No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
بائیسویں قسط
انیتا ان دونوں کے کپڑے پریس کر کے لٹکا گئی تھی, زرقا جب سے آئی تھی بالکل خاموش تھی… نا اس نے ہال میں کچھ کھایا اور نا ہی آمنہ کے پر زور اصرار پر گھر آ کر کچھ کھایا… اس کے سیل طہٰ کی سینکڑوں کالز اور ہزاروں میسیجز آ چکے تھے لیکن اس نے سیل نکال کر کھولنےکی بھی زحمت نہیں کی تھی, رات کے نو بج رہے تھے جب اسراء اور درید واپس چلے گئے, انیتا نے کمرے میں جانے سے پہلے نیگ لینے کی رسم بھی کی تھی, دس بج رہے تھے جب اس نے کمرے میں آ کر دروازہ بند کیا, زرقا اپنے دونوں گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھی تھی, وہ چینج کر کے باہر نکلا تو موبائل سکرین روشن ہو رہی تھی
طہٰ کی کال تھی… وہ بیچارہ جب زرقا کو کر کر کے تھک جاتا تو اذن کو کرنا شروع کر دیتا تھا, اس نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کال اٹینڈ کر لی
“صرف ایک بار… اسے کہہ میری بات سن لے, بس ایک بار میری بات سن لے, میری کال تو ریسیو کرے… پلیز اذن… میری ایک بار اس سے بات… ” اذن نے چپ چاپ موبائل زرقا کی طرف بڑھا دیا
“سن لو… ” وہ بس اتنا ہی بولا تھا, زرقا نے ہنوز بیٹھے بیٹھے موبائل کو دیکھا, طہٰ مسلسل بول رہا تھا
اس نے چپ چاپ رخ دوسری طرف موڑ لیا, ساتھ ہی آنکھیں پھر سے بہنے لگی تھیں
“طہٰ… وہ ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے… بات ہی نہیں کرنا چاہتی” اذن موبائل کان سے لگاۓ باہر نکل گیا تھا, زرقا پھوٹ پھوٹ کر رو دی
اس سے تو محبت کھیل کھیل میں ہی چھن گئی, وہ تو دھوکے میں ہی رہی اور… شادی ہو گئی
“زرقا چینج کر لو… ” اذن نے واپس کمرے میں آ کر کہا, کسی روبوٹ کی طرح وہ اٹھی اور واش روم میں گھس گئی, باہر نکلی تو وہ بستر پر لیٹا ہوا تھا, زرقا اس کے پہلو میں بیٹھ گئی
“تمہیں اپنا حق وصول کرنا ہے تو…. کر لو… کوئی تو راضی ہو جاۓ مجھ سے… ” دھیرے سے کہتے ہوئے وہ گھٹ گھٹ کر رو دی تھی
“زرقا… سو جاؤ” اذن بس اسے اتنا ہی کہہ سکا تھا
……………………………..
