No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
پچیسویں قسط
سات سال پہلے
اس نے پنجاب یونیورسٹی سے بی بی اے آنرز مکمل کیا تھا, ڈگری ملنے کے ساتھ ہی اسے ایک پرائیوٹ بینک میں او ایم کی جاب مل گئی تھی, گھر سے فاصلہ تھوڑا زیادہ تھا لیکن جاب اچھی تھی سو اس نے کر لی
روز صبح نو سے پانچ وہ اپنی نشست پر ہی ہوتا تھا… رافع تب ابھی ماسٹرز کر رہا تھا
وہ بھی ایسی ہی ایک چمکیلی صبح تھی, وہ اپنے کیبن میں بیٹھا تھا, تبھی اس نے وہ مدھر سی آواز سنی… شاید وہ غصے میں تھی, شافع نے غور سے اسے دیکھا
وہ دھان پان سے وجود کی بڑی ڈیسینٹ سی لڑکی تھی, ریشمی دوپٹہ سر پر لئے, کندھوں کے گرد شال لپیٹے وہ مسلسل سی ایس او سے بحث کر رہی تھی… اور اپنی پوری کوشش کے باوجود غصیل نہیں بن پا رہی تھی… انتہائی دھیمے سے لحجے میں اپنی بات منوانے کی کوشش کر رہی تھی
وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر سی ایس او کے کاؤنٹر پر آ گیا
“What’s the problem??? “
اس نے پوچھا
“سر ان کی بائیو میٹرک نہیں ہو پا رہی…” سی ایس او نے کہا
“مجھے آج مسلسل تین دن ہو گئے ہیں یہاں آتے ہوئے… کسٹمرز کو ایسے تو خراب نہ کریں آپ” وہ اس کی طرف مڑی
“کیوں نہیں ہو پا رہی باییو میٹرک… ؟؟؟” اس نے سی ایس او سے پوچھا
“دراصل سر… ان کی انگلیاں بہت باریک باریک سی ہیں, ڈیوائس انہیں شناخت ہی نہیں کر پاتی, بہت کوشش کی ہے لیکن… ” سی ایس او نے دھیرے سے بتایا, اس نے بمشکل اپنی مسکراہٹ ضبط کی تھی
“میرے سامنے کوشش کریں… ” اس نے سی ایس او کو کہا
اس نے دھیرے سے اس کی انگلی پکڑ کر ڈیوائس پر رکھی, وہ اس میں پوری ہی نہیں آئی, سی ایس او مسلسل کوشش کرتی رہی لیکن… بے سود
“ادھر کریں… ” اس نے ڈیوائس اپنے سامنے کی تھی
“انگوٹھا رکھیں… ” اس نے کہا, لڑکی نے چپ چاپ رکھ دیا
“تھوڑا دبا کر رکھیں… ” اس نے کہا, لڑکی نے دباؤ ڈالا لیکن بے سود
“Please may I…??? “
اس نے لڑکی کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا, اس نے ذرا سا ہچکچا کر اپنا ہاتھ آگے کر دیا, اس نے لڑکی کا انگوٹھا پکڑ کر ڈیوائس پر رکھا, پھر زور سے دبایا… پھر اس کے انگوٹھے کے اوپر اپنا انگوٹھا رکھ کر دباؤ ڈالا.. بپ کی آواز کے ساتھ ہی شناخت ہو گئی تھی, ایسے ہی اس نے لڑکی کے دوسرے انگوٹھے کی شناخت کروائی تھی
