Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan NovelR50422 Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 9

332K
60

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sitamgar Ko Hum Aziz Episode 9

Sitamgar Ko Hum Aziz by Aiman Numan

دوسرے دن جب دوپہر کو بھی شفا اپنے بیڈروم سے نہ نکلی تو ائمہ کو کچھ تشویش ہوئی اور وہ اپنے بھاری قدم اٹھاتی کچھوے کی مانند چال چلتی شفا کے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔

کئی دفعہ ناک کرنے کے باوجود بھی جب شفا نے دروازہ نہ کھولا تو۔۔۔۔

ائمہ کو آپ صحیح معنوں میں کسی ناگہانی کا احساس ہوا۔۔۔

شفا بیٹا دروازہ کھول میری بچی۔۔۔۔۔۔

ائمہ نے کہتے کے ساتھ ہی ہینڈل پر ہاتھ رکھا تھا اور اس کو گھماتے ہی دروازہ لاک نہ ہونے کی وجہ سے کھلتا چلا گیا تھا،۔۔۔

اس نے شکر کا سانس بھرا کہ اندر سے شفا نے دروازہ لاک نہیں کیا۔۔۔

پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔

سورج کی روشنی جو کہ ہلکی ہلکی پردے سے چھن چھن کے کمرے میں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔

شفا کا وجود بیڈ پر اوندھا ہوا واہ تھا عالم بیھوشی کی وجہ سے۔۔۔۔۔

ائمہ کو جس چیز کا ڈر تھا وہی ہوا تھا۔۔۔

سمیرا ۔۔۔۔سمیرا ۔۔۔۔۔جلدی او۔۔۔۔

عمر۔۔۔۔۔۔۔۔ حمزہ کوئی تو آئو۔ ۔۔۔۔۔!!!

روتے ہوئے شفا کے ہاتھ کی نبض کی حرکت محسوس کرتی وہ چیخنے لگی۔۔۔۔۔

کیا ہوا آپی ؟؟؟

سمیرا کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے ۔۔

عمر نے آگے بڑھ کر بہن کو اٹھایا اور تیزی سے باہر کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔۔

اس کے پیچھے وہ دونوں خواتین بھی دوڑھی تھیں۔ ۔۔

جبکہ حمزہ صبح سے ہی گھر سے غائب تھا۔۔

اس کا کچھ اتا پتا ہی نہیں تھا ۔۔۔

دیکھیے آپ کی پیشنٹ اب خطرے سے باہر ہے۔۔۔

ان کا شدید کسی ذہنی پریشانی کی وجہ سے نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ۔۔۔۔

رحمان صاحب اور عمر تیزی سےشفا کے اٹینڈنٹ ڈاکٹر کی طرف بڑھے تھے۔۔۔

جو ابھی ابھی آئی۔ ۔سی ۔۔یو سے باہر آیا تھا۔۔۔

کب تک ہوش میں آ جائے گی میری بیٹی کو؟ ؟؟

رحمان صاحب نے بے قراری و بے چینی سے دریافت کیا تھا ۔۔۔

جبکہ عمر کی آنکھیں مسلسل آنسوں ضبط کرتے کرتے سرخی مائل ہو چکی تھیں۔۔۔۔

کچھ گھنٹوں بعد ان کو روم میں شفٹ کر دیا جائے گا۔۔۔۔

امید پوری ہے کہ رات تک یہ ہوش میں آ جائیں گی۔۔۔

بہت ہوا تو زیادہ سے زیادہ صبح۔ ۔

ویسے ڈاکٹر صاحب آپ کوئی خطرے کی بات تو نہیں ہے نہ؟؟؟؟

عمر نے جلدی سے پوچھا کہ کہیں ڈاکٹر چلا ہی نہ جاتا ۔۔۔

نہیں نائو شی از آوٹ آف ڈینجر۔ ۔۔!!!

شی از فائن ۔۔۔۔۔!!

