63.3K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

بتیس سال پہلے
وہ چھ بہنوں میں دوسرے نمبر پر تھی
روبینہ طیب…عرف روبی
اپنی باقی بہنوں میں وہ سب خوبصورت تھی… ایک ہی بھائی تھا جس نے چکی لگائی ہوئی تھی, اس کی ماں سلائی کا کام کرتی تھی جبکہ باپ فوت ہو چکا تھا
وہ ابھی اکیس سال کی تھی جب اس کے لئے شاکر انصاری کا رشتہ آیا
وہ سیٹھ بابر انصاری کا سب سے چھوٹا بھائی تھا, پہلی بار اسے دیکھنے کے لئے وہ اور اس کی بیوی ہی آۓ تھے, جھٹ پٹ سے رضیہ نے اس کے ہاتھوں میں پیسے تھما کر منہ میں مٹھائی ڈال دی تھی
جاتے جاتے بابر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا… اسے اچھا نہیں لگا
پتہ نہیں کیوں… بس اچھا نہیں لگا
اس کی ماں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا
سیٹھ بابر انصاری عرف سیٹھ بھٹے والے کو کون نہیں جانتا تھا, کئی کنال پر پھیلا بنگلہ نما گھر, گاڑیاں, پیسے کی ریل پیل… عیاشیاں
وہ تین بھائیوں میں سب سے بڑا تھا, اس کی شادی چچا زاد رضیہ سے ہو چکی تھی, خدا نے اسے دو بیٹوں سے نوازا ہوا تھا
بڑا واحد انصاری… اور چھوٹا شاہد انصاری
بابر سے چھوٹا صابر تھا… بھٹے کا زیادہ تر کام وہی دیکھتا تھا, اس کی بیوی کا نام بانو تھا, وہ ننکانہ صاحب سے بیاہ کر آئی تھی, فی الحال اس کے کوئی اولاد نہیں تھی
سب سے چھوٹا شاکر تھا… انتہائی سیدھا سادھا… عرف عام میں بدھو سا شاکر انصاری
“روبی.. کیا ہوا ؟؟؟” چھوٹی بہن نے اس کی خاموشی کو محسوس کیا تھا
“اتنا امیر کبیر بندہ یوں لمحوں میں اپنے بھائی کا رشتہ کیسے دے گیا ہمیں… ؟؟؟” یہ بات اسے چبھے جا رہی تھی
“اسے قسمت کہتے ہیں روبی… ایویں پریشان نہ ہو… عیش کرے گی تو” چھوٹی بہن کے نزدیک یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں تھی
کچھ دنوں بعد اس کی امی اور بڑا بھائی جا کر شاکر کو دیکھ آۓ… بظاہر وہ اچھا بھلا تھا, خوبصورت تھا, اچھے نین نقش کا مالک تھا… بس ذرا کم گو تھا
بات پکی ہو گئی تھی
اس دن اس کی منگنی تھی… سیٹھ بابر اور باقی رشتے دار اسے انگوٹھی پہنانے آۓ تھے, وہ جب اس کے ساتھ آ کر بیٹھا تو… ایک بار پھر روبینہ کو اچھا نہیں لگا
پہلے دن سے وہ اسے بہت عجیب لگا تھا… نظروں کا صاف نہیں تھا, پاک نہیں تھا… اس کے لمس سے وحشت محسوس ہوتی تھی اسے… بہر حال… اس کی منگنی ہو گئی
……………………………..
