121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

چوبیسویں قسط
اسماء نے زرقا اور اذن کے لئے سردیوں کی کچھ شاپنگ کی تھی… راۓ عبید نے ہی کہا تھا کہ زرقا کو میکے کی طرف سے سردیوں کے کپڑے بھجوا دیئے جائیں, دن تقریباً بارہ بجے کا وقت تھا جب اسماء اور راۓ عبید دونوں عمر فاروق کے گھر جا پہنچے … سردیوں کے دن تھے… وہ دونوں پیدل ہی نکل پڑے, بس دس, پندرہ منٹ کا فاصلہ تھا… اذن تو آفس گیا ہوا تھا جبکہ باقی لوگ گھر پر ہی تھے
انیتا اور زرقا نے مل کر دوپہر کا کھانا بنایا, ارمغان واپس چلا گیا تھا, ورکشاپ کی ساری ذمہ داری اسی کے کندھوں پر تھی, تین بجے کے قریب وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے
“ماموں جان… بچوں کی جرسیاں خرید کر گھر جانا ہے” اسماء نے کہا
“تو پہلے بتاتی… گاڑی لے آتے ؟؟؟” راۓ عبید نے اسے گھرکا
“میری گاڑی لے جا عبید… ” عمر فاروق نے چابیاں انہیں پکڑا دیں
“اذن لے آۓ گا شام کو واپس… ” انہوں نے کہا
“اذن کو کیوں بھیجنا ہے بھلا… درید دے جاۓ گا” اسماء نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا تھا, راۓ عبید اسے بازار لے آۓ, اسماء نے کوئی آدھا پونا گھنٹہ لگایا تھا
“اسماء… ” راۓ عبید نے واپسی پر اسے پکارا
“جی ماموں جان… “
“زرقا کچھ زیادہ ہی چپ چپ سی نہیں ہو گئی ؟؟؟” وہ آخر کو باپ تھے
“وہ پہلے بھی کب زیادہ بولتی تھی ماموں جان… ” اسماء نے مسکراتے ہوئے کہا
“نئی نئی شادی ہوئی ہے نا… شرما جاتی ہے, آہستہ آہستہ سیٹ ہو جاۓ گی آپ فکر نہ کریں… ” اسماء کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ گاڑی رکتی چلی گئی
“چلو جی… ” راۓ عبید کو غصہ آ گیا
“پنکچر ہو گئی ؟؟؟” اسماء نے پوچھا
“ہاں.. ” وہ باہر نکل آۓ تھے
“گھر تو بہت دور ہے ابھی… “وہ بولی
“تم یہیں رکو میں کسی مکینک کو بلا کر لاتا ہوں ” وہ اسماء سے کہتے ہوئے سڑک پار کر گئے, وہ وہیں سڑک کے ایک طرف کو ہو کر کھڑی ہو گئی
“اسماء بھابھی… کیا ہوا ؟؟” دفعتاً حدید وہاں سے گزرا تھا, وہ گھر جا رہا تھا
“امی کی طرف گیے تھے, گاڑی پنکچر ہو گئی, ماموں جان مکینک کو لینے گئے ہیں” اسماء نے کہا
“آ جائیں میں گھر ہی جا رہا ہوں…ابو کو کال کر دیں گے ” وہ فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے بولا, اسماء ایک نظر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بیٹھ گئی, راۓ عبید کو اس نے بیٹھتے ہی کال کر دی تھی
“نئی گاڑی لی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں… آفس والوں نے دی ہے” حدید نے کہا
“تمہارا اور غاشیہ کا کوئی پھڈا چل رہا ہے کیا ؟؟؟” اسماء نے سن گن لینا چاہی تھی
“نہیں تو… کیوں ؟؟؟” وہ بولا
“اکثر ہی لڑائی جھگڑے کی آوازیں آتی ہیں نا…. ” اسماء نے طنز سے کہا تھا
“دو سال پرانے ہو گئے ہیں اسماء بھابھی…آوازیں تو آئیں گی نا” وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا, گاڑی اشارے پر آہستہ ہوئی تھی, تبھی حدید کی نظر ساتھ والی گاڑی پر پڑی… ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے صمد کو دیکھ کر اس کی سٹی گم ہوئی تھی, فرنٹ سیٹ پر حسین جعفر کی بہن بیٹھی تھی اور پیچھے تینوں بچے… وہ نا محسوس سے انداز سے شیشے کے بالکل سامنے آ گیا کہ مبادہ اسماء کی نظر نہ اس پر پڑ جاۓ
“واہ… محبت کی شادیاں بھی پرانی ہو جاتی ہیں… یہ تو آج سنا ہے میں نے… ” اسماء نے کہا اور تبھی اس گاڑی کے شیشوں میں سے بچوں نے سر باہر نکال کر چھوٹے چھوٹے باجے بجاۓ تھے, اسماء نے فوراً مڑ کر دیکھا…
سگنل گرین ہو گیا… حدید نے سرعت سے گاڑی نکالی لیکن شومئ قسمت….
