No Download Link
Rate this Novel
Episode 37
رات تقریباً نو بجے کا وقت تھا… حدید ابھی تک واپس نہیں آیا تھا, جب وہ ڈبل شفٹ لگاتا تھا تو آنے میں ذرا دیر ہو جاتی تھی, وہ رات کا کھانا بنا کر کمرے میں آ گئی…دسمبر کی خنکی کے باوجود اسے پسینہ آ رہا تھا, جرسی اتار کر اس نے صوفے پر پھینکی اور خود واش روم میں گھس گئی, باہر نکلی تو اسے باہر آہٹ کا احساس ہوا تھا, اس نے یہ ہی سمجھا کہ حدید آ گیا ہو گا, ہمیشہ کی طرح بالوں کو اونچا سا کیچر میں مقید کر کے بنا دوپٹے کے ہی وہ کمرے سے باہر نکل آئی, ظاہر ہے اوپر اس کے سوا اور ہوتا ہی کون تھا جو وہ سارا دن دوپٹہ اوڑھ کر رکھتی
“حدید آج زیادہ دیر… ” لاؤنج میں آتے ہی اس کے قدموں کو بریک لگی تھی
وہ حدید تو نہیں تھا
بلیک جینز پر بلو شرٹ کے ساتھ بلیک لیدر کی جیکیٹ پہنے, سر کو جیکیٹ کے ہوڈ اور چہرے کو ماسک میں چھپاۓ وہ… حدید تو نہیں تھا
“کون ہو تم ؟؟؟” غاشیہ نے ذرا سخت سے لحجے میں پوچھا
“ایک کہانی سنو گی… ؟؟؟ غاشیہ ملک ؟؟؟” وہ جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا…آواز وہی فون کالز والی ہی تھی… غاشیہ ٹھٹھک گئ
یہ لحجہ… یہ آواز… وہ پچھلے آٹھ ماہ سے سن رہی تھی
“کہانی تو دور کی بات… مجھے تمہاری یہ بیہودہ آواز ہی نہیں سننی, صرف ایک بار کہوں گی کہ میرے گھر سے دفع ہو جاؤ” غاشیہ کو غصہ آ گیا, وہ دو قدم آگے کو آیا تھا
“قریباً چھتیس سال پہلے کا ذکر ہے… اس گھر میں ایک شہزادی رہا کرتی تھی, سنا ہے کہ بڑی انمول تھی وہ… بہت حسین, بہت فطین… شباب آیا تو جیسے زمین کی حور ہی بن گئی… اس گھر کے بام و در کو اس شہزادی کی ہنسی کی کھنکھناہٹیں آج بھی یاد ہوں گی, یہ کمرہ… جہاں تم رہتی ہو غاشیہ… وہ اسی کمرے میں رہتی تھی… اور پھر… اس کہانی میں بھی وہی ہوا جو ہر کہانی میں ہوا کرتا ہے… شہزادی کو محبت ہو گئی…” وہ ذرا سا رکا
“افسوس کہ شہزادہ اس کے دیس کا نہیں تھا, اس کے رنگ کا نہیں تھا, اس کی نسل کا نہیں تھا, اس کے پرکھوں میں سے نہیں تھا, اس کے حسب میں سے نہیں تھا, اس کی نسل میں سے نہیں تھا…کاش… کاش کے محبت یہ سب دیکھا کرتی… اور پھر وہی ہوا جو ہر کہانی میں ہوا کرتا ہے… شہزادی باغی ہو گئی… ” وہ دو قدم آگے کو آیا تھا, غاشیہ دم بخود اسے سن رہی تھی
“وہ رات… کہ جس رات یہ پورا گھر روشنیوں سے نہایا ہوا تھا, وہ رات کہ شہزادی کی سفید کلائیاں مہندی سے رنگ دی جانی تھیں, ہر طرف خوشی کے شادیانے تھے, ہر سو شیرینیاں اور شہنائیاں تھیں… شہزادی نے چپ چاپ اپنے گھر کی دہلیز پار کر لی… ” وہ پھر رکا
“اور جانتی ہو.. یہ ہی سب اس شہزادے کے ساتھ بھی ہوا… اپنے باپ کا لاڈلا ترین بیٹا, اپنے بھائی کی آنکھوں کا تارا… وہ انمول شہزادہ بھی محبت میں باغی ہو گیا تھا, اس رات اس نے بھی ہر شے کو ٹھوکر مار کر محبت چن لی تھی…اس رات دونوں نے شادی کر لی تھی… اور پھر وہی ہوا… جو ہر کہانی میں ہوا کرتا ہے… ” وہ رکا, غاشیہ کو لگا جیسے اسے سانس بھی نہ آ رہی ہو
