121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

چھٹی قسط
دوپہر تقریباً ایک بجے کا وقت تھا, نیلا آسمان یکدم ہی گہرے سیاہ بادلوں سے بھرتا چلا گیا, کچھ ہی دیر میں ٹھنڈی ہواؤں کے جھکڑوں نے موسم کو انتہائی خوشگوار کر دیا تھا…
“آنے سے پہلے مجھے تو بتا دیتے…. ” وہ دونوں سیکینڈ فلور کی ریلنگ کے پاس کھڑے تھے, ہر بار ہوا کا جھونکا آتا اور اس کا ریشمی دوپٹہ سر پر سے ڈھلک جاتا, بالوں کی لٹیں ہوا میں جھولنے لگتیں… ہر بار وہ انہیں کانوں کے پیچھے اڑس کر دوپٹہ سر پر کھینچ لیتی, رافع بڑی دیر سے اس کے اور ہوا کے اس کھیل کو دیکھنے میں مگن تھا
“بتا دیتا تو تم آنے ہی نہیں دیتیں… ” وہ ستون سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا, ناشیہ بہت دیر تلک اس کی آنکھوں میں جھانک نہ سکی
“بس کرو رافع… کوئی فایدہ نہیں ہے اس سب کا” وہ سامنے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی
“ابھی ایک ہفتہ ہے میرے پاس… ” وہ دونوں بازو سینے پر باندھتے ہوئے بولا
“تم دوبارہ گھر نہیں آؤ گے… بس” وہ اس کی طرف مڑتے ہوۓ بولی, رافع بنا کچھ کہے اسے دیکھتا رہ گیا
“رافع… ” ناشیہ نے دھیرے سے اسے پکارا تھا
“ہوں… ” وہ ہنوز اسے دیکھ رہا تھا
“مجھے ایسے نہ دیکھا کرو… ” وہ بولی
“ایک تمہیں حسرت سے دیکھنا ہی تو میرے اختیار میں رہ گیا یے… اب اسے بھی چھین لو ؟؟؟” وہ بولا تھا, تبھی وہ آوارہ سا جھونکا پھر آیا, دوپٹہ لہرا سا گیا, لٹیں ادھر ادھر جھولنے لگیں, اس سے پہلے کہ ناشیہ انہیں دوبارہ کانوں کے پیچھے کرتی, رافع بے خود سا اس کی طرف بڑھا تھا, بڑے حق سے اس نے ناشیہ کے چہرے پر اڑتی لٹوں کو اس کے کانوں کے پیچھے اڑسا تھا, لمحوں میں بوندیں گرنے لگیں, ناشیہ نے دوبارہ رخ موڑنا چاہا… بوندیں تیزی سے گرنے لگی تھیں, رافع نے اپنی دو انگلیوں سے اس کی ٹھوڑی کو اپنی طرف موڑا, ناشیہ کے تمتماتے ہوۓ عارض اور کپکپاتے ہوۓ لب اس کے عین سامنے تھے, بارش موسلا دھار برس رہی تھی, ہوا کے جھونکوں نے انہیں بھگو سا دیا تھا, ناشیہ نے نظر بھر کر اس کی آنکھوں میں جھانکا, وہ بس اس سے چند انچ کی دوری پر تھا
“ناشیہ… میں ساری عمر بھی تمہارا خسارہ نہیں بھر پاؤں گا” وہ اس لمحے بے خودی اور بے بسی کی انتہاؤں پر تھا
“خسارہ صرف تمہیں ہی تو نہیں ہوا رافع انصاری… ” ناشیہ نے ایک ہاتھ سے اس کی انگلیوں کو اپنے چہرے سے دور کیا تھا, اس سے پہلے کہ رافع کچھ کہتا یا ناشیہ وہاں سے ہٹتی… سٹاف بواۓ ان دونوں کی طرف آیا
“سر… یہ آپ کے لئے ” اس نے ایک کارڈ رافع کی طرف بڑھا دیا… وہ ناشیہ کا ویڈنگ کارڈ تھا, رافع اسے ہاتھ میں پکڑے دیکھتا رہ گیا
“یہ زیادتی ہے… ” وہ شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا
“تم بھی اپنی شادی کا کارڈ مجھے یونہی دے دینا… حساب برابر ہو جاۓ گا” ناشیہ نے دھیرے سے کہا تھا
“میں بھلا کس سے کروں گا شادی ؟؟؟؟” وہ پھیکا سا ہنسا
“تمہارے لیے کونسا ناشیہ ملک آخری لڑکی ہے… ذرا اپنے ارد گرد تو دیکھو…ہزاروں تیار ہیں تم پر واری صدقے جانے کے لئے ” وہ دھیمے سے مسکراتے ہوئے وہاں سے ہٹ گئی تھی, رافع نے حیرانی سے نیچے کی طرف دیکھا…
وہ حریم تھی… حریم صدیقی
……………………………
