No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
گاڑی میں موت جیسی خاموشی تھی… وہ لال لال آندھی اب زور پکڑ گئی تھی, سڑک کے دونوں اطراف میں لگے درخت آندھی کے زور سے زمین تک جھکے جا رہے تھے… ناشیہ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاۓ پتھرائی ہوئی آنکھوں سے باہر دیکھ رہی تھی, اس کا پورا بدن ابھی بھی لرز رہا تھا, الجھے ہوئے بے ترتیب بال… پریشان حال چہرہ, رو رو کر سوجی ہوئی آنکھیں اور ہونٹ کے کناروں پر جمتا ہوا خون…وہ ابھی بھی بنا دوپٹے کے ہی تھی, رافع بس اسے ساتھ لئے کمرے کی دہلیز سے ہی واپس مڑ آیا تھا, گاڑی کا رخ تیمور ملک کے گھر کی طرف تھا
گھر کے سامنے پہنچ کر اس نے گاڑی روک دی اور نیچے اتر گیا, پھر گھوم کر آیا اور ناشیہ کی طرف کا دروازہ کھولا
“آؤ… ” اس نے ہتھیلی پھیلائی تھی, ناشیہ نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا, رافع کا سہارا لیکر وہ باہر نکلی تھی…دو قدم چلی, پچھلے کئی گھنٹوں سے پیٹ خالی تھا, گلے سے پانی کا قطرہ تک نہیں اترا تھا… ٹانگیں لڑکھڑا سی گئیں, ایک بار پھر رافع نے ہی اسے تھاما تھا, دھیرے دھیرے اس کے ساتھ چلتا ہوا وہ اسے اندر لے آیا
راۓ عبید اور خالد ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے تھے, شازیہ کھانے کے برتن رکھ رہی تھی, طہٰ, معاذ کو گود میں لیے بیٹھا تھا
تبھی دروازہ کھلا
“ناشیہ… ” شازیہ کے لبوں سے نکلا تھا, اس کے برابر میں کھڑے رافع کو دیکھ کر سبھی گنگ تھے
“میری بچی… ” تیمور ملک کھڑے ہو گئے
“آج فیصلہ کریں ابو… ایک وہ جسے آپ نے چنا تھا….اور ایک یہ جسے میں نے چنا تھا” ناشیہ کی آواز بھی اس کی آنکھوں کی طرح خشک ہو چکی تھی
“آپ بتائیں خالد بھائی… کہ میرے باپ کے چنے میں میرے لئے کیا بھلائی تھی ؟؟” وہ خالد کی طرف مڑی وہ خاموش کھڑا رہ گیا, رافع دھیرے سے واپس پلٹ گیا تھا
“ناشیہ…میری بچی مجھے نہیں پتہ تھا کہ صفوان ایسا… ” ناشیہ نے سپاٹ لحجے میں ان کی بات کاٹ دی
“جھوٹ… جھوٹ ہے یہ ابو… آپ کو سب پتہ تھا, آپ بچپن سے دیکھ رہے تھے اسے, آپ کو اس کی خصلتوں کا, اس کی عادتوں کا, اس کی برائیوں کا… سب پتہ تھا… آپ سب جانتے تھے…اور آپ نے جانتے بوجھتے مجھے اس کے سپرد کر دیا… ” ناشیہ کی آواز ذرا سی اونچی ہوئی تھی
“آپ ڈر گئے تھے… آپ کو لگا کہ کہیں میں بھی وہی نہ کر گزروں جو غاشیہ نے کیا… جو چاچو نے کیا… آپ ایک بار پھر ہارنے سے ڈر گئے ابو… ” کتنا وحشت ناک لحجہ تھا اس کا
“ناشیہ میری بات سنو… مجھے ایک بار بتاتی تو سہی کہ وہ ایسے کرتا ہے… ” تیمور ملک کے کہتے ہی وہ پھٹ پڑی
“خدا کو حاظر ناظر جان کر قسم کھائیں کہ آپ کو نہیں پتہ تھا وہ ایسا ہے… ” ناشیہ چیخ پڑی تھی
