121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 48


Raafy and Nashia special episode
مغرب کے بعد کا وقت تھا جب وہ گھر واپس آیا… دسمبر شروع ہو چکا تھا اور اس بیچارے کی شامت کو آواز بھی دے چکا تھا, ان ظالم سردیوں کے پیش نظر ہی اس نے عمر فاروق سے اجازت لیکر انہیں نئی گاڑی نکلوا دی تھی اور پرانی گاڑی خود لے آیا تھا, ویسے بھی انیتا کو مارکیٹ وغیرہ لے جانے کے لئے اسے گاڑی ہی درست لگتی تھی
ہارن کی آواز پر انیتا نے ہی گیٹ کھولا, ان دونوں کی شادی کو چار ماہ ہو چکے تھے, اور ان چار ماہ میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی تھی, بس اتنا کہ وہ دونوں ایک ہی کمرے میں سونے لگ گئے تھے, انیتا نے پوری طرح اس گھر کو اپنا گھر سمجھ کر ارمغان ملک کو اپنی منزل مان لیا تھا, ان چار ماہ میں وہ صرف ایک بار آمنہ سے ملنے گئی تھی جب اذن نے اپنی پروموشن کی ٹریٹ دی تھی, ارمغان نے اسے دروازے پر ہی اتار دیا تھا…
“تم نہیں آؤ گے ؟؟؟”
“تمہاری بہن چاقو چھریاں تیز کر کے کھڑی ہو گی اندر… ” وہ دھیرے سے مسکرایا تھا
“میں ہوں ناں… آؤ” انیتا کا بس اتنا ہی کہہ دینا کافی تھا, اسماء اپنے کمرے سے ہی نہیں نکلی تھی
ارمغان تو پہلے ہی انیتا کا اسیر تھا… اور اب تو بالکل ہی دیوانہ ہو گیا تھا, صبح اسی کے ہاتھ کا ناشتہ.. دوپہر میں اسی کے ہاتھ کا کھانا… رات کو اسی کے ہاتھ کا ڈنر… اسی کے ہاتھ کی چاۓ… اسی کے دھلے ہوئے اور پریس کیے ہوئے کپڑے… اسے تو وہ گھر صحیح معنوں میں جنت لگنے لگا تھا
اب بھی وہ چھینکتا ہوا اندر آیا تھا
“میں نے تمہیں کہا تھا کہ اپنے لیے دوا لیکر آنا… ” وہ بولی
“لایا ہوں… 103 بخار ہے, سر چکراۓ جا رہا ہے” وہ بمشکل سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا تھا
“کھانا نہیں کھاؤ گے ؟؟؟” انیتا نے ہیٹر آن کرتے ہوئے پوچھا
“نہیں بس ایک کپ چاۓ بنا دو.. ” وہ جوتے اتار کر کمبل میں گھس گیا
“انیتا… ” وہ دروازے میں تھی جب اس نے پکارا
“ایک کمبل اور دے دو… ” وہ کپکپانے لگا تھا, انیتا نے ایک اور کمبل اس کے اوپر ڈال دیا
کچھ دیر بعد وہ اوپر آئی تو اس کے ہاتھ میں جوشاندے کا کپ تھا
“ارمغان… اٹھو….یہ پی لو” اس نے کمبل کھینچتے ہوۓ کہا
“یہ کیا ہے ؟؟؟” وہ چھینکوں سے بے حال تھا
“جوشاندہ… “
“مجھے نہیں پینا… چاۓ کہا تھا” وہ بولا
“یہ چاۓ سے اچھا ہے…سانس بند کر کے پی لو” انیتا اس کے سر پر کھڑی تھی, اس بیچارے نے سانس بند کی اور غٹا غٹ پی گیا
“آآآ… ” سانس کھولتے ہی یکدم ابکائی آئی تھی
“الٹی نا کرنا… اندر کر لو سارا” وہ یکدم بولی تھی ارمغان نے نہ جانے کیسے اسے اپنے اندر انڈیلا تھا
“میں دوبارہ اسے نہیں پیوں گا” وہ بولا
“اچھا لو یہ دوا کھا لو… ” وہ بولی تھی, ارمغان دوا کھا کر پھر کمبل میں گھس گیا تھا, انیتا سارا کام سمیٹ کر جب اس کے برابر میں آ کر لیٹی تو وہ جاگ رہا تھا
“انیتا… “
“ہاں… “
“بہت سردی لگ رہی ہے…. ” وہ بولا, انیتا نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو وہ آگ کی طرح تپ رہا تھا, وہ دھیرے دھیرے اس کا ماتھا دباتی چلی گئی, ارمغان نے بڑی مضبوطی سے اپنے دونوں بازو اس کے گرد لپیٹ دییے تھے
“لیٹ جاؤ… تھک جاؤ گی” وہ اپنے ماتھے سے اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے بولا تھا, انیتا لیٹ گئی تو اس نے اپنا چہرہ اس کے وجود میں چھپا لیا تھا
………………………..