“اقراء ان کی فائل مکمل کر کے مجھے بھجوا دیں… ” وہ سی ایس او سے کہتا ہوا واپس اپنی نشست پر چلا گیا, کچھ ہی دیر بعد وہ اس کے روبرو تھی
“کیا نام ہے آپ کا… ؟؟؟” حالانکہ وہ فائل پر سے نام پڑھ چکا تھا
“اسراء راۓ… ” وہ بولی
“کیا کرتی ہیں ؟؟؟” اس نے فائل سائن کرتے ہوئے پوچھا
“سٹڈی ولا گرامر سکول میں وائس پرنسپل ہوں ” اس نے کہا اور نظریں گھما کر اس کی میز پر رکھی ہوئی نیم پلیٹ کو دیکھا
“Shaafy Ansari… Operation Manager “
……………………………
ان کی دوسری ملاقات بھی برانچ میں ہی ہوئی تھی, وہ پرنسپل کے ساتھ سکول کے جوائنٹ اکاؤنٹ کے کچھ سائن کرنے آئی تھی
شافع کو لگا جیسے اس کی برانچ پرستان بن گئی ہو… وہ مسکرانے لگا تھا… بس یونہی
اسراء سے سائن کرواتے ہوئے بھی اس کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی… اس شام شافع نے اس کی فائل میں سے اس کا فون نمبر نوٹ کر لیا
اگلے دن شافع نے اسے کال کی تھی
“مس اسراء راۓ… ؟؟؟”
“جی… ؟؟؟”
“مس اسراء آپ کی فائل میں آئی ڈی کی ایک اور کاپی چاہئے اور ایک دو جگہ دستخط بھی کروانے ہیں… کب آ سکتی ہیں آپ ؟؟؟” اس نے پوچھا
“میں کل آ جاؤں گی” وہ بولی اور اگلے دن وہ اس کے سامنے تھی
میرون رنگ کا سوٹ زیب تن کئے, اسی کے ساتھ کا دوپٹہ لیا ہوا تھا… صاف شفاف چہرہ اور وہی مخروطی سی خوبصورت انگلیاں…
“یہاں سائن کریں… “اس نے ایک کاغذ اس کے سامنے رکھا… پھر دوسرا…. پھر تیسرا
ایویں بس اس سے سائن کرواتا چلا گیا
“مجھے ان فارمز کی ایک ایک کاپی مل سکتی ہے ؟؟؟” اسراء نے پوچھا
“کس سلسلے میں؟؟؟” شافع نے پوچھا
“مجھے ذرا برانچ مینیجر سے کنسلٹ کرنے ہیں… ” وہ بولی تھی… شافع کچھ دیر کے لئے بول نہ سکا, پھر دھیرے سے اس کے سائن پر بلیک مارکر پھیرتے ہوئے سارے فارمز ڈسٹ بن میں ڈال دئیے اور آئی ڈی کی کاپی اسے واپس کر دی
کافی دیر تک اسراء بول نہ سکی
“مجھے کیوں بلایا تھا پھر ؟؟؟” اس نے پوچھا, شافع نے بھر پور نظر سے اسے دیکھا
“کیا ہم دوبارہ مل سکتے ہیں مس اسراء… ؟؟؟” اس نے دھیرے سے پوچھا تھا
“نہیں… ” وہ نفی میں سر ہلاتی ہوئی کھڑی ہو گئی
“کال کر سکتا ہوں ؟؟؟” شافع نے پھر پوچھا
“نہیں… “وہ باہر نکل گئی تھی
………………………..