“دو محبت کرنے والے میاں بیوی کو وہ سزا دی گئی کہ خود محبت بھی کانپ اٹھی ہو گی, دونوں گھر, دونوں گھروں کے مکین ان محبت زادوں کے خلاف کھڑے ہو گئے, ان کی تاک میں لگے رہے اور ایک رات ان دونوں کو جدا کر دیا… اس گھر کی دیواروں میں آج بھی اس شہزادی کی چیخیں دفن ہیں جو اس رات اس کے باپ اور بھائی کے خدا بن جانے کی گواہ تھیں…شہزادی کو قید کر دیا گیا تھا… اسی کمرے میں جہاں تم رہتی ہو غاشیہ ملک… ” وہ پھر رکا, غاشیہ کو لگا جیسے اس کی آنکھیں بھیگ رہی ہوں
“یہ ہی حال اس شہزادے کا ہوا, اس کے جان لٹانے والے باپ اور بھائی نے اسے بھی قید کر دیا… وقت گزرتا گیا… نسل برداروں کو رحم نہ آیا, شہزادی پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی, شہزادہ بلک بلک کر روتا رہا… لیکن قید ختم نہ ہوئی…یہاں تک کہ ایک رات شہزادی کی کوکھ سے اس شہزادے کے جڑواں بچوں نے جنم لے لیا… ” وہ پل بھر کو رکا تھا, غاشیہ ساکت رہ گئی, وہ بالکل اس کے قریب آ گیا
“وہ شہزادی بھلا کون تھی غاشیہ… ؟؟؟ ” اس نے پوچھا, غاشیہ بول نہ سکی
“وہ شہزادی تمہاری اور میری ماں تھی… ” ایک دھماکہ تھا جو وہ غاشیہ کے سر پر کر گیا تھا
“اور وہ شہزادہ بھلا کون تھا غاشیہ… وہ میرا اور تمہارا باپ تھا… ” ایک اور دھماکہ
“اور وہ جڑواں بچے بھلا کون تھے… ایک تم تھیں…. اور ایک میں تھا” گرم گرم آنسو غاشیہ کی پھٹی پھٹی سی آنکھوں سے نکلتے چلے گئے… نفی میں سر ہلاتے ہوئے وہ پیچھے کو ہوئی تھی
“تم شاہ نور ملک کا خون ہو غاشیہ… جیسے میں… اور میں حمنہ راۓ کا خون ہوں… جیسے تم” وہ بولا تھا, غاشیہ لڑکھڑا سی گئی, کرسی کا کونا تھامنے لگی تو ہاتھ نہ آیا, اس کے نڈھال ہوتے بے دم وجود کو ارمغان کے بازوؤں نے تھاما تھا
“کون ہو تم ؟؟” اس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی
” تمہارا بھائی…” وہ آنسوؤں کے بیچ بولا تھا
اور اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا, عقب سے تالی بجانے کی آواز آئی تھی, دونوں نے مڑ کر دیکھا
“واہ… غاشیہ ملک… یہ ہے تمہارا اصلی چہرہ… ” اسماء اور حدید دونوں کھڑے تھے
“حدید… ” غاشیہ نے زور سے ارمغان کے دونوں بازو جھٹک دیئے
“دیکھا حدید… یہ تمہاری نہیں تھی… یہ کبھی بھی تمہاری نہیں تھی, تم نے اس حرافہ کی خاطر انیتا کو دھتکار دیا… لو دیکھو آج اس نے کسی اور کے لئے تمہیں دھتکار دیا” اسماء کی آواز اونچی ہو گئی
“حدید میری بات سنو… یہ سب جھوٹ ہے, سراسر جھوٹ, میں اس شخص کو جانتی بھی نہیں ہوں… حدید… ادھر دیکھو میری طرف… یہ سارا کھیل اسماء کا رچایا ہوا یے… ” غاشیہ حدید کے دونوں بازو پکڑے کہتی جا رہی تھی, آنکھیں بہے جا رہی تھیں, بدن کپکپاۓجا رہا تھا
“بکواس بند کرو اپنی….حدید کے گھر سے جاتے ہی نہ جانے کس کس کو تم اندر گھسا لیتی ہو گی, یہ تو آج چھاپہ پڑ گیا تم پر… دو سالوں سے نہ جانے کیا کچھ کر رہی ہو… شوہر کی پیٹھ پیچھے بیوفائی کرتے ہوئے تمہیں شرم آنی چاہئے… ” اسماء نے اسے جھنجھوڑ کر کہا
