Teri Qurbatein Meri Shiddatein By Ayesha Zulfiqar Readelle50170 Ever After (Part 1)
No Download Link
Rate this Novel
Ever After (Part 1)
ایک سال بعد
اس دن اتوار تھا, شام تقریباً پانچ بجے کا وقت تھا, روبینہ انصاری کے گھر کے آنگن میں اچھا ہی ہلا گلا مچا ہوا تھا
برآمدے کے سامنے بنے وسیع و عریض ماربل کے فرش پر چاک سے بائیس قدم کی کریز بنی ہوئی تھی, ایک طرف وکٹس تھیں اور دوسری طرف چاک سے ہی لائن لگا دی گئی تھی
دو ٹیمز تھیں… رافع اور ناشیہ, شافع اور اسراء
ٹاس رحمہ سے کروایا گیا تھا جو شافع نے جیت لیا
“بیٹنگ… ” اس نے بلا اٹھا لیا تھا
“تم نے کبھی کی بھی ہے بیٹنگ… ؟؟” اسراء بے یقین سی تھی
“واہ… تمہیں پتہ ہی کیا ہے ؟؟؟” وہ مسکراتا ہوا وکٹس کی طرف چلا گیا
“بھابھی… آپ پریشان نہ ہوں… بھائی بڑی ہارڈ بیٹنگ کرتے ہیں” رافع کے مسکراہٹ وہ سمجھ نہیں پائی تھی, شافع تو بلا پکڑ کر ہی نہائت خوش تھا
معاذ اور سارہ دونوں فی الحال روبینہ کی کسٹڈی میں دے دیئے گئے تھے اور وہ دونوں اس دنیا جہان کی شفیق ترین دادی ماں کی نظروں میں دھول جھونک کر پوری طرح پلاٹ کے اطراف میں بنی کیاریاں کھودنے میں مصروف تھے
فیلڈنگ کے لئے سات سالہ رحمہ اور پانچ سالہ راحم دونوں طرف موجود تھے
“ناشیہ… وہاں کھڑی ہونا” رافع نے اسے وکٹس کے دائیں طرف کھڑا کر دیا, اسراء وکٹس کے مخالف طرف آ کھڑی ہوئی تھی
“ریڈی… ؟؟؟” رافع نے اپنا ٹریک لیتے ہوئے پوچھا تھا
“ریڈی… ” شافع کے کہتے ہی اس نے بال کروائی… وہ ضائع چلی گئی
اگلی پھر ویسٹ… وہ پورا اوور اس نے ٹھک ٹھک کرتے گزار دیا
“شافع…. اسے گھما لو, دکھتا ہے کیا یہ ؟؟؟” اسراء کو تاؤ آ گیا
“تم خود آ کر گھما لو… ” وہ بولا
“تم رن بناؤ گے تو میں ادھر آؤں گی نا… ” وہ بولی, رافع نے پھر بال کروائی تھی, شافع نے پوری طرح بیگم کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے بلا گھمایا اور گیند اچھلتی ہوئی ناشیہ کے ہاتھوں میں چلی گئی
“یاہو…. ” ان دونوں کا مشترکہ نعرہ گونج گیا, اسراء نے قہر بار نظروں سے شافع کو گھورا تھا
“تم دیکھنا ذرا… پہلی بال پر ہی آؤٹ کر دوں گا اسے” شافع اس سے زیادہ خود کو حوصلہ دے رہا تھا, رافع بلا پکڑ کر وکٹس پر آ گیا
شافع کی پہلی بال… اور رافع کا ٹھاں چوکا
اسراء بس دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اسے دیکھتی رہ گئی
“رافع یار یہ کیا… ؟؟؟” وہ بے یقین سا کھڑا تھا
“اسے کہتے ہیں جیت… ” رافع نے بلا لہرایا تھا
دوسرے میچ کا ٹاس ہوا… رافع نے ٹاس جیت کر بلا پکڑ لیا, بال شافع کے ہاتھ میں تھی
“ریڈی… ؟؟؟” وہ ہنستے ہوئے بولا تھا, شافع نے بال پھینکی…. چوکا
دوبارہ پھینکی… چھکا
ایک کے بعد ایک رافع اسے دھوتا چلا گیا تھا
رحمہ اور راحم بیچارے گیند اٹھا اٹھا کر تھک گئے, خود اسراء کا سانس پھول گیا تھا, رافع کی جارحانہ بیٹنگ بڑھتی جا رہی تھی
