No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
وہ انجانے میں ہی ناشیہ کے واپس آنے کا انتظار کرتا رہا, اس نے سوچا کہ شادی کی چھٹی ختم ہو گئی تو وہ ری جوائن ضرور کرے گی لیکن… دو مہینے گزر گئے, اس دن بھی اس نے سرسری سا ایک کولیگ سے اس کی بابت پوچھا تو وہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگا
“رافع… تو کس دنیا میں رہتا ہے یار… ؟؟؟”
“کیا ہوا ؟؟” وہ حیران تھا
“میڈم ناشیہ تو دو مہینے پہلے ہی ریزائن کر گئی تھیں, انہوں نے شاید کہیں اور جوائن کر لیا ہے” اس نے کہا, رافع بس خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا, وہ تو سارے راستے مسدود کر گئی تھی, سبھی رابطے ختم کر گئی تھی, کانٹیکٹس, واٹس ایپ, فیس بک, انسٹا… ہر جگہ بلاک کر گئی تھی
اس دن شام کو اسے شافع کی کال آئی, حریم کے گھر والے آۓ ہوۓ تھے, وہ ناچار کوچنگ سینٹر سے سیدھا گھر پہنچا, ملنا ملانا تو بس ایک فارمیلیٹی تھی, رافع ہر طرح سے ان لوگوں کا دیکھا بھالا تھا, اور پھر حریم چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی… فل اصرار تھا اس کا… اس کی والدہ اپنے تئیں بات پکی کر گئیں
“رافع کیا کرنا ہے اب ؟؟؟ وہ مجھے بلا کر گئے ہیں ؟؟؟” اس رات روبینہ نے اسے گھیر لیا تھا
“انہیں سب پتہ ہے رافع… تیرے باپ کے بارے میں بھی سب جانتے ہیں” روبینہ نے کہا
“امی جیسے آپ کی مرضی… ” وہ جیسے لڑتے لڑتے تھک گیا تھا
“شافع… اپنے باپ کو بھی بتا دینا” وہ کہہ کر اٹھ گئیں تھیں, اگلے ہی دن شافع انہیں اور فرح کو حریم کے گھر لے آیا, اسے گاڑی مل گئی تھی, فرح خود چایے جیسی بھی تھی, بہر حال ان لوگوں سے تو خوش ہو کر ہی ملی… حریم میں کوئی کمی نہیں تھی, وہاں سے واپسی پر شافع نے بابر انصاری کو کال کر کے گھر آنے کا کہا تھا
“چھان بین کر لی ہے ؟؟؟” وہی بے تاثر سا لحجہ… وہی سگریٹ کے مرغولے
“جی… اس کا ایک بھائی میرا کلاس فیلو تھا, دوسرا رافع کے کالج کا ایڈمن ہے, یہ خود بھی اسی کالج میں ہوتی ہے” شافع ناک پر رومال رکھ کر بیٹھا تھا
“وہ پہلے والی لڑکی کا کیا ہوا ؟؟” اسے ساری خبریں تھیں
“اس کی کہیں اور شادی ہو گئی, وہ ملک ذات کی تھی, انہوں نے رشتہ نہیں دیا” شافع نے کہا
“چلو میں ذرا پتہ کروا لوں….” وہ حریم کی تصویر دیکھتے ہوئے بولا تھا, تبھی فرح چاۓ لے آئی
“فرح پتر خوش ہے …؟؟؟ اب تو تیری گاڑی میری گاڑی سے بھی بڑی ہے” وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا تھا
“ہاں جی تایا جی… ” وہ مسکراتے ہوئے بولی تھی
“اب تو سب ٹھیک ہے ؟؟؟” فرح کچن میں گئی تو بابر نے شافع سے پوچھا, اس نے ایک نظر روبینہ کو دیکھا تھا
“عادتیں چھوڑی جا سکتی ہیں… خصلتیں کیسے بدلی جائیں ؟؟؟” وہ کہہ کر اٹھ گئی تھیں
ایک مہینے بعد ان دونوں کی منگنی ہو گئی تھی
……………………….
