121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

“عبید بھائی آپ کی جگہ کوئی غیر ہوتا تو میں شکوہ کرتی ہوئی بھی اچھی لگتی… سگے بھائی سے میں کیا رونا دھونا کروں ؟؟؟ تین سال شادی سے پہلے میری بچی کو لٹکاۓ اور تین سال شادی کے بعد… خود تو وہ مزے سے شادی کر کے بچے پیدا کر کے فیملی پوری کر کے بیٹھ گیا اور میری بچی… ؟؟؟ عبید بھائی میری بچی کا کیا قصور ؟؟؟ اس کے حصے تو نا شوہر… نا بچے… ” آمنہ کے دکھ کی کوئی انتہا نہیں تھی, وہ جانتی تھیں کہ اسراء, اسماء اور انیتا جیسی نہیں تھی… اسے چیخ چلا کر اپنا حق لینا نہیں آتا تھا… ہاں اسے بس خاموشی سے صبر کرنا آتا تھا
اور وہ اس نے سات سال کیا…
“آمنہ… میں بہت شرمندہ ہوں تجھ سے” راۓ عبید اور کیا کہتے
“میں آپ کی شرمندگی کا کیا کروں عبید بھائی… ؟؟؟ اس سے میری بچی کا دکھ کم ہو جاۓ گا ؟؟؟” آمنہ نے کہا
“جانتے ہیں عمر کیوں نہیں آۓ… کیونکہ رات سے وہ جتنی بار روئی ہے وہ اس کے ساتھ مل کر روۓ ہیں… اذن سے بھی زیادہ لاڈلی ہے وہ انہیں… اور آپ نے اسے تباہ کر دیا ” آمنہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں
“آپ آۓ تھے میرے پاس عبید بھائی… میں نے نہیں کہا تھا کہ میری بچیاں اب میرے اوپر بوجھ بن گئی ہیں اسلیے آئیں اور انہیں اتاریں… ابھی تو میں حدید کا دیا دکھ ہی نہیں بھولی تھی کہ اس نے مجھے پھر سے منہ کے بل گرا دیا… ” وہ درید کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں
“پھپھو… میں نے کہا تھا ابو کو کہ آپ کو سچ بتا دیں لیکن… ” درید نے اتنا کہہ کر راۓ عبید کو دیکھا
“آمنہ میں کیسے بتاتا تجھے ؟؟؟” وہ بے بسی سے بولے
“جیسے اب بتایا ہے… “آمنہ چیخ پڑیں
“امی بس کریں, کیوں خود کو ہلکان کر رہی ہیں, اٹھیں… چلیں” اسماء ایک دم چادر لیتے ہوئے بولی تھی
“اسماء.. تو کہاں جا رہی ہے بیٹے ؟؟؟” راۓ عبید یکدم کھڑے ہو گئے
“امی چلیں…” اس نے سنی ان سنی کر دی تھی
“اسماء بات تو سنو… ” صمد اس کے پیچھے آیا تھا
“بس… ایک لفظ اور نہ کہنا صمد…سات سال سے آپ مجھ سے جھوٹ بولتے آۓ ہیں, ماموں جان کا جھوٹ ایک طرف, اس دھوکے باز کا فراڈ ایک طرف… اور آپ کا گناہ ایک طرف صمد… مبارک ہو آپ کو اپنا گھر اور اپنے بچے… جس گھر میں میری بہنوں کے لئے کوئی عزت, کوئی جگہ نہیں ہے… وہاں میرے لئے بھی کچھ نہیں ہے” اسماء نے سپاٹ لحجے میں کہا تھا
گھر میں داخل ہوتے ہی وہ پھٹ پڑی تھی
“زرقا… زرقا… ” وہ چادر اتارتے ہوئے زور سے دہاڑی تھی, زرقا بوکھلا کر اپنے کمرے سے نکلی… اذن کی نائیٹ شفٹس تھیں اسلیے وہ گھر پر ہی تھا
