121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38


وہ دن چڑھے گھر واپس آیا تھا, ساری رات سڑکوں پر بے مقصد گاڑی دوڑاتا رہا, کبھی غاشیہ کی بیوفائی پر غصہ آنے لگتا تو کبھی اس کی جدائی پر رونا آنے لگتا…کتنی ہی بار گاڑی بے قابو ہوئی, کتنی ہی بار وہ اتر کر سڑک کنارے کھڑا رہا, کسی پل دل کو چین نہیں تھا, وہ خود کو وقت دے رہا تھا, شاید کے وہ سب جھوٹ ہو جاتا…شاید کے وہ سب ایک خواب ہوتا اور اس کی آنکھ کھل جاتی…
لیکن پوری رات گزر گئی…اس کی آنکھ نہ کھلی, نو بجے کے قریب وہ آفس چلا گیا, وہی کل والے کپڑے اور ملگجہ سا حلیہ…
کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا پھر اٹھ کھڑا ہوا
جو رات ہوا… وہ سچ تھا
اس کے گھر میں اس کی بیوی کے علاوہ کوئی اور بھی تھا… ؟؟؟ کون… ؟؟؟
وہ نہیں جانتا تھا
دماغ سے لڑتے لڑتے وہ ہار گیا تو گاڑی نکالی اور گھر آ گیا, دن کے گیارہ بج رہے تھے, وہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر آ گیا, غاشیہ نظر نہیں آئی, وہ کمرے میں چلا آیا, وہ وہاں بھی نہیں تھی, اس نے کچن میں جھانکا… غاشیہ ندارد
“غاشی… ” حدید نے اسے آواز دی… جواب ندارد
“غاشیہ… ” اب کے وہ زور سے دہاڑا تھا, اسماء نے اس کی آواز سن لی اور اس سے پہلے کہ وہ اوپر آتی, حدید نیچے اتر آیا
“غاشیہ کہاں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“وہ تو چلی گئی… ” اسماء نے کہا, راۓ عبید صوفے پر بیٹھے تھے
“کہاں چلی گئی ؟؟؟” حدید کے ابرو تن گئے
“خدا جانے…. اپنے اس یار کے ساتھ ہی گئی ہو گی” اسماء کے کہتے ہی وہ بپھر گیا
“وہ مجھے بتاۓ بنا کہیں نہیں جاتی… کہاں ہے وہ ؟؟؟” حدید اس کے سامنے آیا تھا
“آپ نے نکالا ہے نا اسے گھر سے ؟؟؟” اسماء کو اس کی سرخ آنکھوں سے خوف سا آیا
“حدید… تمیز سے بات کر” راۓ عبید نے کہا, انیتا بھی کچن سے نکل آئی
“میں آخری بار پوچھ رہا ہوں بھابھی …غاشیہ کہاں ہے ؟؟؟” حدید نے پوچھا
“دفع ہو گئی ہے وہ… نکال باہر کیا ہے اسے یہاں سے, اس جیسی بدکردار عورت کے لئے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں ہے… ” اسماء بھی بھڑک پڑی
“وہ بدکردار عورت میرے بچے کی ماں بننے والی تھی… ” حدید کی چنگھاڑ اسماء کو لرزا گئی
“جب میں نے کہہ دیا تھا کہ میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے تو اسے گھر سے کیوں نکالا ؟؟؟ کہہ کر گیا تھا نا میں کہ واپس چلی جائیں, میں خود بات کر لوں گا اس سے… پھر کیوں نکالا اسے ؟؟؟” وہ دہاڑا
“وہ تجھے اتنی ہی سچی لگتی ہے تو کل رات خود کیوں چھوڑ گیا تھا اسے ؟؟؟” راۓ عبید نے کہا
“کیونکہ میں غصے میں کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھانا چاہتا تھا, کیا خبر میرے منہ سے کیا نکل جاتا ؟؟؟ کیا خبر کے میرا اس پر پھر ہاتھ اٹھ جاتا ؟؟؟ وہ کہہ رہی تھی نا کہ وہ اس شخص کو نہیں جانتی… پھر کیوں اسے گھر سے نکالا ؟؟؟ بھابھی وہ کہاں جاۓ گی ؟؟؟” حدید پھٹ پڑا تھا
“وہ اسی کے ساتھ چلی گئی ہے جس کے ساتھ معاشقہ چلا رہی تھی… تو یہاں بیٹھ کر روتا رہ اور وہ وہاں عیاشیاں کر… “
“شٹ اپ… ” حدید کی چنگھاڑ نے اسے خاموش کروایا تھا
“میں نے اسے کہا تھا کہ جب جانا ہوا… تو مجھے بتا کر جانا… اور اس نے مجھے نہیں بتایا کہ اسے جانا تھا, اسے جانا ہی نہیں تھا… اسے آپ نے زبردستی نکال باہر کیا… اس کے وجود میں میرا بچہ تھا ابو…” حدید کے آنسو نکل آۓ
“حدید تجھ سے بڑا بے غیرت کوئی نہیں ہے, پچھلے کئی مہینوں سے وہ تجھ سے بے وفائی کر رہی تھی, مجھے سب پتہ ہے, اس کا افییر چل رہا تھا کسی کے ساتھ… میں نا بھی نکالتی تو وہ ایک نا ایک دن اس کے ساتھ چلی جاتی… وہ تیری کبھی بھی نہیں تھی” اسماء نے نفرت سے کہا تھا
“ابو… میں بتا رہا ہوں کہ اگر مجھے غاشیہ نہ ملی تو میں آپ دونوں کے خلاف ایف ائی آر کٹوا دوں گا, آپ دونوں نے رات کے اندھیرے میں اسے گھر سے نکال باہر کیا… وہ تو اپنے باپ کے گھر بھی نہیں جا سکتی… ” حدید نے انگلی اٹھا کر انہیں وارن کیا تھا
……………………………..
