No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
معمول کےمطابق اس کی آنکھ کھلی تھی, مندی مندی سی آنکھوں سے اس نے گھڑی کی طرف دیکھا, وہ ساڑھے سات بجا رہی تھی, اس نے اٹھنا چاہا لیکن اپنے وجود کے گرد اذن کی مضبوط گرفت کی وجہ سے اٹھ نہیں سکی, اسے ہلتے ہوۓ محسوس کر کے وہ بھی کسمسایا تھا
“چھوڑ دو… ساڑھے سات ہو گئے ہیں”زرقا کا چہرہ اس کے بازو پر دھرا ہوا تھا
“طبیعت کیسی ہے اب ؟؟؟” اذن نے اپنی نیند آلود آنکھوں کو بمشکل کھولا تھا
“مجھے لگتا ہے بخار اتر گیا ہے… ” وہ دھیرے سے بولی تھی, اذن نے بڑے حق سے اس کے چہرے پر گرے اس کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے ہٹایا تھا
“اتر گیا یے… ” وہ اپنا ہاتھ اس کے گال پر رکھتے ہوۓ بولا
“چھوڑو… ” زرقا نے مزاحمت سی کی تھی, اذن نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتے ہوئے دونوں بازو کھول دیئے, زرقا جلدی سے اٹھ بیٹھی
“مجھے تھوڑی دیر میں دوبارہ ہلا دینا… ” وہ کمبل تان کر کروٹ بدل گیا تھا
……………………..
“ابو… میں اب کیا کروں ؟؟؟” درید ان کے کمرے میں آیا تھا
“کیا مطلب ؟؟؟” وہ بولے
“مہینہ ہو چلا یہاں آۓ ہوۓ, وہاں کام کا اتنا نقصان ہو رہا ہے, بچوں نے الگ سے جان کھائی ہوئی ہے اور ان کی ماں نے الگ سے… پھپھو سے پوچھیں کہ کیا کرنا ہے ؟؟؟” وہ بولا
“بات کی تو ہے میں نے”راۓ عبید نے کہا
“ابو… دیکھیں اگر آپ کہیں تو میں اسراء سے ایک بار خود پوچھ لیتا ہوں, چلیں جتنی زندگی اس کی تباہ ہونی تھی ہو گئی… اب باقی کی تو نا ہو, اگر وہ میرے ساتھ رہنے پر آمادہ ہوتی ہے تو میں چھ ماہ بعد چکر لگا لیا کروں گا لیکن… میں اسے دبئی نہیں لے جا سکتا…” درید نے کہا, راۓ عبید نے ایک لمبی سانس بھری
“اسماء…” انہوں نے اسماء کو آواز دی
“جی… ” وہ آجکل ہر کسی کو کاٹ کھانے کو پڑتی تھی
“صمد کو بلا اور تو بھی میری بات سن… ” وہ بولے اسماء اور صمد تھوڑی دیر بعد ان کے روبرو تھے
“اسماء… پتر درید نے واپس جانا ہے تو… ” اسماء نے ان کی بات کاٹ دی
“تو چلا جاۓ… اسراء کو طلاق دے جاۓ” اسماء نے کہا
“اسماء… جذبات میں نا آ… اسراء نے چھ سال گزارے ہیں اس کے ساتھ… “راۓ عبید نے کہا
“نہیں ماموں… اس نے چھ سال گزارے ہیں ہمارے ساتھ…. درید کے ساتھ نہیں… درید کتنے دن ملا ہے اسے… چھ سالوں میں چھ ماہ کے لئے بھی نہیں” وہ تڑخی
“اب آیا کرے گا نا… چھ ماہ بعد چکر لگایا کرے گا” راۓ عبید نے کہا
“ماموں… یہ اس دبئی والی بیوی کو طلاق دے, اس کے بچے اس کے منہ پر مارے اور سارا کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان واپس آۓ تب اسراء اس کے ساتھ رہے گی… ورنہ نہیں… میں ایک لمحے کے لئے بھی اپنی بہن پر سوتن برداشت نہیں کروں گی چاہے وہ ملک سے باہر ہی کیوں نہ بیٹھی ہو” اسماء نے فیصلہ سنا دیا