وہ اپنے کمرے میں کانوں میں ہینڈ فری دیئے لیٹا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی
“آ جاؤ… ” اس کے کہتے ہی زرقا نے اندر جھانکا تھا
“دو منٹ بات سنننا پلیز.. ” وہ بولی
“خیر ہے ؟؟؟” وہ ہینڈ فری نکالتے ہوئے بولا
“ہاں… اوپر آ جاؤ” زرقا کہہ کر نکل گئی, وہ موبائل جیب میں ڈالتے ہوئے اوپر آ گیا… زرقا کے پیچھے اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس کی نظر دیوار سے ٹیک لگاۓ طہٰ پر پڑی تھی
“اذن… بیٹھو” زرقا نے صوفے کی طرف اشارہ کیا تھا, وہ خاموشی سے بیٹھ گیا
“اذن یہ… طہٰ ہے” زرقا نے بات شروع کی تھی
“ہاں مجھے یاد ہے… ” وہ بولا
” میں اور طہٰ…. ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں” وہ پھر بولی
“ہاں یہ بھی پہلے بتایا تھا تم نے” اذن نے کہا
“دیکھو اذن… صورتحال بالکل واضح ہے, چھبیس سال پہلے حمنہ پھپھو اور طہٰ کے چاچو نے شادی کر لی تھی… خاندان اور برادری کے خلاف جا کر… اور پھر حدید بھائی اور غاشیہ نے بھی یہ ہی کیا… کیونکہ گھر والے نہیں مان رہے تھے… ” اذن نے اسے بیچ میں ٹوکا تھا
“بس تو پھر بات تو ختم ہو گئی نا زرقا… کہ گھر والے نہیں مانیں گے… کسی صورت میں بھی” وہ بولا
“اذن میں نے ابو کو ناراض کر کے طہٰ سے کورٹ میریج نہیں کرنی… ” وہ بولی
“تو پھر… ؟؟؟؟”
“طہٰ کے پاس ایک پلان ہے… ” زرقا دھیرے سے بولی تھی, اذن نے فوراً طہٰ کی طرف دیکھا
“اور اس پلان کے مطابق… اگر تم ساتھ دو تو میں اور
طہٰ ایک ہو سکتے ہیں” زرقا نے کہا
“کیا پلان ہے ؟؟؟؟” اذ ن نے پوچھا, طہٰ دھیرے دھیرے اسے پلان بتاتا چلا گیا
اور پلان ختم ہوتے ہی اذن فاروق راۓ چھت کو جا لگا تھا
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو تم دونوں… مجھے کوئی شوق نہیں ہے قربانی کا بکرا بننے کا سمجھے… اور تم دونوں کوئی ہوش کے ناخن لے لو, یا تو ماضی سے عبرت حاصل کرو یا پھر وہی کر لو جو حدید اور غاشیہ نے کیا “وہ تن فن کرتا کمرے سے نکل گیا تھا
………………………
رات نو بجے کا وقت تھا, حدید اور غاشیہ دونوں لیز کا پیکٹ درمیان میں رکھے پوری طرح سکرین پر چلتی “Fallout” میں مگن تھے, حدید نے کراؤن سے ٹیک لگا رکھی تھی اور غاشیہ کا سر اس کے سینے پر دھرا ہوا تھا, اچانک غاشیہ کا سیل بجا, کوئی انجان نمبر تھا, اس نے کال ریسیو کر کے کان سے لگا لی
“کون… ؟؟؟” غاشیہ نے حسب عادت پوچھا تھا
“اتنی جلدی بھول گئیں ؟؟؟” غیر شناسا سی آواز
“کون ہو ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“one of your lover… “
ًغاشیہ نے تنک کے کال کاٹ دی
“کون تھا… ؟؟؟” حدید نے پوچھا
“رانگ نمبر… ” وہ دوبارہ سکرین کی طرف متوجہ ہو گئی, سیل پھر بجا تھا, اس نے کال کاٹ دی, پھر بجتا ہی گیا
“ادھر دو مجھے… ” حدید اکتا کر بولا اور کال ریسیو کر لی
“کون بول رہا ہے ؟؟؟”
“بتایا تو ہے… “
“مجھے بھی بتا دے… ” حدید کو غصہ آ گیا
“one of your wife’s closed love… “
غیر مانوس سی آواز مسکرائی تھی
“سالے تجھے پتہ بھی ہے کہ میری بیوی کون ہے ؟؟” حدید نے بس یونہی پوچھ لیا
“غاشیہ ملک… تیمور ملک کی بیٹی, غیور ملک کی پوتی…میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں حدید راۓ… ” آواز مسکراتے ہوئے کال کاٹ گئی تھی, حدید دم بخود بیٹھا رہ گیا تھا
…………………..
