121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

صبح تقریباً آٹھ بجے کا وقت تھا, زرقا یونیورسٹی جانے کے لئے تیار تھی, صمد اور راۓ عبید ناشتہ کر رہے تھے, تبھی اذن جاگنگ سے واپس آیا تھا, اسراء اور اسماء کچن میں تھیں, بچوں کی سکول وین ہارن دییے جا رہی تھی
“یہ باہر ٹرالر کیوں کھڑا ہے ؟؟؟” اذن نے اندر آتے ہوئے پوچھا تھا
“ٹرالر… “صمد حیرانی سے بولا
“سامان لوڈ ہو رہا ہے اس میں.. ” اذن کے کہتے ہی صمد کھڑا ہوا اور باہر کو بھاگا, واقعی ٹرالر میں سامان لوڈ ہو رہا تھا
“حدید.. ” صمد نے اسے آواز دی تھی, وہ غاشیہ کو کندھوں سے تھام کر نیچے لایا تھا
“کہاں جا رہے ہو… ؟؟؟” صمد نے پوچھا
“کمپنی کی ریزیڈینسی میں… ” حدید خشک سے لحجے میں کہتا ہوا آگے بڑھا
“کیوں ؟؟؟”
“کیونکہ مجھے اپنی بیوی سے بہت محبت ہے صمد بھائی… اور میں نہیں چاہتا کہ کسی دن میں آفس میں ہوں اور مجھے گھر سے کال جاۓ کہ… غاشیہ…اب زندہ نہیں ہے…بھلا بتائیں اس دن کیا بنے گا میرا ؟؟؟” وہ کہتا چلا گیا
“حدید… جب گھر فائنل ہو جاۓ گا تب چلا جائیں ” صمد نے کہا
“تب تک زندہ رہے گی یہ… ؟؟؟؟ دیں ضمانت کہ تب تک آپ کی بیوی اسے زندہ رہنے دے گی ؟؟؟” حدید سرد لحجے میں بولا تھا
“حدید اسماء نے جان بوجھ کر کچھ…” حدید نے اس کی بات کاٹ دی
“دھکا دیا ہے بھابھی نے اسے… دو بار… اور میرا بچہ اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا بھائی” حدید کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے, غاشیہ کرسی تھام کر بیٹھتی چلی گئی, صمد دم بخود کھڑا رہ گیا تھا, اسماء کچن کے دروازے میں ساکت کھڑی تھی…اذن بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسماء کو دیکھ رہا تھا, وہ تو بس چار دن کی چھٹی پر گھر گیا تھا اور پیچھے سے کیا کچھ ہو گیا تھا
“بھائی آپ کا بہت بہت شکریہ… یہ جو میں سال بھر یہاں رہ لیا, صرف آپ کی مہربانی ہے…اب اور نہیں… پلیز نہیں” حدید نے کہا
“حدید… مجھے امی نے قسم دی تھی کہ میرے حدید کو دربدر نہ کرنا, میرے حدید کو گھر سے نہ جانے دینا, میرے حدید کو یہ دہلیز نہ پار کرنے دینا, میرا حدید باہر سڑکوں پر خوار نہ ہو, میرا حدید کراۓ کے مکانوں میں ٹھوکریں نہ کھاتا پھرے… ” صمد آگے کو آیا
“حدید اس قسم کا کیا ؟؟؟” صمد نے کہا
“ایک مرے ہوۓ انسان کی قسم کے پیچھے ایک زندہ انسان کا خون ہو جاۓ گا صمد بھائی.. نہ کریں” وہ بولا
“بس کچھ ہی مہینے ہیں پھر گھر مکمل ہو جاۓ گا” حدید نے غاشیہ کا ہاتھ تھام لیا, سامان لوڈ ہو چکا تھا
“ابو… ” وہ دھیرے سے ان کی طرف مڑا
“میں نے بس محبت کی تھی… کوئی جرم نہیں کیا… اسلیے میں ساری عمر ایک ناکردہ جرم کی پاداش میں معافیاں نہیں مانگ سکتا… میں ہمیشہ آپ کے سامنے شرمندہ ہو کر سر نہیں جھکا سکتا… ” وہ دھیرے سے کہہ کر مڑا
“حدید…. رک جا” اسے راۓ عبید کی آواز سنائی دی تھی
“جب تیرا گھر پورا ہو جاۓ گا… تب چلا جائیں, صمد اس کا سامان واپس رکھوا… ” راۓ عبید نے کہا, حدید نے غاشیہ کی طرف دیکھا
“ابو… ایک بار بھابھی سے پوچھ لیں ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولا تھا
“اسماء… غاشیہ سے معافی مانگو” صمد نے ٹھنڈے ٹھار لحجے میں کہا تھا, اسماء بے یقین سی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی
“صمد… میں… “
“معافی مانگو غاشیہ سے… ” صمد زور سے دہاڑا, سارا گھر تماشائی بنا ہوا تھا
“سوری… ” اسماء دھیرے سے کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی
……………………..