“ماموں جان اور ان کے بیٹوں نے دراصل وطیرہ بنا لیا ہے… ہمیں ذلیل کرنے کا, جب جس کا دل چاہا منگنی توڑ دی, جب جس کا دل چاہا شادی رچا لی” وہ انتہائی غصے سے بولی تھی, زرقا کو دیکھتے ہی وہ اس کی طرف بڑھی تھی
“چلو جاؤ اپنے باپ کے گھر… وہاں جا کر بیٹھو تاکہ اسے بھی پتہ چلے کہ شادی شدہ بیٹیوں کے دکھ کیا ہوتے ہیں…” اسماء نے اس کا بازو جکڑ لیا
“اسماء چھوڑ دے اسے… ” آمنہ جیسے صوفے پر ڈھے سی گئیں
“کیوں ؟؟؟ اس کے بھائی کہیں کے نوابزادے ہیں جو ہمیں یوں رول کر رکھ دیا ہے… پہلے اس حدید نے ذلیل کیا… اب درید نے رسوا کر دیا… چلو بی بی… جاؤ” اسماء نے اسے جھٹکا دیا تھا, تبھی اذن اوپر سے نیچے اتر کر آیا
“اسماء باجی… چھوڑیں اسے” اس نے زور سے اسماء کو پرے کو دھکیلا تھا
“میں نے کہا تھا نا… کہ آپ لوگ اپنے دکھوں کی سزا ہمیشہ اس کے حصے میں ڈال دیا کریں گی ” وہ زور سے بولا اور زرقا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پیچھے کر لیا
“تو اور کیا کریں ؟؟؟ اسے تاج بنا کر سر پر رکھ لیں” اسماء چیخی
“آپ کو کوئی ضرورت نہیں ہے اسے تاج بنا کر سر پر رکھنے کی… کیونکہ یہ میرا تاج ہے اور میں اسے اپنے سر پر رکھ چکا… خبردار اسماء باجی جو آج کے بعد زرقا کو ایک لفظ بھی کہا تو… جا کر اس کے بھائیوں کے سر پھاڑیں” وہ انتہائی درشت لحجےمیں کہتا ہوا اسے اوپر لے گیا تھا
……………………………
رات نو بجے کا وقت تھا, ملازمہ اپنا کام نپٹا کر چلی گئی تھی, شافع دونوں بچوں کو سلا کر روبینہ کے کمرے میں آ گیا, رافع بھی وہیں تھا, آج وہ حریم کو لینے گیا تھا لیکن اس نے واپس آنے سے صاف انکار کر دیا تھا, باہر موسم خراب ہوتا جا رہا تھا
“شافع میری دواؤں والا شاپر اٹھا کر دے… ” روبینہ اپنے بستر پر بیٹھی تھیں, وہ انہیں شاپر پکڑا کر وہیں ان کے برابر میں ہی لیٹ گیا, رافع سامنے صوفے پر لیٹا ہوا تھا
“آج امی کا بی پی 170 پر تھا… ” رافع نے کہا, شافع نے حیرانی سے انہیں دیکھا
“امی… ” وہ پریشان ہو گیا تھا
“کیا کروں ؟؟؟ اختیار میں ہے بھلا کچھ ؟؟؟ دن کی دس عورتیں میرے پاس آتی ہیں.. آدھی فرح کا پوچھنے… آدھی حریم کا پوچھنے” روبینہ نے کہا…کھڑکیوں کے شیشوں پر ٹپ ٹپ شروع ہو گئی تھی
“میرے تو دونوں ہی بیٹوں کے مقدر پھوٹ گئے… لوگوں کو جوائی اچھے نہیں ملتے… میں شاید دنیا کی پہلی عورت ہوں جسے بہوئیں اچھی نہیں ملیں” روبینہ کی بس ہو گئی تھی
“امی مجھے نہیں لگتا حریم واپس آۓ گی… اس کی امی پہلے بھی میری اور اس کی شادی پر راضی نہیں تھیں… وہ اس کی شادی اپنے کسی امریکن بھانجے سے کرنا چاہ رہی تھیں… فاخر بتا رہا تھا کہ وہ آجکل پاکستان آیا ہوا ہے” رافع نے کہا
