No Download Link
Rate this Novel
Episode 40
اسے ساجد کا فون آیا تھا
“فرح بار بار آپ سے ملنے کا کہہ رہی ہے… ” اس نے کہا
“امی نے کہا ہے کہ… آپ سے کہوں ایک بار اس کی بات سن لیں ” وہ بولا, شافع بس سانس بھر کر رہ گیا, اگلے دن شام کو وہ دونوں بچے لیکر حویلی چلا آیا, فرح اسی کمرے میں بند تھی
شافع نے دروازہ کھولا… وہ چارپائی پر لیٹی تھی
“ماما… ” رحمہ کی آواز پر اٹھ بیٹھی
“رحمہ… ” بلکتے ہوۓ اس نے اسے گلے سے لگایا تھا, پھر راحم کو چومنے لگی, پیار کرنے لگی
“ماما… آپ کہاں گئی تھیں ؟؟؟” رحمہ بار بار پوچھ رہی تھی, فرح بول نہ سکی, دونوں بچوں کو سینے سے لگاۓ اس نے نظر اٹھا کر شافع کو دیکھا تھا
“شافع… ایم سوری… ” وہ بس رو رہی تھی, راحم باہر کو بھاگا تو رحمہ بھی اس کے پیچھے باہر نکل گئی
“مجھے معاف کر دو, شافع مجھے معاف کر دو…” وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی
“فرح… کیا ملا تمہیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“شافع میں تمہارے پاؤں پکڑتی ہوں مجھے معاف کر دو… ” وہ اس کے پیروں پر گری تھی, شافع دو قدم پیچھے ہٹ گیا, وہ زارو قطار رو رہی تھی
“تمہیں پتہ بھی ہے کہ تم نے کیا کیا ہے ؟؟؟” شافع اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھ گیا
“تم نے زنا کیا ہے فرح انصاری… تم نے میرا حق میرے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی اور کو دیا ہے ” وہ بولا
“شافع میں بہک گئی تھی… ” وہ ابھی بھی ہاتھ جوڑے ہوۓ تھی
“نہیں… بہکنا ایک بار ہوتا ہے… تمہیں لت پڑ گئی تھی فرح… تمہارا حلال سے دل اٹھ گیا تھا, پورے شہر نے تمہیں دیکھا ہے… اس نا محرم شخص کے ساتھ… ایک ہی کمرے میں… ایک ہی بستر پر… ” وہ کہتا چلا گیا
“میں آنکھ بند کروں تو میرے ذہن میں سب سے پہلا منظر اس رات کا آتا ہے جس رات تم میرا لباس ہوتے ہوئے بھی کسی اور کی بانہوں میں بے لباس تھیں, بھلے ہی پہلا قدم اس نے بڑھایا… تم نے دوسرا کیوں بڑھایا ؟؟؟ تمہیں کس چیز کی کمی تھی ؟؟؟ میں نے کب تمہارا حق ادا نہیں کیا ؟ میں نے کب تمہاری ضرورتیں پوری نہیں کیں ؟میں نے کب تم سے محبت نہیں کی ؟ خدا نے تمہیں بیٹی سے نوازا, بیٹا عطا کیا, تمہارے لئے سارے جہان کی عزت چن کر رکھی…اور تم ہر شے کو ٹھوکر مار کر چلی گئیں… ” شافع کہتا چلا گیا
“شافع معاف کر دو… ” فرح نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لئے
“بس ایک بار… ایک بار معاف کردو, شافع میں تمہارے پیروں کی دھول بن کر رہ لوں گی پلیز…. ” وہ کہتی چلی گئی
“ان بیویوں کا ظرف بہت بڑا ہوتا ہے فرح… جو دوسری عورتوں کے ساتھ سونے والے اپنے شوہروں کو معاف کر دیتی ہیں… میں تو بہت کم ظرف ہوں… میں نے جتنی بار تمہیں معاف کرنا تھا کر دیا… اب نہیں کروں گا” وہ اس کے دونوں ہاتھوں سے اپنے ہاتھ چھڑواتا ہوا باہر نکل گیا تھا
………………………..
