121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14


اسے آج بانو کی کال آئی تھی
“شافع پتر… کسی دن وقت نکال کر میری بات سن جا ” اور اس کی چھٹی حس جاگ گئی تھی, وہ اسی شام اس سے ملنے چلا آیا
بانو, سیٹھ بابر کی بھابھی تھی…فرح اس کی اکلوتی بیٹی تھی, فرح کا باپ فوت ہو چکا تھا, خود سیٹھ بابر کے پانچ بیٹے تھے لیکن پھر بھی وہ فرح سے بہت محبت رکھتا تھا
“خیریت تو تھی نا آنٹی جی… ؟؟؟” وہ پوچھنے لگا, بانو اس کے لئے چاۓ بنا لائی تھی
“فرح ٹھیک ہے اب شافع… ؟؟؟” وہی روٹین کا سوال
“کیا مطلب آنٹی ؟؟؟ وہ بولا
“شافع… تجھے پتہ ہے وہ پچھلے ایک مہینے سے مسلسل دوپہر کے وقت یہاں آتی ہے ؟؟؟” بانو کے کہتے ہی شافع تھم سا گیا, اسے نہیں پتہ تھا… یعنی یہ بات روبینہ کے علم میں بھی نہیں تھی
“کیوں ؟؟؟” وہ حیرانی سے بولا
“خدا جانے… کبھی کہتی ہے مجھ سے ملنے آئی ہے, کبھی راشدہ سے… کبھی تایا نے بلایا تھا…. کبھی کچھ… کبھی کچھ” بانو کہتی چلی گئی, شافع بول نہ سکا…روبینہ کی بات سولہ آنے درست تھی, ان کے گھر سے فرح کا میکہ بس ایک دو گلیوں کی مسافت پر ہی تو تھا, گرمیوں کی لمبی لمبی دوپہریں تھیں… وہ دونوں بچوں کو روبینہ کے ساتھ سلا کر خود نکل جاتی تھی
“اب پچھلے ایک ہفتے سے نہیں آ رہی… میں نے پوچھا تو ٹال گئی, پھر میں نے پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ بھٹے پر جاتی ہے… کبھی ڈیرے پر چلی جاتی ہے… تیرے باپ سے پوچھا تو کہتا ہاں بس ایک دو بار آئی ہے وہاں… پیسے مانگنے ” بانو دھماکے کر رہی تھی
“پیسے ؟؟؟” شافع دم بخود رہ گیا
فرح نے اس سے پیسے کیوں نہیں مانگے ؟؟؟
“شافع… میں نے تجھے کہا تھا کہ اس پر نظر رکھا کر… ” بانو نے کہا, شافع بس دھواں دھواں چہرہ لیے اسے دیکھتا رہ گیا… چند لمحوں بعد خاموشی سے اٹھا اور باہر نکل آیا
میں جانتی ہوں میری لکھی ہوئی یہ چند لائینیں اکثر خواتین کو پسند نہیں آئیں گی لیکن یہ حقیقت ہے… عورت سراپا وفا ہے… وہ جس بھی روپ میں ہو وفا کرتی ہی اچھی لگتی ہے, بے وفائی مرد کی سرشت کا حصہ گردانی جاتی ہے, شادی کے بعد اگر مرد بے وفائی کرے تو وہ مجرم ہے… کوئی اس بیوی کے دکھ کا اندازہ نہیں کر سکتا جس کا شوہر شادی کے بعد اس سے بے وفائی کرے…اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسری عورت سے رشتہ بناۓ لیکن… شادی کے بعد اگر کوئی بیوی اپنے شوہر سے بے وفائی کرے تو ؟؟؟ ہاں میں مانتی ہوں کہ ایسا کیس کوئی ہزاروں میں ایک ہوتا ہے لیکن یہ شرح دھیرے دھیرے بڑھتی جا رہی ہے… شوہر اگر بے وفا ہے تو عورت کی بے وفائی کا بھی شاید کوئی جواز نکل آۓ… ظالم ہو, جھگڑالو ہو, نامرد ہو, بے رحم ہو, نکھٹو ہو… تو جواز نکلتا ہے لیکن… اگر شوہر شافع انصاری جیسا ہو تو بے وفائی کا کیا جواز… ؟؟؟ ایک عدد رحمت اور ایک عدد نعمت ہوتے ہوۓ بے وفائی کا کیا جواز… ؟؟؟ اس جواز کو خصلت کہتے ہیں
