Teri Qurbatein Meri Shiddatein By Ayesha Zulfiqar Readelle50170

Teri Qurbatein Meri Shiddatein By Ayesha Zulfiqar Readelle50170 Last updated: 22 August 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Qurbatein Meri Shiddatein

By Ayesha Zulfiqar

 

دوپہر تقریباً ایک بجے کا وقت تھا, نیلا آسمان یکدم ہی گہرے سیاہ بادلوں سے بھرتا چلا گیا, کچھ ہی دیر میں ٹھنڈی ہواؤں کے جھکڑوں نے موسم کو انتہائی خوشگوار کر دیا تھا... "آنے سے پہلے مجھے تو بتا دیتے.... " وہ دونوں سیکینڈ فلور کی ریلنگ کے پاس کھڑے تھے, ہر بار ہوا کا جھونکا آتا اور اس کا ریشمی دوپٹہ سر پر سے ڈھلک جاتا, بالوں کی لٹیں ہوا میں جھولنے لگتیں... ہر بار وہ انہیں کانوں کے پیچھے اڑس کر دوپٹہ سر پر کھینچ لیتی, رافع بڑی دیر سے اس کے اور ہوا کے اس کھیل کو دیکھنے میں مگن تھا "بتا دیتا تو تم آنے ہی نہیں دیتیں... " وہ ستون سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا, ناشیہ بہت دیر تلک اس کی آنکھوں میں جھانک نہ سکی "بس کرو رافع... کوئی فایدہ نہیں ہے اس سب کا" وہ سامنے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی تھی "ابھی ایک ہفتہ ہے میرے پاس... " وہ دونوں بازو سینے پر باندھتے ہوئے بولا "تم دوبارہ گھر نہیں آؤ گے... بس" وہ اس کی طرف مڑتے ہوۓ بولی, رافع بنا کچھ کہے اسے دیکھتا رہ گیا "رافع... " ناشیہ نے دھیرے سے اسے پکارا تھا "ہوں... " وہ ہنوز اسے دیکھ رہا تھا "مجھے ایسے نہ دیکھا کرو... " وہ بولی "ایک تمہیں حسرت سے دیکھنا ہی تو میرے اختیار میں رہ گیا یے... اب اسے بھی چھین لو ؟؟؟" وہ بولا تھا, تبھی وہ آوارہ سا جھونکا پھر آیا, دوپٹہ لہرا سا گیا, لٹیں ادھر ادھر جھولنے لگیں, اس سے پہلے کہ ناشیہ انہیں دوبارہ کانوں کے پیچھے کرتی, رافع بے خود سا اس کی طرف بڑھا تھا, بڑے حق سے اس نے ناشیہ کے چہرے پر اڑتی لٹوں کو اس کے کانوں کے پیچھے اڑسا تھا, لمحوں میں بوندیں گرنے لگیں, ناشیہ نے دوبارہ رخ موڑنا چاہا... بوندیں تیزی سے گرنے لگی تھیں, رافع نے اپنی دو انگلیوں سے اس کی ٹھوڑی کو اپنی طرف موڑا, ناشیہ کے تمتماتے ہوۓ عارض اور کپکپاتے ہوۓ لب اس کے عین سامنے تھے, بارش موسلا دھار برس رہی تھی, ہوا کے جھونکوں نے انہیں بھگو سا دیا تھا, ناشیہ نے نظر بھر کر اس کی آنکھوں میں جھانکا, وہ بس اس سے چند انچ کی دوری پر تھا "ناشیہ... میں ساری عمر بھی تمہارا خسارہ نہیں بھر پاؤں گا" وہ اس لمحے بے خودی اور بے بسی کی انتہاؤں پر تھا "خسارہ صرف تمہیں ہی تو نہیں ہوا رافع انصاری... " ناشیہ نے ایک ہاتھ سے اس کی انگلیوں کو اپنے چہرے سے دور کیا تھا, اس سے پہلے کہ رافع کچھ کہتا یا ناشیہ وہاں سے ہٹتی... سٹاف بواۓ ان دونوں کی طرف آیا "سر... یہ آپ کے لئے " اس نے ایک کارڈ رافع کی طرف بڑھا دیا... وہ ناشیہ کا ویڈنگ کارڈ تھا, رافع اسے ہاتھ میں پکڑے دیکھتا رہ گیا "یہ زیادتی ہے... " وہ شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا "تم بھی اپنی شادی کا کارڈ مجھے یونہی دے دینا... حساب برابر ہو جاۓ گا" ناشیہ نے دھیرے سے کہا تھا "میں بھلا کس سے کروں گا شادی ؟؟؟؟" وہ پھیکا سا ہنسا "تمہارے لیے کونسا ناشیہ ملک آخری لڑکی ہے... ذرا اپنے ارد گرد تو دیکھو...