بڑا پلان بنا کر وہ دونوں اس کے کمرے میں آۓ تھے
“ناشیہ پتر… تھوڑے سے پیسے ہوں گے تیرے پاس ؟؟؟” فرزانہ نے بڑے لگاؤ سے پوچھا تھا
“خیریت پھپھو ؟؟؟” وہ کالج جانے کے لئے تیار ہو رہی تھی, ایک ہفتہ پہلے ہی اس نے ایک اور جگہ جوائن کیا تھا
“ہاں وہ… ٹینٹوں واکے کو پیسے دینے ہیں, صفوان پتہ نہیں کہاں نکلا ہوا ہے… ” فرزانہ نے کہا
“کتنے چاہیں ؟؟؟”
“چالیس, پچاس ہزار دے دے” فرزانہ کے کہتے ہی نقشیہ کی انکھیں پھیل گئیں
“چالیا, پچاس ہزار… ؟؟؟”
“پتر تو اپنے پاس سے نہ دے نا… وہ جو سلامیوں کے پیسے جمع ہوئے ہیں نا تیرے پاس… وہ دے دے بس” فرزانہ نے بڑا سنوار کر کہا تھا
“لیکن پھپھو… وہ تو صفوان نے مجھ سے رات ہی لے لیے تھے” ناشیہ نے کہا, فرزانہ دحق سے رہ گئیں, وہ آخر کو بیٹا کس کا تھا
“اب کیا کرنا ہے… ؟؟؟” فرزانہ, نفیس کی طرف مڑتے ہوۓ بولیں
“وہ دروازے پر کھڑا ہے… پیسے لینے” فرزانہ کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور دوسرا جا رہا تھا
“پھپھو میرے پاس بیس ہزار ہیں… ابھی وہ لے لیں, باقی پھر دے دینا” ناشیہ نے کہا, فرزانہ اور نفیس ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے, ناشیہ نے بیس ہزار نکال کر انہیں پکڑا دیا…
صفوان اگلی پوری رات گھر نہیں آیا… ظاہر ہے اس کی جیب میں پچاس ہزار روپے جو تھے, ناشیہ نے کوچنگ سینٹر بھی چھوڑ دیا تھا, فی الحال رافع انصاری سے کسی بھی قسم کا سامنا نا ہونا ہی بہتر تھا
اگلی صبح وہ واپس آیا… نشے میں دھت… ناشیہ کالج کے لئے نکلنے لگی تھی, صفوان سے چھوٹا فرحان ہی اسے چھوڑ کر آتا تھا اور لے بھی آتا تھا, شادی کے بعد اس گھر میں اگر کوئی بندہ اسے قدرے بہتر لگا تو وہ وہی تھا… فرسٹ ٹائم وہ کالج جاتا تھا اور سیکینڈ ٹائم ایک سیڈ کارپوریشن کے ساتھ کام کرتا تھا…
“کدھر سے آیا ہے ؟؟؟” فرزانہ تو راشن پانی لیکر اس پر چڑھ دوڑی تھی, نفیس نے بھی اسے وہ گالم گلوچ کیا کہ خدا کی پناہ… ناشیہ حق دق سی ایک طرف کھڑی تھی
“بھابھی… چلیں؟؟” فرحان اکتایا پڑا تھا, ظاہر ہے وہ یہ کھیل پچھلے کئی سالوں سے دیکھ رہا تھا
دھیرے دھیرے اس پر سب آشکارا ہونے لگا, صفوان کو حد سے زیادہ نشے کی لت تھی, سگریٹ تو ہاتھوں سے چھوٹتی ہی نہیں تھی, انتہائی آوارہ قسم کی دوستیاں تھیں اس کی جنہوں سے اسے ناکارہ بنا دیا تھا, نفیس نے اسے بڑی مشکلوں سے ایک اینٹوں کے بھٹے پر ملازم رکھوایا تھا جہاں سے اس کی سو شکائتیں آ چکی تھیں