تیسری ملاقات سکول میں ہوئی, وہ کسی آڈٹ کے سلسلے میں ان کی چیک بکس ویری فائی کرنے آیا تھا, آفس میں صرف وہ اور پرنسپل ہی تھے
“اپنی وائس پرنسپل کو بھی بلائیں… ” شافع نے سرسری سے انداز سے کہا, پرنسپل نے اسے بھی بلوا لیا, شافع نے اسے یوں دیکھا جیسے صدیوں کا پیاسا ہو
“بیٹھیں مس اسراء… ” پرنسپل کے کہنے پر وہ اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی, کچھ دیر بعد وہ اٹھ کھڑا ہوا
“مس اسراء پلیز ذر بات سنئیے گا” وہ آفس سے باہر نکلتے ہوئے بولا تو وہ بادل نخواستہ سی اس کے ساتھ باہر نکل آئی
“مجھے آپ سے معذرت کرنا تھی…. ” وہ اس کے برابر میں چلتے ہوئے بولا, اسراء خاموش رہی
“میں نے اس دن آپ کو خوامخواہ ہی زحمت دی… میں بہت شرمندہ ہوں اس کے لئے ” شافع نے کہا
“اٹس اوکے… “وہ بولی
“پوچھیں گی نہیں کہ میں نے ایسا کیوں کیا ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں.. ” یہ شاید اس کا تکیہ کلام تھا, شافع اسے دیکھتا رہ گیا
“Now you are flirting with your eyes… “
اسراء نے دھیرے سے کہا تھا, شافع سر ہلاتے ہوئے مسکرا دیا
“اور یہ آپ کو بالکل بھی سوٹ نہیں کرتا… ” وہ بولی تھی, سکول کا مین گیٹ آ گیا تھا, شافع کی موٹر سائیکل باہر کھڑی تھی
“کیا میں آپ کو کال کر سکتا ہوں… ؟؟؟” اس نے موٹر سائیکل پر بیٹھتے ہوۓ پوچھا تھا… حالانکہ جواب اسے معلوم تھا
“نہیں… ” اسراء کے کہتے ہی وہ کھل کے مسکرا دیا, وہ گیٹ سے پلٹ گئی اور پلٹتے ہی مسکرا دی تھی
……………………
وہ بھی ایک سرمئی سی شام تھی… شافع ڈیوٹی سے واپس گھر جا رہا تھا, اچانک ہی اس کے بالکل پاس سے کوئی موٹر سائیکل پر گزرا اور شافع کو لگا جیسے کسی نے اسے آواز دی ہو
“شافع… ” اس نے سچ میں شافع کو آواز دی تھی, شافع نے موٹر سائیکل موڑا
“ارمغان… ” اس کے چہرے پر حیرانی کے تاثرات پھیل گئے
“What a nice surprise yaar… “
وہ اپنی بائیک سے اتر آیا, شافع بھی مسکراتے ہوئے اس سے گلے ملا تھا
“یہاں کیسے ؟؟؟” ارمغان نے پوچھا, ان دونوں نے بی بی اے آنرز ایک ساتھ ہی کیا تھا, وہ دونوں بہت اچھے دوست نا سہی لیکن جان پہچان ضرور تھی
“یہاں او ایم کی جاب ملی ہے… ” شافع نے بتایا
“مبارک ہو… تجھے تو ویسے بھی جاب مل جانی تھی شافع… You were brilliant ” ارمغان نے کہا
“تو کیا کر رہا ہے آجکل ؟؟” شافع نے پوچھا
“یہاں ورکشاپ ہے ہماری… اسی کو دیکھتا ہوں” ارمغان نے کہا
“شافع یار کسی دن کھانے پر آنا یار… بہت اچھا لگا تجھ سے مل کر… ” ارمغان نے اسے دعوت دی تھی
“تھینکس یار… ” وہ دوبارہ موٹر سائیکل پر بیٹھ گیا
“کس دن آۓ گا پھر ؟؟؟” ارمغان اصرار کیے جا رہا تھا
“پرسوں لنچ میرے ساتھ کرنا… ٹھیک ہے ؟؟؟” ارمغان نے کہا
“اوکے یار… ” شافع نے ہنستے ہوئے کہا تھا
……………………….