گڑیا… وہ بانو کی چھوٹی بہن تھی, اکثر ہی رہنے کے لئے اس کے پاس چلی آتی تھی, اس بڑے سے بنگلے نما گھر میں خوب دل لگتا تھا اس کا… اچھے کپڑے, اچھا کھانا… پورے گھر میں تتلی بنی گھومتی, ہر ایک کا احساس کرتی, ہر ایک کا ہاتھ بٹاتی… واحد اور شاہد کو اسی نے گود میں اٹھا اٹھا کر بڑا کر دیا, راشدہ, عابدہ, فریحہ… اس کی سب سے بنتی تھی, وہ پیاری بھی بہت تھی, جب نہا دھو کر نیا سوٹ پہنتی, منہ پر کریم ملتی , لبوں پر سرخی لگاتی… تو قسم سے بڑی خوبصورت لگتی تھی… ننکانہ میں کہاں دل لگتا تھا اس کا… ؟؟؟ بانو کہہ کہہ کر تھک جاتی کہ امی اکیلی ہیں تو واپس چلی جا لیکن بے سود…
اس کے کانوں پر جوں نہ رینگتی… اور یونہی… کھیل کھیل میں… وہ دھان پان سی گڑیا جوان ہو گئی, قد نکال لیا, رنگ نکھار لیا, شباب آ گیا…اس انیس سالہ دوشیزہ کو دیکھ کر بانو کو خوف آتا
“گڑیا… چل واپس” وہ ڈر جاتی تھی… کس سے… ؟؟؟
اس انسان نما بھیڑیے سے جس کی آنکھیں ہی گڑیا کے بدن کے آر پار ہو جاتی تھیں
“گڑیا… ” وہ اسے شہد جیسی آواز میں پکارتا اور گڑیا کسی چیونٹی کی طرح اس شہد میں جا ڈوبتی
وہ چوبیس برس کا ماہر شکاری تھا… ساری دنیا دیکھ چکا تھا, ہر نشہ چکھ چکا تھا, اس کی ماں نے صرف اٹھارہ سال کی عمر میں ہی اس کی شادی اسلیےکر دی تھی کہ وہ اپنے نفس کی تسکین اپنی بیوی سے پوری کرے لیکن… ایک بار منہ سے حرام لگ جاۓ تو پھر کیسے چھوٹے ؟؟؟ بابر کے منہ سے بھی نہیں چھوٹا, وہ عادتاً مجرم نہیں تھا.. اس کی سرشت ہی خراب تھی, اس کا خمیر ہی سیاہ کالا تھا جسے اس نے کبھی بھی سفید کرنے کی کوشش نہیں کی… بیوی تو اس کے گناہ چھپانے کے لئے ایک پردہ تھی
دنیا کی نظروں میں وہ بیوی بچوں والا تھا… پھر بھلا اس سے کیا ڈرنا… ؟؟؟ اسی لیے گڑیا بھی نہیں ڈری
اسی لئے جب جب بابر نے بلایا… تو دوڑی چلی گئی
وہ اس کے لئے ایک انتہائی آسان شکار تھی… ساتھ میں خوبصورت بھی…وہ بڑھتا گیا… اس کی گستاخیاں بھی بڑھتی گئیں
اور بانو کھٹک گئی… گڑیا کی اچھی خاصی کٹائی لگا کر اس نے اسے واپس بھیج دیا تھا
……………………..
پورے ایک سال بعد وہ لاہور واپس آئی… جس ڈر سے بانو نے اسے واپس بھیجا تھا, اسی ڈر سے اس کی ماں نے اسے بانو کے پاس بھیج دیا
“جوان ہو گئی ہے یہ بانو… میں اکیلی کیسے اس کی راکھی کروں ؟؟ میرے گھر سے نکلتے ہی یہ چھٹ پڑتی ہے… کئی جگہ رشتے کی بات چلائی پر بے سود… ہر کسی میں کیڑے نکالنے بیٹھ جاتی ہے” بانو کی ماں پریشان ہوئی پڑی تھی
“تو اپنے دیور سے اس کی بات چلا بانو… دونوں بہنیں اکٹھی ہو جانا…. ” اور بانو کی زبان سے شاکر کا نام سن کر گڑیا آسمان کو جا لگی تھی
“وہ پاگل… وہ بدھو… بس وہی رہ گیا میرے لئے… ” وہ بولی, وہ بولی کہ خدا کی پناہ
کچھ ہی دنوں میں شاکر کا رشتہ طے ہو گیا
وہ روبینہ اور شاکر کی مہندی والی رات تھی جب وہ ستاروں طرح چمکتی دمکتی لڑکی اس انسان نما جانور کے ہتھے چڑھ گئی تھی
ہر طرف اندھیرا… سناٹا… خاموشی
ہر کسی کے کمرے کا دروازہ بند… سب اپنے اپنے کمبلوں میں دبکے ہوۓ تھے
ایسے میں وہ اسے بہکا کر ڈیرے پر لے گیا تھا…بانو چاہے لاکھ پہرے لگا لیتی… جو غلط تھا… وہ غلط تھا
وہ پہلی رات تھی جب بابر نے اس گلاب کو مسل کر پتی پتی کر دیا
اور وہ پہلی رات تھی جب گڑیا کو اس شخص کی قربت کی عادت پڑ گئی
……………………….
