No Download Link
Rate this Novel
Episode 46
وہ اور عمر فاروق آج ایم سی (میونسپل کمیٹی) آۓ تھے, اسراء کی عدت مکمل ہو چکی تھی سو اس کا ڈیوورس سرٹیفیکیٹ لینا تھا, وہاں اذن کے ایک دوست کے ریفرینس سے ان کا کام ذرا جلدی ہو گیا
“انکل آپ بس تھوڑا سا انتظار کریں, جیسے ہی آفیسر آتے ہیں تو میں سائن کروا دیتا ہوں” وہ انہیں ایک آفس میں بٹھا کر چلا گیا تھا
“اسراء… ” کچھ دیر بعد عمر فاروق نے اسے پکارا
“جی ابو… ” وہ موبائل میں مصروف تھی
“یہ تو شافع ہے نا ؟؟؟” انہوں نے سامنے کی طرف اشارہ کیا تھا, اسراء نے نظریں گھمائیں تو وہ وہی تھا
“انکل آپ یہاں… ؟؟؟؟” شافع نے بھی انہیں دیکھ لیا تھا, بڑے احترام سے اس نے ان سے مصافحہ کیا تھا
“کیسے ہو شافع ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“کرم ہے اللہ کا… آپ سنائیں ؟؟؟” وہ بولا
“شکر ہے مالک کا…” وہ بولے
“یہاں خیریت سے آۓ ہیں انکل ؟؟؟” اس نے ایک نظر اسراء کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
“ہاں… اسراء کا ڈیوورس سرٹیفیکیٹ لینے آۓ تھے” انہوں نے جھوٹ بولنا مناسب نہیں سمجھا, شافع کی آنکھوں میں یکلخت ہی دکھ تیرنے لگا
“ایم سوری سر… یہ بہت ہی افسوسناک ہے ” وہ سر جھکا کر بولا تھا
“یہ ہی قسمت ہے” انہوں نے کہا, اسراء دوبارہ اس کی طرف دیکھ نہیں سکی تھی
“تم سناؤ…فیملی ٹھیک ہے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“بس انکل… قسمت نے یہ ہی داؤ میرے ساتھ بھی کھیلا ہے… ” وہ پھیکا سا مسکرا دیا
“کیا مطلب ؟؟؟” وہ سمجھ نہ سکے, شافع نے انہیں مختصراً سب بتا دیا
“میں اسے… طلاق دے رہا ہوں ” وہ سر جھکا کر بولا تھا, اسراء ششدر سی کھڑی رہ گئی
“چلو… خدا بہتر کرے گا” عمر فاروق نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“انکل آپ کبھی گھر چکر لگاییے گا پلیز… اسی سٹریٹ میں گھر ہے ہمارا” وہ بولا تھا
تبھی وہ لڑکا آ گیا, عمر فاروق اس سے معذرت کرتے ہوئے باہر نکل گئے تھے
واپسی پر انہوں نے خاموش بیٹھی اسراء سے پوچھ ہی لیا
“تم پہلے ملی ہو اس سے ؟؟؟”
“جی… میں اور انیتا پارک گئے تھے, وہاں آیا ہوا تھا دونوں بچوں کو لیکر ” اسراء نے کہا
“اب تو ماشاءاللہ مینیجر ہو گیا ہے, اس کا دکھ سن کر تو مجھے تیرا دکھ کم لگنے لگا ہے” وہ بولے
“چھوٹے چھوٹے سے بچے ہیں… بنا ماں کے کیسے رہیں گے ؟؟؟” اسراء کو حقیقتاً دکھ ہوا تھا
“بس خدا ہر ایک کو شر سے بچاۓ” انہوں نے کہا
“یہ اس کا گھر ہے…جس شام میں گھر واپس آئی تھی اسی شام دیکھا تھا اسے یہاں… ” گاڑی وہاں سے گزری تو اسراء نے بتایا تھا
………………………….