“یہ تو صمد ہیں… ” اسماء آگے کو ہوئی
“کہاں… کہاں بھابھی…؟؟؟” حدید رفتار بڑھاۓ جا رہا تھا
“آہستہ کرو… آہستہ کرو… پیچھے دیکھو…وہ رہے… وہ صمد ہی ہیں” اسماء کو وہ نظر آ گیا تھا
“حد ہے بھابھی… آپ کو سڑکوں کر بھی صمد بھائی ہی نظر آ رہے ہیں… ” حدید نے کہا
“حدید تو واقعی اندھا ہو گیا ہے یا مکر کر رہا ہے… ” اسماء نے اسے گھرکا, تبھی صمد کی گاڑی ان کے برابر سے گزر گئی
“حدید… گاڑی اس گاڑی کے پیچھے ڈال… وہ دیکھ تو… نمبر بھی اپنی گاڑی کا یے, صمد ہی ہے” اسماء کو طیش آ گیا
“بھابھی… جانے بھی دیں, اپنی گاڑی تو درید بھائی لیکر نکلے ہوئے ہیں” حدید گاڑی کی رفتار آہستہ ہی کرتا جا رہا تھا
“حدید کے بچے اگر وہ گاڑی نکلی تو تیری گردن دبا دوں گی میں… جلدی چلا ” اسماء اس پر چڑھ دوڑی, ناچار اس نے گاڑی کا پیچھا کیا تھا, اسماء نے اسی وقت صمد کو کال کی
“صمد بھائی… کال نہ اٹھانا پلیز… ” حدید زیر لب دعائیں کرتا جا رہا تھا
“ہیلو… ” دعا بھی قبول نہ ہوئی
“صمد کہاں ہیں آپ ؟؟؟” اسماء نے نارمل سے لحجے میں پوچھا
“سٹور پر… کیا ہوا ؟؟؟” اس نے کہا
“میں نے اور مامون جان نے امی کی طرف جانا تھا تو… ذرا گاڑی چاہئے تھی” وہ بھی آخر کو اسماء تھی
“گاڑی تو درید لیکر گیا ہوا ہے… اس نے کسی دوست سے ملنا تھا ” صمد اپنے لیے گڑھے کھودے جا رہا تھا اور حدید اس پر فاتحہ پڑھتا جا رہا تھا
“چلیں… ٹھیک ہے” اسماء نے کال کاٹ دی
“اس صمد راۓ کی تو آج خیر نہیں, جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہا ہے, خدا جانے کسے ساتھ بٹھا رکھا ہے… حدید گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہو میں تجھے جان سے مار دوں گی”اسماء کا پارہ سو پر پہنچ چکا تھا
تبھی صمد نے گاڑی NESCAFE کے آگے روک دی, ہنستے مسکراتےوہ سب گاڑی سے اترے تھے
“نیچے اتر… جلدی کر” اسماء بھی نیچے اتر آئی
“اسماء بھابھی… بات تو سنیں, وہ صمد بھائی نہیں ہیں… “حدید اس کے پیچھے ہی باہر نکلا تھا, اسماء یکلخت ٹھٹھک گئی
وہ عورت اور بچے ریسیپشن پر سیلفیاں لے رہے تھے, تبھی اس عورت نے بڑی بے تکلفی سے صمد کا بازو کھینچا, بچے بھی اس کے ساتھ جڑ گئے تھے
اسماء کا کلیجہ منہ کو آ گیا
صمد ان کے ساتھ سیلفیاں لے رہا تھا, پھر وہ سب اندر چلے گئے
“حدید واپس چل… جلدی کر… آج اسے زندہ نہیں چھوڑوں گی میں” اسماء ابل ابل کر گر رہی تھی
“ماموں جان.. گھر پہنچ گئے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… تم کہاں ہو ؟؟؟”