وہ دونوں رات ک کھانا کھا رہے تھے جب بیرونی دروازے کی بیل بجی, ارمغان اٹھ کر دیکھنے چلا گیا, پھر اسے قدموں کی چاپ سنائی دی اور ساتھ ہی حدید کی آواز آئی, وہ فوراً اٹھ کر کمرے میں بھاگ گئی تھی
“کچھ نہیں پتہ چلا ؟؟؟” وہ ارمغان کے ساتھ اندر آیا تھا
“نہیں… ” حدید جیسے ہارا پڑا تھا, غاشیہ نے دروازے کی اوٹ سے اسے دیکھا, کوٹ دائیں کندھے پر ڈالے, دونوں آستینیں کہنیوں تک چڑھاۓ, تھکا تھکا سا وہ صوفے پر گرا تھا
“ارمغان… میں اسے کہاں ڈھونڈوں ؟؟” بے بسی کی انتہا تھی… آنکھیں بار بار پانی سے بھر جاتی تھیں, ارمغان بس چپ چاپ سا اس کے پاس آ بیٹھا
“پورا شہر چھان لیا… ہر جگہ ڈھونڈ لیا… کہیں بھی نہیں ہے, ارمغان… اب تو ہسپتالوں کے. مردہ خانے ہی باقی رہ گئے ہیں ” وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گراتے ہوئے بولا تھا
“تیرا کیا بنے کا ارمغان ملک…؟؟؟ جب اسے سچ پتہ چلا ؟؟؟ جب اسے پتہ چلا کہ تو اس کی بیوی کو ورغلاتا تھا ؟؟؟ اسے تنگ کرتا تھا, کیا گزرے گی حدید کے دل پر جب اسے پتہ چلے گا کہ وہ تیری وجہ سے اجڑ گیا ؟؟؟؟” ارمغان کو مسلسل کچوکے لگ رہے تھے
“حدید… پریشان نہ ہو, مل جاۓ گی” اس نے حدید کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“وہ نا ملی تو میں کیا کروں گا ؟؟؟” حدید رو دیا تھا
دروازے کے پیچھے کھڑی غاشیہ نے نہ جانے کیسے خود پر قابو پایا تھا
………………………
سیٹھ بابر نے اسے چھوڑ دیا تھا… زندہ چھوڑ دیا تھا, لیکن ساتھ ہی اس کے گھر سے نکلنے پر مکمل پابندی لگا دی تھی, اس کے دو بندے مسلسل نفیس کے گھر کے آس پاس منڈلاتے رہتے تھے, فرزانہ کئی دن تو صفوان کے زخموں کی ٹکور ہی کرتی رہی, جسم جا بجا نیل و نیل ہوا پڑا تھا
دن رات وہ جھولی اٹھا اٹھا کر سیٹھ بابر اور فرح کو کوسنے دیتی, فرحان تو ان لوگوں سے جیسے بالکل ہی لا تعلق ہو گیا تھا, حنا کا رشتہ کب کا ٹوٹ چکا تھا, وہ دونوں ہر گزرتے دن جوانی کے دن گزار رہی تھیں
وہ بھی جنوری کی ایک یخ بستہ سی شام تھی جب فرزانہ, نفیس اور صفوان, تیمور ملک کے گھر پہنچے, دروازہ طہٰ نے کھولا تھا, وہ تو صفوان کو دیکھتے ہی بھڑک گیا
“طہٰ… بچے یہ معافی مانگنے آیا ہے, یہ تیرے ابو کے پیروں کو ہاتھ لگا کر معافی مانگے گا” فرزانہ بیچ میں آتے ہوئے بولی تھی
“پھپھو میں آپ دونوں کا لحاظ کر رہا ہوں ورنہ یہ خبیث آج زندہ نہیں ہوتا, اسے کہیں یہاں سے دفع ہو جاۓ, یہ کمینہ اس گھر کی دہلیز پار نہیں کرے گا” وہ دروازے میں حائل ہو گیا تھا, شازیہ اور تیمور ملک بھی باہر نکل آۓ
“طہٰ… بیٹے رک جا” انہوں نے بمشکل اسے قابو کیا تھا, ناشیہ تو معاذ کو لیکر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی, اس نے خالد کو بھی فون کر دیا تھا