وہ اسی کمرے میں بند تھی… صبح و شام کھانا آ رہا تھا, بس اس کا مقصد اب زندہ رہنا ہی تھا
اس رات بھی حسب معمول دروازہ کھلا, اسے لگا کھانےکی ٹرے آئی ہو گی, وہ ہنوز بیٹھی رہی
وہ رضیہ تھی… فرح نے بدقت نظریں اٹھا کر اسے دیکھا
“یہ لے… ” رضیہ نے ایک لفافہ اس کی گود میں ڈال دیا
“یہ کیا ہے ؟؟؟”
“تیرا انت… ” رضیہ نے کہا
“اس بار شافع انصاری نے تجھے معاف نہیں کیا” رضیہ کے کہتے ہی اس نے لفافہ کھول لیا
شافع اسے ہمیشہ کے لئے اپنے نام سے آزاد کر دیا تھا
“وہ کہتا ہے کہ بچے تیرے حوالے نہیں کرے گا… ہاں جب تیرا دل کرے گا ان سے ملنے کو تو یہاں بھیج دیا کرے گا” رضیہ کہتی چلی گئی,فرح بے آواز روتی چلی گئی تھی
“تیرے باپ نے کہہ دیا ہے کہ تو اپنی عدت اسی کمرے میں گزارے گی… ” وہ کھڑی ہو گئی
“تو عورت تھی فرح… تجھے عورت بن کر رہنا چاہئے تھا” رضیہ بس اتنا کہہ کر باہر نکل گئی تھی
…………………………..
“انیتا… ” وہ کچن میں تھی جب ارمغان کی ملتجی سی آواز پر مڑی
“یہ اتارنا پلیز… ” وہ شرٹ گردن میں پھنساۓ کھڑا تھا, انیتا نے جلدی اسے آگے ہو کر اس کی شرٹ اتار دی
“جب نہا لو تو مجھے آواز دے لینا… ” وہ اسے اوپر جاتا دیکھ کر بولی تھی, عجیب ہی صورتحال بن گئی تھی, ہر کام کے لئے وہ اس کا محتاج ہو گیا تھا
نہا کر باہر نکلا تو ایک بار پھر اپنی مدد آپ کے تحت شرٹ پہننے کی کوشش میں اس نے اپنا بازو اچھا خاصا دکھا لیا, نیچے آیا تو مارے تکلیف کے آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا
“پہنانا… ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولا
“تم رہنے ہی دو اسے پہننے کو… کہاں جانا ہے ؟؟؟” انیتا نے پوچھا
“ورکشاپ… “
“رہنے دو آج… وہاں ذیشان ہے تو سہی” وہ بولی
“ذیشان کی شادی ہے آج… چھٹی لیکر گیا ہے” ارمغان نے کہا, انیتا نے اسے شرٹ پہنائی اور بٹن بند کر دیئے
“ناشتہ کر لو… ” اس نے چاۓ اور پراٹھا اس کے سامنے رکھ دیا, ارمغان چپ چاپ ناشتہ کرنے لگا
“دوپہر میں تھوڑی سی یخنی بنا دو گی ؟؟؟” اس نے پوچھا
“بنا دوں گی ” وہ بولی اور ساتھ ہی بیرونی دروازہ بج اٹھا
“میں دیکھتی ہوں… ” وہ اٹھ کر باہر چلی گئی
دروازہ کھولا تو دہلیز پر اسماء کھڑی تھی, انیتا چپ چاپ واپس اندر آ گئی
“خدا کرے تمہارے باقی کے ہاتھ پاؤں بھی ٹوٹ جائیں ارمغان… تم کہیں کے نا رہو کمینے انسان” اسماء اس پر چڑھ دوڑی تھی, ارمغان بس چپ چاپ اپنا ناشتہ کرتا رہا
“کیوں آئی ہیں یہاں ؟؟؟” انیتا نے بیزاریت سے پوچھا
