121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39


وہ اس رات بھی کافی دیر سے گھر آیا تھا, غاشیہ کو لا پتہ ہوۓ دو ہفتے گزر گئے تھے, اس نے اپنے طور پولیس میں رپورٹ بھی کروا دی تھی, اب تو اسے ایسے لگنے لگا تھا جیسے وہ واقعی اس دنیا میں نہیں تھی, ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ پاگل ہو چکا تھا
“حدید… کھانا لگا دوں ؟؟؟” وہ اپنا کوٹ کندھے پر ڈالے, دونوں آستینیں کہنیوں تک چڑھاۓ تھکا ہارا سا اوپر کی طرف بڑھا تو اسماء نے پوچھا, وہ بنا کوئی جواب دیئے سیڑھیاں چڑھ گیا, اس کی سرخ آنکھیں راۓ عبید کے آر پار ہو گئی تھیں
“انیتا… ” اسماء دوڑ کر کچن میں آئی
“جلدی کھانے کی ٹرے بنا… ” وہ انیتا کے سر پر سوار ہو گئی
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” وہ بوکھلا گئی
“حدید آ گیا ہے, اسے کھانا دے کر آ جلدی… ” اسماء نے جھٹ پٹ خود ہی ٹرے تیار کی تھی
“مجھے معاف رکھیں… میں تو نہیں جاتی, مجھے تو خوف آتا ہے اس سے, کیا خبر میرا ہی گلا گھونٹ دے” انیتا نے کہا
“بکواس نہ کر… جا جلدی” اسماء نے کہا
“میں نے نہیں جانا… ” وہ انکاری تھی
“تجھے پھر بھلا کیوں بلایا ہے میں نے…” اسماء اس پر چڑھ دوڑی, انیتا جز بز سی ہو گئی
“حدید کو پانا ہے کہ نہیں… ؟؟؟” اس نے پوچھا, انیتا بول نہ سکی
“چل جلدی ٹرے اٹھا اور اسے کھانا دے کر آ.. ” اسماء نے کہا, انیتا نے بادل نخواستہ سی ٹرے اٹھا لی, اوپر آئی تو حدید اپنے کمرے میں آڑا ترچھا سا لیٹا تھا, کھلی آنکھوں سے چھت کو گھور رہا تھا, جوتے بھی نہیں اتارے تھے
“حدید… ” انیتا نے بدقت اسے پکارا, کوئی جواب نا آیا
“حدید… کھانا کھا لو” وہ دو قدم آگے کو آئی تھی, وہ ہنوز چھت کو گھورتا رہا
“حدید کھانے سے کیا ناراضگی… کھانا تو کھا…. ” وہ یکدم بستر سے اٹھا, تیر کی طرح انیتا کی طرف آیا اور ایک ہاتھ سے اس کی گردن دبوچ کر اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا, انیتا کا دل یکدم اچھل کر اس کے حلق میں آ گیا تھا
“تمہیں جان بوجھ کر بلایا ہے نا تمہاری بہن نے… ہیں نا …؟؟؟” وہ اپنی سرخ آنکھیں اس کے براؤن کنچوں میں گاڑھتے ہوۓ بولا تھا, انیتا مارے خوف کے تھوک بھی نہ نگل سکی
“تاکہ تم اس ساری صورتحال میں میری ہمدرد بن کر میرے دل میں جگہ بنا سکو… ہے نا انیتا راۓ؟؟؟” حدید کی انگلیاں جیسے اس کی گردن میں دھنستی جا رہی تھیں, وہ بس نفی میں سر ہلا کر رہ گئی, دونوں آنکھیں لبا لب پانیوں سے بھر گئی تھیں
“تو چلو…دونوں مل کر تمہاری بہن کا پلان کامیاب بناتے ہیں, بڑے دعوے ہیں نا تمہیں مجھ سے محبت کے, میری خاطر آج تک کنواری بیٹھی ہو تم… تو چلو آج رات تمہارا عشق آزماتے ہیں, آج رات تمہارا انتظار ختم کرتے ہیں… ” حدید نے اس کی گردن چھوڑ دی, انیتا میں اتنی بھی ہمت نہیں تھی کہ کمرے سے باہر نکل جاتی, حدید نے زور سے کمرے کا دروازہ بند کر دیا