“تیمور بھائی… یہ معافی مانگنے آیا ہے, یہ آپ سے… “
“میں اس بدکار انسان کو قیامت تک معاف نہیں کروں گا فرزانہ… اسے کہہ یہاں سے چلا جاۓ” انہوں نے کہا
“بھائی صاحب بیٹھ کر بات کرتے ہیں… ” نفیس نے کہا
“ابو یہ کتا اندر نہیں آۓ گا” طہٰ زور سے گرجا
“ماموں مجھ سے غلطی ہو گئی, مجھے معاف کر دیں میں بہت شرمندہ… ” تیمور ملک نے اس کی بات کاٹ دی
“تو نے میری نیک پارسا بچی کا حق کسی اور کو دے دیا نامراد… میں تجھے قیامت تک معاف نہیں کروں گا…نا ہی وہ کرے گی” تیمور ملک نے کہا
فرزانہ نے خوب ہی رونے پیٹنے ڈالے, ترلے, منتیں, مرادیں… نفیس نے بھی ساری کوششیں کر لیں لیکن طہٰ نے صفوان کو گھر کے اندر ایک قدم بھی نہیں رکھنے دیا
“طہٰ… بیٹا لوگ دیکھ رہے ہیں, ضرور محلے کو تماشا دکھانا ہے… ” نفیس نے کہا
“محلے والوں کو سب کچھ پتہ ہے پھوپھا…محلے والوں کے سامنے ہی سارا کچھ ہوا ہے, ان سب محلے والوں نے اس زانی کی وہ ویڈیو دیکھی ہے, انہیں سب پتہ ہے, میری بہن کو جب وہ بھٹے والا گھسیٹتا ہوا لے گیا تھا تو سب نے ہی دیکھا تھا, جب وہ رات کے اندھیرے
میں لٹی پٹی واس آئی تو سب نے ہی دیکھا تھا.. بس کریں یہ سارا تماشہ اور جاییں یہاں سے… ” اس نے نفیس کو باہر جانے کا اشارہ کیا تھا
“تیمور بھائی میری بات تو سن… “
“پھپھو… جائیں یہاں سے, بس کریں, آج کے بعد آپ میں سے کوئی بھی اس دہلیز پر واپس نا آۓ… ” شازیہ آگے کو آئی تھی
“اور اس کتے حرامی سے کہیں کہ انسانوں کی طرح ناشیہ کو طلاق دے دے… ورنہ عدالتوں میں گھسیٹوں گا میں اسے ” طہٰ کاغصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا, فرزانہ اور نفیس چپ چاپ پلٹ گئے
……………………….
وہ سبھی نفوس رات کا کھانا کھا رہے تھے جب اذن کا سیل بجنے لگا, صمد کی کال تھی
“کیسے ہیں صمد بھائی ؟؟؟” وہ بڑی خوشدلی سے بولا تھا, پھر دوسری طرف کی بات سنتا رہا
“خیریت تو ہے صمد بھائی ؟؟؟” اس نے پوچھا اور دھیرے دھیرے اس کا چہرہ متغیر ہوتا چلا گیا
“ٹھیک ہے… میں تھوڑی دیر تک چھوڑ جاؤں گا زرقا کو” وہ کال کٹ کرتے ہوئے بولا
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” سب سے پہلے زرقا نے پوچھا تھا
“دو ہفتے پہلے کہیں اسماء باجی نے غاشیہ کے پورشن میں کسی انجان بندے کو پکڑا اور غاشیہ کی اچھی خاصی بے عزتی کر کے اسے رات کے اندھیرے میں گھر سے نکال دیا…اب اس کا کوئی پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کہاں گئ… حدید پاگل ہوا پھر رہا ہے” اذن کہتا چلا گیا, آمنہ سن رہ گئیں, زرقا کے ہاتھ سے چمچ چھوٹ گیا تھا, اسراء بھی پریشان ہو گئی, انیتا اپنے کمرے میں تھی