“تجھے لینے آئی ہوں میں… چل میرے ساتھ, پورا ہو گیا اس خیبیث کا سارا کھیل…” اسماء نے کہا
“اسماء باجی…” اسماء نے اس کی بات کاٹ دی
“جا چادر لیکر آ اپنی… گھر چلیں” اسماء نے اسکا بازو پکڑا تھا
“کونسا گھر ؟؟؟” اس نے پوچھا
“تیرے باپ کا گھر…” اسماء نے کہا
“یہ بھی میرے باپ کا گھر ہی ہے” انیتا نے اپنا بازو چھڑوایا تھا
“یہ اس خبیث کا گھر ہے انیتا… ابو نے اسی کے نام کر دیا ہے” اسماء زور سے چیخی, ارمغان نے ناشتہ ختم کر لیا تھا, وہ بنا کچھ کہے کھڑا ہو گیا
“تم کہیں کے نہیں رہو گے ذلیل انسان… یہ سارا کھیل تم نے انیتا کو پانے کے لئے رچایا تھا نا… پا کے دکھاؤ اسے… اس کی مرضی کے بنا حاصل کر کے دکھاؤ اسے…تم خود اسے طلاق دو گے کمینے انسان… چل انیتا… ” اسماء نے خونخوار انداز میں ارمغان سے کہتے ہوئے انیتا کی کلائی جکڑی تھی
پھر اسے اپنے ساتھ لیکر بیرونی دروازے کی طرف بڑھی
“چھوڑیں مجھے… ” انیتا نے زور سے چیختے ہوئے اپنی کلائی اس کی گرفت سے چھڑوائی تھی, ارمغان بالکل خاموش ہو کر ٹیبل کے پاس کھڑا تھا
“خدا کے لئے اسماء باجی بس کریں… بہت ہو گیا, اب ہار مان لیں… مان لیں کہ آپ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے…: وہ اور زور سے بولی تھی
“تھک گئی ہوں میں یہ روز روز کا تماشہ دیکھ کر… پہلے کہا کہ حدید دلوا کر رہوں گی… پھر کہا کہ ارمغان سے شادی کر لے… اب کہہ رہی ہیں کہ طلاق دلوائیں گی… آپ خدا نہیں ہیں اسماء باجی ؟؟؟” انیتا کی آنکھوں میں آنسو چمکے تھے, اسماء دم بخود کھڑی رہ گئی
“نہیں چاہیے مجھے اب کچھ بھی… میں جہاں ہوں بالکل ٹھیک ہوں, نہیں چاہیے کوئی حدید راۓ… نا حدید راۓ جیسا… جو مل گیا وہ بہترین ہے, نہیں جانا مجھے آپ کے ساتھ… یہ ہی میرا گھر ہے, یہیں رہنا ہے مجھے…” وہ بولتے ہوئے پیچھے کو ہٹتے ہوۓ ارمغان کے بالکل برابر میں آ گئی
“مان لیا میں نے کہ یہ میرا شوہر ہے… جو مجھ سے محبت کرتا ہے… اور یہ ہی کافی ہے مجھے” انیتا نے اپنا ایک بازو ارمغان کے گلے سے لٹکتے ہوئے بازو میں سے گزارا اور دوسرے ہاتھ سے اس کا بازو پکڑ لیا
“جائیں یہاں سے… اور دوبارہ میرے سامنے میرے شوہر کو گالی مت دینا… پلیز” اس نے بڑے حق سے اپنا سر ارمغان کے کندھے سے ٹکا دیا تھا
اسماء کو لگا جیسے اس کے پاؤں من من کے ہو گئے ہوں, پھٹی پھٹی نظروں سے وہ ان دونوں کو دیکھتی رہ گئی
پھر پلٹی… اور باہر نکلتی چلی گئی
…………………………….