وہ اپنا بیگ اٹھا کر گیٹ کی جانب بڑھ رہی تھی جب ارمغان اس کے پیچھے بھاگتا ہوا آیا
“اسراء… ” ارمغان نے اسے آواز دی تھی, وہ رک گئی
“بات سنننا پلیز… دو منٹ” وہ بولا
“جلدی بولو مجھے دیر ہو رہی ہے… ابو باہر کھڑے ہیں” وہ بولی
“میں نے ایک دوست کو لنچ پر انوائیٹ کیا ہے… تم پلیز کھانا بنا دو گی ؟؟” وہ ریکوئسٹ کر رہا تھا
“مجھے تم نے کھانا پکانے والی سمجھ رکھا ہے کیا… ؟؟؟ ” اسراء نے مصنوعی غصے سے کہا
“بنا دو پلیز… اچھی بہن نہیں ہو… ” ارمغان نے کہا
“کب.. ؟؟؟”
“کل دوپہر میں… ” وہ بولا
“اچھا… ٹھیک ہے” اسے دیر ہو رہی تھی سو وہ باہر نکل گئی
شام کو وہ پھر اس کے سامنے تھا
“مجھے ایک لسٹ بنا دو سارے سامان کی… کل صبح ہی لا دوں گا” وہ بولا
“کتنے بجے آنا ہے اس نے ؟؟؟” اسراء نے پوچھا
“تقریباً تین, ساڑھے تین بجے” ارمغان نے کہا
“سکول سے آ کر بنا دوں گی… “
“تھینک یو اسراء… ” وہ ممنونیت بھرے لحجے میں بولا تو اسراء کو ہنسی آ گئی
اگلے دن سکول سے واپس آ کر اس نے شاور لیا, کپڑے تبدیل کئے اور گھر کی پشت پر بنے ارمغان کے چھوٹے سے پورشن میں آ گئی, آمنہ اور اسماء کی حد درجہ ضد پر عمر فاروق نے چند سال پہلے ہی اسے الگ پورشن بنوا دیا تھا, ارمغان سارا سامان کچن میں رکھ کر چلا گیا تھا, وہ بیچاری کمر کس کر شروع ہو گئی
“کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے ؟؟؟” اسے ارمغان کی کال بھی آئی تھی
“یہ جو تم اسقدر سامان اٹھا لاۓ ہو یہ ابھی کم ہے کیا ؟؟؟” وہ غصے سے بولی تھی
“یار وہ پہلی بار آ رہا ہے میرے گھر… ” ارمغان نے کہا
“تو وہ اتنا کچھ اکیلا کیسے کھا لے گا ؟؟؟” اسراء نے کہا
“ہم دونوں بھی تو ہوں گے نا ساتھ… ” ارمغان کے کہتے ہی وہ بدک گئی
“معاف کر دو مجھے, میں نے اسماء سے اپنی گردن نہیں کٹوانی سمجھے… اذن کو بلا لینا” وہ بولی
“اذن کیسے آۓ گا بھلا ہاسٹل سے ؟؟؟” اذن ایم بی اے کر رہا تھا
“تو بس پھر خود ہی کمپنی دے لینا اسے… ” اسراء نے کال کاٹ دی
تین بجے تک اس نے سارا کھانا ریڈی کر دیا تھا, ارمغان بھی آ گیا
“برتن تو ڈھنگ کے ہیں نہیں تمہارے پاس ؟؟؟” وہ ٹیبل سیٹ کر رہی تھی
“تم ایک ڈنر سیٹ خرید دو مجھے… کب سے تو کہہ رہا ہوں” وہ اس کے ساتھ برتن رکھوانے لگا
“اب ڈال خود لینا سب کچھ… میں جا رہی ہوں” اسراء نے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا تھا… ساتھ ہی بیل بج اٹھی
“مجھے لگتا ہے وہ آ گیا… ” ارمغان باہر کو بھاگا, اسراء نے سرعت سے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی لیکن ارمغان اسے پچھلے دروازے سے ہی اندر لے آیا تھا
