121.2K
52

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15


اس کا سیزیرین ہوا تھا… لیڈی ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا تھا کہ خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے ماں کے بچنے کے چانسز ایک فیصد سے بھی کم ہیں, فرزانہ کے ہاتھ میں تو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی, نفیس نے ہی تیمور ملک کو فون کیا
وہ اور طہٰ اسی وقت دوڑے چلے آۓ تھے, تیمور ملک تو ناشیہ کو یوں بے سدھ پڑے دیکھ کر ہی ڈھے گئے
“ان کا شوہر کون یے ؟؟” کسی نرس نے آ کر پوچھا تھا
“وہ… تو نہیں ہے” فرزانہ گڑبڑا گئی
“کہاں ہے صفوان ؟؟؟” تیمور ملک کو غصہ آیا تھا
“تیمور بھائی وہ تو بھٹے پر ہوتا ہے اس وقت… “نفیس نے کہا
“یہاں سائن کر دیں… تاکہ مریضہ کا آپریشن کیا جا سکے” نرس اکتا کر بولی تھی
“لائیں میں کر دیتا ہوں” طہٰ نے ایک نظر تیمور ملک کو دیکھتے ہوئے سائن کر دیئے
“آپ کون ہیں… ؟؟”
“میں بھائی ہوں ان کا… ” وہ بولا تھا, چار گھنٹے بعد اسے ہوش آیا… خدا نے اسے بیٹے سے نوازا تھا, دو دن بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہوئی تو تیمور ملک اور طہٰ اسے گھر ہی لے گئے تھے
اگلے دن فرزانہ اور صفوان دونوں آۓ… اس کا وہی نادم نادم سا چہرہ… جھکا جھکا سا سر
تیمور ملک نے اس کی وہ کی کہ خدا کی پناہ… وہ تو ناشیہ کا حشر دیکھ کر ہی حیران تھے, صفوان بس میں میں ہی کرتا رہ گیا
“پھپھو بھلے ہی میں نے بچے پیدا نہیں کیے لیکن سمجھ سے بات باہر ہے کہ اچھی بھلی نارمل ڈلیوری سیزیرین میں کیسے بدل گئی… ابھی رات تک تو سب ٹھیک تھا… صبح ہوتے ہی خونم خون کیسے ہو گئی ہماری بچی ؟؟؟” شازیہ راشن پانی لیکر فرزانہ پر چڑھ دوڑی تھی
“اور یہ الو کا پٹھا… بیوی ہسپتال پہنچ گئی اور اسے خبر ہی نہیں… کہاں ہوتا ہے تو رات بھر ؟؟” صفوان کو اس نے اچھا ہی سنایا, ناشیہ خاموش بستر پر پڑی تھی
…………………………..
وہ اپنے کمرے میں تھا جب اسے درید کی کال آئی, ایک نظر اپنے ساتھ لیٹی اسماء کو دیکھتے ہوئے وہ باہر نکل آیا تھا
“کدھر چلے اب ؟؟؟”وہ کوئی ڈرامہ دیکھ رہی تھی
“ارشد کی کال ہے… اسے سامان کا بتا کر آتا ہوں” صمد بہانہ بنا کر باہر نکلا اور سیدھا چھت پر آ گیا, زرقا ابھی نیچے ہی تھی
“ابھی کل تو کال کی تھی تو نے ؟؟؟ اب کیا ہو گیا” صمد نے پوچھا
“حد یے صمد بھائی…. میں جب بھی کال کرتا ہوں تو آپ پورا خاندان اکٹھا کر لیتے ہیں, میں نے آپ سے بات کرنی تھی… کیا سوچا پھر آپ نے ؟؟؟” وہ بولا
“درید… ایسا ناممکن ہے” وہ بولا
“کیوں… ؟؟؟ ” درید تڑخ گیا
” یہ سب کیا دھرا آپ کا ہے صمد بھائی… اب آپ پیچھے ہٹ ریے ہیں” درید نے کہا
“ابو سے بات کر لے… ” صمد نے کہا
“کوئی فائدہ نہیں.. ” درید نے کہا
“چار سال ہو گئے ہیں صمد بھائی… آخر ایک حد ہوتی یے, مجھے کب تک دو کشتیوں کا سوار بنا کر رکھیں گے آپ لوگ ؟؟؟” وہ بولا
“اسراء الگ جان کھاۓ رکھتی ہے کہ جلدی آ جاؤ, پھپھو کے الگ فون آتے ہیں, آپ کے دوست نے الگ میری جان کھا رکھی ہے کہ واپس کب جانا… آپ اس کا بھی فون نہیں اٹھاتے اب… کیا کروں میں ؟؟؟” ” وہ غبار نکال رہا تھا
“میں نے ویزہ کنفرم کر کے آپ کو کال کر دینی ہے…. پھر آپ جانیں اور آپ کا کام… یہ آپ کا درد سر ہے میرا نہیں” وہ کہتے ہوئے کال کاٹ گیا تھا
…………………..