دھیرے دھیرے اسے ہوش آیا تھا, آنکھ کھلی تو وہ کسی پرائیوٹ کلینک کے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی, دائیں ہاتھ کی پشت پر برنولہ لگا ہوا تھا, آنکھ کھلتے ہی اس کا سر یوں چکرایا جیسے ابھی چھت اس کے سر پر آ گرے گی, وہ یکدم اٹھ کر بیٹھ گئی, تبھی لیڈی ڈاکٹر اس کے کمرے میں آئی تھی, ساتھ ہی ارمغان تھا, غاشیہ بس اسے دیکھتی رہ گئی, ارمغان کو اس نے بس زرقا کی شادی میں ہی دیکھا تھا وہ بھی بس ایک سرسری سی نظر…
“غاشیہ بچے کیسے ہو اب ؟؟؟” ڈاکٹر نے پوچھا
“سر چکرا رہا ہے… ” وہ نڈھال سی آواز میں بولی تھی
“ٹھیک ہو جاۓ گا, اسے جوس وغیرہ پلائیں اور پھر کھانا کھلائیں, خالی پیٹ سر چکرا رہا ہے, تھوڑی ہمت کرو, دو, تین ہفتے مزید گزار لو, ڈلیوری نارمل ہی ہے تمہاری بس احتیاط کرو” لیدی ڈاکٹر اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ باہر نکل گئی, ارمغان بس ایک نظر اس کے شکستہ سے چہرے پر ڈال کر اس کے لئے جوس لینے چلا گیا تھا, کچھ ہی دیر میں واپس آ گیا
“پلیز اب یہ مت کہنا کہ کل رات تم میرے گھر آۓ تھے ” وہ پھٹ ہی پڑی تھی, ارمغان نے سٹرا ڈال کر جوس ک گلاس اس کی طرف بڑھا دیا
“میں تمہارا مجرم ہوں غاشیہ… آج صرف میری وجہ سے تم خالی ہاتھ اس کلینک میں بیٹھی ہو لیکن… مجھے بس تھوڑا سا وقت دے دو, میں سب ٹھیک کر دوں گا” ارمغان نے کہا
“یہ جوس پی لو… پھر گھر چلتے ہیں” وہ بولا
“کونسے گھر ؟؟؟ کس کے گھر ؟؟” غاشیہ کی آنکھیں بھر آئیں
“میرے گھر… ” وہ بولا
“نہیں… مجھے ابو کے پاس جانا ہے” وہ تڑپ کر بولی تھی
“وہاں بھی چلیں گے… میں خود لیکر جاؤں گا, غاشیہ میں تمہیں سب کچھ بتا دوں گا بس مجھ پر تھوڑا سا اعتبار کرو پلیز… ” ارمغان نے جوس کا گلاس اس کے ہاتھوں میں تھما دیا, غاشیہ نے خود کو وقت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے گلاس منہ سے لگا لیا
“چلو آؤ… ” وہ اس کا ہاتھ تھام کر باہر لے آیا, غاشیہ ابھی تک رات والے حلیے میں ہی تھی, وہ اسے سہارا دے کر گاڑی تک لایا تھا, پھر اسے فرنٹ سیٹ پر بٹھا دیا, وہ پور راستہ کچھ نہیں بولی… دل ہی نہیں کر رہا تھا کچھ بھی کہنے کو… رہ رہ کر حدید کی بیوفائی پر رونا آ رہا تھا, ارمغان اسے اپنے گھر لے آیا, وہ جانتا تھا کہ حدید بھلے ہی اس کی تلاش میں پورا لاہور چھان مارے…لیکن یہاں نہیں آۓ گا
“تم فریش ہو جاؤ اور چینج کر لو, میں کھانا لے آؤں, پھر تمہیں سب کچھ بتاتا ہوں” وہ ایک شاپنگ بیگ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے بولا تھا, غاشیہ اس کے ہاتھ سے شاپنگ بیگ پکڑتی ہوئی اندر چلی گئی, ارمغان کھانا لینے چلا گیا
کچھ دیر بعد واپس آیا تو وہ اندر کمبل لیکر کروٹ لیے لیٹی تھی, گیلے بالوں کو سلجھانے کی بھی ہمت نہیں ہوئی تھی اس کی سو انہیں اوپر کو فولڈ کر کے کیچر لگا لیا تھا, دوپٹہ کندھے پر ڈال رکھا تھا
“جرسی تو پہن لو… باہر کورا پڑ رہا ہے” ارمغان خود ہر دو منٹ بعد چھینک رہا تھا, وہ کچھ نہ بولی, ارمغان کھانا لیکر آیا تو اٹھ کر بیٹھ گئی, کل رات سے کچھ نہیں کھایا تھا, صحیح معنوں میں وہ کھانے پر ٹوٹ پڑی, نا ہی ارمغان نے کھایا اور نا ہی غاشیہ نے اسے کھانے کا کہا…
“چاۓ پیتی ہو یا کافی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“چاۓ… ” وہ کھانا ختم کرتے ہوئے بولی تو ارمغان برتن اٹھا کر باہر نکل گیا, تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میں آیا تو اس کے ہاتھوں میں چاۓ کے دو کپ تھے
“یہ لو… ساتھ اپنی دوا کھا لو” وہ خود بھی دو پینا ڈول پھانک گیا تھا
“میری جرسی اٹھا کر دو… ” کھانا کھا کر اسے کپکپی چڑھ گئ تھی, ارمغان نے اسے جرسی پکڑائی اور خود کرسی کھینچ کر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا
“تمہیں سیرت یاد ہے… ؟؟؟” ارمغان نے پوچھا
“میں شاید دس یا گیارہ سال کی تھی جب وہ گزر گئیں ” غاشیہ نے گھونٹ بھرتے ہوئے کہا, ارمغان نے چپ چاپ اپنی جیب سے وہ کاغذ نکالا اور غاشیہ کی طرف بڑھا دیا
“یہ مجھے خالد دے کر گیا تھا… کل رات” ارمغان نے کہا
“اور اسے یہ تمہارے ابو نے دیا تھا” وہ بولا, غاشیہ پڑھتی چلی گئی تھی
“مجھے یہ تو پتہ تھا کہ میرا ایک بھائی ہے… خالد ملک… لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ… ” اس نے بات ادھوری چھوڑ دی, غاشیہ حق دق سی بیٹھی تھی
“غاشیہ میری ماں تک کو نہیں پتہ تھا کہ اس رات اس نے ایک بیٹی کو بھی جنم دیا تھا” وہ بولا
“یعنی جب میں نے حدید کے لئے گھر چھوڑا… تو ابو جانتے تھے کہ میں ان کی بیٹی نہیں ہوں, تبھی وہ میرے پیچھے نہیں آۓ… میں کونسا ان کا خون تھی… میں تو… میں تو ملاوٹ تھی” وہ بولی تو آنکھ بھر آئی, ارمغان نے اسے سب کہہ سنایا, خالد سے ملنے سے لیکر اسماء کے آنے تک, اسماء کی ڈیمانڈ سے لیکر اپنے مکروہ پلان تک, ان دونوں کی لڑائیوں کا سارا قصہ, اسماء کی ساری زیادتیاں اور اس رات کی داستان جب وہ خالی ہاتھ اس گھر سے نکال دی گئی تھی
“ایک بات پوچھوں تم سے… ؟؟؟” غاشیہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا, وہ سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا
“تم نے یہ سب صرف اپنے بدلے کے لئے نہیں کیا نا ؟؟؟” وہ بولی, ارمغان چپ رہ گیا
“ہیں نا ؟؟؟ کیا واقعی اگر میں تیمور ملک کا خون ہوتی تو تم مجھے اپنے بدلے کی خاطر یونہی اجاڑ دیتے ؟؟؟؟بولو ارمغان ملک… اگر میں سچ میں تیمور ملک کی بیٹی ہوتی تو تم مجھے اس سڑک کنارے سے اٹھا کر یہاں نا لاتے ؟؟؟ ” اس نے پوچھا, ارمغان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا
“کیوں کیا یہ سب… ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا تھا
“انیتا کو پانے کے لئے… ” وہ کہہ گیا, غاشیہ سن رہ گئی تھی
“وہ میری کھلی آنکھوں کا خواب ہے… اور میں نے بس اس خواب کی تعبیر پانے کی کوشش کی تھی”وہ بولا تو لحجہ نادم سا تھا
“ہاں یہ سچ ہے کہ میرے دل میں بدلے کی ہلکی سی چنگاری ضرور تھی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں نے یہ سب صرف اس بدلے کے لئے نہیں کیا… ہاں میں نے یہ ہی سوچا تھا کہ جب تم اس گھر سے نکل کر خالی ہاتھ روتی ہوئی اپنے باپ کی دہلیز پر جاؤ گی تب میرے دل کو ایک بے نام سی مسرت ضرور ہو گی, ہاں میں نے یہ بھی سوچا تھا کہ حدید جب اپنے بچے کے لئے ترسے گا تو راۓ عبید کو میرے باپ کا غم یاد آۓ گا… ہاں یہ سچ ہے کہ میرے پلان کے مطابق اس رات تمہیں اپنے باپ کے گھر جانا تھا, اور مجھے وہاں آ کر ساری حقیقت بیان کرنی تھی, تمہاری بربادی کے بدلے مجھے اسماء سے انیتا کو مانگنا تھا اور حدید کو کچھ دن تڑپنے دینا تھا, پھر اسے سب سچ بتا دینا تھا, اسماء کے غرور کو خاک میں ملانا تھا اور… انیتا کو اپنا بنا لینا تھا لیکن…. ” وہ ذرا دیر کو رکا
“مجھے اسی رات پتہ چلا کہ جس لڑکی کی زندگی میں نے کانٹوں سے بھر دی وہ میرے باپ کا خون تھی… میرے بعد دوسری سانس اس نے لی تھی” وہ بولا تو آواز بھرا سی گئی
“تو جب تمہیں سچ پتہ چل گیا تھا تو گھر کیوں آۓ ؟؟؟ یہ سارا کھیل اسی وقت ختم کیوں نہیں کیا ؟؟؟ کیوں اسماء کی چال کو کامیاب ہونے دیا ؟؟؟ کیوں تابوت میں آخری کیل ٹھونکی ؟؟؟ حدید کو سب کچھ سچ سچ بتاتے اور کام ختم ہوتا… وہ خود ہی اسماء کا محاسبہ کر لیتا”غاشیہ نے کہا
