121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11


رات نو بجے کا وقت تھا جب زرقا کا موبائل بجا, طہٰ کی کال تھی
“میں نیچے کھڑا ہوں… ” وہ بولا
“اوکے… میں اذن کو لیکر پانچ منٹ تک آتی ہوں” زرقا کال ڈس کنیکٹ کرتے ہوئے بولی اور نیچے آ گئی, اذن اپنے کمرے میں ہی تھا, زرقا نے ناک کر کے اندر جھانکا
“آ جاؤ… ” وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولی, اذن بس ایک نظر اس کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر اس کے پیچھے ہی باہر نکل آیا
“اگر پکڑے گئے نا تو کتے کی موت مریں گے ہم سارے… ” وہ اس کے پیچھے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بولا تھا, زرقا بس چپ چاپ اسے لیکر حدید کے پورشن میں آ گئی, سب سے پہلے انہیں حدید اور غاشیہ کو منانا تھا
“چلو بھی… ” طہٰ ابھی تک سب سے اوپر والی سیڑھی پر کھڑا تھا
“آؤ… ” ہوائیاں تو اس کے چہرے پر بھی اڑ رہی تھیں, وہ تینوں دروازہ ناک کر کے آگے پیچھے ہی اندر داخل ہوئے تھے, طہٰ کو دیکھتے ہی حدید کی آنکھیں پھیل گئیں
“اوۓ… تو پھر آ گیا ” اس سے زیادہ وہ بول نہ سکا, طہٰ, زرقا اور اذن تینوں لائن میں کھڑے ہو گئے, حدید کے کانوں میں گھنٹیاں بجنے لگی تھیں
“اگر تم میں سے کسی نے بھی مجھ سے فضول بکواس کرنے کی کوشش کی…. تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا” حدید نے انگلی اٹھا کر کہا تھا, غاشیہ بھی پریشان سی نظروں سے ان تینوں کو دیکھ رہی تھی
“اذن… بیٹھو ” اس نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا, اذن چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گیا, زرقا دھیرے سے دروازہ بند کرتے ہوئے غاشیہ کے پاس آ کھڑی ہوئی, وہ تینوں بس ایک دوسرے کو ہی دیکھے جا رہے تھے
“اب کوئی بولے گا بھی ؟؟؟” حدید کو غصہ آ گیا
“حدید بھائی… مجھے زرقا سے… شادی کرنی ہے” طہٰ نے کہا, حدید نے فوراً زرقا کی طرف دیکھا, وہ بیچاری شرمندگی سے سرخ ہوتے ہوئے سر جھکا گئی
“زرقا پتر… یار تو بھی اس کے ساتھ ہے… تجھے تو میں بڑا عقلمند سمجھتا تھا” حدید کو یقین نہ آیا
“وہ… حدید بھائی دراصل… ” زرقا بول نہ سکی
“حدید اسے بھلا کیوں کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہو… ؟؟؟ اس کا کیا قصور… اس لفنگے نے ہی ورغلایا ہو گا اسے” غاشیہ نے کہا
“اوۓ تجھے شرم نہیں آئی… ” حدید طہٰ کی طرف مڑا
“حدید بھائی شرم کی کیا بات ہے… آپ کو شرم آئی تھی اپنی دفعہ… ” طہٰ کی بس ہو گئی
“طہٰ… ” غاشیہ دم بخود رہ گئی, حدید پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا
“تو اور کیا کہوں.. ؟؟؟ بس اتنی ہی بڑی بہن ہو تم… اور اتنے ہی بڑے بھائی ہیں یہ… اپنی دفعہ تو جھنڈے گاڑھ کر کر لی لو میریج… میری دفعہ کہہ رہے ہیں شرم کر لے, کمال ہو گیا… ” وہ کہتا چلا گیا, زرقا نے بمشکل اپنی مسکراہٹ دبائی تھی