“میں نے اس رات تمہیں کہہ دیا تھا کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا لیکن تم… تم نے اور تمہاری بہن نے مجھ سے ضد لگا لی انیتا, اور اس ضد کی خاطر میری دنیا اجاڑ دی, چلو آج رات تمہاری اور تمہاری بہن کی ضد پوری کرتے ہیں, بڑی ہمدردی ہے نا تمہیں مجھ سے, میرے بیوی کی جگہ میرے لئے کھانا لیکر آئی ہو, تو چلو… اب میری بیوی کی جگہ پر میری باقی ضرورتیں بھی پوری کرو… ” حدید نے انتہائی وحشیانہ طریقے سے اپنی شرٹ اتاری تھی, انیتا کی سانس بند ہونے لگی, اس نے اپنے جسم پر پہنا وہ واحد بنیان بھی اتار دیا تھا
“مجھے اشد ضرورت ہے تمہاری اس وقت… تم آج رات مجھے ایک شوہر والا حق لے لینے دو… صبح اٹھ کر میں تمہیں اپنی بیوی ہونے کا حق ضرور دوں گا, ٹھیک ہے… تمہاری دیرینہ خواہش آج پوری کر دوں گا میں ” حدید کے دونوں ہاتھ اس کے دائیں بائیں دیوار پر ٹک گئے تھے
“چلو انیتا… مجھے اس لمحے کھانے کی نہیں, تمہاری ضرورت ہے, چلو پوری کرو میری ضرورت… میری ضرورت پوری کرنے ہی تو لائی ہے تمہاری بہن تمہیں اس گھر میں… ” حدید کی سرخ بوٹی نما آنکھیں انیتا کی جان نکال لے گئیں
“چلو… ” وہ اس پر جھکا تھا, انیتا نے زور سے آنکھیں بند کر لیں, اس کے لب تھر تھر کانپ رہے تھے, آنسو بھل بھل گالوں پر بہتے چلے گئے
“حدید…. ” بس وہ اتنی سی سرگوشی ہی کر سکی تھی
“آنکھیں کھولو… “حدید کی سرد سی سرگوشی پر اس نے آنکھیں کھول دیں
“میری ایک بات کان کھول کر سن لو… تم بھلے ہی جنت کی کسی حور کا روپ ہی کیوں نا دھار لو, میری بیوی کے پیروں کی دھول تب بھی میرے لئے زیادہ معتبر ہو گی… ” وہ دھیرے سے کہتا ہوا پیچھے ہٹ گیا
“گیٹ لاسٹ… ” حدید کی چنگھاڑ نیچے تک سنائی دی تھی, انیتا من من ہوتے قدموں کے ساتھ باہر نکل گئی
……………………..
وہ آج بھٹے پر آیا تھا, سبھی لوگ اسے بڑی عجیب سی نظروں سے دیکھ رہے تھے, کسی کی آنکھ میں ترحم… کسی کی آنکھ میں طنز… وہ بس چپ چاپ سیدھا چلتا ہوا ڈیرے پر چلا گیا, بابر وہیں تھا, اسے دیکھ کر چونک سا گیا
“آپ سے بات کرنی ہے… ضروری ” وہ بولا, بابر نے پاس بیٹھے آدمیوں کو باہر جانے کا اشارہ کر دیا, کچھ ہی دیر میں کمرہ خالی ہو گیا
“اس لڑکے کو کیوں باندھ کر رکھا ہوا ہے ؟؟؟” شافع نے پوچھا
“میری مرضی… ” اس نے دھواں اڑایا تھا
“مجرم تو دونوں ہیں نا… ” وہ بولا
“میں نے دوسری کو بھی یونہی باندھ کر رکھا ہے” بابر نے کہا
“اس سب کا فائدہ ؟؟؟” شافع تنگ آ گیا
“بہت فائدہ ہے… تو آۓ روز ذلیل ہونے سے بچا ہوا ہے, میں روز روز اسے پکڑ کر حویلی واپس لانے سے بچا ہوا ہوں, وہ بیچاری لڑکی سکھی ہو کر اپنے باپ کے گھر بیٹھی ہے….نا کوئی عشق نا معشوقی…” بابر نے کہا
“ابو بس کریں… چھوڑ دیں اس لڑکے کو” شافع نے کہا
“فرح کو بھی چھوڑ دوں ؟؟؟” بابر نے اس کی طرف دیکھا
“ظاہر ہے… بند کمرے میں رہنے سے کیا اس کی فطرت بدل جاۓ گی” وہ بولا
