No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
خالد کل سے نہ جانے کتنی ہی مرتبہ اس خط کو پڑھ چکا تھا, اس تحریر کا ہر ہر لفظ کسی افسانے کی طرح لگتا تھا… وہ پوری رات تو اسے خود کو یہ یقین دلانے میں ہی گزر گئی کہ وہ خط سچ تھا… اس کا متن حقیقت تھا, اسے رہ رہ کر یہ خیال آتا رہا کہ یہ سچائی اسے ارمغان نے کیوں نہیں بتائی… ؟؟؟
اور اس کا بس ایک ہی جواب تھا… کہ اس حقیقت کو وہ بھی نہیں جانتا تھا
اگلا پورا دن وہ سٹور پر مصروف رہا… پھر شام پانچ بجے کے قریب اپنا موٹر سائیکل لیکر نکل کھڑا ہوا, راستہ اس کا جانا پہچانا تھا, مغرب کے بعد کا وقت تھا جب وہ اس کے گھر پہنچ گیا, تقریباً پندرہ, بیس منٹ وہ گیٹ پر کھڑا بیل بجاتا رہا لیکن جواب ندارد…اس لمحے اسے اپنی کم عقلی پر خوب ہی غصہ آیا, کم از کم اسے کال کر کے آنا چاہئے تھا, ابھی اس نے موبائل نکالنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا ہی تھا کہ ارمغان کی موٹر سائیکل عین اس کے قریب آن رکی
“تم… ؟؟؟” وہ اسے دیکھ کر کافی حیران ہوا تھا
“میں آدھے گھنٹے سے یہاں کھڑا بیل بجا رہا ہوں” خالد نے کہا
“تو تم مجھے کال کر لیتے… ” ارمغان نے لاک کھولتے ہوئے کہا تو خالد کو مزید اپنی کم عقلی پر غصہ آیا
“گھر والے کہاں گئے ؟؟؟” وہ اس کے پیچھے اندر آتے ہوئے بولا
“کینٹونمنٹ شفٹ ہو گئے ” وہ بولا
“تمہیں ساتھ نہیں لیکر گئے ؟؟؟” خالد نے پوچھا
“ستائس سال ساتھ رکھا ہے… اب ساری عمر کا ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا نا عمر فاروق راۓ نے… اپنی محبوبہ کے بیٹے کو سنبھالنے کا” وہ تلخی سے ہنسا تھا, خالد چپ رہ گیا
“اگر تم بتا کر آتے تو میں تمہارے لیے کچھ لیتا آتا… ابھی صرف یہ ہی پڑی ہے” ارمغان نے اس کے لئے کولڈ ڈرنک کا گلاس بھرا تھا, ساتھ ہی زور سے چھینکا, خالد دھیرے سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا
“ارمغان…. ایک بات پوچھوں تم سے ؟؟؟” خالد نے کچھ توقف کے بعد کہا
“ہاں… ” وہ اپنی جیکیٹ اتارتے ہوئے بولا, سردیاں اسے ہمیشہ سے ہی ناپسند رہی تھیں, پورا سیزن وہ بیچارہ سڑ سڑ ہی کرتا رہتا تھا
“تم شاہ نور اور حمنہ کے بیٹے ہو اور میں شاہ نور اور سیرت کا بیٹا ہوں… اس کے علاوہ اور کیا جانتے ہو تم ؟؟؟” خالد نے پوچھا
“اس علاوہ کچھ ہے جاننے والا… ؟؟؟” وہ اس کے عین سامنے بیٹھتے ہوئے دھیرے سے ہنسا, خالد بس اسے دیکھتا رہ گیا, یعنی اسے واقعی نہیں پتہ تھا, ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اس نے وہ خط نکالا اور ارمغان کے سامنے رکھ دیا
“شاید یہ… ” وہ بولا
“یہ کیا ہے ؟؟؟” وہ اچنبھے سے بولا
“پڑھ لو… ” خالد نے کہا, ارمغان نے دھیرے سے وہ خط کھول لیا تھا
……………………..