شام کے پانج بج رہے تھے جب وہ گھر آیا… اس کے گاڑی سے نکلنے کی دیر تھی… فرح اس پر راشن پانی لیکر چڑھ دوڑی
“تم بھٹے پر کیا کرنے گئے تھے ؟؟؟” وہ جارحانہ انداز سے بولی تھی
“کیوں… مجھے وہاں جانا منع ہے ” شافع نے کہا
“تم ہوتے کون ہو تایا جی سے میرے بارے میں الٹی سیدھی بکواس کرنے والے” وہ چیخ کر بولی
“تمہارا شوہر… ” وہ اپنے ازلی ٹھنڈے ٹھار لحجے میں کہتا ہوا اندر چلا گیا
“شافع میں آخری بار بتا رہی ہوں اگر آج کے بعد تم نے تایا جی سے میرے بارے میں کچھ بھی کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا, تمہیں شرم نہیں آئی ان کے سامنے اپنی بیوی کو ذلیل کرتے ہوئے, انہوں نے میری اتنی بے عزتی کی ہے جس کی کوئی حد نہیں… ” وہ مسلسل چیخ رہی تھی, حالانکہ یہ شافع بھی جانتا تھا کہ سیٹھ بابر نے زیادہ سے زیادہ بھی اسے کیا کہہ دیا ہو گا… آگ اسے شافع کے بھٹے پر جانے سے لگی تھی
“جب دیکھو فرح ایسے… فرح ویسے… شادی کیوں کی تھی پھر فرح اتنی ہی بری تھی تو… نکال باہر کیوں نہیں کرتے فرح اتنی ہی چبھتی ہے تو ؟؟؟” وہ بولی
“میں کچھ پوچھ رہی ہوں تم سے… “اس کی لاتعلقی دیکھ کر فرح نے اس کا بازو دبوچا تھا, شافع یکلخت اس کی طرف مڑا, فرح کی آنکھیں آگ برسا رہی تھیں
“پچاس ہزار کیا کرنے تھے ؟؟؟” اس نے پوچھ ہی لیا
“ضرورت تھی مجھے… ” وہ ذرا سی دھیمی پڑی
“مجھ سے کیوں نہیں مانگے ؟؟؟” شافع نے سرد لحجے میں پوچھا
“مجھے لگا شاید… تم نہ دو” فرح نے اس کا بازو چھوڑ دیا
“کب تم نے مانگے اور میں نے نہیں دیئے ؟؟؟” اب کے شافع نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے قریب کیا تھا, فرح بول نہ سکی
“فرح… آج کے بعد اگر مجھے پتہ چلا کہ تم نے مجھ سے پوچھے بنا اس گھر سے ایک قدم بھی باہر نکالا ہے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا… ” اس کی آنکھوں میں اپنی انکھیں گاڑھتے ہوۓ وہ انتہائی سخت سے لحجے میں بولا تھا
…………………..