“ابو بس ایک ہی بار کہا تھا نا… کہ رافع سے شادی کرنی ہے… اس کے بعد تو کہا ہی نہیں… اس کے بعد تو بس بار بار یہ ہی کہا کہ بھلے ہی رافع سے نہ کریں… لیکن صفوان سے بھی نہ کریں, کتنی بار آئی تھی میں آپ کے پاس, کتنی بار ہاتھ جوڑے تھے میں نے, کتنی بار گڑگڑائی تھی میں… لیکن آپ کو اس لمحے جیتنا تھا ابو… کس سے… ؟؟؟ اپنی بیٹی سے, آپ کو دنیا والوں کو دکھانا تھا کہ دیکھو میں نے اپنی بیٹی کی مرضی مار کر اسے اپنی مرضی سے بیاہ دیا…میں کیوں کہتی آپ سے کہ وہ اچھا نہیں نکلا ؟؟؟ آپ کو کیا پتہ نہیں تھا” اس کی چیخ پورے لاؤنج میں سنائی دی تھی
“ناشیہ… کون باپ اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں آگ میں جھونکتا ہے ؟؟؟” شازیہ کی بس ہو گئی
“وہ باپ جس کے لئے اس کی انا, اس کی ضد, اس کی ذات, اس کی برادری, اس کی عزت, اس کی بیٹی سے بڑھ کر ہوتی ہے… تیمور ملک جیسا باپ خود اپنے ہاتھوں اپنی بیٹی کو آگ میں جھونکتا ہے ” وہ بولی اور تیر کی طرح طہٰ کی طرف بڑھی
“دو میرا بچہ… ” اس نے معاذ کو اس کی گود سے کھینچا تھا
“مجھے انت دیکھنا تھا ابو… اور وہ یہ تھا… یہ کہ میرا شوہر کسی پراۓ شخص کی عزت پر ہاتھ ڈالے اور بدلے میں وہ شخص میرے سر سے چادر کھینچ لے, میرے کپڑے پھاڑ دے…” وہ بلک بلک کر روئی تھی
“دو سال اس شخص نے مجھے پیروں کی جوتی بنا کر رکھا لیکن میں نے صبر کیا, اس کی ہر ذیادتی پر میں خاموش رہی, اس کے تھپڑ کھاۓ, اس کی گالیاں سنی, اس کے ٹھڈے کھاۓ… دو سال میں نے اس شخص کی بےوفائی جھیلی… اپنی آنکھوں سے اسے گھر سے باہر عیاشیاں کرتے دیکھا, غیر عورتوں پر دولت لٹاتے دیکھا لیکن میں چپ رہی… کیوں ؟؟؟ کیونکہ یہ سب میرے باپ نے میرے مقدر میں لکھا تھا, وہ شخص جو ایک بھٹے پر پانچ سو روپے کی دہاڑی کرتا تھا وہ میرے باپ نے میرے لئے چنا تھا… وہ شخص جسے پورے شہر نے بند کمرے میں زنا کرتے دیکھا.. وہ میرے باپ نے چنا تھا میرے لئے ” وہ بولی
“اچھا… جو تو نے چنا وہ کون ہے یہ بھی پتہ چل گیا ہو گا نا تجھے ؟؟؟” شازیہ تیمور ملک کا دھواں دھواں چہرہ دیکھ نہیں پائی تھی
“کون ہے وہ… ؟؟؟ ” ناشیہ اس کی طرف مڑی
“تیری عزت پر ہاتھ ڈالنے والے کا خون ہے وہ… ” شازیہ چیخ پڑی
“یہ کہاں لکھا ہے شازیہ ملک کے بیٹا ہمیشہ باپ پر ہی جاتا ہے… کہاں لکھا ہے کہ سیاہ کالے مقدروں والے باپ کا بیٹا اجالوں جیسا نہیں ہو سکتا ؟؟؟ کس نے کہہ دیا کہ باپ لٹیرا ہے تو بیٹا بھی راہزن ہی ہو گا” وہ اس کے دو بدو ہوئی تھی
“میں نے کہا… میں نے کہا کہ باپ لٹیرا ہے تو بیٹا بھی راہزن ہی ہوتا ہے… کیونکہ پندرہ سال پہلے جو مجھے ملا… وہ راہزن ہی تھا… اسی بدکرادار باپ کا ناہنجار خون تھا وہ… ” شازیہ زور سے چنگھاڑی تھی, خالد اور طہٰ دونوں ششدر رہ گئے