وہ نہا کر باہر نکلی تھی… معاذ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی سویا تھا, گیلے بالوں کو تولئے سے جھٹکتے ہوۓ وہ شیشے کے سامنے آ کھڑی ہوئی, ابھی پرسوں ہی اس کی عدت ختم ہوئی تھی… کافی دیر تک وہ خود کو آئینے میں دیکھتی رہی, ان گزرے تین سالوں میں سب سے زیادہ نقصان ناشیہ ملک کا ہوا تھا
وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ آگے نکل گئی تھی, کچھ دیر بعد اس نے مڑ کر بستر پر پڑا اخبار اٹھایا
“Jobs Opportunities… Garrison group of colleges… “
کافی دیر وہ اس اشتہار کو دیکھتی رہی, ایک بار پھر سے زندگی اسے خوش آمدید کہہ رہی تھی, وہ کالج اسے بلا رہا تھا… آواز دے رہا تھا
“شازیہ باجی… ” وہ اخبار اٹھا کر باہر نکل آئی
“یہ دیکھیں… “
“یہ کیا ہے… ؟؟؟؟”
“کاج جوائن کر لوں… دوبارہ ؟؟؟” وہ پوچھ رہی تھی
“تمہارا دل کرتا ہے تو کر لو… معاذ کی کوئی ٹینشن نہیں ہے, اسے میں سنبھال لوں گی” شازیہ نے کہا, وہ شاید یہ ہی سننا چاہ رہی تھی
“ضرورت تو نہیں ہے لیکن اگر تمہارا دل کرتا ہے تو کر لو” تیمور ملک نے سن کر کہا تھا
اس نے اپلائی کر دیا… ڈگری کے ساتھ ساتھ اس کے پاس تجربہ بھی تھا, انٹرویو والے دن خالد اسے کالج چھوڑ گیا تھا, انگلش انسٹرکٹر کی سیٹ کے لئے وہاں بیس, پچیس لڑکیاں آئی ہوئی تھیں
“مس ناشیہ ملک… ” اپنے نام کی پکار پر وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی
انٹرویو پینل میں بیٹھے رافع انصاری کو دیکھ کر اس کا سارا اعتماد لمحوں میں اڑنچھو ہو گیا, وہ اسے دیکھ کر دھیمے سے مسکرایا تھا, پینل میں بس ایک بندہ ہی نیا تھا, گیریزن کے پرنسپل بھی اسے جانتے تھے
“یہ ہماری بہت اچھی انسٹرکٹر رہ چکی ہیں… کیوں رافع ؟؟؟” وہ اسے دیکھ کر کافی خوش ہوئے تھے
“لیکن سر… یہ بے وفا نکلیں تھیں… ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولا
“چھوڑ دیا تھا انہوں نے ہمیں… ” وہ پھر بولا
“چلو اب تو واپس آ گئیں ہیں نا… اب انہیں ویلکم کرتے ہیں” وہ مسکراتے ہوئے بولے تھے, ناشیہ بس رافع کا دمکتا ہو چہرہ دیکھتی رہ گئی تھی
……………………………..