“غاشیہ… ” وہ بے سدھ سی بستر پر کروٹ لیے پڑی تھی, ہال سے واپس آنے کے بعد اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ کپڑے ہی بدل لیتی, سر درد سے پھٹ رہا تھا… صبح سے ایک لقمہ بھی منہ میں نہیں گیا تھا
“غاشی… اٹھو کھانا کھاؤ… ” حدید نے جیسے ہی اسے چھوا, وہ کرنٹ کھا کر پیچھے کو ہوئی
“دوبارہ ہاتھ مت لگانا مجھے… ” وہ سرد ترین لحجے میں بولی تھی
“میں کہہ رہا ہوں کھانا کھا لو” حدید نے ضبط کرتے ہوئے کہا
“نہیں کھانا… ” وہ ہٹ دھرمی سے بولی
“تو پھر خودکشی کرنی ہے ؟؟؟” حدید اس کے پاس بیٹھ گیا
“ہاں… ” وہ بولی, حدید نے تاسف سے اسے دیکھا, اس کے خوبصورت چہرے پر تکلیف ہی تکلیف تھی
“غاشی… ایم سوری… ” وہ بولا اور آگے کو ہوا
“حدید مجھے ہاتھ مت لگانا…. ” غاشیہ تڑخ کر بولی تھی
“بات تو سنو… ” حدید نے اس کی دونوں کلائیاں جکڑتے ہوۓ کہا
“حدید دور ہٹو مجھ سے…. ” وہ چیخی تھی
“غاشی…بس کر دے نا” وہ اسے زور سے بھینچ کر اپنے ساتھ لگا چکا تھا, غاشیہ کی ساری مزاحمتیں اس کے مضبوط بازوؤں میں ختم ہو گئیں, پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے وہ بکھرتی چلی گئی تھی
“مجھے تھپڑ مارا تم نے… سب کے سامنے, حدید سب کے سامنے” وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی
“سوری… ایم سوری… یار میں پریشان تھا بہت… ایک طرف اس خبیث کی ٹینشن اور دوسری طرف طہٰ کی پریشانی… بس مجھے یکدم ہی غصہ آیا اور… ” وہ اور کیا کہتا… بس صفائی دیتا چلا گیا. .. ؟؟؟؟
…………………………
وہ کمرے میں آئی تو درید واش روم میں گھسا ہوا تھا, اس نے بستر پر پھیلا ہوا پھیلاوہ سمیٹا اور سارا کچھ صوفے پر رکھ دیا, پھر کمبل نکالا اور ڈریسنگ ٹیبل کی طرف آ گئی… جسم تھک کے چور ہو چکا تھا, وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر جیولری اتارنے لگی, تبھی وہ واش روم سے نکل آیا, اسراء نے اس کی طرف دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی, وہ گیلے بالوں کو جھٹکتا ہوا عین اس کے پیچھے آن کھڑا ہوا, پھر دونوں بازو اس کے گرد لپیٹ دئے, ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اس نے اسراء کے وجود کی مہک اپنے اندر اتاری تھی, وہ بدستور اپنے کام میں مگن رہی, اسے درید کے کل رات والے روئیے پر ہی بہت دکھ تھا
“مجھے چینج کرنا ہے… ” وہ بولی
“جلدی آ جانا چینج کر کے” وہ اسے رہا کرتے ہوئے بولا
“کیوں… ؟؟؟؟” وہ حیرانی سے بولی
“کیونکہ مجھے اپنی بیوی سے محبت جتانی ہے” وہ مسکراتے ہوئے بولا
“ایم سوری درید… جو بیوی پچھلے ڈھائی سال سے اس محبت کے بنا رہ سکتی ہے… وہ یہ ایک رات بھی گزار لے گی” اسراء نے سرد سے لحجے میں کہا اور اپنے کپڑے اٹھا کر واش روم میں گھس گئی, درید سر جھٹک کر کمبل میں گھس گیا, اسراء نے باہر آ کر لائیٹ آف کی اور سونے لیٹ گئی
“اسراء… ” آج درید کو اس کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی
“درید مجھے چھونا بھی مت… ” وہ انگلی اٹھا کر بولی تھی
“اچھا یار سوری… ” مرد کو چڑھی ہو تو ایک لمحہ بھی کیسے گزارے ؟؟
“کس بات کے لئے ؟؟؟” اس نے مڑ کر پوچھا
“وہ…میں تمہیں… کل وقت نہیں دے پایا” درید نے کہا
“تو آج میرے پاس وقت نہیں ہے… آج مجھے نیند آ رہی ہے” وہ کہتے ہوئے کروٹ بدل گئی, درید اس کی پشت کو دیکھتا رہ گیا
“اسراء…” وہ دھیرے سے اس کے قریب ہوا تھا
“I need you… “
وہ سرگوشی میں بولا تو اسراء بھڑک گئی
“اور میں… میرے بارے میں کبھی سوچا ہے آپ نے درید… مجھے بھی تو ضرورت پڑتی ہو گی نا آپ کی, میں بھی تو انسان ہوں, میری بھی تو خواہشات ہیں… لیکن میں تو آپ تو آپ کو یہ بھی نہیں کہہ سکتی نا درید کہ… I need you” اس کی آنکھیں بھر آئیں, درید بول نہ سکا
“اگر آج رات آپ کی یہ ضرورت پوری نہ ہو تو ذرا میری تکلیف محسوس کیجئے گا” وہ دوبارہ کروٹ بدل گئی تھی
…………………………..