وہ کالج سے گھر آئی تو بڑی افراتفری سی مچی ہوئی تھی, تیمور ملک کہیں جانے کے لئے تیار کھڑے تھے, شازیہ بھی نیا جوڑا پہنے چادر ہاتھوں میں لیے کھڑی تھی
“ابو… ناشیہ آ گئی” وہ اسے دیکھ کر چادر لینے لگی
“کہاں جا رہے ہیں آپ لوگ ؟؟؟” وہ حیرانی سے بولی
“صفوان کا کل ایکسیڈینٹ ہوا ہے, بائیک پر سے گر گیا, اس کا پتہ کرنے جا رہے ہیں ” شازیہ نے جلدی سے کہا اور باہر نکل گئی
“شام تک آ جائیں گے ” تیمور ملک اسے تاکید کرتے ہوئے باہر نکل گیے تھے
فرزانہ کی طرف پہنچے تو صفوان کا واقعی ستیاناس سا ہوا ہوا تھا…ماتھے پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور چہرے اور بازو پر جا بجا چوٹیں آئی ہوئی تھیں
“اوۓ یہ کیا حال بنا لیا ہے شادی کے عین سرے پر… ؟؟؟” شازیہ تو اس ہر چڑھ دوڑی, وہ بیچارہ مسکرا بھی نہ سکا
“نظر لگ گئی کسی کی میرے بچے کو… لوگوں سے برداشت ہی نہیں ہوتا کسی کا ترقی کرنا” فرزانہ جلدی سے بولیں
“اب کیا حال ہے ؟؟؟” تیمور نے پوچھا
“اب تو ٹھیک ہوں ماموں… ” وہ بولا
“فریکچر تو نہیں ہوا… ؟؟؟؟” انہوں نے پھر پوچھا
“نہیں بھائی جان… بچت ہو گئی ہے” فرزانہ کے شوہر نفیس نے کہا, وہ پنساری کی دوکان چلاتے تھے, صفوان سے چھوٹی دو بہنیں اور ایک بھائی تھا
“شادی تک فٹ فاٹ ہو جانا… فرزانہ اسے کچھ کھلا پلا… جان بنا اس کی” تیمور ملک اس کے ہاتھوں میں پانچ ہزار کا نوٹ پکڑاتے ہوۓ بولے تھے جسے اس نے ذرا سی پس و پیش کے بعد پکڑ لیا تھا
“ٹھیک ہے بھائی جان… آپ بے فکر ہو جائیں ” نفیس نے جھٹ سے کہا تھا
………………………..
وہ تینوں نفوس رات کا کھانا کھا رہے تھے, بات کہیں اور سے شروع ہوئی اور انیتا کی شادی پر آن رکی
“نجمہ آج بھی دو رشتے بتا کر گئی ہے… ” آمنہ نے کہا
“آمنہ… اگر ضد چھوڑ دو گی تو کیا ہے ؟؟؟” عمر فاروق نے کچھ توقف کے بعد دھیرے سے کہا تھا, آمنہ پہلے تو سمجھ نہ سکیں.. پھر جب سمجھ آئی تو انہیں گھورنے لگیں
“عمر یہ بات ابھی اسی وقت ختم ہو گئی… دوبارہ شروع نہ کرنا” وہ غصے سے بولی تھیں
“آخر حرج کیا ہے ؟؟؟” وہ بولے
“میرے لیے قطعی ناقابل برداشت ہے وہ لڑکا… ” آمنہ نے کہا
“وہ تمہاری بہن کا خون ہے آمنہ… ” عمر فاروق نے کہا
“وہ میرے لیے اسی رات مر گئی تھی جس رات وہ بنا کسی کی پرواہ کیے اس گھر سے چلی گئی تھی” آمنہ زور سے بولیں
“آمنہ…اسے اس دنیا سے گیے چھبیس سال ہو چکے ہیں… چھبیس سال… خدارا اب تو بخش دو اسے” عمر فاروق تاسف سے بولے تھے
“بخش دیا… لیکن میں اپنی بچی اس کے بیٹے سے نہیں بیاہوں گی” وہ ڈٹ کر بولی تھیں, انیتا چپ چاپ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی
“اس نے آخر بگاڑا کیا تھا تمہارا ؟؟؟ چلو مان لیا کہ اس کی جگہ تمہاری مجھ سے شادی ہو گئی, چلو مان لیا کہ میں تم سے چھ سال بڑا تھا, چلو مان لیا کہ میں بھی تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن… تمہیں میری ذات سے کبھی کوئی دکھ ملا ہو تو بتاؤ آمنہ… ؟؟؟ ” عمر فاروق نے پوچھا, آمنہ ہنوز سرخ چہرہ لیے بیٹھی رہیں
“آمنہ… “انہوں نے دھیرے سے پکارا
“وہ حمنہ کا خون ہے… ” انہوں نے کہا
“وہ… اس… بے غیرت کا خون ہے عمر… اس کی اولاد… اس کی نسل…میں اپنی بچی اسے نہیں دوں گی” آمنہ نفرت سے بولی تھیں, عمر فاروق بس انہیں دیکھتے رہ گیے تھے
………………………..