وہ کچن سمیٹ کر اوپر آئی تو اذن سونے کی تیاریوں میں تھا, وہ بھی کمبل کھولتے ہوئے سونے لیٹ گئی, اذن اسے دو نوٹس دے چکا تھا… اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے تیسرے نوٹس کی تاریخ بھی نزدیک آ رہی تھی, ابھی صبح ہی اذن نے اسے کہا تھا کہ اس کا تیسرا نوٹس جلد ہی اسے مل جاۓ گا, جب سے شادی ہوئی تھی اذن نے اس سے اپنا حق نہیں مانگا تھا سو تیسرے نوٹس کے بعد وہ آزاد ہو جاتی
عدت کا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا…
اب بھی وہ اس کے برابر میں آ کر لیٹی تو نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی, کل ہی اسے طہٰ کی کال آئی تھی, وہ شدت سے اس کا منتظر تھا, شازیہ اور تیمور ملک کو وہ بہت پہلے ہی منا چکا تھا, بس اسے زرقا کو گھر لیکر آنا تھا اور اس سے نکاح کرنا تھا… پیچھے جو بھی قیامت آتی وہ اذن کے سر تھی
کافی دیر تک وہ پہلو بدلتی رہی… پھر اٹھ بیٹھی, اذن اسی کی طرف کروٹ لیے سو رہا تھا, زرقا بس اسے دیکھتی چلی گئی
وہ جانتی تھی کہ اس کے جانے کا سارا ملبہ اذن کے سر پر آن گرے گا… تب کیا کرے گا وہ ؟؟؟
دل عجب ہی کشمکش میں تھا… خوش تھا بھی اور نہیں بھی… وہ کچھ دیر بیٹھی اسے دیکھتی رہی پھر ہولے سے اس کے قریب ہو گئی, دھیرے سے اس کا بازو کھینچا اور اپنا سر اس کے بازو پر رکھ دیا… اذن کی آنکھ کھلی تھی
“میرا تم سے دور رہنا ہی ٹھیک ہے.. ” وہ نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں بولا تھا
“گھر والوں کو کیا جواب دو گے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“وہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے… ” اذن نے دھیرے سے اس کے سر کے نیچے سے اپنا بازو کھینچ لیا
“اذن… مجھے نیند نہیں آ رہی”وہ ملتجی ہو کر بولی تھی
“زرقا تمہیں مجھ سے دور جانا ہے… سو اس لمحے بھی دوری ہی ٹھیک ہے… میں فرشتہ نہیں ہوں کہ ہمیشہ بس تمہیں اپنے سینے سے لگا کر آنکھیں موند جاؤں گا” وہ نرمی سے کہتا ہوا کروٹ بدل گیا تھا
وہ بیچاری دوسری طرف کروٹ لیکر ساری رات جاگتی رہی تھی
……………………………
“واپس جانے لگی ہو ؟؟؟” اپنے پیچھے رافع کی پکار سن کر وہ مڑی تھی
“ہاں… خالد بھائی آنے والے ہیں” وہ بولی
“ایک ضروری بات کرنی تھی تم سے ” وہ بولا
“کہو… ” وہ کھڑی ہو گئی
“تم نے کہا تھا کہ میں جب چاہوں تمہارا راستہ روک سکتا ہوں” رافع نے کہا
“میں آج تمہارا راستہ روکے کھڑا ہوں…” وہ کہہ ہی گیا
“میں کیا دے سکوں گی تمہیں ؟؟؟” وہ سمجھ گئی تھی
“وہ جو میرا ہے… ہمیشہ سے… جو خدا نے میرے ہی نصیب میں لکھا ہے”رافع نے کہا
“کیا… ؟؟” وہ بمشکل بولی
“ناشیہ ملک… ” رافع نے دو قدم بڑھا کر کہا تھا, ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ناشیہ کے چہرے کو چھو گیا, ریشمی بال دوپٹے سے باہر نکل آۓ تھے
“ہمارے بیچ تین سال حائل ہیں رافع… ” وہ بولی
“تم ایک بار ہاں تو کرو… میں یہ تین سال تین قدموں میں سمیٹ لوں گا” رافع نے کہا, ناشیہ نے بھرپور نظر سے اسے دیکھا, وہ لائیٹ براؤن تھری پیس پہنے ہوۓ تھا…آنکھوں میں ڈھیروں التجائیں لیے اسے دیکھ رہا تھا
“میرا ایک بیٹا ہے… “
“میری ایک بیٹی ہے… “
“رافع… ملنا ضروری ہے کیا ؟؟؟” وہ بولی
“تو الگ رہنا ضروری ہے کیا ؟؟؟” اس نے پوچھا تھا
“ناشیہ… ” وہ اس کے قریب آیا تھا
“آئی لو یو… ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا
“اپنی امی کو ساتھ لیکر آنا… ” وہ دھیرے سے کہتے ہوئے واپس پلٹ گئی تھی
………………………….