“شافع… تو بہت بھولا ہے, دنیا اتنی بھولی نہیں ہے, وہ دونوں پلان بنا کر گئے تھے, اور وہ دونوں پلان بنا کر ہی واپس آۓ ہیں… وہ لڑکا بہت کمینہ ہے, اس نے فرح کا پیچھا نہیں چھوڑنا… ” بابر کہتا چلا گیا
“تو پھر ؟؟؟ کیا کروں ؟؟؟” وہ تڑخ گیا
“فرح کو چھوڑ دے… ” بابر نے کہا, شافع ایک لمحے کو تو ساکت رہ گیا
“وہ میرے بچوں کی ماں ہے… ” وہ دھیرے سے بولا تھا
“تو پھر ابھی حویلی جا اور اسے ساتھ لے جا… ” بابر نے کہا, شافع بول نہ سکا
“تو نے پچھلی بار مجھ سے کہا تھا کہ یہ آخری دفعہ معاف کر رہا ہوں… اور میں نے کہا تھا کہ ٹھیک ہے… شافع میں اب تجھے نہیں کہوں گا کہ اسے معاف کر دے, میں نے چھبیس سال اس کا ساتھ دے کر دیکھ لیا, اس کی فطرت میں وفا نہیں ہے….” بابر کہتا چلا گیا, بس یہ ہی نہیں کہہ سکا کہ اس کی فطرت بالکل میرے جیسی ہے
“اسے چھوڑ دے شافع… وہ تیرے قابل نہیں ہے, اسے چھوڑ دے اور پھر پیچھے پلٹ کر نا دیکھنا… اس کے حصے وہی آۓ گا جو اس نے چنا ہے” بابر نے کہا
“اس لڑکے کو بھی چھوڑ دیں, کہیں نہیں جاۓ گا” شافع دھیرے سے کہتے ہوئے کھڑا ہو گیا تھا
………………………
اس نے تیز رفتاری میں اپنی گاڑی کسی کی گاڑی میں ٹھوک دی تھی, نقصان دونوں طرف کا ہوا تھا, اوپر سے وہ مارا ماری ہوئی کہ خدا کی پناہ… بات پولیس تک پہنچ گئی, مخالف پارٹی نے اپنے بندے بلوا لیے تھے, حدید ہر ایک کو کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا, بڑی مشکلوں سے ایس ایچ او کے کہنے پر اس نے صمد کو کال کی, وہ بیچارہ پریشانی سے بوکھلایا ہوا تھانے پہنچا… حدید کو اچھی خاصی چوٹیں آئی تھیں, سفید شرٹ جگہ جگہ سے سرخ ہو رہی تھی, صمد نے بمشکل سارا معاملہ رفع دفع کروایا, ان کے نقصان کی بھرپائی کی اور گاڑی وہیں تھانے میں ہی کھڑی کر کے حدید کو لیکر باہر نکل آیا, صمد کے بار بار اصرار پر بھی وہ ہسپتال جانے پر آمادہ نہیں ہوا تھا, صمد نے کسی ورکر کو گاڑی ٹھیک کروانے کا کہا تھا
رات کے دس بج رہے تھے جب صمد اسے لیکر گھر پہنچا, اسماء اس کے انتظار میں ہی تھی, حدید سیدھا اوپر جانے لگا تو راۓ عبید نے آواز دے لی, اس کی سرخ سرخ آنکھیں اور سرخ سرخ کپڑے انہیں جامد کر گئے تھے
“اب یہ کرے گا تو ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“جو کرنا تھا آپ نے کر دیا ابو… میں نے کیا کرنا ہے”وہ بولا اور آگے کو آیا
“ابو… مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ اسے گھر سے کیوں نکالا ؟؟” حدید رو پڑا تھا
“حدید.. ” وہ تڑپ کر اپنے اس لاڈلے جوان بیٹے کی طرف بڑھے تو وہ دو قدم پیچھے کو ہٹ گیا
“اسے گھر سے کیوں نکالا ؟؟؟” وہ چیخ پڑا تھا, اسماء خاموش کھڑی رہی
“ابو میں نے کہا تھا نا کہ مجھے انیتا سے شادی نہیں کرنی…جب منگنی کرنے لگے تب بھی منع کیا, جب رشتہ طے کیا تب بھی منع کیا…ابو میں نے آپ کو مسلسل انکار کیا کہ مجھے انیتا سے شادی نہیں کرنی لیکن آپ کو ضد چڑھ گئی… امی کو ضد چڑھ گئی” وہ بولا