رات کے دس بج رہے تھے جب اس نے لیپ ٹاپ بند کر دیا, بجاۓ بینک میں زیادہ دیر رکنے کے وہ اب باقی کا کام گھر اٹھا لاتا تھا, لیپ ٹاپ بند کر کے وہ اٹھا, فرح دونوں بچوں کے ساتھ بے خبر سو رہی تھی, اسے چارجنگ پر لگا کر اس نے پانی کی بوتل اٹھائی تو وہ خالی تھی, دروازہ کھول کر وہ باہر نکل آیا, ستمبر کے اوائل دن تھے, فریج سے پانی کی بوتل نکال کر وہ جیسے ہی واپس کمرے کی طرف آیا تو یکدم ٹھٹھک گیا, باہر صحن میں کوئی تھا
برآمدے کا زیرو بلب جلاتے ہوئے وہ صحن میں آ گیا, رافع اکیلا ہی باہر چارپائی ڈال کر بیٹھا ہوا تھا, دائیں ہاتھ میں سگریٹ دبا ہوا تھا
“رافع… ” وہ بوتل ہاتھ میں لیے اس کے پاس آ گیا
“یہاں کیوں بیٹھا ہے ؟؟؟ اتنی گرمی میں” وہ حیرانی سے بولا
“اندر دم گھٹتا ہے… “
“تو پنکھا لگا لے باہر… ” شافع کو پسینہ آنے لگا تھا
“ایسے ہی ٹھیک ہے… وہ دھوئیں اڑاتے ہوئے بولا
“اسے تو بند کر دے… “شافع کو کھانسی آ گئی, رافع نے اسے فرش پر پھینک کر جوتے سے مسل دیا
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا, رافع نے چپ چاپ وہ کارڈ اس کی طرف بڑھا دیا
“Nashia Malik weds Safwan Malik… “
شافع نے دھیرے سے پڑھا تھا
“تو پھر اب تو ماتم منا رہا ہے… ” شافع نے پوچھا
“اور کیا ہے میرے اختیار میں… ؟؟؟” رافع نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا, شافع نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“میں نے تجھے پہلے دن کہا تھا رافع کہ ناممکن کو ممکن کرنے کی فضول کوششیں مت کر… جس دن پہلی بار تو نے امی کو اس کے گھر بھیجا تھا اسی دن روکا تھا میں نے تجھے… مجھ سے زیادہ بھی کوئی جانتا ہو گا اس لڑائی کو… ؟؟؟ مجھ سے بڑھ کر بھی کسی نے لڑی ہو گی یہ جنگ… ؟؟؟ ” شافع کہتا چلا گیا
“دل کو قرار کیسے آتا بھلا ؟؟؟” رافع نے کہا
“وہ تو ساری عمر نہیں آۓ گا, چاہے جتنی مرضی سگریٹیں پھونک لے, چاہے جتنی مرضی کوششیں کر لے… ” شافع نے کہا
“بھائی ہفتہ ہو گیا ہے… مجھے ساری ساری رات نیند نہیں آتی… دل پر مسلسل کھچاؤ محسوس ہوتا ہے, ارد گرد بولنے والے لوگ زہر کی طرح برے لگتے ہیں, دل چاہتا ہے بس خاموش ایک کونے میں پڑا رہوں…سینہ گھٹتا رہتا ہے ہر وقت… دو دن سے میں نے کچھ نہیں کھایا… طلب ہی نہیں ہوتی… یہ دیکھیں… میں یہ دو گولیاں کھا کر سونے آیا تھا باہر لیکن… ” وہ اسے خواب آوور گولیوں کی شیشی دکھاتے ہوئے بولا تھا
“یہ محبت جیسے جرم کے کفارے ہوتے ہیں رافع… یہ یونہی ادا ہوتے ہیں ” شافع نے دھیرے سے کہتے ہوئے اسے پانی کی بوتل پکڑائی تھی
“اگر تو کہتا ہے تو تیمور ملک سے ایک دفعہ میں بھی بات کر کے دیکھ لیتا ہوں” شافع نے کہا
