121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45


“یہ دونوں بیٹے ہیں ؟؟؟” وہ کب سے جوتوں سمیت بستر پر اوندھا لیٹا ان دونوں کو چومے جا رہا تھا, کبھی پیر چومنے لگتا, کبھی ہتھیلیاں آنکھوں سے لگا لیتا, گالوں کی الگ سے شامت آئی ہوئی تھی
“نہیں ایک بیٹا ہے… ایک بیٹی” غاشیہ بستر کے ایک طرف کراؤن سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی
“بیٹی کونسی ہے ؟؟؟” مارے اشتیاق سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں
“تم باپ ہو ان کے… تمہیں یہ بھی پتہ نہیں چل رہا” غاشیہ نے حتی الامکان اپنے چہرے پر سختی قائم کرنے کی کوشش کی تھی
“مجھے تو دونوں میں انیس بیس کا بھی فرق نہیں لگ رہا… غاشی یہ دونوں آنکھیں کیوں نہیں کھول رہے ؟؟” وہ بولا
“کیونکہ یہ دونوں سو رہے ہیں… ” وہ بولی
“کتنے دن کے ہو گئے ؟؟؟” پھر سے سوال
“پچیس دن…”
“میرے جیسا تو کوئی بھی نہیں ہے ؟؟؟”
“اچھا ہی ہے… ” وہ بولی تو حدید نے ایک دم اس کی طرف دیکھا
وہ سیاہ اور سفید رنگ کے لائیننگ والے پرنٹڈ سوٹ کے ساتھ سیاہ ریشمی دوپٹہ دائیں کندھے پر ڈال کر بیٹھی ہوئی تھی, متناسب سراپا اپنی جون میں واپس آ چکا تھا, سیاہ لمبے بال ڈھیلی سی پونی کی صورت میں بندھے ہوئے تھے….سیاہ خوابناک سی خوبصورت آنکھوں میں شکوہ ہی شکوہ نظر آ رہا تھا
“تم ماں بن کر اور زیادہ خوبصورت ہو گئی ہو… ” حدید تھوڑا سا آگے کو ہوا اور اپنا سر اس کی گود میں رکھ دیا, دونوں بازو مضبوطی سے اس کی کمر کے گرد باندھ دییے تھے
“میں نے تمہیں ابھی تک معاف نہیں کیا سمجھے… ہٹاؤ اپنا سر” غاشیہ نے کہا
“غاشی… یار میری جان ہے تم میں… میری جان تو نہ نکالو… پلیز ایم سوری… سوری” وہ اس کے گرد اپنا حصار اور تنگ کر گیا تھا, چہرہ بالکل ہی اس کی گود میں چھپا لیا
“تمہارے بنا میں کیا ہوں غاشی… مجھے ان چھ ہفتوں میں اندازہ ہو گیا کہ میں تو ایک پل بھی نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر… میں سچ مچ پاگل ہو چلا تھا… میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے… اور ہمیشہ کرتا رہوں گا” وہ کہتا چلا گیا
“حدید میں کیا کروں تمہاری اس محبت کا جس میں اعتماد نہیں ہے ” وہ آزردگی سے بولی تھی
“مجھے تم پر خود سے بھی زیادہ اعتبار ہے غاشیہ… میں تمہیں اس گھر سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالنے دیتا… میں نے تم سے کہا تھا نا کہ جب جانا ہو تو مجھے بتا کر جانا.. مجھے پتہ تھا تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گی” وہ بولا
“اگر مجھے اس رات کچھ ہو جاتا تو ؟؟” وہ بولی, حدید نے یکدم سر اٹھا کر اسے دیکھا
“میں مر جاتی تو کیا کرتے تم حدید… ؟؟” اس کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے, حدید جیسے تڑپ گیا, تھوڑا سا آگے ہو کر اس نے غاشیہ کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھر لیا
“جب تک میں زندہ ہوں تمہیں کچھ نہیں ہو گا غاشیہ… میں ہونے ہی نہیں دوں گا, یہ آخری آنسو تھے جو آج تمہاری آنکھوں میں چمک گئے… خدا کی قسم اب بس میرے مرنے پر ہی روؤ گی تم” حدید کے کہتے ہی غاشیہ نے اسے زور سے مکا مارا تھا, وہ یکدم پیچھے کو گر گیا اور گرتے گرتے بھی غاشیہ کا بازو کھینچ لیا, وہ اپنے پورے وزن سے اس کے اوپر آن گری تھی
“یا مجھے مارتے رہنا… یا خود کو” اس نے حدید کے سینے پر ایک اور مکا جڑا تھا, وہ بس اسے دونوں بازوؤں میں بھرتا چلا گیا تھا
……………………..