“ابھی کل تو اسماء ہو کر گئی ہے… اس نے تو کچھ نہیں بتایا” آمنہ نے کہا
“صمد بھائی بتا رہے تھے کہ پرسوں حدید نے کہیں گاڑی بھی ٹھوک دی تھی, اچھی خاصی چوٹیں آئی ہیں…” اذن نے کہا, زرقا تو بس ساکت سی نظروں سے اذن کو دیکھے جا رہی تھی
“اتنا کچھ ہو گیا اور… ہمیں کسی نے کچھ بتایا ہی نہیں… اسماء نے بھی نہیں بتایا” عمر فاروق نے کہا
“مجھے تو انیتا نے بھی کچھ نہیں بتایا… حالانکہ پورا ہفتہ رہ کر آئی ہے” آمنہ کو ہول ہونے لگے تھے
“انیتا ہے کہاں ؟؟؟ مجھے تو چار دن سے اس کی شکل ہی نظر نہیں آئی ” عمر فاروق کو وہ یاد آئی تھی
“ابو اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے… اپنے کمرے میں ہے” اسراء نے کہا
“ابو وہ کہہ رہے ہیں کہ حدید ذہنی طور پر انتہائی اپ سیٹ ہے, نا کچھ کھاتا ہے نا پیتا ہے… بس ہر وقت میدان جنگ لگاۓ رکھتا ہے, ہم میں سے کسی کو اوپر آنے ہی نہیں دیتا… زرقا کو بلا رہے ہیں کہ شاید اسی کی تھوڑی سن لے… “وہ بولا, زرقا کی آنکھیں پانیوں سے لبا لب بھر گئی تھیں
“غاشیہ کیریکٹر کی تو بہت مضبوط لڑکی ہے… دو سالوں سے حدید کو اپنا مان کر بیٹھی ہے, اس کے بنا تو کہیں باہر بھی نہیں جاتی, اس کے لئے شاپنگ تک حدید خود کر کے لاتا ہے پھر… کوئی کیسے آ گیا اس کے پورشن میں ؟؟؟” اسراء کہتی چلی گئی
“غلط فہمی ہو گئی ہو گی کوئی… ” آمنہ نے کہا
“تم کھانا کھا لو… میں چھوڑ آتا ہوں تمہیں… ” اذن نے کہا
“بس میں نے کھا لیا… ” وہ اپنی پلیٹ وہیں چھوڑ کر اوپر چلی گئی
“اذن بیٹا گاڑی نکال … میں اور آمنہ بھی چلتے ہیں, اتنا کچھ ہو گیا اور ہمیں پتہ ہی نہیں… ” عمر فاروق نے کہا, اذن نے سر ہلاتے ہوئے گاڑی کی چابی اٹھائی تھی
کچھ ہی دیر بعد وہ چاروں راۓ ہاؤس پہنچ گئے, انہیں دیکھ کر اسماء کا رنگ یکلخت ہی اڑا تھا
“عبید بھائی کیا ہو گیا ؟؟؟” آمنہ بھاگتی ہوئی اندر آئیں تھیں
“ابو… ” زرقا ان کے گلے لگ گئی
“زرقا میرے حدید کو بچا لے, وہ پاگل ہو گیا ہے, دیوانہ بن گیا ہے اسے بچا لے پتر… ” راۓ عبید کا سارا صبر جھاگ کی طرح اڑ گیا تھا
“اسماء تو پرسوں ہو کر گئی ہے… تو نے تو کچھ نہیں بتایا” آمنہ اس پر چڑھ دوڑیں
“امی… وہ میں… ” اسماء سے بات نہ بن پڑی
“حدید بھائی کہاں ہیں ؟؟؟” زرقا نے پوچھا
“ابھی تک نہیں آیا, خدا جانے کہاں ہو گا… وہ تو آدھی آدھی رات تک گھر نہیں آتا, ساری ساری رات جاگتا رہتا ہے, نا کچھ کھاتا ہے نا پیتا ہے, ہر وقت انکھیں سرخ انگارہ ہوئی رہتی ہیں… ” راۓ عبید تڑپ رہے تھے
“عبید بھائی وہ چلی کہاں گئی ؟؟؟” آمنہ نے کہا
“تیری بیٹی نے اسے گھر سے نکال دیا… “راۓ عبید کے کہتے ہی اسماء دم بخود رہ گئی
“ماموں… ؟؟؟” اس سے بولا ہی نہ گیا