شام تقریباًچار بجے کا وقت تھا جب وہ ملک ہاؤس آیا, غاشیہ نے اسے بتا دیا تھا کہ حدید اسے “بہت زیادہ یاد” کر رہا ہے
“ذرا دھیان سے رہنا… وہ کہتا ہے ارمغان مجھے جہاں ملا وہیں گاڑھ دوں گا” اس نے ہنستے ہوئے کہا تھا
بس ایک یہ ہی پوائنٹ تھا جس کا سامنا کرتے ہوئے ارمغان کو شرم آئی تھی… حدید راۓ
اس کے سامنے کیسے نظریں اٹھاۓ گا؟؟؟
اب بھی وہ موٹر سائیکل کھڑی کر کے اندر آ گیا, حدید کی گاڑی وہ باہر کھڑی دیکھ چکا تھا
اندر آیا تو شازیہ اور ناشیہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی تھیں, معاذ پورے لاؤنج میں لڑکھڑاتا ہوا چل رہا تھا, ایک طرف تیمور ملک بیٹھے ہوئے تھے, اس نے اندر آتے ہوئے دھیرے سے سلام کیا تھا
“یہ کیا ہوا ہیرو ؟؟؟” شازیہ نے اس کے ہاتھ پر چوٹ کی تھی
“اسماء کی بددعائیں لگ گئیں” وہ دھیرے سے مسکرایا
“بڑی جلدی لگ گئیں ” شازیہ نے ہنستے ہوئے کہا
“حدید کہاں ہے ؟؟؟” اس نے پوچھا
“اندر ہے… ” شازیہ نے کہا
“بڑے دنوں سے تم سے ملنے کا کہہ رہا تھا… ” ناشیہ بھی دھیما سا مسکرائی تھی
“دیکھیں… میں اگر اس کے ہاتھوں مر مرا گیا تو میرا کفن دفن کر دینا پلیز” ارمغان نے ابھی بات مکمل ہی کی تھی کہ حدید باہر نکل آیا, ارمغان اسے دیکھ کر کھڑا ہو گیا, پیچھے ہی غاشیہ بھی باہر نکلی تھی
“سالے تیرے ہاتھ پیر تو میں نے توڑنے تھے…یہ کس نے توڑ دیئے ؟؟؟” حدید آفس سے ہی سیدھا وہاں آ گیا تھا, ڈھیلی سی ٹائی گلے سے لٹک رہی تھی, غاشیہ اس کے پیچھے ہی کھڑی ہلکا ہلکا مسکرا رہی تھی
“جو بچ گئے ہیں وہ تو توڑ دے… ” ارمغان نے کہا
“بڑا بےغیرت انسان ہے تو… سالے تو ہوتا کون ہے یہ جج کرنے والا کہ مجھے میری بیوی سے محبت ہے یا نہیں ؟؟” حدید کو غصہ آیا تھا
“تیری بیوی کا بھائی ” وہ دوبدو ہو کر بولا تھا
“تو شرم سے ڈوب کر تو نہیں مرا تو اس سے افییر چلاتے ہوئے… پھول بھیجتے ہوئے, کارڈز لکھتے ہوئے… سالے تو ساڑھیاں بھیجا کرتا تھا اسے… یاد ہے ؟؟؟ ” حدید اس پر چڑھ دوڑا
“خدا کی قسم مجھے تب نہیں پتہ تھا کہ…. ” وہ ذرا سا رکا
“اور میں نے کسی بھی غلط ارادے سے اسے تنگ نہیں کیا, میرا پکا ارادہ تھا کہ جس رات اسماء اپنا سارا کھیل ختم کرے گی, میں اسی رات تجھے سب کچھ سچ سچ بتا دوں گا لیکن…. ” حدید نے اس کی بات کاٹ دی
“…لیکن تو نے سوچا کہ چلو ہر کتے کا دن آتا ہے… تیرا بھی سہی, اور تو نے کھل کے اپنا گھٹیا پن دکھایا, سالے تجھے کسی سے کوئی غرض نہیں تھی… تجھے بس انیتا کو حاصل کرنا تھا ” حدید نے کہا
“اور میں نے کر لیا… ” اس نے کندھے اچکاۓ