روبینہ بیاہ کر آ گئی تھی… سرخ عروسی جوڑے میں اس کی سج دھج ہی نرالی تھی, شاکر پر تو جیسے قسمت مہربان ہو گئی تھی
وہ شرماتا ہوا سا اس کے سامنے آ کر بیٹھا… بس بیٹھا رہا, کبھی آنکھ چرا کر اسے دیکھ لیتا… پھر نظریں جھکا لیتا
“میں کپڑے بدل لوں ؟؟؟” روبینہ نے پوچھا
“ہاں… ” بس اتنا ہی بولا تھا وہ پہلی رات… دن گزرے تو اسے ادراک ہوا کہ آخر لاکھوں میں کھیلتے بابر نے اپنے بھائی کا رشتہ اس سے کیوں کر دیا… ؟؟؟
وہ تو کاٹھ کا الو تھا… عقل سے پیدل… بالکل ہی سیدھا… جو جیسا کہتا… ویسے ہی کر لیتا
روبینہ اپنی قسمت کو روتے ہوئے اسے قبول کر گئی تھی, دھیرے دھیرے اس نے شاکر کو رام کرنا شروع کیا… وہ اس کی بیوی تھی
لیکن… وہ دو سرخ خنجر نما آنکھیں دن رات اسے ٹٹولتی تھیں
گڑیا تو مسل دی تھی اس نے… اب تو بس فارغ وقت کا شغل رہ گئی تھی وہ… اب نظریں روبینہ کا طواف کرنے لگی تھیں…
وہ کونسا اسے شاکر کے لئے لایا تھا… ؟؟؟ وہ تو اسے اپنے لئے لایا تھا, رضیہ پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی, وہ بابر کو کبھی بھی یوں سر عام دوسری شادی نہ کرنے دیتے…اور ویسے بھی ایک عدد بیوی اور دو عدد بیٹوں کے ہوتے اسے دوسری شادی کی ضرورت ہی کیا تھی… ؟؟؟
حربہ لگانا تھا… جگاڑ لڑانا تھا
شادی کے بعد اس نے دھیرے دھیرے شاکر کے دماغ میں روبینہ کے خلاف زہر انڈیلنا شروع کر دیا, وہ خود تو ذہنی طور پر اتنا تیز نہیں تھا, دوسروں کی باتوں پر جلدی کان دھرتا تھا… اور جب کے کہنے والا بھی باپ کے برابر بڑا بھائی ہو تو… دوسری جانب روبینہ تھی
اس کی بیوی… اسے ہر قسم کا سکھ دینے والی, اس کی تنہائیوں کی ساتھی… وہ دن بدن اسے اپنی طرف کھینچتی تھی
……………………….
“بابر… ویاہ کب کرے گا مجھ سے ؟؟؟” گڑیا بھی کتنی پاگل تھی
“پہلے ایک کام کر… ” بابر نے اسے پوری طرح پھانس لیا تھا
اس رات کے بعد سے روبینہ جہاں اسے تنہا کھڑی ملتی… وہ اسی وقت بابر کو اطلاع کر دیتی, بابر کی طرح دن رات شاکر کو روبینہ کے خلاف بھڑکاتی رہتی, اور تاک کے اسے تب روبینہ کے پاس بھیجتی جب بابر اس کے پاس کھڑا ہوتا
وہ سیدھی سادھی سی معصوم لڑکی اس شیطان کے ہاتھوں بے دریغ استعمال ہو رہی تھی, دن بدن وہ روبینہ کے خلاف سازشوں کا جال بنتی جا رہی تھی صرف اس امید پر کہ بابر اس سے شادی کر لے گا… کیونکہ اب بھلا اور کون اس سے شادی کرتا ؟؟؟
رہ گیا شاکر… تو وہ تھا ہی کیا… ؟؟؟ محدود سے دماغ والا ایک سیدھا سا لڑکا
اس کے لئے بیوی بھی درست تھی اور بھائی بھی… وہ نہ روبینہ کو کچھ کہہ سکا… اور نا بابر کو… بس چپ چاپ دونوں طرف کی سنے گیا, روبینہ کا پیار جیسے ہی سر اٹھاتا… بابر کازہر اسے ختم کر دیتا
تبھی روبینہ امید سے ہو گئی… بابر کو تب پتہ چلا جب پانی سر سے گزر چکا تھا