“شاہ نور… بیٹے یہ تیرے لئے ہے, تیری زندگی حمنہ پر ختم نہیں ہو گئی… شاید میں تجھے ساری زندگی یہ سچ نہ بتاتی… اگر ضرورت نہ پڑتی… شاید یہ سچ تجھے زندگی کی طرف واپس لے آۓ… مجھے وہ رات زبانی یاد ہے شاہ نور جب شازیہ کے بعد میرا اگلا بچہ اس دنیا میں آنے والا تھا, تیمور مجھے ہسپتال لے گئے تھے, تو اپنے کمرے میں بند تھا, میں شازیہ کو سیرت کے پاس چھوڑ آئی تھی, رات نو بجے کا وقت تھا, موسلا دھار بارش ہو رہی تھی, مجھے لیبر پین اٹھا تھا… شدید… نرس مجھے سٹریچر پر ڈال کر لیبر روم میں لے گئی
وہ میرے برابر والے بیڈ پر تھی… حمنہ راۓ
اس نے مجھے نہیں پہچانا… لیکن میں اسے پہچان گئی تھی, اس کے ساتھ ایک چھبیس, ستائس سال کا لڑکا آیا ہوا تھا, وہ اسے عمر کہہ رہی تھی
شاہ نور…. وہ بہت زیادہ رو رہی تھی, وہ شاید دنیا کی پہلی عورت تھی جو بیٹا ہونے کا سوچ کر بھی ڈر رہی تھی اور بیٹی ہونے کا سوچ کر بھی… اسے ڈر تھا کہ بیٹی ہوئی تو اس کا باپ اسے پیدا ہوتے ہی مار دے گا اور اگر بیٹا ہوا تو وہ سے اٹھا کر اس کے وارثوں کے حوالے کر دے گا جو اسے ختم کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگائیں گے… وہ بار بار اس لڑکے کو کہہ رہی تھی کہ اگر اس کی بیٹی ہو تو اسے تم تک پہنچا دے… وہ اسے بار بار تمہیں بلانے کا کہہ رہی تھی… شاہ نور اس نے میرے سامنے عمر کو کہا کہ شاہ نور کی بھابھی عطرت کو فون کرو, وہ اسے بھیج دے گی, وہ اسے بیٹا مانتی ہے…میرا درد بڑھتا جا رہا تھا, نرسوں نے عمر کو کو باہر نکال دیا… میں نے اس رات ناشیہ کو جنم دیا تھا… اور حمنہ راۓ کو خدا نے جڑواں سے نواز دیا
ایک بیٹا… اور ایک بیٹی …وہ ڈلیوری کے فوراً بعد بے ہوش ہو گئی تھی, لیڈی ڈاکٹر فارغ ہو کر باہر چلی گئی, میں ہوش میں ہی تھی, نرسیں اس کے بچوں کو نہلا رہی تھیں, پوچھ رہی تھیں کہ ساتھ کون آیا ہے, تب میں نے اس کی طرف دیکھا… میں نے سوچ اگر واقعی اس کے باپ نے یہ بچے اٹھا کر وحید راۓ اور تیمور کے سامنے پھینک دییے تو وہ دونوں انہیں زندہ دفن کر دیں گے, وہ بچے تیرا خون تھے شاہ نور… بیٹا تو شاید وہ جیسے تیسے پال لیتی.. لیکن بیٹی… ؟؟؟ تب میں نے نرس کو بلایا, اتنے بڑے ہسپتال میں کسی کو کیا پتہ چلنا تھا, حمنہ کے پیچھے کوئی بھی نہیں آیا تھا, میں نے اس نرس کو کافی زیادہ پیسوں کا لالچ دے کر وہ بچی لے لی… سبھی کو لگا کہ میرے جڑواں بیٹیاں ہوئی ہیں… حمنہ کا بیٹا نرس نے عمر کے حوالے کر دیا تھا, اس نے گھر فون کیا تھا… سیرت نے اٹھایا اور تجھے ہسپتال بھیج دیا لیکن… تیمور کو پتہ چل گیا اور….. وہ تجھے واپس لے آۓ
شاہ نور… بیٹے میں نے سیرت کو یہ خط دیا تھا کہ اگر باہر جا کر بھی تیرا من نہ لگے تو تجھے حقیقت بتا دے, شاید تو اپنے بچوں کا سوچ کر ہی کسی انتہائی قدم سے باز رہے…تیرا بیٹا حمنہ کے پاس ہے شاہ نور… اور تیری بیٹی میرے پاس امانت ہے… جو ہو گیا اسے بھول جا بیٹا… جو پیچھے رہ گیا ہے اسے سوچ… تیری ماں جیسی بھابھی… عطرت
………………………….