بےوفائی… بے راہراوی… دھوکہ دہی… یہ انسان کی سرشت میں ہوتی یے… پھر وہ چاہے مرد ہو یا عورت…
شافع نے گاڑی کا رخ بھٹے کی طرف موڑ دیا تھا, سیٹھ بابر اسے وہاں دیکھ کر حیران رہ گیا, اس کے سارے ملازم بھی شافع کو منہ اٹھا کر دیکھ رہے تھے, پچھلے چار سالوں میں وہ صرف ایک دفعہ وہاں آیا تھا… وہ بھی رافع کے ساتھ
اب بھی وہ گاڑی سے اترا تو کئی آنکھوں میں سوال اٹھے تھے
“یہ کون ہے ؟؟؟”
“یہ سیٹھ بابر کا داماد ہے… ان کی اکلوتی بھتیجی کا شوہر… بینک مینیجر ہے” کئی آوازیں… بھٹے والے اسے سیٹھ بابر کا داماد ہی کہتے تھے
گرے کلر کے تھری پیس میں ملبوس شافع انصاری کی شخصیت کا رعب ہی کافی تھا, کئی نظروں میں ستائش تھی…کئی میں رشک… جلن… حسد
“شافع… ” سیٹھ بابر اسے وہاں دیکھ کر حیران رہ گیا
“آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے” شافع نے کہا, بابر اسے ڈیرے پر لے آیا
“خیر یے ؟؟؟؟”
“خیر ہوتی تو میں یہاں تھوڑی آتا… ” شافع کی پریشانی صاف چھلک رہی تھی
“فرح نے آپ سے پیسے مانگے ہیں ؟؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں.. ” بابر نے کہا
“کب… ؟؟؟
“چار دن پہلے… “
“کتنے پیسے ؟؟؟؟” شافع نے پوچھا
“پچاس ہزار…” بابر نے کہا
“آپ نے پوچھا نہیں کہ اس نے پچاس ہزار کیا کرنے ہیں ؟؟؟” شافع نے کہا
“شافع… میں نے آج تک اس بچی کی کسی بات پر کبھی “کیوں” نہیں کہا… وہ بس کہتی ہے اور میں… پوری کر دیتا ہوں”بابر نے کہا
“کیا پریشانی ہے ؟؟؟” بابر نے پوچھا
“اس نے مجھے کیوں نہیں بتایا…. ؟؟؟؟” شافع کا دماغ کھول رہا تھا
“پھر کیا ہوا… شاپنگ کرنی ہو گی… اس نے سوچا ہو گا کہ تو نے ابھی گھر خریدا ہے, گاڑی نکلوائی ہے…رافع کی شادی کی ہے تو تجھے کیوں تنگ کرے… اس کا باپ کس لیے ہے ؟؟؟” بابر کہتا چلا گیا لیکن شافع کے لئے یہ دلیل نہایت بودی تھی
“ابو…. اسے کہیں یہاں مت آیا کرے… مجھے اچھا نہیں لگتا” شافع کھڑا ہو گیا
“اچھا میں کہوں گا اسے… ” بابر نے سگریٹ سلگا لی تھی, شافع سر جھکا کر وہاں سے نکل آیا, راستے میں اسے بابر کا سب سے چھوٹا بیٹا مل گیا…وہ اس سے دو سال بڑا تھا…
“کیسے ہیں شافع بھائی… ؟؟؟” وہ بڑی گرمجوشی سے ملا…وہ سارے بھائی ہی اس کا بہت حیا کرتے تھے
“میں ٹھیک ہوں… ساجد یار ایک کام کرے گا میرا” شافع اسے ساتھ لیے گاڑی کی طرف آ گیا
“جی شافع بھائی…حکم… ؟؟؟” وہ بولا
“فرح کتنی بار آئی ہے یہاں ؟؟؟”
“دو دفعہ… “
“اب جب آۓ تو مجھے بتانا… ٹھیک ہے… ؟؟؟؟” شافع نے کہا, ساجد نے اثبات میں سر ہلا دیا, فرح کی خصلت کو وہ پورا خاندان جانتا تھا
…………………….