“وہ تیرا بچہ نہیں ہے شاکر… وہ تو پتہ نہیں کس کا خون ہے… ؟؟؟ تو تو کبھی باپ ہی نہیں بن سکتا… ” قطرہ قطرہ نفرت شاکر انصاری کے دل اور دماغ میں ذخیرہ ہو رہی تھی
بابر پوری طرح جال بچھا چکا تھا
روبینہ کا نوواں مہینہ چل رہا تھا
جس رات روبینہ کی گود میں شافع آیا… اسی رات گڑیا کو الٹی آئی تھی
وہ بس پھٹی پھٹی آنکھوں سے شیشے میں خود کو دیکھتی رہ گئی
“بابر… مجھ سے شادی کب کرے گا ؟؟؟” وہی سوال
“روبینہ کو بلا کر لا… وہی سرد سا لحجہ
سیاہ کالی رات تھی… گڑیا نے اسے چھت پر جانے کا کہا تھا… وہ اوپر آئی تھی
چھت پر صرف سیٹھ بابر انصاری گھات لگاۓ بیٹھا تھا
“مبارک ہو بیٹے کی… ” روبینہ کو اس کا قریب آنا اچھا نہیں لگا تھا
شاکر نے سیڑھیوں سے ان دونوں کو دیکھا اور چپ چاپ نیچے چلا گیا
اسی رات اس نے خود کو پنکھے سے لٹکا لیا تھا
شافع تب پندرہ دن کا تھا
“بابر… وہ میں… میں تیرے…. ” گڑیا پھر اس کے پاس آئی تھی, بابر سنی ان سنی کر گیا
رضیہ کی گود میں تب احمد آیا تھا
بانو کی بھی خدا نے سن لی تھی, وہ بھی امید سے تھی
“روبینہ ہمارے گھر کی عزت ہے… شاکر کے بچے کی ماں ہے, میں اسے سہارا دوں گا” دنیا کی نظروں میں وہ شیطان ایک پارسا بن گیا تھا
روبینہ کی ماں اور بھائی اس کے بے حد شکر گزار تھے
“مجھے اس سے شادی نہیں کرنی… وہ… مجھے اچھا… نہیں لگتا” روبینہ کی کس نے سننی تھی, تین بہنیں ابھی بیاہنے والی تھیں
“بابر… ” گڑیا کی سیاہ آنکھوں میں آنسو تھے… دل کرچی کرچی ہو گیا تھا
اور سیٹھ بابر انصاری نے اس کی نظروں کے سامنے روبینہ سے نکاح کر لیا تھا
…………………….
وہ اگلے ہی دن واپس چلی گئی… کسی کو کچھ بھی نہ بتایا… بانو کو بھی نہیں
رضیہ کی آنکھوں میں روبینہ کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی…وہ اس کی سوتن تھی
بابر کے ساتھ گزاری ہر ہر رات اس کے لئے ایک اذیت ہوتی… وہ خوش نہیں تھی, وہ اسے شوہر کے روپ میں تسلیم کر ہی نہیں سکی
“بانو… مجھے گھن سی آتی ہے اس سے… مجھے نفرت محسوس ہوتی ہے اس سے, میرے جسم پر کیڑے رینگتے محسوس ہوتے ہیں جب وہ قریب آتا ہے… ” صرف ایک بانو ہی تو تھی جو اس سے مخلص تھی
دوبارہ وہ ماں کے در پر گئی… ماں نے واپس بھجوا دیا…ایک بار پھر وہ امید سے تھی
“بانو… ” نہ جانے کتنے ہی مہینوں بعد اسے گڑیا کی کال آئی تھی
“گڑیا… ” وہ رو رہی تھی
“بانو… امی مر گئی…” وہ رو رہی تھی… وہ تنہا تھی… بالکل تنہا
بانو کا نوواں مہینہ چل رہا تھا, صابر اسے گاڑی میں چھوڑ کر ایک دن بعد واپس چلا گیا تھا کہ کام زیادہ ہے تو پھر لے جاؤں گا
“گڑیا… ” بانو اسے دیکھ کر حیران تھی
“تیرا ویاہ کب ہوا ؟؟؟ مجھے کیوں نہیں بتایا ؟؟؟” وہ حق دق تھی
“بانو… میں اپنی ماں کو کھا گئی… میرا دکھ میری ماں کو کھا گیا…وہ میری وجہ سے چلی گئی” وہ نہ جانے کتنے عرصے بعد روئی تھی اور اسی رات ایک بیٹی کو جنم دے کر مر گئی تھی