وہ اندر آئیں تو سارا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا, انہوں نے لائیٹ جلائی اور بستر کی طرف دیکھا, وہ کل شام سے یونہی کمبل تانے لیٹی تھی, نا رات کچھ کھایا تھا اور نا ہی صبح ناشتہ کیا تھا, کمرے کی دونوں کھڑکیاں مضبوطی سے بند کر رکھی تھیں
“اسماء… ” انہوں نے اس کے منہ پر سے کمبل کھینچا, وہ ہنوز آنکھیں بند کر کے لیٹی رہی
“چل بس کر دے اب ماتم… ” انہوں نے سارا کمبل کھینچ دیا
“اٹھ کے کچھ کھا لے” وہ بولیں
“کچھ نہیں کھانا… ” وہ کروٹ بدل گئی اور چہرہ دونوں بازوؤں میں چھپا لیا
“اسماء اسے کہتے ہیں جیسی کرنی ویسی بھرنی… جو تو نے بویا… وہی کاٹ لیا… اب بس کر دے” انہوں نے کہا
“چل اٹھ کر نہا اور کپڑے بدل… ناشتہ بھی کر لے” وہ اس کے پاس ہی بیٹھ گئیں
“آپ نے بھی مجھے ہی مارا… ” وہ بولی
“تو اور میں تجھے تمغہ چڑھاتی… بڑا معرکہ مارا تھا تو نے” وہ بولیں
“ارمغان کو کسی نے کچھ بھی نہیں کہا… سارے راشن پانی لیکر میرے اوپر چڑھ گئے ” وہ بولی
“اسے کیا کہیں ؟؟؟ وہ اس رات غاشیہ کو اپنے ساتھ نہ لیکر جاتا تو وہ لڑکی کسی گاڑی یا ٹرک کے نیچے آ چکی ہوتی… وہ بھلے ہی قصوروار ہے اسماء… لیکن تو گنہگار بھی ہے… ” انہوں نے کہا
“اس نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ ؟؟؟” رسی جل گئی تھی لیکن بل ابھی بھی باقی تھے
“اس نے صرف انیتا کو پانے کے لئے یہ سارا ڈرامہ رچایا, اور انیتا کو پا کر بھی مجھے ذلیل کر دیا” اس نے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹا لیا
“اسے تو چھوڑوں گی نہیں میں… ” وہ زور سے بولی تھی
“بس کر جا… جتنا برا تو نے کر دیا اتنا ہی بہت ہے, اس لڑکی کو اب بس لینے دے اپنے گھر, اسراء کے بعد مجھے انیتا پر بھی طلاق کا لیبل نہیں لگوانا” وہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے بولی تھیں
“چل اٹھ… ” زور سے کہتے ہوئے وہ باہر نکل گئی تھیں
……………………………
وہ مغرب سے ذرا پہلے ہی گھر آ گیا تھا… جب سے انیتا آئی تھی وہ وقت پر گھر آ جاتا تھا
اس کی موٹر سائیکل کا ہارن سن کر انیتا نے گیٹ کھولا تھا… وہ موٹر سائیکل اندر لے آیا, انیتا تو اس کے ماتھے سے بندھی سفید پٹی اور گلے سے لٹکتا ہاتھ دیکھ کر ہی سن رہ گئی تھی
“یہ کیا ہو گیا ؟؟؟” اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں سے دواؤں والا شاپر پکڑ لیا
“ایکسیڈینٹ ہو گیا… کلائی فریکچر ہو گئی ہے” وہ خدا جانے کیسے موٹر سائیکل چلا کر گھر واپس پہنچا تھا, اب بھی اس نے بڑے جتنوں سے اسے سٹینڈ پر لگایا تھا
“ابو کو فون کر لیتے… ” وہ اس کے پیچھے اندر آتے ہوئے بولی
“کس منہ سے کرتا… وہ کہتے تیرے کرموں کی سزا ملی ہے تجھے” ارمغان نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے کہا تھا, انیتا خاموش رہ گئی
جون جولائی کے تپتے ہوئے دن تھے, ارمغان پسینے میں تر بتر ہو رہا تھا, سیڑھیاں چڑھتا ہوا وہ اوپر اپنے کمرے میں آ گیا, انیتا کچھ دیر وہیں کھڑی رہی اور سوچتی رہی کے اوپر جاۓ یا نا جاۓ… پھر دواؤں والا شاپر ٹیبل پر رکھ کر اوپر آ گئی, ارمغان بستر پر بیٹھا جوتے اتار رہا تھا