“ماموں جان… صمد کو فون کریں, اسے کہیں ابھی اسی وقت گھر پہنچے” اسماء سے بولنا بھی دوبھر ہو رہا تھا
“کیا ہو گیا ؟؟؟” وہ کھٹک گئے
“آ کر بتاتی ہوں… صمد کو بلائیں, فوراً” اس نے کال کاٹ دی
“اسماء بھابھی… ہو سکتا ہے وہ بھائی کے کسی دوست کی فیملی ہو, یا پھر… ” اسماء نے اس کی بات کاٹ دی
“دوست کی بیوی بچوں کا ٹھیکہ اس نے کب سے اٹھا لیا… ؟؟؟ ” وہ زور سے پھنکاری تھی, گھر آتے ہی وہ تیر کی طرح گاڑی سے نکلی اور اندر کو بھاگی… صمد واپس آ چکا تھا
“کون تھی وہ… ؟؟؟” اسماء چنگھاڑ کر بولی تھی
“کون مطلب ؟؟؟” صمد کے چھکے چھوٹ گئے, درید بھی گھر پر ہی تھا, اسراء بھی بھاگ کر اپنے کمرے سے باہر نکل آئی
“کون مطلب… ؟؟؟ وہ جسے پہلو میں کھڑے کر کے سرکار سیلفیاں لے رہے تھے… کون حرافہ تھی وہ ؟؟؟ ” اسماء اس پر چڑھ دوڑی, اسراء نے حدید کی طرف دیکھا, اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا کہ پنگا پڑ گیا ہے
“نہیں تو… تمہیں کوئی غلط فہمی… ” اسماء نے اس کی بات کاٹ دی
“غلط فہمی… اسے گاڑی میں لیے گھوم رہے تھے آپ… اور مجھے جھوٹ پر جھوٹ داغے جا رہے تھے, پھر سیلفیاں, خوش گپیاں… صمد وہ کون تھی… ؟؟” اسماء کی دہاڑ سن کر غاشیہ بھی ریلنگ کے پاس آ گئی, اس سارے معاملے میں حدید کو بھی کھڑا دیکھ کر وہ دنگ رہ گئی تھی, صمد نے درید کی طرف دیکھا, وہ اسے آنکھوں سے اشارے کر رہا تھا
“میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے سب کچھ… یہ حدید بھی میرے ساتھ ہی تھا… ” وہ زور سے چیخی اور صمد کی طرف آئی
“دو مہینے ہو گئے ہیں مجھے آپ کا یہ عجیب و غریب رویہ سہتے ہوۓ, راتوں کو اٹھ کر پتہ نہیں کہاں چلے جاتے ہیں, نیند پوری نہیں ہوتی, سارا دن گاڑی لیکر نہ جانے کہاں خوار ہوتے پھرتے ہیں… مجھے تو اب پتہ چلا کہ مصروفیت کیا ہے صمد راۓ کی… ؟؟؟ صرف ایک بار… صرف ایک بار اور پوچھوں گی میں کہ وہ کون تھی؟؟؟؟” اسماء نے صمد کے بازو جکڑ لیے
“اسماء… ” اسراء نے اسے پیچھے کو کھینچا تھا
“اسماء میری بات…. ” صمد نے بیچارگی سے درید کو دیکھا, وہ مسلسل نفی میں سر ہلاۓ جا رہا تھا, حدید نے آنکھوں ہی انکھوں میں درید سے کچھ پوچھا تھا
“دوسری بیوی ہے نا وہ تمہاری صمد… ہے نا… بولو, دوسری شادی کی ہوئی ہے نا… ” اسماء یکدم ہی سارے آپ جناب بھول گئی, تیر کی طرح آگے بڑھ کر اس نے صمد کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا تھا, دوپٹہ گلے میں جھول رہا تھا, چیخ چیخ کر گلا بیٹھ گیا تھا