“پندرہ سالوں میں ایک بار بھی پلٹ کر نہیں آیا وہ… یہ پوچھنے بھی نہیں کہ میں زندہ ہوں یا مر گئی, تجھے کیا لگتا ہے جب وہ اپنی ماں کے ساتھ آیا تو میں اس کی ماں کو پہچان نہیں سکی… روبینہ انصاری… وہ اس رات وہیں تھی… اسی چھت پر… جہاں تیرے عاشق کے لٹیرے باپ نے میری چادر کھینچی تھی… اور اس کا بیٹا… مجھ سے محبت کا دعویدار اس کا بڑا بیٹا… وہ بس اپنی گاڑی کسی کھمبے سے ٹکرا کر سب کچھ بھول بھی گیا…یہ مرد سارے ایک جیسے ہوتے ہیں ناشیہ ملک… انہیں صرف اپنے نفس کی تسکین کے لئے ایک خوبصورت جسم. کی ضرورت ہوتی ہے بس… یہ پلٹ کر آنے والوں میں سے نہیں ہوتے… تجھے بڑا زعم ہے نا کہ تیرا والا تجھے وہاں سے بچا لایا… مجھے بھی بڑا زعم تھا کہ میرے والا بھی پلٹ کر آۓ گا, آخر کو محبت کرتا تھا مجھ سے… جان دینے کے وعدے کیے تھے اس نے لیکن… نہیں آیا… کیونکہ جس لڑکی کے سر سے چادر چھن جاۓ وہ پھر بھلا کس کام کی ؟؟؟” شازیہ کہتی چلی گئی
“تیرے والا بھی پلٹ کر نہیں آۓ گا… باپ کا چناؤ غلط ہے تو تیرا بھی غلط ہے ناشیہ… آج کے بعد تیرا نام بھی یاد نہیں ہو گا اسے” شازیہ نے نفرت سے کہا تھا
“جو کچھ میرے ساتھ ہو چکا… اس کے بعد اب بھلے ہی ساری دنیا کو میرا نام بھول جاۓ… کوئی فرق نہیں پڑتا” ناشیہ نے کہا اور معاذ کو لیکر دروازے کی طرف بڑھی
“ناشیہ بات سنو.. ” طہٰ اس کے پیچھے آیا تھا
“کوئی میرے پیچھے نہیں آۓ گا… آج اگر میں نے غاشیہ والا قدم اٹھایا ہوتا تو شاید میری مقدروں میں یہ سیاہ کالی رات نہ لکھی ہوتی…چھوڑ دو مجھے” وہ رو رو کر تھک چکی تھی
” میں تمہارے ساتھ جاؤں گا… ” اس نے معاذ کو ناشیہ کی گود سے لیا تھا
“طہٰ… یار اس باپ نے تم لوگوں کو پال پوس کر آج کے دن کے لئے بڑا کیا تھا کہ جب اسے ضرورت پڑے تو چھوڑ جاؤ” خالد نے کہا تھا
“واقعی خالد بھائی…واقعی انہیں ہماری ضرورت ہے… ؟؟؟”اب طہٰ کی باری تھی
“بچپن سے لیکر جوانی تک ہر خواہش پوری کی ہے… اگر صرف ایک رد بھی کر دی تو کیا ہوا ؟؟” خالد نے کہا
“یہ ہی تو دکھ ہے خالد بھائی… یہ ہی تو المیہ ہے… ماں باپ بچپن سے لیکر جوانی تک ہر خواہش پوری کرتے ہیں, پڑھاتے ہیں, لکھاتے ہیں, کھلاتے ہیں, پلاتے ہیں, پالتے ہیں, کسی مقام تک پہنچاتے ہیں… سب کچھ کرتے ہیں… لیکن اس تربیت پر یقین کیوں نہیں رکھتے… ؟؟؟ ابو نے پال پوس کر بڑا کیا تو اپنی تربیت پر مان کیوں نہیں رکھا… ؟؟؟ جب چاچو نے حمنہ کا نام لیا تو بھڑک کیوں گئے ؟؟؟ جب غاشیہ نے حدید کا نام لیا تو اسے باغی کیوں کہا… ؟؟؟ جب ناشیہ نے رافع کا نام لیا تو اس پر یقین کیوں نہیں کیا ؟؟؟ کیونکہ انہیں ملک ذات زیادہ عزیز تھی… بھائی عزیز نہیں تھا… بیٹیاں عزیز نہیں تھیں.. ” وہ پھٹ پڑا
“ابو آخر ہو کیا جاتا اگر آپ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سر جھکا دیتے… ہو کیا جاتا اگر ہمیشہ کی طرح یہ خواہش بھی پوری کر دیتے… ؟؟؟” خدا کی قسم میں اپنی دونوں بہنوں کا انجام دیکھ کر ڈر گیا… میں ڈر کے مارے آپ سے کہہ ہی نہیں سکا کہ… ابو مجھے بھی محبت ہو گئی ہے” وہ پھٹ پڑا تھا
“میں نے اپنے باپ سے یہ ہی سیکھا تھا… برادری ہماری عزت ہے… غیرت ہے…پیچھے چلی آ رہی ہزاروں پیڑھیوں سے ہم نے ذات سے باہر شادیاں نہیں کیں… کیوں ؟؟؟ کیونکہ ہم اپنے خون میں ملاوٹ نہیں کرتے, ہم ملک خون ہیں… ہم اسے ناخالص نہیں کرتے… میں نے وہی کیا… جو میں نے سیکھا… جو مجھے درست لگا… ” تیمور ملک نے دھیرے سے کہا تھا