“نہیں… ایسا کبھی نہیں ہوتا, وہ عورت اس گھر کی مالکن ہے غاشیہ… راۓ عبید اور صمد دونوں پر اس کا زور چلتا ہے, اپنے تئیں وہ اپنی بہنوں کے ساتھ بہت مخلص ہے…. میں حدید کو سچ بتا بھی دیتا تو کوئی فائدہ نہیں تھا, وہ بس گھر میں ایک جھڑپ لگاتا اور تمہیں لیکر نکل جاتا… اسماء کو کیا نقصان ہوتا ؟؟؟ بس شوہر اور سسر کے سامنے تھوڑی سی شرمندگی…نہیں… ایسے نہیں غاشیہ… اسے بڑا زعم ہے کہ وہ انیتا کو حدید دلوا کررہے گی اور میں اس کا یہ زعم پاش پاش کر دوں گا… میں اس سے وہی مانگوں گا جس کی خاطر اس نے یہ گھناؤنا کھیل کھیلا ہے… کچھ بھی ہو جاۓ… میں انیتا کو حدید کی نہیں ہونے دوں گا” وہ کہتا چلا گیا, غاشیہ نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“اس عورت کو اپنی انا ہر چیز سے بڑھ کر عزیز ہے… اور میں اس کی نظروں کے سامنے اس کی انا کے ٹکڑے کر دوں گا…میں انیتا نام کی اس تلوار کو تمہارے سر پر سے ہمیشہ کے لئے ہٹا دوں گا” ارمغان نے بہت محبت سے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے
اپنے بچے کے اس دنیا میں آنے تک یہاں رہو, یہ تمہارے بھائی کا گھر ہے… پھر میں خود تمہیں تیمور ملک کے گھر لیکر جاؤں گا, میں خود حدید کو سب کچھ بتاؤں گا, اور اب کی بار وہ تمہیں پوری عزت کے ساتھ تمہارے باپ کے گھر سے لیکر جاۓ گا, اس کا باپ اور اس کی بڑی بھابھی خود چل کر آئیں گے تمہیں لینے… یہ میرا وعدہ ہے تم سے… حدید تمہارا ہے…. اور ہمیشہ تمہارا ہی رہے گا بس ذرا اس کی عقل ٹھکانے آنے دو, تم سے محبت کر کے بس فرض پورا ہو گیا اس کا ؟؟؟ اس محبت پر اعتبار کہاں گیا ؟؟؟ اس نے اس رات میرا منہ کیوں نہیں توڑا ؟؟؟ چپ چاپ تمہیں اس جلاد عورت کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ گیا ؟؟تڑپنے دو اسے… ” وہ کہتا چلا گیا
“پتہ نہیں وہ تو مجھے ڈھونڈے گا بھی یا نہیں… ” غاشیہ نے بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائی تھی, اس سے پہلے کہ ارمغان کچھ کہتا, اس کا سیل بجا, اسماء کی کال تھی, اس نے ایک نظر غاشیہ کو دیکھتے ہوئے سپیکر آن کر دیا
“ہیلو…. ” اسماء کی آواز جیت کے نشے میں سرشار تھی
“کہیں… ؟؟؟” وہ بولا
“میں آج بہت خوش ہوں ارمغان… چلو جلدی سے بتاؤ کہ تمہیں کیا چاہئے ؟؟؟” وہ پوچھ رہی تھی, ارمغان کے لبوں پر ایک پر اسرار سی مسکراہٹ بکھر گئی
“آپ نے وعدہ کیا تھا کہ جو مانگوں کا دیں گی ” وہ بولا
“میں اپنے وعدے پر قائم ہوں…بولو کیا چاہئے ؟؟؟ گھر, زمین, پیسہ… ؟؟؟” اسماء نے کہا
“انیتا راۓ… ” اصل دھماکہ تو اب ہوا تھا, اسماء بول نہیں سکی, ارمغان اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو محسوس کر سکتا تھا
………………………….
وہ آج کالج سے واپسی پر حریم کی طرف چلا آیا, پچھلے ایک ہفتے سے اس نے سارہ کی نا تو شکل دیکھی تھی اور نا ہی آواز سنی تھی, دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے موٹر سائیکل کا رخ حریم کے گھر کی طرف موڑ دیا, سہ پہر کا وقت تھا, چوکیدار سے پہچانتا تھا
“گیٹ کھولوں رافع بابو… ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں بس ابھی چلا جاؤں گا ” اس نے موٹر سائیکل باہر ہی کھڑی کر دی تھی, اندر آیا تو پورے گھر میں خاموشی سی لگی, بس سارہ کے رونے کی آواز آ رہی تھی
“حریم… حریم…. ” وہ اسے پکارتا ہوا اندر آ گیا, سارہ مسلسل رو رہی تھی, وہ تڑپ ہی تو گیا, تیزی سے اس نے آگے ہو کر کمرے میں جھانکا, وہاں ملازمہ ٹی وی لگاۓ بیٹھی تھی, وہ بھاگ کر حریم کے کمرے کی طرف گیا
اس کی دس ماہ کی گڑیا بے یارو مددگار سی بستر پر پڑی بلک رہی تھی, رافع نے اسے اٹھایا تو وہ بیچاری نیچے سے گیلی ہوئی پڑی تھی, اتنے میں ملازمہ بھاگ کر آئی
“تمہیں سنائی نہیں دیتا کہ بچی مسلسل رو رہی ہے… ” وہ اس پر چڑھ دوڑا
“وہ… صاحب… بے بی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے, پرسوں سے بخار ہے اسی لیے ہر وقت روتی رہتی ہے” ملازمہ نے کہا