اس دن بھی وہ کالج سے واپس آئی تو خالی کچن منہ چڑا رہا تھا
“حنا… کھانا نہیں بنایا ؟؟؟” اس نے چھوٹی نند سے پوچھا
“بھابھی ثناء نے بنانا تھا.. ” وہ صاف ہری جھنڈی دکھا گئی, ناشیہ نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کپڑے چینج کیے اور کچن میں آ گئی, نفیس صبح ہی سبزی خرید کر دے جاتا تھا
بس اس دن کے بعد سے وہ کچن اسی کے نام ہو گیا تھا, حنا اور ثناء میں خدا واسطے کا بیر تھا, ہر وقت وہ دونوں چونچیں لڑاۓ رکھتی تھیں, رفتہ رفتہ ایک اور مصیبت شروع ہو گئی
“ناشیہ.. پتر یہ حنا کو پانچ سو روپے تو دے, اس نے فیشل کرانے جانا ہے, اسے دیکھنے کچھ لوگ آ ریے ہیں” فرزانہ نے کہا تھا اور پھر سلسلہ ہی چل نکلا تھا, آۓ روز کسی کو پانچ سو, کسی کو ہزار… کسی کو دو ہزار… وہ بیچاری انکار بھی نہیں کر پاتی تھی
“ناشیہ پتر… بیس ہزار ہوں گے تیرے پاس… بجلی کا بل ہی بڑا آیا ہے ؟؟؟” چلو جی یہ بھی اسی نے کرانا تھا
ہر پندرہ دن بعد اسے تیمور ملک کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑتا تھا, مارے شرم کے وہ نظریں ہی نہیں اٹھا پاتی تھی… اور اس سب سے ہٹ کر سب سے بڑی مصیبت صفوان ملک تھا
اس دن بھی دو, تین لوگ اسے گھر لیکر آۓ, کسی نے اس کی اچھی ہی دھنائی کی تھی
“ہاۓ ہاۓ… یہ کیا ہو گیا؟؟؟” فرزانہ کی دہائیاں سن کر ناشیہ کچن سے نکلی تھی, صفوان کا چہرہ جگہ جگہ سے سوجا ہوا تھا, ناک اور منہ سے خون بہہ رہا تھا
“کس نے مارا میرے بچے کو ؟؟؟” فرزانہ نے سینا پیٹا تھا
“قریشیوں کی لڑکی کو لیکر ہوٹل میں بیٹھا تھا… رنگ ہاتھوں پکڑ لیا انہوں نے” ایک محلے دار آدمی نے کہا تھا, ناشیہ دھک سے رہ گئی
“اس چھنال کو بھی اتنا ہی مارنا تھا نا جتنا میرے بچے کو مارا ہے, ادھ مواء کر کے لے آۓ ہیں” فرزانہ بے تحاشا رو رہی تھی
“اوۓ فرحان…کسی ڈاکٹر کو بلا, اس کی پٹی کروا.. ” فرزانہ نے کہا, وہ تھوڑی ہی دیر میں کسی لڑکے کو لے آیا, اس نے کندھے پر ایک بیگ ڈال رکھا تھا
“ہاں صفی بھائی… اب کس سے مار کھا لی ؟؟؟” لڑکا یوں بولا جیسے اس کے لیے وہ سب نارمل سی بات ہو
“تو بکواس کم کر اور اس کی پٹی کر جلدی… ” فرزانہ نے بھڑک کر کہا