وہ اپنے کمرے میں تھا جب بیرونی دروازے پر دستک ہوئی, وہ ٹی شرٹ پہنتے ہوۓ کمرے سے نکل آیا, دروازہ کھولا اور ساکت رہ گیا
خالد اس کے عین سامنے کھڑا تھا
“اس دن وقت نہیں تھا… شاک بھی بڑا تھا… اب ذرا ہضم ہوا ہے”خالد نے کہا, ارمغان نے اسے اندر آنے کا راستہ دیا تھا
“نام کیا ہے تمہارا ؟؟؟ ” خالد کو وہ اپنا ہم عمر ہی لگا
“ارمغان… “
“میرا کس نے بتایا ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“یہ اہم نہیں ہے… اہم یہ ہے کہ میرا تمہیں کسی نے نہیں بتایا ؟؟؟” ارمغان نے ایک پیپسی ٹن اس کی طرف بڑھایا تھا
“کون بتاتا ؟؟؟؟ “
“تمہارے بابا… شاہ نور ملک” ارمغان طنز سے مسکرایا
“میں دو سال کا تھا جب وہ گزر گئے ” خالد کے کہتے ہی وہ تھم سا گیا
ذہن کے پردے پر وہ منظر پھر لہرایا تھا… وہ سفید کپڑوں میں لپٹا وجود اور… وہ بچہ….وہ بچہ دو سال کا تو نہیں تھا
“اور تمہارے تایا… انہوں نے بھی نہیں بتایا” ارمغان کو صاف لگا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے
“انہوں نے ضروری نہیں سمجھا ہو گا… ہے نا خالد ملک ؟؟؟” ارمغان اسے دیکھتے ہوئے بولا
“ہاں بالکل… کیونکہ اگر مجھے نہ بھی پتہ چلتا کہ میرے باپ نے اپنے پورے خاندان سے ٹکر لیکر برادری سے باہر پسند کی شادی کی تھی تو کیا فرق پڑتا ہے ؟؟؟ کیا فرق پڑتا ہے اگر مجھے نہ پتہ چلے کہ صرف چھ ماہ بعد ہی ان دونوں کی علیحدگی ہو گئی تھی… اور شاید میرے لئے بالکل ضروری نہیں تھا یہ جاننا کہ… حمنہ اور شاہ نور کا ایک بیٹا بھی تھا ” خالد کہتا چلا گیا
“اگر ضروری نہیں تھا تو یہاں کیوں آۓ ؟؟؟” ارمغان نے پوچھا
“صرف یہ پوچھنے کہ… تمہیں پچیس سال بعد یاد آیا کہ تمہارا ایک بھائی بھی ہے….جب پتہ چلا تب کیوں نہیں آۓ… ؟؟؟” خالد دو قدم آگے کو آیا, ارمغان عین اس کے سامنے کھڑا تھا
“میں آیا تھا… جب پتہ چلا تبھی آیا تھا, تم بابا کی میت کے سرہانے کھڑے رو رہے تھے… تم تب دو سال کے تو نہیں تھے خالد… ؟؟؟؟” ارمغان کہتا چلا گیا, خالد نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“وہ میت میرے باپ کی نہیں تھی… وہ میری ماں کا جنازہ تھا”خالد نے کہا, ارمغان ششدر رہ گیا
“لیکن مجھے تو پتہ چلا تھا کہ ان دونوں کی موت ایک کار ایکسیڈینٹ میں ہوئی تھی” ارمغان نے کہا
“بابا کا تو چہرہ بھی یاد نہیں ہے مجھے… بس ماں کی شکل یاد ہے… اور اتنا یاد ہے کہ بابا اور امی کو شادی کے بعد دادا ابو نے امریکہ بھجوا دیا تھا… بابا نے وہیں خود کشی کر لی…اور امی واپس آ گئیں… تایا ابو نے لوگوں میں یہ ہی مشہور کیا کہ بابا امریکہ میں ہی ہیں… میں گیارہ سال کا تھا جب ایک کار ایکسیڈینٹ میں امی کی ڈیتھ ہو گئی, ساتھ ہی یہ بھی چرچا ہو گیا کہ… بابا دو دن پہلے ہی پاکستان واپس آۓ تھے اور ایکسیڈینٹ کے بعد ان کی ڈیڈ باڈی ہی نہیں ملی” خالد نے دھماکہ کیا تھا… ارمغان بول نہ سکا