“وہ میری بیوی ہے… میرے تین بچوں کی ماں ہے… میں اسے نہیں چھوڑوں گا”درید نے کہا
“تو بس پھر… بکواس کس چیز کی ہے…چپ چاپ اسراء کو چھوڑ دے”اسماء نے بھڑک کر کہا
“اسماء میری بات سن… “راۓ عبید نے کہا
“نہیں… آپ میری بات سنیں” اسماء نے ان کی بات کاٹ دی
“تھوڑی دیر کے لئے اسراء کی جگہ پر زرقا کو رکھ کر سوچیں کہ آج اذن اگر باہر چلا جاۓ اور وہاں جا کر شادی کرے, بچے پیدا کرے, فیملی بناۓ, بزنس کرے… پورا انجواۓ کرے, اور یہاں زرقا اسی خوش فہمی میں رہے کہ اس کا شوہر اس کی خاطر پردیس کے دھکے کھا رہا ہے, وہ دو, دو سال چکر نہ لگاۓ… بتائیں کیا بیتے گی آپ پر ؟؟؟ اور پھر پتہ لگے کہ اذن نے تو وہاں فیملی بنا رکھی ہے, وہ بھلا کیوں چکر لگاتا پاکستان ؟؟؟ اسے کیا ضرورت تھی زرقا راۓ کی.. بتائیں کیا ہو گا تب ؟؟؟ ذرا سوچیں کہ اذن اس طرح بے شرم چہرہ لیکر آپ کے سامنے بیٹھ کر کہے کہ میں نہیں چھوڑ سکتا اپنی بیوی کو, اپنے بچوں کو… زرقا ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو بتا دے… کیا بیتے گی آپ پر ؟؟؟ اذن کہے کہ میں چھ ماہ بعد چکر لگا لیا کروں گا تو کیا بیتے گی آپ پر زرقا کی خالی گود دیکھ کر… ؟؟؟ ” وہ پھٹ پڑی
“اسراء انسان نہیں ہے کیا ماموں… ؟؟؟ اس کا دل نہیں ہے, اس کی خواہشات نہیں ہیں… چھ سالوں سے وہ اس نامراد کا انتظار کر رہی ہے, نا کوئی محبت, نا کوئی الفت, نا کوئی احساس, نا کوئی بچہ… بس خالی ہاتھ اس کے آنے کا انتظار اور بس… ” وہ زور سے بولی تھی, راۓ عبید خاموش رہ گئے
“نہیں ماموں… نا چھ ماہ, نا چھ دن… یہ مستقل یہاں آۓ گا… اور اس باہر والی کو طلاق دے کر آۓ گا ورنہ اسراء ہمیں تا عمر اس خبیث کے نام پر نہیں بٹھانی… ابھی تو ہم انیتا کے دل سے حدید کو نہیں نکال سکے…” وہ فیصلہ سنا کر اٹھ گئی تھی
“اور دوبارہ میرے ماں باپ تک جانے کی ضرورت نہیں ہے… ان کا بھی یہ ہی فیصلہ ہو گا” وہ کمرے سے نکل گئی تھی
“ابو… میں باہر والی کو طلاق نہیں دوں گا”درید نے صاف کہہ دیا
“تو بس پھر اسراء کو چھوڑ دے…. کیا خبر خدا نے اس کے لیے تجھ سے بہتر سوچ رکھا ہو” صمد نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کہا تھا
……………………………
اسے ہسپتال لیکر آۓ تھے, شازیہ کو یہ ہی لگا کہ اس نے خود کشی کرنے کی کوشش کی ہے, اس کا معدہ واش کر کے اسے وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا تھا
خالد اور شازیہ اس کے پاس تھے, تیمور ملک نہیں آۓ تھے, وہ تو بس چپ چاپ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے پچیس سالہ جوان بیٹے کو ہسپتال جاتا دیکھتے رہ گئے تھے
