121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

پرسوں اس کی مہندی تھی… وہ آفس سے چھٹی سائن کروا کر نکلی تھی جب رافع سے سامنا ہو گیا, اس کی سرخ بوٹی جیسی آنکھیں اور اترا ہوا چہرہ دیکھنا اس لمحے ناشیہ کے لئے دنیا کا مشکل ترین کام تھا, وہ سر جھکاۓ اس کے پاس سے گزر گئی
“لنچ کرو گی ؟؟؟” رافع نے یوں کہا جیسے کوئی بھیک مانگ رہا ہو
“رافع… مجھے ذرا جلدی گھر… جانا ہے” وہ بولی
“پلیز… ناشیہ… ” فان کلر کی پینٹ کے ساتھ اسی کلر کی شرٹ پہنے, آستینوں کو کہنیوں تک موڑے, وہ اس لمحے وفا کی تفسیر بنا کھڑا تھا
“میں کسی سے گاڑی مانگ لیتا ہوں… آخری بار” وہ دو قدم آگے کو آیا
“چلو… ” ناشیہ نے دھیرے سے کہا تھا, وہ اسی وقت اسے لیکر ریسٹورنٹ آ گیا
“شادی کا جوڑا کس رنگ کا لیا ؟؟؟” رافع نے پوچھا
“شادی کا جوڑا بھلا کس رنگ کا ہوتا ہے ؟؟؟” ناشیہ نے اس کی طرف دیکھا
“جانتی ہو… مجھے سرخ رنگ بالکل بھی اچھا نہیں لگتا, اگر تم میری ہو جاتیں تو میں تمہیں شادی کا جوڑا خود لیکر دیتا… ” رافع پھیکا سا مسکرایا
“اچھا… کس رنگ کا ؟؟؟” ناشیہ نے پوچھا
“سیاہ رنگ کا… سلور اینڈ بلیک” وہ بولا, ناشیہ ایک دم ہنس پڑی
“دنیا مین آج تک کسی دلہن نے سیاہ رنگ کا جوڑا نہیں پہنا ہو گا اپنی شادی پر… ” وہ بولی
“لیکن مجھے سیاہ رنگ بہت اچھا لگتا ہے… جب میں نے پہلی بار تمہیں دیکھا تھا تو تم نے سیاہ ڈریس ہی پہنا ہوا تھا… گھنگھور گھٹائیں اور ان میں چھپتا چمکیلا چاند… ” وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا, ناشیہ نے نظریں جھکا لیں, لنچ آ گیا تھا
“کھاؤ… ” رافع نے کہا
“تم نہیں کھاؤ گے… ؟؟” ناشیہ نے پوچھا
“میرے لئے اس لمحے تمہیں حفظ کرنا زیادہ ضروری ہے… ناشیہ ملک” وہ اس لمحے بس ایک ہارا ہوا ناکام سا عاشق تھا, لنچ کے بعد وہ اسے گھر تک چھوڑنے آیا
“رافع… ” ناشیہ نے گاڑی سے اترتے ہوۓ اسے پکارا
“گھر جا کر تھوڑا سا سو لینا… ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی, رافع اسے اندر جاتے دیکھتا رہ گیا تھا
مہندی والے دن وہ دونوں ایک بار پھر تیمور ملک کی عدالت میں پیش ہوئے تھے… اس بار وہ خالد کو بھی ساتھ لیکر گئی تھی
کہنا ہی آسان ہوتا ہے کہ… بھول جاؤ