ہزاروں تیار ہیں تم پر واری صدقے جانے کے لئے " وہ دھیمے سے مسکراتے ہوئے وہاں سے ہٹ گئی تھی, رافع نے حیرانی سے نیچے کی طرف دیکھا... وہ حریم تھی... حریم صدیقی ................................. وہ کالج سے گھر آئی تو بڑی افراتفری سی مچی ہوئی تھی, تیمور ملک کہیں جانے کے لئے تیار کھڑے تھے, شازیہ بھی نیا جوڑا پہنے چادر ہاتھوں میں لیے کھڑی تھی "ابو... ناشیہ آ گئی" وہ اسے دیکھ کر چادر لینے لگی "کہاں جا رہے ہیں آپ لوگ ؟؟؟" وہ حیرانی سے بولی "صفوان کا کل ایکسیڈینٹ ہوا ہے, بائیک پر سے گر گیا, اس کا پتہ کرنے جا رہے ہیں " شازیہ نے جلدی سے کہا اور باہر نکل گئی "شام تک آ جائیں گے " تیمور ملک اسے تاکید کرتے ہوئے باہر نکل گیے تھے فرزانہ کی طرف پہنچے تو صفوان کا واقعی ستیاناس سا ہوا ہوا تھا...ماتھے پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور چہرے اور بازو پر جا بجا چوٹیں آئی ہوئی تھیں "اوۓ یہ کیا حال بنا لیا ہے شادی کے عین سرے پر... ؟؟؟" شازیہ تو اس ہر چڑھ دوڑی, وہ بیچارہ مسکرا بھی نہ سکا "نظر لگ گئی کسی کی میرے بچے کو... لوگوں سے برداشت ہی نہیں ہوتا کسی کا ترقی کرنا" فرزانہ جلدی سے بولیں "اب کیا حال ہے ؟؟؟" تیمور نے پوچھا "اب تو ٹھیک ہوں ماموں... " وہ بولا "فریکچر تو نہیں ہوا... ؟؟؟؟" انہوں نے پھر پوچھا "نہیں بھائی جان... بچت ہو گئی ہے" فرزانہ کے شوہر نفیس نے کہا, وہ پنساری کی دوکان چلاتے تھے, صفوان سے چھوٹی دو بہنیں اور ایک بھائی تھا "شادی تک فٹ فاٹ ہو جانا... فرزانہ اسے کچھ کھلا پلا... جان بنا اس کی" تیمور ملک اس کے ہاتھوں میں پانچ ہزار کا نوٹ پکڑاتے ہوۓ بولے تھے جسے اس نے ذرا سی پس و پیش کے بعد پکڑ لیا تھا "ٹھیک ہے بھائی جان... آپ بے فکر ہو جائیں " نفیس نے جھٹ سے کہا تھا ............................. وہ تینوں نفوس رات کا کھانا کھا رہے تھے, بات کہیں اور سے شروع ہوئی اور انیتا کی شادی پر آن رکی "نجمہ آج بھی دو رشتے بتا کر گئی ہے... " آمنہ نے کہا "آمنہ... اگر ضد چھوڑ دو گی تو کیا ہے ؟؟؟" عمر فاروق نے کچھ توقف کے بعد دھیرے سے کہا تھا, آمنہ پہلے تو سمجھ نہ سکیں.. پھر جب سمجھ آئی تو انہیں گھورنے لگیں "عمر یہ بات ابھی اسی وقت ختم ہو گئی... دوبارہ شروع نہ کرنا" وہ غصے سے بولی تھیں "آخر حرج کیا ہے ؟؟؟" وہ بولے "میرے لیے قطعی ناقابل برداشت ہے وہ لڑکا... " آمنہ نے کہا "وہ تمہاری بہن کا خون ہے آمنہ... " عمر فاروق نے کہا "وہ میرے لیے اسی رات مر گئی تھی جس رات وہ بنا کسی کی پرواہ کیے اس گھر سے چلی گئی تھی" آمنہ زور سے بولیں "آمنہ...اسے اس دنیا سے گیے چھبیس سال ہو چکے ہیں... چھبیس سال... خدارا اب تو بخش دو اسے" عمر فاروق تاسف سے بولے تھے "بخش دیا... لیکن میں اپنی بچی اس کے بیٹے سے نہیں بیاہوں گی" وہ ڈٹ کر بولی تھیں, انیتا چپ چاپ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی "اس نے آخر بگاڑا کیا تھا تمہارا ؟؟؟ چلو مان لیا کہ اس کی جگہ تمہاری مجھ سے شادی ہو گئی, چلو مان لیا کہ میں تم سے چھ سال بڑا تھا, چلو مان لیا کہ میں بھی تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن... تمہیں میری ذات سے کبھی کوئی دکھ ملا ہو تو بتاؤ آمنہ... ؟؟؟ " عمر فاروق نے پوچھا, آمنہ ہنوز سرخ چہرہ لیے بیٹھی رہیں "آمنہ... "انہوں نے دھیرے سے پکارا "وہ حمنہ کا خون ہے... " انہوں نے کہا "وہ... اس... بے غیرت کا خون ہے عمر... اس کی اولاد... اس کی نسل...میں اپنی بچی اسے نہیں دوں گی" آمنہ نفرت سے بولی تھیں, عمر فاروق بس انہیں دیکھتے رہ گیے تھے .............................