“کوئی کام ہے تو بتا دو… ؟؟” وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی
“بس کھانا گرم کر دو… اور ایک کپ چاۓ بنا دو” وہ شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے بولا تھا, وہ سر ہلا کر واپس پلٹ گئی… دروازے تک آئی اور پھر مڑی
وہ آڑا ترچھا سا ہو کر اپنی شرٹ اتارنے کی ناکام کوششیں کر رہا تھا, کبھی اسے منہ سے کھینچتا, کبھی دوسرے ہاتھ سے کھینچتا… انیتا کچھ دیر کھڑی دیکھتی رہی, پھر اس کی طرف آئی
“رکو… میں اتار دیتی ہوں” اسے ترس آ ہی گیا تھا, ارمغان بے دم سا ہو کر بستر پر گر گیا, انیتا نے بہت احتیاط سے اس کے دوسرے بازو پر سے شرٹ اتاری تھی
“اب یہ بھی اتار دو پلیز… ” وہ بنیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا, اس کے چہرے پر تکلیف کے واضح آثار دکھائی دے رہے تھے, انیتا نے بڑی مشکلوں سے اس کا بنیان بھی اتار دیا
“میں شاور لیکر آتا ہوں” وہ اپنا ٹراؤزر اٹھاتے ہوئے واش روم میں گھس گیا, انیتا واپس نیچے آ گئی, کھانا گرم کیا اور چاۓ بنائی
تبھی وہ نیچے اتر آیا, ٹی شرٹ کندھے پر ڈالی ہوئی تھی
“یہ پہنا دو پلیز… ” وہ بولا
“ارمغان کوئی ایزی سی اوپن شرٹ پہن لو… ٹی شرٹ کیسے پہنو گے بھلا ؟؟؟” وہ بولی
“وہ پریس نہیں ہیں… ” ارمغان بے چارگی سے بولا
“تو تمہیں کونسا کہیں جانا ہے اب ؟؟؟” وہ بولی
“مجھے اچھی نہیں لگتیں… اتنے بلوں والی شرٹ ” وہ دھیرے سے کہتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا
“اچھا کھانا کھا لو… پھر میں کر دیتی ہوں پریس ” وہ بولی, ارمغان نے چپ چاپ ٹی شرٹ صوفے پر اچھال دی, انیتا نے چاول اور رائتہ اس کے آگے کر دیا, وہ بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ کر کھانے لگی تھی
“کیسے ہوا ایکسیڈینٹ ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ٹرن لے رہا تھا…. موٹر سائیکل سلپ ہو گئی” وہ بولا, کھانا ختم کر کے اس نے اپنی دواؤں والا شاپر اٹھایا تھا
“یہ لو… ” انیتا نے چاۓ کا کپ اس کے سامنے کر دیا, پھر اسے تینوں گولیاں نکال دیں, وہ گولیاں کھا کر کپ اٹھا کر ٹی وی لاؤنج میں آ گیا اور ٹی وہ آن کر لیا, انیتا اس کی ایک اوپن شرٹ نکال لائی تھی, جتنی دیر میں ارمغان نے چاۓ ختم کی, اس نے شرٹ پریس کر دی
“یہ لو… ” وہ شرٹ لیکر کھڑی تھی, ارمغان آڑا ترچھا سا صوفے پر پڑا تھا, اسے دیکھ کر اٹھ بیٹھا, انیتا نے اسے شرٹ پہنائی اور پھر جھک کر اس کے بٹن بند کرنے لگی
ارمغان نے نظر بھر کر اسے دیکھا, اس گلابیاں چھلکاتے لب بس چند ہی انچ کی دوری پر تھے, وہ جیسے ہی بٹن بند کر کے پیچھے ہوئی, ارمغان جیسے کسی ٹرانس سے باہر نکلا تھا
“اور کوئی کام ہے تو بتا دو… ” اس نے پوچھا
“نہیں بس… تھینک یو” وہ اس کے ماتھے پر بکھرے بالوں کو دیکھتے ہوئے بولا تھا, انیتا پلٹ گئی
“انیتا… ” اس نے دھیرے سے پکارا
“ہاں… ؟؟؟”
“تمہیں پتہ ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“کیا ؟؟؟” وہ بولی