“اسماء… تو نے نکالا اسے… ؟؟؟” آمنہ کو یقین نہ آیا
“امی وہ حدید کی پیٹھ پیچھے نہ جانے کب سے کسی اور سے چکر چلا رہی تھی, میں نے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے اسے کسی کے گلے لگتے ہوۓ…” اسماء تڑخ پڑی, آمنہ تو بس پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں
“میں نے نکال باہر کیا اسے… ” وہ کندھے اچکاتے ہوۓ بولی
“حدید نے کچھ نہیں کہا ؟؟؟” آمنہ نے پوچھا
“حدید… اس وقت نہیں تھا… ” وہ بولی
“اسماء… اس سے پہلے کہ میں تیرا منہ لال کر دوں مجھے سب کچھ سچ سچ بتا دے” آمنہ تیر کی طرح اس کی طرف آئیں, اسماء نے بادل نخواستہ انہیں سب کچھ بتا دیا
“تین ہفتے ہو چلے ہیں آمنہ… خدا جانے وہ کہاں چلی گئی ہے… حدید تو مرنے والا ہو گیا ہے” راۓ عبید نے کہا
“اسماء باجی ویسے بہت زیادہ زیادتی ہے یہ آپ کی, اس کا شوہر اسے گھر سے نکالتا یا نا نکالتا, آپ نے کس حیثیت سے اسے نکال باہر کیا ؟؟؟” اذن کو بھی غصہ آ گیا
“اوپر سے وہ بیچاری امید سے تھی, باپ نے بھی ہر ناطہ توڑ لیا کہ وہاں ہی چلی جاتی… ” اذن نے کہا
“آپ لوگوں کو سمجھ کیوں نہیں آ رہی کہ وہ اسی کے ساتھ چلی گئی جس کے ساتھ چکر چلا رہی تھی” اسماء چیخ پڑی
“بکواس بند کر… دو, ڈھائی سالوں سے تو اس کے ساتھ نہیں نکلی, تب تو نہیں نکلی جب اس کا بچہ ضائع ہو گیا تھا, اب نکلنا تھا اس نے جب وہ ایک بچے کو جنم دینے والی تھی… ” آمنہ کو غصہ آ گیا, اس سے پہلے کہ اسماء کچھ کہتی, باہر گاڑی رکنے کی آواز آئی تھی, آمنہ جلدی سے مڑیں, حدید اندر داخل ہوا تھا… اور اس کے پیچھے ہی ارمغان اور صمد تھے
اسماء کی سٹی گم ہو گئی, ارمغان نے بھی سارے ہجوم پر ایک حیران سی نگاہ ڈالی تھی
“حدید بھائی… ” زرقا بھاگ کر اس کے گلے لگ گئی
“زرقا میں اجڑ گیا… میں سچ میں برباد ہو گیا… میں جیتے جی مر گیا زرقا… ” وہ یوں رویا کہ آمنہ دہل گئیں
“حدید میرا پتر ایسے نہیں کرتے, جوان بیٹے ایسے نہیں روتے, مل جاۓ گی وہ… ڈھونڈ لیں گے اسے” آمنہ نے کہا لیکن وہ زرقا کو ساتھ لیے نیچے فرش پر گرتا چلا گیا, ارمغان نے ایک نظر اسماء کو دیکھا, وہ بھی اسی کو دیکھ رہی تھی
“وہ میرے بچے کی ماں بننے والی تھی… بس کچھ دنوں کی تو بات تھی, پھر میں ایک بچے کا باپ بن جاتا… ” وہ دہاڑیں مار مار کر رو رہا تھا
“زرقا… میرا گھر مکمل ہو گیا ہے, وائیٹ واش بھی ختم ہو گیا, میں نے کچن بھی سیٹ کروا دیا… مجھے اسے وہاں لیکر جانا تھا….بھلا میں وہاں کسے لیکر جاؤں گا” حدید بکھرتا جا رہا تھا
“تمہیں بھی پتہ تھا ؟؟؟” عمر فاروق ارمغان کی طرف مڑے, اسماء کا کلیجہ منہ کو آ گیا