اذن اور اسراء اس سے ملنے آۓ تھے… ارمغان گھر پر ہی تھا
“ہاں… ہیرو… آ گئیں سردیاں ” اسراء نے اسے چوٹ کی تھی
“ویسے تو تم دونوں مجھے بڑا قائل کرتے تھے کہ ارمغان سے شادی کر لو… یہ نہیں بتانا تھا کہ اس کا اور سردیوں کا چھتیس کا آکڑا ہے… ” انیتا ان دونوں پر چڑھ دوڑی تھی
“ایسے تو لڑکیاں بھی سردیوں میں سڑ سڑ نہیں کرتیں جیسے یہ کرتا رہتا ہے…” وہ اکتائی پڑی تھی
“شوہر کی تیمارداری کرو گی تو جنت ملے گی… ” اذن نے اسے اور چڑایا تھا
“ہاں… مل گئی مجھے جنت” وہ بولی, ارمغان نے اسے دوپہر کے کھانے کا سارا سامان لا دیا تھا, انیتا نے بریانی بنائی اور ساتھ میں شامی کباب بنا لئے
“تم لوگوں کو ایک گڈ نیوز سنانے آۓ ہیں ہم لوگ… ” اذن نے کھانے کے دوران اسراء کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تھا
“اذن… بکواس نا کرنا پلیز… ” وہ جھینپ سی گئی
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” میں بھی کوئی خوشی کی خبر سن لوں” انیتا نے کہا
“اسراء کا رشتہ طے ہو گیا ہے… ” اذن پر اسراء کی گھوریوں کا کوئی اثر نہیں تھا
“اچھا… واہ… کس سے ؟؟؟” انیتا شاید شادی کے بعد پہلی بار اتنے دل سے مسکرائی تھی
“تمہارے شوہر نامدار کے کلاس فیلو سے… ” اذن نے کہا
“شافع انصاری … “ارمغان کی آنکھیں پھیل گئیں, اسراء مدھم مدھم سا مسکرا رہی تھی
“خالہ مان گئیں ؟؟؟” وہ حیران تھا
“اسراء نے خود ہی منا لیا… “اذن نے ہنستے ہوئے کہا تھا
“کب ہے نکاح ؟؟؟” انیتا نے پوچھا
“شاید اگلے مہینے… ” اسراء نے کہا, کھانے کے بعد اذن, ارمغان کو لیکر باہر نکل گیا تھا
“میں نے کچھ سنا ہے تیرے بارے میں ؟؟؟” ارمغان کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی تھی
“مجھے پتہ ہے تو نے کس سے سنا ہے” وہ بولا
“ٹھیک سنا ہے ؟؟؟” ارمغان نے پوچھا, اذن چپ کر گیا
“سارا گھر تیرا دشمن ہو جاۓ گا اذن… اتنی مشکلوں سے تو تینوں گھروں میں فاصلے ذرا کم ہوۓ ہیں, تو پھر سے ایک قیامت لے آۓ گا” وہ بولا
“تو کیا کروں ؟؟؟ وہ خوش ہی نہیں ہے میرے ساتھ ” اذن نے کہا
“وہ دس ماہ بعد بھی خوش نہیں ہے ؟؟؟” ارمغان حیران رہ گیا
“اس کی مرضی… ” اذن نے کندھے اچکا دئیے
“دیکھ اذن… وہ لڑکا بہت اچھا ہے… اسے خوش بھی رکھے گا… ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد سارے حالات ٹھیک بھی ہو جائیں لیکن… سوال یہ ہے کہ وہ تیرے ساتھ خوش کیوں نہیں ہے ؟؟؟”
“کیونکہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی” اذن نے کہا, ارمغان چپ رہ گیا