“آپ کی مرضی ہے… ” وہ پانی کے گھونٹ بھرتے ہوئے بولا تھا, شافع اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوۓ کھڑا ہو گیا
“بھائی… ” رافع نے دھیرے سے اسے پکارا تھا
“کیا اسے بھلانا ممکن ہو گا ؟؟؟” رافع نے پوچھا
“شاید… ” وہ بولا
“آپ نے بھلا دیا… ؟؟؟” اس نے پھر پوچھا
“شاید… ” شافع مختصراً کہہ کر اندر چلا گیا تھا
وہ اگلے ہی دن تیمور ملک سے سٹور پر ملنے گیا تھا, پورا گھنٹہ ان کے سامنے بیٹھا ان کی منتیں کرتا رہا تھا… اور آخر میں حسب معمول ہار کر واپس آ گیا تھا
…………………….
“زرقا… ” وہ پیپر دیکر فارغ ہوئی تھی, صمد کے آنے میں ابھی تھوڑا وقت تھا سو وہ نوٹس نکال کر وہیں گھاس پر بیٹھ گئی, طہٰ ادے ڈھونڈتا ہوا وہاں آ نکلا تھا اور اب اس کے سامنے بیٹھا اسے پکار رہا تھا
“ہاں… بولو” زرقا کی نظریں نوٹس پر ہی تھیں
“انہیں بند کرو… اور میری بات سنو دھیان سے” طہٰ نے اس کے نوٹس بند کرتے ہوئے کہا
“ہاں… سناؤ… ” وہ بغور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
“زرقا یہ میرا لاسٹ سمیسٹر ہے, اس کے بعد میں کوئی نوکری ڈھونڈوں گا اور پھر شادی کروں گا… تم سے” طہٰ نے اپنا پلان بتایا تھا
“ویری گڈ…” زرقا نے سر ہلاتے ہوئے کہا
“میں اپنی اور تمہاری شادی کے لئے مہم سٹارٹ کرنا چاہ رہا ہوں… مشورہ دو کہ کس سے شروعات کروں ؟؟؟” طہٰ نے پوچھا
“اپنے ابو جان سے… ” زرقا مکمل سیریس تھی
“زرقا… شروعات کرنی یے… اختتام نہیں کرنا” وہ کلس گیا
“طہٰ… میرا خیال ہے ابھی ذرا رک جاؤ… “
“نہیں… پہلے ہی چار سال گزر گئے, اب اور نہیں رکنا میں نے, میری دونوں بہنوں کی عبرتناک کہانیاں میرے سامنے ہیں… ایک کو رشتے قربان کرنے پڑ گئے اور ایک کو محبت… اور تو اور تمہارا وہ ماموں زاد دن رات میرے حواسوں پر سوار ہوا رہتا ہے…” طہٰ کہتا چلا گیا
“طہٰ… میرے خیال سے ہمیں ابھی رک جانا چاہئے, ابھی کچھ زیادہ کام نہیں بگڑا ہے, ابھی میں تمہارے لئے اور تم میرے لئے راتوں کو نہیں جاگتے… ابھی میرے اور تمہارے بیچ کسی تیسرے کے آنے کی گنجائش باقی ہے, ابھی پلٹ جاتے ہیں طہٰ… محبت ہونی تھی سو ہو گئی… معتبر نہ بھی ہو سکی تو کیا… یاد تو رہے گی نا” زرقا کہتی چلی گئی
“زرقا… میں یہاں تمہاری تقریر سننے نہیں آیا… میں نے سوچ لیا ہے, نہ تو غاشیہ کی طرح گھر چھوڑنا ہے اور نا ہی ناشیہ کی طرح محبت کو پھانسی چڑھانا ہے… کچھ ایسا کروں گا کہ سانپ بھی مر جاۓ اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے… ” وہ تیار بیٹھا تھا
“میں کسی سے کوئی بات نہیں کروں گی… ” زرقا نے اسے صاف ہری جھنڈی دکھا دی
“میں غاشیہ جتنی بہادر نہیں ہوں” وہ بولی