“بتائیں صمد بھائی اپنی بیوی کو کہ کتنی بار انکار کیا تھا میں نے… کتنی بار کہا تھا آپ سے کہ مجھے انیتا سے شادی نہیں کرنی.. ” وہ صمد کی طرف آیا
“ابو آپ بھی بتائیں اپنی اس لاڈلی بہو کو کہ میں انیتا سے شادی پر آمادہ نہیں تھا… بتائیں اسے کہ کیسے میری مرضی کے خلاف آپ نے میرا رشتہ طے کر دیا تھا, بتائیں اسے کہ آپ نے اپنی بہن کو کچھ نہیں بتایا… ” وہ زور سے بولا
“اور آپ… بلائیں انیتا کو, اسے میرے سامنے پوچھیں کہہ میں نے اسے ایک بار نہیں… بار بار انکار کیا تھا, پوچھیں اس سے کہ میں نے کب اس سے شادی کی. حامی بھری تھی… ” وہ چیخا
“انیتا واپس چلی گئی ہے… ” اسماء نے دھیرے سے کہا
“حدید بات سن… “صمد اس کی طرف آیا تو وہ پھر پیچھے ہٹ گیا
“نہیں… آپ میری بات سنیں, اپنے باپ اور بیوی سے پوچھیں کہ جرم تو میرا تھا نا… انیتا کو میں نے دھتکارا تھا نا… مہندی والے دن نکاح تو میں نے کیا تھا نا.. تو پھر سزا اس لڑکی کو کیوں دی ؟؟؟” وہ آنسوؤں سے رویا تھا
“قصور تو میرا تھا… تو مجھے تھپڑ مارتے, مجھے دھکے دیتے, مجھے گھر سے نکالتے… ساری عمر اسے ذلیل کیوں کیا… ؟ اسے طعنے کیوں دیئے؟ اسے گھر سے کیوں نکالا ؟؟” وہ کہتا چلا گیا
“ابو اس نے دو سال میرے ساتھ وفا نبھائی, دو سال اس نے اپنے باپ کا نام تک نہیں لیا, کبھی واپس مڑ کر نہیں دیکھا, کبھی آپ کی رعونت اور کروفر کا شکوہ نہیں کیا… دو سال اس نے آپ کی لاڈلی بہو کے طعنے سنے, اس کی گالیاں سنیں… یہ کونسا دہرا معیار ہے آپ کا کہ مجھے تو معاف کر دیا لیکن اس کے لئے کوئی معافی نہیں تھی… ” وہ تیر کی طرح اسماء کی طرف آیا تھا
“آٹھ ماہ کی پریگنینسی تھی اس کی… میں اسی لئے واپس مڑ گیا کہ غصے میں اسے کوئی نقصان نا پہنچا دوں… رتی برابر بھی شرمندگی نہیں ہے تمہیں ؟؟؟؟” اس نے وحشیوں کی طرح اسماء کا بازو جکڑ لیا
“حدید.. چھوڑ اسے” صمد نے اسے کھینچ کر پیچھے کیا تھا, اسماء ششدر سی کھڑی تھی
“صمد… اسے اوپر لے جا اور اس کی مرہم پٹی کر… ” راۓ عبید سے کھڑا ہونا دوبھر ہو رہا تھا, تناؤ کے باعث حدید کے چہرے پر آئی خراشوں سے خون نکلنے لگا تھا
“خدا کی قسم صمد بھائی میں سب کو گولی مار دوں گا اگر مجھے غاشیہ نہیں ملی… میں اس گھر کو آگ لگا دوں گا” وہ چنگھاڑتا ہوا صمد سے ہاتھ چھڑوا کر اوپر چلا گیا تھا
…………………………
رافع اور حریم کی مصالحتی کوشش بیکار ہی گئی, حریم اس کے ساتھ مزید رہنے سے انکاری تھی, فاخر بس اسے سمجھا ہی سکتا تھا… زور زبردستی تو نہیں کر سکتا تھا, جج نے ایک اور ایکسٹینشن دے دی تھی, سارہ ابھی تک رافع کے پاس ہی تھی, حریم نے ابھی تک اس کی کسٹڈی کے لئے کیس نہیں کیا تھا, صرف سارہ کی خاطر اس نے پارٹ ٹائم والی کوچنگ چھوڑ دی, صرف نو بجے سے ایک بجے تک کالج ٹائم رکھ لیا, سارہ ابھی ٹھیک طرح سے چلنا شروع نہیں ہوئی تھی, روبینہ کی طبیعت کے پیش نظر اسے وہ خود ہی سنبھالتا تھا, اس کا فیڈر بنانا, پیمپرز چینج کرنا, نہلانا, کپڑے تبدیل کروانا, پوٹی دھونا… سب کچھ وہ خود کرتا تھا, کالج ٹائم کے دوران بس اسے روبینہ دیکھتی تھیں, ویسے بھی رحمہ اور راحم سکول جانے لگے تھے اسلیے اتنی زیادہ مشکل نہیں ہوتی تھی