“حدید… سنو…. یہ سب… حدید… تمہیں مجھ پر یقین ہے نا… ہے نا حدید ؟؟؟” غاشیہ کی بے بسی اس لمحے عروج پر تھی
“یہ… یہ سب سچ بتاۓ گا تمہیں… اس نے ابھی کہا کہ… بات سنو… حدید کو بتاؤ کے میرا تمہارا کوئی رشتہ نہیں ہے… پلیز اسے بتاؤ کہ… ” اس نے روتے ہوئے ارمغان کی طرف دیکھا… وہ بس ایک نظر غاشیہ کی طرف دیکھتا ہوا چپ چاپ سیڑھیاں اترتا چلا گیا, غاشیہ سن کھڑی رہ گئی تھی
“دیکھا حدید… جھوٹی ہے یہ عورت… دو سالوں سے یہ یہ ہی کر رہی ہے…نہ جانے کس کس سے تعلقات ہیں اس کے… ” اسماء یکدم ہی بپھر گئی, راۓ عبید خاموش کھڑے تھے, صمد بھی آ گیا تھا, اسماء نے کل ہی انیتا کو بلوایا تھا, وہ تو بس سن کھڑی سارا تماشہ دیکھ رہی تھی
“حدید ایسا نہیں ہے… سنو حدید… ” غاشیہ نے دوبارہ اس کے بازو پکڑے تھے
“کون تھا وہ… ؟؟؟” وہ دسمبر کی خنکی سے نہیں کپکپائی لیکن حدید راۓ کے لحجے کے سرد پن سے کپکپا گئی
“مم… مجھے… نہیں پتہ… وہ کہہ رہا تھا… کہ وہ… میرا… بھائی… ہے” غاشیہ کے کہتے ہی اسماء کا قہقہ بلند ہو گیا, حدید نے اس کے دونوں ہاتھ جھٹک دئیے
“بھابھی… آپ جائیں یہاں سے… جائیں… یہ میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے… میں خود دیکھ لوں گا” حدید نے انتہائی سخت لحجے میں کہا اور وہیں سے واپس مڑ گیا
“حدید رکو… میری بات سنو… حدید… ” غاشیہ اس کے پیچھے کو بھاگی لیکن یکدم سیڑھیاں نہیں اتر سکی, پہلی سیڑھی پر ہی بے دم ہو کر گر گئی
“بہت ہو گیا ماموں…. نکالیں اس بدمعاش کو اس گھر سے, میں ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کروں گی اسے… نکلو یہاں سے… چلو اپنے باپ کے گھر… وہاں جا کر مناؤ یہ رنگ رلیاں…حدید کا تو دماغ خراب ہو گیا ہے” اسماء نے اسے بالوں سے جکڑ لیا
“چھوڑو مجھے… یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے دغا باز عورت… ” غاشیہ حلق کے بل چلائی تھی
“بکواس بند کرو… ” اسماء کا تھپڑ اس کا گال رنگ گیا
“دفع ہو یہاں سے, کوئی جگہ نہیں ہے یہاں تمہاری… ” اسماء نے اسے سیڑھیوں کی طرف دھکیلا تھا
“میں کہیں نہیں جاؤں گی, حدید میرا شوہر ہے وہ میری ہر بات سنتا ہے… میں اسے سچ بتا کر جاؤں گی” غاشیہ اس کے سامنے تن کر کھڑی ہو گئی تھی
“حدید کا تو نام بھی اپنی زبان پر مت لانا اب… تمہارا اور حدید کا قصہ ختم ہوا… دفع ہو یہاں سے اور جان چھوڑو ہماری… جاؤ اپنے اس بے غیرت باپ کے گھر جس نے تم جیسی بیٹی کو جنم دیا ہے… ” اسماء نے اسے وحشیوں کی طرح کھینچتے ہوۓ نیچے اتارا تھا, غاشیہ کا آٹھواں مہینہ چل رہا تھا, اسماء نے اسے زور سے باہر نکال کر دھکا دیا, اس بیچاری کے گلے میں دوپٹہ بھی نہیں تھا, رو رو کر اس کا گلا بیٹھ گیا تھا
“جاؤ… دفع ہو جاؤ” اسماء نے زور سے دروازہ بند کر دیا