“سالے تیرا ہاتھ کچھ زیادہ ہی نہیں کھل گیا… ” شافع کو بھی دانتوں تلے پسینہ آ گیا
“شافع ادھر دو مجھے بال… ” وہ آگے کو آئی تھی
“نہیں… تم دیکھنا… بس گیا یہ اب” وہ بولا, اسی بال پر اسے چوکا پڑا تھا
رافع 45 رنز بنا کر کھڑا تھا جب اسراء نے شافع کے ہاتھوں سے بال چھینی
“ادھر دو… تم تو سینچری کروا دو گے اس کی” اسراء مارے غصے کے سرخ ہوئی پڑی تھی
“تمہیں باؤلنگ آتی ہے ؟؟؟”
“تم سے تو اچھی ہی آتی ہے” وہ بولی
پہلی بال پر اس نے بھی چوکا ہی کھایا تھا… بس پھر اس کے بعد رافع پھنس گیا… اور 53 پر اسراء نے اسے آؤٹ کر دیا
“بھائی… بنا لیں گے نا ؟؟؟” رافع مسلسل ہنس رہا تھا, شافع نے پسینہ صاف کرتے ہوئے بلا پکڑ لیا
وہی ٹھک ٹھک…
“پاپا کچھ تو کریں… ” اسراء کے ساتھ کھڑی رحمہ بھی بھڑک گئی
“پاپا ایسے کریں… چاچو کی طرح… ایسے” راحم نے اسے سمجھایا….لیکن وہی مرغے کی ایک ٹانگ
اسراء کو دوڑا دوڑا کر اس نے بمشکل نو رنز بناۓ تھے
“شافع… ادھر دو بلا” وہ اس کی طرف آئی
“طس اب لگے گا چوکا” اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ رافع کی سلو بال پر بلا گھما ڈالا
گیند سیدھا اوپر کو اٹھی… اور بڑے آرام سے رافع کے ہی ہاتھوں میں آ گئی
شافع بس اسراء کے سرخ بھبھوکا چہرے کو دیکھ کر ہنستا چلا گیا
تیسرے اور آخری میچ کا ٹاس ہوا… شافع نے جیتا
“بیٹنگ… “
“نہیں… باؤلنگ ” اسراء نے زور سے کہہ کر بال پکڑی تھی, دوپٹہ کندھے سے گزار کر اس نے زور سے باندھا, پسینہ صاف کیا اور شافع کو بازو سے جکڑ کر وکٹس کے قریب لے آئی
“یہاں کھڑے ہونا ہے… بس اتنا کرنا کہ کیچ پکڑ لینا… اتنا تو کر لو گے نا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… ٹھیک ہے” وہ بولا
“بھابھی… کوئی فائدہ نہیں ہے” رافع نے بلا لہرایا تھا
“تمہاری تو طبیعت سیٹ کرتی ہوں میں… کچھ زیادہ ہی کھلا ہوا ہے تمہارا ہاتھ” اسراء کو اچھا خاصا غصہ آیا ہوا تھا, ناشیہ بس کمر پر ہاتھ رکھے مسکراۓ جا رہی تھی
دونوں بچے پوری طرح مٹی سے بھوت بن چکے تھے
اسراء نے بال کروائی… ویسٹ
پھر کروائی… وائیڈ
پھر کروائی… رافع نے شاٹ لگانی چاہی لیکن بلا بس بال کو چھو کر رہ گیا, بال شافع کی طرف آئی اور اس کی انگلیوں ے نیچے نکل گئی
“شافع… ” اسراء زور سے چیخی تھی
“سوری… ” وہ شرمندہ سا کھڑا تھا
اگلی بار پر رافع نے چوکا مارا… دو, تین بالز کے بعد پھر کیچ بنا لیکن اس بار شافع انصاری سے بالکل ہی نا پکڑا گیا
“شافع مسئلہ کیا ہے ؟؟؟” وہ بولی
“شافع بھائی کے ہاتھ چیک کرنا آج… انگلیاں پوری بھی ہیں ؟؟؟” ناشیہ ہنسے جا رہی تھی
“بس اب نہیں چھوڑتا… چلو” وہ بولا, لیکن اسراء جان گئی تھی کہ شافع کم از کم کیچ نہیں کر پاۓ گا سو بارہ رنز کے بعد اس نے رافع کو ایل بی ڈبلیو ہی کر دیا
