی ہے” وہ بولا
“وی تو ٹھیک ہے پر تو چھڑا تو نہیں ہے اب… چار سال ہو گئے ہیں تیری شادی کو, یہ ہی تو وقت ہے درید فیملی بنانے کا” اسراء کو واضح لگا کے صمد کے منہ میں اس وقت اسماء کی زبان بول رہی تھی, وہ چاہے زبان کی جتنی بھی کڑوی تھی, چاہے غصے کی جتنی بھی تیز تھی لیکن اپنی بہنوں کے ساتھ بالکل مخلص تھی
“ہاں جی بھائی جان… میں کوشش کرتا ہوں کہ چکر لگاؤں ” درید نے جیسے موضوع بدلنا چاہا
“درید یہ اِذَن سے بات کر… ” صمد نے موبائل اذن کی طرف بڑھا دیا
“اوہ واہ بھئی… اِذن میاں… کیسے ہو؟؟؟؟” درید خوشگوار سے موڈ میں بولا
“ٹھیک ہوں درید بھائی…. آپ سنائیں “
“بڑا ہینڈسم ہو گیا ہے تو تو یار… ” درید نے کہا
“اذن کی جاب ہو گئی ہے درید…. بس اب اس کی شادی کر دینی ہے, تو اپنی چھٹی کا بندوبست کر لے جلدی” اسماء نے بیچ میں لقمہ دیا تھا
“واہ بھابھی…لڑکی ڈھونڈ لی ؟؟؟” درید ہنستے ہوئے بولا
“وہ میرا کام ہے… تو اس کی ٹینشن نہ لے, تو بس فٹا فٹ آنے کے جتن کر” اسماء نے ہنستے ہوئے کہا تھا, درید کافی دیر تلک سب سے بات کرتا رہا
“اسراء سے بات کر لے درید… ” آخر میں موبائل اسراء کے ہاتھ میں آیا
“بھائی اسراء کو میں خود ہی کال کر لوں گا… اس سے ابھی کل ہی میری بات ہوئی ہے, ابھی میری شفٹ شروع ہونے والی ہے” درید نے کہا
“چل ٹھیک ہے پھر… خد احافظ” صمد نے کال کاٹتے ہوئے کہا تھا, اسراء بس خاموشی سے کچن کی طرف چلی گئی
“تو نے بتایا ہی نہیں کہ کل درید کا فون آیا تھا” کچھ دیر بعد کھانے کے برتن لگاتے ہوئے اسماء نے پوچھا تھا, اسراء نے جواب نہ دیا
“اسراء… ؟؟؟” اسماء نے دوبارہ پوچھا, اور دھیرے سے اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف موڑا
“کیا ہوا ؟؟؟” اسراء کی آنکھیں پانیوں سے بھری پڑی تھیں
“مجھے پچھلے ایک ہفتے سے درید کا کوئی فون نہیں آیا” وہ ہاتھوں کی پشت سے آنسو رگڑتے ہوۓ بولی تھی
…………………..
وہ اس کے کمرے میں آیا تو وہ وہاں نہیں تھی, وہ اسے ڈھونڈتا ہوا چھت پر آ گیا, رات پونے گیارہ بجے کا وقت تھا, بڑی لطیف سی ہوا چل رہی تھی, وہ دونوں بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹے ریلنگ کے پاس بیٹھی تھی, کافی کا کپ اس کے پاس پڑا کب کا ٹھنڈا ہو چکا تھا, وہ دھیرے سے اس کے سامنے جا بیٹھا, ناشیہ نے ہولے سے گردن موڑ کر اسے دیکھا
“غاشیہ کو بتایا… ؟؟؟ طہٰ نے پوچھا, ناشیہ نے نفی میں گردن ہلا دی
“رافع بھائی کو تو بتا دیتیں… ” طہٰ نے جب بی ایس میتھ میں ایڈمیشن لیا تو رافع کا وہ لاسٹ ایئر تھا, طہٰ نے انٹر میں اکثر و بیشتر اس سے ٹیوشنز بھی لی تھیں
“جب چاند چڑھے گا تو وہ بھی دیکھ ہی لے گا” ناشیہ نے کہا
“ناشیہ… ” طہ نے ذرا سا آگے کو ہو کر اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے
“مانا کہ میں سب سے چھوٹا ہوں, مانا کہ میری بات کی اس گھر میں کوئی ویلیو نہیں ہے لیکن پھر بھی… میں تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ ہوں…اگر تم اس رشتے سے انکار کرتی ہو تب بھی میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں, اگر تم رافع سے شادی کرنا چاہو تب بھی میں تمہارے ساتھ ہوں گا” وہ کہتا چلا گیا
“کیا ان میں سے کچھ بھی ممکن ہے طہ ؟؟؟” ناشیہ نے پوچھا, طہ چپ رہ گیا
“وہ بیچارہ تین دفعہ اپنی امی کو بھیج چکا ہے, میں دبے دبے لفظوں میں دو بار شازیہ آپی کو اپنی مرضی بتا چکی ہوں لیکن… انہوں نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا کہ ناشیہ آئیندہ اگر کبھی دوبارہ ایسا خیال دل میں آیا تو میرے پاس آنے سے پہلے اپنی زبان کاٹ لیں… ” وہ بولی
“غلطی میری ہی ہے طہ… مجھے غاشیہ کا انجام دیکھ کر ہی اپنے قدموں کو روک لینا چائیے تھا, یہ سب جو جو تم مجھے آج کہہ رہے ہو, یہ ہی سب میں نے بھی اسے کہا تھا… میں نے یونہی اس کے ہاتھ پکڑ کر کہا تھا کہ میں تیرے ساتھ ہوں غاشیہ… اور میں نے ہر قدم پر اس کا ساتھ دیا, گھر والوں سے اس کی ہر لڑائی میں میں اس کے ساتھ تھی, جب اس نے صفوان کے رشتے کو انکار کیا میں تب بھی اس کے ساتھ تھی, اور جب اس نے بے بس ہو کر ہار مان کر اپنا بیگ باندھ لیا…. میں تب بھی اس کے ساتھ تھی لیکن میں نے کبھی خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے اس کا ساتھ دینے کا اتنا بڑا خمیازہ بھگتنا پڑے گا… ” ناشیہ کی آنکھیں بھر آئیں
“کاش کے محبت کو بھی کوئی سمجھا سکے کہ وہ اپنے پر ذات برادری دیکھ کر پھیلایا کرے… کسی کے دل پر قابض ہونے سے پے پوچھ لیا کرے کہ اس کی ذات کیا ہے… اس کی نسل کیا ہے ؟؟؟” وہ اس لمحے بے بسی کی انتہاؤں پر تھی
“ایک بار ابو سے بات تو کر کے دیکھو… ” طہ نے کہا
“وہ پھر پچیس دن بھی انتظار نہیں کریں گے طہ… اسی لمحے میرا نکاح صفوان سے کر کے مجھے اس کے ساتھ رخصت کر دیں گے” وہ بولی
“پھر… ؟؟؟” وہ ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے بولا
“پھر کیا… صفوان سے شادی… میرا مقدر” وہ چہرہ خشک کرتے ہوئے بولی
“خالد بھائی سے بات کریں… ؟؟؟” طہ نے ایک اور راستہ نکالا
“وہ کیا کرلیں گے… ؟؟؟ غاشیہ کی دفعہ انہوں نے کیا کر لیا… ؟؟؟” وہ بولی
“کوشش تو کر ہی سکتے ہیں”طہٰ نے کہا, ناشیہ بس خاموشی سے منہ دوسری طرف موڑ گئی تھی
…………………..
جاری ہے