ارمغان کو لگا جیسے اس کے اوپر کسی نے پہاڑ جیسا بوجھ رکھ دیا ہو… خالد کو واضح طور پر اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھرتے نظر آۓ تھے
“ارمغان… ” خالد نے اسے پکارا
“ہاں… ” وہ خالی خالی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا
“تم ٹھیک ہو ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا, ارمغان کچھ بھی نا کہہ سکا, بس سر جھکاۓ بیٹھا رہ گیا
“غاشیہ تمہاری بہن ہے ارمغان… سگی بہن… میں تو چلو صرف تمہارے باپ کا خون ہوں… وہ تمہاری ماں کا بھی خون ہے… حمنہ اور شاہ نور کی بیٹی… ” خالد نے کہا
“اس سے ملے ہو کبھی ؟؟؟” خالد نے پوچھا, ارمغان سر بھی نہ ہلا سکا
“مل لینا… اس دنیا میں اس سے بڑھ کر تو تمہارا کوئی بھی نہیں… میں بھی نہیں” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھڑا ہو گیا, ارمغان بیٹھا رہ گیا, خالد جانتا تھا کہ وہ صدمے میں ہے سو چپ چاپ وہاں سے چلا گیا
تبھی ارمغان کا سیل بجا… اس نمبر کو وہ بہت اچھے سے جانتا تھا
“ہیلو… ” اس نے سیل کان سے لگا لیا
“تم نے آج رات آٹھ بجے کا کہا تھا” اسماء کی آواز اس کے کانوں میں زہر گھول گئی تھی, وہ بس سیل کان سے لگاۓ بیٹھا رہ گیا
…………………………
اب سے تقریباً آٹھ ماہ پہلے کہ بات تھی… وہ نہا کر نکلا تھا, ٹراؤزر کے اوپر بس بنیان ہی پہن لیا تھا, تبھی وہ اس کے پورشن میں آئی تھی
وہ… اسماء راۓ… اس کی جانی دشمن
اسماء کا بس چلتا تو اسے کسی ایسی جگہ دفعان کرتی جہاں سے اس کو چھونے والی ہوا بھی واپس نہ آتی لیکن وہ عمر فاروق کی وجہ سے مجبور تھی, وہ اس کا بہت خیال کرتے تھے, اور دوسری اسراء… وہ بھی ہمیشہ اس کی سائیڈ لیتی تھی
“آپ… ؟؟؟” وہ اس سے آٹھ ماہ بڑی تھی
“ایک کام تھا تم سے ؟؟؟” اس نے کہا
“کیا کام… ؟؟؟”
“دو لوگوں میں پھوٹ ڈلوانی ہے” اسماء نے کہا, وہ زور سے ہنسا تھا
“کہیں حدید اور اس کی بیوی کو تو نشانے پر نہیں رکھ لیا آپ نے ؟؟؟” وہ بولا
“ایسا ہی ہے… ” اسماء نے کندھے اچکاۓ
“حدید, انیتا کا ہے اور میں اسے دلوا کر رہوں گی…چاہے جو بھی ہو جاۓ” وہ جان بوجھ کر اس کے دل کے ٹکڑے کر رہی تھی, ارمغان بس مسکرا کر رہ گیا, وہ اس کا حال دل اچھی طرح جانتی تھی
“کیا چاہتی ہیں آپ ؟؟؟” اس نے پوچھا
“غاشیہ سے راہ و رسم بڑھاؤ, یوں جیسے تم اس کے بہت بڑے دعویدار ہو… زہر گھولنا ہے ارمغان… ان دونوں کے بیچ… حدید کو پوری طرح غاشیہ سے متنفر کرنا ہے, بڑا زعم ہے اسے حدید پر کہ وہ اس کا ہے… یہ زعم توڑنا ہے اس کا… اس کی نظروں کے سامنے سے حدید کو اس سے چھین لینا ہے” اسماء کہتی چلی گئی
“مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ صرف انیتا کا مسئلہ نہیں ہے… آپ کی کوئی ذاتی قسم کی دشمنی بھی ہے اس سے” ارمغان کونسا بچہ تھا