“نہیں… میں تو ورکشاپ پر تھا جب مجھے خالد کی کال آئی, خالد ملک… تیمور ملک کا بھتیجا, مجھے کہتا کہ جلدی تھانے پہنچو, میں اسی وقت تھانے پہنچا تو حدید وہاں ایف آئی آر کٹوانے پہنچا ہوا تھا… اسماء اور ماموں کے خلاف…. ” ارمغان کہتا چلا گیا
“ایس ڈی پی او اطہر خالد کا بہت اچھا دوست ہے, اس نے کہیں دیکھا ہو گا حدید کو اس کے ساتھ سو اس نے خالد کو کال کی اور خالد نے مجھے… یہ تو وہاں اچھا خاصا پنگا ڈال کر آیا ہے, بڑی مشکلوں سے میں نے صمد بھائی کو بلوا کر اسے قابو کیا… ” ارمغان نے کہا, آمنہ سن رہ گئیں
“آپ کی بیٹی نے آپ کی دوسری بیٹی کی خاطر مجھے اجاڑ دیا پھپھو… وہ. میری بیوی تھی… میں اسے کہہ کر گیا تھا کہ اسے کچھ نہ کہے لیکن اس نے اسے گھر سے نکال دیا… ” حدید اسماء کی طرف انگلی کرتا ہوا اوپر چلا گیا تھا
“کیا خبر وہ اپنے باپ کے گھر چلی گئی ہو” آمنہ نے ایک نظر ارمغان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“وہاں نہیں ہے… ” وہ دھیرے سے بولا
“خالد کو پتہ چلا اس کا مطلب تیمور ملک کو بھی پتہ چل گیا ہو گا… حدید نا سہی, وہ تو ایف آئی آر ضرور دے دے گا” اذن نے کہا, اسماء کی رنگت زرد ہو گئی تھی
“خدا جانے وہ لڑکی اس حال میں کہاں ہو گی… ؟؟؟ کہیں… مر… تو نہیں گئی ” آمنہ کو خدشات ستاۓ جا رہے تھے
……………………….
تقریباً دس بجے کا وقت تھا, صمد سٹور پر جا چکا تھا اور بچے سکول… راۓ عبید کو اس نے نیند کی گولی دے کر بمشکل سلایا تھا, زرقا کچھ دیر اس کے پاس بیٹھی رہی پھر اوپر حدید کے پورشن میں چلی گئی, وہ سارا پورشن تلپھٹ ہوا پڑا تھا, زرقا اسے صاف کرنے میں لگ گئی
تبھی وہ بیرونی دروازے سے اندر داخل ہوا تھا, اسماء کچن صاف کر رہی تھی, وہ وہیں چلا آیا
“پھر کیا سوچا آپ نے ؟؟؟” وہ دھیرے سے کہتا ہوا کچن کے دروازے میں کھڑا ہوا گیا, اسماء یکلخت پلٹی تھی
“تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟؟؟” وہ پھنکاری
“میں نے آپ کو ایک ہفتے کا وقت دیا تھا” وہ بولا
“ارمغان… میں آخری بار کہہ رہی ہوں, اپنی اوقات میں رہو” اسماء نے انگلی اٹھا کر کہا
“تو آپ انیتا مجھے نہیں دیں گی ؟؟؟” وہ بولا
“کبھی نہیں… ” اسماء نے کہا
“چلیں ٹھیک ہے… ” کہتے ساتھ ہی اس نے اپنا سیل نکالا اور صمد کا نمبر ملا لیا
“کیسے ہیں صمد بھائی ؟؟؟” صمد کا نام سنتے ہی اسماء کا رنگ اڑا تھا
“حدید کی طبیعت کیسی ہے اب ؟؟؟” ارمغان نے اسماء کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
“اچھا صمد بھائی… ایک بات کرنی تھی آپ… “
“اچھا.. ٹھیک ہے… صمد کو کچھ مت بتانا” وہ جیسے ہارتے ہوۓ بولی تھی, ارمغان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
“چلیں میں پھر آپ سے ڈائریکٹ مل لیتا ہوں… اوکے” وہ بات بدل کر کال کاٹ گیا