کیا پایا تھا انہوں نے ؟؟؟ یا یوں کہہ لیں کہ ساری عمر کیا کمایا تھا انہوں نے ؟؟؟ کچھ بھی نہیں
آج کیا تھا ان کے پاس ؟؟؟ کچھ بھی نہیں
صرف اپنی انا کو اونچا رکھنے کی خاطر وہ ایک ایک کر کے سب کو کھوتے چلے گئے تھے
“طہٰ… ” اسے ہوش آ گیا تھا
“کیا کرنے لگا تھا تو ؟؟؟” شازیہ اس کے پاس بیٹھی رو پڑی تھی
“بس سونے لگا تھا… تھوڑی دیر… ” وہ جس لحجے میں بولا, وہ شازیہ کا دل چیر گیا
“طہٰ…تو چلا گیا تو ہم کیا کریں گے ؟؟؟ ابو… جیتے جی مر جائیں گے” وہ بولی
“شازیہ بس کرو… کچھ نہیں کرے گا یہ… ” خالد نے کہا
“طہٰ میری بات سن… تو جیسے چاہے گا ویسے ہی ہو گا, جہاں تو کہے گا میں تیری شادی کرواؤں گی, میں خود تیرا رشتہ لیکر جاؤں گی لیکن میرا بھائی دوبارہ ایسا مت کریں… طہٰ ہم تو ابھی تک چاچو کا دکھ ہی نہیں بھولے… کیا میری قسمت میں بس ایک کے بعد ایک سب کو آنکھیں بند کرتے ہی دیکھنا لکھا ہے ؟؟؟” وہ کہتی چلی گئی
“ابو… کہاں ہیں ؟؟؟؟” طہٰ نے پوچھا
“گھر پر ہیں… طہٰ وہ بہت پیار کرتے ہیں تجھ سے, وہ ہم سب سے بہت پیار کرتے ہیں” شازیہ نے کہا
“لیکن ہم سب سے زیادہ پیار وہ اپنی انا سے کرتے ہیں شازیہ باجی… انہیں اپنی ذات, اپنا حسب اور اپنی برادری سے زیادہ عزیز ہے… میں کیوں نہ روؤں ؟؟؟ میں کیوں نہ کہوں کہ آج صرف اور صرف ابو کی ایک بے جا ضد کی وجہ سے میں خالی ہاتھ ہوں, آج صرف ابو کی وجہ سے میری محبت مجھ سے چھن گئی ہے” وہ آنسوؤں سے رویا تھا
……………………………
صفوان ابھی تک سیٹھ بابر کی قید میں تھا, فرحان اور نفیس کی ہزار کوششوں کے باوجود بھی پولیس اسے سیٹھ بابر سے بازیاب نہیں کروا سکی تھی, خالد نے ناشیہ کے مل جانے کے بعد بیان دے دیا تھا سو ساجد کی ضمانت ہو گئی تھی, فرح کو اس نے گھر میں ہی ایک کمرے میں نظر بند کیا ہوا تھا
اس رات بھی وہ چھت پر تھا… نہ جانے کتنی ہی پی چکا تھا لیکن اس کے گناہوں کا اثر شراب کے نشے سے زیادہ گہرا تھا, بار بار ذہن میں رافع کا ستا ہوا چہرہ گھوم جاتا… اسے جھٹکتا تو واحد کا چہرہ نظر آنے لگتا
“شروع سے شروعات کرو بابر انصاری…. یہ قصہ تو واحد سے بھی بہت پہلے کا ہے… ” کوئی اس کے اندر سے بولا تھا
“روبینہ… ” اس کے لبوں سے نکلا
“اس سے بھی پہلے… ” آواز دوبارہ آئی تھی
“گڑیا… “
“یا پھر رضیہ… ؟؟؟” وہ سوچتا چلا گیا, وہ ساری زندگیاں جو اس کی وجہ سے تباہ ہو گئیں ان میں سر فہرست رضیہ انصاری تھی… اس کی نیک پارسا بیوی جو اس کے انسان بننے کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی ہو گئی, اس کے چار بیٹوں کی نیک خصلت ایک طرف… اور اس کے شوہر کی شیطانی صفت ایک طرف… ساری زندگی اس نے کڑھتے ہی گزار دی….
پھر چھوٹا بھائی یاد آیا… انتہائی معصوم…انتہائی ناسمجھ چھوٹا بھائی جو صرف اس کی وجہ سے خود کشی کر گیا….