“یہ ہی کہ میں نے تمہیں کیسے حاصل کیا ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا تھا
“تم نے مجھے واقعی حاصل کر لیا ہے ارمغان ؟؟؟” انیتا نے جواباً پوچھا تھا, ارمغان بس چپ چاپ سا اسے دیکھتا رہ گیا
…………………………
وہ نیچے کچن میں تھی جب اس کا سیل بجا
“زرقا…فون بج رہا ہے” اسراء نے اوپر سے آواز لگائی تھی, وہ بھاگم بھاگ اوپر آئی اور سیل کان سے لگا لیا
“ہاں اذن… ” اذن کی کال تھی
“تم بزی تو نہیں تھی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“نہیں تم کہو… ” وہ ہنڈیا بھون رہی تھی
“زرقا میرے کچھ دوستوں نے مل کر رات کو ایک گیٹ ٹو گیدر رکھی ہے… فورٹریس میں… فیملیز کے ساتھ… تم چلو گی ؟؟؟ ” وہ پوچھ رہا تھا
“کتنے بجے ؟؟؟”
“نو بجے…”
“ٹھیک ہے… ” وہ ہنڈیا میں پانی ڈالتے ہوئے بولی تھی
“میرے بھی کپڑے پریس کر دینا… میں چھ بجے تک آ جاؤں گا” وہ بولا تو لحجے میں عجیب سی سرشاری تھی, یوں جیسے اسے یقین نہیں تھا کہ زرقا مان جاۓ گی
وہ واقعی چھ بجے آ گیا, زرقا نے دونوں کے کپڑے استری کر لئے تھے
“اسماء باجی کہاں ہیں ؟؟؟” وہ چینج کر کے نیچے ہی آ گیا, آمنہ اور اسراء لاؤنج میں بیٹھی تھیں
“اپنے کمرے میں ہے” وہ بولیں
“اب کچھ اور ہی نیا سوچیں گی… ” وہ صوفے پر گر گیا
“خدا جانے یہ تو کس پر چلی گئی” آمنہ اکتائی ہوئی تھیں
“صمد بھائی بھی نہیں آۓ…؟؟؟” اس نے پوچھا
“ابھی تھوڑی آۓ گا… اس کی عقل تو درست ہو جاۓ ذرا” وہ بولیں
“امی… ذرا دھیان رکھا کریں, زرقا کو اسماء باجی کے ہتھے نا چڑھنے دینا پلیز” وہ ذرا سا ان کے قریب ہو کر بولا تھا, اسراء کو ہنسی آ گئی
“ہاں تو… حدید اور صمد کا سارا غصہ کہیں اس بیچاری پر ہی نا اتر جاۓ” وہ بولا
“تو اسے چھوڑ… مجھے یہ بتا کہ چھ ماہ ہو چلے ہیں تیری شادی کو…فیملی نہیں بنانی کیا ؟؟؟” آمنہ نے پوچھا
“آپ تو یوں کہہ رہی ہیں جیسے چھ سال ہو گئے ہیں… ” وہ ہنسا
“چھ سالوں میں لوگ چھ چھ بچے پیدا کر لیتے ہیں” وہ بولیں
“توبہ کریں امی… میں تو کہتا ہوں چھ سالوں میں ایک ہی بہت ہے” وہ بولا
“اذن زیادہ بکواس ناکر… اسے ہسپتال لے جا کسی دن, چیک اپ وغیرہ کروا لا” آمنہ نے کہا
“اچھا… ” وہ بس اتنا کہہ کر اٹھ گیا تھا, رات کے آٹھ بج رہے تھے جب وہ واپس اوپر کمرے میں آیا, زرقا واش روم میں تھی
اس نے اپنے کپڑے نکال کر بستر پر ڈال دیئے, زرقا باہر نکلی تو وہ تولیہ اٹھا کر اندر گھس گیا
باہر نکلا تو نو بجنے میں بس بیس منٹ باقی تھے
“زروا… یار جلدی کرو” وہ اس کے برابر میں ہی کھڑا ہو گیا
“میں ریڈی ہوں” وہ اپنا دوپٹہ سیٹ کر رہی تھی, اس نے گہرے جامنی رنگ کا شیفون کا سوٹ پہنا ہوا تھا جس پر گلابی پھولوں کا ایپلیک ورک ہوا ہوا تھا, ساتھ کامدار ریشمی ہی گلابی دوپٹہ تھا, ہلکا پھلکا میک اپ اور جیولری… وہ کچھ زیادہ ہی حسین لگ رہی تھی
“ابھی تو کہہ رہے تھے جلدی کرو… ” وہ اس کی نظروں کا ارتکاز جان گئی تھی, اذن جلدی سے خود پر پرفیوم چھڑکنے لگا, اس نے بھی پلم کلر میں ہی تھری پیس پہن رکھا تھا