“لیکن میری ایک شرط ہے… یہ صرف ایک پیپر میرج ہو گی” اسماء نے کہا
“بالکل نہیں… مجھے پاگل سمجھا ہے کیا ؟؟؟ نو پیپر میرج… نو نقلی میرج… آپ باقاعدہ اپنے امی اور ابو سے میرے اور انیتا کے رشتے کی بات کریں گی اور انہیں قائل کریں گی, کوئی ایک مہینہ نہیں, کوئی دو مہینے نہیں…. صرف دو ہفتے… دو ہفتے بعد میں نکاح خواں اور دو گواہوں کو لیکر آ جاؤں گا اور نکاح ہو جاۓ گا… ویسے تو میرا پوری دھوم دھام سے بارات لیکر آنے کا ارادہ تھا لیکن چلیں…موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے اسے فی الحال ملتوی کر دیتے ہیں” ارمغان کہتا چلا گیا
“تم جیسے گھٹیا انسان سے اسی گھٹیا پن کی توقع کی جا سکتی ہے… آخر کو خون کس کا ہو ؟؟؟” وہ پھنکار کر بولی تھی
“آپ کی خالہ جان کا… ” وہ مسکرایا تھا
“انیتا کو پانا صرف تمہارا ایک خواب ہی رہ جاۓ گا ارمغان… میں اسے تمہارا ہونے ہی نہیں دوں گی, تم کر لو اس سے نکاح… اپنے انہی ہاتھوں سے اس کے طلاق کے پیپرز پر سائن کرو گے تم” اسماء کہتی چلی گئی تھی
“ٹھیک ہے پھر… میں تیاریاں شروع کر دوں… آخر کو میری پہلی پہلی شادی ہے” وہ ہنستے ہوئے بولا تھا, اسماء دانت پیستی رہ گئی تھی
……………………….
“انیتا… ” وہ پورا کمرہ اندھیر کیے پڑی تھی
“ہوا کیا ہے تمہیں… ؟؟؟” اسراء نے پردے ہٹاتے ہوئے لائیٹ جلائی تھی
“اسراء لائیٹ بند کر دو… ” وہ بوجھل سے لحجے میں بولی
“طبیعت ٹھیک ہے اب ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… “
“پھر ایسے بیماروں کی طرح کیوں پڑی ہو ؟؟؟” اسراء کو تشویش ہو رہی تھی
“کچھ نہیں ہے… ” وہ بال سمیٹتے ہوئے اٹھ بیٹھی
“انیتا… “اسراء اس کے پائنتی بیٹھ گئی
“کون تھا اس دن حدید کے پورشن میں ؟؟؟” اسراء نے پوچھا
“پتہ نہیں… ” انیتا نے کندھے اچکا دئیے
“انیتا تم وہیں تھیں نا… کوئی تھا بھی یا… ” اس نے بات ادھوری چھوڑ دی
“میں صرف یہ کہنا چاہ رہی ہوں کہ اسماء نے ہمیشہ اس سے چھتیس کا آکڑا رکھا ہے, کہیں صرف اسے اجاڑنے کی خاطر تو اس نے یہ سب نہیں کیا… ” اسراء کہتی چلی گئی, انیتا خاموش رہی
“اسماء نے کبھی بھی اسے قبول نہیں کیا, وہ ہمیشہ یہ ہی کہتی تھی کہ وہ تجھے حدید دلوا کر رہے گی… ہے نا انیتا… وہ امی سے بھی یہ ہی کہتی رہتی ہے کہ انیتا کی فکر نہ کریں, اس کی شادی میں اس کی مرضی سے ہی کرواؤں گی” اسراء نے کہا
“انیتا… ” اسراء اس کی خاموشی سے اکتا سی گئی
“یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ انیتا راۓ بھی اسماء راۓ کے پلان میں شامل ہے…” اسراء کے کہتے ہی اس کا ہلکا سا ارنگ اڑا تھا
“اسراء… پلیز” انیتا بیزار سے لحجے میں کہتے ہوئے بستر سے اتر گئ تھی
………………………..