“اسماء وہ… میری بیوی نہیں ہے… ” صمد نے اسے قابو کرنا چاہا
“پھر کون ہے وہ… ؟؟؟” اسماء اس سے زیادہ نہیں چنگھاڑ سکتی تھی
“درید کی بیوی ہے وہ…. ” صمد اس سے بھی اونچا دہاڑا تھا, اسماء پل بھر میں ساکت رہ گئی, غاشیہ نے یکدم ہی اپنے منہ پر ہاتھ رکھا تھا, حدید بھی دنگ رہ گیا, درید نے رخ موڑ لیا, راۓ عبید بھی خاموش ہو گئے
اور وہ… اسراء راۓ
وہ بس پھٹی پھٹی نظروں سے درید کو دیکھتی رہ گئی
“درید کی فیملی ہے وہ… دو ماہ پہلے پاکستان آئی تھی, بس انہیں ہی کمپنی دے رہا تھا” صمد نے اسماء کے ہاتھ نیچے کرتے ہوئے کہا, وہ بول نہ سکی, بس دھم سے صوفے پر گر گئی, درید ایک طرف خاموش کھڑا تھا…ہر طرف خاموشی
“کتنے سال ہو گئے ہیں ؟؟؟” اس لاؤنج کی خاموشی کو اسراء راۓ کی بھیگی ہوئی آواز نے توڑا تھا, درید دو قدم اس کی طرف آیا اور وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی
“میں نے پوچھا… کتنے سال ہو گئے ؟؟؟؟” آنکھوں سے بھلے ہی آنسو بہہ رہے تھے لیکن چہرہ سپاٹ تھا
“چھ سال… ” درید نے دھیرے سے کہا, اسماء کی آنکھیں حیرت سے پھٹ سی گئیں, حدید بھی دم بخود رہ گیا تھا
“وہ… ابو کو… پتہ تھا” وہ بس اپنی صفائی میں اتنا ہی کہہ سکا اور اسراء جیسے لڑکھڑا سی گئی
ہر طرف خاموشی… ہر طرف سناٹا
اس نے دھیرے سے اپنا دوپٹہ سر پر ڈالا اور چپ چاپ بیرونی دروازے کی طرف بڑھی
“اسراء… ” درید اس کے پیچھے آیا تھا
“بس… ایک لفظ بھی نہیں” اس نے انگلی اٹھائی تھی
“اسراء میں چھوڑ آتا ہوں…. ” حدید اس کی طرف آیا لیکن اس نے ہاتھ کھڑا کر دیا
“اگر کوئی بھی… کوئی بھی میرے پیچھے آیا تو میں کسی ٹرک کے نیچے آ جاؤں گی” انتہائی سرد اور کھردرے لحجے میں کہتی ہوئی وہ باہر نکل گئی تھی
…………………………
اسے ایک ہفتہ ہو گیا تھا ساجد کو کہتے کہ میری فرح سے بات کروا دے لیکن وہ ٹال مٹول کر جاتا تھا, کئی بار اس نے عابدہ سے بھی اس کا نمبر ملانے کے لئے کہا لیکن بے سود… وہ کبھی کوئی بہانہ لگا دیتی تو کبھی کوئی… شافع بھی نہیں آیا تھا, فرح خود بھی کئی دنوں سے غائب تھی
اتنی خاموشی اسے کھل رہی تھی… اس دن بھی وہ کمرے میں اکیلی لیٹی ہوئی تھی, یونہی اسے فرح کا خیال آ گیا… اور پھر کوشش کے باوجود وہ اس خیال کو جھٹک نہ سکی, کچھ دیر بعد کمرے سے باہر نکل آئی, جنوری کے دن تھے, ابھی تک دھند نہیں چھٹی تھی, سب اپنے اپنے کمروں میں بند تھے, وہ چادر اوڑھتی ہوئی چپ چاپ باہر نکل آئی اور سٹھ مارے گیٹ سے نکلتی چلی گئی, چوکیدار کو لگا شاید کوئی محلے دار عورت ہے