“اس کی ماں کہاں ہے ؟؟؟” رافع نے اس کا گیلا پیمپر اتارتے ہوئے پوچھا
“وہ جی علی صاحب کی سالگرہ تھی تو… بی بی جی اور باقی گھر والے وہاں گئے ہیں” ملازمہ نے کہا, رافع کو جیسے قہر چڑھ گیا
“اس کا فیڈر بنا کر لاؤ… ” وہ زور سے دہاڑا, ملازمہ جلدی سے کمرے سے باہر نکل گئی, سارہ واقعی تپ رہی تھی, اس نے پیپمپر تبدیل کروا کر اسے گرم کپڑے پہناۓ اور کمبل میں لپیٹ لیا
“کتنی دیر ہو گئی اسے سیرپ پلاۓ… ؟؟” وہ اسے گود میں لیکر بیٹھ گیا تھا
“صبح پلایا تھا جی… ” ملازمہ نے فیڈر اسے پکڑا دیا, رافع نے پہلے تو اسے ایک چمچ سیرپ پلایا پھر اس کے منہ میں فیڈر دے دیا, ساتھ ہی اس نے حریم کو کال ملائی تھی
“صرف پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس… فوراً گھر آؤ” وہ سرد ترین لحجے میں بولا
“کیا ہو گیا رافع ؟؟؟” حریم کے پیچھے میوزک کی آواز آ رہی تھی
“گھر آؤ پھر بتاتا ہوں” وہ کال کاٹ گیا, اس کے بعد اسے حریم اور فاخر دونوں کی کالز آتی رہیں لیکن اس نے نہیں اٹھائی, سارہ اس کے وجود کی گرمائش پا کر اس کی گود میں ہی سو گئی تھی, کچھ دیر بعد باہر گاڑی کا ہارن سنائی دیا
“کہاں ہے رافع ؟؟؟” حریم کی بھڑکتی ہوئی آواز سنائی دی تھی اور پھر وہ تن فن کرتی کمرے میں داخل ہوئی
“کیا آفت آ گئی تھی تمہیں ؟؟؟” وہ اس پر چڑھ دوڑی, رافع نے سارہ کو بستر پر لٹایا اور حریم کی کلائی جکڑتے ہوۓ باہر لے آیا, اس کی ماں اور فاخر بھی آ گئے تھے, باقی لوگ ابھی وہیں تھے
“میں جتنی بار یہاں آیا ہوں مجھے تم ایک بار بھی گھر پر نہیں ملیں, کبھی سالگرہ, کبھی شاپنگ, کبھی آؤٹنگ… ہر بار میں نے اس گھر میں داخل ہوتے ہوئے اپنی بچی کا رونا ہی سنا ہے… افسوس ہے مجھے تم جیسی عورت پر حریم صدیقی… وہ بچی بخار میں تپ رہی ہے” رافع نے اسے زور سے صوفے کی طرف دھکیلا تھا
“لڑکے ذرا تمیز سے بات…. ” اس کی ماں بولنے لگی تو رافع نے زور سے اس کے سامنے انگلی کھڑی کر دی
“آپ ایک لفظ بھی نہیں بولیں گی, میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے… بالکل خاموش ” وہ سرد سے لحجے میں کہتا ہوا حریم کی طرف مڑا
“مجھے آج صاف صاف بتا دو کہ اسے ماں بن کر پالنا ہے یا نہیں ؟؟؟”رافع نے پوچھا
“اسے پرسوں سے بخار ہے, دوا لے دی تھی, علی کی سالگرہ تھی تو اسلیے… ” رافع نے دہاڑ کر اس کی بات کاٹ دی
“اس لنگور کی سالگرہ زیادہ اہم تھی کہ تمہاری دس ماہ کی بچی ؟؟؟” رافع چیخ کر بولا, حریم چپ رہ گئی
“تمہیں اپنی بچی کا اتنا ہی خیال ہے تو لے جاؤ اسے, تم بھی تو باپ ہو, جاؤ تم پال لو اسے…” حریم کی ماں نے تڑخ کر کہا, رافع دوڑ کر اندر گیا اور سارہ کو اٹھا لایا, حریم کا خلع کا کیس بھی عدالت میں چل رہا تھا, آخری مصالحتی کوشش پرسوں ہونی تھی
“امی لیکن… ” وہ ذرا سا تڑپی تھی
“جانے دے اسے, دو دن بھی نہیں پال سکے گا, پھر خود ہی چھوڑ جاۓ گا” اس نے حریم کا بازو پکڑ لیا
“رافع میری بات سنو… ” اس نے رافع کے پیچھے جانا چاہا لیکن اس کی ماں اسے جکڑے کھڑی رہی
“حریم… بس کر, اس کا بھی خون ہے وہ, اسے بھی تھوڑا ذلیل ہونے دے” اس کی ماں پتھر بن گئی تھی, رافع سارہ کو لیے نکلتا چلا گیا, بڑی مشکلوں سے وہ اسے اپنے ساتھ لگاۓ شافع کے بینک تک آیا تھا
“گاڑی کی چابی چاہئیے ؟؟؟” شافع اسے دیکھ کر حیران رہ گیا
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” وہ چابی اسے تھماتے ہوۓ بولا
“میں اپنی بیٹی کو لے آیا ہوں” وہ مختصراً کہہ کر باہر نکل گیا, وہاں سے سیدھا ایک پرائیوٹ کلینک پر آیا, سارہ کا چیک اپ کروایا, اس کے ٹیسٹ کرواۓ اور دوائیں خریدیں, اس بچی کو نمونیہ ہو گیا تھا
رات کے آٹھ بج رہے تھے جب وہ اسے لیکر گھر واپس آیا تھا
……………………………….