شازیہ اس کے لئے سوپ بنا کر لائی تھی, وہ بیچارہ اپنا ٹوٹا پھوٹا وجود لئے بستر پر پڑا تھا, اسے خالد نے ایک قریبی ہسپتال سے برآمد کیا تھا, گھر سے نکلنے کے دس منٹ بعد ہی اس کی گاڑی کا ایک ٹرالر سے ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا
گاڑی کا تو کچھ بچا ہی نہیں تھا…
“طہٰ… اٹھ میرا بھائی, یہ پی لے” شازیہ نے اسے اٹھانا چاہا
“نہیں پینا… ” وہ منہ موڑ گیا, تیمور ملک اس کے سرہانے بیٹھے تھے, خالد ایک طرف خاموش کھڑا تھا
“طہٰ تھوڑا سا پی لے… ” شازیہ نے فل زور لگ لیا لیکن اس نے ایک قطرہ بھی نہ پیا
“طہٰ… ” تیمور ملک اس کے قریب ہوۓ تھے
“کیا ہوا ہے ؟؟؟؟” وہ آخر کو باپ تھے, طہٰ بس نفی میں سر ہلاتا چلا گیا… دو آنسو ٹوٹ کر گردن تک بہہ گئے
“کیا ہوا ہے اسے ؟؟؟” اب کے انہوں نے خالد سے پوچھا تھا
“کچھ نہیں تایا جان… کچھ نہیں ہوا” وہ بولا
“ٹھیک ہو جاۓ گا کچھ دنوں تک… “خالد نے اس کی ڈرپ دوبارہ سٹارٹ کی تھی
تیمور ملک چپ چاپ کمرے سے نکل گئے
“خالد بھائی.. میں کیا کروں گا اب ؟؟؟” وہ بولا
“طہٰ… بچے صبر کر… ” وہ بولا
“کیسے کروں… کیسے کروں ؟؟؟” وہ بات بے بات رو رہا تھا
……………………….
ان دونوں میں ایک زور دار جھگڑا ہوا تھا…
“حریم… جب تک تمہارے دماغ سے ناشیہ نہیں نکلے گی نا… تب تک ہم سکھی نہیں ہو سکتے” رافع نے کہا
“تم میرے دماغ کو چھوڑو… تم بس اسے اپنے دل سے نکال دو”حریم چیخی تھی
“حریم… میں نے شادی سے پہلے تمہیں کوئی ہزار بار کہا تھا کہ میرا ماضی ہماری شادی کے ساتھ ہی دفن ہو جاۓ گا, تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھاکہ ناشیہ کا ذکر کبھی کبھی نہیں دہرایا جاۓ گا” رافع کی بس ہو گئی
“رافع… میں تمہاری بیوی ہوں اور تم ابھی تک اس عورت کو لیکر بیٹھے ہو” حریم پھٹ پڑی تھی
“خد کی قسم. مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ اب کہاں ہے ؟؟؟” رافع دہاڑ کر بولا تھا
“خبرادر جو اب مجھ پر چلاۓتو… ” حریم خود حلق کے بل چیخی تھی
“اور خبردار… جو اب مجھے کبھی بھی ناشیہ سے منسوب کیا تو… ؟؟” رافع نے اسے انگلی اٹھا کر وارن کیا تھا
حریم نے اسی وقت فاخر کو کال کر دی تھی اور وہ آ کر اسے لے گیا تھا
ان کی بیٹی دو ماہ کی ہو گئی تھی…سارہ
………………………..