بلا بھی اس بیچاری نے خود ہی پکڑا
“بھاگ تو لو گے نا ؟؟؟” اسے اس پر بھی شبہہ تھا
اس نے دو چوکے لگاۓ… اور دو رنز بناۓ
جیتنے کے لئے صرف دو رنز درکار تھے, شافع بلا پکڑے ہوئے تھا
“شافع… کوئی ضرورت نہیں ہے بلا گھمانے کی, بس ایک رن لے لو… بس” اسراء اس کی منت کیے جا رہی تھی
شافع نے شاٹ لگائی اور بھاگا, ناشیہ پاس ہی تھی
“شافع واپس جاؤ… ” اسراء زور سے چیخی لیکن وہ بوکھلا کر واپس پہنچ نہ سکا اور ناشیہ نے اسے رن آؤٹ کر دیا
“چاچو جیت گئے “ایک شور عظیم بپا ہوا تھا
اسراء بس پیر پٹخ کر رہ گئی
“کسی کام کے نہیں ہو تم… ” اسراء نے شافع کی طرف دیکھا
“واقعی… ؟؟؟” وہ معنی خیز سے انداز میں بولا تھا
“ہاۓ اللہ… چاچو ذرا دیکھیں تو… ” رحمہ کی نظر بھوت بنے معاذ اور سارہ پر پڑی تھی
“یا خدا… ” ناشیہ سر پر پیر رکھ کر ان دونوں کی طرف بھاگی
“کوئی بات نہیں… بچے مٹی میں ہی کھیل کر پھلتے پھولتے ہیں” روبینہ نے کہا
“ماما بھوک رہی ہے… ” راحم نے اسراء کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تھا
“ہا میرا بچہ… بس میں روٹی پکانے لگی ہوں” اسراء اپنا دوپٹہ کھولتے ہوئے کچن کی طرف بھاگی تھی
“انہیں اوپر لے چلوں… ” رافع نے سارہ اور معاذ کو مٹی سے اٹھایا تھا
“یہیں پائپ لگا کر نہلا دے… اوپر کہاں لیکر جاۓ گا” روبینہ مغرب کی نماز کی تیاری کرنے اٹھ گئی تھیں, رافع نے گیراج کے ساتھ بنی لانڈری میں لگے واٹر پمپ کے ساتھ ہی پائپ لگایا تھا, ناشیہ نے دونوں بچوں کے مٹی سے اٹے ہوئے کپڑے اتارے
کچن میں آ کر اس نے دوپٹے کی گرہ کھولی اور منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھپکے مارے, اسے اچھا خاصا پسینہ آیا ہوا تھا, دوپٹے سے چہرہ خشک کرتے ہوئے وہ فریج سے آٹا نکال کر لائی اور سلیب پر رکھ دیا
تبھی وہ اس کے پیچھے کچن میں داخل ہوا تھا
اسراء کو پتہ نہ چلا, وہ بس بے خیالی میں ہی اپنے بالوں کو اونچا س فولڈ کرتے ہوئے کیچر لگانے لگی
رافع کے پائپ لگاتے ہی باہر ایک دھما چوکڑی مچ گئی تھی, دونوں بچوں کی خوشی کا کوئی عالم نہیں تھا, راحم بھی ساتھ ہی پانی میں کود پڑا تھا
“رافع… مجھے تو گیلا نا کرو… ” ناشیہ چیخی
“اوہ… تمہارے اوپر بھی پانی آیا ؟؟؟” رافع نے کہا
“تو اور کیا… دیکھو ذرا ” اس نے گیلا دوپٹہ کھولتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی دم بخود رہ گئی
رافع کے پائپ کا رخ اس کی طرف ہو گیا تھا
“رافع… ” وہ بھاگی لیکن رافع ہنستا ہوا بدستور اسے بھگوتا چلا گیا
شافع نے ایک نظر اس کی پشت کو دیکھا, اس کی شرٹ پسینے سے بھیگ کر کمر کے بالکل ساتھ چپک گئی تھی, اس کی گردن پر پسینے کے قطرے شافع کی دنیا ہلا گئے, وہ دھیرے سے آگے بڑھا تھا
اسراء نے ابھی توے چولہے پر رکھا ہی تھا کہ اسے اپنی کمرے پر اس کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا تھا, پھر اس کی سانسوں کی سرسراہٹیں اسراء کی گردن پر کھیلنے لگیں