رات کے دس بج ریے تھے جب وہ گھر واپس آیا, یہ شاید پہلی بار ہوا تھا کہ شادی کے بعد وہ اسقدر لیٹ گھر واپس آیا تھا… غاشیہ کو نہ ہی اس نے کوئی کال کی… نہ ہی کوئی میسیج… زیادہ غصہ اسے اس بات پر آ رہا تھا کہ غاشیہ کی طرف سے بھی کوئی رسپانس نہیں آیا تھا, دھیرے دھیرے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ اوپر آ گیا, برآمدے میں چھوٹے سے بلب کی مدھم سی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور غاشیہ وہیں ڈائننگ ٹیبل پر ہی دونوں بازوؤں پر سر رکھ کر بیٹھی تھی, آہٹ سن کر فوراً اٹھ کھڑی ہوئی, حدید بے اسے ایک نظر دیکھا اور آگے بڑھا, پھر یکدم ٹھٹھکا اور پلٹا
“یہ کیا ہوا ؟؟” وہ اس کے سر پر بندھی پٹی دیکھ کر بولا تھا
“تمہاری بلا سے… ” غاشیہ نے اس کے ہاتھوں سے بیگ پکڑا اور اندر چلی گئی, حدید اس کے پیچھے ہی اندر آیا تھا
“کھانا کھاؤ گے ؟؟؟” وہ اس کے لئے کپڑے نکالتے ہوئے بولی تھی , حدید نے سے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا تھا
“میں نے پوچھا یہ کیا ہوا… ؟؟؟” وہ اس کے ماتھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
“گر گئی تھی… سیڑھیوں میں” وہ بولی تو آواز بھرا گئی
“ڈاکٹر کے پاس کون لے کر گیا ؟؟؟ اس نے پھر پوچھا
“خود ہی گئی تھی… ” وہ دھیرے سے اس کا کوٹ اتارتے ہوئے بولی, حدید کو سچ میں دکھ ہوا تھا
سواۓ اس کے… بھلا اور کون تھا اس کا ؟؟؟ اس کے لئے تو وہ سب چھوڑ آئی تھی
حدید کا کچھ زیادہ نہیں بگڑا تھا… وہ اب بھی اپنے گھر میں تھا, بھلے ہی باپ ناراض تھا مگر نظر تو آتا تھا, بھلے ہی بھائی زیادہ بلاتے نہیں تھے لیکن ساتھ تو تھے لیکن وہ… غاشیہ ملک… اس کا بچا ہی کیا تھا… ؟؟؟؟
اسے ایک دم خود پر غصہ آیا تھا… وہ بیچاری کیسے خونم خون ہوتے سر کو لیکر ڈاکٹر کے پاس گئی ہو گی
“حدید کھانا کھاؤ گے ؟؟؟” غاشیہ نے پھر پوچھا تھا, وہ اس کی طرف پلٹا, چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اسے گلے سے لگا لیا
“غاشی ایم سوری… ” وہ نادم تھا… بہت نادم, غاشیہ کے آنسو نکل آۓ
“مجھے بس… غصہ آ گیا…ایم سوری” وہ اس کی گیلی آنکھوں کو نرمی سے چومتے ہوۓ کہہ رہا تھا
“تم نے کھانا کھایا ؟؟؟” حدید نے اس کا چہرہ خشک کرتے ہوئے پوچھا, اس نے نفی میں سر ہلا دیا
“چلو چل کے لگاؤ… ہم دونوں کھاتے ہیں” وہ اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے بولا
“حدید… ” غاشیہ نے دھیرے سے پکارا
“I am expecting… “
وہ روتے ہوئے مسکرائی تھی اور حدید خوشی کے مارے بول نہیں سکا تھا
……………………….
اذن اور زرقا کی شادی کی تیاریاں فل زوروں پر تھیں… اذن نے خود نیا گھر فرنش کروایا تھا, کچن تیار کروایا, اپنا کمرہ سیٹ کروایا… جہاں خدا جانے کس کے مقدر لکھے تھے, انیتا اور آمنہ نے اس کی ساری بری خود تیار کی تھی, دوسری طرف اسماء نے زرقا کا سارا جہیز بنایا, کپڑے, بستر, برتن.. صمد نے ایک سے بڑھ کر ایک سامان تیار کروایا
زرقا جب یہ ساری تیاریاں دیکھتی تو گم صم سی ہو جاتی… سب کتنے خوش تھے…کیا وہ ٹھیک کر رہی ہے ؟؟؟ اتنے سارے لوگوں کی مسکراہٹیں چھین کر وہ خوش رہ پاۓ گی ؟؟؟ لیکن دوسری طرف… دوسری طرف طہٰ تھا… اس کا ساتھ… اس کی محبت… اسے سوچتی تو سب ثانوی لگنے لگتا تھا
اس دن بھی وہ کچن سمیٹ کر نکلی تو اذن نے آواز دے لی
“چلو آؤ تھوڑا ٹہل کر آتے ہیں” وہ موبائل جینز کی پاکٹ میں ڈالتے ہوئے بولا تھا, زرقا اس کا اشارہ سمجھ گئی, وہ کوئی بات کرنا چاہ رہا تھا