“اس خون کو خالص رکھنے پر بخشش کی ضمانت ہے آپ کو ابو ؟؟؟ بولیں… ؟؟؟” طہٰ نے کہا
“ذرا سوچیں ابو… کہ اس خون کو خالص رکھنے کی خاطر آپ نے کیا کچھ کھو دیا… آپ کے سینے میں دل نہیں ہے ابو… مجھے تو لگتا ہے وہ پتھر بھی نہیں ہے ورنہ اب تک پگھل چکا ہوتا… ” طہٰ نے اپنی آنکھوں میں آیا پانی صاف کیا تھا
“اور خالد بھائی آپ کے سینے میں بھی پتھر ہے کیا… ؟؟؟ مجھے کیا پتہ نہیں کہ انہوں نے پورے چھبیس سال آپ کو یہ تک نہیں بتایا کہ… آپ کا ایک بھائی بھی ہے…” طہٰ نے کہتے ہی شازیہ دھک سے رہ گئی… اسے لگا تھا کہ یہ صرف اسے ہی پتہ ہے
“طہٰ… بس کر ” خالد اس کی طرف آیا
“کیوں بس کروں ؟؟؟ یہ بس کر دیں… یہ کیوں نہیں بس کر دیتے ؟؟؟” وہ چیخا
“پوچھیں ان سے… کیوں نہیں بتایا انہوں نے آپ کو کہ آپ کا ایک بھائی بھی ہے… ایک ہی باپ کا خون… پوچھیں ان سے کہ ان کی بیٹی نے آخر ایسا کونسا گناہ کر دیا تھا کہ دو سالوں سے انہوں نے اس کی شکل تک نہیں دیکھی… پوچھیں ان سے کہ آج میری اس بہن کی اسقدر اجڑی ہوئی حالت کا ذمہ دار کون ہے ؟؟؟ ” وہ رونے والا ہو گیا تھا
“صرف اور صرف آپ کی ضد… آپ کی انا… اور آپ کی اس سو کالڈ ذات کی وجہ سے ہم سب آج خالی ہاتھ ہیں… ” اس نے ناشیہ کو اپنے کندھے سے لگایا تھا اور دروازے کی طرف بڑھا
“ناشیہ… بچے وہ باپ ہے… باپ کو معاف کرنا کیا اتنا ہی مشکل ہے ؟؟؟” خالد نے ان دونوں ک راستہ روک لیا
“خالد بھائی… اس باپ کے لئے اتنا مشکل کیوں ہے… اولاد کو معاف کرنا” طہٰ نے کہا, تیمور ملک صوفے پر ڈھے سے گئے تھے
“ناشیہ… چلو اندر… ابھی تمہارا باپ زندہ ہے… میں زندہ ہوں… بھائی زندہ ہے… چل میرا بیٹا” خالد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا
…………………………
وہ اور شافع دونوں آگے پیچھے ہی گھر پہنچے تھے, شافع, ساجد کا موٹر سائیکل لے آیا تھا
“کیا ہوا ؟؟؟” روبینہ ان دونوں کے انتظار میں جاگ رہی تھیں, رافع بنا کوئی بات کئے سیدھا اوپر چلا گیا
“رافع… میری بات سن” شافع اس کے پیچھے ہی اوپر کو بھاگا
“رافع… دروازہ بند نہ کریں… ” وہ اس کے دروازہ بند کرنے سے پہلے ہی دروازے تک پہنچ گیا
“بھائی پلیز… ” رافع کا چہرہ ستا ہوا تھا
“رافع… میری بات سن… کچھ بھی الٹا سیدھا نہیں کرنا… کچھ بھی” وہ اس کا چہرہ تھام کر بولا تھا
“کاش… کاش میں اس شخص کا بیٹا نہیں ہوتا… کاش” درد اس کے چہرے پر لکھا ہوا تھا, شافع کے ہاتھوں. سے اپنا چہرہ چھڑوا کر وہ اندر چلا گیا
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” روبینہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں
“امی… فرح جس لڑکے کے ساتھ بھاگی تھی وہ اس لڑکی کا شوہر تھا جس سے رافع شادی کرنا چاہتا تھا… ” شافع نے کہا, رافع چپ چاپ اوندھے منہ بستر پر گر گیا, شافع اس لمحے اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہ رہا تھا