“شافع… کسی ایک طرف لگ جا, اگر فرح کو واپس لانا ہے تو سوچ لے, وہ تیرے بچوں کی. ماں ہے, اگر نہیں تو بیٹے اسے فارغ کر اور دوسری شادی کا سوچ… تیرے بچے ابھی اتنے بھی بڑے نہیں ہوۓ, اور شافع ماں کی ضرورت ساری عمر رہتی ہے” انہوں نے رسان سے کہا تھا
“اور تو بھی کچھ سوچ لے… تیری بچی ابھی سال کی بھی نہیں ہوئی, حریم نے گھر نہیں بسانا رافع… اپنی باقی کی زندگی خراب نہ کر… ” وہ شاید درست تھیں
جوانی ان کی اپنے بچے پالتے گزر گئی اور بڑھاپا پوتے, پوتیاں پالتے گزر رہا تھا
“میں کب تک ہوں… ؟؟؟ کہاں تک چلوں گی تم دونوں کے ساتھ ؟؟؟ ابھی عمر ہی کیا ہے تم دونوں کی… ضروری تو نہیں ہے کہ خدا ہر بار ہی آزمائش کرے… ہو سکتا ہے اس ذات پاک نے تم دونوں کے لیے بہت بہتر سوچ رکھا ہو” وہ کہتی چلی گئی تھیں
اسی رات شافع نے اسراء کو کال کی تھی… اس نے ریسیو نہیں کی, وہ کرتا گیا… جواب ندارد
پھر اس کا میسیج آیا تھا
“میں عدت میں ہوں… “اور وہ بس ساکت سا سکرین دیکھتا رہ گیا تھا
……………………….
وہ سر شام ہی گھر واپس آ گیا تھا, ورکشاپ پر آ کر بھی اسے پیچھے سے غاشیہ کی فکر رہتی تھی, جنوری شروع ہو چکا تھا…ہر طرف دھند اور کہرے کا راج تھا, وہ موٹر سائیکل کھڑی کر کے اندر آیا تو ٹھٹھک گیا, غاشیہ کچن میں کھڑی تھی
“تم کھانا بنا رہی ہو ؟؟؟”اس نے پوچھا
“ہاں… مجھے کوئی سزا ہے تمہارے ہاتھ کا انتہائی بدمزہ کھانا کھانے کی” وہ آٹا گوندھتے ہوۓ بولی
“اگر میرے ہاتھ کا بنا نہیں کھایا جاتا تو باہر سے لے آیا کروں ؟؟؟” اس نے چھینک مارتے ہوئے پوچھا تھا
“نہیں.. میں خود بنا لوں گی” وہ بولی اور اس کی طرف مڑی
“تم کوئی دوا لے لو… ہر وقت چھینکتے رہتے ہو” غاشیہ نے کہا
“ستائس سالوں سے سردیاں یونہی گزر رہی ہیں میری… کولڈ الرجک… ” وہ کہتا ہوا اندر چلا گیا, غاشیہ نے ہنڈیا بھون کر روٹیاں بنائیں اور کھانا ٹیبل پر ہی لگا دیا, ارمغان چینج کر کے آ گیا تھا
“حدید سے کوئی رابطہ ہوا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں…لیکن گھر گیا تھا وہ, کافی برسا ہے, تمہیں ڈھونڈنے کے لئے سارا لاہور چھان مارا ہے اس نے, تمہارے ابو کے گھر بھی گیا تھا” ارمغان نے ساری خبریں رکھی ہوئی تھیں
“یعنی ابو لوگوں کو بھی پتہ چل گیا… ” وہ بولی, ارمغان نے اثبات میں سر ہلایا, ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بیرونی دروازے پر دستک ہوئی, ساتھ ہی بیل بجی, ارمغان دیکھنے چلا گیا, واپس آیا تو اس کے ساتھ کوئی اور بھی تھا
“خالد بھائی… ” غاشیہ اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کے گلے سے آن لگی, آنسو خود بخود ہی نکل پڑے, خالد نے شکوہ کناں نظروں سے ارمغان کی طرف دیکھا
“مجھے بس لگا ہی تھا کہ تم نے کچھ کیاہو گا” وہ غاشیہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