“دو سال ہو گئے امی… ہر وقت, ہر لمحہ وہ مجھ سے پوچھ تاچھ کرتی رہتی ہے… دو سالوں میں بھی اسے مجھ پر اعتبار نہیں آیا… ہر وقت شک… میں آخر کب تک صفائیاں دیتا پھروں… ؟؟؟” رافع بھی بھرا پڑا تھا
“میں نے آج پندرہ دن کی چھٹی سینڈ کر دی ہے… بچے بہت اگنور ہو رہے ہیں” شافع نے دھیرے سے کہا
“کچھ نہیں پتہ چلا ؟؟” روبینہ نے دوا کھاتے ہوئے پوچھا, شافع نے نفی میں سر ہلا دیا
“اور بانو… ؟؟؟”
“ہسپتال میں ہیں… کل سے” شافع نے کہا…بارش کی رفتار میں تیزی آ گئی تھی
“شافع میں نے ہمیشہ خدا سے یہ ہی دعا کی کہ میرے بچوں کا مقدر میرے جیسا نا ہو لیکن… خدا جانے اب یہ آزمائش ہے یا میری دعا کی قبولیت میں کوئی رکاوٹ ہے… ” روبینہ کہتی چلی گئیں
“امی… ” کچھ دیر بعد شافع نے انہیں پکارا
“ہاں… ” انہوں نے بیڈ سے ٹیک لگا لی
“میرے… ابو نے خود کشی کیوں کی تھی ؟؟؟” اس نے دھیرے سے پوچھا تھا, روبینہ چونک سی گئیں, رافع نے بھی گردن موڑ کر اسے دیکھا, آج پہلی بار اس کے لبوں سے “میرے ابو” نکلا تھا
تیس سالوں میں آج پہلی بار اس نے روبینہ سے “اپنے ابو” کے بارے میں کچھ پوچھا تھا… ورنہ تو آج تک اس نے بابر کو ہی ابو کہہ کر بلایا تھا
“پتہ نہیں… مجھے نہیں پتہ” روبینہ نے دھیرے سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیری تھیں, شافع کی آنکھیں بند ہو گئیں, باہر بارش چھاجوں چھاج برس رہی تھی
“مجھے نہیں پتہ کہ اسے کیا ہوا ؟؟؟ اس کا اور میرا کبھی جھگڑا تک نہیں ہوا, نا کوئی بحث, نا کوئی گالم گلوچ, نا کوئی طعنے بازی… اس نے کبھی مجھ سے اونچی آواز میں بات تک نہیں کی… کبھی کوئی شکوہ نہیں کیا, کبھی یہ بھی نہیں کہا کہ میں اسے اچھی نہیں لگی… بس چپ چاپ دنیا سے چلا گیا… ” روبینہ کہتی چلی گئیں
میرا پتہ تھا انہیں… ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“ہاں… اس کی خودکشی کے پندرہ دن بعد تو پیدا ہوا تھا” روبینہ نے کہا اور پھر یکلخت ٹھٹھک گئیں
“شافع… ” انہوں نے دھیرے سے اسے سیدھا کیا… وہ تیس سالہ بھرپور نوجوان آنسوؤں سے رو رہا تھا
“شافع… کیا ہوا میرا بچہ… ؟؟؟” روبینہ تڑپ گئیں, رافع بھی اٹھ کر اس کے پاس آ گیا
“امی… وہ میرے چہرے پر سیاہی مل کر چلی گئی, اسے پورا شہر دیکھ رہا ہے.. کسی اور کے ساتھ…ایک ہی کمرے میں… ایک ہی بستر پر” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا
“میں نے کبھی اس کی محبت میں کمی نہیں رکھی, اس سے نکاح ہوا تو ماضی کی محبت پر دونوں ہاتھوں سے مٹی ڈال دی, اسے ہمیشہ عزت سے بلایا, عزت سے رکھا… ہر خواہش, ہر ضرورت پوری کی اور وہ… وہ کسی اور کے لئے مجھے چھوڑ گئی ” اندر باہر جل تھل ہو رہا تھا
“نا میرا بچہ… ایسے نہیں روتے” روبینہ نے اسے خود میں چھپا لیا
“امی میرا کیا تھا… ؟؟؟ کچھ بھی نہیں… آج میرا کیا ہے ؟؟؟ کچھ بھی نہیں…میرا مقدر آپ جیسا نہیں ہے امی… میرا مقدر میرے باپ جیسا ہے… میرے مقدر میں بھی یونہی بس چپ چاپ سولی پر لٹک جانا ہے” وہ بولا تھا
“میں ہوں نا تیری… رافع ہے نا تیرا…دو بچے ہیں تیرے… اولاد سے بڑھ کر بھی کچھ ہوتا ہے بھلا… ایسے نہیں روتے… چاہے تیری ساری زندگی کالی ہو جاۓ شافع… پر تیرے دو جگنو ہمیشہ روشن رہیں گے… تیرے لئے ” وہ اسے خود میں سمیٹے کہتی چلی گئیں تھیں… وہ ان کے سینے پر سر رکھے روتا چلا گیا تھا
وہ سیٹھ بابر انصاری کے پانچ بیٹوں میں سے ایک نہیں تھا… اور ہو بھی کیسے سکتا تھا… ؟؟؟ اس کے پانچ بیٹوں میں سے کوئی بھی شافع انصاری کے پیروں کی دھول ہو سکتا تھا..لیکن شافع انصاری نہیں ہو سکتا تھا
تبھی اس کا سیل بجا تھا … ساجد کی کال تھی
“شافع بھائی… بانو چچی…. بانو چچی مر گئیں”
………………………….
بانو کی حالت بے انتہا نازک تھی… وہ پچھلے چار گھنٹوں سے آئی سی یو میں تھی, اسے ہارٹ اٹیک ہوا تھا, طبیعت سنبھلنے میں نہیں آ رہی تھی, رضیہ اور ساجد اس کے پاس تھے, بابر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آیا تھا, رات کے دس بج رہے تھے, باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی, تبھی آئی سی یو کا دروازہ کھلا اور ایک نرس باہر نکلی
“آپ میں سے بابر کون ہے ؟؟؟” نرس نے پوچھا
“میں ہوں… ” بابر کھڑا ہو گیا
“اندر آئیں… ” نرس نے کہا, بابر اس کے پیچھے اندر چلا گیا
“پیشنٹ کی حالت بہت نازک ہے, یہ کئی بار آپ کو بلانے کا کہہ چکی ہیں… ” نرس نے اسے کہتے ہوئے دھیرے سے بانو کا آکسیجن ماسک اتارا تھا
“بابر… ” وہ ہلدی کی طرح زرد ہو رہی تھی, بابر کو بمشکل ہی اس کی آواز سنائی دی تھی
“بانو… کیا ہو گیا… ؟؟؟” وہ پتھر صفت انسان اس کے سرہانے بیٹھتے ہوئے بولا تو لحجہ ابھی بھی ہر جذبے سے عاری تھا
“بابر… وہ… بھلا ایسی کیوں ہے ؟؟؟؟” بانو نے مدھم سے لحجے میں کہا, بابر اس کی طرف جھک سا گیا
“روبینہ کہتی ہے کہ اس شخص کی ڈھیل دیکھو کہ اس کے پانچ بیٹے… اور پانچوں میں سے ایک بھی فطرتاً اس پر نہیں گیا…” وہ کہتے ہوئے دھیرے سے رکی, بابر اسے ہی دیکھ رہا تھا