“میرے ساتھ دن رات جو کتے خانی ہوتی ہے وہ پتہ ہے تجھے ؟؟؟” حدید اس پر چڑھ دوڑا
“حدید بھائی… طہٰ کے پاس ایک پلان ہے… ” زرقا نے دھیرے سے کہا تھا, اذن خاموش ایک طرف صوفے پر بیٹھا تماشہ دیکھ رہا تھا
“میرا دماغ چاٹنے کی ضرورت نہیں ہے… صاف صاف کہو کیا کہنا ہے” حدید نے کہا, طہٰ نے جلدی سے ٹی وی بند کیا اور حدید کے پاس بستر پر چڑھ آیا
“حدید بھائی… پلان یہ ہے کہ… اذن اپنے گھر والوں سے کہے گا کہ اسے زرقا سے شادی کرنی ہے, ظاہر ہے آپ کے ابو اس کے رشتے کو انکار تھوڑی نہ کریں گے سو شادی طے ہو جاۓ گی, عین شادی والے دن کوئی لڑکی آ کر کہے گی کہ… ” طہٰ مسلسل حدید کا پیلا پڑتا چہرہ دیکھ رہا تھا
“…کہ اذن نے تو اس سے چھپ کر شادی کی ہوئی ہے, اور سچوایشن کو تھوڑا مزید intense کرنے کے لئے وہ یہ بھی کہے گہ کہ وہ اذن کے بچے کی ماں بننے والی ہے… ” آخری جملہ اذن کی طرف دیکھے بغیر کہا گیا تھا, اور پلان کا یہ مکروہ حصہ اذن کو بھی پہلے سے نہیں پتہ تھا, وہ تو سنتے ہی بھڑک گیا
“دیکھ لیں حدید بھائی… یوں میری مٹی پلید کرے گا یہ پورے ہال کے سامنے, بھلا اس کے بعد مجھے کوئی دے دے گا اپنی بیٹی ” وہ بولا, غاشیہ تو بس حق دق منہ پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی
“او یار کچھ نہیں ہوتا… پکا وعدہ میں خود کرواؤں گا بعد میں تیری شادی” طہٰ حدید کے اوپر ہی چڑھتا جا رہا تھا
“تب آپ کا ٹرن آۓ گا حدید بھائی… تب آپ تن کر کہیں گے کہ آپ کو اپنی بہن کی شادی اس جھوٹے مکار سے نہیں کرنی اور… پھر میری اینٹری ہو گی…” حدید نے اس کی بات کاٹ دی
“تیرے پلان کا تو یہیں ستیاناس ہو گیا سالے… تو وہاں کہاں سے آ جاۓ گا, تجھے بھلا کون بلاۓ گا شادی میں… ؟؟؟ تجھے تو گارڈ باہر سے ہی دھکے مار دے گا” حدید نے کہا
“آپ بلائیں گے نا مجھے… آخر کو آپ کا اکلوتا سالا ہوں میں” طہٰ نے کہا
“اور پھر… عین نکاح کا وقت, دولہے کا سابقہ افییر, اس کی بیوی بمعہ بچہ… سارا شہر ہال میں… پھر کیا ہو گا ؟؟؟ پھر عزت بچائی جاۓ گی اور… زرقا کا نکاح مجھ سے ہو جاۓ گا” طہٰ کے کہتے ہی زرقا کی ہنسی چھوٹ گئی جسے اس نے بمشکل قابو کیا
“طہٰ… تیرا دماغ چل گیا ہے بس اور کچھ نہیں… اذن کے اگر دس سابقہ افییرز بھی سامنے آ جائیں تب بھی اس کی وقعت اس لمحے تجھ سے زیادہ ہی ہو گی سمجھا” حدید نے کہا
“حدید بھائی آپ نے اس لمحے اس وقعت کو تو ہی کم کرنا ہے… تھوڑا بہت صمد بھائی کو ساتھ ملا لیجیے گا” طہٰ نے کہا
“اور اس لڑکی کے ساتھ اس کے دو, تین بھائی اور کچھ پولیس والے بھی ہوں گے اور وہ عین وقت پر اذن کو وہاں سے زبردستی لے جائیں گے… سچوایشن مزید میرے حق میں ہو جاۓ گی, آپ اپنے ابو پر دباؤ ڈالیں گے, زرقا بھی تھوڑا سا شور مچاۓ گی سو… پھولوں کا ہار میرے گلے میں ڈال کر مجھے دلہا بنا دیا جاۓ گا” طہٰ کی مسکراہٹوں کا جواب نہیں تھا