پھر گڑیا یاد آئی… وہ تتلیوں جیسی رنگ برنگی لڑکی جس کا نصیب کوئی شہزادوں جیسا لڑکا ہوتا جو اسے اپنی سر آنکھوں پر بٹھاتا… اس نے اس تتلی کے پروں کو مسل مسل کر رکھ دیا, وہ اکیس سالہ معصوم لڑکی اپنے وجود میں اس کا خمیر پالتی رہی, خون اگلتی رہی, آنسو گراتی رہی… اور صرف اس کی وجہ سے مر گئی
پھر بانو…. ساری عمر اس کی ناجائز بیٹی کو سینے سے لگانے والی بانو… جس نے ہر ہر پل یہ ہی دعا کی کہ اس بچی کی فطرت اپنے باپ پر نہ جاۓ
پھر روبینہ… وہ کیسے معافی مانگے گا اس سے ؟؟؟ کیسے کہے گا کہ میں نے تمہیں برباد کر دیا…. وہ روبینہ انصاری جو اپنے ناقص العقل شوہر کے ساتھ شاید ایک خوشگوار زندگی گزارتی… اس کا پل پل جہنم بنا دیا, اسے گھن آتی تھی اس سے… نفرت کرتی تھی اس سے… لیکن پھر بھی اس کے ساتھ رہنے پر مجبور تھی
پھر اپنا بیٹا یاد آیا… بڑا بیٹا… انیس سالہ واحد انصاری… جس کا جرم ہی کیا تھا کہ اسے پیار ہو گیا تھا… جسے پتہ ہی نہ چلا کہ اسے اپنی محبت کو دنیا سے نہیں بلکہ اپنے باپ سے بچانا تھا, وہ جوان لڑکا جو صرف اس کی وجہ سے دنیا چھوڑ گیا
شازیہ ملک…. وہ تو قیامت تک بھی اسے معاف نہ کرے… اور کیوں کرے ؟؟؟؟ اپنے سر سے چادر کھینچنے والے کو وہ کیوں معاف کرے ؟؟؟؟
پھر شافع… اس نے جان بوجھ کر فرح کو اس کے سر پر تھوپ دیا… حالانکہ اسے فرح جیسی لڑکی کے لئے کوئی اسی جیسا ڈھونڈنا چاہئے تھا
پھر ناشیہ… وہ معصوم لڑکی… ایک بچے کی ماہ… شازیہ ملک کی بہن… جس کے ساتھ اس نے وہی کیا جو کسی اور نے فرح کے ساتھ کیا تھا لیکن… وہ بھول گیا کہ وہ خدا نہیں تھا
اور پرسوں رات رافع… اس کی آنکھیں… کیا وہ دوبارہ اس سے نظریں ملا پاۓ گا ؟؟؟؟
بے قصوروں کی ایک لمبی قطار تھی جو روز محشر اس کا گریبان پکڑنے کے لئے تیار تھی
“میں… سب ٹھیک کر دوں گا…. میں روبینہ سے… معافی مانگ لوں گا… میں” وہ جیسے خود سے کہہ رہا تھا
“تجھے کون معاف کرے گا… مردے قبر سے نہیں اٹھا کرتے…. ” کسی نے اس پر طنز کیا تھا
“میں… روبینہ سے کہوں گا کہ… میں اسے سب بتا دوں گا” الفاظ ٹوٹنے لگے تھے, وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا
“میں… سب ٹھیک… کر دوں گا” وہ لڑکھڑا کر منہ کے بل گرا تھا
………………………..
وہ اس کے لئے چاۓ لیکر آئی تھی
“میری عادتیں خراب کر کے جاؤ گی تم… ” ارمغان شاور لیکر نکلا تھا
“فکر مت کرو, میں کل جا رہی ہوں واپس, امی کہہ رہی ہیں واپس آؤ… ارمغان کا کوئی بھروسہ نہیں ہے… ” وہ اسے کپ پکڑاتے ہوۓ مدھم سا مسکرائی تھی
“بدنام ہوں گے تو کیا نام نا ہو گا” وہ کھل کے مسکرایا تھا, اسراء باہر ٹیرس پر نکل آئی, ارمغان بھی اس کے پیچھے ہی نکل آیا, یہاں آ کر وہ ذہنی طور پر کافی بہتر ہو گئی تھی
“ارمغان… تم شادی کر لو اب ” اسراء نے کہا
“میں تو کل کا کرتا آج ہی کر لوں… تمہاری بہن ہی ہاتھ نہیں پکڑا رہی ” ارمغان لاچاری سے بولا
“کسی اور سے کر لو… وہ چاہے قیامت تک ہاتھ نہ پکڑاۓ پھر ؟؟؟” اسراء نے کہا
