121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18


اس دن حدید اور غاشیہ کی ویڈنگ اینیورسری تھی, دونوں کو ہی یاد تھا, رات نو بجے وہ غاشیہ کو ڈنر پر لیکر گیا تھا, کچھ دن ہوۓ اسے کمپنی کی طرف سے گاڑی مل گئی تھی
سرخ رنگ کی میکسی میں ملبوس غاشیہ اور بلیک تھری پیس میں ملبوس حدید… دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر فورٹریس میں داخل ہوۓ تھے, شادی کی دوسری سالگرہ… حدید ٹیبل پہلے ہی بک کروا چکا تھا
بہت خوبصورت سا چاکلیٹ کیک… موم بتیاں, سرخ گلاب اور سجاوٹ…حدید نے مسکراتے ہوئے اس کے لئے کرسی کھینچی تھی, غاشیہ ایک نظر اس پر وارتے ہوۓ کرسی پر بیٹھ گئی
دونوں نے مل کر کیک کاٹا… پھر ایک دوسرے کو کھلایا… حدید نے بہت محبت سے اس کی کلائی میں وہ نفیس سا بریسیلیٹ پہنایا تھا, غاشیہ نے اس کے لئے ٹی شرٹس لی تھیں
وہ دونوں ڈنر کے دوران کافی دیر ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے, غاشیہ کا تیسرا مہینہ شروع ہو گیا تھا
تبھی ایک ویٹر ان دونوں کی طرف آیا, اس کے ہاتھوں میں ایک گفٹ پکڑا ہوا تھا
“ایکسکیوزمی میم…. یہ آپ کے لئے ” اس نے گفٹ غاشیہ کی طرف بڑھا دیا
“یہ کس نے دیا ؟؟؟” اس نے حیرانی سے پوچھا
“ابھی ابھی ایک سر دے کر گئے ہیں… ” ویٹر کہہ کر مڑ گیا, حدید کے چہرے کی مسکراہٹ یکدم غائب ہوئی تھی
“حدید چلو گھر چلیں… ” غاشیہ نے وہ گفٹ ایک طرف کر دیا, حدید نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے اسے اٹھایا اور کھولا
وہ بڑی خوبصورت سی سرخ ساڑھی تھی, ساتھ ایک پرچہ تھا
“حسرت ہی رہ گئی تمہیں یہ پہنے ہوئے دیکھنے کی…” پڑھتے ہی حدید کا چہرہ سرخ ہوا تھا
“حدید… چلیں ؟؟؟” غاشیہ نے پھر پوچھا, حدید بس اسے دیکھ کر رہ گیا
وہ جو بھی تھا… غاشیہ کو شاید اس سے بھی زیادہ جانتا تھا, اور اب بات صرف چند گلاب کے پھولوں اور کارڈز تک محدود نہیں رہی تھی, اب تو باقاعدہ تحائف آنے لگے تھے, اظہار محبت ہونے لگا تھا, بھلے ہی غاشیہ اس کی کوئی بھی کال اٹینڈ نہیں کرتی تھی لیکن اس کے پاس بہت سے دوسرے حربے تھے, وہ دونوں کہیں باہر جاتے, اسے پتہ ہوتا تھا, غاشیہ کا برتھ ڈے, ویڈنگ اینیورسری, ڈگری… اسے سب پتہ تھا, یوں جیسے وہ دن رات اسی کے بارے میں سوچتا رہتا ہو
اور حدید… وہ بیشک اپنی بیوی سے بہت زیادہ محبت کا دعویدار تھا لیکن وہ صرف ایک عام سا شوہر تھا…فرشتہ نہیں تھا, جب اس کے سامنے اس کی بیوی کا کوئی پرانا عاشق اس سے محبت جتاتا, اسے تحفے بھیجتا, اسے واپس پانے کی جدوجہد کرتا… تو وہ بہت زیادہ تلخ ہو جاتا تھا
دن بدن ان دونوں میں خلیج بڑھنے لگی, وہ بھی ایک مصروف سی صبح تھی, حدید جاگنگ سے واپس آیا تو سیڑھیوں میں سرخ گلابوں کا ڈھیر دیکھ کر اس کی بس ہو گئی, دو سالوں میں پہلی بار وہ غاشیہ پر دہاڑا تھا, خوامخواہ ہی چیزیں توڑنے لگا
“حدید میں کیا کروں ؟؟؟” وہ بھی تنگ آ گئی تھی