دس سال وہ جس باپ کے واپس آنے کا انتظار کرتا رہا وہ تو کب کا اس دنیا سے جا چکا تھا… وہ تو حمنہ سے بھی پہلے آنکھیں بند کر گیا تھا
ویسے مجھے تمہیں آپ کہنا چاہئے… یا شاید بھائی جان…آخر کو بڑے بھائی ہو تم” خالد دھیرے سے ہنسا تھا, ارمغان بھی مسکرا دیا, خالد نے اسے گلے سے لگایا تھا
حالانکہ خالد کو کبھی بہن بھائیوں کی کمی محسوس نہیں ہوئی… طہٰ اس کے لئے سگے بھائیوں کی طرح ہی تھا… ناشیہ اور غاشیہ اس کی بہنوں جیسی تھیں
یہ ہی حال ارمغان کا تھا… اذن اور حدید نے اسے ہمیشہ بھائیوں والا مان ہی دیا تھا, اسماء سے قطع نظر اسراء نے ہمیشہ اس کی فیور کی تھی
لیکن پھر بھی… اس لمحے ایک ہی باپ کے دو بیٹے ہونے کا وہ احساس ہی نرالا تھا…
……………………….
صفوان دو دن سے گھر نہیں آیا تھا, ناشیہ کی پریگنینسی کا آٹھواں مہینہ چل رہا تھا, گھر کے حالات بھی پہلے سے کافی خراب ہو گئے تھے, نفیس کی دوکان سے آمدنی نہ ہونے کے برابر تھی, صفوان تو ایک ٹکا آنا بھی نہیں دیتا تھا گھر میں… ناشیہ نے کئی بار سوچا کہ کالج چھوڑ دے لیکن… اس کا خرچہ بھلا کس نے اٹھانا تھا, حنا اور ثناء دونوں جوان ہو رہی تھیں, فرزانہ کو ان کی شادیوں کی الگ پریشانی لگی رہتی تھی
اس رات بھی وہ سب رات کا کھانا کھا رہے تھے جب وہ گھر آیا… کپڑے مٹی سے اٹے ہوئے, نشے میں دھت… نہ جانے کون دروازے پر چھوڑ گیا تھا
“صفوان… ” فرزانہ بھاگ کر اس کی طرف بڑھی…وہ نہ جانے کیا کچھ بڑبڑاۓ جا رہا تھا
“فرحان… اسے اٹھا… ” فرزانہ کے کہنے پر فرحان مارے باندھے اسے سہارا دے کر اس کے کمرے میں چھوڑ آیا, ناشیہ ساکت سی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی تھی
“ناشیہ پتر… جا اسے دیکھ ذرا” فرزانہ اس سے نظریں ہی نہ ملا پائی, وہ چپ چاپ اٹھ کر کمرے میں آ گئ, صفوان بستر پر اوندھا پڑا تھا… ناشیہ چپ چاپ اسے ایک نظر دیکھ کر واش روم میں گھس گئی
رات تقریباً ایک, ڈیڑھ بجے کا وقت تھا جب اسے اپنے اوپر کسی بوجھ کا سا احساس ہوا
“صفوان… ” وہ یکدم ہی نیند سے جاگی تھی, صفوان نے اسے پوری طرح اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا
“صفوان… چھوڑو مجھے” ناشیہ نے خود کو چھڑوانا چاہا لیکن اس کی پکڑ اور مضبوط ہو گئی, یکدم ہی وہ اس کے اوپر چڑھ آیا تھا
“میں دو دن بعد گھر آیا ہوں اور… تم کہہ رہی ہو چھوڑو” وہ ابھی بھی مدہوش ہی تھا
“صفوان میری حالت ٹھیک نہیں ہے… ڈاکٹر نے کہا تھا کہ پریگنینسی بہت ویک ہے پلیز… مجھے چھوڑو, بچے کو کچھ ہو جاۓ گا” وہ حتی الامکان اسے خود سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی تھی
“اور مجھے کچھ ہو گیا تو…. ” صفوان نے اس کی دونوں کلائیاں جکڑ لیں