لگ پتہ جاتا ہے جب بھولنا پڑے… تکلیف صرف رافع کو تو نہیں تھی… وہ ہر ہر قدم پر اس کے ساتھ تھی, اس دن بھی وہ ان کے سامنے بیٹھی روتی رہی, منت کرتی رہی, کہتی رہی کہ بھلے ہی رافع سے نہ کریں… لیکن ابھی صفوان سے بھی نہ کریں
تیمور ملک کا سر نفی میں ہل رہا تھا
“طہٰ… اسے یہاں سے لے جاؤ” شازیہ بھڑک ہی پڑی
“تایا ابو… کیا بیٹی یونہی روتی ہوئی رخصت ہو گی ؟؟؟” خالد نے دھیرے سے کہا
“تم تو بولو ہی مت… ” شازیہ نے کہا
“کیوں ؟؟؟ “
“کیونکہ ہر بار انہیں چور راستہ تم ہی فراہم کرتے ہو… تم نے غاشیہ کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو آج وہ یہاں ہوتی ؟؟؟” شازیہ چیخ پڑی
“یہاں نہ ہوتی… اس بیچاری کی میت سال پہلے ہی اٹھ چکی ہوتی… اس نے ناشیہ کی طرح یہ نہیں کہنا تھا کہ بھلے ہی حدید سے بھی نہ کریں… اس نے پھانسی چڑھ جانا تھا… ” خالد نے کہا
“تو چڑھ جاتی…. گھر سے بھاگ جانے سے بہتر تھا” شازیہ چنگھاڑی
“شازیہ بس کرو… ” تیمور ملک نے اسے خاموش کروا دیا
“خالد… تو کس کے ساتھ ہے ؟؟؟” تیمور ملک نے پوچھا
“میں ہمیشہ سے اپنی بیٹیوں کے ساتھ ہوں… بھلے ہی خدا نے مجھے اولاد سے نہیں نوازا لیکن… میں آج بھی کہتا ہوں کہ میری دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے تایا ابو… اور میں انہی کے ساتھ ہوں” خالد نے کہہ ہی دیا
“اور میں کون ہوں خالد ؟؟؟” تیمور ملک نے کہا
“تایا جان خدا کی قسم… میں آج تک نہیں جان پایا کہ آپ کون ہیں.. ؟؟؟؟ آپ صرف اس ایک بیٹی کے باپ ہیں کیونکہ یہ آپ کے ساتھ دن کو دن اور رات کو رات کہتی ہے, کیونکہ اس نے آپ کی ہر بات پر آمین کہا ہے…وہ بیٹی جو مسلسل دن رات آپ کے سامنے روتی رہی کہ مجھے حدید سے شادی کرنی یے… اور یہ بیٹی جو کہنا چاہتی ہے لیکن کہہ نہیں پا رہی کہ مجھے رافع سے شادی کرنی ہے… یہ کس کی بیٹیاں ہیں تایا جان… ؟؟؟” خالد کہتا چلا گیا
“خالد… بس کرو” شازیہ پھر چیخی تھی خالد چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گیا
“ابو… ” طہٰ نے دھیرے سے انہیں پکارا
“غاشیہ کو بلا لیں….. ؟؟؟” وہ بولا
“جس دن اس گھر سے میرا جنازہ اٹھ گیا…اس دن بلا لینا اسے”تیمور ملک نے سخت لحجے میں کہا تھا
……………………….