شافع اسے دیکھ کر تھم سا گیا…اور وہ اسے دیکھ کر رک سی گئی
“شافع… یہ میری خالہ زاد بہن ہے… اسراء” ارمغان نے اسراء کی گھوریوں کے باوجود اس کا تعارف کروایا
“اور اسراء یہ شافع ہے… اس کی یہاں بینک میں جاب ہوئی ہے” ارمغان نے کہا
“میں ان سے مل چکی ہوں” وہ بولی
“کہاں ؟؟؟؟” ارمغان نے حیرانی سے پوچھا
“بینک میں… ” وہ کہہ کر آگے بڑھ گئی
“مس اسراء… ” شافع نے بنا کوئی پرواہ کیے اسے آواز دے لی
“جی… ” وہ یکدم مڑی
“آپ ہمارے ساتھ کھانا کھا لیتیں… ؟؟؟” شافع نے دھیرے سے کہا
اب خدا جانے یہ تمنا تھی… التجا تھی… یا محض ایک خواہش تھی
“ہاں اسراء… میں تو پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ…” اسراء نے رکھ کے اسے گھورا, وہ چپ کر گیا
“مجھے کپڑے چینج کرنے ہیں … “اس نے بہانہ گھڑا
“کوئی بات نہیں.. آپ ایزی ہو کر آ جائیں, ہم ویٹ کر لیتے ہیں” شافع نے مسکراتے ہوئے کہا تھا, اسراء سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھ گئی
شافع اور ارمغان کافی دیر ایک دوسرے سے گپ شپ لگاتے رہے, اسراء واپس ہی نہ آئی, ناچار ارمغان نے اسے کال کی تھی
“اسراء… وہ بیچارہ بھوکا بیٹھا ویٹ کرے جا رہا ہے” وہ ذرا خفگی سے بولا تھا
“ارمغان.. میں کیا بات کروں گی اس سے ” اسراء نے کہا
“اسراء مہمان نوازی بھی کوئی چیز ہوتی ہے… پانچ منٹ میں تم یہاں موجود ہو بس ” ارمغان نے اسے دھیرے سے ڈانٹا تھا
ناچار اس نے کاسنی اور وائیٹ کے امتزاج کا ایک نفیس سا سوٹ پہنا… ساتھ میچنگ شال کندھوں کے گرد لپیٹ لی, لمبے بالوں کو ڈھیلی سی پونی میں مقید کیا اور لبوں پر مدھم سی لپ اسٹک لگا کر واپس آ گئی
“چل آ شافع… کھانا کھائیں” ارمغان نے اسے دیکھ کر سکون کا سانس بھرا تھا
اسراء نے کھانا برتنوں میں نکالا… اور خود ارمغان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی
“شافع یہ سارا کھانا اسراء نے ہی بنایا ہے… ” ارمغان اس کی تعریفیں ہی کرے جا رہا تھا, جو چیز بھی شافع کے آگے رکھتا, بیچارہ اسی پر فدا ہو جاتا
“ویسے معدے کے راستے بھی دل میں اترنے والا مقولہ درست ہی ہے… ” شافع نے مسکراتے ہوئے کہا تو اسراء کے گال تمتما اٹھے
“رافع کیا کرتا ہے آجکل… ؟؟”ارمغان نے پوچھا
“ماسٹرز کر رہا ہے… میتھ میں” شافع نے کہا, کھانے کے دوران ایک لمحے کے لیے بھی شافع کے لبوں سے مسکراہٹ جدا نہیں ہوئی
“آپ کا بہت شکریہ مس اسراء… کھانے اور مہمان نوازی دونوں کے لئے ” وہ واپسی کے لئے باہر نکل آیا, اسراء بس دھیمے سے مسکرا دی تھی, شافع ارمغان سے گلےمل کر باہر نکل گیا
“تھینک یو اسراء… فار یور ہیلپ ” ارمغان نے کہا