شام کے پانچ بج رہے تھے جب وہ حسب معمول گھر آیا… دونوں بچے صحن میں کھیل رہے تھے, رحمہ سکول جانے لگ گئی تھی, روبینہ کو کچن میں کھڑے دیکھا تو چونک گیا
“فرح کہاں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“تجھے نہیں پتہ ؟؟؟” انہوں نے اچنبھے سے پوچھا
“نہیں… ” شافع کی چھٹی حس جاگ اٹھی
“کہہ رہی تھی کہ اسے تیرے باپ کی کال آئی ہے کہ بانو کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی ہے, اسے ہسپتال لے گیے ہیں” روبینہ نے کہا
“کب… ؟؟؟”
“تقریباً دو بجے… میں نے کہا کہ شافع کو بتا دے تو کہتی کے اسے بتا دیا ہے… وہ کہہ رہا ہے میں خود آ جاؤں گا ہسپتال فارغ ہو کر… تم چلی جاؤ” روبینہ کہتی چلی گئیں, شافع نے اسی وقت ساجد کو کال کی تھی
“جی شافع بھائی… “
“ساجد… بانو آنٹی کی طبیعت کیسی ہے اب ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کافی بہتر ہیں اب شافع بھائی… عابدہ نے ابھی کھانا کھلایا ہے انہیں ” ساجد کے کہتے ہیں روبینہ کی آنکھیں پھٹ گئیں
“کہاں ہیں اس وقت… ؟؟؟” اس نے مزید یقین دہانی چاہی تھی
“اپنے کمرے میں ہیں… ” ساجد نے کہا, شافع نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کال کاٹ دی, بیگ روبینہ کو پکڑاتے ہوۓ اس نے بابر کو کال کی تھی
“کہاں ہیں آپ ؟؟؟” اس نے پوچھا
“بھٹے پر… “
“فرح کو آپ نے کال کی تھی آج… دو بجے ؟؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“نہیں… میں تو ابھی شاہدرہ سے آیا ہوں” وہ بولا, شافع بول نہ سکا
“کیا ہوا ؟؟؟” بابر نے پوچھا تھا
“وہ گھر پر نہیں ہے….. ” شافع نے اتنا کہہ کر کال کاٹ دی تھی, روبینہ سے بیگ پکڑ کر وہ کمرے میں آیا اور ٹھٹھک گیا
پورا کمرہ تتر بتر ہوا پڑا تھا, الماری کھلی پڑی تھی, شافع نے بھاگ کے لاکر چیک کیا… وہ خالی تھا
فرح اپنا تمام تر زیور اور جتنا کیش گھر پر موجود تھا وہ بھی لے گئی تھی, قیمتی کپڑے بھی غائب تھے, وہ اپنا موبائل, کریڈیٹ کارڈ, شناختی کارڈ سب کچھ لے گئی تھی, وہ کوٹ اتارتا ہوا بستر پر گر گیا, تبھی بیرونی دروازہ بجا… رافع گھر پر ہی تھا
“شافع…. ” سیٹھ بابر آیا تھا
“محلے میں کہیں گئی ہو گی” اس نے کہا
“وہ سب کچھ لے گئی ہے… اپنے کپڑے تک” شافع نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا, بابر اس سے نظریں نہیں ملا سکا تھا
“فکر مت کر… ڈھونڈ لیتے ہیں” بابر نے کہا
“اور اس بار اسے ڈھونڈ کر آپ اپنے پاس ہی رکھیں گے ابو.. مجھے کال نہیں کریں گے, اس بار میں اسے کہیں نہیں ڈھونڈوں گا…اور اس بار وہ واپس آنے کے لئے نہیں گئی ” شافع کہتا چلا گیا, سیٹھ بابر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر نکل گیا تھا
فرح کا سیل مسلسل آف تھا
…………………………..