“حدید… ” وہ زور سے سے آواز دیتے ہوئے ننگے پیر کالونی کی گلیوں میں بھاگ لی, اسے لگا جیسے حدید بس یونہی اسے کسی گلی میں کھڑا مل جاۓ گا
“حدید… ” وہ یونہی ننگے پاؤں ہانپتے کانپتے مین روڈ پر نکل آئی تھی
“حدید… ” مارے بے بسی کے زور سے چیختے ہوئے اس نے حدید کا نام لیا تھا, سڑک پر گاڑیوں کا بے پناہ رش تھا, وہ بے خیالی میں ہی ایک طرف کو چل پڑی
یہ سزا ہوتی ہے محبت کرنے والوں کی… جس شخص کی خاطر اس نے سب کچھ تیاگ دیا… آج وہ سب سے پہلے اسے تنہا کر گیا تھا, زن سے ایک گاڑی اس کے پاس سے گزری, زور دار ہارن پر وہ ہڑبڑا کر ایک طرف کو ہوئی اور اس سے پہلے کہ دوسری گاڑی اسے کچل دیتی, کسی نے اسے سڑک سے اپنی طرف کھینچ لیا تھا
“حدید… ” اس کی انکھوں کے آگے اندھیرا چھایا تھا, مقابل نے اسے پورے حق سے اپنے ساتھ لگا لیا
“میں سب ٹھیک کر دوں غاشیہ… میرا وعدہ ہے… حدید تمہارا ہے… اور ہمیشہ تمہارا ہی رہے گا, جب تک میں زندہ ہوں اسے کوئی تم سے نہیں چھین سکتا…میں چھیننے ہی نہیں دوں گا…” وہ اس کے بالوں پر بوسہ دیتے ہوئے کہتا چلا گیا تھا
…………………………
“عمر… ” وہ تکئے سے ٹیک لگاۓ کوئی کتاب پڑھ رہے تھے جب آمنہ ان کے پاس آ بیٹھیں
“ہاں… ” عمر فاروق نے کتاب سے نظریں ہٹاتے ہوئے ان کی جانب دیکھا
“اسراء کے بارے میں کیا سوچا ہے آپ نے ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولیں
“کیا مطلب ؟؟؟” وہ سمجھ نہ سکے
مطلب یہ کہ آج اسے عدالت سے دوسرا نوٹس بھی آ گیا ہے طلاق کا… درید تو اپنی جان چھڑوا کر چلا گیا… ” وہ بولیں
“کیا کہنا چاہتی ہو… ؟؟؟” وہ اب بھی نہیں سمجھے تھے
“عمر… اسراء اور ارمغان کی شروع سے بہت بنتی ہے, اور ارمغان آپ کی مانتا بھی بہت ہے… اگر آپ اسے کہیں گے تو… ” عمر فاروق نے اس کی بات کاٹ دی
“میں اسے کیوں کہوں گا آمنہ… ؟؟؟ میں کیوں اپنی بچی کے سر پر ایک اور درید مسلط کروں ؟؟؟” انہوں نے کہا
“کیا مطلب ہے آپ کا ؟؟؟” آمنہ نے پوچھا
“آمنہ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ وہ کس سے شادی کرنا چاہتا ہے… اور اگر تم نے اسے اپنی بیٹی دینی ہی ہے تو وہ دے دو جسے وہ اپنانا چاہتا ہے” عمر فاروق نے کہا
“انیتا تو کبھی نا دوں میں اسے…” وہ تڑخیں
“تو پھر اسراء کیوں دے رہی ہو ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“عمر اس پر طلاق یافتہ کا ٹھپہ لگ گیا ہے… اب کوئی رنڈوا ہی ملے گا اس کے لئے کنوارا تو کسی صورت نہیں مل سجتا… ” آمنہ زور سے بولیں
“آمنہ مجھے افسوس ہے تمہاری سوچ پر… تم یہ کہہ کر اپنی بیٹی کی عزت نفس کو خود مٹی میں رول رہی ہو… آخر ضرورت ہی کیا ہے میری بچی کو کسی رنڈوے یا کنوارے کی ؟؟؟ آمنہ اس میں کمی کیا ہے ؟؟؟” وہ بھی تڑخ گیے
“تو ساری زندگی یونہی گزارے گی کیا ؟؟؟” آمنہ نے پوچھا
“اگر وہ ساری زندی ایسے ہی گزار ہے خوش ہے تو کیا مسئلہ ہے ؟؟؟” وہ بولے
“عمر وہ ایک لڑکی ہے… اس کے آگے پہاڑ جیسی عمر پڑی ہے, میں اور آپ اج ہیں کل نہیں ہوں گے پھر کیا کرے گی وہ ؟؟؟ اذن کب تک ساتھ دے گ اس کا ؟؟؟ تنہا کیسے جئے گی وہ ؟؟؟” وہ اس لمحے ایک روائیتی ماں بن کر سوچ رہی تھیں