“چلو… ” وہ دوپٹہ سر پر لیتے ہوئے بولی تھی, بڑے سرسری سے انداز سے وہ دونوں گیٹ سے باہر نکل گئے
“کہاں تک پہنچا پھر تمہارا ہیرو ؟؟” وہ اس کے پہلو میں چلتے ہوئے بولا, زرقا جھینپ سی گئی
“کہہ تو رہا ہے کہ ایس ڈی پی او سے بات ہو گئی ہے… وہ خود اس کے ابو پر دباؤ ڈالے گا, وہ شاید اس کے بہنوئی کا دوست ہے, ہال والے معاملے کے لیے بھی اس نے کچھ دوستوں سے بات کر لی ہے… حدید بھائی کو بھی پکا کر دیا ہے” زرقا کہتی چلی گئی
“اور میری بیوی… بمعہ بچہ؟؟؟” وہ بولا تو زرقا ہنس پڑی
“بس وہی رہ گئی ہے” زرقا نے کہا, اذن جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے ذرا سا کھنکارا
“دیکھو زرقا… مجھے غلط مت سمجھنا, اگر میں نے کہا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں… تو ہوں, چاہے جو بھی ہو لیکن… ” وہ چلتا ہوا اس کی طرف مڑا
“صرف ایک بار اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر لو… میں تمہیں غلط نہیں کہہ رہا زرقا.. محبت اختیار میں تھوڑی نا ہے… یہ تو دل کا دھڑکنا یے, جب چایے, جس پر چاہے دھڑک جاۓ… تمہارا بھی دھڑک گیا, میں طہٰ کو بھی غلط نہیں کہہ رہا… وہ بیچارہ اپنی محبت پانے کے لئے جتنے ممکن ہوں اتنے پاپڑ بیل رہا ہے لیکن… یہ اتنا آسان نہیں ہو گا… ایک قیامت آ جاۓ گی… وہ خاندان امی اور ماموں کے لئے ازلی دشمنوں کی طرح ہے زرقا….پہلی بات تو یہ کہ ماموں جان اپنی عزت گنوانا تو گوارا کر لیں گے لیکن طہٰ سے تمہارا نکاح نہیں کریں گے, دوسری بات…تیمور ملک کو بھلے ہی کنگال ہونا پڑے… وہ ہو جاۓ گا لیکن اپنے اکلوتے بیٹے کو تم سے منسوب نہیں کرے گا… اور تیسری اور سب سے اہم بات زرقا… بھلے ہی ہم دونوں نے حمنہ کو نہیں دیکھا لیکن ان کے بارے میں سنا تو ہے نا… عین اپنی شادی والے دن وہ گھر چھوڑ گئی تھیں, شاہ نور بہت مخلص تھا ان کے ساتھ لیکن… صرف چھ ماہ… چھ ماہ میں وحید راۓ اور غیور ملک نے ان دونوں کو ڈھونڈ لیا تھا…. یہ دونوں خاندان تم دونوں کو کسی صورت اکٹھا نہیں رہنے دیں گے… اول تو ماموں جان تمہاری رخصتی ہی نہیں کریں گے اور بالفرض… اگر کر بھی دیں تو زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں تمہیں واپس لے جائیں گے” اذن کہتا چلا گیا, زرقا بس خاموشی سے اس کی سن رہی تھی
“دیکھو زرقا… مانا کہ محبت بہت خوبصورت ہے لیکن… سب سے خوبصورت نہیں ہے” وہ رک گیا, زرقا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
“ًہو سکتا ہے کہ یہ صرف میرا فلسفہ ہو لیکن… میرا یہ ہی ماننا ہے کہ محبت ہمیشہ سب سے اہم نہیں ہوتی… غاشیہ کو شاید میں پھر بھی justify کر سکوں کیونکہ اگر وہ حدید سے شادی نہ کرتی تو آج اپنی بہن کی طرح اس بیوڑے کے ساتھ رل رہی ہوتی لیکن حمنہ خالہ… میں انہیں بالکل justify نہیں کرتا ہوں زرقا… کیونکہ اگر وہ محبت چھوڑ دیتیں تو انہیں وہ شخص ملتا جو آج چھبیس سال بعد بھی ان کا ذکر آنے پر عقیدت سے نظریں جھکا لیتا ہے”اذن کہتا چلا گیا
“یعنی… حمنہ کی محبت سب سے خوبصورت نہیں تھی… ” وہ بولا, زرقا نے ایک لمبی سانس بھری اور اسے دیکھا
“دوست بن کر مشورہ دو…. تم میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے ؟؟؟؟ محبت چھوڑ دیتے ؟؟؟” زرقا نے پوچھا, اذن دھیرے سے ہنسا
“اب تم یہ مت سمجھنا کہ میں خود کی تعریف کر رہا ہوں لیکن….اگر مجھے اس بات کا یقین ہوتا کہ جب میں محبت چھوڑ کر پلٹوں گا تو مجھے وہ ملے گا جو سب سے بہترین ہے… تو ہاں… میں محبت چھوڑ دیتا” وہ واپسی کے لیے پلٹ گیا تھا