“تم بس اتنا کرو کہ میرے سامنے سے اپنی یہ شکل گم کرو… “حدید کی چنگھاڑ نیچے تک سنائی دی تھی, نیچے ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ کرتے سبھی نفوس نے یکدم ہی اوپر کو دیکھا
“اسے کیا ہو گیا صبح صبح ؟؟؟” راۓ عبید نے کہا
“محبت کی شادی جب پرانی ہونے لگے تو ایسے ہی ہوتا ہے ماموں جان… “اسماء نے طنز سے کہا تھا
غاشیہ چپ چاپ کچن میں چلی گئی, شاور لینے سے لیکر چاۓ کا کپ پینے تک وہ مسلسل بکتا جھکتا ہی رہا, کبھی کوئی چیز اٹھا کر پھینک دیتا, کبھی کسی بات پر برس پڑتا… اور غاشیہ اس کی تمام تر بکواس بس آنسوؤں کے ساتھ پی رہی تھی
صمد اور عبید کے گھر سے نکلتے ہی اسماء نے غاشیہ کو آواز دے لی
“غاشیہ میڈم… حدید کی معشوقہ… بات تو سن ذرا…” وہ بڑی لگاوٹ سے بولی تھی
“بس… اتنی جلدی دیمک لگ گئی تمہاری محبت کو… اب تو تمہری شکل بھی زہر لگنے لگی ہے تمہارے عاشق کو… ” اسماء کھل کر بھڑاس نکال رہی تھی
“اسماء بس کر… خدا کا خوف کر تھوڑا سا” اسراء نے بمشکل اسے چپ کروایا تھا
اور دو سالوں میں آج پہلی بار غاشیہ اس کے سامنے تن کر کھڑی نہیں ہو سکی تھی
اس کا تو سارا بھرم ہی حدید کے ساتھ سے تھا, اب اگر وہی اس سے بدظن ہو گیا تھا تو وہ اپنے پیروں پر کھڑی بھی کیسے ہو جاتی ؟؟؟
…………………….
اس دن انیتا کا پیپر تھا, معمول کے مطابق اس نے عمر فاروق کو کال کی تو انہوں نے ارمغان کے آنے کا بتا دیا, انیتا بھڑک سی گئی
“ابو میں آٹو سے آ جاؤں گی… اسے منع کر دیں” وہ بولی
“انیتا وہ گاڑی لیکر آ رہا ہے” عمر فاروق شاید کہیں راستے میں تھے, انیتا نے کلستے ہوۓ کال کاٹ دی, چند منٹ بعد ہی اسے گاڑی کا ہارن سنائی دیا, وہ بیگ کندھے پر ڈالتی ہوئی گاڑی کی طرف آ گئی, چپ چاپ پچھلا دروازہ کھولا اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی, ارمغان نے فرنٹ مرر میں سے اسے دیکھا, وہ شیشے کی طرف رخ کیے بیٹھی تھی, ارمغان ہنوز اسے دیکھتا رہا
“اب یہ چلے گی بھی کہ درد ہو رہا ہے اسے… ” وہ جھلا گئی تھی
“میں تمہارا ڈرائیور نہیں ہوں سمجھیں… آگے آ کر بیٹھو” وہ بولا
“اچھا… ویسے تو بہت بڑے بڑے دعوے کرتے ہو تم کہ میرے لیے یہ کر دو گے, وہ کر دو گے… ایک ڈرائیور تو تم سے بنا نہیں جاتا” انیتا سلگ کر بولی تھی, ارمغان نے بنا کچھ کہے گاڑی سٹارٹ کر دی…ساون بھادوں کے دن تھے, لمحوں میں جل تھل ہونے لگا
“آئس کریم کھاؤ گی ؟؟؟اس نے تھوڑی دیر بعد پوچھا
“نہیں… ” ہمیشہ والا جواب
“پیزا… ؟؟؟” ارمغان نے پھر پوچھا
“نہیں.. ” وہ بولی
“مار کھا لو پھر… ؟؟؟” ارمغان نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوۓ پوچھا تھا, انیتا کی آنکھیں یکدم ہی پھیل گئیں
“ہاں وہ کھانی ہے میں نے.. کھلاؤ… ” وہ تنک کر بولی, ارمغان بس ہنستا چلا گیا, بارش تیز ہو گئی تھی
“ایک بات کہوں… مانو گی ؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا
“کہنی ہے تو کہہ دو لیکن مان لینے کا کوئی وعدہ نہیں” وہ بولی
“کل میرے ساتھ چلو گی.. ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں…” انیتا نے یہ بھی پوچھنے کی زحمت نہیں کی کہ کہاں جانا ہے, ارمغان چپ ہو گیا, جب اسے گھر کے سامنے اتارا تو پھر پوچھ بیٹھا