“کیا… ؟؟؟” روبینہ حیران رہ گئیں
“وہ لڑکی تو… ” انہوں نے بات ادھوری چھوڑ دی
“وہ تیمور ملک کی بیٹی ہے… ناشیہ ملک, وہ لڑکااس کی پھپھو کا بیٹا تھا… صفوان ملک…. دو سال پہلے دونوں کی. شادی ہوئی تھی, ایک بیٹا بھی ہے دونوں کا, اس کے شوہر کے ساتھ فرح کے تعلقات تھے, بھٹے پر دہاڑی کرتا تھا…ساجد بتا رہا تھا کہ کئی بار ابو نے ان دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑا تھا, کئی بار اس لڑکے کی پھینٹی بھی لگائی تھی… لیکن وہ باز نہیں آیا… جیسے فرح ہر چیز لے کر نکل گئی ایسے ہی وہ لڑکا بھی ہر شے پر ہاتھ صاف کر کے گھر سے چلا گیا تھا… ابو نے غصے میں آ کر تیمور ملک کی بیٹی کو اٹھوا لیا اور…. ” شافع بولتے بولتے یکدم رکا اور رافع کی طرف دیکھا
“…اور ہمیشہ کی طرح سیٹھ بابر انصاری نے اسے بھی نشانے پر رکھ لیا ہو گا… ” روبینہ نے انتہائی نفرت سے کہا تھا, وہ پندرہ سال پرانی رات یکلخت ہی ان کے ذہن میں بھی زندہ ہوئی تھی
وہ روتی ہوئی سترہ سالہ لڑکی… وہ ششدر سا انیس سالہ لڑکا…. اور وہ سرخ آنکھوں والا شیطان
“اس کی چادر کھینچ لی ہو گی, اس کے کپڑے پھاڑ دییے ہوں گے… ہے نا… ؟؟؟” وہ کہتی جا رہی تھیں
“امی… ” شافع دم بخود رہ گیا
“یہ ہی تو کرتا ہے وہ… یہ ہی تو سرشت ہے اس کی… انسان نہیں ہے وہ… بھیڑیا ہے بھیڑیا…” وہ ایک دم پھٹ پڑیں
“ابو نے کہا کہ… انہیں نہیں پتہ تھا کہ رافع اور ناشیہ… ” روبینہ نے اس کی بات کاٹ دی
“رافع اور ناشیہ کا نہیں پتہ تھا… واحد اور شازیہ کا تو پتہ تھا نا… ” وہ چیخ پڑی تھیں
“شازیہ… ” رافع اچانک ہی ان کی طرف مڑا
“شازیہ ملک… تیمور ملک کی بڑی بیٹی… ” روبینہ نے دھماکہ کیا تھا
“میں اس رات وہیں تھی… اسی چھت پر… میں نے یونہی اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا بابر کو بھیڑیا بن کر اس پر جھپٹتے ہوۓ… اسی رات واحد اور اس کا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا, وہ بیچارہ تو باپ سے حساب لیے بنا ہی چلا گیا” روبینہ کی آنکھیں نم ہو گئیں
“امی… تیمور ملک کو پتہ تھا ؟؟؟”شافع نے دھیرے سے پوچھا
“پتہ نہیں… ” وہ بولیں
“شازیہ نے بتایا ہی ہو گا ” وہ بولا
” پتہ نہیں… ” وہ پھر بولیں
“آپ اسے نہیں پہچان پائیں… ہو سکتا ہے وہ آپ کو پہچان گئی ہو…” شافع نے کہا
“اگر وہ واقعی مجھے پہچان گئی تھی… اور اس کے باوجود اس نے مجھے اپنے گھر کی چھت تلے کھڑا رہنے دیا… تو یہ اس کا ظرف تھا… ہر بار اس شخص کی پارسا بیٹیوں کا نصیب اسی شیطان سے پھوٹ جاتا ہے جس کے بیٹے محبت میں گرفتار ہو چکے ہوتے ہیں” روبینہ نے کہا
“رافع… ” وہ اس کے قریب ہوئی تھیں, وہ بس چپ چاپ سا پڑا تھا
“اسے کہاں چھوڑا ؟؟؟؟”
“گھر… “
“اس کے باپ نے کچھ نہیں کہا ؟؟؟؟”
“نہیں…. “
“امی… ” رافع نے دھیرے سے انہیں پکارا تھا
“میں نا بھی ہوتا تو کیا تھا… ؟؟؟” اس کی آواز بھرا گئی تھی
………………………..