“جب تک وہ کسے اور کے لئے “قبول ہے” نہیں کہہ دیتی تب تک کا وقت ہے میرے پاس… ” ارمغان نے کہا
“انیتا بھی پاگل ہے… بھلا اب حدید کے ملنے کی کوئی امید بچی بھی ہے…. ؟؟؟ دو سال ہو چکے ہیں اس کی شادی کو, اتنی خوبصورت اور محبت کرنے والی بیوی ہے اس کی جو اس کے بچے کی ماں بننے والی ہے… ٹوٹ کر چاہتا ہے وہ اسے ” اسراء نے کہا
“اچھا… اذن کی بارات پر تو پورے ہال کے سامنے تھپڑ مار دیا تھا اس نے اپنی بیوی کو” ارمغان نے اسے ٹوکا
“ہو سکتا ہے ان دنوں کوئی ٹینشن چل رہی ہو دونوں کی…” وہ گھونٹ بھرتے ہوئے بولی
“شاید حدید کا بچہ اس دنیا میں آ جاۓ تو… انیتا کی امید ٹوٹ جاۓ” وہ بولا
“میں سمجھاؤں گی اسے ارمغان… کیا مل جاۓ گا اسے حدید کے پیچھے ساری عمر ذلیل ہو کر… مجھے کیا مل گیا چھ سال درید کے لیے غارت کر کے ؟؟؟ ایک سوری کا میسیج تک نہیں آیا اس کا… ذرا سا بھی شرمندہ نہیں ہے وہ شخص…. اور اپنے بھائیوں جیسا ہی خون ہے حدید کا بھی… خود غرض… اس نے انیتا کو رول دیا, درید نے مجھے خوار کر دیا… صمد بھائی نہ جانے کیسے ٹکے ہوۓ ہیں ابھی تک اسماء پر… ” اسراء کہتی چلی گئی
“اسراء… ایک بات کہوں ؟؟” وہ آگے کو ہوا
“کوئی تو امید ہے انیتا کے پاس جو وہ ابھی تک حدید کی آس لگاۓ بیٹھی ہے ورنہ محبوب شادی کر لے تو ساری آسیں ہی ٹوٹ جایا کرتی ہیں… ” وہ بولا
“کیسی آس…؟؟؟” اسراء سمجھ نہ سکی
“شادی کے دنوں میں نے اسماء کو خالہ سے کہتے سنا تھا کہ انیتا کے لئے فکر مند نہ ہوں, میں اس کی شادی وہیں کرواؤں گی جہاں یہ چاہتی ہے… ” وہ بولا
“ہاں یہ تو کہتی ہے وہ…. ” اسراء نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی
“یعنی اسے یہ آس اسماء نے دلا رکھی ہے” ارمغان نے کہا
“اسماء کیا کر لے گی اب ؟؟؟ حدید اور غاشیہ کو الگ کر دے گی کیا؟؟” اسراء تڑخ کر بولی, ارمغان کندھے اچکا گیا
“ویسے… وہ ہر وقت غاشیہ کے پیچھے پڑی رہتی ہے… کیا خبر اب کونسا نیا تماشہ کرے گی ؟؟؟” وہ سوچ میں پڑ گئی تھی
……………………….
وہ کوچنگ سینٹر میں تھا جب اسے شافع کی کال آئی
“رافع گھر آ…. جلدی” وہ آجکل چھٹیوں پر تھا, رافع اپنی ایک کلاس چھوڑ کر فوراً گھر کی طرف دوڑا, دروازے پر ایک آدمی کھڑا تھا
“یہ کون ہے ؟؟” اس نے شافع سے پوچھا
“یہ کورٹ کی طرف سے آیا ہے… حریم نے خلع دائر کر دیا ہے” شافع نے اس کے سر پر دھماکہ کیا تھا, وہ شخص اس کے سائن کروا کر نوٹس دے کر چلا گیا
“میرا دل کرتاہے اسے گھسیٹ کر یہاں لاؤں اور بند کر دوں کسی کمرے میں… اس عورت نے میری زندگی جہنم کر دی… میں نے شادی سے پہلے کوئی ہزار بار اسے کہا تھا کہ تم بعد میں مجھ پر شک کرو گی… لیکن نہیں… تب محترمہ کو عشق فرمانے کا شوق ہو رہا تھا… ” وہ بھڑک گیا
“اس کی امی راضی نہیں ہیں رافع… ” شافع نے کہا
“تو اس کی اپنی عقل ختم ہو گئی ہے” وہ چیخا
“اچھا بس کر… اب کیا کرنا ہے ؟؟؟؟” شافع نے پوچھا
“میں سب سے پہلے جا کر اپنی بچی لیکر آؤں گا, کسی صورت میں اسے اس امریکن چوزے کو نہیں لےجانے دوں گا” رافع نے کہا تھا
……………………….