گیٹ ٹو گیدر کافی اچھی رہی, اذن کے سبھی دوست اسے سلجھے ہوئے لگے, ان میں سے ایک کی تو ابھی دو ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی, بہر حال زرقا نے کافی انجواۓ کیا… پچھلے کئی ہفتوں کی ٹینشن اور فرسٹریشن کافی حد تک ختم ہو گئی تھی
واپسی پر وہ دونوں مسکراتے ہوئے باہر نکلے تھے, اذن نے خود اس کے لئے فرنٹ ڈور کھولا تھا… گھر سے ذرا ہی پیچھے وہ بے وفا گاڑی رکتی چلی گئی
“اسے کیا ہو گیا ؟؟” زرقا تھوڑی سی پریشان ہوئی تھی
“خدا جانے… ” اذن نے کافی جتن کیے لیکن بے سود… وہ ٹس سے مس نہ ہوئی
“رکشہ لے آؤں یا پیدل چل لو گی ؟؟؟ تھوڑا سا ہی فاصلہ ہے ” وہ بولا
“پیدل ہی چلتے ہیں…. ” زرقا گاڑی سے نکل آئی, اذن نے اسے لاک کر دیا تھا
“آ جاؤ… ” اس نے ہتھیلی پھیلائی تھی, اس بار زرقا راۓ نے وہ ہتھیلی ذرا جلدی ہی تھام لی, وہ دونوں سڑک کنارے بنے فٹ پاتھ پر چل پڑے تھے
“ایک بات پوچھوں اذن… ؟؟؟” زرقا نے دھیرے سے پوچھا
“ہاں… “
“میرے بھائیوں نے ہمیشہ تمہاری بہنوں کو کسی نا کسی طرح دکھ ہی پہنچایا ہے… صمد بھائی نے ایک بار بھی اسماء بھابھی کو نہیں روکا… درید بھائی نے اسراء کو دھوکہ دیا, حدید نے انیتا کو ٹھکرا دیا… تم پھر بھی مجھے ان کے سامنے ہمیشہ ڈیفینڈ کرتے ہو ؟؟؟ اتنے اچھے کیسے ہو تم ؟؟؟” وہ ہلکا سا مسکرائی تھی
“کیونکہ میں اپنے ابو کا بیٹا ہوں” وہ ہنستے ہوئے بولا تھا
“اسماء بھابھی بھی تمہارے ابو کی ہی بیٹی ہیں سو… یہ کوئی جواب نہیں ہے” وہ بولی, اذن نے ایک لمبی سانس بھری تھی, وہ دونوں سڑک سے اتر کر کالونی کی گلی میں آ گئے تھے, گلی بالکل سنسان تھی, اذن نے دھیرے اپنا بازو زرقا کے کندھوں کے گرد لپیٹ دیا یوں کے وہ بالکل اس کے گھیرے میں آ گئی تھی
“میرا ماننا بس یہ ہے کہ جسکا جرم… اسی کو سزا” وہ بولا
“تو پھر میرے جرم کی سزا تمہیں کیوں اذن ؟؟؟” وہ کہہ ہی گئی
“کونسا جرم ؟؟؟”
“تمہارے علاوہ کسی اور سے محبت کا… سب یہ ہی کہیں گے کہ اذن نے زرقا کو طلاق دے دی…یہ کوئی نہیں کہے گا کہ زرقا نے اذن سے طلاق لے لی” وہ دھیرے سے بولی تھی
“پھر ؟؟؟ جب تک میرا نام اپنے نام سے الگ نہیں کرو گی تب تل کسی اور کا نام ساتھ نہیں لگا سکو گی” وہ بولا, گھر آ گیا تھا, زرقا بول نہ سکی
“تمہارا پہلا نوٹس کل یا پرسوں تک تمہیں مل جاۓ گا… ” اذن نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا تھا
زرقا کے چہرے کی ساری چمک ماند پڑ گئی, کمرے میں واپس آ کر بھی وہ منتشر سی ہی رہی, اذن چینج کر کے سونے کے لئے لیٹ گیا تھا, اس نے چینج کر کے پہلے سارا پھیلاوہ سمیٹا, پھر بالوں کو فولڈ کرتی ہوئی اپنی طرف آ کر بیٹھ گئی, لائیٹ آف کر کے لیٹنے ہی لگی تھی جب اذن نے ہمیشہ کی طرح اپنا بازو پھیلا دیا
“پرسوں تک تو میری ہی ہو نا… ” وہ دھیمے سے مسکرایا تھا, زرقا چپ چاپ اس کے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئی
آج جب اذن کا گھیراؤ تنگ ہوا تو کسمسائی نہیں تھی… بس آنکھیں موند گئی تھی
…………………………
جاری ہے