“اور محبت ہی سب کچھ ہے… ” وہ دھیرے سے بولا تھا
“پتہ ہے اذن… عمر انکل نے ہمیشہ میری امی کو جسٹیفائی کیا ہے… ہمیشہ…. لیکن میں نہیں کرتا…وہ پلٹ سکتی تھیں… اور پلٹ کر بہت زیادہ خوش رہ سکتی تھیں”ارمغان کہتا چلا گیا
“لیکن وہ نہیں پلٹنا چاہتی… ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا
“پرسوں اسے تیسرا نوٹس مل جاۓ گا… اور وہ چلی جاۓ گی…” وہ بولا
“یعنی اسراء کے نکاح میں وہ شامل نہیں ہو گی…”
“ہاں… ” اذن بس اتنا ہی کہہ سکا تھا
…………………………..
شام پانچ بجے کا وقت تھا, طہٰ گھر آ چکا تھا اور گھر کے آگے بنے پلاٹ میں معاذ کے ساتھ بھاگم دوڑ میں لگا ہوا تھا, دروازے کی بیل بجی… طہٰ نے دروازہ کھولا تھا
اندر سے باہر آتی شازیہ روبینہ کو اندر آتا دیکھ کر ٹھٹھک گئی تھی, اس کے پیچھے ہی رافع اندر آیا تھا, طہٰ انہیں ڈرائینگ روم میں لے آیا
“ایک بار پھر… وہی مدعا ہے… وہی جگہ ہے… بس تین سال بیت چکے ہیں” انہوں نے دھیرے سے کہا تھا
تیمور ملک خاموش بیٹھے رہ گئے تھے, شازیہ دروازے میں کھڑی تھی
“شازیہ… ” روبینہ نے دھیرے سے اسے پکارا
“میرے بچے کی خوشیوں کا سوال ہے بیٹی… ” کیا نہیں تھا ان کی آنکھوں میں, شازیہ کی آنکھیں بھر آئیں
“یہ تیرے سامنے بیٹھا ہے… تو جو کہے گی یہ کرنے کو تیار ہے… جو وعدہ لینا چاہے لے لے… بس بدلے میں اسے اس کی چاہت دے دے” روبینہ نے رافع کی طرف اشارہ کیا تھا
“پلیز…. ” وہ شازیہ اور تیمور ملک کی طرف دیکھتے ہوئے بس اتنا ہی کہہ سکا تھا
“ناشیہ کو بلاؤ… ” انہوں نے کہا, وہ کچھ ہی دیر بعد آ گئی
“میں نے اپنی بچی ایک بار کھو دی تھی… دوبارہ نہیں کھونا چاہتا… میں جانتا ہوں تین سال پہلے آپ کا بیٹا میری بیٹی کی اولین خواہش تھا… اور اگر آج بھی اس کی وہی خواہش ہے… تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے” تیمور ملک کہتے چلے گئے, ناشیہ نے لبا لب آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا…یوں جیسے کہہ رہی ہو کہ اگر تین سال پہلے یہ پوچھ لیتے تو کیا تھا… ؟؟؟
انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا
“رافع کی خواہش… میری بھی خواہش ہے” وہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گئی تھی
…………………………………
ہلکی ہلکی دھوپ نکلی ہوئی تھی… اتوار کا دن تھا… غاشیہ نے دونوں بچوں کو مالش کر کے دھوپ میں لٹایا ہوا تھا, حدید پاس ہی لیٹا اس کی ساری کاروائی دیکھ رہا تھا
“حدید…پانی گرم ہو گیا ہے… اٹھو” وہ بولی