وہ سیدھی شافع کے گھر آئی تھی, روبینہ اسے دروازے پر دیکھ دنگ رہ گئ
“فرح کہاں ہے ؟؟؟” ملازمہ چاۓ بنا لائی, جب اسے کافی دیر تک فرح نظر نہ آئی تو پوچھ بیٹھی, روبینہ چپ رہ گئی
“روبینہ… ؟؟؟ فرح کہاں ہے ؟؟؟” بانو اس کی جھجھک تاڑ گئی تھی
“تمہیں کچھ نہیں پتہ ؟؟؟” روبینہ کی آنکھیں بھر آئیں
“مجھے کیا نہیں پتہ روبینہ ؟؟؟” بانو اٹھ کے ان کے پاس آ گئی
“اسے گھر چھوڑے ایک مہینہ ہونے کو آیا ہے… ” روبینہ نے سر جھکاتے ہوۓ کہا تھا, بانو ششدر رہ گئی
“کوئی پتہ نہیں کہ کہاں گئی؟؟؟ کس کے ساتھ گئی؟؟؟ بس جاتے ہوئے سارے دروازے بند کر گئی…سب کچھ لے گئی… کچھ پتہ نہیں کہاں ہے ؟؟؟ کن حالوں میں ہے.. ؟؟؟” روبینہ کہتی چلی گئی, بانو بس سر جھکاۓ بیٹھی رہی… خاموش سی
ایک آنسو بھی نہ نکلا… پھر اٹھ کھڑی ہوئی
“بانو… ” روبینہ نے آواز دی لیکن وہ رکی نہیں… بس چپ چاپ دروازے سے نکلتی چلی گئی
سورج ذرا س چمکا تھا… وہ گھر واپس لوٹی تو سب ویسا ہی تھا… بند کمرے
وہ عابدہ کے کمرے کے سامنے رک گئی, اندر سے آوازیں آ رہی تھیں
“مجھے دکھانا… دکھانا… ” فریحہ کی آواز تھی
“اب کیا دیکھنا ہے… ؟؟؟” عابدہ بولی تھی
“خود تو دیکھ لی ویڈیو… مجھے بھی دکھا دو” فریحہ نے منہ بسورا تھا
“لے پکڑ… تو بھی چسکے لے لے, جیسے فرح نے لئے ہیں” عابدہ نے شاید موبائل اسے دیا تھا
بانو دروازہ کھول کر اندر آ گئی
“آنٹی آپ… ” فریحہ گڑبڑا گئی, عابدہ نے اس سے موبائل چھین لیا
“ادھر دکھا مجھے… ” بانو نے ہاتھ آگے کیا تھا, عابدہ ہچکچا گئی
“عابدہ… ” بانو کے سرد لحجے پر اس نے موبائل اسے پکڑا دیا
اس ویڈیو کے اڑتیس سیکینڈ شاید بانو کی زندگی کے آخری اڑتیس سیکینڈ ہونے والے تھے
…………………………….
شام پانچ بجے کا وقت تھا… حسب معمول وہ بینک سے واپس آیا تھا, سورج الوداعی مراحل سے گزر چکا تھا…آسمان سرخ ہو رہا تھا
حسب معمول اس نے گھر کے سامنے گاڑی روکی اور باہر نکل آیا, گیٹ وہ خود ہی کھولتا تھا
تبھی وہ لڑکی سامنے سے آتی دکھائی دی… سسکتی ہوئی
وہ دو قدم اٹھا کر آگے بڑھا… لڑکی بالکل اس کے پاس سے گزری
وہ یکلخت ہی مڑا… لڑکی دو, چار قدم آگے چلی گئی تھی
“اسراء… ” شافع کے لبوں سے بیساختہ سا نکلا تھا
اسراء کے قدم رک گئے… کیا واقعی… ؟؟؟
کیا واقعی پیچھے وہ کھڑا تھا ؟؟؟
وہ ششدر سی نظروں سے پیچھے کو مڑی
پیچھے وہی کھڑا تھا
وہ جس نے آخری بار اسے دیکھا تھا تو وہ رو رہی تھی… اور آخری بار کے بعد آج پہلی بار دیکھا… تو وہ رو ہی رہی تھی
…………………….
جاری ہے