“آمنہ…بھلے ہی ہم دونوں نا رہیں, بھلے ہی اذن اس کا ساتھ نہ دے… وہ پھر بھی اپنی زندگی بہت اچھے طریقے سے گزار لے گی, کل وہ خود مجھے کہہ رہی تھی کہ عدت کے بعد میں کوئی جاب کر لوں گی فارغ بیٹھنے کا کیا فائدہ ؟؟؟ یہ اس کا گھر ہے آمنہ… وہ خوش ہے یہاں” وہ کہتے چلے گئے
“عمر… وہ ایک لڑکی ہے… جوان لڑکی… اپنی خواہشات اور جذبات کو کیا ساری زندگی دفن ہی کرتی رہے گی ؟؟” آمنہ جیسے ڈھے سی گئیں
“آمنہ… فی الحال اسے اس کے حال پر چھوڑ دو, میں جانتا ہوں کہ آج میں ارمغان سے اسے اپنانے کو کہوں تو وہ مجھے انکار نہیں کرے گ لیکن… میں نہیں کہوں گا… میں مر کر بھی کسی کے دل کا خون نہیں کر سکتا, وہ اسراء سے شادی نہیں کرنا چاہتا بس بات ختم…. اور تم مجھ سے شرط لگا لو اگر اسراء بھی اس سے شادی کے لیے مان جاۓ تو ؟؟؟ ایک بار پھر سے کسی شخص کی ان چاہی بیوی وہ کبھی نہیں بننا چاہے گی… باقی رہ گئی بات اس کی خواہشات کی… تو خدا سب سے بڑا کارساز ہے, مجھے اس کی ذات پر پورا یقین ہے, اس نے میری بچی کے لئے وہ سوچا ہے جو میرے گمان میں بھی نہیں ہے” وہ رسان سے آمنہ کو سمجھاتے چلے گئے تھے
……………………….
اس کی نائیٹ شفٹس چل رہی تھیں سو صبح دیر تلک پڑا سوتا رہتا تھا, اس دن بھی وہ گیارہ, بارہ بجے تک بستر میں ہی گھسا رہا, پھر جمائیاں لیتا ہوا اٹھا اور واش روم میں گھس گیا….زرقا نے اس کے کپڑے استری کر کے لٹکاۓ ہوۓ تھے, چینج کر کے ناشتہ کیا اور موٹر سائیکل لیکر نکل گیا… رات آٹھ بجے اس نے ڈیوٹی پر جانا تھا, تقریباً چھ بجے واپس آیا
“اذن کھانا کھا کر جاۓ گا نا ؟؟؟ شام کی ہنڈیا اسراء نے خوشی سے اپنے ذمے لے لی تھی, دوپہر کا کھانا زرقا کے سپرد تھا, ناشتہ سب اپنا اپنا بنا لیتی تھیں, وہ اثبات میں سر ہلاتا ہوا اوپر اپنے کمرے میں آ گیا, دسمبر آدھا گزر چکا تھا, چھ بجے ہی رات کا سا گماں ہو رہا تھا, زرقا کمرے میں نہیں تھی, وہ اسے ڈھونڈتا ہوا ٹیرس پر آ گیا
وہ اپنے دونوں بازو گھٹنوں کے گرد لپیٹے ریلنگ کے پاس بیٹھی تھی, نظریں مسلسل سامنے سڑک پر نظر آنے والی روشنیوں پر جمی تھیں, وہ دھیرے سے اس کے عین سامنے بیٹھ گیا, زرقا یکلخت چونک سی گئی, اس رات کے بعد سے وہ اس سے تھوڑا اور دور رہنے لگی تھی
“یہ لو… ” اذن نے ایک لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا
“یہ کیا ہے ؟؟؟” وہ اچنبھے سے لفافہ پکڑتے ہوئے بولی
“میں نے آج ڈیوورس کا کیس فائل کر دیا ہے… ” اذن نے اس کی سماعتوں پر جیسے دھماکہ کیا تھا, وہ ساکت سی بیٹھی رہ گئی تھی
“لیکن…” وہ اس سے آگے بول نہیں سکی تھی
“بیچ کشتی کی سوار مت بنو زرقا… خود بھی ایک طرف لگ جاؤ اور مجھے بھی لگ جانے دو” اذن نے کہا, زرق کی پیلی پڑتی رنگت وہ دیکھ چکا تھا
“میں… ابو سے… کیا کہوں گی ؟؟؟؟” زرقا نے کہا تو آواز بھرا سی گئی