وہ رات بھی آنکھوں میں ہی کٹی, بستر پر چت لیٹے اسے بس وہی یاد آ رہی تھی… شدت سے
بڑی خوبصورت سی ایک شام تھی جب وہ بے دھیانی میں سیڑھیاں اترتے ہوئے اس سے ٹکرا گیا تھا, ناشیہ نے ریلنگ کو پکڑ کر بمشکل خود کو گرنے سے روکا تھا
“ایم سوری… ” یہ ہی تو کہنا تھا
“اٹس اوکے… “اسے بھی یہ ہی کہنا تھا
مجھے سب یاد ہے کچھ سال پہلے کا یہ قصہ ہے
کہ وہ لمحہ تو ویرانے کا اک آباد حصہ ہے
وہ سیاہ رنگ کی گھیردار فراک کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ پہنے ہوئے تھی, ہمیشہ کی طرح کندھوں پر گرا ہوا ریشمی دوپٹہ اور ڈھیلی سی پونی کے اطراف سے نکلتی ہوئی سیاہ آوارہ لٹیں… میک اپ سے مبرہ چہرہ اور لبوں کی ہلکی ہلکی سی گلابیاں
وہ بھلا دل کیسے نہ ہارتا… ؟؟؟
اور جانتے ہو… دل ہارنا پڑتا ہے ؟؟؟ جوانی کے پچیسویں سال جب آپ اپنی منزل پر پہنچ چکے ہوں اور تب کوئی خوبصورت لڑکی آپ سے ٹکرا جاۓ تو… دل ہارنا پڑتا ہے, خاص کر جب پتہ چلے کہ وہ حسینہ تو اپنی عادات میں بھی بے مثال ہے, خوب سیرتی میں بھی کمال ہے, نرم گفتاری میں بھی کامل ہے… تو دل ہارنا پڑتا ہے
کسی نےمیری تنہائیوں کا سارا کرب بانٹا تھا
کسی نے رات کی چنری میں روشن چاند ٹانکا تھا
لیکن افسوس کے دل کی دنیا میں امیری, غریبی کا کوئی چکر نہیں ہوتا, ذات برادری کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی, فرقہ بازی کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہوتا, حسب نسب کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی… کاش کے ہوتی ؟؟؟ کاش کے محبت یہ تمام حد بندیاں دیکھ کر ہوا کرتی ؟؟؟ کاش کے محبت ذات برادری پوچھ کر ہوا کرتی ؟؟؟ کاش کے محبت سٹیٹس کا فرق دیکھ کر پروان چڑھا کرتی ؟؟؟
کسی نے رات کی تنہائی میں سرگوشیاں کی تھیں
کسی کی نرم گفتاری نے مجھ کو لوریاں دی تھیں
“ناشیہ… آئی لو یو…. ” بڑی ہی کوئی قاتل برسات تھی جب رافع نے اظہار کیا تھا, ناشیہ بیچاری گیٹ سے کلاس تک آتے آتے ہی ساری بھیگ گئی تھی
“تمہیں کوئی اور موقع نہیں ملا یہ کہنے کے لئے ؟؟؟” اس نے گیلے دوپٹے سے پانی نچوڑا تھا
“یہ موقع کیا برا ہے ؟؟؟” رافع بس مسکراۓ جا رہا تھا, اس کے بعد وہ بیچارہ پورے دو سال مسکرایا… ستم یہ کہ اس دو سال کا خمیازہ اب ساری عمر بھگتنا تھا
کسی نے جگنوؤں کا سیل بخشا تھا ہواؤں کو
دھڑکتا سا نیا عنوان دیا تھا میرے خوابوں کو
صبح کے قریب کہیں اس کی آنکھ لگی, اگلا پورا دن یوں گزرا جیسے اس کا کوئی مر گیا ہو… ہر جگہ, ہر کلاس, ہر کونا… اسے ناشیہ کا ہی دھوکا دے رہا تھا, سبھی کولیگز اس کی ذہنی حالت سے آگاہ تھے تبھی تو بس خاموش تھے… محبت میں ہارے ہوئے کو آخر کوئی تسلی بھی دے تو کیسے ؟؟؟ الفاظ ہیں بھلا… ؟؟؟ جو مداوہ کر سکیں
………………………