“اسماء… ” صمد نے اسے دھیرے سے پکارا, اسماء اس کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھی
“یار بس کر دے اب… ” صمد نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھا تھا جسے اسماء نے بری طرح جھٹک دیا
“اسماء… اب ایسے کرنا ہے ؟؟؟؟” وہ بولا
“ہاں… ایسے ہی کرنا ہے” وہ سخت لحجے میں بولی
“اسماء ہر کام میں خدا کی مصلحت ہوتی ہے, اس بات پر یقین کیوں نہیں رکھتی ہو… ؟؟غاشیہ سے نفرت اپنی جگہ لیکن… اس نفرت میں اندھی ہو کر قاتل تو مت بنو” وہ بولا, اسماء کرنٹ کھا پلٹی
“تو میں اب قاتل بن گئی ہوں ؟؟؟” وہ تڑخ کر بولی تھی
“تم نے جان بوجھ کر اسے دھکا دیا ” صمد نے کہا
“میں اسے زندہ زمین میں گاڑھ دوں گی کسی دن… اس دن قاتل کہنا مجھے” وہ بولی, صمد تاسف سے اسے دیکھ کر رہ گیا
“اسماء… بس کچھ ہی مہینوں کی بات ہے, پھر وہ دونوں شفٹ ہو جائیں گے”صمد ذرا نرمی سے بولا
“میری بلا سے بھاڑ میں جائیں… ” وہ بولی
“اچھا.. بس کرو” صمد نے اس کے گرد حلقہ بنایا تھا
“دور ہو جائیں… ” وہ بدک گئی
“اس سارے فساد کی جڑ آپ ہیں صمد… آپ کی شہہ پر حدید کو اتنا حوصلہ ہوا کہ اس نے غاشیہ سے شادی کر لی… صرف اور صرف آپ کی شہہ پر وہ اسے اس گھر میں لے آیا… اور صرف آپ کی وجہ مجھے اس دو ٹکے کی لڑکی سے معافی مانگنی پڑ گئی” اسماء پھٹ ہی پڑی
“اچھا جو ہونا تھا سو ہو گیا… تم اس معاملے کو بھول کیوں نہیں جاتیں” صمد نے کہا
“میں نہیں بھول سکتی صمد… برداشت کرنا ہے تو کریں ورنہ آپ کی مرضی” اسماء نے ٹھوک کر کہا اور دوسری طرف کروٹ بدل گئی, صمد ساکت سا بیٹھا اسے دیکھتا رہ گیا تھا
…………………………
صفوان کو جیل گئے پورا ایک ہفتہ ہو گیا تھا, فرزانہ اور نفیس کو ایک طرف تو اس کی پریشانی لاحق تھی اور دوسری طرف انہیں تیمور ملک کا ڈر بھی تھا, اگر کہیں انہیں پتہ چل جاتا کہ شادی کے صرف دو مہینے بعد ہی ان کے جوائی راجہ نے کیا گل کھلا دیا یے تو وہ ایک منٹ بھی ناشیہ کو وہاں نہیں رہنے دیتے… نفیس اور فرحان دن رات ادھر ادھر لوگوں کے پاس خوار ہو رہے تھے
اس رات بھی وہ دونوں دس بجے گھر واپس آۓ
“کیا بنا… ؟” فرزانہ دوڑ کر ان کی طرف آئی تھیں
“کچھ نہیں بنا امی… قریشی بہت غصے میں ہیں, انہوں نے پنچائیت میں صاف کہہ دیا ہے کہ صفوان بھائی نے نہ صرف ان کی لڑکی کو ورغلایا ہے بلکہ اسے اغواء بھی کیا ہے اور لڑکی ابھی بھی صفوان کے پاس ہی ہے” فرحان کہتا چلا گیا, ناشیہ بھی باہر آ گئی تھی
“یہ کیا بات ہوئی… ؟؟؟ لڑکی تو ان کے گھر میں بیٹھی ہے” فرزانہ چیخیں