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ گھر آیا… خلاف معمول کچن کی لائیٹ بند تھی, وہ ذرا حیران ہوتا ہوا اوپر چلا آیا, زرقا کروٹ لئے بستر پر لیٹی تھی, کمبل اوپر تک تان رکھا تھا, اذن نے خود ہی اپنے کپڑے نکالے اور چینج کرنے واش روم میں گھس گیا… باہر نکلا تو وہ اس ہنوز لیٹی ہوئی تھی, اذن نے اسے جگانا مناسب نہ سمجھا, چپ چاپ نیچے آیا اور کھانا نکالنے لگا
“اذن… کیا کر رہے ہو ؟؟؟” انیتا پانی لینے آئی تھی
“کھانا گرم کرنے لگا ہوں ” وہ بولا
“لاؤ میں کر دوں… “انیتا نے اس کے ہاتھ سے پین لیا تھا, اذن گیلے بالوں کو جھٹکتا ہوا کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا
“زرقا کو کیا ہوا ؟؟؟” اذن نے پوچھا
“پتہ نہیں… دوپہر کی ہنڈیا تو بنا رہی تھی” انیتا نے کہا, اذن چپ ہو گیا, کھانا کھا کر اوپر آیا تو وہ ہنوز اسی کروٹ سو رہی تھی, پہلے تو اس کا دل کیا کہ اسے جگا کر پوچھے کہ کیا ہوا… پھر چپ چاپ چاۓ پی کر لیٹ گیا
صبح اچانک ہی اس کی آنکھ کھلی تھی… گھڑی کی طرف دیکھا تو وہ ساڑھے آٹھ بجا رہی تھی, نو بجے آفس پہنچنا تھا, ہر روز اسے زرقا ہی اٹھاتی تھی, ہڑبڑا کر وہ سیدھا ہوا, زرقا بھی نہیں اٹھی تھی… نا کوئی پینٹ, نا کوئی شرٹ… نا کوئی ٹائی… نا جوتے پالش
افراتفری میں وہ جیسا تیسا تیار ہو کر نیچے اترا تھا
“اذن ناشتہ… ” آمنہ نے اسے آواز دی
“آفس جا کے کر لوں گا “وہ نکلتا چلا گیا
“زرقا کو کیا ہوا ہے ؟” انہوں نے انیتا سے پوچھا, اس نے کندھے اچکا دیئے
دس بجے کے قریب زرقا کی آنکھ کھلی تھی, سارا بدن پھوڑے کی طرح دکھ رہا تھا, بمشکل وہ کمبل سے باہر نکلی…شاور لینے کی ہمت ہی نہیں ہوئی, نیچے اتری تو آمنہ نے آواز دے لی
“زرقا… کیا ہوا ہے ؟؟”
“پھپھو ہلکا ہلکا بخار تھا… صبح آنکھ نہیں کھلی” وہ کچن. میں گھس گئی, چاۓ کے ساتھ دو پینا ڈول لیکر وہ کام میں لگ گئی تھی, لیکن شام ہوتے ہوتے بخار تیز ہو گیا, کپکپاہٹ بڑھتی جا رہی تھی… اس نے دو پینا ڈول اور کھا لیں
اذن آیا تو وہ ہمت باندھے جاگ ہی رہی تھی, اس کے کپڑے نکال کر چپ چاپ نیچے چلی گئی, کھانا گرم کیا, چاۓ بنائی اور ٹیبل پر لگا دیا, وہ کھانے لگا تو کچھ دیر بعد اوپر آ گئی, ٹانگوں کی بس ہوۓ جا رہی تھی, کمبل میں گھس کر اس نے سر تک کمبل تان لیا تھا, اذن چاۓ کا کپ پکڑے اوپر آیا تو اسے یوں کمبل میں مقید ہوۓ دیکھ نہ سکا
“زرقا… ” اس نے بستر پر بیٹھتے ہوئے دھیرے سے اسے پکارا تھا
“ہوں… ” وہ بمشکل ہی بولی
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” اذن نے دھیرے سے اس ک کمبل نیچے کیا