“ارمغان ہم دونوں آٹھ, نو ماہ کس اذیت سے گزرے ہیں تجھے ذرا سا بھی اندازہ نہیں ہے… میں کہ جس نے کبھی غاشیہ سے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی صرف تیری وجہ سے میں نے اسے بھرے ہال کے سامنے تھپڑ مارا, تیری وجہ میں ان دنوں میں اس کا ویسے ساتھ نہیں دے سکا جیس یہ ڈیزرو کرتی تھی, تیری وجہ سے اس رات غاشیہ جو تکلیف اٹھائی اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے… تیری وجہ سے جب میرے بچے اس دنیا میں آۓ تو میں اپنی بیوی کے پاس نہیں تھا… میں اپنے بچوں کا لمس بھی محسوس نہیں کر سکا… ” حدید کہتا چلا گیا
“میں تیرا مجرم ہوں حدید… تم دونوں کا… پکڑ لے گریبان… جو سزا دینی ہے دے لے… میں بھگتنے کو تیار ہوں” ارمغان نے کہا
“سالے میرا دل تو کرتا ہے بیلٹ نکال لوں اور آنکھیں بند کر کے شروع ہو جاؤں… ننانوے تک گن کر دوبارہ ایک سے شروع کر دوں… بے غیرت…. اپنی محبت کے چکر میں تو مجھے خالی ہاتھ کر دیتا” حدید نے کہا
“چلو بس کرو… تم تو نکل گئے تھے اس رات, اسی نے سہارا دیا تھا مجھے… “اس کی نئی نئی بہن سے بھائی کا شرمندہ سا چہرہ برداشت نہیں ہوا تھا
“پھولوں کے ہار ڈالو پھر اس کے گلے میں ” حدید نے تڑخ کر کہا
“ہار ڈالنے کی تو نوبت ہی نہیں آئی… ” غاشیہ نے ہنستے ہوئے کہا
“میرا ولیمہ رہتا ہے ابھی… تب ڈال لینا” ارمغان دانت دبا کر مسکرایا تھا
“کمینے میں کرواتا ہوں تیرا ولیمہ… ” حدید نے اسے گردن سے جکڑ لیا تھا
“حدید… اس کا بازو ہل جاۓ گا” غاشیہ نے ہنستے ہوئے کہا تھا, حدید اس کی سنی ان سنی کرتے ہوۓ اسے باہر لے گیا
“میرا بازو… ” ارمغان کی دبی دبی سے چیخیں اندر تک سنائی دے رہی تھی
“سالے دوسرا بھی توڑ دوں گا میں… اب تو انیتا راۓ ہے نا تیری خبر گیری کے لئے ” حدید نے اسے اچھا ہی رگڑا تھا
………………………….
“صمد… اسے لے آ اب” راۓ عبید نے ناشتے پر کہا تھا
“ابو اسے چپ چاپ وہاں پڑا رہنے دیں, میں نے ایک کام والی کا بندوبست کر لیا ہے, کل سے آ جاۓ گی وہ, دوپہر کا کھانا بھی پکا جایا کرے گی” صمد نے کہا
“چل کوئی نہیں… بیوی ہے تیری, بچے اثر لیتے ہیں صمد… ” وہ بولے
“ابو… میں نے تو نہیں نکالا نا اسے, اپنی مرضی سے گئی ہے وہ… آنا ہو گا تو اپنی مرضی سے ہی آۓ گی میں نہیں جاؤں گا اس کی منتیں کرنے”وہ تڑخا