“چلو گی ؟؟؟” وہ سنی ان سنی کرتی ہوئی اندر چلی گئ
مسلسل ایک ہفتے وہ اس کے پیچھے فقیروں کی طرح پھرتا رہا… منتیں کرتا رہا, خیرات مانگتا رہا… آخر اسے ترس آ ہی گیا
“کہاں جانا ہے ؟؟؟”
“ایک جگہ… “
“کوئی نام بھی ہو گا اس جگہ کا… ؟؟؟” وہ تڑخی
“تم چلو گی تو تمہارے نام سے منسوب ہو جاۓ گی” وہ دھیرے سے بولا تھا
“صرف آخری بار… اس کے بعد مجھے یوں ذلیل نہیں کرو گے تم” وہ بولی, ارمغان بس سر جھکا گیا تھا
نومبر کی وہ ایک بڑی خوشگوار سی شام تھی جب ارمغان نے اسے کال کی
“میں باہر گاڑی میں بیٹھا ہوں… “
تقریباً دس منٹ بعد وہ باہر نکل آئی تھی, مونگیا رنگ کے سوٹ کے ساتھ اس نے مونگیا شال ہی کندھوں کے گرد لپیٹ رکھی تھی, سیاہ ریشمی بالوں کو کیچر لگا کر فولڈ کیا ہوا تھا, ارمغان نے خود باہر نکل کر اس کے لئے فرنٹ ڈور کھولا, انیتا چپ چاپ بیٹھ گئی
وہ سڑک کنارے نہ جانے کونسی جگہ تھی… قد آدم اینٹوں اور بجری کے ملبوں کے ڈھیر کے اس پار وہ ایک بیابان ٹکڑا سا تھا, پرسوں رات موسلا دھار بارش ہوئی تھی سو وہ نشیب پوری طرح بارش کے پانی سے بھر گیا تھا… صاف شفاف پانی… نشیب کی دوسری جانب سفیدے کے قد آدم درخت ایستادہ تھے جن کے پتوّ کی اوٹ سے غروب ہوتے سورج کی سنہری مائل کرنیں پانی کی سطح پر جلترنگ بنا رہی تھیں, نشیب کے چاروں طرف گہری ہریالی تھی… اونچی اونچی جھاڑیاں جن میں گلاب کے پودے بھی تھے, سبز پتوں کے جھنڈ میں سرخ گلاب جا بجا تھے, گلابی پھولوں کی آوارہ بیلیں سفیدے کے تنوں سے لپٹی ہوئی تھیں, نشیب کے کناروں پر رنگ برنگے جنگلی پھول اگے ہوۓ تھے
“آؤ… ” ارمغان نے اس کی جانب ہتھیلی پھیلائی تھی, انیتا نے تذبذب سے اپنا ہاتھ اس کی ہتھیلی پر دھر دیا, ارمغان اسے نشیب کے کنارے پر لے آیا
“بیٹھو… ” اس نے ایک گرے ہوئے سفیدے کے تنے کی طرف اشارہ کیا تھا, انیتا چپ چاپ بیٹھ گئی, ہلکی ہلکی دل نشین سی ہوا دل موہ رہی تھی, کرنوں کی تمازت دھیرے دھیرے کم ہوتی جا رہی تھی, ارمغان دھیرے سے انیتا کے پاس نیچے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنی جیکیٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا, پھر اپنی ہتھیلی انیتا کے سامنے پھیلا دی
اس پر ایک چھوٹی سی انگوٹھی رکھی ہوئی تھی
“یہ میں نے چار سال پہلے خریدی تھی…مجھے آج بھی آج بھی یاد ہے اس دن تمہارا برتھ ڈے تھا, تم چھت پر تھیں…میں تمہارے سامنے اپنی بند ہتھیلی کھولنے آیا تھا لیکن…میں نے سیڑھیوں پر سے دیکھا, تم اپنی بند ہتھیلی پہلے ہی کسی کے سامنے کھول چکی تھیں… ” وہ کہتے کہتے رکا, انیتا پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی, چار سال پہلے کا وہ منظر پوری طرح اس کی آنکھوں میں جاگ اٹھا تھا, اسے یاد تھا… وہ دسمبر کی ایک سردیلی سی شام تھی, وہ چھت پر تھی… حدید عین اس کے سامنے کھڑا تھا اور اس نے مسکراتے ہوئے اپنی بند ہتھیلی اس کے سامنے کھول دی تھی