وہ چاۓ کے دو کپ پکڑے کمرے میں داخل ہوئی تھی, دفعتاً اسے لگا جیسے چکر آ رہا ہو, پچھلے کئی دنوں سے اس کی طبیعت یونہی مضمحل سی تھی, بڑی مشکلوں سے اس نے خود پر قابو پایا, خالد کا کپ ساییڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے جیسے ہی سیدھی ہوئی, پھر سے زور دار چکر آیا تھا, وہ یکدم لہرا سی گئی, اس کی چیخ سن کر خالد جلدی سے واش روم سے باہر نکلا, وہ اپنا گرم گرم بھرا ہوا کپ اپنے اوپر گرا چکی تھی
“شازیہ کیا ہو گیا ؟؟” خالد نے اسے سہارا دے کر اٹھایا, دایاں ہاتھ کلائی سے اوپر تک جل گیا تھا, خالد نے جلدی سے گرم چاۓ صاف کرتے ہوئے اس پر کوئنچ لگائی, شازیہ کی آنکھوں سے مسلسل پانی نکل رہا تھا
“کیسے گر گئیں ؟؟؟” اس نے پوچھا
“چکر آ گیا تھا… ” وہ گھومتے سر کو بیڈ کی پشت سے لگاتے ہوئے بولی, خالد نے جلدی سے طہٰ کو بلا لیا
“اس کا بی پی چیک کر ذرا… ” اس نے کہا
“100/60…”
طہٰ نے بغور شازیہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“چلو آؤ تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلوں ؟؟؟” خالد نے شازیہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“نہیں بس میں دو پینا ڈول کھا لوں گی, مجھے نہیں جانا کہیں بھی… ” وہ آنکھوں پر بازو رکھتے ہوئے بولی, طہٰ چپ چاپ باہر نکل گیا
“شازیہ… ” خالد اس کے سرہانے آ بیٹھا
“یار سب ٹھیک ہو جاۓ گا… ٹینشن کس بات کی ہے ؟؟؟” وہ دھیرے دھیرے اس کا سر دباتے ہوۓ بولا, تبھی طہٰ اس کے لئے سپلیمنٹ کا گلاس لے آیا
“یہ پی لیں شازیہ باجی… پھر بھی بہتر نہ ہوا تو انجکشن لگوا لیں گے” وہ گلاس ٹیبل پر رکھ کر باہر چلا گیا
“اٹھو… ” خالد نے اسے اپنے کندھے سے لگا کر گلاس آگے کر دیا, شازیہ نے ابھی دو گھونٹ ہی بھرے تھے کہ باہر سے کچھ شور س سنائی دیا
“میں دیکھتا ہوں… ” وہ اسے گلاس پکڑاتے ہوۓ باہر نکل آیا اور ٹی وی لاؤنج میں کھڑے حدید کو دیکھ کر ساکت رہ گیا
“غاشیہ… یہاں ہے ؟؟؟” اس نے بڑے تھکے سے لحجے میں پوچھا تھا
“حدید بھائی… کیا ہوا ؟؟؟” طہٰ اس کی سرخ آنکھوں سے گھبرا گیا تھا
“غاشیہ…کہیں چلی گئی ہے طہٰ… وہ مجھے نہیں مل رہی ” حدید جیسے ٹوٹ سا گیا
“کہاں چلی گئی وہ ؟؟” طہٰ دم بخود رہ گیا
“پتہ نہیں… ہر جگہ ڈھونڈ لیا, سارے قریبی ہسپتال, پارک, ہوٹلز…کہیں بھی نہیں ملی, پرسوں رات سے غائب ہے… یہاں تو نہیں آئی…. ؟؟؟” وہ بولا
“نہیں… ” طہٰ سے بولا نا گیا
“ہوا کیا ہے آخر… ؟؟؟” خالد آگے کو آیا, شازیہ اور ناشیہ دونوں باہر نکل آئی تھیں, تیمور ملک اپنے کمرے میں سو رہے تھے
“جھگڑا ہوا تھا… کوئی اسے تنگ کر رہا تھا کافی عرصے سے, بس غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں اور… ” حدید سب کچھ کہتا چلا گیا
“حدید تجھ پر افسوس ہے… تیرے باپ اور بھابھی نے تیری بیوی کو رات کے اندھیرے میں گھر سے نکال دیا اور… تجھے پتہ بھی نہیں… تو کہاں تھا اس وقت ؟؟؟” شازیہ اس پر چڑھ دوڑی تھی, حدید بول نہ سکا
“میں اسے یہ ہی تو کہتی تھی کہ جو شخص اپنی بہن کو معاف نہیں کر سکا, وہ تجھے کیسے قبول کر لے گا… ؟؟؟ خدا جانے کہاں ہو گی وہ… ؟؟؟؟ کس حال میں ہو گی… ؟؟ اوپر سے پریگنینٹ ؟؟؟” شازیہ بے حال سی صوفے پر گر گئی
“کسی دوست کے پاس نہ چلی گئی ہو ؟؟؟” خالد نے کہا
“حدید بھائی… چلیں آئیں اسے ڈھونڈتے ہیں, ناشیہ اس کی ساری دوستوں کو فون کر کے پوچھو… ” طہٰ نے کہا
“گمشدگی کی رپورٹ لکھوا دوں ؟؟؟” خالد نے پوچھا
“ابھی رک جائیں… ” طہٰ اسے کہتا ہوا حدید کے پیچھے ہی باہر نکل گیا تھا
…………………………
وہ کچن میں تھی جب اس کا سیل بجا, انجان نمبر سے کال تھی, اس نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کال اٹینڈ کر لی
“ویسے یہ زیادتی ہے آپ کی, میری باری آئی تو کال ہی نہیں اٹھاتیں آپ… ” دوسری طرف ارمغان تھا, اسماء لب بھینچ کر رہ گئی, وہ واقعی کل سے اس کی کالز اٹینڈ نہیں کر رہی تھی
“زیادتی تم کر رہے ہو ؟؟؟” اسماء پھنکاری
“غلط بات… ہماری کمٹمنٹ ہوئی تھی کہ میں آپ کا کام کروں گا اور آپ میرا…” وہ بولا
“ارمغان… تم جو چاہے لے لو, جتنی مرضی رقم لے لو…”اسماء ہار سی گئی
“مجھے پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے, بہت ہے میرے پاس, گھر بھی ہے, جاییداد بھی بنا لوں گا, کاروبار بھی ہے, بینک بیلنس بھی خود ہی بنا لوں گا… مجھے آپ کی سب سے چھوٹی بہن صاحبہ چاہیئے بس… ” وہ کہتا چلا گیا