“امی یہ سبھی کو پتہ ہے لیکن… کون گواہی دے گا ہمارے لئے ؟؟؟ صفوان بھائی نے کبھی کوئی نیکی یا اچھائی کمائی ہو تو لوگ ان کے لیے گواہی دیں نا… ؟؟؟ساری عمر اسے چھیڑ دیا, اسے چھیڑ دیا, یہاں کھڑے ہو گئے, وہاں کھڑے ہو گئے, اسے تاڑ لیا, اسے تاڑ لیا… کبھی پڑیاں بیچنے میں ملوث ہو جاتے ہیں, کبھی نشہ کرنے لگ پڑتے ہیں, کبھی لڑکی بھگا لی, کبھی شرابی بن گیے… دس سالوں سے تو میں دیکھ رہا ہوں ان کے یہ سارے کرتوت…” فرحان یکدم ہی پھٹ پڑا
“زیادہ بکواس نہ کر… ” فرزانہ کو ناشیہ سے شرم آئی تھی
“یہ بکواس نہیں ہے امی… میں تو کہتا ہوں بس کریں اب, کچھ عرصہ پڑ رہنے دیں سلاخوں کے پیچھے…شاید عقل ٹھکانے آ جاۓ” وہ ستا پڑا تھا
“حنا کے ابو… کوئی دینا دلانا ہی کر لیتے ” فرزانہ نے کہا
“ایک لاکھ مانگتے ہیں اگلے… “نفیس نے بھڑک کر کہا
“یہ کیا بات ہوئی بھلا… لڑکی گھر میں بیٹھی ہے اور ہم سے ایک لاکھ… ” وہ بولیں
“تو میں کیا کروں ؟؟؟ میں نے کہا تھا اس الو کے پٹھے کو کہ شادی کے دو مہنے بعد ہی گل کھلا لے” نفیس بھی پھٹ پڑا… فرزانہ نے بڑی آس سے ناشیہ کی طرف دیکھا
“پتر… تیرے پاس ہوں گے کچھ پیسے ؟؟” وہ بولیں
“آنٹی میرے پاس کہاں سے آۓ اتنے پیسے ؟؟؟” وہ خود پریشان تھی
“ناشیہ… اپنے ابو سے مانگ لے… چل ادھار ہی دے دیں, پھر واپس کر دیں گے” نفیس نے لقمہ دیا تھا
“لیکن پھوپھا.. ” وہ کشمکش میں پڑ گئی
“ابو کہیں گے اتنے پیسے کیا کرنے ہیں ؟؟؟
“کہہ دینا شاپنگ کرنی ہے بس… ” وہ ہنسا, ناشیہ چپ چاپ اندر کی طرف مڑ گئی, ساری رات وہ موبائل ہاتھ میں لیکر بیٹھی رہی, کوئی دس دفعہ اس نے تیمور ملک کا نمبر ملایا اور پھر کاٹ دیا… ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی, آخر تھک ہار کر اس نے خالد کا نمبر ملا لیا
“کیا حال ہے ناشیہ… ” وہ بڑے خوشباش لحجے میں بولا تھا, ناشیہ نے بھی رسمی سا حال احوال دریافت کر لیا
“وہ… خالد بھائی… ایک کام تھا آپ سے ؟؟؟” وہ ذرا ہچجچاتے ہوۓ بولی تھی
“ہاں بیٹا.. کہو” وہ بولا
“خالد بھائی… ایک لاکھ روپے چاہئیے تھے… ” وہ بمشکل بولی
“خیریت ہے… ؟؟” وہ چونک گیا, ناشیہ نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اسے ساری کہانی سنا دی
“خالد بھائی پلیز… ابو کو نہیں بتانا کچھ بھی… اگر ممکن ہے تو ٹھیک ہے ورنہ کوئی بات نہیں” وہ آخر میں رو پڑی تھی
“کب چاہئے ؟؟؟” خالد نے پوچھا
“جتنی جلدی ہو سکے… “
“شام تک کر دیتا ہوں… تو فکر نہ کر” وہی مان بھرا لحجہ
“شکریہ خالد بھائی… میں فرحان کو بھیج دوں گی شام کو” ناشیہ نے کہا
“ناشیہ بیٹے… تجھے تایا جی کو بتانا چاہیے ” خالد نے دھیرے سے کہا تھا
“نہیں خالد بھائی… مجھے دیکھنے دیں کہ میرے باپ کے چنے میں میرے لیے کتنی خیر ہے ؟؟؟” وہ کال کٹ کر گئی تھی
…………………….