“غصہ کیوں کرتی ہو خالہ… صفی بھائی کو سمجھائیں کہ اب ان کی شادی ہو گئی ہے, اب سارے شوق اپنی بیوی سے پورے کیا کریں” لڑکا کچھ زیادہ ہی اوور ہو رہا تھا
“تو چپ چاپ پٹی کر اور نکل یہاں سے… ” فرزانہ نے اسے ایک دھپ لگایا تھا, ناشیہ تو بس سن کھڑی سارا تماشہ دیکھ رہی تھی
رات کو وہ سارے کام نپٹا کر کمرے میں آئی تو وہ موبائل کان سے لگاۓ لیٹا تھا, اسے دیکھ کر بند کر دیا, ناشیہ چپ چاپ کروٹ لیکر لیٹ گئی تھی
“وہ… کئی دنوں سے کالز پر تنگ کر رہی تھی, آج زبردستی بھٹے پر آ گئ… ” وہ اسے اپنے تئیں ٹوٹی پھوٹی صفائیاں دے رہا تھا, ناشیہ چپ چاپ پڑی سنتی رہی
“ناشیہ… ؟؟” کچھ دیر بعد اسے اپنے اوپر صفوان کا بوجھ محسوس ہوا تھا
“صفوان… بس ایک سوال ہے میرا ؟؟؟ کیا میرے ہوتے آپ کو واقعی کسی اور کی ضرورت ہے ؟؟؟” اس نے نم آنکھوں سے پوچھا تھا
“سوری یار… سوری” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا
…………………………
وہ اور روبینہ دونوں ناشتہ کر رہے تھے جب رافع اوپر سے نیچے اترا… شاید سو کر اٹھا تھا, سرخ انگارہ سی آنکھیں, ان کے نیچے سیاہی مائل حلقے, خشک ہونٹ, زرد رنگت, اترا ہوا چہرہ, بڑھی ہوئی شیو… روبینہ کا دل کٹ گیا
“تم دونوں نے کیا ٹھان لی ہے کہ ہر بار میرا امتحان ضرور لینا ہوتا ہے ؟؟؟” وہ اسے دیکھ کر رو پڑیں
“امی کیا ہو گیا ؟؟؟” شافع چونک گیا
“شکل دیکھ اس کی… صدیوں کا مریض لگ رہا ہے, کب تک ماتم مناۓ گا بھلا ؟؟؟ ” وہ اس پر چڑھ دوڑیں
“آپ پریشان نہ ہوں… ٹھیک ہو جاۓ گا” شافع نے انہیں تسلی دینا چاہی تھی
“پہلے تجھے یوں مجنوں بنے دیکھا… اب اسے…” وہ رو پڑیں
“رافع…بیٹھ یہاں ” شافع نے اسے بازو سے کھینچ کر کرسی پر بٹھایا
“ہر امید ختم ہو گئی نا ؟؟؟” اس نے پوچھا, رافع نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے سر جھکا لیا تھا
“کل زاہد نے بات کی ہے مجھ سے… حریم کے سلسلے میں” زاہد, حریم کا بھائی تھا
“اس نے خود اپنے گھر والوں سے کہا ہے کہ وہ تجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے” شافع نے کہا
“بھائی ابھی رک جائیں… ” وہ بولا
“ٹھیک ہے… تو وقت لے لے… لیکن شادی کر لے, محبوبہ کی یادوں کو بھلانے کا سب سے بہتر حل شادی ہے رافع… بیوی کی محبت, ہر محبت پر حاوی ہو جاتی ہے ” شافع نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
………………………….