“چھوڑو مجھے… ” ناشیہ نے پوری قوت سے مزاحمت کی تھی, صفوان نے اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا
“کمینی عورت…کب سے منتیں کر رہا ہوں…” وہ وحشیوں کی طرح اس پر جھپٹ پڑا تھا
لمحوں میں اس نے کسی بھیڑیے کی طرح اپنی ہی بیوی کو ادھیڑ کر رکھ دیا… مارے تکلیف کے وہ دوہری ہوئی جا رہی تھی, صبح چار بجے کا وقت تھا جب اسے بستر پر گیلاہٹ سی محسوس ہوئی… ہاتھ لگایا تو وہ سرخ سرخ ہو گیا… وہ یکدم گڑبڑا کر اٹھی تھی, نہ جانے کب سے خون رس رہا تھا, اپنے بھاری بھر کم وجود کو بمشکل گھسیٹتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل آئی…صفوان مدہوش پڑا سو رہا تھا
“پھپھو…” اس کی چیخوں نے فرزانہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا
“ناشیہ پتر… ” وہ تو اس کے سرخ ہوتے کپڑے دیکھ کر ہی ہول گئی
“فرحان… ایمبولینس کو کال کر…. جلدی جلدی” ایک قیامت ہی آ گئی تھی, ناشیہ وہیں اس کی چارپائی کے پاس ہی بے سدھ ہو کر گر گئی تھی
……………………….
جیسے سلسلہ ہی چل پڑا تھا, آۓ روز کوریئرز… گفٹس, پھول… کارڈز… آۓ روز حدید کو سیڑھیوں پر گلاب کا پھول پڑا ملتا… آۓ روز اس کی ٹیبل پر کوئی نہ کوئی کارڈ پڑا ملتا… غاشیہ ایک نمبر بلاک کرتی تو دوسرے سے میسیج آنے لگتے… فون بجنا شروع ہوتا تو پھر بجے ہی جاتا… حدید بھی آخر کو انسان تھا, نا محسوس سے انداز سے غاشیہ سے اس کا رویہ تبدیل ہونے لگا… سرد ہونے لگا
“آخر یے کون یہ ؟؟؟” وہ اس رات پھٹ پڑا
“حدید کاش مجھے پتہ ہوتا… میں اسے گولی مار چکی ہوتی” غاشیہ رو ہی پڑی
“کوئی یونیورسٹی فیلو… ؟؟؟ کوئی کزن… ؟؟؟ کوئی دوست… ؟؟” کون ہے ؟؟؟” وہ بیچاری سوچ سوچ کر پاگل ہوئی جا رہی تھی
اس دن بھی ایسا ہی ہوا… حدید دودھ لینے نیچے آیا تو سیڑھیوں میں حسب معمول ایک گلاب کا پھول پڑا تھا, حدید تپ گیا
“یہ لو… تمہارے عاشق کی طرف سے” اس نے جس لحجے میں کہا… غاشیہ کی آنکھیں بھر آئیں
“میرا عاشق دنیا میں صرف ایک ہی ہے حدید… اور وہ تم ہو”وہ بولی تو آنسو نکل آۓ
“تو پھر یہ کون ہے ؟؟؟ تمہیں نہیں پتہ… مجھے بھی نہیں پتہ…کسے پتہ ہے پھر ؟؟؟” حدید دہاڑ کر بولا
“کون ہے جو تمہارے بارے میں سب کچھ جانتا ہے, جسے الف سے لیکر ے تک تمہاری ساری داستان حفظ ہے… جو بلاناغہ تمہیں پھول بھیجتا ہے, سالگرہ مبارک کہتا ہے, محبت کا اظہار کرتا ہے… ” حدید کہتا چلا گیا, غاشیہ دم بخود رہ گئی
کیا یہ وہی حدید تھا… ؟؟؟ اس کا حدید… ہر دم اس پر جان نچھاور کرنے والا
“مبارک ہو تمہیں غاشیہ ملک… اب تمہارے دو عاشق ہو گئے ہیں” انتہائی سرد لحجے میں کہتا ہوا وہ اپنا بیگ اٹھا کر سیڑھیاں اترتا چلا گیا تھا
“حدید… حدید” غاشیہ اس کے پیچھے بھاگی, عین وسط میں اسے چکر آیا تھا, حدید نکلتا چلا گیا, وہ وہیں سیڑھیوں میں ہی گر گئی تھی
……………………..