“میرا ساتھ بھی نہیں دو گی ؟؟؟” طہٰ نے پوچھا, وہ اس کی طرف دیکھ کر رہ گئی
“طہٰ کیا کرو گے تم ؟؟؟” زرقا نے پوچھا
“حدید بھائی سے بات کروں ؟؟؟” وہ جواباً پوچھ رہا تھا
“کوئی فایدہ نہیں ہو گا… لکھ لو” زرقا نے کہا
“کرنے تو دو… کہیں سے تو شروعات ہو” وہ بولا
“چلو… بیسٹ آف لک” زرقا کھڑی ہو گئی, صمد آ گیا تھا
………………………
اس دن غاشیہ نے واشنگ مشین لگائی تھی, وہ چھت پر کپڑے دھو کر وہیں سکھاتی تھی, بظاہر اسماء کو اوپر کوئی کام نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ اوپر آ گئی, زرقا یونیورسٹی گئی ہوئی تھی اور اسراء اپنے کمرے میں تھی
“تو نے تو ایک سال میں ہی چاند چڑھا دیا پاکیزہ بیگم… ” اسماء نے اسے بھگو کر لگائی تھی, غاشیہ چپ چاپ اپنے کام میں لگی رہی
“ویسے بے حیائی کی بھی ایک حد ہوتی ہے… تو نے تو ساری حدیں ہی پار کر لیں آوارہ… ” اسماء کو نہ جانے کیوں اسقدر پتنگے لگے ہوۓ تھے
“میں آخری بار کہہ رہی ہوں…. نیچے چلی جائیں ” غاشیہ نے کہا
“نہیں تو کیا کر لے گی… بتا ” اسماء زور سے بولی
“اسراء… ” غاشیہ نے زور سے اسے آواز دی تھی
“اور گلا پھاڑ… ” اسماء نے ایک جھٹکے سے اس کا صرف والے پانی سے بھرا ٹب گرا دیا, پوری چھت پانی پانی ہو گئی تھی
“اسماء تمہارے ساتھ مسئلہ کیا یے آخر ؟؟؟” غاشیہ نے ہاتھ میں پکڑی ٹوکری ایک جھٹکے سے نیچے پھینکی تھی
“میرا سب سے بڑا مسئلہ تو ہے… ” وہ بولی
“ایک کام کرو… حدید سے کہو کہ انیتا سے شادی کر لے, میں تمہیں لکھ کر دے دیتی ہوں کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا” غاشیہ نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا
“جب تک تجھ جیسی بدمعاش حدید کے دل میں ہے نا… تب تک کچھ بھی ممکن نہیں ہے” اسماء کی آنکھوں سے نفرت چھلک رہی تھی
“اور تم قیامت تک مجھے اس کے دل سے نہیں نکال سکتی… سمجھی” غاشیہ بڑے طنز سے مسکرائی تھی, اسماء نے غصے سے آگے بڑھتے ہوئے اسے زور سے دھکا دیا, وہ لڑکھرا کر پیچھے کو گر گئی
“اسراء….” غاشیہ نے زور سے آواز دی تھی
“تجھے حدید کے دل سے کیا نکالنا… اس کی زندگی سے ہی نہ نکال دوں ” اسماء نے اسے دوسرا دھکا دیا تھا, وہ دوبارہ دھڑام سے فرش پر گر گئی, پھر اٹھی اور تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی, تبھی اسے اسراء اوپر آتی نظر آئی تھی, وہ بھاگ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھی اور گیلے فرش پر پھسل گئی, منہ کے بل پہلی سیڑھی پر گری, پھسلی اور دو, تین سیڑھیاں گرتی چلی گئی, اسے اسراء نے آدھے میں روکا تھا, غاشیہ کی چیخیں بلند ہو رہی تھیں, اسراء جیسے ہی اسے لیکر نیچی پہنچی…غاشیہ کے کپڑے خون سے تر ہو گئے تھے
………………………
جاری ہے