“میں وہیں سے پلٹ گیا… بند مٹھی بند ہی رہنے دی… دل کو سمجھا دیا کہ انیتا راۓ کبھی بھی میری نہیں ہو سکتی” وہ کہتا چلا گیا, سورج پوری طرح افق میں جا چھپا تھا, نیلا آسمان شفق سے سجتا جا رہا تھا, ہوا کے جھونکے انیتا کے ریشمی بال ادھر ادھر اڑانے لگے تھے, ارمغان ہنوز اس کے سامنے سر جھکاۓ بیٹھا تھا
“دو سال… پورے دو سال میں تمہارا تصور کرنے سے بھی کتراتا رہا, تمہیں دیکھتا تو نگاہیں جھکا لیتا, تم کونسا میری تھیں…” وہ بولا اور دیکھ ہی نہ سکا کہ انیتا کی آنکھیں پانیوں سے بھرتی چلی گئی تھیں
“لیکن…مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ… ” انیتا نے اس کی بات کاٹ دی
“….کہ حدید نے اسی شام میری ہتھیلی واپس بند کر دی تھی… اس نے وہ انگوٹھی اٹھائی ہی نہیں تھی, وہ بس SORRY کہہ کر منہ موڑ گیا تھا, تمہیں تہ پتہ ہی نہیں تھا کہ میں دو سال بس اس سے یکطرفہ محبت ہی کرتی رہی, اسے مجھ سے ملانے کے لیے سب میرے ساتھ تھے… امی, اسماء باجی, ماموں, صمد بھائی… سب… لیکن جسے ملنا تھا بس وہی میرا نہیں تھا” ارمغان نے حیرانی سے سر اٹھا کر اسے دیکھا, دو آنسو اس کی خوبصورت آنکھوں سے نکلے اور گھنی پلکوں کہ باڑ توڑ کر گالوں پر آ گرے, ارمغان دیوانہ وار اسے دیکھتا رہ گیا
“انیتا… “ارمغان دھیرے سے اس کے قریب ہوا
“اب تو ہر امید, ہر کوشش, ہر حربہ ختم ہو گیا نا… اب تو دو سال ہو گئے اسے کسی اور کا ہوۓ, اب تمہاری یکطرفہ محبت کا کیا فائدہ… ؟؟؟” اس نے انیتا کے آنسو اپنی پوروں پر چنے تھے, ہوا ایک جھونکا سا آیا… گہری دبیز خاموشی میں سفیدے کے پتے سرسرا اٹھے تھے , ارمغان نے دوبارہ اپنی ہتھیلی اس کے سامنے کر دی, اس پر ایک نفیس سی انگوٹھی رکھی ہوئی تھی, انیتا پھیکا سا مسکرا دی
“میں نے ابھی ہار نہیں مانی ارمغان… میں نے ابھی اسے اپنے دل سے نہیں کھرچا, ابھی بھی سب میرے ساتھ ہیں… میری وہ مٹھی آج بھی بند ہے ارمغان… ایک بار پھر سے اس کے سامنے کھلنے کے لئے… میں آج بھی اسے اپنا کہتی ہوں, میری یکطرفہ محبت آج بھی زندہ ہے… ” وہ کہتی چلی گئی
“اور باالفرض… اگر ایسا نا بھی ہوتا…. ؟؟؟ اگر میری زندگی میں کوئی اور نہ بھی ہوتا…. تب بھی میں تمہاری ہتھیلی پر سے یہ انگوٹھی نہیں اٹھاتی… کیونکہ میں نے بچپن سے صرف تم سے نفرت کرنا سیکھا ہے, تمہیں اگنور کرنا سیکھا ہے, جہاں تم نظر آؤ وہاں سے پلٹ جانا سیکھا ہے… تم کون ہو ارمغان… ؟؟؟ کوئی بھی نہیں… تم کیا ہو ؟؟؟ کچھ بھی نہیں… تم اس باپ کے بیٹے ہو جس کا ذکر کرنا ہی ہمارے لئے گناہ ہے, تم اس ماں کے بیٹے ہو جو ابد تک اپنے خاندان پر ایک داغ رہے گی… تم ہم میں سے نہیں ہو ارمغان… ” اس نے اپنے ہاتھوں کی پشت سے اپنا چہرہ صاف کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی
“جب ہار مان لو گی تب… ؟؟؟؟ جب کوئی تمہارے ساتھ نہیں ہو گا تب… ؟؟؟ جب اسے دل سے کھرچ دو گی تب… ؟؟؟ جب اپنی مٹھی کھول کر وہ رنگ کسی دریا میں بہا دو گی تب… ؟؟؟ ” وہ پوچھ رہا تھا