رافع کی ڈیٹ فکس ہو گئی تھی, روبینہ اور فرح دونوں شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئیں, شافع کا پورا ارادہ تھا کہ شادی سے پہلے گھر چینج کر لے گا, دن رات ایک کر کے اس نے شہر کے ایک اچھے علاقے میں کسی نئی ہاؤسنگ سکیم کے تحت گھر دیکھ لیا تھا, دس مرلے پر بنا وہ ڈبل سٹوری اچھا خاصا خوبصورت گھر تھا, جیسے ہی اس کی پروموشن ہوئی… اس نے گھر کا ایڈوانس جمع کروا دیا, فرح کی توجہ بھی کچھ عرصے کے لئے اپنے دھندوں سے ہٹ گئی تھی
“شافع… ایک بات کہوں تجھے ؟؟؟” اس رات روبینہ نے اسے بلایا
“تو نے گھر خریدتے وقت ایک بات نہیں سوچی… ” وہ بولیں, شافع سمجھ نہ سکا
“وہاں سے فرح کا میکہ بس چند گلیوں کی مسافت ہی رہ جاتا ہے” روبینہ نے کہا, شافع چپ رہ گیا
“صبح و شام یہ لڑکی وہیں موجود رہا کرے گی” روبینہ کو اندیشے ستا رہے تھے
“امی… اگر اس نے میرے ساتھ رہنا ہوا تو رہ لے گی… لیکن اگر اس نے ٹھان لی کہ ادھر ادھر خوار ہی ہونا ہے تو پھر چاہے میں اسے کوہ قاف ہی کیوں نا لے جاؤں… وہ نہیں رکے گی میرے پاس” شافع نے کہا تھا
سیٹھ بابر نے شافع کے منع کرنے کے باوجود رافع کی شادی کا سارا کھانا اپنی طرف سے دیا تھا, شادی سے صرف ایک ہفتہ پہلے وہ نئے گھر میں شفٹ کر گیے تھے, نچلا پورشن شافع کے پاس تھا, اوپر والے پورشن میں حریم کا سامان سیٹ کروا دیا تھا
اس رات شاید رافع نے بھی ناشیہ ملک کو آخری دفعہ ہی یاد کیا تھا…. اور پھر دل کے کسی کونے میں چھپا کر حریم صدیقی کا ہو گیا تھا
…………………………
“اذن… پھر کیا سوچا ہے تو نے ؟؟؟ آمنہ نے اسے پھر گھیر لیا تھا
“امی… جانے دیں ” وہ کنی کترا گیا
“تجھے مسئلہ کیا ہے ؟؟؟” وہ تڑخ پڑی
“مجھے یہ مسئلہ ہے کہ آپ کے منہ میں اسماء کی زبان بولتی ہے” وہ بولا
“اذن… فضول نہ ہانک, زرقا میں کیا کمی ہے ؟؟؟” وہ بپھر گئیں
“میں نے کب کہا کہ اس میں کوئی کمی ہے” اذن نے کہا
“تو پھر کروں بات عبید بھائی سے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“امی… میری ایک بات کان کھول کر سن لیں, اگر کل کلاں کو اسماء یا اسراء کا اپنے سسرال میں کوئی ایشو بنا… تو اس کے بدلے میں کوئی بھی زرقا پر انگلی نہیں اٹھاۓ گا” وہ ٹھوک کر بولا تھا, آمنہ بس اسے دیکھ کر رہ گئیں, عمر فاروق خاموش ایک طرف بیٹھے تھے
“ابو… جس علاقے میں میں ماموں کا سٹور ہے اس سے ذرا آگے ایک نیو ہاؤسنگ سکیم چلی ہے… بڑے زبردست ڈبل سٹوری گھر ہیں.. میں چاہ رہا تھا ہم دونوں ایک بار وزٹ کر کے آتے… “اذن مدعے پر آیا
“ہاں میں بھی سوچ رہا ہوں کہ گاؤں والی زمین بیچ دوں, کوئی خاص فایدہ تو ہے نہیں اس کا, تجھے شہر میں گھر لے دوں اور لڑکیوں کو ان کے حصے دے دوں ” عمر فاروق نے کہا, آمنہ بیگم کچن میں چلی گئی تھیں
“آپ لوگ تو میرے ساتھ ہی جاییں گے نا… ؟؟؟” اذن نے پوچھا
“وہ بعد کی بات ہے… ” انہوں نے کہا
“اور ارمغان… ” اذن نے پوچھا
“یہ مکان اس کے نام کروا دوں گا” وہ انتہائی دھیمے سے بولے تھے, اذن نے اثبات میں سر ہلا دیا
“اپنی ماں سے ذکر مت کرنا ابھی… ” وہ بولے, اذن سر ہلا کر باہر نکل آیا