“کاش کہ میں اسے بتا سکتی کہ سیٹھ بابر انصاری کے پانچ بیٹوں میں سے کسی ایک کی بھی خصلت اس جیسی نہ ہونا… اس کی ڈھیل نہیں ہے… لیکن اس کی اکلوتی بیٹی کی خصلت اس جیسی ہو جانا… اس کی آزمائش ضرور ہے” بانو کی سانس اکھڑی تھی, بابر ششدر رہ گیا
“بیٹی… ” اس کے لبوں سے نکلا تھا
“وہ… وہ… صابر کا خون نہیں ہے, وہ میری بیٹی نہیں ہے… وہ… فرح…. ” بانو کو ہچکی آئی تھی, بابر ساکت بیٹھا اسے دیکھتا رہ گیا
“وہ گڑیا کی…. بیٹی ہے… تیری بیٹی…. ” ایک نرس بھاگ کر س کے پاس آئی تھی, دوسری ڈاکٹر کو بلانے کے لئے دوڑ پڑی
“تو… روبینہ کا مجرم… ہے… تو اور گڑیا اس کے…. مجرم…اور تو واحد کا… واحد کا مجرم.. اور تو شاکر کا… “بس اس سے سے آگے وہ بول نہیں پائی تھی
“آپ پلیز باہر جائیں… ” ایک نرس نے اسے کہا, وہ سب اسے بچانے کے جتن کر رہے تھے
بابر تھکے تھکے قدموں سے باہر نکل آیا
“اب اسے کیا کہے گا تو سیٹھ بابر… ؟؟؟ کہ جو ساری عمر تو نے کیا… وہ اب ساری عمر تیری بیٹی کرے گی… ؟؟؟” کوئی اس کے اندر سے بولا تھا
“ابو…. کیا ہوا ؟؟؟” ساجد اس سے کچھ پوچھ رہا تھا
“تجھے کیا لگا تھا کہ کالے کو سفید سے ملا کر کالا بھی سفید بن جاۓ گا ؟؟؟ اگر ایسا ہوتا تو تو آج پورا سفید ہوتا بابر انصاری… تجھے بھی تو ایک نیک اور پاکباز بیوی سے جوڑا گیا تھا نا… ؟؟؟ تو ہو گیا تھا سفید… ؟؟؟ تو تو مزید سیاہ ہو گیا بابر… اور وہ بھی یونہی سیاہ ہو رہی ہے… ” وہ ڈھے سا گیا, تبھی آئی سی یو کا دروازہ کھلا, ڈاکٹر باہر آیا تھا
“she is no more… “
…………………………….
وہ آفس سے نکلنے لگا تھا جب اسے ایک انجان نمبر سے کال آئی
“کون….؟؟؟” وہ اپبے کیبن سے بایر نکلتے ہوئے بولا
“حدید راۓ… کیسے ہو ؟؟؟” حدید ٹھٹھک گیا… وہ وہی تھا
“تم صرف یہ بتا دو… کہ تم ہو کون ؟؟؟” حدید کا لحجہ سرد ہو گیا
“وہ ضروری نہیں ہے… جو ضروری ہے وہ سنو… ” اس نے کہا, حدید گاڑی تک آ گیا تھا
“اسے چھوڑ دو… ” حدید کی مٹھیاں بھنچ گئیں تھیں
“وہ میری بیوی ہے کمینے انسان… اور میں تجھ جیسے حرامزادے کے کہنے پر اسے قطعی چھوڑنے والا نہیں ہوں” حدید نے کہا
“اور اگر وہ خود ہی تمہیں چھوڑ گئی تو ؟؟؟” وہ بولا, حدید بس ایک لمحے کے لیے سن ہوا تھا
“وہ مجھ سے محبت کرتی ہے… سمجھا” حدید نے کہا
“میں بھی اس سے محبت کرتا ہوں… سمجھے” وہ مسکرایا تھا
“جھوٹ بولتی یے وہ تم سے… وہ صرف اسلیے تمہارے ساتھ رہ رہی ہے کیونکہ تم اس سے محبت کرتے ہو… وہ نہیں کرتی حدید راۓ… وہ تمہارے ساتھ رہنا بھی نہیں چاہتی… “
“شٹ اپ… ” حدید نے زور سے گاڑی کو مکا مارا تھا
“چھوڑ دو اسے… اس سے پہلے کہ وہ خود تمہیں چھوڑ دے” وہ یونہی مسکراتے ہوئے کال کاٹ گیا تھا
……………………..