“یعنی تم سب سے خوبصورت ہو… ” زرقا کے کہتے ہی وہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا
“میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں اپنی تعریف نہیں کر رہا… ” وہ بولا, گھر آ گیا تھا
“اگر میری باتوں سے تمہیں پریشانی ہوئی ہو تو… سوری” اذن نے اس کے پیچھے ہی اندر آتے ہوئے کہا تھا
………………………
رات گیارہ بجے کا وقت تھا جب وہ لیپ ٹاپ پر کام ختم کر کے اٹھا, بچے ڈسٹرب نہ ہوں اس وجہ سے وہ الگ کمرے میں بیٹھ کر کام کرتا تھا, سارا کچھ سمیٹ کر وہ جیسے ہی کمرے میں آیا… یکدم ٹھٹھک گیا
فرح نے ایک دم سے موبائل کان سے ہٹایا تھا
“سوئی نہیں ابھی تک ؟؟؟” وہ چونک گیا
“واش روم جانا تھا… ” وہ انگڑائی لیتے ہوئے جلدی سے واش روم میں گھس گئی, شافع نے موبائل کی طرف دیکھا, اس کی سکرین ابھی تک روشن تھی, فرح جلدی میں اسے لاک کرنا بھول گئی تھی, شافع نے جلدی سے موبائل اٹھایا…. اور دھیرے سے واش روم کی کنڈی چڑھا دی
لمحوں میں اس نے فرح کا موبائل چیک کیا تھا
ہزاروں کی تعداد میں میسیجز… کالز… لا تعداد انجان نمبرز… دسیوں انجان نمبرز سے چیٹ, سینکڑوں لڑکوں کی تصویریں… ہیجان انگیز ویڈیوز
شافع کے رونگھٹے کھڑے ہو گئے, چار سالوں میں آج پہلی بار اس نے فرح کا موبائل چیک کیا تھا اور پسینوں پسین ہو گیا تھا, اس کی کوئی ایک دوستی نہیں تھی, موبائل بھرا پڑا تھا انجان نمبرز اور چیٹس سے… اس نے جلدی سے سب سے ریسینٹ چیٹ کا نمبر اپنے فون میں سیو کیا اور موبائل دوبارہ بستر پر اچھال دیا.. دھیرے سے کنڈی کھول دی, فرح معمول کے مطابق آ کر لیٹ گئی, شافع لائیٹ آف کرتے ہوئے اس کے پہلو میں آ کر لیٹا تھا
“فرح… ” اس نے دھیرے سے فرح کا سر اپنے بازو پر رکھا اور اسے اپنی طرف موڑا
“ایک بات پوچھوں… ؟؟” وہ بولا
“ہنہ… “
“شادی سے پہلے کسی اور کو پسند کرتی تھیں ؟؟؟” اس نے آج پہلی بار اس سے یہ سوال پوچھا تھا, فرح چپ سی رہ گئی
“یا کسی اور سے شادی کرنا چاہتی تھیں ؟؟؟”
“تمہیں لگتا ہے اگر میں کسی اور کو پسند کرتی ہوتی یا کسی اور سے شادی کرنا چاہتی تو کوئی مجھے روک سکتا تھا ؟؟؟میرے صرف کہنے کی دیر ہوتی اور تایا جی اسے میرا کر دیتے… ” وہ بولی
“مجھ سے محبت کرتی ہوں ؟؟؟” شافع نے پوچھا, فرح نے فوراً اثبات میں سر ہلایا تھا
“تو پھر صرف میری ہو کر کیوں نہیں رہتی ہو ؟؟؟؟” اس نے پھر پوچھا تھا
“میں تمہاری ہی ہوں شافع… ” فرح اکتا کر بولی, شافع نے اس کا ہاتھ اپنے دل پر رکھا تھا
“میری قسم کھا کر کہو کہ تم صرف میری ہو…. ” وہ بولا
“میں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ میں صرف تمہاری ہوں… ” وہ کہہ گئی
“اور کہو کہ اگر تم میرے علاوہ کسی اور کا سوچو تو… میں اسی لمحے مر جاؤں” شافع نے اسے خود سے مزید قریب کرتے ہوئے کہا تھا, فرح دم بخود رہ گئی, بول ہی نہ سکی…بس دھیرے سے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر سے ہٹا گئی, شافع نے اپنے لب اس کی پیشانی پر رکھے تھے
“فرح میں نے چار سال تم سے اپنا حق وصول کیا ہے, خدا نے تمہارے وجود سے مجھے اولاد دی یے, تم سکون ہو میرا… میں سچ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں اسی لئے کہہ رہا ہوں… کہ صرف میری ہو کر رہو…. صرف میری… میں نے آج تک تم سے کچھ نہیں مانگا… سواۓ ایک چیز کہ… وفا” وہ اسے پوری طرح خود میں سمیٹتے ہوئے بولا تھا
…………………….
جاری ہے