سارا دن وہ کمرے سے باہر نہیں نکلی, دوپہر میں صمد کھانا کھانے آیا تو سوتی بن گئی, بچے سکول سے واپس آۓ تو اسراء نے ہی انہیں کھانا وغیرہ کھلایا, شام تک وہ یونہی کمرے میں بند رہی, رہ رہ کر اسے اپنی بے عزتی کااحساس ہو رہا تھا, آج تک وہی صمد پر گاوی ہوتی آئی تھی, آج پہلی بار صمد نے اسے یوں رسوا کیا تھا
“سوری… ” یہ لفظ کسی جن کی طرح اس کے سر پر سوار ہو گیا تھا
اس نے معافی مانگی… ؟؟؟؟ وہ بھی غاشیہ سے
غاشیہ… اس کی بدترین دشمن
“تجھے کہیں کا نہیں چھوڑوں گی میں غاشیہ… بس بہت ہو گیا, بڑا زعم ہے نا تجھے حدید پر… اسی حدید نے تیرے اوپر تھوک نہ دیا تو میرا نام بھی اسماء نہیں… ” سارے دن کا لاوا غصے کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا
“تو دیکھ… کیسے تیری نظروں کے سامنے میں حدید اور انیتا کو ایک کروں گی….” وہ بس جال بنتی جا رہی تھی, ساری رات وہ ایک طرف کو کروٹ لیے لیٹی رہی, صمد نے بھی اس سے کوئی بات نہیں کی, وہ اس سے سخت نالاں تھا, اگلی صبح اس نے دونوں بچوں کی چھٹی کروا دی اور سامان باندھ کر کھڑی ہو گئی
“مجھے امی کے گھر جانا ہے… ” وہ اپنے بیگ لیے دروازے میں ایستادہ تھی
“اب یہ کونسا نیا تماشہ ہے ؟؟؟؟” صمد کو غصہ آ گیا
“میں آپ کے گھر کی نوکر نہیں ہوں سمجھے کہ سال سال بھر اپنے ماں باپ کی شکل ہی نہ دیکھوں, مجھے میرے میکے چھوڑ کر آئیں, ورنہ میں خود چلی جاتی ہوں ” وہ تڑخ کر بولی تھی
“اسماء باجی کچھ دن رک جائیں, میں ویک اینڈ پر لے جاؤں گا” اذن ناشتہ کرتے ہوئے بولا تھا
“نہیں… میں نے آج ہی جانا ہے” وہ بضد تھی, ناچار صمد نے گاڑی نکال لی, اسراء نے فی الحال جانے سے منع کر دیا تھا
…………………….
وہ آج غاشیہ سے ملنے آیا تھا, رات تقریباً آٹھ بجے کا وقت تھا, غاشیہ کے مس کیریج کو تقریباً ایک ہفتہ ہو گیا تھا
“آؤ طہٰ… ” غاشیہ اسے اندر لے آئی, حدید ابھی ابھی آفس سے آیا تھا اور اندر بیڈ پر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا
“کیسا ہے طہٰ ؟؟؟” وہ کافی گرمجوشی سے ملا
“کھانا کھا لے ؟؟؟” حدید نے آفر دی تھی
“نہیں حدید بھائی میں کھا کر آیا ہوں” وہ بولا, غاشیہ نے اسے اپنے مس کیریج کا نہ بتانا ہی مناسب سمجھا
“ناشیہ ٹھیک یے ؟؟؟” اس نے کچھ دیر بعد پوچھا تھا
“ٹھیک ہی ہو گی, وہ کونسا کچھ بتاتی ہے, بس جب بھی کال کر لو… سب ٹھیک ہے, سب اچھا ہے” طہٰ وہیں ایک طرف صوفے پر بیٹھ گیا, غاشیہ اس کے لئے جوس لے آئی تھی, سارا وقت وہ حدید سے بات کرنے کی ہمت جمع کرتا رہا… لیکن کر نہ سکا, کچھ دیر بعد اٹھ کھڑا ہوا
“میں چلتا ہوں غاشیہ… ” وہ اسے گلے سے لگا کر دروازے کی طرف بڑھا, دو قدم چلا, پھر رکا, مڑا اور حدید کو دیکھا, وہ کھانے میں مگن تھا, غاشیہ اس کے پاس بستر پر بیٹھی تھی
“حدید بھائی… ” طہٰ نے دھیرے سے اسے پکارا
“ہاں… ” حدید متوجہ تھا