کل شام تک آپ ان کو گھر لے جا سکتے ہیں ۔۔

بس اس بات کا خاص خیال رکھیے گا کہ اب انہیں کسی بھی قسم کی ٹینشن اور اسٹریس نہ ہو ۔۔۔

ڈاکٹر نے ایک دفعہ پھر یقین دہانی کرائی اور مصافحہ کرکے آگے بڑھ گیا ۔۔۔

کیا ہوا آپ کو ؟؟؟

آپ کیوں اس طرح شور مچا رہی ہیں؟ ؟؟؟؟؟

ارمغان پریشانی سے فجر کے خوف و وحشت زدہ چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

اس نے کچھ بھی ایسا غلط تو نہیں کیا تھا۔۔

جو وہ اس طرح سے خوفزدہ ہو رہی تھی۔۔

جیسے کوئی بہت خطرناک شہہ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

وحشت سے اس کے پورے وجود میں کپکپی تاری ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا آپ کو؟؟؟

آپ ٹھیک تو ہیں نہ ؟؟؟؟

ارمغان تھر تھر کانپتے اس کے بیدم ہوتے وجود کو تھامنے کے لیے بڑھا تھا۔۔۔

مجھے چھوڑ کر مت جائیں۔۔۔۔ !!

آپ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔

وہ ڈری سہمی سی ارمغان کی باہوں میں جھول رہی تھی۔۔۔

اس کو سختی سے بازو سے تھامے ہوئے وہ بری طرح سسکتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔

چہرے پر کچھ دیر پہلے والی سرخی اب زردی میں بدل چکی تھی ،۔۔۔۔۔

میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا ۔

۔

تم پریشان مت ہو ۔۔۔

میں تمہارے پاس ہوں ۔۔۔۔

میں تمہیں چھوڑ کے کبھی کہیں نہیں جاؤں گا۔۔۔۔۔

ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا ۔۔۔

وہ بے خود سا اس کو یقین دلارہا تھا ۔۔۔۔

اپنے ساتھ کا ۔۔!!!!!۔

وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ اس وقت کتنی بڑی بات کہہ گیا ہے ۔۔۔۔۔

وہ اٹھارہ سے انیس سال کی لڑکی ارمغان کے حواسوں پر بری طرح سے چھا چکی تھی ۔۔۔

ایسے جیسے وہ کسی سائے کی لپیٹ میں آ گیا تھا ۔۔۔۔۔

وہ اب نیم بے ہوشی کی حالت میں بے ربط سے جملے بول رہی تھی ۔۔۔

ارمغان نے احتیاط سے اس کو گھاس پہ لٹایا اور خود بھی اس کے قریب ہی دوزانو بیٹھ گیا ساتھ ہی چوکیدار کو بھی آوازیں دے ڈالی مدد کے لئے ۔۔۔۔ مغرب کی اذان شروع ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔

پرندے اپنے اپنے گھونسلوں کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔

جی مانی بابا کیا ہوا ؟؟؟؟

بی بی کو کیا ہوا؟؟؟؟

وہ بھی پریشان سا ہو کر کہنے لگا۔۔۔۔

پتا نہیں بس بے ہوش ہو گئی ہے۔۔۔

اچانک شاید کسی چیز سے خوفزدہ ہو گئی تھی ۔۔

۔

وہ یہی کہہ سکا تھا ۔۔۔

اس کی تو خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر اس نے ایسا کیا کردیا ؟؟؟؟؟

جس کی وجہ سے اس چھوٹی سی نازک سی لڑکی کا ری ایکشن اتنا شدید ترین آیا تھا ۔۔

یہ لیں بابا۔۔۔۔ !!!!

چوکیدار بھاگتا ہوا گیا تھا اور بھاگتا ہوا تیزی سے واپس آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھ میں ڈونگاتھا ۔۔

جس کے اندر ٹھنڈا پانی بھرا ہوا تھا ۔۔۔

ارمغان اس کے ہاتھوں کو سہلاتے ہوئے اس کو ہوش میں لانے کی تگ و دو کر رہا تھا ۔۔۔۔

چوکیدار کے پانی لانے پر جھپٹنے کے انداز میں پانی کا گلاس اس سے لیا تھا ۔۔۔۔۔

وہ خود بھی اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔۔۔۔

پلیز ہوش میں آؤ۔۔۔۔

وہ اب اس کے گالوں کو تھپتھپا رہا تھا ۔۔

ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔

ایسا بالکل بھی نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔۔۔!!

آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔۔۔۔۔۔

آپ مجھسے وعدہ کریں۔۔۔۔۔

مجھے چھوڑ کر نہیں جائیں گے!!!

کبھی چھوڑ کر نہیں جائیں گے ۔۔۔۔!!!!!

ہاں میں تم سے وعدہ کرتا ہوں ۔۔۔۔۔

میں تمہیں کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔

ہمیشہ تمہیں اپنے پروں میں چھپا کر رکھو گا ۔۔۔۔۔بس تم ایک دفعہ ہوش میں آ جاؤ ۔۔۔۔۔۔!!!

وہ اس کی آنکھوں سے موتی کی طرح لڑھکتے آنسوؤں کو اپنی انگلیوں میں جذب کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔

وہ اس کی سر توڑ کوششوں سے ہوش میں ضرور آ گئی تھی ۔۔۔

مگر اب بھی مکمل طور پر اپنے حواسوں میں لوٹی سکی تھی ۔۔۔۔۔۔

اس پر بس ایک انجانا سا خوف سوار تھا ۔۔۔

بابا یہ کس کے ساتھ آئی ہیں؟؟؟؟؟

ارمغان نے اپنی چہرے کی بڑی ہوئی شیو پہ کچھ سوچتے ہوئے پریشانی کے عالم میں ہاتھ پھیرتے ہوئے نظریں اٹھا کر چوکیدار سے پوچھا ۔۔۔۔

ان کو شاید ان کے بھائی چھوڑ کر گئے تھے ۔۔۔۔۔

اس نے ارمغان کو دیکھتے ہوئے جواب دیا جو اب اس کے بڑے انہماک سے فجر کے ہینڈ بیگ کو کھولے اس میں جھکے کچھ تلاش کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

بابا اب آپ جلدی سے دروازہ کھولیں مجھے گاڑی نکالنی ہے۔ ۔۔۔۔

اس کے گھر کا ایڈریس مل گیا ہے ۔۔۔

وہ ایک ہی سانس میں بغیر رکے بولا ۔۔

ارمغان ہرگز بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس معصوم سی کم عمر لڑکی کی عزت پہ کوئی بھی حرف آئے اس کی وجہ سے ۔۔

اسی لئے یہی وجہ تھی کہ اس کے پرس میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے گھر کا پتہ تلاش کیا۔۔۔۔

جو کہ پرس میں موجود ایک چھوٹی سی خاکی رنگ کی ڈائری میں درج تھا۔۔۔۔

وہ اس کے موبائل سے فون کرکے بھی اسکےگھر والوں کو بلا سکتا تھا ۔۔۔

مگر جب تک اس کے گھر سے کوئی یہاں اس کو لینے پہنچتا ۔۔۔

اس وقت تک اگر کوئی واپس آجاتا خالو خالو میں سے تو شاید وہ لڑکی پھر کبھی سر اٹھا کے جی نہ سکتی ۔۔۔۔

اس کے بے ربط جملے جو کہ آرمغان کی خود کی سمجھ سے بھی بالاتر تھے اور اس کو بوکھلائے دے رہے تھے ۔۔۔

مگر کسی تیسرے شخص کے لئے وہ بے ربط جملے بہت غلط معنی اختیار کرنے کے لئے کافی تھے ۔۔۔۔

یہی وجہ تھی کہ اس نے جلد از جلد اس کو گھر پہنچانے کی ٹھانی تھی۔۔۔۔۔۔

شکریہ بابا اور آپ کسی کو کچھ مت کہیے گا میں خود سب کچھ دیکھ لوں گا ۔۔۔۔۔!!!!

اس نے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کرفجرکو بٹھا یا اور اسکے گرد سیفٹی بیلٹ لگائی تھی ۔۔۔۔۔

پھر چوکیدار سے کہہ کر دوسری طرف گھوم کے ڈرائیونگ سیٹ پر جاکر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