“ہاں اب برتن خود دھو لینا… ” اسراء نے ہنستے ہوئے کہا
“میں دھو لوں گا… ” ارمغان نے کہا
“تمہارا یہ جو دوست ہے نا… سیدھی لائن مارتا ہے یہ مجھ پر” اسراء نے کہہ ہی دیا
“شافع… ؟؟” ارمغان کو یقین نہ ہوا
“نہیں یار… شافع تو بہت ڈیسینٹ اور سوبر سا لڑکا ہے, ان فیکٹ یہ دونوں بھائی ہی بہت شریف ہیں, گولڈ میڈلسٹ ہے یہ ہمارے بیج کا… چار سالوں میں ایک بھی گرل فرینڈ نہیں بنائی بیچارے نے” ارمغان کہتا چلا گیا تھا
…………………………
کچھ دن بعد شافع نے اسے کال کی تھی, صد شکر کے اس نے اٹینڈ کر لی
“کیسی ہیں اسراء… ؟؟؟” مس کا صیغہ ختم ہو چکا تھا
“میں ٹھیک ہوں” وہ اسے پہچان گئی تھی
“اسراء ایک ریکوئسٹ تھی آپ سے ؟؟؟” شافع نے کہا
“جی… “
“میں آپ سے ایک ملاقات کرنا چاہ رہا تھا… ” وہ بولا
“کس سلسلے میں ؟؟؟”
“ایک ضروری بات کرنی ہے آپ سے… ” اس نے کہا
“شافع مجھے یہ سب اچھا نہیں لگتا پلیز… ” اسراء نے کہہ ہی دیا
“مجھے بھی اچھا نہیں لگتا… اسی لئے بس ایک ملاقات کا کہہ رہا ہوں.. اس کے بعد تنگ نہیں کروں گا آپ کو” شافع نے کہا, وہ بادل نخواستہ سی مان گئی, وہ دونوں ایک قریبی پارک میں ملے تھے… اپریل شروع ہو چکا تھا
“اسراء آپ سوچیں گی کہ شاید میں اپنے منہ میاں مٹھو بن رہا ہوں لیکن بیشک آپ ارمغان سے پوچھ لیں… میں نے آج تک لڑکیوں سے زیادہ یاری دوستیاں نہیں لگائیں, میں عورت ذات کی بہت عزت کرتا ہوں, میرے ابو کا اینٹوں کا بزنس ہے اور میری امی ہاؤس وائف ہیں… ہم بس دو ہی بھائی ہیں… ” وہ کہتا چلا گیا, اسراء بینچ پر بیٹھی اسے سن رہی تھی
“اسراء… مجھے آپ… بہت اچھی لگی ہیں… ان فیکٹ بہت ہی زیادہ اچھی لگی ہیں… ” اس کے کہتے ہی اسراء نے سر جھکا لیا… گال گلابی گلابی سے ہو گئے
“میں کوئی دعویٰ تو نہیں کر رہا لیکن وعدہ ضرور ہے کہ… میں ساری عمر آپ کو بہت خوش رکھوں گا” وہ کہتا چلا گیا
“شافع دراصل…. ” اس نے اسراء کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی
“I love you isra… “
اور وہ دم بخود اسے دیکھتی رہ گئی
“میں نے بس آپ سے اجازت لینی تھی… کہ اپنی امی کو بھیج دوں آپ کے گھر ؟؟؟” اس نے پوچھا
“شافع… ہم راجپوت ہیں… اور ہمارے ہاں برادری سے باہر رشتہ نہیں جوڑتے…. ” اسراء نے کہا, شافع کے چہرے کی چمک ماند پڑی تھی
“کوشش تو کرنے دیں.. ” اس نے کہا
“آپ کی مرضی… ” وہ کہہ کر واپس آ گئی تھی
اگلے ہی دن وہ ارمغان سے ملا
“ارمغان ایک بات کہوں…برا تو نہیں مانے گا؟؟؟” شافع نے پوچھا
“نہیں یار… پوچھ ” وہ بولا
“دراصل… میں اسراء کے لئے اپنا پروپوزل بھجوانا چاہ رہا تھا” اس کے کہتے ہی ارمغان ششدر رہ گیا