وہ سونے لیٹا ہی تھا کہ لائیٹ آف ہو گئی… یو پی ایس دو دن سے خراب تھا جسے وہ ٹھیک نہیں کروا سکا تھا, اب بھی واپڈا والوں پر چار حرف بھیج کر اس نے چارپائی اٹھائی اور چھت پر لے آیا, کچھ دیر بعد ہی لائیٹ آ گئی لیکن وہ اوپر ہی لیٹا رہا…اوپر کا موسم کافی خوشگوار تھا
“دروازہ تو بند کر لیا کرو… ” کچھ دیر بعد اپنے سامنے عمر فاروق کو کھڑے دیکھ کر وہ ایک دم اٹھ کھڑا ہوا
“انکل آپ… ” کانوں سے ہینڈ فری اتار دیں
“دروازہ چوپٹ کھلا… کمرہ خالی… میں دہل گیا تھا ایک لمحے کو” وہ واقعی پریشان ہو گئے تھے
“لائیٹ آف ہوئی تو اوپر آ گیا… ” وہ بولا
“آپ کی آواز ہی سنائی نہیں دی… “اس نے چارپائی خالی کرتے ہوئے کہا, عمر فاروق بیٹھ گئے
“یہ لو… ” انہوں نے ایک فائل اس کی طرف بڑھائی تھی
“یہ کیا ہے انکل ؟؟؟” وہ تھوڑا حیران ہوا
“یہ گھر تمہارے نام کر دیا ہے” وہ مسکراتے ہوئے بولے تھے, ارمغان ششدر رہ گیا
“لیکن کیوں ؟؟؟”
“کیونکہ تم میرے بڑے بیٹے ہو” وہ بولے
“نہیں انکل… یہ میں نہیں لے سکتا… میرا کوئی حق ہی نہیں ہے اس پر… یہ اذن کا حق ہے” وہ بولا
“اذن کو لاہور میں گھر لے دیا ہے” وہ بولے تھے
“لیکن پھر بھی انکل… آپ پر میرا کسی بھی طرح کوئی حق نہیں بنتا… میری ماں آپ کی کچھ بھی نہیں لگتی تھی… ” جانے انجانے وہ ان کا ماضی ہلا گیا تھا
“میں حمنہ کا بیٹا ہوں…اور وہ راۓ عبید کی بہن تھیں… میرا حق راۓ عبید پر تو بنتا ہے لیکن… آپ پر نہیں بنتا…آپ میرے سب کچھ ہو کر بھی… کچھ نہیں لگتے انکل… ” وہ کہتا چلا گیا, عمر فاروق دھیرے سے مسکراۓ تھے
“وہ پہلا شخص جس سے تمہاری ماں نے اپنا حال دل کہا… وہ میں تھا, میری منگیتر تھی وہ… مجھ سے شادی ہونے والی تھی اس کی لیکن… وہ واحد شخص جس نے اس کا ساتھ دیا وہ میں تھا, ہر پل… ہر لمحہ… میں بس اس کے لئے ہی تو تھا… جب تم دنیا میں آۓ تو اس کے پاس صرف میں تھا… تمہارا ماتھا سب سے پہلے میں نے چوما تھا… وہ جب اس دنیا سے رخصت ہوئی تو اس کے سرہانے میں بیٹھا تھا… اس کا ہاتھ میرے ہاتھوں میں تھا… اس نے تمہاری انگلی میرے ہاتھوں میں تھمائی تھی… آخر کیوں ؟؟؟ کیا لگتا تھا میں اس کا ؟؟؟” عمر فاروق کہتے چلے گئے
“چھبیس سالوں سے تم میرے ساتھ ہو, مجھے عزت دیتے ہو, میرا مان رکھتے ہو, میرے کاروبار کو ایک بیٹے کی طرح سنبھالا ہے تم نے… میری بیٹیوں کی ہر زیادتی کے باوجود ان کی عزت کرتے ہو, انیتا کی ہر بدتمیزی کے باوجود اس سے… محبت کرتے ہو… کیوں ؟؟؟” وہ کہتے جا رہے تھے اور ارمغان خاموش تھا