“اچھا… دولہے راجہ… ذرا بتانا دوسری طرف کیا ہو گا جب تو زرقا کو وہاں لیکر جاۓ گا” حدید نے پوچھا
“ابو کو ایک فون کال جاۓ گی کہ اذن کی گاڑی کا میری گاڑی سے ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے اور یہ… خدا کو پیارا ہو گیا ہے, لہٰذا لڑکی والوں نے زرقا کا نکاح مجھ سے کر دیا ہے… ” ایک اور جھوٹ
“طہٰ تیرے خیال سے تیرا باپ پاگل ہے کیا ؟؟؟” حدید پھٹ پڑا
“جب بیچ میں پولیس انوالو ہو گی نا حدید بھائی… تو کئی کام سیدھے ہو جائیں گی, ابو کو اپنی ریپوٹیشن کی پڑ جاۓ گی, آپ کے ابو کو اپنی عزت کے لالے پڑے ہوں گے, بس اس سب کے درمیان میرا کام ہو جاۓ گا” طہٰ نے کہا
“طہٰ… اول تو یہ ساری بکواس ناممکن ہے… لیکن چلو… فرض کیا کہ ایسا ہو جاتا ہے تب بھی… میرے ابو کسی صورت زرقا کو تیرے ساتھ نہیں رہنے دیں گے, ہم سب جانتے ہیں کہ میری پھپھو اور تیرے چاچو کو چھ ماہ بعد بھی ڈھونڈ کر الگ کر دیا تھا بڑوں نے… صرف چند دن… اور جب لوگ بھولنے لگیں گے تو تم دونوں کو الگ کر دیا جاۓ گا…طہٰ ایک بار پھر تم دونوں وہیں آ کھڑے ہو گے جہاں سے چلے تھے” حدید سچ کہہ رہا تھا
“اور تو… ” حدید, اذن کی طرف مڑا
“چلو ان دونوں کی تو عقل پر پتھر پڑ گئے ہیں تو بھلا کیوں ان کے ساتھ مل گیا ؟؟؟” حدید نے پوچھا, اذن نے بس ایک سرسری نظر زرقا پر ڈالی تھی
“کچھ دنوں تک امی اور ابو زرقا کا رشتہ مانگنے آ رہے ہیں… میرے لئے ” اذن نے دھماکہ کیا تھا
“حدید بھائی اس ساری صورتحال سے ہٹ کر… میں ذاتی طور پر زرقا سے شادی نہیں کرنا چاہتا, کیونکہ بھلے ہی امی اور ماموں کا آپس میں بہت قریبی رشتہ ہے لیکن… یہ وٹہ سٹہ ہی ہو گا اور مجھے اپنی دو بہنوں کے وٹے میں شادی نہیں کرنی…خدانخواستہ اگر اجڑے تو تینوں گھر اجڑیں گے” اذن نے کہا
“تو میرا صرف ایک فیصد ساتھ اسلیے ہے کہ شاید… ان دونوں کا کچھ بن جاۓ” اذن نے کہا, حدید نے غاشیہ کی طرف دیکھا, وہ پریشان بیٹھی تھی
“طہٰ… اتنے پنگوں میں کیوں پڑنا ہے تو نے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کیونکہ سیدھے سیدھے چل کر میں زرقا تک نہیں پہنچ پاؤں گا” وہ بولا
“کتنا ضروری ہے زرقا تک جانا…؟؟؟” غاشیہ نے پھر پوچھا
“جتنا تمہارے لئے ضروری تھا… حدید بھائی کی طرف آنا” وہ بولا, غاشیہ خاموش رہ گئی
“ساتھ دیں گے حدید بھائی ؟؟؟؟” وہ پوچھ رہا تھا, حدید بس اس کے آس بھرے چہرے کو دیکھ کر رہ گیا
“اور ایک آخری بات… ” اذن کھڑا ہوا تھا
“خدا کرے کہ یہ سارا کھیل بخوبی کھیلا جاۓ, خدا کرے کہ یہ دونوں ایک ہو جائیں لیکن… اگر اس سارے کھیل میں انت پر میرا اور زرقا کا نکاح ہو گیا تو میں بعد میں اسے طلاق نہیں دوں گا… کسی صورت بھی نہیں… اور کوئی مجھے اس کام کے لئے مجبور نہیں کرے گا, نہ حدید بھائی, نہ طہٰ… اور نہ زرقا خود… بس پھر سب اپنے اوپر فاتحہ خود ہی پڑھ لیں گے”اذن نے مضبوط لحجے میں کہا تھا
…………………….