“کیا ہوا ؟؟؟” شافع اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے بولا
“تیری کاسٹ کیا ہے… ؟؟؟” ارمغان نے پوچھا
“انصاری… “
“توبس پھر قصہ ختم…. اسراء راۓ کھری راجپوت ہے… وہ تو شاید مرنے کے بعد بھی تجھے نہ ملے “ارمغان نے کہا
“کوشش کرنے میں کیا حرج ہے ؟؟؟” شافع نے کہا
“کوئی حرج نہیں ہے… کرتا ہے… تو قیامت تک بس کوشش ہی کرتا رہے گا میرے بھائی ” ارمغان نے کہا
“دیکھ میری بات سن… اسراء کی سب سے چھوٹی بہن کا نام انیتا ہے… وہ ابھی پڑھ رہی ہے, میں بہت پسند کرتا ہوں اسے…بلکہ بہت محبت بھی کرتا ہوں اس سے… اس کی امی میری سگی خالہ ہیں شافع… سگی خالہ… لیکن جیسے ہی انہیں میری خواہش کا پتہ چلا… خدا کی قسم انہوں نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے گھر سے نکال دیا… ” ارمغان کہتا چلا گیا
“کیوں ؟؟؟” شافع دنگ رہ گیا
“کیونکہ میری امی نے برادری سے باہر شادی کر لی تھی… خاندان والوں کے خلاف ہو کر… میرے ابو ملک فیملی سے تھے…. حالانکہ میں ان کی سگی بہن کا بیٹا ہوں لیکن پھر بھی وہ انیتا کو مجھ سے منسوب کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں, پورا ہفتہ انہوں نے مجھے گھر نہیں آنے دیا… ناچار عمر انکل نے مجھے گھر کے پیچھے پورشن بنوا دیا…خالہ نے صاف کہہ دیا کہ وہ انیتا کو کسی فقیر راجپوت سے تو بیاہ دیں گی لیکن میرے حوالے نہیں کریں گی” اس نے کہا
“تو پہلے تیرے خالو سے بات کروں ؟؟؟” شافع بس اتنا ہی سمجھ سکا
“ان کا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے… وہ تو اہل دل میں سے ایک ہیں, تو جب ان کے سامنے سر جھکا کر کہے گا کہ تو محبت کر بیٹھا ہے تو وہ اسی لمحے تیرے سر پر ہاتھ رکھ دیں گے…. اصل مسئلہ تو خالہ کا ہے… اور اسراء کی بڑی بہن اسماء کا… اور عبید ماموں کا” وہ بولا
“تیرے خالو تھوڑی بہت سپورٹ نہیں کریں گے… ؟؟؟” شافع نے پوچھا
“دیکھ شافع… عبید ماموں کے تین بیٹے ہیں… تینوں ایک سے بڑھ کر ایک… کسی بھی قسم کی برائی سے مبرہ…اسماء اور اسراء کے رشتے کی بات تو کافی عرصے سے چل رہی ہے اور شاید کچھ ہی دنوں میں وہ باقاعدہ رشتے کے لئے آ بھی جائیں…” ارمغان نے کہا
“یار تو تو ڈراۓ جا رہا ہے” شافع نے کہا
“تو تو ڈرتا کیوں نہیں… ؟؟؟” رمغان دھیرے سے ہنسا تھا
“میری بات مان شافع… اور ابھی قدم واپس موڑ لے” وہ بولا…اور یہ ہی تو نا ممکن تھا
وہ تو اس کے حواسوں پر سوار ہو چکی تھی… اب تو آنکھوں میں خواب بھی اسی کے اترنے لگے تھے
“بس ایک فیور دے دے.. ؟؟؟” شافع نے کہا
“بول… “
“اپنے خالو سے ایک ملاقات کروا دے…. ” شافع نے کہا تھا
…………………………
جاری ہے