“میری طبیعت ٹھیک… نہیں ہے” اذن کو بمشکل ہی سنائی دیا تھا
“کیا ہوا ؟؟؟” اس کے ماتھے کو ہاتھ لگاتے ہی وہ ٹھٹھک گیا
“زرقا… کب سے ہے بخار… ؟؟؟” اس نے پوچھا, زرقا کا وجود آگ کے گولے جیسا ہو رہا تھا, آنکھیں بخار کی شدت سے چڑھی جا رہی تھیں
“اٹھو… ” وہ گھوم کر اس کی طرف آیا تھا, بڑی مشکلوں سے اس کے پیروں میں چپل ڈال کر اسے اپنے کندھے سے لگاۓ نیچے لے آیا, وہ بے سدھ ہو رہی تھی, کلینک پاس ہی تھا, وہ اسے وہیں لے آیا… چیک اپ. کروایا, دوائیں خریدیں… زرقا نڈھال ہوۓ جا رہی تھی, گھر آ کر ذن نے خود اسے دوا کھلائی تھی
“مجھے… سردی لگ…. رہی ہے” وہ کانپے جا رہی تھی
“یہ پی لو… “وہ اس کے لئے اپنے والا چاۓ کا کپ گرم کر لایا, زرقا نے چند گھونٹ ہی پئے گئے
“سردی… بہت سردی ” اذن کو لگا جیسے وہ غشی میں جا رہی ہو, بنا کوئی پرواہ کئے اس نے زرقا کا گرم گرم وجود اپنے مضبوط بازوؤں میں سمیٹ لیا
“سو جاؤ… دھیرے دھیرے ٹھیک ہو جاؤ گی” وہ اس کا چہرہ اپنے سینے میں چھپا گیا تھا, زرقا کی لپٹوں جیسی سانسیں اس کی گردن جھلسانے لگی تھیں
“تم میری بیوی ہو زرقا… ملازمہ نہیں ہو… مجھے کیوں نہیں بتایا ؟؟؟” وہ دھیرے دھیرے اس کا پورا وجود ہی خود میں چھپا گیا تھا, زرقا کے بدن کی کپکپاہٹ اسے اپنے اندر محسوس ہو رہی تھی
“مجھے لگا… خود ہی ٹھیک… ہو… ” وہ بول نہیں سکی تھی, دونوں بازو اس کے گرد باندھ کر پوری طرح اس کے وجود کا حصہ بن گئی تھی
“اذن… “
“ایم سوری…. میں…. میں اچھی… بیوی…. نہیں ہوں”
…………………………..
ناشیہ کو اسکے کمرے میں چھوڑ کر وہ اوپر اپنے کمرے میں آ گیا, بہت دیر تلک وہ اسے خود سے لگاۓ بیٹھا رہا تھا…وہ بس روتی رہی تھی اور وہ وقفے وقفے سے اس کے آنسو صاف کرتا رہا تھا
ایک بھائی ہونے کے باوجود وہ کتنا بے بس تھا… ؟؟؟ نا وہ غاشیہ کا ساتھ دے سکا, نا وہ ناشیہ کے لئے کچھ کر سکا… وہ تو اپنے لیے بھی کچھ نہیں کر سکا تھا, سر دد سے پھٹنے کے قریب تھا, پچھلی دو راتوں سے وہ سو نہیں پایا تھا
اب بھی بستر پر لیٹا تو نیند جیسے کوہ قاف ہی چلی گئی, پپوٹے تک دکھنے کو آ گیے لیکن نیند کو رحم نہ آیا, تھک ہار کر اس نے نیند کی گولیاں نکال لیں
ایک, دو, تین…
خودکشی کا خیال تو دور دور تک نہیں تھا بس سونے کی خاطر وہ پانچ, چھ گولیاں حلق میں اتار گیا… صبح ہوتے ہوتے وہ اس کے معدے کو اچھا خاصا ڈسٹرب کر گئی تھیں
اسے پے در پے الٹیاں کرتے ہوئے شازیہ نے دیکھا تھا, بے دم ہو کر وہ واش روم کے دروازے پر گر گیا تھا
“طہٰ… ” شازیہ کو وہ اپنے ہاتھوں سے نکلتا نظر آ رہا تھا
“خالد… خالد… ” وہ خالد کو آوازیں دیتے ہوئے نیچے کو بھاگی تھی
………………………..