“میرا بس چلے تو اسے زندہ زمین میں گاڑھ دوں… ” اسماء کے لحجے میں صرف نفرت چھلک رہی تھی
“بدلے میں مجھے کیا ملے گا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“جو تم چاہو… پیسہ, زمین, جائیداد… ” اسماء نے کہا
“وہ کیسے ؟؟؟”
“میرا جتنا حصہ بنتا ہے وہ تمہارا… ” اسماء نے کہا
“اور اگر مجھے کچھ اور چاہئے ہوا تو ؟؟؟” ارمغان نے کہا
“ارمغان جو تم کہو گے تمہیں ملے گا… بس یہ کام کر دو, ان دونوں کو الگ کر دو, ایساچکر چلاؤ کے حدید کا اس حرافہ پر سے سار اعتماد ہی اٹھ جاۓ…” اسماء نے کہا
“پکا جو میں کہوں گا ملے گا…؟؟؟” اس نے یقین دہانی چاہی تھی
“ہاں… پکا…. ” اس لمحے اسماء کو صرف غاشیہ کی بربادی سے سروکار تھا
ارمغان نے اگلے ہی دن سارا حساب کتاب لگایا… ساری معلومات لی…
غاشیہ کے بارے میں اس نے سنا ضرور تھا لیکن دیکھا نہیں تھا… ایک بار بھی نہیں
اس نے غاشیہ کو کال کرنا شروع کی, پھر ٹیکسٹ, وائس ایپ, فیس بک…. ہر روز تازہ گلاب, آۓ روز تحفے, دھیرے دھیرے وہی ہوا جو اسماء چاہتی تھی
حدید اور غاشیہ میں عدم اعتمادی کی فضا قائم ہونے لگی, حدید اس پر غصہ ہونے لگا, ان کی تو تو میں میں کی آوازیں اسماء کے کانوں تک آنے لگیں
جب وہ پہلی بار غاشیہ سے ملا…. تو دل کو ذرا سا ملال ہوا, وہ دونوں میاں بیوی آپس میں بہت خوش تھے لیکن…. بس سر جھٹک گیا
ارمغان سے اسماء نے مسلسل رابطہ کیا ہوا تھا, وقتاً فوقتاً وہ اسے کال کرتی رہتی تھی, ارمغان بھی اپنے مشن پر چل پڑا تھا, کیا گھر, کیا ریسٹورنٹ….وہ ہر جگہ غاشیہ کے پیچھے تھا…پھر اس نے ایک دن حدید کو کال کی… تابوت میں آخری کیلیں بھی تو گاڑھنی تھیں
ان آٹھ ماہ میں اس نے حدید کو غاشیہ سے متنفر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی, ہر حربہ لگایا, ہر طرح سے دونوں میں پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کی, ہر چند حدید کو یہ باور کروایا کہ وہ غاشیہ سے محبت کا دعویدار ہے اور غاشیہ ایک نا ایک دن اس کے ساتھ چلی جاۓ گی
اور وہ ان کوششوں میں سو فیصد کامیاب تھا
صرف ایک پوائنٹ پر آ کر وہ ذرا سا پشیماں ہوتا تھا… کہ حدید اس کا بچپن کا دوست تھا
اور وہ اسی دوست کی جڑیں کاٹ رہا تھا
بس اب آخری چوٹ لگانی تھی
……………………
وہ بہت دیر تک یونہی کرسی پر بیٹھا رہا… کیا کھیل کھیلا تھا نا قسمت نے اس کے ساتھ ؟؟؟
سوال یہ ہے کہ اس نے اسماء کی بات کیوں مانی… ؟؟؟ صرف اسماء کے کہنے پر اس نے غاشیہ اور حدید کو ایک دوسرے کے خلاف کیوں کیا… ؟؟؟
وہ فطرتاً ایک برا انسان نہیں تھا, عمر فاروق کو وہ بالکل ایک باپ کی سی عزت دیتا تھا, آمنہ کو ہمیشہ اس نے خالہ والا رتبہ ہی دیا, اسماء جیسی بھی تھی اس کی عزت ہی کی, اسراء کو ہمیشہ پکا دوست سمجھا, اذن تو چھوٹا بھائی تھا اس کا… ہاں بس انیتا کی دفعہ دل ڈانونڈول ہو گیا تھا….