“تمہیں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی, تم تینوں نوٹس یہیں رہ کر وصول کرو گی, اپنی عدت اسی گھر میں گزارو گی پھر میں تمہیں خود اس کے حوالے کر دوں گا… ” اذن نے کہا
“اور… سب کا سامنا کیسے کرو گے ؟؟؟” زرقا نے کانپتے ہوۓ لبوں سے پوچھا تھا
“وہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے… دیکھو زرقا… ار تم اور طہٰ اپنی باقی کی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزارنا چاہتے ہو تو وہ نا تو تمہارے یوں گھٹ گھٹ کر رونے سے ممکن ہو گا اور نا ہی اس کے بے تکے فضول قسم. کے پلانز سے… کسی نا کسی کو تو سٹینڈ لینا ہی پڑے گا اور تمہارے والے معاملے میں بدقسمتی سے وہ میں ہوں… مجھ سے غلطی ہو گئی… مجھے یہ سٹینڈ تم سے شادی سے پہلے ہی لے لینا چاہیے تھا… آج صورتحال مختلف ہوتی ” اذن نے کہا, زرقا کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنا شروع ہو گئے تھے
“اب رو کیوں رہی ہو ؟؟؟ ” اذن نے پوچھا
“اذن… ایم سوری میں… ” وہ بول نہ سکی
“نہیں زرقا… ایم سوری کہ میں ساری زندگی تمہارے پہلو میں بس کروٹ لیکر نہیں سو سکتا” وہ دھیرے سے اس کے قریب ہوا تھا, زرقا کے خوبصورت چہرے پر ہوتی آنسوؤں کی وہ رم جھم بھلا وہ کیسے نظر انداز کر دیتا, بہت نرمی سے اس نے زرقا کے چہرے کو اپنی انگلیوں سے خشک کیا تھا
“اسے بھی بتا دینا… یہ نا ہو کہ اب کی بار پوری شیشی ہی پھانک لے” وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتا ہوا اندر چلا گیا تھا
……………………..
موبائل مسلسل بج رہا تھا, وہ معاذ کا پیمپر تبدیل کروا رہی تھی, اسے اچھی طرح گرم کپڑوں میں لپیٹ کر فیڈر دیا اور خود سیل کان سے لگا لیا
“کون… ؟؟؟؟”
“رافع… ” وہ دھیرے سے بولا تھا, ناشیہ خاموش رہ گئی
“ناشیہ… ” وہ اسے پکار رہا تھا
“ہاں… ” وہ جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آئی
“تم ٹھیک ہو اب ؟؟؟” اس نے پوچھا
“ہاں… ” وہی جواب… اس رات کے بعد ناشیہ کو رافع کی یہ پہلی کال تھی
“ناشیہ… ایم سوری ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکا, ناشیہ کچھ نہ بولی
“وہ… میرا باپ ہے… میں نے ستائس سال اس کی عزت کی ہے… خدا کی قسم میرا دل کرتا ہے کہ میں اسے گولی مار دوں لیکن… ” ناشیہ کو لگا جیسے وہ رہا تھا, وہ واقعی رو رہا تھا
“رافع… اٹس اوکے” وہ اور بھلا کیا کہتی
“وہ رات تمہارا قرض ہے مجھ پر ناشیہ…. ساری عمر کے لئے… تم جب چاہو میرا گریبان پکڑ سکتی ہو” وہ بولا
“رافع… وہ رات میرے مقدر میں لکھی تھی… وہ مجھ پر ہر صورت بیتنی تھی” ناشیہ نے کہا
“میں کانپ جاتا ہوں یہ سوچ کر کہ… اگر اس رات میں نا آتا تو کیا ہوتا ؟؟؟ ” وہ دھیرے سے بولا تھا
“لیکن تم آ گئے رافع… اور تمہارا اس رات وہاں آنا مءرے اوپر قرض ہے” ناشیہ کی آنکھیں چھم چھم ہوئی تھیں
“اور تم جب چاہو… میرا راستہ روک سکتے ہو” وہ دھیرے سے کال کاٹ گئی تھی
…………………………..
جاری ہے