“بانو… روبینہ سے کہنا.. مجھے معاف کر دے… مجھے… معاف کر دے” وہ رو رہی تھی
“گڑیا… ہوا کیا تھا… ؟؟؟ کس کا بچہ ہے یہ ؟؟؟” بانو ششدر تھی
“یہ… بابر کی… بیٹی… بابر کی بیٹی” وہ جوان جہان لڑکی بانو کے ہاتھوں سے پھسلتی چلی گئی تھی
پہلے ماں کی میت… اور پھر جوان بہن کی
اس کا نو ماہ کا بچہ کب اس کے اندر ہی دم توڑ گیا پتہ ہی نہ چلا
ایک دن کی فرح اس کی گود میں تھی جب وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے گرتی چلی گئی تھی
“بچی مردہ ہے… ” وہ گاؤں کی ہی کوئی دائی تھی
“خالہ… اسے دفنا دینا… چپ چاپ” اس نے دائی کو کچھ نوٹ پکڑاۓ تھے
صابر اسی رات پہنچ گیا…
بانو انصاریوں میں سے نہیں تھی, اس کا باپ سیٹھ بابر کے باپ کا بس ایک پرانا سا دوست تھا سو رضیہ نے آنا ضروری نہیں سمجھا… دو دن بعد وہ گڑیا کی بچی کو لیکر واپس چلی گئی تھی
پیچھے بچا ہی کیا تھا
“گڑیا کیسی ہے… ؟؟؟” تقریباً سبھی نے پوچھا
“گڑیا بھی مر گئی… “
………………………….
“بابر… ” وہ رات گئے گھر واپس آیا تھا, بانو کی آواز نے اس کے قدم روک لئے
“وہ مر گئی ہے… ” بانو کی آواز رو رہی تھی, بابر ٹھٹھک گیا
“تو نے مار دیا اسے… تو اس معصوم کے ٹکڑے کرتا رہا… اور میں انجان رہی… میری ناک کے نیچے میری بہن پامال ہو گئی اور مجھے پتہ ہی نہ چلا… ” وہ بولی تھی… بابر سپاٹ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
“تو بھگتے گا ایک دن… جو کچھ تو نے گڑیا کے ساتھ کیا… تو بھگتے گا ؟؟؟ بابر میں کیسے روبینہ سے کہوں کہ گڑیا کو معاف کر دے ؟؟؟ میں کیسے بتاؤں اسے کہ اسے اجاڑنے میں گڑیا کا پورا ہاتھ تھا… “وہ رو پڑی تھی
“میں نے… اسے… ” بانو نے اس کی بات کاٹ دی
“تو نے اسے کہا کہ تو اس سے شادی کرے گا… ” بانو چیخ پڑی, بابر خاموش رہ گیا تھا
“خدا کرے تو معافی مانگے… اور تجھے معافی نہ ملے… “
…………………………..
بارہ سال… روبینہ نے اس ان چاہے شخص کے ساتھ بارہ سال گزارے…خدا نے اسے شافع کے بعد رافع سے نوازا… رضیہ کی گود میں ساجد آ گیا تھا
شاید ان بارہ سالوں میں اس کا دل بدل جاتا اگر وہ شخص اپنی سرشت چھوڑ دیتا… رضیہ کا تو دل جگرا تھا جو اس کے چار بیٹوں کی ماں بن کر بھی اس کے ساتھ تھی, روبینہ کی بس ہوتی چلی گئی, خدا کی کرنی کے رافع کے بعد کوئی اولاد بھی نہ ہوئی
سیٹھ بابر کے منہ مارنے کے لئے باہر کی دنیا کم نہیں تھی, آۓ روز اس کا کوئی نہ کوئی قصہ سننے کو ملتا… دبے دبے لفظوں میں
وہ اپنے وقت کا کمینہ تھا… سو اس کی عزت بھی اس کے شر سے بچنے کے لیے تھی, روبینہ اس کے منہ پر اسے بدکردار کہتی تھی اور وہ خاموشی سے سنتا تھا…
بارہ سالوں میں وہ رات تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی تھی
وہ رات جب اس جانور نے اس سترہ سالہ لڑکی کو بھی نہ بخشا جو اس کے بیٹے کی محبت تھی
شازیہ ملک… واحد انصاری
……………………….