رات ایک بجے وہ مہندی سے فارغ ہوئی تھی, فرزانہ سمیت اس کا پورا سسرال اسے مہندی لگانے پہنچا ہوا تھا, بڑی مشکلوں سے وہ اپنے کمرے تک پہنچی, بیٹھے بیٹھے کمر اکڑ گئی تھی, وہ روائتی مہندی کا پیلا اور سبز جوڑا پہنے ہوئے تھی, ہلکا ہلکا میک اپ اور موتیے کی کلیاں…کلاییوں میں گجرے اور ہاتھوں پر مہندی… اس سے پہلے کہ وہ چینج کرتی, طہٰ نے دروازے میں سے اندر جھانکا
“دو منٹ اوپر آنا ذرا… ” وہ جلدی میں تھا
“اب کیا رہ گیا… ؟؟؟” وہ تھک گئی تھی
“بس دو منٹ… ” وہ کہہ کر واپس چلا گیا, ناشیہ نے کلس کر اپنا شرارہ اوپر کو اٹھایا اور دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر آ گئی, پوری چھت لاییٹنگ کی وجہ سے روشن ہو رہی تھی
“طہٰ… ” اوپر کوئی بھی نہیں تھا
دکھ تو یہ ہے کہ تم سا کوئی نہیں
یعںی خسارہ در خسارہ ہے
وہ دم بخود رہ گئ, دھیرے سے مڑی, وہ عین اس کے پیچھے کھڑا تھا
“تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا… ” وہ مدھم سے لحجے میں بولی
“خدا کی قسم میں یہاں نہیں آنا چاہ رہا تھا لیکن… ” رافع دو قدم آگے کو آیا
“ہجر ابھی نیا نیا ہے نا… اسے عادت نہیں ہے ابھی” وہ اپنے دل پر انگلی رکھتے ہوئے بولا تھا, ناشیہ بول نہ سکی, رافع دیوانہ وار اسے تک رہا تھا
“رافع… بس کرو” ناشیہ کی آنکھیں بھر آئیں
“ناشیہ… ” وہ مزید آگے کو آیا
“یار کیا تھا اگر تم میری ہو جاتیں… ” وہ بے بسی سے بولا
ایک تم بس ہمارے نہ ہوۓ
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
ناشیہ نے بمشکل اپنے آنسو روکے ہوئے تھے
“رافع جاؤ… ” وہ کہہ کر پلٹ گئی تھی
اگلے دن اس کی بارات تھی… نیوی بلو شیروانی میں سر پر کلاہ رکھے صفوان ملک دیکھنے میں تو ٹھیک ٹھاک لگ رہا تھا… طہٰ اسے پارلر چھوڑ آیا, ساتھ ایک رشتے دار کزن تھی
وہ آخری بار اسے وہیں ملنے آیا تھا… سیاہ رنگ کے کور میں لپٹا ہوا وہ چھوٹا سا ڈبہ ہاتھوں میں لیے کھڑا تھا
“تمہارے لئے… ” بس اتنا ہی کہہ سکا تھا, سرخ عروسی جوڑے میں سر سے لیکر پاؤں تک تیار ناشیہ ملک وہ ڈبہ ہاتھوں میں لیے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
…………………………..
وہ چار, پانچ سیڑھیاں ایک ساتھ گزار گئی تھی, ڈھائی ماہ کی پریگنینسی لمحوں میں ختم ہو گئی, اس کے ڈی این سی فارم پر سائن کرتے ہوئے حدید آنسوؤں سے رو رہا تھا, ہسپتال میں اسراء اور صمد اس کے ساتھ تھے, اسماء کی لاکھ گھوریوں اور دھمکیوں کے باوجود اسراء ہسپتال آئی تھی, غاشیہ کو چار گھنٹوں بعد ہوش آیا
جو پہلا نام اس کے لبوں سے نکلا وہ حدید ہی تھا
“آپ کی وائف کو ہوش آ گیا ہے مسٹر حدید… ” نرس کے کہتے ہی وہ اندر کو دوڑا تھا
“غاشی… میری جان” وہ دیوانہ وار اس کے دونوں ہاتھوں کو چومتا چلا گیا, غاشیہ خاموش آنسوؤں سے رو رہی تھی
………………….