“میں نے کیا کرنا ہے ؟؟؟” وہ بولا
“تم بس اسے پکڑ کر رکھنا… ” اس نے ایک بچہ ہاتھوں میں اٹھا لیا تھا
“یا خدا… اتنے چھوٹے بچے کو نہلانا ضروری ہے کیا… پاؤڈر لگا دیا کرو, یا گیلے کپڑے سے صاف کر دیا کرو… توبہ غاشی یہ تو ہل ہی بہت رہا ہے… یہ تو پھسلے جا رہا ہے…ایک کلو تو تیل مل دیا ہے اسے, اللہ.. روتا کتنا ہے… بس بس… میرا بچہ… ” بچے سے زیادہ شور حدید کا تھا
“چلو دوسرے کو اٹھاؤ اب… ” غاشیہ نے اسے لپیٹتے ہوۓ کہا
“میں صابن لگاتا ہوں…تم پکڑو” وہ بولا
“آنکھوں میں نا چلا جاۓ… ” غاشیہ نے کہا, حدید نے اس بیچارے کا نہانا گھنٹوں پر محیط کر دیا, وہ اسے یوں چھو رہا تھا جیسے وہ مکھن کی ڈلی ہو
“توبہ روتے کتنا ہیں دونوں… ” وہ بولا
“تم بھی اپنے وقتوں میں ایسے ہی گلا پھاڑتے ہو گے… تم پر ہی گئے ہیں دونوں” غاشیہ نے کہا
“میں تو نہیں روتا تھا اتنا… “
“اچھا… آج تمہاری امی زندہ ہوتیں تو بتاتیں… “غاشیہ نے کہا
“ابو سے پوچھوں گا… ” اسے یقین نہیں آ رہا تھا
“اسے یہ پہنا دوں ؟؟؟” وہ پنک کلر کی فراک اٹھاتے ہوئے بولا
“حدید وہ حذیفہ ہے… ” غاشیہ نے کہا, اس نے بیٹی کا نام حمنہ رکھا تھا… بیٹے کا حزیفہ
“غاشی… ان دونوں کی گردنوں پر ان کا نام ٹیٹو کروا دیتے ہیں” وہ بولا
“کوئی خدا کا خوف ہے تمہیں… “غاشیہ کو ہنسی آ گئی
“مجھے تو کپڑوں سے ہی پہچان ہوتی ہے ان کی… ” وہ خود بھی ہنسنے لگا تھا
“شازیہ باجی کی کال آئی تھی…. ناشیہ کا رشتہ طے کر دیا ہے” غاشیہ نے کہا
“بڑی جلدی کر دیا… کس سے؟؟؟”
“رافع سے… “
“اچھا… چلو شکر ہے رافع کی بھی سنی گئی… اس کی پہلی بیوی کا کیا ہوا ؟؟؟” حدید نے پوچھا
“اس نے خلع لے لیا ہے… شاید امریکہ بھی چلی گئی ہو” غاشیہ نے کہا
“خالہ نے بھی اسراء کا نکاح طے کر دیا ہے… ” حدید. نے کہا
“ہاں مجھے پتہ ہے… وہ رافع کا بڑا بھائی ہی ہے”
“سچ میں ؟؟؟” حدید حیرانی سے بولا
“ہاں… اسی کی بیوی کا صفوان کے ساتھ افییر تھا” غاشیہ دھماکے کرتی جا رہی تھی
“دنیا میں کیا کیا ہو جاتا ہے… “
“ہاں… شوہر بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے… ” غاشیہ نے اسے چوٹ کی تھی, وہ شکوہ کن نظروں سے اسے دیکھنے لگا
“اب قیامت تک جتاتی رہنا… ” وہ بولا, غاشیہ بس مسکراتی رہ گئی تھی
“اتنی بار تو معافی مانگی ہے تم سے… اتنا رویا ہوں میں تمہارے لئے… پھر بھی.. ” وہ بولا
“وہ آ گئی واپس کے نہیں… تمہاری بڑی بھابھی جان… ” غاشیہ نے پوچھا
“آ گئی ہیں… ” حدید مسکراتے ہوئے بولا تھا
………………………..
جاری ہے