بہت اچھے دل کا مالک تھا وہ, بہت شفیق, بہت نرم دل… کوئی مان ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ صرف اسماء کے کہنے پر حدید اور غاشیہ کا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیتا… پھر اس نے ایسا کیوں کیا ؟؟؟
صمد اور درید اس سے بڑے تھے لیکن حدید… وہ تو ساتھ مل کر کھیلا تھا, ساتھ مل کر بڑا ہوا تھا, پھر بھلا صرف اسماء کے کہنے پر اس نے حدید کے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟؟؟
جواب تھا…. بدلہ
تیمور ملک سے بدلہ… کہ اس کی بیٹی روتی ہوئی باپ کی دہلیز پر واپس جاۓ گی تو شاید اسے احساس ہو کہ اس نے حمنہ راۓ پر کیا ظلم ڈھایا تھا… کاش کے اس لمحے وہ اس بوڑھے باپ کو دیکھتا… جس کی تینوں بیٹیاں ہی رو رہی تھیں
راۓ عبید سے بدلہ… کہ اس کا لاڈلا بیٹا دھاڑیں مار مار کر اپنے بچے کے لئے روتا تو اسے احساس ہوتا کہ اس نے شاہ نور ملک پر کیا ظلم ڈھایا تھا
اس کے دل میں دور کہیں بدلے کی ایک کسک سی اٹھی تھی… ایک چنگاری جو آگ پکڑتی گئی
جو اس کے ماں باپ کے ساتھ ہوا… وہ سب اسے غاشیہ اور حدید کے ساتھ ہوتے دیکھنا تھا, اسے غاشیہ کو اجڑتے دیکھنا تھا, روتے دیکھنا تھا… اور اس نے ٹھان لیا تھا کہ جب وہ اسماء کے ہاتھوں ذلیل ہو کر اپنے باپ کے گھر واپس جاۓ گی تو وہ ایک بار تیمور ملک سے ملنے ضرور جاۓ گا… ان کے سامنے کھڑا ہو کر ایک بار ان سے ضرور پوچھے گا کہ میری ماں کا کیا قصور تھا ؟؟؟ پیچھے حدید اکیلا رہ جاۓ گا… جب وہ اپنے بچے کے لئے ترسے گا, تڑپے گا.. تب وہ راۓ عبید سے پوچھے گا کہ میرے باپ کا کیا قصور تھا ؟؟؟؟
لیکن وہ بھول گیا کہ تیمور ملک کے گناہوں کا بدلہ اس کی بیٹی سے کیوں ؟؟؟ راۓ عبید کے ظلموں کا بدلہ اس کے بیٹے سے کیوں ؟؟؟ وہ بھول گیا کہ جانے انجانے وہ وہی کر رہا تھا جو اس کے ماں باپ کے ساتھ ہوا… وہ دو محبت کرنے والے میاں بیوی کو جدا کر رہا تھا
تبھی خدا نے اسے آئینہ دکھایا….وہ ہوتا کون تھا ایک بیٹی کو اس کے باپ کے جرموں کی سزا دینے والا ؟؟؟ جب ستائس سال صبر کرتے گزار دییے تو اگلِے ستائس سال بھی گزار لیتا… وہ بھول گیا کہ خدا سب سے بہترین بدلہ لینے والا ہے… اگر تیمور ملک اور راۓ عبید کی پکڑ اس دنیا میں نا بھی ہوئی تو آخرت میں ضرور ہو گی…
اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب آنسو اس کے گالوں پر بہہ نکلے, اس نے اپنا سر زور سے میز پر گرایا تھا
غاشیہ ملک… اس کی بہن… اس کے باپ کا خون….
اس کی ماں کا خون
اور وہ اسی کو اجاڑ چکا تھا… وہ اسی کو برباد کر چکا تھا…آج رات وہ اس کی اور حدید کی محبت پر آخری وار کرنے والا تھا
غاشیہ ملک… جس نے اس کے ساتھ مل کر جنم لیا, جو اس کے ساتھ دنیا میں آئی… جو اس کی جڑواں بہن کہلائی
وہ اس بہن کی آنکھوں میں آنسو لانے چلا تھا… شاید آج رات غاشیہ کی اس گھر میں آخری رات ہوتی… شاید آج رات وہ حدید سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو جاتی
تا دیر وہ سر میز پر گراۓ بیٹھا رہا… سارا کھیل ہی پلٹ گیا تھا… اس کے ہاتھوں میں مات ہی مات تھی
سیل دوبارہ بجا… اسماء کی کال تھی
“آٹھ بجنے والے ہیں… ” وہ اس کی ماں جائی کو پوری طرح برباد کرنے پر تیار بیٹھی تھی
“میں گھر کے سامنے پہنچ کر کال کرتا ہوں…. ” اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی
پھر دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ خشک کیا
“میں… میں سب ٹھیک کر دوں غاشیہ… میرا وعدہ ہے… حدید تمہارا ہے… اور ہمیشہ تمہارا ہی رہے گا, جب تک میں زندہ ہوں اسے کوئی تم سے نہیں چھین سکتا…میں چھیننے ہی نہیں دوں گا…اور رہ گئیں تم اسماء راۓ… تو تمہارا عروج آج رات ختم ہو جاۓ گا”
اس نے خود سے عہد کیا تھا
………………………
جاری ہے