“اذن… ” اس سے پہلے کہ وہ گیٹ سے باہر نکلتا, ارمغان نے اسے آواز دے لی
“کہاں جا رہا ہے ؟؟؟؟” اس نے پوچھا
“یونہی… پھرنے ٹرنے… ” اذن نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“سب خیر تو ہے نا… ؟؟” ارمغان نے پوچھا
“ہاں… کیا ہوا ؟؟؟”
“پچھلے دنوں اسماء اور اسراء دونوں آئی ہوئی تھیں نا… اسلیے پوچھ رہا ہوں, اسماء کی ڈراؤنی ڈراؤنی آوازیں کمرے تک آ رہی تھیں” ارمغان ہنستے ہوئے بولا
“ہاں یار…. جب سے حدید نے انیتا سے شادی کو انکار کیا ہے تب سے اسماء نے جیسے حدید اور اس کی بیوی کے خلاف ایک محاذ سا کھول لیا ہے… پچھلے دنوں اس بیچاری کا مس کیرج ہو گیا ” اذن نے کہا
“غاشیہ کا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں یار… اسماء کچھ زیادہ ہی اوور ہو جاتی ہے اس کے معاملے میں, حالانکہ وہ لڑکی بہت اچھی ہے… ” اذن کہتا چلا گیا, ارمغان بس چپ چاپ اسے سن رہا تھا
……………………..
“اذن.. بات تو سنو” زرقا نے آج پھر اس کا راستہ روک لیا تھا
“زرقا پلیز یار… میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا” وہ بولا
“اذن… میں اور کس سے کہوں ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولی
“تم کسی سے بھی نہ کہو زرقا… تمہیں کیا پڑی ہے ؟؟؟” وہ پھٹ پڑا, زرقا یکدم خاموش سی ہو گئی, اذن کو واضح طور پر لگا جیسے اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں
“زرقا… میرا وہ مطلب… “
“چلو ٹھیک ہے… ” وہ اپنی آنکھیں چھپاتی ہوئی اس کے کمرے سے نکل گئی, اسماء اور اسرء دونوں واپس آ گئیں تھیں, صمد اور اسماء کی سرد جنگ ویسے ہی چل رہی تھی, درید کا اس کے بعد سے کوئی فون نہیں آیا تھا
مغرب سے ذرا بعد کا وقت تھا جب اذن اوپر آیا, زرقا حسب معمول نوٹس پکڑے ریلنگ کے پاس بیٹھی تھی, وہ دھیرے سے اس کے سامنے بیٹھ گیا
“زرقا ایم سوری یار… ” وہ شرمندہ سے لحجے میں بولا تھا
“نہیں… کوئی بات نہیں” وہ بولی, اذن نے پوری نظر بھر کر اسے دیکھا تھا,وہ ہلکے سبز اور کاسنی رنگ کے امتزاج کا سوٹ پہنے ہوئے تھی, اسی امتزاج کا ریشمی دوپٹہ اس نے کندھوں پر ڈالا ہوا تھا, ہلکے ہلکے گھنگھریالے بال ڈھیلی سی پونی میں مقید تھے, جن میں سے دو, تین لٹیں باہر نکلی ہوئی تھیں, سنہری مائل گندمی سی رنگت, صاف شفاف بے ریا سا چہرہ, بڑی بڑی خوبصورت آنکھیں…اور چہرے پر پھیلی بے وجہ کی اداسی
وہ محبت نہ کرتی تو اس لمحے اس کا چہرہ کتنا پر سکون ہوتا ؟؟؟
“تمہیں پتہ ہے اس بار اسماء باجی نے امی اور ابو سے میرے اور تمہارے رشتے کی بات کی ہے… “اذن نے گویا اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا, وہ بس بے یقین سی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی
“دیکھو زرقا… مجھے تم سے یا طہٰ سے کوئی دلی دشمنی نہیں ہے…میں تم دونوں کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوں لیکن… صرف اس لمحے تک جب تمہارا اور اس کا نکاح ہو جاۓ بس… اگر ٹرین چلتی چلتی ذرا سی بھی پٹری سے نیچے اتری… تو میں بھی اسی وقت ٹرین سے اتر جاؤں گا” اذن نے مضبوط لحجے میں کہا تھا
………………………..
جاری ہے