“شافع… مجھے روٹیاں بنانے دو” وہ ماچس اٹھاتے ہوئے بولی
“ناراض ہو ؟؟” شافع کے دونوں بازوؤں نے اس کی کمر کے گرد مکمل حصار بنا لیا تھا, وہ بہت نرمی سے اس کی گیلی گیلی سی گردن کو مزید گیلا کرتا جا رہا تھا
“رافع… میں ساری گیلی ہو گئی ہوں” ناشیہ جھلا کر کہتی ہوئی اس کی طرف آئی اور زبردستی اس سے پائپ چھین لیا
“جینز گیلی ہو جاۓ گی.. م” رافع چیخا تھا لیکن ناشیہ نے پورے پریشر سے پانی ڈال کر اسے گیلا کر دیا, ایک دوسرے سے پائپ چھینتے ہوۓ وہ دونوں لانڈری میں آ گئے تھے
“رافع بس کرو… ہر طرف پانی پانی ہو گیا ہے” ناشیہ نے کہا
“چلو بس کر دیا… ” اس نے ایک بار پھر پائپ کا رخ اس کی طرف کر دیا, ناشیہ نے بھاگ کے پمپ کا بٹن بند کیا تھا, اس سے پہلے کہ وہ واپس پلٹتی, رافع نے ایک جھٹکے سے اس کے گلے سے لٹکتا دوپٹہ کھینچ دیا
“رافع… ” وہ ششدر سی کھڑی رہ گئی
“پاس آ کر لے لو” وہ اس کا دوپٹہ اپنے بازو پر گھماتے ہوۓ بولا, وہ خود بھی پانی پانی ہوا پڑا تھا
“یقین کرو مجھے ذرا سا بھی اندازہ نہیں تھا کہ تم اتنے بے شرم ہو ؟؟؟” وہ بولی
“اور یقین کرو مجھے میری بیوی ساتھ ہر بڑی سے بڑی بے شرمی بھی معاف ہے” وہ بولا
“رافع… شام ہو رہی ہے, بچوں کو کپڑے بدلوانے ہیں, لاؤ دوپٹہ ” وہ اس کی طرف کو آئی تھی
” یہ لو… ” اس نے بٹے دوستانہ سے انداز سے کہا اور دوپٹہ اس کی طف اچھالا, اس بیچاری نے جیسے ہی پکڑا, رافع نے زور سے کھینچا
وہ جل پری لہرا کر اس کے سینے سے آ لگی تھی
“نہیں تو… ناراض کیوں ہونا ” وہ پیڑے بناتے ہوئے بولی
“میری وجہ سے تم ہار گئیں” وہ اس کے گرد حلقہ تنگ کرتا جا رہا تھا, اس کی انگلیاں دھیرے دھیرے اسراء کے پورے وجود پر سرسرانے لگی تھیں, لبوں نے گردن سے گالوں تک کا سفر بڑی جلدی طے کر لیا تھا
“گھر کی چار دیواری میں بھلے ہی سو بار ہرا دو…چاردیواری سے باہر کبھی مت ہرانا” اسراء نے ہولے سے کہا تھا, شافع نے اسے اپنی طرف موڑا
پانی اور پسینے سے بھیگا وہ سرخ سرخ سا چہرہ جو اس کی قربت سے مزید تمتمانے لگا تھا… گلابی گلابی لرزتے ہوۓ لب جو شافع انصاری کی جان نکال رہے تھے, دیوانہ وار وہ اس مہ وش پر جھکا تھا
“رافع… ” برساتوں جیسا وہ وجود رافع انصاری پر برستا چلا گیا تھا, ناشیہ نے یکلخت ہی دونوں بازو اس کی گردن میں ڈال دیئے, رافع نے لمحوں میں اس کے نچڑتے ہوۓ وجود کو اپنے دل سے لگایا تھا اور گرفت مضبوط کی تھی
“کیا کہا تھا ابھی مجھے… ” وہ اسے اپنے زور پر پیچھے دیوار سے لگا گیا
“بے شرم… ” ناشیہ کے لب مسکراۓ تھے اور ساتھ ہی رافع انصاری کے لبوں میں قید ہو گئے
“شافع… ” اسراء کی سرگوشی سی نکلی اور شافع انصاری کے لبوں میں دم توڑ گئی
“I love you… “
پاگل تو وہ دونوں بھائی ہی ہو چلے تھے
………………..