رافع اور حریم کی شادی کو دو ہفتے ہو گئے تھے, اس دن وہ کوچنگ سینٹر سے واپسی پر کچھ دوستوں کے ساتھ ڈنر پر چلا گیا, حریم کو میسیج کر دیا کہ تھوڑا لیٹ ہو جاؤں گا, واپسی ہوتے ہوتے رات کے گیارہ بج گئے, جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو حریم جاگ رہی تھی
“تم نے تو کہا تھا کہ بس ایک ڈنر ہے ؟؟؟” وہ اس کے سامنے آ گئی
“ہاں بس دیر ہو گئی… ” رافع چابیاں اور والٹ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا
“رافع… کس کے ساتھ تھا ڈنر ؟؟؟” اس نے جس لحجے میں پوچھا… رافع چونک گیا
“کیا مطلب ؟؟؟”
“مطلب یہ کہ اب تک کس کے ساتھ تھے” وہ زہریلے سے لحجے میں بولی تھی
“حریم… میں دوستوں کے ساتھ تھا” وہ بولا
“کونسے دوست ؟؟؟؟”
“احمد, شاکر, اکرام اور حازم… ” رافع نے کہہ دیا
“اور اب ایسا کرو… باری باری ان سب کو کال کرو اور کنفرم کرو کہ میں سچ کہہ رہا ہوں یا جھوٹ ؟؟؟” رافع شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے اس کے سامنے سے ہٹ گیا تھا
وہ کہتے ہیں نا… کہ شادی سے پہلے کی انڈرسٹینڈنگ کوئی معنی نہیں رکھتی, آپ ایک شخص کو تبھی ہر طرح سے جان پاتے ہو, جب آپ دن رات اس کے ساتھ رہتے ہو… اور رافع کو ان دو ہفتوں میں ہی اندازہ ہو گیا کہ حریم حد سے زیادہ شکی مزاج لڑکی تھی
ان دونوں کی پہلی باقاعدہ تو تو میں میں بھی اسی شک پر ہوئی تھی
رافع کالج سے ذرا لیٹ ہو گیا تھا, حریم اس کے گھر پہنچتے ہی اس پر چڑھ دوڑی اور اس منہ ماری میں جو لفظ رافع کو آگ لگا گیا وہ ” سابقہ محبوبہ” تھا
“دوبارہ میرے سامنے یہ لفظ نہیں کہو گی تم سمجھیں… ” اسے غصہ آیا تھا
“کیوں ؟؟؟ سچ سننے کہ ہمت نہیں ہے تم میں ؟؟؟” وہ چلا اٹھی
“سچ کیا ہے حریم ؟؟؟” رافع آگے کو آیا تھا
“یہ ہی کہ تم ابھی تک اسے بھلا نہیں پاۓ… “حریم چیخی
“اگر میں نے اسے بھلایا نہ ہوتا تو آج تم اور میں ایک نہ ہوتے” رافع بس اس پر دو حرف بھیج کر خاموش ہو گیا تھا
……………………..
آج آمنہ اور عمر فاروق دونوں راۓ عبید کے گھر آۓ تھے, حسب معمول اتوار کا دن تھا, بچے, بڑے سبھی گھر پر تھے, اسماء اور اسراء تو ماں باپ کو دیکھ کر ہی کھل اٹھیں… اذن بھی گھر پر ہی تھا, خوب ہلہ گلہ مچتا رہا, اذن ہی جا کر دوپہر کے لئے سارا سامان لیکر آیا تھا
“حدید اوپر ہے ؟؟” عمر فاروق نے پوچھا, راۓ عبید نے اثبات میں سر ہلا دیا
“حدید… حدید راۓ… ” عمر فاروق نے آواز دی تھی
“ابو خدا کا واسطہ…خود اوپر چلے جائیں, اسے مت بلائیں نیچے” اسماء تڑخ گئی, ناچار وہ خود ہی اوپر چلے گئے, کافی دیر وہ حدید اور غاشیہ کے پاس بیٹھے رہے تھے
“دل پر نہ لینا بیٹا… اسماء کی ساری زیادتیوں کی میں معذرت کرتا ہوں تم سے” انہوں نے غاشیہ کے سر پر ہاتھ رکھا تھا, وہ بس نم آنکھوں سے سر جھکا گئی تھی
زرقا کچن میں تھی جب اذن وہاں آیا, موقع دیکھ کر وہ اس کے کان میں گھسا تھا
“امی رشتہ مانگنے ہی آئی ہیں… ” اس نے زرقا کے حواس گم کئے تھے, دوپہر کا کھانا بنا, صمد بھی آ گیا… بریانی, قورمہ, شامی کباب, رائتہ, سلاد… کولڈ ڈرنکس… کھیر
صمد نے درید کو بھی کال ملائی تھی
“درید میں کہہ رہی ہوں واپس آ جا… ورنہ میں آ جاؤں گی بس” آمنہ نے اسے دھمکی دی تھی