“تم تب بھی کہیں نہیں ہو گے… تم میری آخری چوائس بھی نہیں ہو ارمغان… چلو اور کچھ نہیں تو ارمغان ملک ہی سہی… نہیں… تم وہ بھی نہیں ہو” وہ دھیرے سے کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی, ارمغان وہیں بیٹھا رہ گیا… دو زانو… جھکا ہو سر لئے
انیتا نے ذرا سا پلٹ کر اسے دیکھا تھا…دل کو ذرا سا ملال ہوا تھا
“تم آخر وہ تکلیف کسی اور کو کیسے دے سکتی ہو جو تم خود جھیل چکی ہو… ” دل سے آواز آئی تھی
“یہ تکلیف اس نے خود چنی ہے… ” دھیرے سے جواب دیتے ہوئے وہ گاڑی کی طرف بڑھ گئی تھی
………………………..
وہ اس کے لئے کھانا رکھنے آیا تھا, فرح دیوار سے ٹیک لگاۓ زمین پر بیٹھی تھی, کپڑے بھی نہیں بدلے تھے, الجھے ہوئے بے ترتیب بال اور ملیا میٹ کپڑے… شکستہ سا حلیہ… شافع نظریں چر اگیا, مڑنے لگا تو فرح نے پکار لیا
“شافع… ” وہ کھڑی ہوئی تھی
“مجھے معاف کر دو… ” پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے وہ اس کی پشت سے آ لگی تھی, دونوں بازو اس کے گرد لپیٹ کر اس کی کمر پر اپنا چہرہ ٹکا گئی تھی
“پلیز…. ایم سوری ” وہ روتی چلی گئی, شافع نے بہت نرمی سے اپنے گرد بندھے اس کے دونوں ہاتھ کھولے تھے, پھر دھیرے سے پلٹا… اسے اپنے بازو کے حصار میں لیا اور کمرے میں لے آیا… راحم سو گیا تھا اور رحمہ اوپر رافع کے پاس گئی ہوئی تھی, وہ اسے ساتھ لیے واش روم تک آیا
“میں تمہارے کپڑے نکال دیتا ہوں… تم نہا لو” وہ واش روم کی لائیٹ جلاتے ہوئے بولا تھا, فرح چپ چاپ اندر گھس گئی
نہا کر باہر نکلی تو شافع اس کے لئے کھانا لیے بیٹھا تھا
“آؤ… ” وہ اپنے پہلو میں اشارہ کرتے ہوئے بولا, فرح خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گئی, شافع نے لقمہ بنا کر اس کے منہ میں ڈالا, وہ چپ چاپ کھانے لگی
“بس… ” کچھ دیر بعد اس نے شافع کا ہاتھ روک دیا تھا, اس نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھا دیا… پھر اٹھا اور اپنے کوٹ کی جیب سے ایک سمارٹ فون نکالا
“یہ لو… ” وہ اس نے فرح کی طرف بڑھا دیا
“یہ کیا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“یہ تمہارا نیا فون ہے… اس میں میرا, رافع کا, ابو کا اور تمہاری امی کا نمبر سیو کر دیا ہے… نئی سم ڈال دی ہے, فی الحال صرف واٹس ایپ استعمال کرو گی تم بس…” وہ کہتا چلا گیا, فرح خاموش سر جھکاۓ بیٹھی تھی
“فرح… ” شافع نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے
“میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے… اور میں چاہتا ہوں کہ تم بھی صرف مجھ سے محبت کرو, میرا خدا جانتا ہے کہ تمہیں تکلیف دے کر, یا تم سے جھگڑا کر کے…. یا تمہیں کمرے میں بند کر دینے سے مجھے کوئی خوشی نہیں ہوتی… تم میری عزت کی محافظ ہو فرح… ” وہ کہتا چلا گیا
“جاؤ سو جاؤ… رحمہ کو میں اپنے ساتھ سلا لوں گا” شافع نے کہا
“تمہارے ساتھ سونا ہے… ” وہ بولی تو آنسو ٹوٹ پڑے, شافع نے اسے گلے سے لگایا تھا
اس رات وہ فرح کو خود میں سمیٹ کر اس امید کے ساتھ سویا کہ اب مزید کچھ غلط نہیں ہو گا
………………………….