“صرف ایک بار وہ کتا میرے ہاتھ لگ جاۓ… میں اس کے ٹکڑے کر دوں گا فرزانہ… ” تیمور ملک چنگھاڑ رہے تھے, انہیں خالد نے آج صبح ہی وہ وائرل ویڈیو دکھائی تھی اور وہ ترنت فرزانہ کے سر پر پہنچ گئے تھے… ناشیہ بس خاموشی سے ایک طرف بیٹھی معاذ کے کپڑے تبدیل کروا رہی تھی
“تیمور بھائی… میرا بچہ بہک گیا ہے بس… وہ کلموہی کب سے اس کے پیچھے پڑی ہوئی تھی… ” فرزانہ روۓ جا رہی تھی
“فرزانہ میرے سے بکواس نہ کر… سمجھی, وہ بتیس سال کا مرد ایک بیوی اور بچے کے ہوتے ہوئے بہک گیا… وہ بہکا نہیں ہے فرزانہ… گمراہ ہو گیا ہے” تیمور ملک گرجے
“سارا پتہ کروایا ہے میں نے… شادی سے پہلے کا چکر تھا ان دونوں کا, تب بھی جب ہاتھ پیر تڑوا کر بستر پر پڑ گیا تھا, ایکسیڈینٹ کا تو جھوٹ بولا تھا تو نے… چنگی پھینٹی لگی تھی تب بھی اسے لڑکی والوں سے… ” تیمور ملک کہتے چلے گئے
“اور وہ بے غیرت شادی کے بعد بھی نہ سدھرا…فرزانہ تو نے لگامیں ہی نہیں کھینچیں اس کی… اور ایک میری بچی کہ اس نے شادی کے بعد زبان ہی سی لی… مجھے کبھی کچھ بتایا ہی نہیں… پچھلے دو, چار سالوں سے اس کتے کا اس لڑکی سے چکر چل رہا ہے, میری بچی کا سارا زیور اس نے چرا چرا کا اس لڑکی پر لٹا دیا… جو مار پیٹ, جو گالم گلوچ کی وہ علیحدہ… میں تجھ سے کون کون سے حساب مانگوں فرزانہ… ” تیمور ملک تپے پڑے تھے
“تیمور بھائی میں… بہت شرمندہ… ” انہوں نے فرزانہ کی بات کاٹ دی
“تیری شرمندگی سے کیا ہو گا… ؟؟؟ اس خبیث نے جو منہ کالا کروایا ہے وہ صاف ہو جاۓ گا ؟؟؟” وہ دہاڑے
“سارا شہر اسے بدکاری کرتے ہوئے دیکھ رہا ہے… لوگ شرم کے مارے پوچھتے نہیں ہیں…رپورٹ کروا دی ہے میں نے پولیس میں… بس ایک بار مل جاۓ وہ کتا… پھر دیکھنا اس کا کیا حشر کرتا ہوں میں… ٹانگیں توڑ کر چارپائی پر ڈال دوں گا… ” وہ دہاڑتے جا رہے تھے, خالد خود اطہر سے ملا تھا…اور جتنا ممکن ہو صفوان کی گمشدگی کو راز رکھنے کی درخواست کی تھی
ابھی تک ان دونوں کا کوئی پتہ نہیں تھا
…………………………
اسراء کو واپس آۓ ایک ہفتہ ہو چکا تھا, اسماء بھی واپس نہیں گئی تھی, آمنہ یا عمر فاروق میں سے بھی کسی نے دوبارہ صمد یا راۓ عبید سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا… درید نے معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے دو ہفتوں کے لئے ویزہ بڑھا لیا تھا, اس کی فیملی چار دن پہلے ہی واپس چلی گئی تھی