اس دن معاذ کی سالگرہ تھی, وہ پورے ایک سال کا ہو گیا تھا, طہٰ اور شازیہ نے مل کر اس کی سالگرہ کا چھوٹا سا فنکشن پلان کیا تھا, طہٰ کی ایک ہفتہ پہلے ہی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ میں جاب ہوئی تھی سو اسے بھی گھر آتے آتے سات آٹھ بج ہی جاتے تھے, شازیہ نے ٹی وی لاؤنج میں ہی ساری سیٹنگ کر لی تھی, طہٰ سجاوٹ کے سامان سے لدا پھندا گھر آیا, کیک خالد نے لیکر آنا تھا, دس بجے تک طہٰ اور شازیہ نے ساری تیاریاں مکمل کر لیں, ہر سمت رنگ برنگے غبارے, پیچھے دیوار پر ہیپی برتھ ڈے لکھا ہوا تھا, طہٰ نے تو ہلکی پھلکی لائٹنگ بھی کر دی تھی, اس ایک سال کے بچے کے لئے تحائف کا ڈھیر لگا ہوا تھا اور وہ سارے تحفے طہٰ ماموں کی طرف سے تھے, تبھی خالد کیک لیکر آ گیا
“اوہو… یہ کالا سیاہ کیک کس نے لانے کو بولا تھا” شازیہ کو چاکلیٹ بالکل بھی پسند نہیں تھی
“برتھ ڈے بواۓ کی اماں حضور نے… ” خالد ڈبے سے کیک نکالتے ہوئے بولا تھا, طہٰ نے جھٹ پٹ اس کے اوپر موم بتیاں لگا دیں
“اوۓ کم عقل… بس ایک ہی لگانی تھی, وہ بیچارہ اتنی کیسے بجھاۓ گا ؟؟؟” شازیہ نے اس کے ایک دھپ لگائی تھی
“اس کی اماں بجھا دے گی” طہٰ ہنستے ہوئے بولا تھا
“ابو کہاں ہیں ؟؟؟” ناشیہ نے معاذ کو نک سک سے تیار کر دیا تھا
“میں بلا کر لاتی ہوں” شازیہ جلدی سے ان کے کمرے کی طرف بڑھی, خالد بھی چینج کر کے نیچے آ گیا تھا, طہٰ نے ڈھیروں غبارے تو معاذ کی دونوں آستینوں سے باندھ دیئے تھے
“سالے جب یہ پھوٹیں گے تو بچہ دہاڑیں مار مار کے روۓ گا… ” خالد نے کہا, طہٰ نے ہنستے ہوئے اس کے سر پر برتھ ڈے کیپ رکھ دی, بچہ بیچارہ انتہائی اوازار ہو رہا تھا
“ابو جلدی آئیں… کہیں یہ ایپل پائی رونے ہی نہ لگ جاۓ” طہٰ نے جلدی سے معاذ کو تیمور ملک کی گود میں بٹھا دیا
“آؤ ناشیہ… ” تیمور ملک نے اسے اپنے برابر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا
“چلو بھئی چھری پکڑو… ” طہٰ نے کیمرہ آن کر لیا… تبھی بیرونی دروازے پر دستک ہوئی تھی
“یہ اس وقت کون آ گیا… ؟؟؟” شازیہ دل بھر کے بدمزہ ہوئی
“طہٰ جا دیکھ کون ہے ؟؟؟” خالد کا ذرا بھی اٹھنے کا موڈ نہیں تھا
“خالد بھائی جانا… پلیز… جلدی, جلدی” وہ اس کی ڈھٹائی پر کھولتا ہوا باہر نکل گیا
“کام چور تو نہ ہلا کر اپنی جگہ سے… ” شازیہ نے اس کے مکا جڑا
“خالد کون ہے… ؟؟” اس سے پہلے کہ وہ بھی اس کے پیچھے ہی باہر نکلتی, خالد اندر داخل ہوا, اس کے پیچھے ہی غاشیہ اندر آئی تھی
“غاشیہ… ” شازیہ کی حیرت بھری آواز نکلی تھی
………………………..
جاری ہے