“میں آخری بار پوچھ رہا ہوں اسماء… کیا ہوا تھا ؟؟؟” صمد شاید زندگی میں پہلی بار اس پر یوں چیخا تھا, راۓ عبید ایک طرف خاموش بیٹھے تھے, اسراء اور زرقا دائیں طرف کھڑی تھیں
“اسماء… ” صمد زور سے دہاٰڑا
“اس نے مجھے جان بوجھ کر انیتا کا طعنہ دیا…”اسماء نے جھوٹ بولا
“طعنہ زبان سے دیا تھا نا… تم بدلہ بھی زبان سے لے لیتیں ” وہ بولا
“مجھے غصہ آ گیا تھا… ” اسماء نے کہا
“اور تمہارے اس غصے کی بھینٹ اس کا بچہ چڑھ گیا ” وہ بولا
“کیا کیا تم نے اس کے ساتھ… ؟؟” صمد کا غصہ کسی طور ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا, وہ اپنی آنکھوں سے اپنے چھوٹے بھائی کو ہچکیوں سے روتا دیکھ کر آیا تھا
“میں نے کچھ نہیں کیا…وہ خود ہی پھسل گئی” اسماء نے اسراء سے نظریں چراتے ہوئے کہا تھا
“اسراء… ؟؟؟” راۓ عبید نے اسراء کو آواز دی تھی, وہ کانپ سی گئی
“کیا ہوا تھا اوپر ؟؟؟؟” وہ پوچھ رہے تھے
“ماموں جان وہ… میں تو نیچے تھی, مجھے نہیں پتہ کہ غاشیہ نے اسے کیا کہا… ؟؟؟ وہ اوپر کپڑے دھو رہی تھی… فرش پر پھسلن بہت زیادہ تھی تو شاید وہ… پھسل گئی ہو گی… میں نے اسے بس سیڑھیوں سے گرتے دیکھا تھا… ” اسراء سر جھکاۓ کہتی چلی گئی
“اسراء… اسماء نے دھکا دیا تھا اسے ؟؟؟” صمد اس کے سامنے آیا
“پتہ نہیں صمد بھائی… ” وہ انگلیاں چٹخاتے ہوۓ بولی تھی
“اسماء… میری ایک بات کان کھول کر سن لو, غاشیہ کو ہوش آ گیا ہے اور اگر اس کے منہ سے کچھ بھی غلط نکلا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا…. انیتا سے شادی سے انکار حدید نے کیا تھا, جو پھانسی لگانی ہے اسے لگاؤ, غاشیہ کی جان کی دشمن کیوں بن گئی ہو” صمد کہتا چلا گیا, اسماء چپ چاپ کھڑی تھی
“جو ہونا تھا سو ہو گیا… حدید کسی صورت انیتا کا نہیں ہو سکتا… خدا کا واسطہ ہے اب بس کر دو” صمد کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے ایک جڑ ہی دیتا
مارے خفت کے اسماء کا برا حال تھا… آج پہلی بار وہ یوں پورے گھر کے سامنے شرمندہ ہوئی تھی
……………………….
رات کے گیارہ بج رہے تھے… باری باری سبھی رشتے دار خواتین اور لڑکیاں اس کے پاس بیٹھ کر جا چکی تھیں, بارہ بج گیے, ہر طرف ہو کا عالم ہونے لگا, ساری رات کے جاگے ہوۓ اور سارے دن کے تھکے ماندے مہمان اہنے اپنے بستروں میں ج گھسے تھے, بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ لگاۓ اس کی کمر اکڑ گئی تھی, کبھی اس پہلو ہو جاتی… کبھی دودرے رخ بیٹھ جاتی
تبھی اسے باہر فرزانہ کی غصیلی سی آواز سنائی دی
“کہاں دفع ہو گیا تھا تو… ” وہ بڑبڑا رہی تھیں, دوسری آواز نفیس کی تھی
“امی… وہ… ” تیسری آواز شاید صفوان کی تھی, دروازے پر دستک ہوئی اور وہ اندر آیا, اس کے پیچھے ہی فرزانہ اور نفیس بھی تھے