“وہ… آپ سے ایک…. ضروری بات کرنی تھی” وہ ہمت جمع کرتے ہوئے بولا
“ہاں بول…. ” حدید پانی پی رہا تھا
“وہ حدید بھائی… میں… دراصل میں… ” کہتے ہوئے دو قدم آگے کو آیا
“میں… وہ… میں.. زرقا سے… شادی…. کرنا چاہتا ہوں” آخری الفاظ اس کے لبوں پر ہی دم توڑ گیے تھے, لقمہ منہ میں لیکر جاتا حدید کا ہاتھ ساکت ہوا تھا, غاشیہ نے حق دق نظروں سے اسے دیکھا, لقمہ حدید کی انگلیوں سے نیچے گر گیا, طہٰ دروازے کے قریب ہی کھڑا تھا, وہ دونوں پتھرائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے
طہٰ نے بمشکل تھوک نگلا… اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا, حدید ایک دم بستر سے نیچے اترا, تیر کی طرح طہٰ کی طرف آیا, اسے بازو سے جکڑا اور سیڑھیاں اترتا چلا گیا, غاشیہ بھی بمشکل گرتی پڑتی سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی تھی
“بائیک کہاں ہے تیری ؟؟؟” حدید نے پوچھا
“وہ تھوڑا آگے… کھڑی ہے” طہٰ نے کہا, حدید ہنوز اسے بازو سے پکڑ کر کھینچ رہا تھا, طہٰ کی باییک کے قریب جا کر وہ رک گیا
“کاکے… چل بیٹھ… بیٹھ اس کے اوپر اور جا یہاں سے… جو تو نے کہا… وہ بس یونہی کہہ دیا, غلطی سے… تو شاید کسی نشے وشے میں تھا… تیرے منہ سے نکل گیا یہ سب… کسی نے نہیں سنا کاکے… نہ میں نے, نہ غاشیہ نے… کسی نے نہیں سنا… تو سمجھ کے تو نے کچھ کہا ہی نہیں…سمجھا, کوئی ضرورت نہیں ہے تجھے یہاں آنے کی, کچھ مہینوں میں جب ہم شفٹ ہو جائیں گے تب بیشک روزانہ آیا کرنا.. لیکن اب نہ آنا, میں خود لے آیا کروں گا غاشیہ کو تجھ سے ملوانے… ٹھیک ہے… جا میرا بچہ… جا گھر اور جا کر توبہ کر… معافی مانگ…جا میرا بھائی ” حدید کہتا چلا گیا, طہٰ نے بادل نخواستہ بائیک سٹارٹ کی تھی
………………………
صمد رات کو دوکان سے گھر آیا تھا…اسراء نے چپ چاپ اس کے لئے کھانا لگا دیا, پورے گھر میں خاموشی چھائی ہوئی تھی
“ابو کہاں ہیں ؟” اس نے پوچھا
“ماموں جان سو گئے ہیں… بی پی ہائی ہو رہا تھا” اسراء نے کہا, زرقا بھی آج نیچے ہی تھی, تبھی درید کی کال آ گئی, صمد کا موڈ ذرا خوشگور ہوا تھا, کافی دیر وہ اس سے بات کرتا رہا
“کوئی ہے پلان واپس آنے کا…؟؟؟” زرقا چاۓ لے آئی تھی
“ہاں جی صمد بھائی… اسی لیے تو کال کی ہے آپ کو…” درید نے کہا, صمد کے چہرے پر خوشی پھیل گئی
“اچھا.. کب ؟؟؟” اسراء کے کان کھڑے ہو گئے
“صمد بھائی… پاس کون ہے ؟؟؟” درید نے پوچھا تھا, صمد ایک سرسری سی نظر اسراء پر ڈال کر باہر نکل آیا
“اسماء تو میکے گئی ہوئی ہے… اسراء ادھر ہی ہے” صمد نے کہا
“میں تین, چار مہینوں تک چکر لگاؤں گا صمد بھائی… ” درید نے کہا
“اور… ایک اور بات کرنی تھی آپ سے ؟؟؟” درید نے کہا
“ہاں بول… ” صمد نے کہا تھا اور اس کی بات سنتے ہی صمد کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا
…………………..
جاری ہے