وہ اور اذن آج راۓ عبید کی طرف آۓ تھے, ان دونوں کی شادی کو ایک ہفتہ ہو گیا…اذن کچھ دیر راۓ عبید کے پاس بیٹھا…. پھر درید کے ساتھ باہر نکل گیا, وہ بھی اگلے ہفتے واپس جا رہا تھا, زرقا کچھ دیر اسراء اور اسماء کے پاس بیٹھی رہی… پھر اوپر آ گئی, اسماء نے اس کا کمرہ صاف کروا کر سیٹ کروا دیا تھا کہ جب کبھی وہ اور اذن آئیں تو وہیں رک جایا کریں, کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی آنکھیں نم ہو گئیں, طہٰ کی یادیں پے در پے اس پر حملہ آور ہونے لگی تھیں
“یار کہیں تمہارے ابو تمہارا اور اذن کا رشتہ ہی نہ طے کر دیں… ” وہ بستر کے پاس آن کھڑی ہوئی
“مجھے لگا… وہ تمہارا شوہر ہے”
“فرض کرو اگر ہوتا… ؟؟؟”
“تم میں ہو گی اتنی ہمت… مجھ میں تو بالکل نہیں ہے” زرقا کی آنکھیں نم ہو گئیں
دفعتاً باہر آہٹ سی ہوئی تھی, وہ دھیرے سے مڑی
سفید پٹیوں میں جکڑا وہ عین دروازے میں کھڑا تھا
یوں جیسے نہ جانے کیا کچھ ہار آیا ہو
“زرقا… ” وہ لنگڑاتا ہوا اندر چلا آیا
“طہٰ اس کمرے میں آنے کا ہر حق ختم ہو گیا ہے تمہارا…” وہ بولی تو آواز بھر آئی
“میں نہیں مانتا… میرا آج بھی پورا حق ہے تم پر… اس کمرے پر…میری محبت ہو تم” وہ چیخ پڑا
“زرقا… یار میں کیسے رہوں گا تمہارے بنا ؟؟؟ ایک وہ محبت ہوتی ہے نا جسے پانے کے لئے لڑا جاۓ, جتن کیے جائیں, آنسو بہاۓ جائیں… پھر بھی نہ ملے… اس کا دکھ شاید اتنا نہیں ہوتا… اور ایک وہ ہوتی ہے جس کے لئے کوشش ہی نہ کی جاۓ, بس وہ چپ چاپ چھن جاۓ… دکھ اس کا بھی نہیں… میں تو ابھی لڑا بھی نہیں تھا… میں تو ابھی رویا بھی نہیں تھا… اور تم چھن گئیں” وہ آنسوؤں سے رو رہا تھا
“طہٰ… جاؤ یہاں سے” وہ رخ موڑ گئی, طہٰ نے اس کی کلائی تھام لی
“زرقا… دفع مارو ہر شے کو, ہر رشتے کو, میں آخری دم تک تمہارے ساتھ ہوں… چلو میرے ساتھ, خدا کی قسم تمہیں رانی بنا کر رکھوں گا میں” وہ کہتا چلا گیا, زرقا نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنی کلائی اس کی گرفت سے چھڑوائی تھی
“طہٰ…. جاؤ” وہ رو پڑی تھی
“زرقا میں پھر آؤں گا… میں تمہیں لیکر جاؤں گا دیکھ لینا” وہ انگلی اٹھا کر کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا تھا
……………………………
فرزانہ کی چیخ و پکار سے اس کی آنکھ کھلی تھی, وہ معاذ کو اٹھا کر بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی, صفوان کل رات ہی گھر آیا تھا
“کیا ہوا ؟؟” وہ بوکھلا گئی, فرزانہ کمرے کی دہلیز پر بیٹھی سینہ پیٹ رہی تھی
“حنا کا سارا زیور غائب ہے… ” ثناء کے کہتے ہی اس کی جان نکل گئی, وہ بھاگم بھاگ کمرے میں آئی اور اپنا زیور نکالا… خالی ڈبہ اس کا منہ چڑا گیا
“میرا بھی سارا زیور غائب ہے… ” وہ رونے والی ہو گئی
“وے صفوان تیرا بیڑہ غرق ہو خبیثا… ہاۓ میں لٹ گئی” فرزانہ دہائیاں دے رہی تھی
گھر سے پیسے نام کی ہر شے غائب تھی, فرحان کا کارڈ بھی گم تھا, وہ دوکان کا گلہ بھی خالی کر گیا تھا, موبائل بند جا رہا تھا
…………………………..
جاری ہے