حدید اپنا بیگ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل آیا, غاشیہ نے اس کا ناشتہ تیار کر دیا تھا اور خود چاۓ بنا رہی تھی, وہ بیگ ایک طرف رکھ کر کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا, غاشیہ نے چاۓ کا مگ اس کے سامنے رکھا اور خود بھی کرسی کھینچ کر اس کے پاس ہی بیٹھ گئی
“دو, تین میڈیسنز لا دو گے ؟؟؟” اس نے پوچھا, اب یہ نوبت آ گئی تھی
“مجھے ٹیکسٹ کر دینا… ” وہ ناشتہ کرتے ہوئے بولا تھا, غاشیہ نے چپ چاپ اپنا کپ منہ سے لگا لیا, حدید نے چور نظروں سے اسے دیکھا
وہ چھ مہینے گزار چکی تھی, چہرہ ہمہ وقت پسینے سے تر سا رہتا تھا, وجود نڈھال سا رہتا تھا, نا زیادہ دیر کھڑی ہو سکتی تھی اور نا زیادہ دیر بیٹھا جاتا تھا, پھر بھی وہ اپنے اور حدید کے سارے کام خود کرتی تھی, آج تک اس نے حدید کو کسی بھی چیز کے لئے پریشان ہونے نہیں دیا تھا
اب بھی وہ تھکا تھکا سا چہرہ لیے چاۓ کے گھونٹ بھر رہی تھی, آنکھوں کی چمک غائب تھی, سفید رنگت میں سیاہی سی گھلتی جا رہی تھی, چہرے پر جا بجا دانے نکل رہے تھے, بال بھی الجھے ہوئے سے تھے, کپڑے بھی دو دن پرانے ہی پہنے ہوئے تھے… حدید کو اس پر ترس سا آیا
“اب ساری عمر یہ ہی سوٹ پہنے رکھنا ہے ؟؟” اس نے پوچھا
“یہ ذرا سافٹ سا ہے… گرمی کم لگتی ہے اس میں” وہ بولی
“تمہیں نومبر میں بھی گرمی لگتی ہے ؟؟؟” حدید نے اس کی طرف دیکھا, وہ بس سر جھکا گئ
“یہ بدل لینا آج… ” وہ آخری گھونٹ بھرتے ہوئے کھڑا ہو گیا
“یہ ایک ہی ہے میرے پاس…کچھ پھٹ گئے ہیں اور… کچھ تنگ ہو گئے ہیں”وہ دھیرے سے بولی تھی, حدید سن رہ گیا, وہ ہر مہینے اسے ایک, دو سوٹ لیکر دیتا تھا, گرمیوں کے شروع میں گرمیوں کی شاپنگ کرواتا تھا اور سردیوں کے شروع میں سردیوں کی… لیکن اس بار وہ بھول گیا تھا, گرمیاں ختم ہونے کو تھیں اور حدید راۓ نے اسے ایک سوٹ تک نہیں بنا کر دیا تھا, سوچا ہی نہیں کہ اس حالت میں تو اسے لان کے کپڑوں کی زیادہ ضرورت تھی, پسینہ زیادہ آتا تھا, پچھلے چار, پانچ ماہ سے اپنی اور غاشیہ کی اس سرد جنگ میں وہ اس کی ضروریات بھی بھول گیا تھا اور غاشیہ… وہ پہلے خود اس سے چیزیں ڈیمانڈ کرتی تھی, کپڑے, جوتے, کاسمیٹکس وغیرہ… لیکن جب سے اس نے نظر بدلی تھی… اس نے مانگنا ہی چھوڑ دیا تھا
“غاشی… تم مجھے کہہ دیتیں” اسے حقیقت میں دکھ ہوا تھا
“میرا دل نہیں کرتا… کچھ بھی کہنے کو” وہ بے دریغ نکلتے آنسو پونچھتی ہوئی کچن میں چلی گئی تھی
……………………….
جاری ہے