اسماء اور غاشیہ کا ایک دھواں دھار جھگڑا ہوا تھا, اسماء باقاعدہ اسے مرنے مارنے پر تل گئی تھی, صرف راۓ عبید ہی گھر پر تھے, بمشکل انہوں نے اسماء کو قابو کیا.. رات کو صمد کے آتے ہی وہ اس پر چڑھ دوڑی تھی
“اس حرافہ کو یہاں سے دفع کریں صمد…. نہیں تو میں اسے کسی دن قتل کر دوں گی… ” اس نے ایک طوفان بپا کر دیا تھا, رات کو جیسے ہی حدید واپس آیا, اس کی پیشی ہو گئی, اسماء کا چیخ چیخ کر گلا بیٹھ گیا تھا, اوپر غاشیہ کی آنکھیں سوجی پڑی تھیں
“کب ختم ہو گا یہ تماشہ ؟؟؟” راۓ عبید نے کہا
“ابو… وائیٹ واش ہو رہا ہے بس, میں بس ایک ہفتے کے اندر اندر شفٹ ہو جاؤں گا” وہ سر جھکا کر بولا تھا
“اپنی بیوی کی زبان ذرا قابو میں رکھا کر… ” انہوں نے گھرکا
“ابو غاشیہ پہل نہیں کرتی” وہ کہہ ہی گیا, اسماء سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گئی
“بھابھی… میں شوق سے نہیں رہ رہا یہاں… میں تو جا رہا تھا… آپ کے شوہر نے نہیں جانے دیا مجھے” حدید خود ستا پڑا تھا
“حدید…. چل دفع ہو اوپر” راۓ عبید نے اسے گھرکا, وہ چپ چاپ اوپر چلا گیا
غاشیہ سارے کام نپٹا کر بستر پر لیٹی تو بدن نڈھال سا تھا, وہ بس چت لیٹی چھت کو گھورتی چلی گئی, حدید کو سمجھ نہ آیا کہ اسے بتاۓ یا نا بتاۓ
“ًغاشیہ…. ” اس نے دھیرے سے پکارا
“ہاں… “
“میں کپڑے لے آیا ہوں تمہارے لئے… صبح لازمی چینج کر لینا” وہ بولا
“اچھا… “
“بات سنو… ” اس نے پھر پکارا
“ناشیہ سے بات ہوتی ہے… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“عرصہ ہو گیا نہیں ہوئی… ” وہ بولی
“خالد کا فون آیا تھا آج… صفوان کسی لڑکی کو ساتھ لیکر بھاگ گیا تھا… اس کے باپ نے ناشیہ کو اٹھوا لیا… پرسوں واپس آئی ہے… ” حدید کہتا چلا گیا, غاشیہ جیسے کرنٹ کھا کر سیدھی ہوئی, چہرے پر بے یقینی ہی بے یقینی تھی
“اور… وہ بتا رہا تھا کہ… کل… طہٰ نے شاید خود کشی کی کوشش کی ہے” حدید مسلسل اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
“خود کشی… ” وہ ششدر رہ گئی
“اب تو ٹھیک ہے… ہسپتال میں ہے” حدید نے کہا, غاشیہ کے ٹپ ٹپ آنسو گرنا شروع ہو گئے تھے
“حالانکہ خالد نے مجھے منع کیا تھا تمہیں بتانے سے لیکن… وہ تمہارے بھائی بہن ہیں…اگر جانا ہے تو ہسپتال لے چلتا ہوں” وہ اس کے پاس ہوتے ہوئے بولا, غاشیہ نے نفی میں سر ہلا دیا
“ایک طرف کی گالیاں ہی بہت ہیں…. صبح و شام کھانے کے لیے… ابو نے کہا تھا دوبارہ شکل مت دکھانا… واپس مت آنا… میں مر جاؤں تب بھی…. چاہے ہم سارے مر جائیں تب بھی…وہ مجھے طہٰ کے پاس بھی نہیں پھٹکنے دیں گے” وہ بلک بلک کر رہی تھی
“غاشیہ… ” حدید نے اسے گلے سے لگایا تھا