“ارمغان… فضول باتیں مت کرو, انیتا کسی کمٹمنٹ کا حصہ نہیں تھی” وہ بولی
“آپ کے لئے نہیں ہو گی… میرے لئے تو تھی… شروع سے تھی” وہ بولا
“ایسا کبھی نہیں ہو سکتا… انیتا کی شادی میں حدید سے کرواؤں گی” اسماء نے غصے سے کہا
“چلیں پھر میں بھی دیکھتا ہوں کہ انیتا کی شادی حدید سے کیسے ہوتی ہے ؟؟؟ عین شادی والے دن بم نا پھوڑا تو پھر کہنا… ” ارمغان کا لحجہ ذرا سخت ہو گیا
“تم مجھے بلیک میل کر رہے ہو ؟؟؟” اسماء دبے دبے سے لحجے میں بولی
“تو اور یہ سب کیوں کیا ہے میں نے ؟؟؟ آپ کی محبت میں تو نہیں کیا… ہاں انیتا کی محبت میں ضرور کیا ہے” وہ ہنسا تھا
“ارمغان… اپنی اوقات میں رہو” اسماء کو اچھا ہی غصہ آ گیا
“اتنی چھوٹی اوقات بھی نہیں ہے میری کہ انیتا مجھے مل نہیں سکتی… ” وہ بولا
“انیتا کےعلاوہ جو چاہے مانگ لو… ” اسماء ذرا سی ڈھیلی پڑی تھی, انیتا کی خاطر تو سارا کھیل رچایا تھا اس نے… غاشیہ کو حدید کے دل سے کھرچ کر انیتا کا ہی تو نام لکھنا تھا اس نے… لیکن ارمغان تو سارا پلان ہی چوپٹ کر رہا تھا
“میری ایک بات کان کھول کر سن لیں اسماء راۓ… میں نے اس معصوم اور بے قصور لڑکی کو صرف اسلیے نہیں اجاڑا کہ اس کی بربادی کے بدلے بس آپ سے دس, بیس لاکھ روپے مانگ لوں… جان کا بدلہ جان ہوتی ہے اور عزت کا بدلہ عزت… غاشیہ کے بدلے انیتا… یہ ہی میرا سودا ہے… صرف ایک ہفتہ ہے آپ کے پاس… پھر یہ گھناؤنا سچ سب سے پہلے حدید کو بتاؤں گا” ارمغان کہتا ہوا کال کاٹ گیا تھا
………………………
اس دن اتوار تھا, شافع اور رافع دونوں گھر پر ہی تھے, رافع نے تو اپنا دن رات سارہ کے لئے وقف کر دیا تھا, اب بھی وہ اسے ہلکی ہلکی دھوپ میں لٹاۓ, بڑی محبت سے اس کے بازوؤں اور ٹانگوں کی مالش کر رہا تھا, پاس ہی شافع رحمہ کو ہوم ورک کروا رہا تھا, راحم کو بھی اس نے مونٹیسوری میں داخل کروا دیا تھا, روبینہ بھی پاس ہی چارپائی پر لیٹی ہوئی تھیں, تبھی بیرونی دروازہ کھلا, اندر آنے والے نفوس بالکل انجان سے لوگ تھے
“ہمیں شافع انصاری سے ملنا ہے… ” اس آدمی نے کہا
“میں ہی ہوں شافع… آپ کون… ؟؟؟” وہ کھڑا ہوتے ہوئے بولا
“تم… سیٹھ بابر کے داماد ہو ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں جی… ” شافع نے کہا
“میں… صفوان کا باپ ہوں… نفیس ملک” وہ بولا
“اور یہ اس کی ماں ہے فرزانہ… ” نفیس نے فرزانہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا, شافع انہیں دیکھتا رہ گیا
“بیٹے… یہ دیکھ میرے جڑے ہاتھ… میرے بچے کو معاف کر دے, وہ کئی ہفتوں سے سیٹھ بابر کے ڈیرے پر قید ہے, پولیس بھی کوئی ہاتھ نہیں پکڑا رہی, بیٹے تو اسے کہہ کہ میرے بچے پر رحم کرے, اس کے آدمی دن رات اس کے ساتھ مار پیٹ کرتے ہیں, ملنے بھی نہیں دیتے اس سے… ” فرزانہ نے یکدم روتے ہوئے شافع کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے
“آپ لوگ اندر آ جائیں… ” شافع انہیں لیکر اندر چلا آیا
“اس نے اپنی بھتیجی کو تو ہاتھ تک نہیں لگایا… اسے تو گھر میں رکھا ہوا ہے حالانکہ جرم تو اس کا بھی یہ ہی ہے” فرزانہ نے کہا
“وہ بھی قید ہے بہن… اس کے بھی دو چھوٹے چھوٹے بچے ماں کو ترس رہے ہیں, وہ بھی اس دن کے بعد سے یہاں نہیں آئی… ” روبینہ نے کہا
“دیکھ بیٹا… سیٹھ سے کہہ کہ میرے بیٹے کو چھوڑ دے, میں وعدہ کرتا ہوں کہ وہ یہیں اسی شہر میں رہے گا… میں اسے گھر میں رکھوں گا, وہاں تو اس کے لوگ اسے مار دیں گے… اس کی حالت نہیں دیکھی جاتی” نفیس بھی رو پڑا تھا, شافع نے ایک لمبی سانس بھری
“انکل جی… آپ کو اندازہ ہے کہ آپ کے بیٹے نے کیا کیا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“اس سے غلطی ہو گئی…. ” شافع نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اس کی بات کاٹ دی
“اسے غلطی نہیں کہتے, وہ شادی شدہ تھا, ایک بچہ تھا اس کا اور ایک بچے کے باپ سے غلطی نہیں ہوتی… گناہ ہوا ہے اس سے… اس نے ایک عورت کو ورغلایا ہے, وہ عورت جو شادی شدہ اور دو بچوں کی ماں تھی, زنا کیا ہے اس نے, اور جانتے ہیں زانی کی سزا کیا ہے ؟؟؟؟” وہ کہتا چلا گیا
“سنگساری… سو کوڑے… ” وہ بولا
” کوڑے تو پھر اس عورت کو بھی لگنے چاہیں ” فرزانہ نے کہا