کچھ نہیں… سب کچھ میں نے ہی کیا ہے” وہ بولا
“حدید آیا تھا ؟؟؟” غاشیہ نے پوچھا
“ہاں… یوں جیسے بس اپنے آخری دموں پر ہو” خالد نے کہا, ارمغان کو سارا قصہ اسے بھی سنانا پڑا
“ویسے بے غیرتی کی انتہا ہی ہے تیری… ایک لڑکی کی خاطر دوسری لڑکی کو اجاڑ دینا… ” خالد نے کہا
“اپنی محبت پانے کے لئے کسی اور کی محبت تباہ کر دینا… یہ انسانیت تو نہیں ہے ارمغان… ” وہ تاسف سے بولا
“تو میں نے کب کہا کہ میں انسان ہوں… حیوان ہی تو بن گیا تھا” وہ سر جھکاتے ہوۓ بولا, خالد نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“جو ہوا… سو ہوا, غاشیہ میرا بیٹا چل میرے ساتھ, تایا جان گھل گھل کر آدھے رہ گئے ہیں, حدید الگ سے پاگل ہوا پھر رہا ہے, بس ختم کرو اب یہ کھیل اور چل میرے ساتھ… ” خالد نے کہا
“نہیں خالد… غاشیہ کہیں نہیں جاۓ گی, کھیل ایسے ختم نہیں کرنا… حدید کو تڑپ لینے دو, وہ مجھ سے زیادہ بڑا بے غیرت ہے جسے بیوی پر اعتبار نہیں ہے, اس کی تھوڑی عقل ٹھکانے آ لینے دو, غاشیہ کہیں نہیں جاۓ گی… جب تک اس کا بچہ دنیا میں نہیں آ جاتا… حدید کو کوئی سچ نہیں بتاۓ گا” ارمغان کہتا چلا گیا, خالد نے غاشیہ کی طرف دیکھا
“اسماء کا حساب چکتا ہو لینے دیں خالد بھائی, اسے انیتا سے شادی کر لینے دیں…میرا بچہ اس دنیا میں آ جاۓ… اس کے بعد حدید سے بات کروں گی” غاشیہ نے فیصلہ کن لحجے میں کہا تھا, خالد نے ان دونوں کی طرف دیکھا
بھلا کوئی کہہ سکتا تھا کہ وہ دونوں ایک ہی باپ کا خون نہیں تھے… ایک ہی ماں کا خون نہیں تھے…دونوں ایک ہی فیصلے پر قائم تھے
“اچھا یوں کرو… حدید سے نہیں ملنا تو نہ ملو لیکن میرے ساتھ چلو, اسے کوئی نہیں بتاۓ گا کہ تم وہاں ہو, غاشیہ بچے یہاں سارا دن اکیلی ہوتی ہو, یہ کمینہ کونسا چوبیس گھنٹے تمہارے پاس رہتا ہے… وہاں شازیہ ہے, ناشیہ ہے, طہٰ ہے… تمہارا دل بھی لگا رہے گا ” خالد نے کہا, غاشیہ نے ارمغان کی طرف دیکھا
“بلے بھئی …ابھی اس خبیث کو تم سے ملے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوۓ, اس کی وجہ سے تم اجڑ کر یہاں تک پہنچ گئی اور ابھی بھی میری بات سن کر اسی کی طرف دیکھ رہی ہو… یہ تمہارا زیادہ سگا ہے نا… ” خالد کو چڑھ تپ گئی, ارمغان کو بیساختہ ہی ہنسی آئی تھی
“میرے ساتھ گزارے اتنے سال تو جھک ہی تھے نا پھر…اب یہ سگا ہو گیا ہے تمہارا” خالد نے کہا
“نہیں خالد بھائی… ایسی بات نہیں ہے… “غاشیہ مسکراتے اس کے ساتھ لگی تھی
“سگا تو ہے نا خالد بھائی… ” وہ بولی, ارمغان بس دھیما دھیما سا ہنس رہا تھا
“میں کل گاڑی لیکر آؤں گا اور…. ” ارمغان نے اس کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی
“میں خود لے آؤں گا…کل شام” ارمغان نے کہتے ہوئے غاشیہ کو دیکھا
“حدید سے کوئی رابطہ نہ کرنا… پلیز… اور نا ہی کسی کو کرنے دینا” ارمغان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا
…………………………
جاری ہے