اس دن بھی صمد رات کو آتے ہوئے روٹیاں لیکر آیا, سالن درید نے بنایا تھا, غاشیہ سے تو بول چال ہی بند تھی سو اسے کسی بھی کام کے لئے نہیں کہا گیا, اسماء تینوں بچے بھی صمد کے حوالے ہی کر گئی تھی, بڑے دونوں سکول جاتے تھے… چھوٹی ابھی تین سال کی تھی…ایک ہفتے میں ہی صمد اور راۓ عبید کو لگ پتہ گیا, درید کا کیا تھا… اس نے تو واپس چلے جانا تھا, اصل شامت تو ان دونوں باپ بیٹا کی آئی تھی… صبح سویرے ہی اٹھ کر وہ بیچارہ جیسے تیسے ناشتہ بناتا… ادھ جلے توس, کچے پکے پراٹھے, کالی سیاہ چاۓ… بچوں کو سکول کے لئے تیار کرتے کرتے ہی اس کے چھکے چھوٹ جاتے… پھر ان کے لنچ باکس… صمد کی تو ایک ہی دن میں بس ہو گئی…اگلے دن سے اس نے بچوں کو بسکٹ, پاپڑ, اور دیگر چیزیں لا دیں… تیسرے دن پیٹ میں درد ہونے لگ گیا
دوپہر اور شام میں تندور کی روٹیاں کھا کھا کر راۓ عبید کو بھی موشن لگ گئے… تین دنوں میں ڈھیر کپڑوں کا لگ گیا… بچوں کے گندے سندے یونیفارم, بیچارے درید نے خود بیٹھ کر دھوۓ… صمد انہیں ہوم ورک کرواتے ہوۓ اڑ اڑ کر پڑتا… کبھی کسی کی دھنائی… کبھی کسی کی چیخ و پکار… گھر کی صفائی ایک الگ مسئلہ… ہفتے بھر میں پورا گھر تلپھٹ ہو گیا, بچوں نے الگ دہائیاں دینی شروع کر دیں
“اسماء… خدا کے لئے مجھے معاف کر دو یار… میرا کیا قصور ؟؟؟” صمد رونے والا ہو گیا تھا
بس پھر تو قطاریں لگ گئیں.. صبح سٹور پر جاتے ہوئے صمد اس کی منتیں کر کے جاتا… دوپہر میں راۓ عبید آ جاتے… معافیاں, تلافیاں…
شام میں وہ سٹور سے دوبارہ آ کر منتیں کرتا…
اس دوران درید بھی آیا… لیکن اسے تو اسماء نے اندرونی دروازہ پار ہی نہیں کرنے دیا تھا
حدید کی راۓ عبید نے الگ سے ایک کلاس لی تھی
“اوۓ خبیثا… تو اگر شرلاک ہومز نہ بنتا تو کیاتھا ؟؟؟” وہ خوب ہی برسے تھے, مزید ایک ہفتہ گزر گیا اور صمد کی بس ہو گئی, وہ تینوں بچوں سمیت عمر فاروق کے گھر پہنچ گیا
“پھپھو جو سزا دینی ہے مجھے دے لیں… جوتے مار لیں, گالیاں دے لیں..لیکن اسماء سے کہیں واپس آ جاۓ… پلیز” وہ آمنہ کے قدموں میں بیٹھ گیا
“امی اسے کہیں یہاں سے چلا جاۓ ورنہ میں اس کا سر پھاڑ دوں گی” اسماء کی بد لحاظی کا کوئی عالم نہیں تھا
“پھاڑ دو… ابھی پھاڑ دو” صمد کھڑا ہو گیا
“خدا کا واسطہ ہے اسماء… بس یہ ایک ہی تو قصور ہوا ہے مجھ سے سات سالوں میں… پلیز معاف کر دو” وہ بیچارہ از حد پریشان تھا
“اسماء… بیٹے جا چلی جا” عمر فاروق اندر سے نکلے تھے, آمنہ خاموش ایک طرف بیٹھی تھیں
“ابو میں نے نہیں جانا… ” وہ تڑخی
“جا میرا بیٹا… ایسے نہیں کرتے, تیرے بچے ہیں وہاں…. جا شاباش”عمر فاروق نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا, اس نے قہر بار نظروں سے صمد کو گھورا تھا
…………………………
جاری ہے