“خدا کا خوف نہیں ہے اس عورت کو, درید کی دفعہ میری غلطی کو اس عورت نے آج تک معاف نہیں کیا کہ میں نے اس سے سچ چھپایا…. اور خود مجھ سے اس نے اتنا گھناؤنا کھیل چھپا لیا, ابو غاشیہ سے اس کی نفرت ایک طرف, گالم گلوچ, طعنے بازی, طنز کے تیر… سب ایک طرف, لیکن اسقدر بھی کوئی اپنی حد سے گرتا ہے کیا ؟؟؟ فرض کریں کہ اگر اس رات اس لڑکی کو کچھ ہو جاتا, یا وہ خود کشی کر لیتی تو کیا ہوتا ؟؟؟ دو بچے تھے اس کے وجود میں ” صمد کہتا چلا گیا
“اور اوپر سے شرمندہ بھی نہیں ہے, کتنی ڈھٹائی سے وہاں جا کر بیٹھ گئی ہے, ایک دفعہ بھی اس نے کال نہیں کی, نا کوئی میسیج, نا کوئی سوری… اسے پڑا رہنے دیں, اسے بڑا زعم ہے کہ صمد راۓ اس کے بنا کچھ بھی نہیں کر سکتا… اس کی ذرا عقل ٹھکانے آ لینے دیں” صمد نے کہا
“اسے اپنی بہنوں کا دکھ ہے صمد… ایک کو درید نے اجاڑ دیا, دوسری کو حدید نے ٹھکرا دیا” انہوں نے کہا
“وہ بات ٹھیک ہے ابو… ہم سب اسراء اور انیتا کے مجرم ہیں, ہم تینوں نے ہی اسراء کے ساتھ اچھا نہیں کیا, حدید کی دفعہ بھی ہم نے پھپھو لوگوں سے جھوٹ بولا… سچ چھپایا, میں مانتا ہوں کہ اگر ہم وقت پر اسراء اور انیتا کی دفعہ پھپھو کو سچ بتا دیتے تو آج وہ شاید اپنے اپنے گھروں میں خوشی سے رہ رہی ہوتیں لیکن… ابو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ وہ اسراء اور انیتا کا بدلہ ایک پرائی لڑکی سے لیتی پھرے” وہ بولا
“حدید کا سر پھاڑتی, درید کو سولی چڑھاتی… غاشیہ کے پیچھے کیوں پڑ گئی” صمد کو بے حد غصہ تھا
“اور پھر شرمندہ بھی نہیں ہوتی… انسانوں کی طرح معافی مانگ کر واپس آ جاتی… ایک بار مجھ سے کہہ دیتی کہ صمد مجھ سے غلطی ہو گئی… کیا جاتا اس کا ؟؟؟ لیکن نہیں… ابو اسے اکڑ ہی پتہ نہیں کس چیز کی ہے ؟؟؟ نکل جانے دیں اس کی اکڑ ” وہ کہتا ہوا سٹور پر چلا گیا, راۓ عبید بس بیٹھے رہ گئے تھے
………………………..
“اسماء… ” وہ رات کے کھانے کے بعد اس کے کمرے میں آۓ تھے, وہ معمول کے مطابق اوپر تک کمبل تانے لیٹی تھی, انہوں نے لائیٹ جلائی اور اس کے سرہانے بیٹھتے ہوئے اسے پکارا تھا
“اسماء راۓ… ” انہوں نے اس کا کمبل کھینچ دیا
“ابو کیا ہے ؟؟؟” وہ بیزاری سے بولی تھی
“کھانا کیوں نہیں کھایا ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“دل نہیں کیا… “
“کیوں ؟؟؟”
“نیند آ رہی ہے… ” حالانکہ اس کی آنکھوں میں نیند دور دور تک نہیں تھی
“سارا دن گزر گیا تجھے سوتے…اٹھ اب” انہوں نے کہا, وہ بادل نخواستہ سی اٹھ بیٹھی, دوپٹہ سر پر لے لیا تھا
“اب ناراضگی کس کس سے ہے ؟؟؟” انہوں نے پوچھا
“میں نے کس سے ناراض ہونا ہے… ” وہ سر جھکاۓ بیٹھی تھی, انہوں نے دھیرے سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