“حدید مجھے لگتا ہے مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی, بہنیں تو ایک دوسرے کے لئے بڑا کچھ کر جاتی ہیں اور میں نے کیا کیا… ؟؟؟ اپنے حصے کی آگ ناشیہ کی جھولی میں ڈال آئی, یہ ساری اذیتیں اور تکلیفیں جو وہ اٹھا رہی ہے, یہ میرے نصیب میں لکھی تھیں اور میں اس کے سر تھوپ آئی… بدلے میں ملا بھی تو کیا… ؟؟ نا میں ادھر کی اور نا ادھر کی…یہاں بھی نفرت ہے اور وہاں بھی نفرت ہے…. ایک تم میرے تھے حدید… اور پچھلے پانچ, چھ ماہ سے تم بھی میرے نہیں رہے… ” وہ روتی چلی گئی
“غاشی… میں تمہارا ہی ہوں” وہ اسے زور سے اپنے ساتھ بھینچتے ہوۓ بولا تھا
“ہم بس اگلے ہفتے شفٹ ہو جائیں گے…ہمارا بچہ اپنے گھر میں ہی آنکھ کھولے گا” اسے ٹوٹ کر اس پر ترس آیا, غاشیہ بس اس کی شرٹ گیلی کرتی چلی گئی
“طہٰ کو کال کر لو… ” وہ دھیرے سے بولا تھا
“کر لوں گی… ” وہ آنسو خشک کرتے ہوئے بولی تھی
………………………..
کمرے کا دروازہ کھلا تھا… ہرطرف گھپ اندھیرا
تبھی اس نے لائیٹ جلائی… وہ چارپائی پر گھٹنوں میں منہ دیئے بیٹھی تھی, وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے پاس آ بیٹھا
“فرح… ” اس کی پکار پر فرح نے سر اٹھایا
“کیوں بھاگی تھی اس کے ساتھ ؟؟؟” اس نے انتہائی سپاٹ لحجے میں پوچھا, فرح کے پاس کوئی جواب نہیں تھا
“لڑکیاں شادی سے پہلے گھروں سے بھاگتی ہیں… کیونکہ انہیں پیار ہو جاتا ہے اور ان کے گھر والے ان کی پسند سے شادی نہیں کرتے… تب بھاگتی ہیں وہ گھروں سے… بتا تجھے پیار ہو گیا تھا اس سے ؟؟؟؟” اس نے پوچھا
“تایا جی.. غلطی…. ہو گئی ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی
“کیوں ہو گئی ؟؟؟ بار بار منع کرنے کے باوجود بھی کیوں ہو گئی؟؟؟” وہ سرد سے لحجے میں بولا
“وہ… میں بھٹک گئی تھی…. ” بابر نے اس کی طرف دیکھا
وہ بھی تو ایسے ہی کرتا تھا, وہ بھی تو ہر بار غلط کرنے کے بعد بس اتنا ہی کہتا تھا کہ… میں بھٹک گیا تھا
“فرح… بتا میں کیسا انسان ہوں ؟؟؟”اس نے پوچھا, فرح نے حیرانی سے دیکھا
“آپ… اچھے ہیں.. تایا جی” وہ بولی
“میں ایک بدکار انسان ہوں فرح… جس نے ساری عمر گناہ ہی کمایا ہے… اور تو میری بیٹی ہے…سگی بیٹی” وہ اس کے سر پر دھماکہ کر گیا
“تو میرا خون ہے فرح… میری طرح گناہوں سے سنا ہوا…” وہ کہتا جا رہا تھا
“امی… ؟؟؟”
“تو بانو کی بیٹی نہیں ہے… ” وہ اسے بتاتا چلا گیا… سب کچھ… فرح بس ششدر سے بیٹھی سن رہی تھی
“اور اب… تو اس کمرے میں پڑی پڑی چاہے مر جاۓ… لیکن باہر نہیں نکلے گی…. یہ کمرہ ہی اب تیرا ٹھکانہ ہے” وہ کہہ کر کھڑا ہو گیا
“نہیں… مجھے معاف کر دیں, بس ایک بار… بس آخری بار… شافع کو بلائیں, وہ مجھے ہمیشہ معاف کر دیتا ہے, اس بار بھی کر دے گا… تایا جی میرے بچے… ” وہ بلک بلک کر اس کے پیچھے آئی لیکن وہ درشتی سے اسے پیچھے ہٹاتے ہوئے دروازہ بند کر گیا تھا
…………………………
جاری ہے