رات تقریباً نو بجے کا وقت تھا جب اذن ڈیوٹی کے لئے نکلا… حسب معمول گاڑی گیراج میں نہیں تھی, اس نے فوراً سے حدید کو ٹیکسٹ کر دیا, حدید کی بائیک پچھلے دروازے کے اندر کھڑی ہوتی تھی, کچھ دیر بعد وہ نیچے اتر آیا
“نکل آۓ صمد بھائی… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں بس نکلنے والے ہیں… ” اذن نے کہا, اس نے ایک گھنٹے کی شارٹ لیو لے لی تھی, تقریباً پندرہ منٹ بعد صمد باہر نکل آیا اور پیدل ہی سڑک پرچلنے لگا, حدید اور اذن اسے دیکھتے رہے, اچانک اس نے کسی محلے دار آدمی سے بائیک پر لفٹ لے لی تھی
“حدید بھائی اپنی بائیک نکالیں…جلدی… ” اذن نے کہا, حدید نے جھٹ پٹ بائیک نکالی اور دونوں صمد کے پیچھے ہو لئے, وہ سیدھا سٹور پر آیا, وہاں سے گاڑی نکالی اور مین روڈ پر ڈال دی, وہ دونوں اس کے پیچھے ہی تھے, کچھ دیر بعد اس نے گاڑی ایک پوش کالونی کی طرف موڑ دی اور ایک شاندار سے گھر کے سامنے جا رکا
وہ دونوں ذرا پیچھے ہی رک گئے… صمد نے ہارن بجایا تھا, گیٹ کھل گیا
“حسین جعفر… ” حدید کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی, صمد نے شیشے سے سر باہر نکالا اور اسے کچھ کہا… جواباً وہ اسے ہاتھ سے اشارہ کرتا ہوا اندر چلا گیا, کچھ دیر بعد تین بچے چہکتے ہوۓ باہر نکلے تھے, دو لڑکے اور ایک لڑکی… ان کے پیچھے ہی وہ گوری چٹی عورت باہر نکل آئی
“یہ تو حسین کی بہن ہی ہے… ” حدید نے کہا, کچھ دیر صمد سے باتیں کرنے کے بعد حسین تو واپس اندر چلا گی جبکہ وہ عورت بڑے حق سے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی… بچے پچھلی سیِٹ پر چڑھ گئے تھے, صمد نے ریورس لیا اور گاڑی موڑ لی, وہ دونوں حق دق گاڑی کو جاتا دیکھتے رہ گئے
“اذن… کہیں صمد بھائی نے واقعی حسین کی بہن سے شادی تو نہیں کر لی….؟؟؟” حدید کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں
“اور حدید بھائی…. تین عدد بچے… مجھے تو لگتا یے کہ صمد بھائی نے کافی عرصے سے شادی کھڑکائی ہوئی ہے” اذن نے کہا
“لیکن یار… مشکوک تو اب آ کر ہوۓ ہیں… ” حدید تذبذب کا شکار تھا
“وہ چھوڑیں حدید بھائی… ذرا سوچیں… اسماء باجی کو پتہ چل گیا تو کیا ہو گا… ؟؟؟” اذن اسے مزید ڈرا رہا تھا
………………………….