“بات اس عورت کی نہیں ہے آنٹی… بات یہ نہیں ہے کہ قصوروار کون ہے ؟؟؟ دونوں قصوروار ہیں… کوڑے دونوں کے لگنے چاہیں… مجھے بس اتنا بتا دیں کہ پہل کون کرتا ہے ؟؟؟ ایک مرد…. یا ایک عورت ؟؟؟” اس نے پوچھا, وہ دونوں چپ رہ گئے
“کون ورغلاتا ہے ؟ کون شہہ دیتا ہے؟ کون شروعات کرتا ہے ؟ کون جھانسہ دیتا ہے ؟ کون بڑھاوا دیتا ہے؟ ایک مرد… ایک مرد…عورت اس کے بعد قصوروار ہوتی ہے کیونکہ وہ کمزور ہوتی ہے, وہ بہکاوے میں جلد آ جاتی ہے, میٹھی میٹھی باتوں پر جلد ریجھ جاتی ہے… میں یہ نہیں کہہ رہا کہ عورت بے گناہ ہے… لیکن مرد اس سے زیادہ گنہگار ہے… ” وہ کہتا چلا گیا
“بیٹے میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں… میرا بچہ مجھے دلوا دے, سیٹھ تیری بہت مانتا ہے, اسے کہہ میرے بچے کو چھوڑ دے” فرزانہ نے روتے ہوئے دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑ دیئے
“بس کریں آنٹی… ہاتھ نہ جوڑیں, میں بات کرتا ہوں ان سے… ” شافع نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا تھا
……………………………
وہ آج آمنہ سے ملنے آئی تھی, اس کے تو پیروں میں آگ لگی پڑی تھی, سارا پلان ہی چوپٹ ہو رہا تھا, ابھی تو حدید کو رام کرنا تھا, پھر انیتا کے لئے منانا تھا, اسے یہ بھی ڈر تھا کہ غاشیہ کہیں سے دوبارہ ہی نہ پلٹ آۓ… اوپر سے ارمغان نے نیا شوشہ چھوڑ دیا تھا
“امی… آپ سے ایک بات کرنی تھی” وہ بوکھلائی پڑی تھی
“اسماء تجھے خیر تو ہے ؟؟؟” آمنہ تاڑ گئی تھیں
“اسراء کا تیسرا نوٹس آ گیا؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… کل آیا ہے” وہ افسردگی سے بولی تھیں
“امی… میں سوچ رہی تھی کہ اسراء کے لئے ارمغان کیسا رہے گا ؟؟؟” اس نے دھیرے سے کہا
“میں نے تیرے کہنے سے پہلے ہی تیرے باپ سے بات کی تھی, انہوں نے صاف انکار کر دیا ہے ارمغان سے بات کرنے کو, کہتے جب انیتا اسے نہیں دینی تو اسراء کیوں ؟؟؟” آمنہ نے کہا, وہ دونوں ماں بیٹیاں بالکل ایک جیسی تھیں
“امی… ابو کو تھوڑا زور دے کر منائیں, اسراء, ارمغان کی ہم عمر ہے, اور ان دونوں میں کافی بنتی بھی ہے, اور امی…. وہ ہے تو خالہ کا خون ہی نا… ابو اسے کہیں گے تو وہ ضرور مان لے گا, وہ ابو کی کوئی بات نہیں ٹالتا… ” اسماء کہتی چلی گئی
منافقت کی انتہا تھی… انیتا کا رشتہ اسے نہیں دینا تھا, تب وہ پرایا تھا, باہر والا تھا… بے غیرت باپ کی اولاد تھا… لیکن اسراء کی دفعہ وہ… خالہ کا خون تھا
کیوں ؟؟؟ کیونکہ انیتا کنواری تھی, اس سے چھوٹی تھی, سب کی لاڈلی تھی
جبکہ اسراء طلاق یافتہ تھی, اس کی عمر بھی زیادہ تھی
اسراء کی دفعہ ان دونوں ماں بیٹیوں کا معیار ہی بدل گیا تھا, اس کی دفعہ ارمغان اچھا لگنے لگا تھا
“اسماء…. تیرے ابو نہیں مانتے… انہوں نے کورا انکار کر دیا ہے مجھے” آمنہ نے کہا
“میں خود بات کروں گی ابو سے… ” وہ بولی, اسے بس جلد از جلد اسراء اور ارمغان کا رشتہ طے کروانا تھا, کونسا وقت ہو اور عمر فاروق ارمغان کو اسراء کے لئے راضی کر لیں
“اسراء بھی نہیں مانے گی ” آمنہ نے کہا
“اسے میں خود منا لوں گی” اسماء نے کہا, جیسے ہی عمر فاروق گھر آۓ, وہ ان کے سر ہو گئی
“ابو آپ ارمغان سے بات کریں نا… ؟؟؟” مسلسل اصرار
“اسماء… ابھی کل اس کا تیسرا نوٹس آیا ہے, تین ماہ کی عدت گزارنی ہے اس نے, اور میں منہ اٹھا کر اس کے رشتے کی بات کرنا شروع کر دوں” وہ تڑخ گئے
“پھر کیا ہوا… ارمغان کونسا کوئی غیر ہے ؟؟؟” اسماء نے کہا
“مجھے صرف ایک بات واضح کر دو تم دونوں ماں بیٹیاں… جو انیتا کے لئے ٹھیک نہیں ہے… وہ اسراء کے لئے ٹھیک کیسے ہے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا, آمنہ بس اسماء کو دیکھ کر رہ گئیں
“اسراء کی عمر دیکھیں… کوئی کنوارہ تو نہیں ملے گا اب اسے… ” اسماء نے کہا
“تو میرا بیٹا اس کی فکر چھوڑ اور اپنا گھر بار دیکھ… اسے کنوارہ ملے یا رنڈوا… یا کوئی بھی نا ملے… تجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے” عمر فاروق نے رسان سے کہا تھا
“لیکن ابو…. ” انہوں نے اس کی بات کاٹ دی
“اس نے مجھ سے انیتا مانگی تھی… میں نے نہیں دی… اب میں خود ہی اسے کہوں کہ اسراء لے لے …کبھی بھی نہیں… قیامت تک نہیں” انہوں نے دو ٹوک لحجے میں کہا تھا
اب اسماء کے چھکے چھوٹے تھے