وہ راشدہ کی کلاس فیلو تھی… کبھی کبھار ان کے گھر آ جاتی تھی, اکثر راشدہ بھی اس کے ساتھ ملک ہاؤس چلی جاتی تھی… بس یہاں تک تیمور ملک کو پتہ تھا
اس دن بھی راشدہ سے ملنے ہی آئی تھی… اپنی ہی جھونک میں دھڑا دھڑ سیڑھیاں اتر رہی تھی, پیر لڑکھڑایا تھا… چیخ نکلی تھی… وہ آخری سیڑھی پر کھڑا تھا… اور اس دوشیزہ کو تھام چکا تھا
“تھینک یو… ” جھرنہ سا پھوٹا تھا اور واحد انصاری کا دل ڈوب گیا تھا
یہ اس نے تیمور ملک کو نہیں بتایا
نہیں بتایا کہ اسے محبت ہو گئی تھی, نہیں بتایا کہ وہ کسی کو چن چکی تھی… نہیں بتایا کہ اب تو بس اس سے ملنے جاتی تھی… نہیں بتایا کہ اب بس اسی کے بارے سوچتی تھی
کاش کے بتا دیتی کہ واحد اس سے ڈھیروں وعدے کر چکا تھا, اسے اپنا بنانے کا پختہ عہد کر چکا تھا, اپنی خواہش کو اپنی ماں کے سامنے رکھ چکا تھا
“واحد… وہ ابھی صرف سترہ سال کی ہے” رضیہ اس کی بات سن کر حیران تھی
“تو کیا ہوا… رشتہ تو طے کروا دیں, شادی بعد میں کر لوں گا” وہ خود بھی صرف انیس سال کا تھا
لیکن… اسے کیا پتہ تھا کہ راہزن تو اس کے گھر میں ہی تھا… شکاری تو نشانہ تاک چکا تھا
وہ اس کے لئے بس ایک ” گڑیا” ہی تو تھی
“یہ کون ہے… ؟؟؟” وہ کمرے سے نکلی تھی, مین دروازے سے باہر نکلی تو اس کی کلائی واحد کی گرفت میں آ گئی
“چھوڑو… ” وہ کسمسا کر مسکرائی تھی, بابر نے دونوں کو ایک ساتھ مسکراتے ہوئے دیکھا تھا
“شازیہ ملک…. تیمور ملک کی بیٹی… ” واحد نے کن اکھیوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
بڑی ہی کوئی خوفناک شام تھی… سر شام ہی رات کا گماں ہونے لگا تھا, پورا آسمان سرخی مائل ہو گیا تھا
“راشدہ… میں جا رہی ہوں, موسم خراب ہے زیادہ” وہ راشدہ کے کمرے سے نکلی تھی, تبھی اسے واحد کا میسیج آیا تھا
“دو منٹ اوپر آنا…. ” شازیہ شش و پنج میں تھی
آندھی چڑھتی آ رہی تھی, کچھ سیکینڈ بعد وہ سیڑھیاں چڑھ گئی
اپنے کمرے سے نکلتی روبینہ ٹھٹھکی تھی
کچھ ہی دیر بعد آندھی چھٹ پڑی… تیز ہوا کے جھکڑ اور مٹی کے مرغولے…
“شازیہ چلی گئی ؟؟؟” اس نے راشدہ سے پوچھا تھا
“ہاں… ” وہ بولی
“واحد… ” روبینہ نے اسے آواز دی تھی
“جی… ” عزت وہ چاروں ہی اس کی بہت کرتے تھے
“وہ… اوپر گئی.. تھی” روبینہ ڈر رہی تھی
واحد اوپر کو بھاگا… روبینہ اس کے پیچھے تھی
“شازیہ… ” وہ آخری سیڑھی پر سے چلایا تھا
“واحد… پلیز مجھے بچا لو” بکھری ہوئی سی حالت میں وہ اس کے سینے سے آن لگی تھی, دوپٹہ فرش پر پڑا تھا
بابر کسی بھیڑیے کی مانند کھڑا تھا…واحد کی آنکھوں میں خون اتر آیا لیکن…
“واحد… مجھے گھر جانا ہے…مجھے گھر چھوڑ آؤ” وہ اسے نیچے لے آیا یونہی… اپنے ساتھ لگاۓ
نہ جانے کس نے دیکھا اور کس نے نہیں….اسے پرواہ نہیں تھی… وہ گاڑی تک آیا تھا
اس اندھیری رات میں گاڑی کا سٹیرنگ اس انیس سالہ لڑکے سے چھوٹ چھوٹ جا رہا تھا
محبت ساتھ والی سیٹ پر ماتم کناں تھی… سگا باپ دوشی تھا
گاڑی بے قابو ہوئی تھی… چیخیں… خون… موت
…………………….