“کیوں کرتے ہیں ہم یہ سب ارمغان… ؟؟؟ یہ جانتے ہوئے بھی کہ حمنہ کبھی میری نہیں ہو سکے گی میں نے ہمیشہ اس کا ساتھ دیا… کیوں ؟؟؟ کیونکہ میں اس سے محبت کرتا تھا… میں آج بھی اس سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں… حالانکہ میں نے آمنہ کے لئے اپنی چاہت اور محبت میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی, میں اس کی بہت عزت کرتا ہوں, اس نے میرا گھر سنبھالا, مجھے سنبھالا, وہ میرے بچوں کی ماں ہے لیکن… اس کے باوجود…. میں تمہاری ماں سے بہت محبت کرتا ہوں” شاید ان کی آنکھیں نم ہوئی تھیں, دھیرے سے انہوں نے ارمغان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“میں نے ان چھبیس سالوں میں تمہاری ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کی یے ارمغان لیکن… مجھے معاف کر دینا, میں تمہاری سب سے بڑی خواہش کو پورا نہیں کر سکتا… یہ جانتے ہوئے بھی کہ انیتا کے لئے تم سے بہتر کوئی نہیں ہے میں اس پر زبردستی نہیں کر سکتا…کیونکہ اس کے پاس بھی ایک دل ہے…جس میں اس نے حدید کو بسا لیا ہے” وہ بولے
“یہ گھر اب تمہارا ہے… اذن کی شادی کے بعد شاید میں اور آمنہ بھی لاہور شفٹ ہو جائیں ” وہ بولے
“تو آخر کار آپ بھی مجھے تنہا کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ” ارمغان پھیکا سا ہنس دیا
“ساری عمر تو تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا نا… ” وہ بولے
“بھائی سے ملے ؟؟؟” انہوں نے ذرا توقف کے بعد پوچھا, اس نے اثبات میں سر ہلا دیا
“کیا کہتا ؟؟؟؟”
“کیا کہے… ؟؟؟ گلے لگا کر مسکرا دیا” ارمغان نے کہا
“چھبیس سال بعد اگر باپ جنا گلے لگا کر مسکرا دے تو یہ کم یے کیا ؟؟؟” وہ پوچھ رہے تھے, ارمغان کی آنکھیں بھر آئیں
“انکل…. اس روز… تیمور ملک کے گھر میں… وہ میت… بابا کی نہیں تھی… “ارمغان کہے بنا نا رہ سکا
“بابا نے تو امریکہ میں ہی خود کشی کر لی تھی… ” وہ بولا اور ساتھ ہی بچوں کی طرح رو دیا
“وہ امی سے پہلے ہی چلے گئے… ” عمر فاروق نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“انکل یہ شکوہ نہیں ہے لیکن… خدا نہ کرے کہ میرے بچوں میں سے کوئی ایسی زندگی جئے جیسی میں نے جی یے…. کاش کے میں ایک بار اپنی ماں سے پوچھ سکتا کہ اسے میرے باپ سے محبت کر کے کیا ملا ؟؟؟ ” وہ بولا تھا, عمر فاروق اس کے کندھے پر تھپکی دے کر کھڑے ہو گئے
“بھائی سے ملتے رہنا… اپنے اس واحد سگے رشتے کو کبھی مت کھونا” انہوں نے دھیرے سے کہا تھا
………………………
جاری ہے