اس دن اتوار تھا… اذن اور زرقا کی شادی میں بس دو ہفتے رہ گئے تھے, ساری تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں, اذن نے نیا گھر پوری طرح فرنش کروا لیا تھا, اس دن بھی اسماء اور اسراء زرقا کے نکاح کا جوڑا خرید کر لائی تھیں
“زرقا… بات سن” اسماء نے اسے آواز دی, اذن اور صمد وہیں لاؤنج میں ہی براجمان تھے
“جی بھابھی… ” وہ بھاگتی ہوئی اوپر سے اتری
“تیرا جوڑا آ گیا ہے… عروسی جوڑا” اسماء, اذن کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی تھی, زرقا چپ سی ہو گئی
“ادھر تو آ… ” اسراء نے سرخ آنچل نکالتے ہوئے اسے پاس بلایا اور پھر اس کے سر پر ڈال دیا, اذن نے چور نظروں سے اسے دیکھا, وہ سرخ آنچل میں پیلی پڑتی جا رہی تھی
“اسماء… میں تو کہتی ہوں اس لڑکے کا بھی اب کوئی بندوبست کر دے, صرف دو دن رہ گئے ہیں اس کی شادی میں… ” اسراء نے ہنستے ہوئے کہا تھا
“ارے ہاں… مجھے تو یاد ہی نہیں, آج ہی فون کرتی ہوں امی کو کہ اپنے اس اکشے کمار کو واپس بلائیں” اسماء نے کہا
“کوئی ضرورت نہیں ہے میری ماں کو تنگ کرنے کی, ایک دو دن میں وہ اور انیتا آ جائیں گی پھر میں خود ہی اپنا بوریا بستر گول کر لوں گا” وہ تنک کر بولا
“ہنہ… ابھی شادی ہوئی نہیں اور تیور دیکھو لڑکے کے” اسماء نے اسے گھور کر کہا, اس سے پہلے کہ اذن کوئی جواب دیتا… صمد کا موبائل بج اٹھا, اسماء اس کی طرف متوجہ ہو گئی, صمد نے موبائل سکرین دیکھتے ہوئے کال کاٹ دی, اذن کو واضح لگا کہ اس کی پیشانی پر لکیریں ابھر آئی تھیں
“ہنہ… اب موبائل سکرین کو دیکھ کر کونسا مراقبہ کرنے لگ گئے ہیں آپ ؟؟؟” اسماء پوری طرح اس کی جانب متوجہ ہو گئی
“نہیں…. کچھ نہیں…. “
“کس کی کال تھی ؟؟؟” اسماء نے پوچھا
“وہ… سٹور سے تھی” وہ بولا
“یہ سٹور والے بڑی کالز کرنے لگ گئے ہیں آپ کو آجکل… پچھلے چند سالوں میں تو کبھی نہ یاد آۓ انہیں آپ اور اب مجھے لگتا ہے کسی کو دو کلو چینی بھی تول کر دینی ہوتی ہے تو وہ پہلے آپ کو کال کر کے پوچھتے ہیں” اسماء اس پر چڑھ دوڑی
“نہیں وہ…. مال آنا تھا” صمد سے بات نہ بن پڑی
“ابھی پرسوں تو آیا ہے مال… اتنے کیا قارون کے خزانے کمانے لگ گئے ہیں آپ کہ ہر دوسرے دن مال گاڑیاں اترنے لگ گئیں” وہ بولی, صمد چپکا رہ گیا
“صمد… میری ایک بات کان کھول کر سن لیں آپ… جب انیتا اور حدید کی شادی طے ہوئی تھی تب بھی ایسے ہی ہو گیے تھے آپ…. میں کہتی کچھ تھی اور آپ سنتے کچھ تھے, اپنے حواسوں میں ہی نہیں رہتے تھے, اور آخر میں آپ نے اور آپ کے اس چھوٹے بھائی نے ہم سب کے سروں پر ایٹم بم پھوڑ دیا تھا….خبردار… خبردار جو اس بار ایسے کسی مکروہ کھیل میں آپ ملوث نکلے تو… مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا صمد… “اسماء انتہائی سرد لحجے میں کہتی چلی گئی تھی
اور کوئی نوٹس ہی نہ کر سکا کہ زرقا کی رنگت صمد سے بھی زیادہ پیلی پڑ گئی تھی
…………………………….
جاری ہے