“شرمندہ ہونے میں کیا مضائقہ ہے بیٹے… ؟؟؟ کیا برائی ہے سر جھکا لینے میں ؟؟؟ ” انہوں نے کہا
“میں مانتا ہوں تو ہر جگہ غلط نہیں ہے بیٹا… اسراء کی دفعہ دھوکہ ہوا, انیتا کی دفعہ دھوکہ ہوا… تجھے اپنی بہنوں کا بہت دکھ ہے میں جانتا ہوں… کسی سے نفرت کرنا سو فیصد غلط نہیں ہے, یہ چھوٹی موٹی نفرتیں, طعنے بازیاں, زبان درازی… شاید ان سب چیزوں تک تو ٹھیک تھی اسماء لیکن… کسی کے کردار پر حملہ کرنا, کسی کو بے آبرو کرنا, کسی کی عزت اچھالنا… یہ غلط ہے بیٹا… بالکل غلط” وہ کہتے چلے گئے
“اس لڑکی کا بھلا کیا قصور ؟؟؟” انہوں نے پوچھا, اسماء بس سر جھکاۓ بیٹھی تھی
“جانتی ہے جب مجھے ارمغان نے بتایا کہ وہ اس کی سگی بہن تھی تو میں اس رات سو نہیں پایا… مجھے مارنے کے لیے یہ احساس ہی کافی تھا کہ حمنہ کی بیٹی کو خالی ہاتھ, ننگے سر, ننگے پیر اس کے گھر سے نکالنے والی میری بیٹی ہے… ” ان کے لحجے میں دکھ چھلک گیا
“وہ مجھ سے وعدہ لیکر گئی تھی کہ بھلے ہی کوئی بھی اس کی اولاد کو دھتکارے… لیکن میں نہیں دھتکاروں گا… اور تو نے میرے اس سے کیے وعدے کو مٹی کر دیا بیٹا” وہ بولے
“ابو سب مجھے ہی غلط کہتے ہیں, امی نے بھی مجھے ہی مارا, حدید نے سب کے سامنے میری اتنی بے عزتی کی, غاشیہ نے مجھے تھپڑ مارا… اور ارمغان… اسے تو کسی نے کچھ نہیں کہا, مجھ سے سبھی کو شکوہ ہو گیا, امی مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کرتیں, اسراء نے بھی اس کے بعد مجھے نہیں بلایا… انیتا کو لینے گئی تو کہتی بس کر دیں… ہار مان لیں… وہ محترمہ اب ارمغان صاحب کو دی گالی بھی نہیں سن سکتیں… ” اسماء ایک دم پھٹ پڑی تھی, ایک کے بعد ایک شکوہ… رونا دھونا, شکایتیں
وہ بس سنتے چلے گئے…دلاسہ دیتے چلے گئے
“صمد نے اس دن سے ایک دفعہ بھی کال نہیں کی, ایک بار بھی پلٹ کر نہیں پوچھا, ابو میرے سات آٹھ سالوں کا بس یہ ہی صلہ ہے کیا ؟؟؟” وہ روۓ جا رہی تھی
“اسراء کی دفعہ اس کی غلطی تھی نا… تو معافی بھی اسی نے مانگی, ناک رگڑتا رہا تھا یہاں آ کر… اب غلطی کس کی ہے ؟؟؟؟” انہوں نے پوچھا , وہ بس دوپٹے سے آنسو صاف کرتی رہی
“اپنی غلطی تسلیم کرنے سے کوئی چھوٹا نہیں ہو جاتا اسماء… صمد کو کال کر لے.. اور بس کر دے اب… سب ٹھیک ہو گیا ہے, سب ٹھیک ہی رہنے دے” انہوں نے سمجھاتے ہوئے کہا تھا
“اور ہاں.. ” وہ کھڑے ہوتے ہوئے بولے
“انیتا اگر خوش ہے تو اسے خوش رہنے دے…” انہوں نے کہا
“چل اب اٹھ کر کھانا کھا لے میرا بچہ… اور صمد کو کال کر لے, اسے کہہ کہ تجھے آ کر لے جاۓ” انہوں نے جاتے جاتے کہا تھا
………………………..
جاری ہے