تیمور ملک کو ہسپتال سے فون گیا تھا…شازیہ بچ تو گئی تھی لیکن…. یوں کہ ماں بننے کا شرف ہمیشہ کے لئے کھو بیٹھی تھی
واحد انصاری اسی رات مر گیا تھا
“تم اپنے بیٹے کا قاتل ہو….تم نے قتل کیا ہے اسے” روبینہ اس پر برس پڑی تھی
“چپ… بالکل چپ… ” وہی سرد نظریں
“کاش… کاش جب تیرا مکافات عمل شروع ہو و میں دیکھنے کے لئے زندہ ہوں” روبینہ دونوں بچوں کو لیکر اسی شام ماں کے گھر آ گئی
“نہیں رکھنا تو چلی جاتی ہوں لیکن… اس کے ساتھ نہیں رہنا… نہیں رہنا” اس نے ماں کو ببانگ دہل کہہ دیا تھا
بابر بہت بار آیا… نرمی کی, سختی کی, دھمکی دی لیکن وہ نہیں گئی
چپ چاپ سلائی کڑھائی شروع کر دی اور کراۓ پر گھر لے لیا
“طلاق دے دو مجھے… “
“طلاق نہیں دوں گا… ” اور بابر نے اسے طلاق نہیں دی تھی
بس وہ گھر اسے خرید دیا تھا, خاموشی سے اسے مہینے کا خرچہ بھجوا دیتا تھا, خود آنا ہی چھوڑ گیا تھا
…………………………
“وہ لڑکا کون تھا شازیہ… ؟؟؟” اسے گھر لے آۓ تھے
“راشدہ کا کزن تھا…. ” وہ بولی
“تم اس کی گاڑی میں کیا کر رہی تھی ؟؟؟” تیمور ملک کے غضب کی کوئی انتہا نہ تھی, وہ جس حالت میں انہیں ملی تھی…. وہ انہیں سب کچھ سمجھا گئی تھی
“وہ مجھے… گھر چھوڑنے آ رہا تھا” شازیہ رو پڑی
“کیا کیا اس نے تمہارے ساتھ… ؟؟؟” وہ چیخ پڑے
“تیمور… ” عطرت نے بمشکل انہیں روکا
“کچھ نہیں کیا… کچھ نہیں… کیا” شازیہ سے بولا نہ گیا, تیمور ملک خوب ہی گرجے تھے, شازیہ کا موبائل بھی ضبط کر لیا تھا
“آج کے بعد اس کا نام بھی تمہاری زبان پر نہ آۓ… ایک بار بھی پلٹ کر نہیں آیا وہ… تمہارا تو نام بھی یاد نہیں ہو گا اسے… ناہنجار باپ کی اولاد ہے وہ… اسی کا خون یے, بس تمہیں استعمال کرنا چاہا تھا اس نے… ” تیمور ملک کہتے چلے گئے تھے
ان کی ساری باتیں ایک طرف… اور یہ ایک طرف کہ واحد پلٹ کر نہیں آیا تھا
اس نے ہمیشہ اسے زندہ ہی تصور کیا… یہ ہی سوچا کہ وہ بے وفا نکلا…پلٹ کر نہیں آیا, واقعی اسے تو شاید اس کا نام بھی یاد نہیں ہو گا
یہ سوچا ہی نہیں کہ… شاید وہ اس لئے نہیں پلٹا کہ جہاں وہ چلا گیا تھا وہاں سے پلٹ کر واپس نہیں آتے
……………………….
جاری ہے