“ناشیہ پتر… یاروں, دوستوں کی طرف چلا گیا تھا, بس انہوں نے روک لیا” وہ اسے سہارا دے کر ندر لائی تھیں
“یاروں دوستوں میں تو پینا پلانا چلتا رہتا ہے نا تھوڑا بہت… پریشان نہ ہونا تو… “وہ صفوان کو اس کے سامنے بٹھاتے ہوۓ بولیں اور پھر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر باہر نکل گئیں
وہ پوری طرح نشے میں دھت تھا, آنکھیں چڑھی جا رہی تھیں
“ناشیہ… وہ… میں” الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکلے تھے, یکدم ہی وہ اٹھا, اس کی طرف بڑھا اور پھر چکرا کر بیڈ پر گر گیا, ناشیہ بس اس کے بے سدھ وجود کو ساکت سی نظروں سے دیکھتی رہ گئی تھی
کچھ دیر بعد وہ اٹھی, صفوان کو سیدھا کیا, اس کے جوتے اتارے… پھر واش روم میں گھس گئی, چینج کر کے باہر نکلی تو وہ مست سو رہا تھا
وہ چپ چاپ اپنی طرف کروٹ لیکر لیٹ گئی…آنسو گالوں پر بہتے چلے آۓ تھے
بہترین کے مل جانے پر بہتر کے کھو جانے کا دکھ نہیں ہوتا… لیکن اگر الٹ ہو جاۓ ؟؟؟
تو ذرا سوچیں کہ کیا ہوتا ہے
…………………….
غاشیہ کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا, رات کے نو بج رہے تھے جب حدید اسے گھر لیکر آیا, دونوں بازوؤں میں اٹھا کر وہ اسے اوپر لایا تھا, اسماء کل سے اپنے کمرے میں بند تھی
اسراء نے خود اس کے لئے مٹن سوپ بنایا اور ٹرے لیکر اوپر آ گئی, زرقا پہلے ہی اوپر تھی, وہ شاید اسے دوا کھلانے لگی تھی
“زرقا چھوٹا باؤل اور چمچ لیکر آؤ… تھوڑا سا سوپ پلا کر پھر اسے میڈیسن دینا” اسراء نے باؤل میز پر رکھتے ہوئے کہا, زرقا سر ہلا کر کچن میں چلی گئی, حدید چپ چاپ سا ایک طرف صوفے پر بیٹھا تھا, اسراء کو اس پر ٹوٹ کے ترس آیا
وہ, حدید اور ارمغان تو بچپن کے دوست تھے, حدید اس سے بہت زیادہ فرینک تھا, بس جب سے اس نے غاشیہ سے محبت کی شادی کی تھی… تب سے اسراء ذرا پیچھے ہو گئی تھی
“حدید… جاؤ چینج کر لو, پھر کھانا کھا لینا” اسراء اس کے قریب آتے ہوئے بولی, زرقا چھوٹے باؤل میں سوپ نکال کر غاشیہ کے قریب آ گئی تھی
“بھوک نہیں ہے… ” وہ بولا
“اسے کھانا لا کر دو اسراء… اس نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا” غاشیہ نحیف سی آواز میں بولی
“اٹھو حدید… خدا کا شکر ادا کرو کہ غاشیہ سلامت ہے…وہ مالک تم دونوں کو پھر نواز دے گا” اسراء نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“اور بھابھی پھر چھین لیں گی… ” حدید کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے, اسراء چپ رہ گئی
“اسراء… ” وہ اس کے عین سامنے کھڑا ہو گیا
“بھابھی نے جان بوجھ کر دھکا دیا تھا نا اسے… ” اس نے پوچھا, اسراء دم بخود کھڑی رہ گئی
“ہے نا اسراء… ؟؟؟” وہ رو دینے کو تھا