“پھپھو میں کچھ مہینوں تک لگاؤں گا چکر… ” درید ہنستا چلا گیا تھا
“کچھ مہینے کرتے کرتے ڈھائی سال ہو گئے ہیں نکمے انسان… ” آمنہ نے کہا
“درید میں ایک بار اسراء کو لے گئی تو پھر واپس نہیں بھیجوں گی” آمنہ اسے دھمکی پہ دھمکی دے رہی تھیں
کھانے کے بعد زرقا نے چاۓ بنا لی… اور چاۓ کے دوران ہی آمنہ نے مدعا عرض کر دیا
“عبید بھائی… میں آج آپ سے آپ کی سب سے قیمتی چیز مانگنے آئی ہوں” وہ بولیں, اذن نے سن کھڑی زرقا کی طرف دیکھا تھا
“مجھے میرے اذن کے لئے زرقا کا ہاتھ دے دیں” وہ بولیں, اسماء اور اسراء دونوں خاموش کھڑی تھیں
“صمد بھی بیٹھا ہے, درید اور حدید سے بھی پوچھ لیں… ” وہ بولیں, راۓ عبید نے ہنکارا بھرا تھا
“ادھر آ… ” انہوں نے اذن کو اشارہ کیا تھا, وہ ان کے پاس جا بیٹھا
“نوکری کے بہانے تاڑ لیا میری بیٹی کو… ” انہوں نے اذن کی گردن دبوچی تھی
“ماموں خدا کی قسم ایسا کچھ نہیں ہے ” وہ بوکھلا گیا, عبید راۓ کا قہقہہ بلند ہوا تھا
“میں ابھی زندہ ہوں آمنہ… اور اذن کے لئے مجھے کسی سے بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے” انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“ادھر آ میری بچی… ” آمنہ نے زرقا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے منہ میں برفی کی ڈلی ڈالی تھی, اسراء نے جھٹ تصویریں کھینچ لیں
“اوۓ چھوکرے… ادھر آ.. یہاں بیٹھ… ” آمنہ نے اسے کھینچ کر زرقا کے برابر میں بٹھا دیا, راۓ عبید نے اس کے منہ میں گلاب جامن ٹھونسا تھا
اذن اور زرقا دونوں چور نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھ تھے
……………………………
رات کے نو بج ریے تھے جب وہ اوپر اپنے کمرے میں آیا, ارادہ تو سونے کا تھا لیکن موبایل سکرین پر چمکتے زرقا کے نام پر وہ چونکا, کوئی واٹس ایپ آیا تھا, اس نے جھٹ کھول لیا… اور ساتھ ہی اس کا منہ بھی کھل گیا
وہ زرقا اور اذن کی تصویر تھی… ساتھ ساتھ… ایک کے منہ میں گلاب جامن اور دوسری کے منہ میں برفی
طہٰ سانس لینا بھی بھول گیا… ساتھ ہی زرقا کا میسیج آیا تھا
“جو کرنا ہے جلدی کر لو… ” وہ اسی لمحے کمرے سے نکلا اور بھاگتا ہوا نیچے آیا
“خالد بھائی…. ” اس نے خالد کے کمرے کے دروازے پر دستک دی تھی
“ہاں طہٰ…. ” خالد بیچارہ سونے لگا تھا
“سونے لگے ہیں؟؟؟”
“لگ تو ایسا ہی رہا ہے… ” خالد کی بجاۓ شازیہ نے کہا
“آئیں ذرا… واک کر کے آتے ہیں تھوڑی سی… اوور اییٹنگ ہو گئی ہے” طہٰ ساتھ ساتھ آنکھوں سے بھی اشارے بھی کر رہا تھا
“توبہ ہے… آدھی روٹی کھا کر اس لڑکے کو اوور ایٹنگ ہو جاتی ہے” شازیہ نے کہا
“آ بھی جائیں خالد بھائی… ساری رات سونا ہی ہے” طہٰ نے اسے بستر سے اتار کر ہی دم لیا
“کیا مصیبت آ گئی تجھے… ” خالد گیٹ سے باہر نکلتے ہی پھٹ پڑا
“پہلے وعدہ کریں کہ میری پوری بات دھیان سے سنیں گے.. تحمل سے…اور پھر میرا ساتھ بھی دیں گے” طہٰ نے کہا
“نہیں… کوئی وعدہ نہیں… چل گھر واپس” وہ وہیں سے مڑ گیا
“کیا خالد بھائی… بس یہ ہی یاری ہے” وہ تنک کر بولا
“جلدی بکواس کر… ” خالد نے کہا, طہٰ نے اسے ساری بات گوش گزار کر دی
“طہٰ…صبح جب تو اٹھے تو یہ کیڑا تیرے دماغ سے نکل چکا ہو… سمجھا… چل واپس”خالد کے غصے کا کوئی حال نہیں تھا
………………….
جاری ہے