“تم اپنی بہن سے کہو نا…. کہ انیتا کا قصوروار میں ہوں, جو سزا دینی ہے مجھے دیں, اگر جان سے مارنا ہے تو مجھے ماریں… غاشیہ کا کیا قصور ؟؟؟” وہ اسے بازوؤں سے جکڑے کہتا چلا گیا
“حدید… بس کرو” غاشیہ بھی رو پڑی تھی
“حدید… میں امی سے بات کروں گی, وہ سمجھائیں گی اسماء کو… تم پلیز ریلیکس ہو جاؤ… چینج کر لو….. میں کھانا لیکر آتی ہوں” اسراء سے اس ک سامنا کرنا دوبھر ہو رہا تھا
کچھ دیر بعد وہ اسے کھانا دے گئی, زرقا بھی غاشیہ کو دوا کھلا کر واپس چلی گئی تھی
“حدید… کوئی کراۓ کا مکان لے لو, پلیز, جب تک گھر مکمل نہیں ہو جاتا ہم رینٹ پر رہ لیں گے لیکن مجھے یہاں نہیں رہنا پلیز… ” غاشیہ کا رو رو کر برا حال تھا, وہ تو اپنا دکھ بھول ہی نہیں پا رہی تھی
“تم فکر نہ کرو… میں نے مینیجر سے بات کی ہے, ایک ہفتے بعد ریزیڈینسی خالی ہو جاۓ گی, ہم وہاں شفٹ ہو جاییں گے, گھر کا کام بھی تیز کرواتا ہوں, ایک دو جگہ لون کے لئے اپلائی کیا ہے میں نے” حدید اس کے ہاتھوں کی پشت کو تھپتھپاتے ہوۓ کہتا چلا گیا
“وہ عورت…. مجھے مار دے گی کسی دن حدید… بس جلدی چلو یہاں سے” وہ حدید کے گلے سے آن لگی تھی
“حدید… وہ ابھی صرف ڈھائی ماہ کا تھا… ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی, حدید نے بہت محبت سے اسے اپنی پناہوں میں لیا تھا
“صبر کرو, خدا ہمیں اس سے بھی بہتر سے نوازے گا” وہ اسے خود سے لگاۓ کہتا چلا گیا تھا
……………………….
صبح وہ دن چڑھے اٹھا, فرزانہ نے دروازہ بجا بجا کر اسے جگایا, ناشیہ تو فجر پڑھ کر دوبارہ سو گئی تھی, بارہ بجے ان دونوں کا ولیمہ تھا, فارغ ہوتے ہوتے شام کے پانچ بج گئے, مہمان رخصت ہونا شروع ہو گئے تھے
رات نو بجے وہ کمرے میں آیا, ناشیہ ابھی چینج کرنے کا سوچ ہی رہی تھی, اسے اندر آتا دیکھ کر رک گئی, وہ شرمندہ شرمندہ سا اس کے سامنے آ بیٹھا
“وہ… کل مجھے میرے دوست لے گیے تھے, کہتے خوشی کا موقع ہے تو تھوڑا انجواۓ کر لیتے ہیں, بس…تھوڑا زیادہ ہو گیا… ایم سوری میں رات کو… ” وہ اٹک اٹک کر بولتا چلا گیا
“کوئی بات نہیں… ” ناشیہ نے دھیرے سے کہا تھا, کافی دیر وہ اس کے پاس بیٹھا باتیں کرتا رہا, پھر ایک سونے کی انگوٹھی اس کی انگلی میں پہنا دی… وہ اس کی منہ دکھائی تھی
“میں کپڑے بدل لوں ؟؟؟” ناشیہ نے دھیرے سے پوچھا تھا
“ہاں… بدل لو” وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولا تھا
اس رات وہ پوری کی پوری صفوان ملک کی ہو گئی تھی… سر سے لیکر پیر تک اس کا حق ہو گئی تھی… اسی رات اس نے رافع کا ہر کانٹیکٹ بلاک کر دیا… اس رات رافع انصاری کا آخری ماتم منایا اور اسے دل کے ایک کونے میں دفن کر دیا
بندہ ان لڑکیوں سے پوچھے… اگر دل میں محبت کی قبر ہی بنانی ہوتی ہے تو اسے پہلے اتنی شہہ ہی کیوں دیتی ہو کہ بعد میں اس کا قتل کرنا پڑے
………………………
جاری ہے